روحِ سلوک اور عطرِ تصوف: راہِ طریقت میں طلب، مجاہدہ اور عبدیت کی حقیقت
درس 2، حصہ 1 باب 1 ملفوظات: روح سلوک تا عطر تصوف، اشاعت اول: بدھ 18 اپریل اور 12 مئی، 2007 بمطابق: یکم اور 25 ربیع الثانی ، 1428 ہجری
- راہِ سلوک کا اصل اصول: حصولِ منزل کے بجائے سچی 'طلب' کا ہونا
- مجاہدے کی حقیقت: فرائض کی ادائیگی اور مباحات (جائز خواہشات) میں کمی
- مجاہدہِ اختیاریہ اور مجاہدہِ اضطراریہ کا فرق اور ان کے ثمرات
- مجاہدے کی دو بنیادی اقسام: مجاہدہ حقیقیہ اور مجاہدہ حکمیہ
- طریقُ الوصول الی اللہ: اللہ تک پہنچنے کے بے شمار راستے اور نیت کا عمل دخل
- عطرِ تصوف: اعمال میں ہمت کا استعمال اور نتائج مکمل طور پر اللہ کے سپرد کرنا
الحمد لله رب العالمين
والصلوة والسلام على خاتم النبيين اما بعد
فاعوذ بالله من الشيطن الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم
روحِ سلوک: مقصود طلب ہے وصول مقصود نہیں۔
ارشاد: اہل طریق کے یہاں یہ مقرر ہے کہ طلب مقصود ہے وصول مقصود نہیں۔ شرح اس کی یہ ہے کہ مقصود کے حصول کا قلب میں تقاضہ نہ رکھے کہ یہ بھی حجاب ہے کیونکہ اس تقاضے سے تشویش ہوتی ہے اور تشویش برہم زن جمیعت و تفویض ہے اور جمیعت و تفویض ہی شرط وصول ہے اس کو خوب راسخ کرلیا جائے کہ روح سلوک ہے ﴿وَ ھُوَ مِنْ خَصَائِصِ الْمَوَاھِبِ الْاِمْدَادِیَۃِ قَلَّمَا تَنَبَّہَ لَہٗ شَیْخٌ مِنْ مَشَائِخِ الْوَقْتِ﴾۔
حضرت فرماتے ہیں کہ جو سلسلے والے حضرات ہیں ان کے ہاں یہ بات طے ہے کہ مقصود جو ہے وہ طلب ہے۔ مقصود طلب ہے۔ وصول مقصود نہیں وصول اس کو کہتے ہیں جس کا نسبت کا حاصل کرنا۔ وہ مقصود نہیں ہے اور اس کی شرح یہ ہے کہ اگر ہم لوگ مقصود کے حاصل کرنے کو اپنے دل میں رکھیں گے، اس کا تقاضا ہوگا، تو یہ ایک حجاب بن جائے گا کیوں؟ کیونکہ اس تقاضے سے تشویش ہوگی جلد بازی ہوگی جلد بازی اس راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ لہٰذا وہ مقصد ہی حاصل نہیں ہوگا۔
اس کی ایسی مثال ہے کہ جیسے ایک بچے کو کہا جائے کہ تو پڑھ لے نا اگر تو اول آیا تو میں آپ کو موٹر سائیکل دوں گا۔ اب ایک بچہ ہے جس نے سن لیا اور بس اس کے بعد اس نے اس نے پڑھنا شروع کر لیا اور موٹر سائیکل کا خیال ذہن سے نکال دیا۔ اور محض پڑھ رہا ہے کسی اور چیز کی طرف اس کا دماغ نہیں جاتا۔ تو ظاہر ہے امکان ہے کہ وہ پاس ہو جائے اور موٹر سائیکل مل جائے۔ لیکن اگر وہ روزانہ موٹر سائیکل ہی کے بارے میں سوچتا رہا کہ موٹر سائیکل ملے گا تو یہ کروں گا یہ کروں گا یہ کروں گا یہ ہو جائے گا تو وہ ہو جائے گا، پڑھے گا؟۔ کچھ بھی نہیں پڑھ سکے گا کہ نتیجتاً یہ ہوگا کہ نہ موٹر سائیکل ملے گا نہ وہ پاس ہوگا۔ تو سارا کچھ خراب ہو جائے گا۔
اسی طریقے سے طلب جو ہے یہ مقصود ہے۔ یعنی آپ لوگ اس راستے پہ چلیں جس طریقے سے انسان کامیاب ہوتا ہے کامیابی اس میں ایک بڑی بات بھی ہے کہ دیکھیں، آپ ایک شخص کو پیسے دیتے ہیں۔ اگر آپ کو اس پر اعتماد ہوتا ہے تو پھر آپ اس سے پوچھتے نہیں کہ کیا کیا۔ جب آپ نے پوچھ لیا تو اس کا مطلب ہے آپ کو اس کے اوپر اعتماد ہی نہیں ہے۔ اور جب آپ اس پہ اعتماد کریں گے تو وہ آپ کے اس پہ بہت زیادہ خوش ہو جائے گا۔ مطلب یہ ہے کہ آپ کے توقع سے بھی زیادہ آپ کو نواز دے گا۔ تو یہاں پر یہ بات ہے کہ اللہ جل شانہ تو بہت ہی زیادہ غفور الرحیم ہے۔ تو جب وہ اتنا غفور الرحیم ہے اور اتنا کریم ہے اور قادر بھی ہے اور تمام چیزیں کر سکتا ہے تو پھر ہم لوگ کوشش کریں گے تو کیوں اس کا اللہ پاک ضائع فرمائیں گے جبکہ اللہ پاک خود بھی فرماتے ہیں ان الله لا يضيع اجر المحسنين۔ بے شک اللہ پاک نیکی کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں فرماتے۔ تو پھر یہ بدگمانی کیسی ہے کہ ہم لوگ نعوذ بالله من ذلك یہ سوچیں کہ پھر ایسا نہیں ہوگا۔ ہمارے لیے تو بس یہ وعدہ ہی کافی ہونا چاہیے نا۔ بس جب وعدہ ہو گیا تو بس اس کے بعد پھر ہم کیا درمیان میں اس کا وہ رٹ لگائیں گے کہ یہ تو یہ ہو گیا یہ تو یہ ہو گیا۔
تو اسی طریقے سے جو لوگ اس راستے میں اس خواہش کو ذہن میں رکھتے ہیں کہ مجھے یہ مل جائے مجھے یہ مل جائے گا۔ یعنی ان کو بزرگی کی خواہش ہوتی ہے اور بزرگی کی چیزوں کی خواہش ہوتی ہے تو ان کو نہ بزرگی ملتی ہے نہ کوئی اور چیز ملتا ہے۔ وہ وہ سارے کا سارا وقت ان کا ضائع ہو جاتا ہے۔
تو ایک دفعہ ایک صاحب تھے وہ اس کو بالکل فائدہ نہیں ہو رہا تھا۔ تو جو بزرگ تھے انہوں نے اس پہ بڑا زور لگایا لیکن کچھ مل چینج ہی نہیں ہو رہا تھا۔ ایک دن اس نے اسے بلایا اس نے کہا کہ بھئی آپ کی نیت کیا ہے یہاں میرے پاس آنے کی؟ اس نے کہا حضرت دل میں یہ ارادہ ہے کہ اگر یہ نعمت آپ سے مجھے مل جائے تو میں پھر باقی لوگوں کو پہنچاؤں گا۔ فرمایا تھوک لو اس کو اے ظالم کتا یہاں لیٹا ہوا ہے۔ سارا تجھے جو فائدہ نہیں ہو رہا اس کی وجہ یہی ہے کہ تو یہ سمجھ رہا ہے کہ میں پیر بنوں گا۔ یہ پیر بننا شرک فی الطریقت ہے۔ پیر بننے کی خواہش کرنا یہ شرک فی الطریقت ہے اس کو دور کر لو۔ یہ کیا تو نے مطلب یہ ہے کہ خیال لگایا ہوا ہے۔ کہتے ہیں جب اس نے اس چیز کو ختم کر دیا پھر الحمدللہ اس کو ترقی ملنا شروع ہو گئی۔
تو ہم نے دیکھا کہ جو لوگ اس کوشش میں لگے رہے نا برسوں کے مجاہدات ان کے رائیگاں چلے گئے برسوں کے۔ پھر اس میں جس پہ اللہ تعالیٰ فضل فرماتے ہیں ان کو اتنا رگڑا دیتے ہیں اتنا رگڑا دیتے ہیں کہ اس خیال کو ہی بھول جاتے ہیں۔ پھر ان پہ اللہ فضل فرما دیتے ہیں۔ تو یہ اچھا طریقہ نہیں ہے کہ انسان خود ہی اس کو چھوڑ دے۔ رگڑے کا انتظار کیوں کرے؟ وہ بھی اس صورت میں ملتا ہے جب اللہ فضل کرنے والے ہوں۔ ورنہ ڈھیل دے دیتے ہیں اور وہ ساری چیزیں خراب ہو جاتی ہیں۔ اس وجہ سے مطلب یہ ہے کہ فرمایا طلب مقصود ہے حصول مقصود نہیں ہے۔ تو اس چیز کو اللہ تعالی کے حوالے کر لے، و افوض امری الی اللہ ان اللہ بصیر بالعباد۔ اور محنت کرے کوشش کر لے کہ اللہ جل شانہ نے مجھے جس کام کے لئے بھیجا ہے نا اپنی عبادت کے لئے میں اس کے اندر بس کام کرنے لگوں مطلب میرے سارے کام ٹھیک ہو جائیں۔ میں صحیح طور سے اللہ پاک کی اطاعت کر سکوں عبادت کر سکوں بس مقصد کے لئے وہ۔ بس جن کے اندر یہ صلاحیت ہوتی ہے تو ماشاءاللہ وہ بہت جلدی جلدی ترقی کرنے لگتے ہیں۔
مجاہدہ کی حقیقت:
ارشاد: مجاہدہ کی حقیقت یہ ہے کہ معاصی کو تو مطلقاً ترک کرے اور یہ نفس کی مخالفت واجب ہے اور مباحات میں تقلیلاً مخالفت کرے اور یہ مخالفت مستحب ہے مگر ایسا مستحب ہے کہ مخالفت واجبہ کا حصول کامل اس مخالفت مستحبہ پر موقوف ہے جیسے بہت سونا، بہت کھانا، بہت عمدہ کپڑے پہننا، بہت باتیں کرنا، لوگوں سے زیادہ ملنا جلنا، سو ان میں تقلیل کرے۔
