عربوں کا انبیاء کے حالات سے بے خبر رہنا

سوال نمبر 2013 : قرآن پاک میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گزشتہ انبیاء کرام علیہم السلام کے واقعات بیان کرنے کے بعد فرمایا گیا ہے کہ یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم نے آپ کو وحی کی ہیں۔ اس سے پہلے نہ آپ کو اس کا علم تھا نہ آپ کی قوم کو۔مکہ مکرمہ میں اس وقت بڑے بڑے شاعر اور عربی زبان کے ماہر موجود تھے۔ کیا ان میں تاریخ کا علم رکھنے والے نہیں تھے؟ عرب لوگ حضرت ابراہیم علیہ سلام کو اپنا بڑا سمجھتے تھے اور ابراہیم علیہ سلام کے قربانیانوں سے بھی واقف تھے۔ باقی انبیاء کرام علیہم السلام حضرت ابراہیم علیہ سلام کے بعد تشریف لائے تھے تو عربوں کا باقی انبیاء کرام علیہم السلام کے حالات سے بے خبر رہنا کیا ان کی اپنی خرابیوں کی وجہ سے تھا؟

حضرت مفتی محمد صدیق صاحب دامت برکاتھم
رحمانیہ مسجد - محمد آباد روڈ، اللہ آباد، راولپنڈی