نسبتِ اویسی

ہمعات، درس نمبر 8، مترجم پروفیسر محمد سرور

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

نسبتِ اویسیہ دراصل ایک روحانی نسبت ہے جو نسبتِ طہارت اور نسبتِ سکینہ کے درمیان برزخ کی حیثیت رکھتی ہے۔ انسان کا نفس ناطقہ ایک آئینہ ہے جس پر جسمانی اور روحانی دونوں اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جب سالک دنیاوی پستیوں سے نکل کر روحانی بلندی کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اس کے دل میں پاکیزہ ارواح سے تعلق پیدا ہو جاتا ہے۔ اس تعلق کے ذریعے وہ براہِ راست انبیاء، اولیاء یا فرشتوں کی ارواح سے فیض حاصل کرتا ہے۔ یہی اویسی نسبت ہے جو کسی ظاہری سلسلے کی محتاج نہیں۔ بعض مشائخ کو اللہ تعالیٰ وفات کے بعد بھی دوسروں کی ہدایت کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔ شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے بتایا کہ عالمِ ارواح کے مختلف طبقوں سے یہ فیضان میسر آتا ہے۔ اس نسبت کا نتیجہ یہ ہے کہ سالک پر الٰہی معارف، انوار اور روحانی کیفیات کا انکشاف ہوتا ہے جو اسے قربِ الٰہی کی بلندیوں تک لے جاتے ہیں۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلیٰ خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ

اَمَّا بَعْدُ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

تمہید:

آج کل ہمارے ہاں حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی بہت ہی اہم اور مشہور کتاب ”ہمعات“ یہ اس کا درس ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت کے فیوض و برکات سے ہمیں وافر حصہ نصیب فرما دے۔

متن:

نسبتِ اویسیہ

ان نسبتوں میں سے جو ارباب تصوف کے یہاں معتبر ہیں، ایک نسبتِ اویسیہ ہے۔ "نسبتِ اویسیہ" کو طہارت اور سکینہ کی نسبتوں کے درمیان برزخ سمجھئے۔ یعنی یہ ان دونوں سے ربط رکھتی ہے۔

نسبت اویسیہ کی تفصیل یہ ہے کہ انسان میں ایک نفس ناطقہ ہے جو بمنزلہ ایک آئینے کے ہے۔ جس میں انسان کی روحانی کیفیات کا بھی عکس پڑتا ہے اور اس کے جسمانی احوال کا بھی۔

تشریح:

برزخ اس کو اس لئے کہا گیا ہے کیونکہ اس کا ایک سرا روحِ ملکوتی کے ساتھ لگا ہوا ہے دوسرا روحِ ہوائی کے ساتھ لگا ہوا ہے۔ روحِ ہوائی طبعی ہے، یعنی انسان کے جو خوراک اور ماحول اور ان تمام چیزوں سے اثر لیتی ہے تو وہ طبعی چیز ہے۔ ڈاکٹر لوگ اسی کو روح کہتے ہیں۔ ہاں جی، اور جو روحِ ملکوتی ہے، عالم مثال سے ہے۔ وہ یہاں کی چیز ہی نہیں ہے تو وہ ملکوتی ہے۔ اور یہ جو نفس ناطقہ ہے ان دونوں کی combination ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایک طرف یہ ہے، ایک طرف یہ ہے، تو برزخ ہے، اس وجہ سے نفس ناطقہ ہے جو بمنزلہ ایک آئینے کے ہے۔ جس میں انسان کی روحانی کیفیات کا بھی عکس پڑتا ہے۔ (روح ملکوتی کا بھی اثر ہے) اور اس کے جسمانی احوال کا بھی۔ (یعنی روح ہوائی کا بھی اثر ہے۔)

متن:

انسان کی ان روحانی کیفیات اور اس کے جسمانی احوال میں سے ہر ہر کیفیت اور حالت کے لئے اس میں قدرت نے ایک استعداد رکھی ہے۔ چنانچہ اس کی وہ استعدادیں جن کا تعلق جسمانی احوال سے ہے اور وہ استعدادیں جو اس کی روحانی کیفیات سے متعلق ہیں ان دونوں میں کلی تنافر اور اختلاف ہے۔

تشریح:

روح اور جسم یہ ایک جیسے تو نہیں ہیں۔ ایک جگہ پہ ہیں، یہ مطلب نہیں کہ (موجود) نہیں (ہیں) دونوں موجود ہیں انسان میں، لیکن ایک جیسے تو نہیں ہیں روح روح ہے جسم جسم ہے۔

متن:

روحانی کیفیات میں سے ایک کیفیت یہ ہے کہ سالکین راہِ طریقت جب عالم ناسوت کی پستی سے نکل کر عالم ملکوت کی بلندی پر فائز ہوتے ہیں۔

تشریح:

