اصلاحِ نفس میں استعمالِ اختیار، عظمتِ الٰہی اور تعلق مع اللہ کی حقیقت
درس 3، حصہ 1 باب 1 ملفوظات: عطر تصوف، اشاعت اول: بدھ 12 مئی، 2007 بمطابق: 25 ربیع الثانی ، 1428 ہجری
- اختیاری امور میں کوتاہی کا واحد علاج ہمت اور اپنے ارادے کا صحیح استعمال ہے۔
- شریعت کے تمام احکام اختیاری ہیں، جن پر عمل کرنے میں ابتداً کلفت ہوتی ہے لیکن مسلسل مشق سے سہولت پیدا ہو جاتی ہے۔
- غیر اختیاری امور اور اعمال کے نتائج انسان کے بس میں نہیں، اس لیے ان کی فکر چھوڑ کر صرف اپنے عمل پر توجہ دینی چاہیے۔
- اعمال کے نتائج کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش اور عمل پر اترانا انسان کی ساری محنت کو ضائع کر دیتا ہے۔
- ریاکاری اور تکبر انسان کے اعمال کو کھا جاتے ہیں، لہٰذا ہر عمل خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے ہونا چاہیے۔
- انسان کو ہمیشہ اپنے گناہوں کا ڈر اور اللہ کی رحمت کی امید رکھنی چاہیے، اسی کیفیت میں کامیابی ہے۔
- سچی بندگی یہ ہے کہ انسان ہر نیکی کو اللہ کا فضل سمجھے اور خود کو کسی انعام کے قابل نہ سمجھے۔
- جس طرح انسان دنیاوی مفادات کے لیے اپنا اختیار بخوبی استعمال کرتا ہے، اسی طرح دین کے معاملے میں بھی اسے بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔
- روحانی ترقی اور اللہ کی خاص تجلی کے نزول کے لیے اختیاری اعمال کا تسلسل ایک بنیادی شرط ہے۔
- مجاہدے کے دوران بظاہر نتیجہ نہ ملنے کے باوجود مستقل مزاجی سے کام کرنے والوں کا اجر اللہ کے ہاں کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
- اللہ تعالیٰ کی عظمت کا احساس اور روزِ محشر جواب دہی کا یقین نماز اور دیگر فرائض کی ادائیگی کو نہایت آسان بنا دیتا ہے۔
- گناہوں اور نفسانی خامیوں سے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان کو ہر وقت اللہ کی حضوری اور اس کی گرفت کا احساس ہو۔
- تصوف میں محض نظریاتی باتوں پر انحصار کے بجائے تعلق مع اللہ اور عملی مجاہدے پر زور دیا جاتا ہے۔
- روحانی سفر میں انسان کو چاہیے کہ وہ جلد بازی اور بدگمانی سے بچتے ہوئے اپنے شیخ کی ہدایات پر مکمل اعتماد کرے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيّٖنَ، اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
گزشتہ سے پیوستہ
اختیاری امور میں کوتاہی کا علاج بجز ہمّت اور استعمال اختیار کے کچھ نہیں
جو اختیاری امور ہیں، اس کے اندر کوتاہی ہو جانا، اس کا علاج یہی ہے، کہ ہم لوگ صرف اور صرف بس اس بات پہ اپنی توجہ مرکوز کر لیں، کہ میں نے اپنا اختیار اس میں استعمال کرنا ہے۔ جو اللہ نے میرے ہاتھ میں جو چیز دی ہے، اس کو میں نے ویسے استعمال کرنا ہے جس طرح اللہ چاہتا ہے۔ جس طرح اللہ چاہتا ہے اسی طریقے سے اس کو استعمال کرنا چاہیے۔ تو اختیار جو دیا ہے، اور ہمت جو دی ہے، تو اس اختیار کے اندر اپنی ہمت کو استعمال کرنا چاہیے۔
اچھا عجیب بات یہ ہے کہ ہم لوگ اگر کوئی کہہ دے نا کہ افوہ یہ چیز تو ہمیں سمجھ میں نہیں آتی یہ تو ہمارے قصور ہیں ہم کیا کریں مطلب ہمیں سمجھ ہی نہیں آتی۔ سمجھ آتی ہے۔ سمجھ آتی ہے۔ قرآن پاک میں آتے ہیں، ﴿بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهٖ بَصِيْرَةٌ وَّلَوْ اَلْقٰى مَعَاذِيْرَهٗ﴾، انسان اپنے نفس سے خوب آگاہ ہے، چاہے وہ لاکھ بہانے بناتے رہیں، بہت بہانے بناتے رہیں۔ اصل میں وہ اپنے آپ سے آگاہ ہے، اور پتہ ہے اس کو۔ دنیا کے معاملے میں کیا ہم یہ چیز نہیں جانتے؟ دنیا کے معاملے میں بچہ جب سکول جاتا ہے اس کے لیے والدین کتنی کوشش کرتے ہیں کہ سکول سے رہ نہ جائے۔ کیوں؟ اس کے اختیار میں ہے، اپنے اختیار کو استعمال کرتا ہے یا نہیں کرتا؟ جہاں کہیں ہمارے دنیا کے مفاد کی تھوڑی سی چیز ہو۔ اس کے لیے ہم کتنی کوشش کرتے ہیں، وہ کوشش بھی کرتے ہیں جس کوشش کے ہم مکلف نہیں ہیں۔ جس کوشش کے ہم مکلف نہیں ہیں وہ کوشش بھی ہم کرتے ہیں۔ وہاں پر کہاں جاتا ہے وہ ہمارا یہ بات، کہ بھئی دیکھیں ہمیں تو سمجھ نہیں آتی، بس کیا ہے، کیا کریں جی؟ ہمیں سمجھ نہیں آتی۔ وہاں سمجھ آتی ہے یا نہیں آتی؟