حضرت نے اس میں یہ بات فرمائی کہ ایک ہے مجاہدہ واجبہ۔ مجاہدہ واجبہ تو یہ ہے کہ نفس کی وہ مخالفت جو نفس کی خواہش ہوتی ہے معصیت کی۔ جو اللہ جل شانہ نے جس چیز کا امر دیا ہے کہ یہ کرو اور جس چیز سے بچایا ہے کہ اس کو نہ کرو تو اوامر و نواہی اس کو کہتے ہیں یہ پوری شریعت ہے۔ اب اگر کوئی شخص اس بات پر عمل کرتا ہے کہ جس چیز کا امر کیا اس کو کرتا ہے اس میں اگر نفس رکاوٹ ڈالتا ہے تو اس کو روکتا ہے مطلب یہ ہے کہ وہ کام کرنے لگتا ہے۔ اور اگر نفس کسی اور چیز کی طرف جاتا ہے للچاتا ہے جس سے روکا ہے اللہ پاک نے اس سے رک جاتا ہے یہ تو واجب ہے۔ یہ جو فرائض ہیں مطلب یہ ہے کہ طاعات کا حصول اور حرام سے بچنا یہ سارا۔ لہذا یہ تو واجب ہے۔
البتہ جو چیزیں مباح ہیں، مباح ہیں، تو انہی کے مباح کو ترک کرنا مستحب ہے کیونکہ مباحات کی سرحد مکروہ کے ساتھ لگی ہوتی ہے۔ اس کے اندر کمی کرنا ہے۔ مثلا بہت زیادہ کھانا، بہت زیادہ سونا، بہت زیادہ عمدہ کپڑے پہننا، بہت باتیں کرنا، لوگوں سے زیادہ ملنا جلنا اور اس طرح یہ ان چیزوں میں، ان چیزوں میں کمی کرنا۔ ان چیزوں میں کمی کی وجہ یہ ہے کہ اگر ان چیزوں میں کمی کرے گا تو اس کا دل اللہ تعالی کے ساتھ مانوس ہوگا۔ اور اس کو اللہ تعالی کی طرف توجہ کرنے میں آسانی ہوگی۔ نتیجتا جو واجبات ہیں، ان کو صحیح طریقے سے پورے کر سکے گا۔
اس لیے حضرت نے فرمایا کہ یہ ایسا مستحب ہے کہ مخالفت واجبہ کا حصول کامل اسی مخالفت مستحبہ پر موقوف ہے۔ یعنی اگر کوئی یہ مخالفت مستحبہ نہیں کر سکے گا تو وہ واجب بھی نہیں کر سکے گا۔ اس کی مثال وہی دی جیسے کہ ہماری نماز۔ نماز کے اندر کچھ ارکان ہیں۔ ان ارکان کو پورا کرنا یہ ہمارے اوپر فرض ہے۔ لیکن وہ ارکان تبھی صحیح طرح سے پورے ہوں گے، خشوع اس کا یعنی صحیح آئے گا پورا کہ جب ہم لوگ ان مستحبات کی رعایت کریں گے۔ مثلا کھڑے ہوں گے تو سجدہ کی جگہ دیکھیں گے۔ اور اگر رکوع کریں گے تو انگوٹھوں پہ نظر رکھیں گے۔ اور سجدے میں مطلب یہاں پر نظر رکھیں گے اور اگر بیٹھیں گے تو گود میں نظر رکھیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ ہماری نظر ادھر ادھر ہٹے گی نہیں، تب ہم تمام چیزوں کو اچھی طرح کریں گے اگرچہ یہ چیزیں مستحب ہیں لیکن یہ مستحب ایسے ہیں کہ ہمارے واجبات کو بھی صحیح کر دیتے ہیں۔
مجاہدہ اختیاریہ و اضطراریہ کا فرق اور دونوں کی ضرورت:
ارشاد: مجاہدہ اختیاریہ میں تو فعل کا غلبہ ہے اس لیے اس میں انوار زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ انوار کا ترتب عمل پر ہوتا ہے اور مجاہدہ اضطراریہ میں فعل کم ہوتا ہے اس میں نورانیت کم ہوتی ہے۔ لیکن انفعال کا غلبہ ہوتا ہے اس سے قابلیت میں قوت بڑھتی ہے اور اس انفعال و قابلیت کی خود اعمال اختیاریہ کے راسخ ہونے کے لیے سخت ضرورت ہے اسی لیے بزرگوں نے ایسے مجاہدات بہت زیادہ کرائے ہیں۔
یعنی جو مجاہدہ اضطراریہ ہے، جو غیر اختیاری طور پر انسان کے اوپر آ جاتے ہیں مثلا بیمار ہو گیا، مثلا گرفتار ہو گیا مثلا مطلب یہ ہے کہ کوئی دشمن اس کو تکلیف پہنچائے یا مطلب یہ ہے کہ نیند اس کو نہ آئے یا کوئی اور مطلب تکلیف ہو اس تکلیف کو برداشت انسان کر لے تو اس میں انوارات تو نہیں آتے کیونکہ انوارات تو عمل سے آتے ہیں اور اس نے عمل تو کچھ بھی نہیں کیا۔ اس میں نفس پہ زد پڑتا ہے۔ اور نفس کی جو رکاوٹ ہے۔ لہذا نفس tame ہو جاتا ہے نفس کی تربیت ہو جاتی ہے اور نفس کی مطلب مخالفت کم ہو جاتی ہے تو لہذا اس میں انسان کو عمل کرنے کی عمل زیادہ ہو جاتی ہے۔ تو بنیادی تربیت اس چیز سے ہوتی ہے۔ جیسے میں نے ابھی بتایا کہ جب اللہ تعالی کسی پہ فضل کرنا چاہے تو خوب رگڑا دے دیتے ہیں۔ تو اس سے وہ ساری چیزیں بھول جاتا ہے۔ تو یہ مطلب یہ ہے کہ وہ غیر اختیاری مجاہدات سے ہوتا ہے اختیاری مجاہدات میں نورانیت زیادہ ہوتا ہے اس میں انسان کبھی کبھار اپنے آپ کو بزرگ سمجھنے لگ جاتا ہے۔ تو اس سے لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں، بزرگی آجاتی ہے اس میں۔ عجب ہے۔ اور یہ تو خیر سے خطرناک چیز ہے۔
ایک دفعہ ایک بچہ ایک بزرگ کے ساتھ تہجد کے لیے اٹھا، بچہ تو بچہ ہوتا ہے نا تو ان بزرگ سے کہتے ہیں کہ دیکھیں نا یہ سارے لوگ سوئے ہوئے اور ہم نے تہجد پڑھ لی، اس پر ان بزرگ نے کہا کہ کاش آپ تہجد نہ پڑھتے، کاش آپ تہجد نہ پڑھتے۔ کیوں کہ تم نے جو بات کی۔۔ یہ تو غیر مکلف تھا نا لیکن اگر بالغ ادمی کر لیتا تو یہ تو غیبت میں شمار ہو جاتا۔ تو وہ تو حرام ہے۔ اور کیا مستحب۔ تو مستحب باعث بن گیا حرام کا تو بہت غلط بات ہو گئی۔ تو فرمایا کاش آپ تہجد نہ پڑھتے۔ تو یہ بات ہے۔ تو مجاہدہ اختیاریہ میں انوارات زیادہ ہوتے ہیں لیکن اس میں فائدہ بھی ہوتا ہے لیکن risk نقصان کا بھی ہوتا ہے۔ جبکہ یہ غیر اختیاریہ میں نورانیت کم ہوتی ہے لیکن اس میں انفعالیت زیادہ ہوتی ہے۔
مجاہدہ اضطراریہ کا نفع:
تہذیب: مجاہدۂ اضطراریہ سے عمل میں قلت بھی ہو جائے اور محض فرائض و واجبات ہی پر اکتفا ہوتا رہے تب بھی مجاہدہ کاملہ کا ثواب ملتا ہے۔
کیونکہ اس وقت وہ من جانب اللہ چیز ہوتی ہے اور چونکہ من جانب اللہ ہوتی ہے اس لئے تھوڑے عمل سے زیادہ نفع ہوتا ہے۔
مجاہدہ کی دو قسمیں:
ارشاد: مجاہدہ کی دو قسمیں ہیں، مجاہدہ حقیقیہ یعنی ارتکاب اعمال و اجتناب عن المعاصی۔ مجاہدہ حکمیہ یعنی ان مباحات کو ترک کرنا جو معاصی کی طرف مفضی ہیں۔
یہ پہلی بات آچکی ہے۔ یعنی پہلا مجاہدہ مجاہدہ حقیقیہ جو واجب ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ ان اعمال کو کرنے کا ایک فکر جو کہ ہمارے اوپر لازم ہے۔ اور ان معاصی سے بچنا جن سے ہمیں روکا گیا ہے تو یہ مجاہدہ واجبہ ہے۔ باقی دوسرا مجاہدہ حکمیہ یہ ہے کہ ان مباحات کو جو کہ انسان کو معاصی کی طرف لے جا سکتی ہیں ان سے اپنے آپ کو بچانا۔
طریقُ الوصول الی اللہ بعدد انفاس الخلائق:
ارشاد: ﴿طَرِیْقُ الوُصُوْلِ اِلَی اللہِ بِعَدِدِ اَنْفَاسِ الَخَلائِقِ﴾ جس طرح وصول کی ایک صورت یہ ہے کہ حرم میں نماز پڑھو، یہ بھی ایک صورت ہے کہ کسی عذر سے گھر میں نماز پڑھو اور حرم کو ترستے رہو۔
مطلب یہ ہے کہ اللہ جل شانہ تک پہنچنے کے اتنے راستے ہیں جتنے کہ لوگ ہیں۔ ہر ایک کے ساتھ اپنا اپنا معاملہ ہوتا ہے۔ لہذا اللہ جل شانہ جس کے لیے جو راستہ تجویز کر لے وہ ٹھیک ہے تو بعض دفعہ ایک آدمی جا رہا ہوتا ہے مسجد لیکن وہ گر پڑتا ہے۔ بجائے مسجد کے ہسپتال چلا جاتا ہے۔ اب اس وقت بیڈ پر جو ہے لیٹے لیٹے اشارے سے پڑھ رہا ہے ظاہر ہے ٹھیک ہے۔ اب اس کو اس مسجد کے جانے کا بھی ثواب ملے گا اور اس کے اوپر مزید بھی ملے گا۔ اس وجہ سے مطلب یہ ہے کہ طریق الوصول الی اللہ بعدد انفاس الخلائق ہے۔ تو یہ چیز مطلب یہ ہے کہ ہمیں اس کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔ بہت ضروری ہے۔
عطر تصوف
ارشاد: (1) اختیاری امور میں کوتاہی کا علاج بجز ہمّت اور استعمال اختیار کے کچھ نہیں اسی پر مدار ہے تمام اصلاحات کا اور یہی ہے اصل علاج تمام کوتاہیوں کا سارے افعال شرعیہ اختیاری ہیں ورنہ نصوص کی تکذیب لازم آتی ہے پس اختیار کا استعمال کرے گا تو کامیابی لازم ہے البتہ دشواری اور کلفت اول اول ضرور ہو گی۔ لیکن اس کا علاج بھی یہی ہے کہ باوجود کلفت کے ہمت سے اور اختیار سے برابر بہ تکلف کام لیتا رہے رفتہ رفتہ وہ کلفت مبدل بسہولت ہو جائے گی۔ سارے مجاہدے بس اسی لیے کیے جاتے ہیں کہ اختیار اوامر اور اجتناب نواہی میں سہولت پیدا ہو جائے۔ اور اوّل اوّل تو ہر کام مشکل ہوتا ہے مگر کرتے کرتے مشق ہو جاتی ہے اور پھر نہایت سہولت کے ساتھ ہونے لگتا ہے، جیسے حفظ کا سبق شروع میں دشوار ہوتا ہے مگر رٹتے رٹتے یاد ہو جاتا ہے اگر شروع کی کلفت اور تعب کو دیکھ کر ہمّت ہار دی تو پھر کوئی صورت ہی کامیابی کی نہیں۔
اس کو حضرت نے عطرِ تصوف فرمایا ہے۔ یعنی یہ نچوڑ ہے تمام چیزوں کا۔ عموماً لوگوں کے ذہنوں میں کچھ باتیں ہوتی ہیں جس کی وجہ سے انسان صحیح بات کو نہیں سمجھتا اور عمر بھر تک لگے رہتے ہیں لیکن ان کو فائدہ نہیں ہوتا۔ لیکن کچھ چیزیں جو سمجھ میں آ جائیں، اس کے بعد جب انسان عمل کرنے پر آمادہ ہوتا ہے اور کوشش کرتا ہے تو بہت تھوڑے عرصے میں ان کو بہت زیادہ فائدہ ہو جاتا ہے۔ تو ان میں یہ بھی چیز ہے، اسی لیے اس کو عطرِ تصوف فرمایا۔ کہ اگر کوئی اس کو سمجھ لے تو پھر ان شاء اللہ العزیز اس کو جو اعمال ہیں، اس سے بہت جلدی جلدی نفع ہونے لگے گا۔ کیونکہ صرف عمل کرنا نہیں ہوتا بلکہ عمل کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے ذہن کا صحیح ہونا اور اس کے اوپر مطمئن ہونا اور جو اس کے نتائج ہیں، اس کے بارے میں صحیح سمجھ کا ہونا بھی ضروری ہوتا ہے۔ ورنہ پھر بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان عمل تو کرتا ہے لیکن چونکہ اس کو سمجھ نہیں ہوتی، جب اس میں کوئی مشکل آتی ہے تو پھر وہ سمجھتا ہے کہ شاید میرا سارا مجاہدہ بیکار چلا گیا۔ اس قسم کی باتوں سے وہ بددل ہو کر تمام چیزوں کو چھوڑ دیتا ہے اور بجائے کامیابی کے ناکامی ہونے لگتی ہے۔
تو اس میں حضرت فرماتے ہیں کہ:
اختیاری امور میں کوتاہی کا علاج بجز ہمّت اور استعمالِ اختیار کے کچھ نہیں
یعنی جو اختیاری امور ہیں، دیکھیں نا کچھ چیزیں ہوتی ہیں اختیاری اور کچھ چیزیں ہوتی ہیں غیر اختیاری۔ اختیاری امور وہ ہیں جب ہم اپنے ارادے سے ان کو کر سکتے ہوں۔ مثلاً نماز ہے، ہم اپنے ارادے سے اس کو پڑھتے ہیں۔ ہم روزہ بھی اپنے ارادے سے رکھتے ہیں۔ ہم زکوٰۃ بھی اپنے ارادے سے ادا کرتے ہیں۔ حج بھی ہم اپنے ارادے سے کرتے ہیں۔ کسی کے ساتھ صحیح معاملہ کرنا ہو، وہ بھی ہم اپنے ارادے کے ساتھ کرتے ہیں۔ لیکن جو چیزیں غیر اختیاری ہیں، مثال کے طور پر یہ یعنی انسان کا بہت زیادہ مطلب کسی عمل میں اس کو خوشی کا ہو جانا، یہ غیر اختیاری ہے۔ رونا یہ غیر اختیاری ہے، مثال کے طور پر کسی کو رونا آتا ہے کسی کو نہیں آتا۔ یہ غیر اختیاری چیز ہے۔ اچھے خوابوں کا آنا یہ غیر اختیاری ہے۔ اسی طریقے سے کسی مضمون کا ذہن کے اندر آ جانا یہ غیر اختیاری ہے۔ مطلب یہ ساری چیزیں غیر اختیاری ہیں۔ تو جو چیز غیر اختیاری ہے، اس کے نہ ہم مکلف ہیں نہ اس کے اوپر ہماری ترقی منحصر ہے۔ یوں کہہ سکتے ہیں کہ ہماری غیر اختیاری چیزیں تو اختیاری چیزوں پر منحصر ہیں۔ یوں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہماری جو غیر اختیاری چیزیں ہیں، وہ اختیاری چیزوں پر منحصر ہیں۔ مثلاً ہم لوگ جنت میں جانا ہے، یہ اختیاری نہیں ہے۔ یا یوں سمجھ لیجیے کہ شادی کے بعد اولاد کا ہو جانا اختیاری نہیں ہے۔ لیکن یوں سمجھ لیجیے کہ جس کی بھی اولاد ہو گی تو ان کی ہو گی جنہوں نے شادی کی ہو گی۔ یا یوں سمجھ لیں کہ جنت میں جو جائے گا تو وہ بھی ظاہر ہے وہ جائے گا جو عمل کر چکا ہو گا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟
اب یہ الگ بات ہے کہ وہ، یعنی اس کے اوپر جو فیصلہ ہے وہ غیر اختیاری ہے۔ اب اگر کوئی شخص فیصلے کو ہاتھ میں لینا چاہے کہ مجھے وہ چیز مل جائے جس کے بارے میں... تو یہ فیصلہ، یہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، اس کا کسی کو اختیار نہیں ہے۔ لہٰذا فیصلہ اللہ پہ چھوڑنا چاہیے اور عمل میں کوتاہی نہیں، کیونکہ عمل ہمارے ذمے ہے فیصلہ اللہ جل شانہ کے پاس۔ تو جو چیز ہمارے ذمے ہے ہم اس میں کوتاہی نہ کریں۔ اور جو چیز اللہ کے پاس ہے، وہ اس میں کبھی بھی نقصان نہیں کرتے۔ ﴿اِنَّا لَا نُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ﴾ بے شک اللہ تعالیٰ نیکوکاروں کے اجر کو ضائع نہیں فرماتے۔ تو اس طریقے سے تمام چیزیں ﴿وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا﴾۔ یعنی ہم لوگوں کی جو محنت ہے وہ کبھی رائیگاں نہیں جائے گی اگر ہم لوگوں کا خیال اچھا ہو گا، اگر ہم لوگوں کا سوچ صحیح ہو گا۔ پھر کبھی نقصان نہیں ہو گا۔ لیکن اگر سوچ صحیح نہیں ہے، مثال کے طور پر ہم عمل کر لیں اور اس کے اوپر اترانے لگیں کہ یہ کوئی ہم نے بڑا کام کر لیا۔ یہ یہاں پر نقصان ہو گیا۔ یا ہم نے نتیجے کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہا۔ چونکہ اللہ کا کام ہے لہٰذا پٹخنی، نقصان، پریشانی۔ لیکن ہم لوگ اگر عمل کر لیں کہ ہمارے اختیار میں ہے، اس کے اوپر نتیجہ اللہ پہ چھوڑ دیں کہ جیسے اس کی مرضی، ظاہر ہے اس کا کام ہے۔ ہم لوگ اس کو کیا کر سکتے ہیں، ہماری تو کوئی حیثیت نہیں۔ لہٰذا جو اللہ والے ہوتے ہیں، وہ کام بھی کرتے رہتے ہیں اور کام کرتے کرتے ڈرتے بھی رہتے ہیں۔ ڈرتے ڈرتے کام کرتے ہیں کہ کہیں ہم سے نقصان نہ ہو جائے اختیاری چیز میں۔ اور کام کرتے کرتے ڈرتے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری غلط سوچ کی وجہ سے ہمارا کام ہمارے منہ پر نہ مار دیا جائے۔ تو دونوں صورتوں میں انسان وہ ڈرتے رہتے ہیں، اور اللہ جل شانہ ان کو نفع پہنچاتے ہیں۔
ایک دفعہ ایک صحابی کے فوت ہونے کا وقت تھا، قریب تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے، اس سے پوچھا: کیا اپنے دل کا کیا حال پاتے ہو اس حالت میں؟ تو اس نے کہا: یا رسول اللہ، اپنے گناہ سامنے آ رہے ہیں تو اس وجہ سے ڈر رہا ہوں، اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید ہے تو اس وجہ سے دل پُر امید ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی کے دل میں دونوں یہ باتیں اکٹھی نہیں کی جاتیں کہ اللہ جل شانہ جس چیز سے یہ ڈر رہا ہے اس سے امن نصیب فرما دیتا ہے اور جس چیز کی امید کرتا ہے وہ اس کو نصیب فرما دیتا ہے۔ دیکھیں نا، کتنی بڑی بات ہے۔ یعنی ایک انسان اپنے گناہ سے ڈر رہا ہو، اور اور اللہ جل شانہ سے امید ہو، اچھی امید ہو۔ یہ دونوں چیزوں کو مطلب اس میں دیکھیں، امید اور چیز ہے اور، یوں سمجھ لیجیے کہ اس کو اپنے ہاتھ میں لینا اور چیز ہے۔ یہ دونوں بالکل مختلف چیزیں ہیں۔ اللہ کے reference سے جتنی چیزیں ہیں وہ صحیح ہیں اور ہمارے reference سے جو چیزیں ہیں وہ غلط ہیں نتیجے کے اعتبار سے۔ ہم لوگ نتیجے کے اعتبار سے مکلف نہیں ہیں۔ ہم لوگ نتیجہ اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتے۔ یہ ہمارے بس ہی میں نہیں ہے۔ لہٰذا ہم اگر خدانخواستہ نتیجے کو ہاتھ میں لینا چاہیں گے، اس کا نقصان یہ ہو گا کہ جو ہمارا عمل ہے، وہ سارا ضائع ہو جائے گا۔ اور سارا ختم ہو جائے گا۔
ایک دفعہ حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ، ان کو کسی نے کہا، ظاہر ہے ان کے ہم عمر تھے۔ انہوں نے کہا حضرت جو کام آپ کرتے ہیں وہ ہم بھی کرتے ہیں، لیکن آپ کا حال اور ہے ہمارا حال اور ہے، یہ کیوں ایسا ہے؟ حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: آپ کے سارے اعمال کو آپ کا نفس کھا گیا ہے۔ آپ کے سارے اعمال کو آپ کا نفس کھا گیا ہے۔ نفس کیسے کھاتا ہے؟ دیکھیں نا انسان کے نفس کے اندر جو خواہشات ہوتی ہیں، مثال کے طور پر بڑا بننا، یہ نفس کے اندر خواہش ہے۔ اب جس نفس کے اندر یہ خواہش ہو کہ میں بڑا بن جاؤں، اب اس نے عمل کر لیا اور اس نے بزرگی کا خیال دل میں لانا شروع کر لیا کہ میں تو بزرگ بن گیا تو نفس نے کھا لیا نہیں کھایا؟ جس دل میں جس دل میں مطلب یہ ہے کہ عمل کے ساتھ بزرگی کا خیال آئے تو اس کے نفس نے تو اس چیز کو کھا لیا۔ اب اس کے پاس رہا کیا؟ اس کے پاس تو کچھ بھی نہیں بچا۔ وہ تو سارے کا سارا گیا۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جس دل میں رائی برابر تکبر بھی ہو گا، وہ جنت میں نہیں جائے گا۔
ریا کے لیے، ریا اس کے ساتھ تین قسم کے لوگوں کا جو عمل ہے وہ ضائع ہونا بتایا گیا ہے، یہ حدیث شریف میں ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ تین قسم کے لوگ سب سے پہلے لائے جائیں گے، ایک عالم، ایک سخی اور ایک شہید۔ عالم سے کہا جائے گا میں نے تجھے علم دیا تھا تو نے کیا کیا اس کے ساتھ؟ وہ کہے گا یا اللہ دن رات میں لٹاتا رہا، لوگوں کو دیتا رہا تیرے راستے میں تیرے لیے۔ اللہ پاک فرمائے گا تو جھوٹ کہتا ہے۔ فرشتے بھی کہیں گے تو جھوٹ کہتا ہے۔ تو نے اس لیے کیا تھا کہ لوگ تجھے عالم کہیں، تجھے عالم کہا گیا، لہٰذا جہنم۔ اس طرح جو سخی ہو گا وہ بھی کہے گا یا اللہ میں تو تیرے راستے میں دن رات اپنی دولت لٹاتا رہا۔ اللہ پاک فرمائے گا تو جھوٹ کہتا ہے۔ فرشتے بھی کہیں گے تو جھوٹ کہتا ہے۔ اور یہ ہے کہ اس کو بھی جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ اس طرح شہید کو لایا جائے گا تو شہید کو کہا جائے گا، شہید کہے گا یا اللہ میں نے تو تیرے راستے میں جان بھی دے دی۔ اللہ پاک فرمائے گا نہیں، تو نے جان اس لیے دی کہ تجھے بہادر کہا جائے، تجھے بہادر کہا گیا، لہٰذا جہنم۔ اب مجھے بتا دیں، ان لوگوں نے نتیجہ دنیا میں حاصل کرنا چاہا۔ نتیجہ کیا ہوا؟ نہ دنیا میں ملا نہ آخرت میں ملا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟ اس وجہ سے نتیجے پر کبھی بھی آپ قبضہ نہ کرنے کی کوشش کر لیں۔