ناسوت کی پستی کیا ہے؟ وہ نفس میں ہے، ہاں جی، نفس کا جب انسان تابع ہوتا ہے تو یہ ناسوت کا پابند ہوتا ہے، ہاں جی، یہ ناسوت کا پابند ہوتا ہے۔ اور جس وقت یہ اس سے نکل جاتا ہے تو یہ ملکوت کا جامہ اختیار کرلیتا ہے۔ اس وجہ سے چونکہ جب انسان اپنے نفس میں گھرا ہوتا ہے تو اس کو قریب ترین چیز ہی نظر آسکتی ہے اس لئے یہ عاجلہ میں مبتلا ہوتا ہے۔ اس کو قریب ترین چیز ہی نظر آسکتی ہے، بلند چیزیں اس کو نظر نہیں آتیں۔ مطلب ان کے اوپر نظر نہیں جاتی۔ اور جب انسان کا روحِ ملکوتی کے ساتھ تعلق ہوجاتا ہے تو اس کو قریبی چیزیں کچھ بھی نظر نہیں آتیں کہ کیا ہیں، ہاں جی۔ جیسے ایک ہوشیار سٹوڈنٹ ہوتا ہے اس کو کامیابی پڑھنے میں نظر آتی ہے اور جو ناکام سٹوڈنٹ ہوتا ہے اس کو آرام میں فائدہ نظر آتا ہے۔ مطلب کام چوری میں مزہ آتا ہے، ہاں جی۔ کیونکہ ظاہر ہے اس کے جسمانی تقاضے ہوتے ہیں۔ تو اس طرح وہ عقل سے کام لیتا ہے۔ عقل بھی تو ایک قدرتی استعداد ہے جو اللہ تعالی نے نصیب فرمائی ہے جو نفس سے ذرا مختلف ہے، تو اس وجہ سے جس پہ عقل کا غلبہ ہوتا ہے وہ ان چیزوں سے اثر نہیں لیتے۔ لیکن جس پہ عقل کا غلبہ نہیں ہوتا نفس کا غلبہ ہوتا ہے اس کی عقل بھی نفس کے پیچھے چلنا شروع کرلیتی ہے، ہاں جی۔ تو یہاں پر بھی روح اور نفس کی بات ہے۔

متن:

سالکین راہ طریقت جب عالم ناسوت کی پستی سے نکل کر عالم ملکوت کی بلندی پر فائز ہوتے ہیں اور خسیس اور ناپاک اعتبارات کو کلیتاً ترک کردیتے ہیں (وہی نسبتِ طہارت والی بات جو پہلے گزری ہے) تو اس حالت میں وہ لطیف اور خوشگوار کیفیات میں اس طرح سرشار ہوجاتے ہیں گویا ان کے نفوس ان کیفیات میں ڈوب کر بالکل فنا ہوگئے۔ (یعنی وہ نفس کے جو اثرات ہوتے ہیں وہ کالعدم ہوجاتے ہیں۔) چنانچہ اس مقام میں ان سالکوں کی حالت اس مشک کی سی ہوجاتی ہے جس میں پوری قوت سے ہوا بھر دی گئی ہے اور اس کی وجہ سے وہ اس طرح پھول گئی ہے کہ خواہ اسے آپ پانی میں ڈال دیں وہ کسی طرح تہ آب نہیں ہوتی۔ (مطلب یہ ہے کہ وہ پستی کی طرف نہیں جاتی، ہاں جی۔)

ان نفوس کو جب یہ کیفیت حاصل ہوجاتی ہے تو اس وقت ان کے آئینۂ دل پر اوپر سے ایک رنگ کا فیضان ہوتا ہے جس کی برکت سے ان کو نیک روحوں سے خاص مناسبت پیدا ہوجاتی ہے۔

تشریح:

کیونکہ روحان روح، نیک روح، چونکہ ایک طرف طہارت ہے۔ حضرت نے فرمایا نا کہ نسبت طہارت اور سکینہ کے درمیان bridge ہے تو اس طرح مطلب یہ ہے کہ طہارت کے حصول کے ذریعہ سے اور سکینہ کے اوپر، تو ان دونوں کے درمیان برزخ ہے تو اس میں یہ ہے کہ طہارت کی وجہ سے چونکہ اس کو پاکی حاصل ہوگئی تو اس وجہ سے اب وہ پاک روحوں کی طرف جائے گا یا پاک ارواح کے ساتھ ان کو مناسبت ہوجائے گی۔ تو پاک ارواح کے ساتھ مناسبت جب ہوجاتی ہے پھر کیا ہوتا ہے؟

متن:

اور نیز ان نیک روحوں کی کیفیات مثلاً انس و سرور، انشراحِ قلبی، عالمِ غیب کی طرف جذب و توجہ اور ان حقائقِ اشیاء کا انکشاف جو دوسروں کے لئے راز سربستہ کا حکم رکھتے ہیں، غرضیکہ ان نیک روحوں کے ساتھ اس طرح کی مناسبت سے یہ نفوس ان کیفیات سے بہرہ مند ہوجاتے ہیں۔

تشریح:

اب یہاں پر ایک بہت باریک نکتہ ہے۔ بزرگوں نے عمریں لگائی ہوتی ہیں ترقی میں، مثلاً مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ، شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ، کاکا صاحب رحمۃ اللہ علیہ یا اکابر انہوں نے عمریں لگائی ہوتی ہیں۔ ان کی ایک روحانی پرواز جتنی ان کو حاصل ہوچکی ہوتی ہے، ہوچکی ہوتی ہے۔ اب اگر کسی کو اس وقت جو زندہ ہے شخص، عالم ناسوت میں ہے، ان کو ان ارواح کے ساتھ تعلق پیدا ہوجائے اور وہ چیزیں جو ان کی آخری چیزیں ہیں ان کو transmit ہونی شروع ہوجائیں، تو اس کی کتنی خوش قسمتی ہوگی؟ یعنی اس نے بغیر محنت کے کتنی چیزوں کو حاصل کیا؟ ان کی بالکل آخری چیزوں کو مطلب گویا کہ وہ حاصل کرلیتے ہیں۔ حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں کہ ہم نے حضرت حاجی صاحب کے کچے پھل کھائے تھے اور حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے پکے پھل کھائے ہیں۔ یعنی بڑھاپے میں چونکہ ان سے رابطہ ہوا تھا نا تو جو ان کی ترقی کا آخری stage تھا اس وقت حضرت ان کے ساتھ ملے ہیں تو لہٰذا انہوں نے حضرت نے پکے پھل کھائے ہیں، ہاں جی۔ تو یہ اسی طرح مطلب یہ ہے کہ اس سے بھی اوپر stage کی بات ہے کہ جو فوت ہوجاتے ہیں، فوت ہوتے وقت اس کی کیا حالت ہوگی، تو اگر کسی کو یہاں اس کے ساتھ رابطہ ہوجائے اور تعلق ہوجائے تو ان کی ترقی کا آپ کیا کہہ سکتے ہیں۔ یہ ہے وہ بہت بڑی بات جو اویسی نسبت میں حاصل ہوتی ہے۔ البتہ ایک بہت اہم بات میں عرض کرنا چاہوں گا اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، ایک ہوتی ہے اویسی نسبت اور ایک ہوتا ہے اویسی سلسلہ۔ اویسی نسبت حقیقت ہے exist کرتی ہے، اویسی سلسلے کی کوئی حقیقت نہیں ہے، اویسی سلسلے کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اس کی وجہ (یہ ہے کہ) سلسلے کا تعلق افراد کے ساتھ ہے یعنی ایک نے دوسرے سے لیا دوسرے نے تیسرے سے لیا تیسرے نے چوتھے سے اس طریقہ سے Step by step ۔ اس میں سلسلہ اہم ہوتا ہے، گویا کہ chain۔ جیسے حدیث شریف، حدیث شریف میں chain اہم ہوتا ہے، درمیان میں کوئی کڑی بھی miss نہیں ہونی چاہئے، کوئی کڑی miss ہوگئی تو حدیث منقطع ہوگئی۔ آپ کم از کم اس کو صحیح حدیث نہیں کہہ سکتے، وہ منقطع ہوگیا۔ خواب میں اگر آپ ﷺ کی زیارت ہوجائے اور آپ ﷺ کسی کو کچھ فرما دیں تو وہ حدیث نہیں ہے، وہ خواب ہے۔ اگرچہ بہت اچھا خواب ہے لیکن اس کو حدیث شریف نہیں کہیں گے، ہاں جی۔ خواب میں اگر کسی نے آپ ﷺ کی زیارت کی اس کو صحابی نہیں کہیں گے۔ بات سمجھ میں آرہی ہے نا؟ اس کو صحابی نہیں کہیں گے۔ مطلب یہ کہ گویا کہ یوں سمجھ لیجئے کہ اس کے لئے chain بہت اہم ہے کڑی، جس کو ہم کہہ سکتے ہیں استناد، سند۔ مطلب ایک نے دوسرے سے، دوسرے نے تیسرے، تیسرے نے چوتھے سے اور یہ باقاعدہ ایک Transparent system ہوتا ہے، ایک Transparent system ہوتا ہے جس کو سارے لوگ check کر سکتے ہیں۔ ہاں جی تو یہ سلسلہ ہوتا ہے۔

ہماری سمجھ کے مطابق جتنے بھی بڑے بڑے اولیاء گزرے ہیں یہ سب تقریباً اویسی بزرگ تھے لیکن ان کو سلسلوں میں لایا گیا تاکہ transparent ہوجائیں تاکہ ان سے استفادہ ہو سکے، کیونکہ اویسی بزرگ کے ساتھ جتنا بھی کچھ ہے اس کو ظاہر بھی نہیں کر سکتا۔ خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ’’جو دوست دوست کا راز نہ رکھ سکے وہ دوستی کے قابل نہیں ہے۔‘‘ جو دوست دوست کا راز نہ رکھ سکے وہ دوستی کے قابل نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے اویسی طور پر جو کچھ ملا وہ اس کے ساتھ راز ہے اس وجہ سے بڑے بڑے لوگوں نے نہیں بتایا اپنے بارے میں کہ ان کو کیا ملا۔ ٹھیک ہے نا، کیوں، وجہ کیا ہے؟ ان کا دوسروں کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں۔ ان کا استفادہ کے ساتھ تعلق ہے، افادہ کے ساتھ تعلق نہیں ہے۔ افادہ کے ساتھ تعلق transparent سلسلے کا ہے۔ لہٰذا اپنے سلسلے کا اظہار لازم ہے جیسے سند کا بتانا لازم ہوتا ہے۔ ایک حدیث شریف روایت کرتے ہوئے اس کی سند بتانا لازم ہوتا ہے۔ حوالہ جس کو ہم کہتے ہیں، وہ لازم ہوتا ہے۔ لیکن خواب آپ کے اوپر حجت ہے، باقیوں کے اوپر ہے ہی نہیں۔ آپ کا بے شک کتنا ہی اچھا خواب کیوں نہ ہو آپ کے اوپر حجت ہے، دوسروں کے اوپر تو نہیں ہے۔ دوسرے اس سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ تو یہ اصل میں بنیادی بات ہے کہ سلسلہ اویسی نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو اویسی نسبت ہے، مثلاً کسی کو آپ ﷺ سے ہے تو آپ ﷺ سے جس جس کو بھی ہو سکتا ہے اس کے درمیان میں سلسلے کو ہونے کی ضرورت ہی نہیں ہے، کیونکہ وہ نظام سب کے لئے open ہے نا۔ اب یہ تو نہیں کہ آپ ﷺ کی نسبت اس کو ہو، پھر وہاں سے کسی اور کو اویسی ہو، پھر وہاں سے کسی۔ اس کے لئے تو اویسی chain کی ضرورت ہی نہیں ہے، وہ تو direct ہے۔ تو اس کی مثال radiation کی طرح ہے اور سلسلہ کی مثال conduction کی طرح ہوتی ہے یعنی Point to point جیسے ذرے سے ذرہ جیسے حرارت لیتا ہے اُس طریقہ سے۔ مثال کے طور پر یہ end گرم ہے اور یہاں جب گرمی پہنچے گی اس کے ذریعہ سے تو ایک سلسلہ ہے۔ اور ادھر ایک heat کا source ہے اور درمیان میں کچھ بھی نہیں اور یہاں دوسرا ہے وہ اس کی وجہ سے گرم ہوتا ہے تو یہ radiation ہے۔ تو یہ جو direct گرم ہونا ہے یہ اویسی نسبت کی طرح ہے اور یہ جو conduction کے ذریعہ سے آرہی ہے، یہ کیا ہے؟ یہ سلسلے کی طرح ہے۔ اس وجہ سے جو لوگ دعویٰ کرتے ہیں ہمارا سلسلہ اویسیہ ہے تو That never exist، سلسلہ اویسیہ exist نہیں کرتا، اویسی نسبت exist کرتی ہے۔ اس وجہ سے حضرت نے نام کیا رکھا ہے؟ نسبت اویسیہ، نسبت اویسیہ۔ تو نسبت اویسیہ ہے بہت بڑی نسبت جیسے ابھی تفصیلات آرہی ہیں، لیکن ایک تو اختیاری نہیں ہے اختیاری نہیں ہے، یہ کسی کو کسی وقت بھی حاصل ہو سکتی ہے، فیصلہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ یہ سلسلہ وار نہیں ہے بلکہ direct ہے۔