تو دنیا میں سمجھ آتی ہے دین میں سمجھ نہیں آتی تو یہ شیطان کا چکر ہے۔ شیطان کا چکر ہے۔ حالانکہ دیکھو ﴿وَمَا مِنْ دَآبَّةٍ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا﴾، قرآن میں کہتے ہیں کہ کوئی بھی چوپایہ زمین پر ایسا نہیں ہے جس کا ذمہ اللہ پاک نے اس کے رزق کا نہیں لیا ہو۔ لیکن وہاں پر ہم کیا کرتے ہیں؟ وہاں تو ایک ایک دانے کے اوپر محنت کرتے ہیں۔ وہاں پر تو ایک ایک دانے پہ محنت کرتے ہیں۔ لیکن دین کے معاملے میں فرمایا، ﴿لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى﴾، انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کے لیے وہ کوشش کر لے۔ وہ اب بتائیں ﴿وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا﴾، اب دین کے لیے تو کوشش کا میدان ہے، وہاں پر کہتے ہیں ہمارا خود بخود سب کام ہو جائے۔ دنیا کے اندر اللہ جل شانہ نے تسلی دی ہے وہاں کہتے ہیں یہ تو ویسے ہی تسلی ہے۔ سب کچھ تو ہم نے خود ہی کرنا ہے۔ تو الٹی منطق ہے یا نہیں ہے؟ تو جب دنیا کے اندر ہم سب کچھ جانتے ہیں تو سمجھ میں آنا چاہیے کہ اصل میں ہماری عقل ہم غلط استعمال ہم کر رہے ہیں۔ ورنہ یہاں پر بھی، دین کے معاملے میں بھی ہمیں کوشش کرنی، کم از کم اتنی کوشش تو کر لو نا، جتنی کوشش دنیا کے لیے کرتے ہو۔
حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ کے کمرے میں ایک کتبہ لگا ہوا تھا۔ اس میں یہ لکھا تھا کہ دنیا کے لیے اتنی محنت کر لو جتنا یہاں رہنا ہے۔ اور آخرت کے لیے اتنی محنت کر لو جتنا وہاں رہنا ہے، اب بتاؤ۔ تھوڑا سا اگر یہ بات سمجھ آ جائے پھر کیا کریں گے ہم؟ خدا کی نافرمانی ایسی جگہ کرو جہاں وہ تجھے نہ دیکھے۔ لکھا تھا، خدا کی نافرمانی وہاں کر لو جہاں وہ تجھے نہ دیکھے۔ اور اتنا گناہ کر لو جتنے کا عذاب سہہ سکتے ہو۔ یہ بھی لکھا تھا۔ اتنا گناہ کر لو جتنے کا عذاب سہہ سکتے ہو۔ یہ والی بات ہے۔
اب اگر ٹریفک والے ہم سے کہہ دیں تو اچھی طرح سمجھ میں آئے گی۔ اتنی ٹریفک کی خلاف ورزی کر لو جتنے پیسے تمہارے پاس ہیں جرمانے کے۔ سمجھ میں آئے گی یا نہیں آئے گی؟ اگر وہ ہمیں کہہ دے اگر کوئی ہمارا جاننے والا ٹریفک والا ہو۔ اور وہ ہمیں راز داری کے ساتھ بتا دے ہمارے کندھے کے اوپر ہاتھ رکھ کر کہ دیکھو، اتنی خلاف ورزی کرو ٹریفک کی، جتنے پیسے جرمانے کے ادا کرنے کے آپ کی جیب میں ہیں۔ تو سمجھ میں، بات آئے گی یا نہیں آئے گی؟ بالکل یہی بات ہے، اتنا گناہ کر لو جتنے کا عذاب سہنے کی تجھے طاقت ہے۔ کہاں پر طاقت ہے؟ صرف یہ بات ہے کہ وہ ٹھیک ہے جی چل جا بیٹا سولی پہ رام بھلی کرے گا۔ وہ والی بات ہے کہ بس ٹھیک ہے جی بعد میں دیکھا جائے گا۔ بعد میں دیکھا جائے گا ایسی کوئی بات نہیں، یہ بعد والی بات پکی اور یقینی بات ہے۔ پکی اور یقینی بات ہے۔ لہٰذا اس کے لیے ہمیں تیاری کرنی چاہیے۔
اختیاری امور میں کوتاہی کا علاج بجز ہمّت اور استعمال اختیار کے کچھ نہیں
اللہ جل شانہ نے جو ہمیں اختیار دیا ہے، تو اب اس اختیار کو استعمال کرنا ہمارا فرضِ منصبی ہے۔ اس کے بعد نتیجہ، یہ ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے۔ اس سے ہم ہاتھ کھڑے کر دیں گے۔ وہ چیز نہیں، وہ اللہ کا کام ہے۔ اللہ کے کام کو ہم اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتے، یہ ہمارا کام ہے ہی نہیں۔ ہماری خانقاہوں، اور ایسی جگہوں پہ جہاں پر دین کی بات ہوتی ہے، جہاں دنیا آ چکی ہوتی ہے۔ وہاں یہ بتایا جاتا ہے کہ بس آپ کو سب کچھ مل جائے گا یہاں پر۔ یہ جھوٹی تسلی ہے۔ کون دے سکتا ہے؟ کوئی دے سکتا ہے؟ دے گا تو اللہ دے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے قانون کے مطابق دے گا۔ ہمارے قانون کے مطابق نہیں دے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے قانون کے مطابق دے گا۔ تو جو خانقاہ، جو مسجد، جو مدرسہ، اللہ جل شانہ کے اس قانون کے مطابق چلے گا، ان کو تو ہو گا فائدہ۔ اور جو نہیں چلے گا، تو ظاہر ہے ان کا ہو گا نقصان۔