یہ بہت ہی عام سا عطرِ تصوف ہے۔ عطرِ تصوف ہے کہ ذہن کے اندر یہ خیال بالکل نہ لائے کہ میں بھی کچھ ہوں۔ عمل کے لحاظ سے تو حاضر۔ عمل کے لحاظ سے تو ہر وقت حاضر۔ جیسے ایک فرمانبردار غلام ہوتا ہے۔ جس وقت کام کا وقت آتا ہے سب سے آگے۔ جس وقت انعام کی بات آتی ہے وہ سب سے پیچھے۔ اس کے اوپر مالک کو کتنی خوشی ہو گی؟ اور دوسری طرف ہمارے جو لوگ ہیں do nothing look busy والے، کام کچھ نہ کرے اور ظاہر ایسا ہو کہ جیسے میں ہی سب کچھ کر رہا ہوں۔ اس کا نتیجہ کیا ہو گا؟ تو جو مالک دانا ہو گا، جو مالک سمجھدار ہو گا اس کی نظر میں کیا ہو گا؟ اس کی نظر میں وہ ساری اس کی حیثیت وہ ختم ہو جائے گی۔
اللہ جل شانہ کے ساتھ وفاداری کرنی چاہیے۔ کم از کم اللہ کے ساتھ تو وفاداری کرنی چاہیے نا۔ اللہ کے ساتھ وفاداری کرنی چاہیے اور اللہ کے ساتھ وفاداری یہ ہے کہ دل اور دماغ سے انسان یہ بات محسوس کر لے کہ میں کچھ بھی نہیں ہوں، سب کچھ میرا اللہ کا ہے۔ اللہ جل شانہ مجھے دے گا تو اس کی مہربانی ہے، اس کا کرم ہے ورنہ میں تو کسی قابل نہیں۔ یہ ہمارے جو حضرت تھے سید نفیس الحسینی شاہ صاحب مد ظلہ العالی کا وہ ہے، میں تو اس قابل نہ تھا۔ میں تو اس قابل نہ تھا، نعت ہے نا حضرت کی، میں تو اس قابل نہ تھا۔ تو صحیح بات یہ ہے کہ جس کو اس بات کی سمجھ نہ ہو، اس کو یہ ساری باتیں ویسے ظاہری نظر میں آئیں گی کہ یہ ویسے ہی کہہ رہا ہے۔ اپنے حال پر انسان قیاس کر لیتا ہے دوسرے کو، اپنے حال پہ۔ اور یہ واقعی بات ہے کہ انسان کو جب تک ان چیزوں کا احساس وہ نہیں ہوتا، وہ سمجھے گا یہ تو ویسے ہی کہہ رہا ہے، بھئی میں کیا بات ہے۔ تو اپنے آپ کو انسان قابل سمجھتا ہے نا۔ جو انسان اپنے آپ کو قابل سمجھتا ہے، تو وہ کیا سمجھے گا اس سے میں تو اس قابل نہ تھا، وہ تو کہے گا یہ تو ویسے ہی کہہ رہا ہے نمائش کے لیے کہہ رہا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا، جس کا یہ حال ہوتا ہے، وہ واقعتاً اپنے آپ کو کچھ نہیں سمجھتا۔ وہ کہتا ہے مجھے اللہ تعالیٰ یہاں لے آئے، یہ تو اس کا کرم ہے، اس کا احسان ہے، میں تو اس قابل نہ تھا۔ کیا ہم لوگوں کا یہ، ہم اس قابل تھے کہ ہم یہاں پر آ جاتے، اس وقت ادھر، خانہ کعبہ تو بہت بڑی چیز ہے وہ تو ہمارے بس کی بات ہی نہیں، مطلب وہ تو ہم سوچ بھی نہیں سکتے وہ بہت بڑی جگہ ہے۔ یہاں آنے کے ہم قابل تھے؟ یہاں کے آنے کے بھی ہم قابل نہ تھے۔ قدم یہ اٹھتے نہیں، اٹھائے جاتے ہیں۔
مطلب اللہ جل شانہ جس کو بھی نوازتے ہیں، تو اس کے لیے رستہ کھول لیتے ہیں۔ اس کے لیے رستہ بنا لیتے ہیں، اس کو سمجھ عطا فرما دیتے ہیں، اس کا دل خود بخود اس طرف چل جاتا ہے۔ اب یہ اللہ کا کام ہے ہمارا کام نہیں۔ جیسے ایک بچے کے ہاتھ میں قلم دے دیا جائے، اور اس سے لکھوا دیا جائے۔ اس سے لکھوا دیا جائے، پھر اس کو کہہ دے، شاباش بیٹا تو نے بڑا اچھا لکھا۔ اب وہ بچہ کہے کہ میں نے لکھ دیا، تو کیسا ہو گا؟ اللہ پاک نے جیسے ہم سے کام کروا رہے ہیں، اس طرح اس نے، اس شخص نے اس سے لکھوا دیا۔ اصل بات یہی ہے کہ ہم لوگ کسی قابل بھی نہیں ہیں، کسی قابل بھی نہیں۔ ہم لوگ نعوذ باللہ من ذلک، اگر اپنے آپ کو کچھ سمجھیں گے، تو ایمان کو بچانا مشکل ہو جائے گا۔ اعمال تو بڑی دور کی بات ہے۔ ایمان کو بچانا مشکل ہو جائے گا، لہٰذا اپنے آپ کو کچھ نہیں سمجھنا چاہیے۔