تقدیر کے لکھے جانے اور انسان کی ذمہ داری میں توازن

سوال نمبر 2044 : نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور اسے حکم دیا کہ وہ قیامت تک ہونے والی ہر چیز لکھ دے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی پوری تقدیر پہلے سے لوحِ محفوظ میں درج ہے۔ لیکن بہت سے لوگ یہ اشکال کرتے ہیں کہ جب گناہ اور نیکی سب پہلے سے لکھ دی گئی ہے، تو پھر انسان کو اس کے کیے ہوئے گناہ کا ذمہ دار کیوں ٹھہرایا جاتا ہے؟ سوال یہ ہے کہ اس حدیث اور سیرتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں تقدیر کے لکھے جانے اور انسان کی عملی ذمہ داری میں کیا توازن ہے، اور انسان کو اپنے اعمال کا ذمہ دار کیوں ٹھہرایا جاتا ہے؟

حضرت مفتی محمد صدیق صاحب دامت برکاتھم
رحمانیہ مسجد - محمد آباد روڈ، اللہ آباد، راولپنڈی