تو یہاں پر بھی بات ہے کہ اگر ہم آپ لوگوں سے کہہ دیں کہ بس وہ سب کچھ آپ کو دے دیں گے کوئی بات نہیں۔ طفل تسلی ہے۔ اس پہ یقین نہیں کیا جاتا۔ لیکن اگر ہم کہیں گے، جو ہمیں بزرگوں نے بتایا ہے اس طرح ہم آپ کو بتا رہے ہیں۔ جس طرح بزرگوں نے کیا اس طرح ہمیں کرنا چاہیے۔ اگر آپ اس طرح کریں گے تو جس طرح اللہ نے بزرگوں کو دیا آپ کو بھی دے دیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا کرم ہے وہ دے دیں گے، وہ ظاہر ہے وہ تو کبھی بھی کسی چیز کو ضائع نہیں فرماتے۔ یہ بات ٹھیک ہو گی یا نہیں؟ یہ بات ٹھیک ہو گی نا؟ اب یہی ہے جھوٹی تسلی سے اپنے آپ کو بچانا۔ جھوٹی تسلی سے۔
عموماً لوگوں کا خیال یہ ہوتا ہے کہ کوئی نظر کام کر جائے گی اور سارے کام ہمارے خود بخود ہو جائیں گے۔ ایسی بات نہیں ہے۔ نظر ہوتی ہے، لیکن نظر کے پیچھے کچھ ہوتا ہے۔ وہ چیز نہ ہو تو پھر نظر بھی نہیں چلتی۔ بلکہ نظر نہیں کروائی جاتی۔ پہلے base بنایا جاتا ہے پھر اس کے بعد وہ چیز آتی ہے، اترتی ہے اس کے اوپر۔ دیکھیں نا وہ نظر جو ہے، یوں سمجھ لیجیے کہ اللہ جل شانہ کی ایک خاص تجلی ہوتی ہے۔ جو ذریعے سے کروائی جاتی ہے۔ تو وہ تجلی دیکھیں نا اگر کوئی شہزادہ آ رہا ہو تو اس کی طرح ایک منصب وغیرہ سجایا جاتا ہے یا نہیں سجایا جاتا؟ آپ شہزادے کو کیا جھونپڑی میں لائیں گے؟ اس کے لیے کیا کریں گے؟ اس کے لیے آپ اس کے شایانِ شان بندوبست تو کریں گے نا۔ اب وہ بندوبست کرنا آپ کا کام، پھر شہزادہ آئے گا تو شہزادے کے ساتھ جو چیزیں ہوں گی وہ ساتھ آ جائیں گی۔ تو اس تجلی کو بنا دیں آپ شہزادہ۔ ٹھیک ہے نا؟ اس کے لیے سٹیج سجا دو، یہ آپ کے اعمال۔ آپ کے اعمال، افعال، یہ وہ حالات ٹھیک کرنا، یہ اس کے لیے سٹیج ہے۔ جب وہ سٹیج تیار ہو جائے گا وہ تجلی خود بخود اپنے وقت پہ آ جائے گی۔ اپنے وقت پہ خود بخود آ جائے گی۔ یہ اس کا کرم ہے کس وقت وہ تشریف لاتے ہیں۔ تو یہ اس کا کرم ہے یہ ہمارا کام نہیں ہے۔ لیکن تم تو بناؤ نا اپنا کام۔ تم تو کرو اپنا کام۔ پھر دیکھو اس کا انعام۔ اصل بات یہی ہے۔
ایک بڑے میاں آتے ہیں۔ وہ طواف کر رہے ہوتے ہیں۔ طواف میں ایک آواز آئی، نہ تیرا طواف قبول نہ تیرا لَبَّيْكَ۔ وہ آواز اس کے پیچھے ایک نوجوان آ رہے تھے اس نے بھی سن لی۔ اس نے سنی تو اس نے کہا بابا آپ نے یہ آواز سنی؟ کہتے ہیں اچھا آپ نے بھی کچھ سنا ہے؟ کہتے ہیں ہاں، کیا سنا ہے؟ میں نے تو یہ سنا ہے۔ کہتا ہے بیٹا میں کیا کروں میں تو ساٹھ سال سے سنتا رہا ہوں۔ اس نے کہا بابا جی آپ پھر بھی ادھر آتے ہیں؟ تو اس نے کہا بیٹا میں کدھر جاؤں پھر؟ اور کوئی در ہو تو بتاؤ۔ اس کے علاوہ اور کوئی در ہو تو بتاؤ۔ وہ اس نے کچھ اس انداز سے کہا کہ وہ تجلی کا وقت آ گیا۔ وہ جو تجلی کا وقت تھا وہ آ گیا۔ اوپر سے آواز آئی، پہلے والا بھی قبول، موجودہ بھی قبول۔ جتنا کیا تھا وہ سارے کا سارا قبول، اور موجودہ بھی قبول۔ وہ سارا مجاہدے کے اندر چلا گیا۔
یہ ہے اللہ تعالیٰ کا فضل کہ تجلی جب ہوتی ہے، وہ آ جاتی ہے اپنے وقت پہ۔ اس کے لیے سٹیج بناؤ، اور سٹیج بنے گا اختیاری اعمال سے۔ سٹیج بنے گا اختیاری اعمال سے۔ اختیاری اعمال کے اندر جان ڈالو۔ اس کے اندر ہمت کرو، کوشش کر لو۔ پھر دیکھو، اللہ کی طرف سے کس وقت کیا ہوتا ہے۔ میں کہتا ہوں، اگر پوری عمر ہم سٹیج بناتے رہیں پوری عمر۔ اور بظاہر کچھ بھی نہیں ملتا ہوا نظر آ رہا ہو۔ بظاہر کچھ بھی ملتا ہوا نظر نہ آ رہا ہو۔ لیکن ہو آپ کو اطمینان کہ آپ راستے پہ ٹھیک ہیں۔ ٹھیک راستے پر ہیں، اتنا اطمینان تو کرنا چاہیے۔ یہ نہیں کہ کسی فراڈی کے پیچھے چلنا شروع کر لو۔ مطلب یہ ہے کہ راستہ آپ کا ٹھیک ہو، طریقہ آپ کا ٹھیک ہو۔ اور آپ ہمت سے کام کر رہے ہوں، کام کرتا ہوا آپ نظر آ رہے ہوں۔ نتیجہ آپ کو نہیں مل رہا ہو۔ مطلب یوں سمجھ لیجیے کہ مسلسل آپ کا مجاہدہ جاری ہو۔ عین موت سے چند لمحے پہلے نتیجہ ظاہر ہو گیا۔ آپ کا کام تو ہو گیا۔ بلکہ وہ کام باقی لوگوں سے زیادہ ہو گیا۔ کیسے باقی لوگوں سے زیادہ ہوا؟ باقی لوگوں کو تو کچھ اس دنیا میں مل گیا۔ باقی لوگوں کو تو کچھ اس دنیا میں مل گیا۔ لہٰذا ان کا اتنا الاؤنس تو کاٹ دیا گیا۔ کیوں کہ دنیا میں مل گیا نا کچھ۔ ان کا اتنا الاؤنس تو کاٹ دیا گیا۔ اور اس کو مل گیا سارے کا سارا۔