متن:

مثلاً انس و سرور، انشراحِ قلبی، عالمِ غیب کی طرف جذب و توجہ اور ان حقائقِ اشیاء کا انکشاف جو دوسروں کے لئے راز سربستہ کا حکم رکھتے ہیں، غرضیکہ ان نیک روحوں کے ساتھ اس طرح کی مناسبت سے یہ نفوس ان کیفیات سے بہرہ مند ہوجاتے ہیں۔ اب یہ دوسرا سوال ہے کہ یہ مناسبت انبیاء کی نیک روحوں سے ہو یا اولیاء امت کی روحوں سے یا فرشتوں سے۔

بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ سالک کو کسی خاص روح سے خصوصی مناسبت پیدا ہوجاتی ہے۔

تشریح:

کسی بھی وجہ سے، یا نسبی لحاظ سے۔ نسبی لحاظ سے بھی ہو سکتا ہے، ہاں جی، یا سلسلہ کی مناسبت سے۔ مثال کے طور پر ایک قادری ہے سلسلہ میں ہے اس کو شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی محبت بہت حاصل ہوجائے ان کے ایصال ثواب کرنے میں اور تمام۔ اس کے ذریعہ سے شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی روح کے ساتھ مناسبت ہوجائے تو بس ٹھیک ہے possible ہے، ناممکن نہیں ہے۔ ہاں جی، یا کسی اور وجہ سے، بعض دفعہ کوئی کام ایسا کرلے جس کے لئے اللہ جل شانہ نے اُس روح کو استعمال کیا ہو، پہلے گزرا ہے نسبت سکینہ میں ہاں جی، کہ جو بزرگانِ دین جس فکر کے ساتھ دنیا سے تشریف لے گئے ہوں اب اس فکر پر جو لوگ بھی کام کررہے ہیں ان کی توجہ یعنی اگر یہ زندہ ہوتے مثال کے طور پر اور کسی بھی جگہ ہوتے تو ان کو پتا چلتا تو ان کی طرف متوجہ ہوتے یا نہ ہوتے؟ ان کی دعائیں ساتھ ہوتیں، ان کی توجہات ساتھ ہوتیں، اگر communication ہوتی تو ان کے ارشادات ساتھ ہوتے۔ تو یہ اگر دنیا میں ہوتے تو بالکل اس طرح۔ تو اب دنیا میں نہیں لیکن اگر وہ پردہ درمیان میں جو ہے برزخ کا وہ اگر اللہ پاک ہٹا دے کسی کے لئے، جو عین ممکن ہے، اگر ہٹا دے تو اب ان کے پاس جو کچھ ہے چونکہ ان کو پتا ہے کہ یہ تو میرا کام کررہے ہیں یہ میرا کام کررہے ہیں، تو وہ پھر یہ ہے کہ لہٰذا آپ دے دیں ان کو، جو ان کے پاس ہے، وہ مطلب جو ہے دے دیں۔ البتہ ایک ادب ہے، چونکہ یہ پردہ اللہ ہٹاتا ہے، یہ پردہ کوئی اور نہیں ہٹا سکتا یہ پردہ چونکہ اللہ ہٹاتا ہے لہٰذا اس کی نسبت اللہ کی طرف ہوگی، اس روح کی طرف نہیں ہوگی۔ سمجھ میں آگئی نا بات؟ مطلب چونکہ وہ چیز چونکہ اللہ کی طرف سے مل رہی ہے اللہ پاک نے اس کو اس روح کے ساتھ ملا دیا تو اس وجہ سے اس کی نسبت کس کی طرف کی جائے گی؟ اللہ تعالیٰ کی طرف کی جائے گی۔ یہ اصل میں بہت بڑی حفاظت ہے عقائد کی، عقائد کی حفاظت ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں آپ کو ایک بات بتاؤں، بارہا اَلْحَمْدُ للہ میں اس پر بات کرچکا ہوں، اللہ کا شکر ہے اَلْحَمْدُ للہ، زندہ بزرگوں میں بھی اللہ تعالیٰ نے جو کچھ رکھا ہوتا ہے تو کسی کی نظر اس بزرگ پر ہو کہ وہ دے رہے ہیں، تو یہ خطرے کی طرف چلا گیا اور اگر کسی کی نظر گئی کہ اللہ دلوا رہے ہیں تو وہ فائدے کی طرف چلا گیا۔ کیونکہ دلوا کون رہے ہیں؟ اللہ دلوا رہے ہیں نا؟ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ ان کو الہام ہوا کہ فلاں ایک جگہ پہ جوان ہے، ان کا ایک مسئلہ ہے وہ مسئلہ حل کرو۔ الہام کس کی طرف سے ہوتا ہے؟ اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔ اب ظاہر ہے ان کو فوراً پتا چل گیا کہ یہ تو محبوب ہے اللہ کا ولی ہے، تو لہٰذا میں ان کی خدمت کروں، تو وہ جلدی جلدی پہنچ گئے، حضرت اس صاحب کی خدمت میں پہنچ گئے، فرمایا آپ کا کیا مسئلہ ہے؟ انہوں نے کہا: آپ کو کیسے؟ کہا: بس مجھے کہا گیا ہے، اچھا!۔ بتا دیا گیا کیونکہ اس کو بھی پتا چل گیا کہ اللہ نے بھیج دیا ہے، تو انہوں نے بتا دیا۔ حضرت نے وہ مسئلہ حل کردیا۔ اس کی وجہ ہے کہ اللہ جل شانہٗ نے اسباب بنائے ہوتے ہیں نا۔ تو جیسے یہ چیزیں اسباب ہیں اس طرح وہ بھی ایک سبب ہے نا، اسباب بنا دیئے، جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کو سبب بنا دیا، کرنے والے تو اللہ تعالیٰ ہی ہیں۔ پانی میں پیتا ہوں تو پیاس کون بجھا رہا ہے؟ اللہ بجھا رہے ہیں۔ لیکن ذریعہ کس کو بنایا؟ پانی کو بنا دیا۔ تو اب یہ ہے کہ یہ جو بات ہے کہ ہم جو پانی پینے کے بعد کہتے ہیں: اَلْحَمْدُ للہ۔ تو ہم کہتے ہیں پانی کا شکر ہے؟ ہم کس کو کیا کہتے ہیں؟ ہم کہتے ہیں اَلْحَمْدُ للہ، اللہ پاک کا شکر ہے، چونکہ پیاس ہماری اللہ پاک نے بجھا دی۔ تو اسی طریقہ سے اب یہ اگر کسی کی شیخ پر نظر ہو یا کسی بزرگ کے اوپر نظر ہو، تو وہ معاملہ خطرناک چلا جاتا ہے۔ اور اگر اس کی اللہ پہ نظر ہو اس کا تعلق بھی اللہ کے لئے ہو، اللہ کے لئے محبت ہو، اللہ ہی کے لئے مان رہا ہو، اللہ ہی کے لئے سب کچھ کررہا ہو تو سبحان اللہ! یہ محفوظ بھی ہے اور اللہ پاک تو پھر جو دینا چاہے تو وہ دے دے، اس کے لئے کوئی۔ کہتے ہیں اگر کوئی اپنے شیخ کو قطب سمجھے تو اس کو قطب کا فیض ملے گا بے شک وہ قطب نہ ہو، کیونکہ دینے والی ذات تو اللہ تعالیٰ کی ہے نا، دینے والی ذات تو اللہ تعالیٰ کی ہے، دے تو اللہ تعالیٰ رہے ہیں۔ بس یہی اصل میں وہ باریک سا فرق ہوتا ہے۔ تو اب اگر زندہ کے ساتھ یہ مسئلہ ہے تو جو فوت شدہ ہے تو اس کے ساتھ یہ مسئلہ نہیں ہوگا؟ تو دے کون رہا ہے؟ اللہ دے رہا ہے۔ رستہ کس نے نکالا؟ اللہ نے۔ اللہ نے ملا دیا۔ ان کی روح کو آپ کی روح کے ساتھ ملا دیا۔ آپ کی روح عالم ناسوت میں ہے، اس کی روح عالم ارواح میں ہے، یہ درمیان میں بہت بڑا پردہ جو تھا وہ اللہ پاک نے پھاڑ دیا۔ اب آپ کی روح اس کے ساتھ مل گئی اس کی روح کو جو کچھ ملا ہے وہاں سے آپ کو transmit ہورہا ہے اور ما شاء اللہ آپ کو اللہ تعالیٰ اس سے فائدہ پہنچا رہے ہیں۔ اس پہ آپ اللہ کا شکر ادا کرتے رہیں اور اللہ تعالیٰ مزید بھی عطا فرمائے۔

﴿لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ(ابراھیم: 7)

بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ سالک کو کسی خاص روح سے خصوصی مناسبت پیدا ہوجاتی ہے اور وہ اس طرح کہ سالک نے اس بزرگ کے فضائل سنے اور اسے اس بزرگ سے غیر معمولی محبت ہوگئی۔ چنانچہ اس محبت کی وجہ سے سالک اور اس بزرگ کی روح کے درمیان ایک کشادہ راہ کھل جاتی ہے۔ یا یہ ہوتا ہے کہ یہ خاص روح جس سے کہ سالک کو مناسبت خصوصی پیدا ہوگئی، اس کے مرشد یا آباؤ اجداد میں کسی بزرگ کی روح تھی اور اس بزرگ کی روح میں ان لوگوں کے لئے جو اس سے منسوب ہیں، ارشاد و ہدایت کی ہمت موجود ہے۔

تشریح:

یعنی اللہ نے اس میں رکھا ہوا ہے۔ کیونکہ ہر فوت شدہ شخص میں یہ چیز نہیں ہوتی، یہ بعض ارواح میں ہوتی ہے۔ اللہ پاک نے بعض ارواح میں یہ چیز رکھی ہوتی ہے۔ حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرما رہے ہیں، میں نے وعظ میں پڑھا ہے حضرت کے، فرمایا کہ حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کو کسی نے خواب میں دیکھا، حضرت آپ کے ساتھ کیا معاملہ ہوا؟ فرمایا مجھے تو اللہ تعالیٰ نے فوت ہونے کے بعد بھی ایک خلافت دے دی۔ تو حضرت نے خود اس کی تشریح فرمائی کہ شاید یہ ان بزرگوں میں ہوا یعنی ان ارواح میں ہوگیا جن کو اللہ تعالیٰ فوت ہونے کے بعد بھی استعمال فرماتے ہیں لوگوں کی ہدایت کے لئے۔ سمجھ میں آگئی نا بات؟ بعض حضرات ایسے ہوتے ہیں، بعض اللہ والے ایسے ہوتے ہیں جن کو موت کے بعد بھی، فوت ہونے کے بعد بھی ان کی روح کو اللہ پاک لوگوں کی ہدایت کے لئے استعمال کررہے ہوتے ہیں۔ ان میں ہمارے کاکا صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی ہیں، ان بزرگوں میں یہ وہ ہیں اَلْحَمْدُ للہ۔ تو یہ چیز ہوتی ہے۔ خود ان کے بیٹے مولانا عبدالحلیم صاحب انہوں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ میں نے کسبِ فیض آپ کی وفات کے بعد حضرت سے کیا ہے۔ خود تو عالم تھے، ہندوستان میں کام کررہے تھے، ان کو فوت ہونے کے بعد موقع ملا ہے، ہاں جی۔ تو آئے پھر بس مراقب رہتے تھے بس۔ تو ظاہر ہے بعض بزرگوں کے ساتھ ایسا ہوتا ہے کہ جن کو اللہ تعالیٰ فوت ہونے کے بعد بھی ان کی روح کو استعمال فرماتے ہیں۔

متن:

یا یوں ہوتا ہے کہ سالک اپنے فطری جذبے یا جبلی تقاضے سے جس کا کہ سمجھنا نہایت مشکل ہے، کسی خاص روح سے مناسبت پیدا کرلیتا ہے۔

جبلت۔ جبلت ایسی چیز ہے جو غیر اختیاری ہے، جبلت انسان خود اپنی تبدیل ہی نہیں کر سکتا، ناممکن ہے۔ ہر چیز تبدیل ہو سکتی ہے، جبلت تبدیل نہیں ہو سکتی ہاں جی۔

چنانچہ سالک اس بزرگ کو خواب میں دیکھتا ہے اور اس سے مستفید ہوتا ہے۔

یہ فقیر (اب دیکھیں خود اپنی بات پہ، حضرت بہت بڑے اویسی بزرگ تھے شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ، ہاں جی۔) یہ فقیر جب عالم ارواح کی طرف متوجہ ہوا تو اس نے وہاں ارواح کی یہ طبقے دیکھے۔ (اب دیکھیں خود اپنی کیفیات بتا رہے ہیں)۔

ایک ملاء اعلیٰ کا طبقہ: اس طبقے میں میں نے عالی مرتبہ اور کائنات کا انتظام کرنے والے فرشتوں مثلاً جبرائیل اور میکائیل کو پایا۔ نیز میں نے اس مقام پر بعض ایسے انسانی نفوس کو دیکھا کہ وہ ان ملائکہ کبار سے ملحق ہیں اور سرتاپا ان کے رنگ میں رنگے ہوئے ہیں۔ جب کسی سالک کو اس طبقے کے ساتھ ”نسبت اویسی“ حاصل ہو تو اس کی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ سالک کے لوحِ دل پر ذات باری کی ”صورت علمی“ اس طرح منقش ہوجاتی ہے کہ کائنات کے انتظام کے سلسلہ میں قدرتِ الہٰی کے یہ چار کمالات یعنی ابداع، خلق، تدبیر اور تدلّی ایک ہی بار اس ”صورت علمی“ کے ضمن میں اس کے دل پر ظاہر ہوجاتے ہیں۔

تشریح:

یہ عبقات میں حضرت شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی تشریح کی ہے چار جو ہیں: ابداع، خلق، تدبیر اور تدلی، یہ صورت علمی کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔ صورت علمی سے مراد یہ ہے کہ اللہ جل شانہٗ کے علم ازلی میں جو چیزیں موجود ہیں، ’’تھی‘‘ بھی کہنا میں ذرا جرأت انسان نہیں کر سکتا کیونکہ اللہ کے لئے تو 'تھی اور تھا' نہیں ہے نا، اللہ کے لئے تو سب چیزیں ماضی حال مستقبل ایک جیسے ہیں ہاں جی، تو یہ ساری چیزیں موجود ہیں، پھر جس چیز کو اللہ نے وجود کا رنگ دے دیا تو وجود کا رنگ جو دیا ہے وہ ظاہر ہے تخلیق ہے، تو پیدا ہوگئے۔ اب جن چیزوں کو پیدا کرنا ہے، جن چیزوں کو پیدا فرمایا اور جو چیزیں موجود ہیں یہ سب صورت علمی کے ساتھ ہیں نا، ٹھیک ہے نا؟ تو اب اگر کسی پہ صورت علمی کھل جائے، ملحق ہوجائے تو بس عالم تکوین اس پہ کھل جائے گا۔ ٹھیک ہے نا؟ جو عالم تکوین ہے اس پہ کھل جائے گا۔

متن:

اور سالک کو قدرت الہٰی کے ان چار کمالات کا علم بغیر کسی ارادے اور قصد کے اور بِدون غور و فکر سے کام لئے حاصل ہوجاتا ہے۔

تشریح:

بھئی غور تو اس کو کرنا پڑے جو باہر سے سوچ رہا ہو۔ جس کو اندر داخل کیا گیا اس کو غور و فکر کی کیا ضرورت ہے۔ ہاں جی، حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ بھی درس دیا کرتے تھے مثنوی شریف کا اور ایک دوسرے پروفیسر تھے فارسی کے وہ بھی درس دیا کرتے تھے، تو حاجی صاحب جب تشریف لائے تو اس پروفیسر صاحب کے درس کے لوگ آہستہ آہستہ کم ہوتے گئے، کم ہوتے گئے، کم ہوتے گئے۔ کیونکہ حاجی صاحب کا پتا چلا تو ادھر جانا شروع ہوگئے اور پھر جب وہاں گئے تو وہیں کے ہوکے رہ گئے۔ اب پروفیسر صاحب کے ساتھ بہت تھوڑے لوگ رہ گئے۔

پروفیسر صاحب نے محسوس کیا کہ یہ کیا بات ہے، مطلب پتا نہیں حاجی صاحب کے پاس کون سی گیدڑ سینگھی ہے کہ سارے لوگ ان کی طرف جارہے ہیں، کیا وجہ ہے؟ تو چلو ہم بھی چل کے دیکھتے ہیں۔ تو ایک دفعہ وہ بھی درس میں شامل ہوگئے۔ اب درس میں شامل ہوگئے تو خود ہی بس وہیں کے ہوگئے، اب اپنا درس چھوڑ دیا اور حاجی صاحب کے درس میں بیٹھنا شروع کرلیا۔ تو اپنے پرانے دوستوں میں سے ان سے کسی نے کہا کہ پروفیسر صاحب! کیا بات ہوئی؟ آپ تو ما شاء اللہ کافی عرصہ سے درس دیا کرتے، اپنا درس کیوں چھوڑ دیا؟ انہوں نے کہا بتاؤں کیوں چھوڑ دیا؟ کہتے ہیں بتا دیں۔ کہتے ہیں میری مثال ایسی تھی کہ جیسی کسی مکان کے باہر کسی کو کھڑا کیا جائے اور اس کو مکان کے اندر کی پوری تفصیلات پتا ہوں کہ اس میں اتنے کمرے ہیں، اتنے مطلب پردے لگے ہوئے ہیں، اتنے باتھ روم ہیں، اتنے یہ ہیں، اتنے یہ ہیں، اور سارا باہر سے پورا نقشہ اندر والا سمجھا دیا جائے، یہ تو میرا کام تھا۔ حاجی صاحب کا کام بڑا آسان تھا، مکان کے اندر لے جاتے ہیں اور دکھاتے: یہ دیکھو، یہ دیکھو، یہ فلاں چیز ہے، یہ فلاں چیز ہے، یہ فلاں چیز ہے۔ بس کہتے کہ یہی فرق ہے بس۔ مقصد یہ ہے کہ کیفیات طاری کروا دیتے ہیں، جو کیفیات حضرت مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ اشعار میں بیان فرماتے ہیں وہ حاجی صاحب طاری کرا دیتے۔ جب طاری کرا دیتے تو خود ہی سمجھ میں آجاتا کہ یہ چیز کیا ہے۔ ایک ہوتا ہے ابن الحال، ایک ہوتا ہے ابو الحال، جو ابن الحال ہوتا ہے اس پہ حال طاری ہوتا ہے، ابو الحال وہ ہوتا ہے جو حال اپنے اوپر خود طاری کرتا ہے یعنی جس قسم کا حال ہو اس قسم کا اپنے اوپر وہ طاری کر لیتا ہے۔ تو اب یہ جو اس قسم کی بات ہوتی ہے ظاہر ہے تو اُن کا معاملہ پھر مختلف ہوتا ہے۔

متن:

اور بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ نظام عالم کے متعلق جو کلی تدبیریں اور عمومی فیصلے حظیرۃ القدس میں طے ہوتے ہیں، ”نسبت اویسی“ کی تاثیر سے یہ خود بخود سالک کے دل پر نقش ہوجاتے ہیں۔ یہ نسبت بیشتر انبیاء کو حاصل ہوتی ہے اور جو علوم و معارف انبیاء سے ظاہر ہوتے ہیں وہ اکثر اسی نسبت کے سرچشمے سے پھوٹتے ہیں۔

ملاء اعلیٰ کے بعد میں نے عالم ارواح میں ایک دوسرا طبقہ ملاء سافل کا دیکھا۔ (نیچے درجہ والا طبقہ ملاء اعلیٰ کے بعد) جس شخص کو اس طبقے سے ”نسبت اویسی“ حاصل ہو اس کی علامت یہ ہے کہ اسے خواب اور بیداری دونوں حالتوں میں فرشتے نظر آتے ہیں اور فرشتوں کی جماعت جن کاموں پر مامور ہے سالک ان کو ان کاموں کو کرتا اور اس ضمن میں آتے جاتے دیکھتا ہے اور وہ انہیں جانتا اور پہچانتا بھی ہے۔

