تصوف کا مغز: اخلاصِ عمل، صدقِ طلب اور صبر علیٰ الاحوال

بدھ،22 اکتوبر، اشاعتِ اول: 2014 کو ری براڈکاسٹ کیا گیا

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

اس بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ تصوف کی اصل روح محض ظاہری عبادات نہیں، بلکہ اعمال کے ظاہر اور باطن کا حسین امتزاج ہے۔ ہر عمل کا ایک ظاہری ڈھانچہ ہے جسے شریعت کے مطابق درست کرنا لازم ہے، اور ایک باطنی روح ہے جو اخلاص، عاجزی اور اللہ کی طرف خالص توجہ پر مشتمل ہے۔ اس باطنی کیفیت کے بغیر اعمال بے جان لاش کی مانند ہیں اور ان کی قبولیت کا دارومدار اسی روح پر ہے۔ چنانچہ، سالک کی ذمہ داری صرف اسی مخلصانہ کوشش (طلب) تک محدود ہے، کیونکہ نتیجہ (وصول) اللہ کے اختیار میں ہے۔ یہ اصول انسان کو تکبر اور مایوسی سے بچاتا ہے، کیونکہ ہمارا کام صرف اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ سعی اور جدوجہد کرنا ہے، جبکہ کامیابی عطا کرنا اللہ کا فضل ہے۔ راہِ سلوک کی یہ جدوجہد دو اہم مراحل سے گزرتی ہے: عطا اور آزمائش۔ ابتداء میں اللہ تعالیٰ عبادات میں لذت اور روحانی کیفیات عطا کر کے سالک کو اپنی طرف مائل کرتے ہیں، لیکن پھر ان کیفیات کو سلب کر کے آزمایا جاتا ہے کہ بندگی اللہ کی ذات کے لیے ہے یا محض اس لذت کے لیے۔ اس امتحان میں نفس کی مخالفت کرتے ہوئے ثابت قدم رہنے سے ہی حقیقی اور پختہ روحانی مقام حاصل ہوتا ہے، جو وقتی کیفیات کا محتاج نہیں ہوتا۔