یہ بالکل ایسی مثال ہے کہ جیسے سروس کر رہے ہو۔ اور اس کی تنخواہ شروع نہیں ہوئی ہو۔ اس کی تنخواہ شروع نہیں ہوئی ہو۔ اب وہ کام کیے جاتا ہے، کیے جاتا ہے، تنخواہ مل نہیں رہی، پریشان بیچارہ۔ ادھر ادھر سے مانگ تانگ کے گزارا کر رہا ہے۔ اور اس طریقے سے ہو رہا ہے۔ لیکن بہرحال یہ کوشش جاری ہے، امید ہے کہ مل جائے گی۔ لیکن اس بات کا بھی خطرہ ہے کہ شاید نہ ملے۔ اس طریقے سے وہ کام کر رہا ہے۔ اب اس کو دس سال کے بعد وہ تنخواہ اس کی ساری کی ساری، جو منظور ہو گئی، پیچھے گزشتہ کی گزشتہ، وہ سارے کا سارا مل گیا۔ مجھے بتاؤ وہ اچھا رہا یا جن کو ساتھ ساتھ ملتا رہا؟ تکلیف تو اس میں تھی، لیکن اس کو پورے کا پورا اکٹھا مل گیا۔ اس کی سیونگ بھی ہو گئی۔ کیوں کہ سیونگ جو ہے وہ تو ویسے نہ کر سکتا۔ اگر اس کو بھی ساتھ ساتھ ملتا تو کہاں سیونگ کر سکتا؟ یہ تو دنیا کا قانون ہے۔
دنیا کے قانون میں تو چلو پورا جتنا کٹا تھا، وہ مل گیا۔ لیکن اللہ کا قانون جب وہ مجاہدہ خود ڈالتا ہے اور اس مجاہدے میں کوئی کامیاب ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ایک multiplication factor ہوتا ہے۔ جو کم سے کم دس ہے۔ جو کم سے کم دس ہے۔ اب مجھے بتاؤ دس گنا تو کم از کم ملے گا اور پتا نہیں کتنا مل جائے۔ کسی کا اخلاص زیادہ ہو تو ہزار ہو، کسی کا لاکھ ہو، کسی کا کروڑ ہو، کسی کا ارب ہو، پتا نہیں کتنا مل جائے۔ تو فائدہ ہوا یا نہیں ہوا؟ اس وجہ سے جو لوگ، کچھ نہیں ملتا نظر آتا جن لوگوں کو۔ لیکن کام کیے جائیں، وہ زیادہ خوش نصیب ہیں۔ اور زیادہ محفوظ ہیں۔ زیادہ محفوظ ہیں۔ بزرگی کا مرض ان کو ہی آتا ہے کہ تھوڑی بہت غیر اختیاری چیزیں ان کو نظر آتی ہوئی لگ جائیں۔ تو وہ بزرگی کا مرض لگ جاتا ہے انسان کو۔ اور بزرگی کا مرض گھن کی طرح مرض ہے، انسان کو تباہ کر دیتا ہے۔ یہ انسان کو لگ جاتا ہے۔
تو بہرحال میں عرض کر رہا تھا کہ
اختیاری امور میں کوتاہی کا علاج بجز ہمّت اور استعمال اختیار کے کچھ نہیں اسی پر مدار ہے تمام اصلاحات کا۔۔۔
تمام تمام جو اصلاح ہو گی، وہ کس طریقے سے ہو گی؟ وہ صرف اور صرف اسی چیز سے ہو گی، اختیاری امور میں کوتاہی نہ کرو۔ اختیاری امور کے اندر ہمت کرو، کوشش کر لو۔ جیسے کہا جائے، اسی طریقے سے کرو۔ فرمایا اگر ایسا نہیں اور
یہی ہے اصل علاج تمام کوتاہیوں کا، سارے افعال شرعیہ اختیاری ہیں ورنہ نصوص کی تکذیب لازم آتی ہے
بیشک نماز بھاری چیز ہے۔ مشکل چیز ہے، آسان نہیں ہے اس کا پڑھنا، وقت کی پابندی، مسلسل۔ دیکھیں نا، ایک وزن ہے آپ اٹھاتے ہیں بیس کلو ایک وقت میں۔ مشکل ہے، لیکن اتنا مشکل نہیں، آپ نے اٹھا لیا اور رکھ لیا۔ پانچ کلو وزن ہے، وہ آپ پانچ میل لے جاتے ہیں۔ کون سا مشکل ہے؟ وہ بیس کلو وزن اٹھانا مشکل ہے جو دوبارہ آپ رکھ لیں یا پانچ کلو مسلسل پانچ میل تک لے جانا مشکل ہے؟ ہاں وہ مشکل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دیکھیں، یہ مسلسل آپ ایک عمل کیے جا رہے ہیں روزانہ، روزانہ کے حساب سے پانچ نمازیں آپ نے پڑھنی ہیں۔ چاہے آپ خوش ہوں، چاہے آپ خوش نہ ہوں۔ چاہے بارش ہو، چاہے مشکل ہو، چاہے آسانی ہو۔ آپ نے نماز پڑھنی ہے، ہر حالت میں پڑھنی ہے، اہتمام کے ساتھ پڑھنی ہے۔ کپڑے بھی صاف رکھنے ہیں۔ جگہ بھی پاک ہونی چاہیے، وقت کے اندر پڑھنی چاہیے۔ اور قبلہ رخ بھی ہونا چاہیے، ساری پابندیاں، شرائط آپ کو پوری کرنی ہیں۔
