رات کی عبادت اور دن کی تھکاوٹ

سوال نمبر 2017 : آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کا اکثر حصہ عبادت میں گزارتے اور بعض موقعوں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوری پوری رات اللہ تعالی کے حضور کھڑے رہتے لیکن یہ پوری رات کی بیداری آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دن کے کاموں میں رکاوٹ نہیں بنتی تھی کہ رات کو آرام نہیں کیا تو دن کے وقت کی مشقت ہو بلکہ غزوہ بدر کی رات تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوری رات اللہ تعالی سے دعائیں مانگتے رہے اور پھر دن کے وقت میدان جہاد میں لڑتے رہے۔ اسی طرح صحابہ کرام بھی راتوں کو عبادت کرتے اور دن کے وقت میدان جہاد میں لڑتے تھے یا دوسرے مشقت کے کام کرتے تھے۔ آج کل اگر ہم رات کے وقت کچھ عبادت کر لیتے ہیں تو پھر دن کے وقت مشقت والے کام نہیں کر سکتے۔کیا آج کل ہم لوگ جسمانی طور پر کمزور ہو چکے ہیں کہ رات کی عبادت سے ہمارے دن کے کاموں میں حرج آجاتا ہے یا اس کی کوئی اور وجہ ہے۔

حضرت مفتی محمد صدیق صاحب دامت برکاتھم
رحمانیہ مسجد - محمد آباد روڈ، اللہ آباد، راولپنڈی
رات کی عبادت اور دن کی تھکاوٹ - مطالعۂ سیرت بصورتِ سوال