﴿وَاِنَّهَا لَكَبِيْرَةٌ﴾۔ اللہ پاک خود فرماتے ہیں کہ نماز بھاری چیز ہے۔ ہے بھاری چیز، لیکن کہتے ہیں، اِلَّا، اِلَّا، اِلَّا کا مطلب اب استثناء ہے۔ کچھ لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں۔ کون سے لوگ مستثنیٰ ہیں؟ ﴿اِلَّا عَلَى الْخَاشِعِيْنَ ۙ الَّذِيْنَ يَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ﴾ وہ جو خشوع رکھنے والے، جو عاجزی کرنے والے لوگ ہیں، ہاں عاجزی کرنے والے لوگ ہیں اور کیا ہے؟ ان کو گمان ہے، ﴿الَّذِيْنَ يَظُنُّوْنَ﴾ ان کو گمان ہے ﴿اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ﴾ کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ ملاقات کرنی ہے۔ ﴿وَاَنَّهُمْ اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ﴾ اور ان کو اسی کی طرف لوٹ کے جانا ہے۔ یہ جس کے ذہن میں سما جائے اس کے لیے نماز مشکل نہیں ہے۔ اس کے لیے نماز مشکل نہیں ہے، نماز اس کے لیے آسان ہو گئی، اس مراقبے کے ساتھ آسان ہو گئی، اس تصور کے ساتھ آسان ہو گئی کہ میں نے ایک جگہ جانا ہے، جہاں اس کی پوچھ ہو گی۔
روز محشر کہ جاں گداز بود
اولیں پرسش نماز بود
ہاں روز محشر جو ہے، بہت ہی مشکل میں ڈالنے والے وہ ہے، وہاں پر سب سے پہلی پوچھ کس کی ہو گی؟ نماز کی ہو گی۔ نماز کو ٹھیک پایا جائے گا، باقی ساری چیزیں ٹھیک ہو جائیں گی۔ لہٰذا جب اس قسم کی بات ہے، اس کے لیے پھر نماز پڑھنا مشکل نہیں ہو گا۔ تو یہی والی بات ہے کہ ہم لوگوں کو اپنے اختیاری امور کے اندر کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔ صحیح ہے؟ لیکن، لیکن اس کے لیے یہ سوچ لازمی ہے کہ اس کا حساب ہو گا۔ اس کا حساب ہو گا۔
دیکھیں دو طرح کی چیزیں ہیں، ایک تو یہ چیز ہے کہ آپ ایک کام کریں، آپ کو اس پر انعام ملنے کی امید ہے، نہ کریں تو انعام نہیں ہے۔ اتنی بات ہے۔ جس کو ہم optional کہتے ہیں۔ آپ نے کر لیا، انعام۔ نہیں کیا تو انعام نہیں ملا۔ یہ امور مستحبات ہیں۔ یہ کیا ہیں؟ یہ امورِ مستحبات ہیں، کر لیا آپ کو بہت انعام مل جائے گا، تہجد کی نماز پڑھ لی، ماشاء اللہ، بڑا آپ کو مقام مل جائے گا۔ اور نہیں کیا تو نہیں ملے گا۔ لیکن کچھ ایسے کام ہوتے ہیں، کیا، انعام ملے گا، نہیں کیا، پھر پٹخنی ہو گی۔ پٹائی ہو گی، سزا ہو گی۔ وہ والی بات، ڈیوٹی آپ نے کی۔ آپ نے اپنا وقت بیچ دیا۔آپ کو جو کوئی نوکری دیتا ہے آپ نے اس کو اپنا وقت بیچ دیا۔ اب کیا ہے، اگر آپ نے ڈیوٹی اپنے صحیح طریقے سے کی، تو آپ کو مل جائے گا انعام۔ نہیں کی، سزا بھی ہو سکتی ہے۔ کیوں نہیں کی؟ نوکری سے نکالا جا سکتا ہے۔ نوکری سے نکالا جا سکتا ہے۔ اب یہ والی بات یہ ہے کہ سزا اور جزا، دونوں ساتھ ساتھ چلیں گی۔ تو جو ڈیوٹی ہے، فرض ہے، اس میں پھر یہ والی بات ہے کہ، کی تو آپ کو فائدہ، نہیں تو بڑا نقصان۔
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے ہمیں باقاعدہ ہمیں educate کیا ہے۔ جیسے ڈاکٹر ایک مریض کو educate کرتا ہے نا کہ یہ چیز نہ کھاؤ، اس کے ساتھ آپ کو یہ نقصان ہو جائے گا۔ خبردار جو اس چیز کے قریب پہنچے، یہ آپ کے لیے زہر ہے۔ وہ اس طرح educate کرتا ہے نا اچھا ڈاکٹر جو ہوتا ہے۔ جو صرف پیسے لینے والا ہے اس کی میں بات نہیں کر رہا۔ کیونکہ ان کو تو پیسوں سے غرض ہے، کوئی مرے کوئی جیے اس کو اس سے کیا، وہ سرسری طور پہ کہہ دے گا کہ یہ چیز کھانی چاہیے یہ چیز نہیں کھانی چاہیے۔ اس کا دل ان کے ساتھ involve نہیں ہو گا۔ لیکن جو صحیح ڈاکٹر ہو گا وہ آپ کو educate کرے گا بھئی یہ نہیں کرنا، یہ نہیں کرنا، یہ کرنا ہے، یہ کرنا ہے اور attendants کو بھی بتائے گا دیکھیں یہ دوائی آپ نے فلاں فلاں وقت کھلانی ہے۔ نہیں کھلاؤ گے تو پھر اس میں یہ ہو جائے گا۔ یہ ساری باتیں اس وقت سامنے آتی ہیں۔
تو بہرحال میں عرض کر رہا تھا، کہ جو ہماری ڈیوٹیاں ہیں، فرائض ہیں، یہ فرائض ہیں۔ ان کے بارے میں پوچھ ہو گی۔ تو نماز بھی ایسی چیز ہے، روزہ بھی ایسی چیز ہے، زکوٰۃ بھی ایسی چیز ہے، حج بھی ایسی چیز ہے اور ہمارے جو معاملات کی، جو لین دین کی باتیں ہیں اس میں جو بھی فرائض ہیں وہ بھی اپنے اس لحاظ سے ضروری ہیں، تو ان کے بارے میں پوچھ ہو گی۔ اور اگر پورا نہیں ہو گا، تو نقصان ہو گا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر ہمیں ایسی چیزوں سے ڈرایا ہے۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بشیر بھی تھے نذیر بھی تھے۔ بشارت بھی دیتے تھے اور ساتھ ساتھ ڈراتے بھی تھے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں ہمیں ڈرایا کہ جس کی ایک نماز ضائع ہو گئی، تو گویا کہ اس کے، جان اور مال سارا کا سب تباہ ہو گیا، ایسی حالت ہے۔ ایک حدیث شریف میں نے پڑھی، اس میں فرمایا کہ اگر ایک شخص کے سر کے اندر ایک کیل ٹھونکی جائے تو یہ اس کا کم نقصان ہے بمقابلہ اس کے کہ اس کے تلوے کو کسی غیر محرم عورت کا ہاتھ لگ جائے۔ یہ مثالیں دیتے ہیں۔ مثالیں دیتے ہیں تاکہ سمجھ آ جائے، کیونکہ ان چیزوں کی ہمیں سمجھ ہے۔ ان چیزوں کی ہمیں سمجھ ہے، تو اس reference سے مثالیں دیتے ہیں جس سے ہمیں سمجھ آ جائے۔ مطلب گویا کہ غیر محرم کے ساتھ تعلق جو ہے، وہ اتنا خطرناک ہے کہ جیسے یہ تو دنیا کا نقصان ہے یہ تو تھوڑا سا نقصان ہے، وہ تو بہت خطرناک نقصان ہے۔ بہت خطرناک نقصان ہے۔
تو یہی والی بات عرض کر رہا ہوں کہ کوتاہیوں کا بھی جو علاج ہے وہ بھی اسی میں ہے، اپنے اختیار کو استعمال کرنا۔ ایک آدمی کہتا ہے میری نگاہ اٹھتی ہے، کیا کروں، نیچے نہیں ہو سکتی۔ پتا چل جائے گا۔ اگر نہیں اترے گی اختیار سے، تو پھر کسی اور طریقے سے ہو گا۔ وہ والی بات پھر بعد میں آئے گی۔ اب دیکھ لیں۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک دفعہ، ایک شخص نے کہا، میں کیا کروں میری نگاہیں خود اٹھ جاتی ہیں اور نیچے ہوتی نہیں ہیں۔ اس نے کہا بدبخت، یہ نہیں سوچتا ہو کہ اگر اس وقت اس کا والد دیکھ رہا ہو، پھر بھی اٹھے گی؟ یا تیرا والد دیکھ رہا ہو، پھر بھی اٹھے گی؟ تو انسان سے تو حیا ہے، خدا سے حیا نہیں ہے؟ انسان سے تو حیا ہے، خدا سے حیا نہیں ہے۔ انسان سے ڈرتے ہو، خدا سے نہیں ڈرتے؟ مطلب حضرت بھی مثالیں وہی دیتے تھے جو ہمارے روزمرہ کی ہوتی تھیں تاکہ لوگوں کو سمجھ آئے۔ ورنہ اصل بات تو یہ ہے کہ ہمیں یہ چیز ماننی چاہیے، چاہے ہمیں سمجھ آئے نہ آئے، ہمیں ماننی چاہیے، ہمیں کرنا وہی ہے جو ہمیں بتایا گیا ہے۔
ایک دفعہ حضرت۔۔۔ یہ مشکل مشکل علاج حضرت نے کیے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو، حضرت کو اجر دے۔ ایک شخص نے کہا، ظاہر ہے وہاں آتے تھے، حضرت کے مرید تھے، خط و کتابت، تو کہا کہ حضرت میں نے بہت کوشش کی، بہت سوچا، مجھے اپنے عیب نظر نہیں آتے۔ میں کیا کروں؟ گویا کہ میرے لیے غیر اختیاری ہے۔ مجھے اپنے عیوب نظر نہیں آتے۔ تو حضرت نے فرمایا کہ اب اگر تجھے عیوب نظر نہیں آتے تو تم لاعلاج ہو، کیونکہ عیوب کا نظر آنا ہی علاج کے لیے ضروری ہے۔ تو اب چونکہ تجھے عیب نظر ہی نہیں آ رہا لہٰذا تم لاعلاج ہو اور میرے پاس آپ کا کوئی علاج نہیں ہے، آپ جا سکتے ہیں۔ اس طرح تو اس کو رخصت کر دیا لیکن جاتے جاتے اس کو ایک نصیحت کی۔ کہا کم بخت، کبھی اتنا سوچا ہے کہ تم اللہ کے سامنے کھڑے ہو اور تیرے اعمال اللہ کے سامنے پیش ہو رہے ہیں، ذرا اس پہ نگاہ ڈالو کہ آپ کا کون سا عمل ایسا ہے جو خدا کے سامنے پیش ہونے کے قابل ہے۔ اتنا تو کم از کم سوچو۔ یہ کبھی تو نے سوچا ہے؟ اور اس کو رخصت کر دیا اور اس سے کہا مجھے خط نہ لکھنا۔ حضرت کی بہت سخت سزا یہی ہوتی تھی کہ فرماتے کہ مجھے خط نہ لکھنا۔
خیر کافی عرصہ درمیان میں گزر گیا۔ پھر وہ شخص آیا اور انہوں نے کہا کہ حضرت اگر اجازت ہو تو میں عرض کروں۔ تو حضرت نے اجازت دی، فرمایا کہ آپ کی اس تنبیہ کا بہت فائدہ ہوا۔ اور پھر میں نے غور کیا تو مجھے تو کوئی عمل بھی ایسا نظر نہیں آیا جو میں اللہ کے سامنے پیش کر سکتا ہوں۔ اب مجھے تو ہر عمل کے اندر عیوب ہی عیوب نظر آتے ہیں۔ مجھے تو کوئی عمل ایسا نظر نہیں آتا جس کے اندر عیب نہ ہو۔ میرے دل کی مثال ایسی ہے جیسے کہ ایک منقش صندوق ہو جس کی طرف دیکھ کر انسان کا جی چاہے کہ اس کے اندر تو پتہ نہیں کیا کیا ہو گا۔ بہت خوشی کے ساتھ اس کو کھولتا ہے اور جب اس کو کھول کے دیکھتا ہے تو اس کے اندر گند ہی گند بھرا ہوا ہے۔ بس میری حالت تو یہ ہے۔
پھر حضرت نے تسلی دی، فرمایا کہ اب ماشاء اللہ، یہ جو گند صندوق کے اندر پڑا ہوا ہے لیکن تجھے نظر آ گیا، اب یہ بنے گا کھاد۔ اب یہ بنے گا کھاد اور اب اس سے جو آپ اعمال کریں گے، اس سے پھل و پھول کھلیں گے، ان شاء اللہ۔ اب علاج کے لیے میں حاضر ہوں، آپ ان تمام چیزوں کو لکھیں جو آپ کو نظر آ رہے ہیں تاکہ ایک ایک کر کے سب کا علاج کیا جائے۔ کیسے طریقے سے علاج کیا۔ ایک ایسا شخص جس کو عیوب ہی نظر نہیں آ رہے تھے۔ لیکن دیکھیں، وہ کیسے عیوب اس کو نظر آ گئے۔
یہی بات ہے عظمت کی بات ہوتی ہے۔ آپ ہر ایک کے ساتھ ہنس ہنس کے بات کرتے ہیں۔ لیکن boss کے سامنے جاتے ہوئے، فائل آپ کے ہاتھ میں ہے، پریشان ہیں، پتہ نہیں کون سی چیز نہ پکڑے، یہ نہ پکڑے، یہ نہ پکڑے، یہ نہ پکڑے۔ تو آپ کے ساتھ فائل ہے اور اندر جاتے ہوئے ہاتھ تھر تھر کانپ رہے ہیں۔ کیا وجہ؟ boss کی عظمت ہے۔ احساس ہے کہ وہ تو پکڑ سکتا ہے، اس کو اختیار ہے۔ بلکہ بعض دفعہ تو، آخر انسان بھی boss ہے۔ انسان تو کمزور ہے۔ تو آپ کی اچھی چیز کو بھی غلط کہہ سکتا ہے۔ آپ نے ایک اچھا کام کیا وہ کہتا ہے نہیں یہ تو تو نے ٹھیک نہیں کیا۔ اب بے شک آپ اس کے ساتھ بحث نہیں کر سکتے، کہتے ہیں ٹھیک ہے sir۔ ٹھیک ہے sir۔ وہ کہنا پڑتا ہے۔
army میں تو یہ چیز بہت زیادہ ہے نا۔ وہ line authority ہوتی ہے۔ تو وہاں ان کو گویا کہ یہ عملاً educate کیا جاتا ہے۔ ایک ہوتا ہے theoretical، کتاب میں بتانا۔ کتاب میں بتانے کی... army میں کتاب نہیں چلتی۔ army میں عملاً educate کر دیا جاتا ہے کہ جو boss کہے وہ ٹھیک ہے۔ Yes sir۔ Yes sir۔ وہ ایک دفعہ ہم کسی army institute میں تھے۔ تو وہ brigadier، brigadier موجود تھے۔ تو وہ اس طرح تھا کہ وہ کسی committee کی تشکیل ہو رہی تھی۔ تو اس میں ایک colonel کا نام propose ہوا۔ تو lieutenant colonel جو اس کے subordinate تھے۔ تو جیسے وہ اس colonel کا نام propose ہوا تو اس نے اتنی جلدی ہاتھ اٹھایا، I second، I second، اس طرح جلدی سے ہاتھ اٹھایا کہ اس کرنل کو بھی ہنسی آ گئی۔ کہ نہیں خوشامدی پن جو ہوتا ہے نا بندہ بالکل گھل جاتا ہے نا۔ تو مطلب اس کرنل کو بھی ہنسی آ گئی حالانکہ اس کے favor میں ہو رہا تھا۔ یہاں پر کیوں ہوتا ہے ایسا؟ ہے نا بات عظمت کی بات ہے۔ احساس کی بات ہے۔ پھر انسان کو یہ چیزیں معلوم ہوتی ہیں۔
اب اللہ پاک کی عظمت دل میں ہے نہیں۔ یہ احساس ہے نہیں کہ اللہ پاک تو ہمارے آن کی آن میں ساری چھٹی کر سکتا ہے۔ کچھ بھی جو ہمارے پاس ہے کچھ بھی نہیں رہے گا۔ کچھ بھی نہیں رہے گا۔ اب ایسی صورت میں ہم کیا کر سکتے ہیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ؟ اللہ تعالیٰ کے سامنے تو بس انسان جتنا مردہ بنا رہے اتنا ہی اچھا ہے۔ کیونکہ وہاں تو پر مارنے کی جگہ نہیں ہے۔ کوئی گنجائش ہی نہیں ہے درمیان میں کچھ بھی احساسات۔ وہ اللہ تعالیٰ اس کو تمام احساسات کو جانتا ہے۔ باقی چیزوں کو تو چھوڑیں جو اوپر کاغذ میں لکھا ہوا ہے وہ تو ایک الگ چیز ہے۔ اللہ جل شانہ تو ابھی دل میں خیال پیدا نہیں ہوا اس کو جانتا ہے۔ اس کے ساتھ آپ کیا کریں گے؟ جب یہ ایسی صورتحال ہے تو اس وقت انسان کے کیسے حالات ہونے چاہئیں؟
یہ تو اللہ تعالیٰ کریم ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو جو اللہ سے ڈرتے ہیں ان کو کوئی کیفیت ان کے ساتھ اپنی طرف سے ایسی عطا فرما دیتے ہیں جس سے وہ اس کو برداشت کر لیتا ہے۔ وہ ایک دفعہ ایک ولی اللہ تھے۔ ایک بادشاہ ان کے پاس جاتے تھے۔ اس ولی اللہ نے اس کو وہ ایک پڑیا دی۔ تو پڑیا اس نے استعمال کی تو اس کی جتنی بھی بیویاں اور وہ تھیں لونڈیاں۔ سب کے ساتھ اس کو یعنی مطلب ہو گیا۔ اس میں طاقت۔ تو وہ اس کے دل میں خیال آیا کہ دیکھو اس نے مجھے ایک پڑیا دی تو اس کا یہ حال ہے تو اس کا خود کیا حال ہو گا؟ مطلب یہ تو بہت خطرناک آدمی ہو گا کہ مطلب دیکھیں مجھے ایک مجھے تو سہولت تھی۔ مطلب provision تھی۔ اس کو تو provision بھی نہیں ہے تو یہ کیا کیسے زندگی گزارے گا؟ یہ تو بڑا خطرناک آدمی ہو گا۔ بس اس کے دل میں وسوسہ آیا۔ وسوسہ آیا تو وسوسے پہ اللہ تعالیٰ نے اس کو مطلع کر دیا اللہ والے کو۔
جب یہ اگلی دفعہ گیا تو اس نے کہا کہ بادشاہ آپ سے معافی چاہتا ہوں ایک ایسی بات بتا رہا ہوں جو کہ مجھے بتانی نہیں چاہیے تھی۔ لیکن مجبوری ہے آپ کو بتانا چاہیے تاکہ آپ کو اس میں فائدہ ہے۔ آپ نے تو میری قوت کا اندازہ لگا لیا نا؟ قوت یعنی ادراک کا اندازہ تو آپ نے لگا لیا، کہتے کہ ہاں۔ تو اب اپنی قوتِ ادراک سے آپ کو کہتا ہوں کہ آپ کی زندگی صرف چالیس دن باقی ہے۔ تو جو کچھ آپ نے اس میں کرنا ہے تو کر لیں۔ آپ کے پاس مزے تو بہت ہیں۔ جتنے مزے اس میں کر سکتے ہیں تو کر لو۔ چالیس دن آپ کی زندگی باقی ہے۔
اب بادشاہ تو دیکھ چکا تھا کہ بھئی یہ تو اس قسم کا آدمی ہے جس کی یہ حالت ہے۔ ایک پڑیا سے یہ ہوتا ہے تو ساری باتیں ان کے اوپر کھلتی ہیں۔ تو یہ تو بہت صاحبِ ادراک آدمی ہے۔ تو اس پر انہوں نے بس وہ مان لیا۔ اب اس کا دل بیٹھنا شروع ہو گیا کہ چالیس دن ابھی ہیں۔ لیکن دل ابھی سے بیٹھنا شروع ہو گیا۔ اتنا پریشان، سب چیزیں نعمتیں موجود۔ نہ کھانے میں جی لگتا ہے۔ نہ اپنی بیوی سے بات کرنے کو جی چاہتا ہے۔ نہ کسی اور سے ملنے کو جی چاہتا ہے۔ بس ایک عجیب ماتم زدہ قسم کی کیفیت وہ طاری ہو گئی۔ پورا محل سوگوار ہو گیا۔ اور اب یہ ہے کہ بس عبادات میں بیٹھے ہوئے ہیں اور اللہ اللہ کر رہے ہیں۔ ایک ایک دن کو گن رہے ہیں۔ انتالیسواں دن آ گیا۔ چالیسواں دن آ گیا۔ اب چالیسواں دن آ گیا تو بس اس نے کہا بس اب تو ان کا معاملہ یہ تو بالکل چالیس دن پر ہی ہو گا۔
تو خیر بہرحال چالیس دن والا دن جب گزر گیا اکتالیسواں آ گیا تو بڑا خوش خوش خوش خوش چلا گیا کہ یہ بات تو غلط ثابت ہو گئی۔ تو اس بزرگ کے پاس چلا گیا کہ حضرت آپ کا بتایا ہوا وقت تو گزر گیا۔ اس نے کہا اچھا؟ چلو اب بات کر لیتے ہیں۔ اب stage تیار ہو گیا۔ اب بات کر لیتے ہیں۔ چلیں بتاؤ مجھے۔ اس وقت آپ کی جو یہ حالت تھی چالیس دن میں وہ آپ نے کیسی پائی؟ مطلب کیا آپ اپنے جو مزے ہیں اس سے آپ متلذذ ہو سکے؟ آپ نے ان مزوں کو حاصل کر لیا؟ کہتے مزے کیا میں تو مرتے مرتے رہا ہوں۔ میں تو ہر وقت مرتا رہا ہوں۔ مزے کدھر کی بات ہے؟
کہتے سمجھ میں آ گئی نا یہ بات؟ کہتے ہیں ہاں۔ کہتے ہیں: بس یہی بات ہے۔ یہ اچھا ہاں اس وقت اس کو پڑیا بھی دی تھی کہ روز یہ پڑیا کھا لیا کریں۔ اس سے تو طاقت رہے گی۔ پڑیا بھی روزانہ کھاتا تھا۔ لیکن کچھ بھی نہیں۔ انہوں نے کہا آپ دیکھ لیں آپ کے تو ہو گئے صرف چالیس دن کا یہ حال ہے۔ اور اس کا نتیجہ یہ نکلا۔ اور میرا حال ہر وقت کا یہ ہے۔ مجھے ایک لمحے کا بھی پتہ نہیں کہ میں کس وقت جا رہا ہوں کہ میرا کیا حال ہو گا؟ پھر اس کے بعد اس بادشاہ نے معافی مانگ لی کہ حضرت مجھ سے بڑی غلطی ہوئی۔ میرے ذہن میں بڑی گندی بات آ گئی تھی بس مجھے معاف کر دیں۔ اس نے فرمایا ٹھیک ہے معافی ہے۔ بہرحال میں صرف آپ کو یہ چیز سمجھانا چاہتا تھا۔
تو یہ والی بات ہے۔ اگر کسی کو اللہ تعالیٰ کی عظمت کا اعتراف ہو جائے، احساس ہو جائے۔ ساری باتیں سمجھ میں آ جائیں گی کسی lecture کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اس وجہ سے ہم تصوف کے اندر جو lecture ہوتے ہیں اس کو اہم نہیں سمجھتے یہ بھی ایک فتنہ ہو جاتا ہے کہ تصوف کے اندر میں لیکچروں پر لوگ انحصار کرنے لگے۔ تصوف کے اندر لیکچروں پہ انحصار نہیں ہوتا۔ lecture صرف ہوتے ہیں سمجھ لانے کے لیے۔ باقی جب سمجھ آ جائے پھر اس کے بعد لیکچروں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ پھر لیکچروں کی ضرورت نہیں ہوتی پھر تو کام کرنا ہوتا ہے اور وہ اپنے اس کے اس کی حیثیت کے مطابق ہی انسان کام کر رہا ہوتا ہے۔ اصل چیز کیا ہے تعلق مع اللہ ہے۔ تعلق مع اللہ حاصل ہو جائے بس اس کے اندر پھر روز بروز ترقی ہوتی رہے۔ یہ والی بات ہے تو یہ والی بات صرف ہم سمجھنے کے لیے کرنا چاہ رہے ہیں۔