عالم ارواح کا تیسرا طبقہ مشائخ صوفیہ کی ارواح کا ہے۔ یہ ارواح خواہ مجموعی پر یکجا ہوں یا فرداً فرداً الگ الگ۔ جس شخص کو اس طبقے سے ”نسبت اویسی“ حاصل ہوتی ہے، ضروری ہے کہ اسے اس نسبت کی وجہ سے صوفیاء کی ان ارواح سے عشق و محبت پیدا ہو اور وہ ”فنا فی المشائخ“ ہوجائے۔ اس حالت میں ”فنا فی المشائخ“ کی یہ کیفیت اس کی زندگی کے ہر ہر پہلو میں مؤثر ہوتی ہے۔ (نظر آتی ہے) جیسے کہ درخت کی جڑوں میں پانی دیا جاتا ہے تو اس پانی کا اثر تازگی کی صورت میں درخت کی ہر شاخ، ہر پتی اور اس کے پھولوں اور پھل تک میں سرایت کرجاتا ہے۔ لیکن ”فنا فی المشائخ“ کی اس نسبت سے ہر شخص میں ایک سی کیفیت پیدا نہیں ہوتی۔ چنانچہ اس کی وجہ سے ایک شخص پر ایک حال وارد ہوتا ہے اور دوسرے پر ایک دوسری کیفیت طاری ہوتی ہے۔ ”فنا فی المشائخ“ کی نسبت کے سلسلہ میں مشائخ کے عرسوں کا قیام،

تشریح:

کیا کہا؟ عرسوں کا قیام۔ یہ عرس کو جو ہم پابندی کرتے ہیں نا یعنی نہیں مانتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں نے اس کو غلط طریقہ سے منانا شروع کیا، اس کا لوگوں نے غلط مطلب لے لیا۔ ورنہ عرس کا اصل مقصد کیا تھا؟ جو مجھے معلوم ہے واللہ اعلم بالصواب، عرس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ جب کوئی بزرگ فوت ہوجاتا تو ان کی فوتگی کے دن وہ حضرات جمع ہوجاتے ہیں، ان کے لئے ایصال ثواب کرتے اور ساتھ وعظ و تمحیص بھی کرتے تھے۔ اور اس میں یہ ہوتا تھا کہ جن کاملین کی تکمیل بھی ہوچکی ہوتی تھی وہ ان غیر کاملوں کی تکمیل کرنے کے لئے جمع ہوتے تھے تاکہ ان سے استفادہ کر سکیں، ایک gathering اس مقصد کے لئے۔ جیسے ہمارا جوڑ۔ ہمارے جوڑ میں اور اُس جوڑ میں صرف ایک فرق ہے، وہ یہ کہ ہم صوفی اقبال صاحب کے وفات کے دن جمع نہیں ہوتے، وفات کے دن جمع نہیں ہوتے کسی اور دن جمع ہوتے ہیں جو بھی ہم نے ترتیب بنائی ہوتی ہے تو یہ اس کا نعم البدل ہے عرس کا، یہ عرس کا نعم البدل ہے۔ کیونکہ عرس کے ساتھ لوگ پھر اس کو نتھی کرلیتے ہیں وفات کے دن کو، تو چونکہ وہ شرعاً ثابت نہیں ہے تو اس پہ زور دینے سے معاملہ خراب ہوتا ہے۔ لہٰذا کیوں خواہ مخواہ ہم اس پہ زور دیں، کسی اور دن جمع ہوجائیں نا، جو مقصد ہے اس کو حاصل کریں، ذریعے کے پیچھے ہم کیوں پڑیں؟ تو یہ جو ہمارا جوڑ ہے اصل میں بنیادی طور پر یہ کیا ہے؟ یہ اس وقت کے عرس کا قائم مقام ہے، جو عرس ہوتا تھا تاکہ لوگ جمع ہوجائیں، کاملین غیر کاملین کے لئے ذریعہ بن جائیں تکمیل کا۔ تو اس مقصد کے لئے لوگ جمع ہوتے تھے اور اس وقت بالکل صحیح نیت کے ساتھ جمع ہوتے تھے اور لوگوں کو واقعی فائدہ ہوتا تھا۔ تو ہمارے بڑے بڑے علماء بھی پہلے عرس میں جایا کرتے تھے۔

اب تو میں کہتا ہوں کہ عرس میں جانا ناممکن رہا۔ اس کی وجہ کہ عرسوں کا حلیہ بگڑ گیا ہے، عرسوں میں اب شرکیہ اور پتا نہیں فسق والی چیزیں اور پتا نہیں کیا کیا چیزیں ہوتی ہیں۔ خود ہمارے کاکا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا جو عرس ہوتا ہے اس میں ہم کبھی نہیں جاتے، کیونکہ اس کا کاکا صاحب کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا، اس کا نفس کی خواہشات کے ساتھ تعلق ہوتا ہے، تو اس وقت ہم کیوں جائیں؟ بات سمجھ میں آرہی ہے نا؟ حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ اپنے شیخ عبدالقدوس گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کے عرس کے دن لوگوں کو آنے سے روکتے تھے، نہیں آنے دیتے تھے بلکہ جو عرس میں شامل ہونے کے لئے آتے ان سے بات بھی نہ کرتے اور فرماتے کہ تم لوگوں نے ان لوگوں کی تعداد کو بڑھا دیا جو فسق و فجور میں مبتلا ہیں۔ کثرتِ سواد ہوگیا، لہٰذا منع فرماتے تھے، تو منع بوجوہ ہے، وجہ ہے منع ہونے کی اور وہ کیا ہے؟ کہ لوگوں میں فساد آگیا۔ اور یہ چونکہ ذرائع ہیں تو ذرائع جو ہوتے ہیں وہ مقصد کے ساتھ نتھی ہوتے ہیں اگر مقصد اس سے پورا نہیں ہوتا ہو تو پھر کیا ہوتا ہے؟ پھر کیا اس کے ساتھ چمٹنا چاہئے۔ اگر آپ پھر بھی اس کے ساتھ چمٹتے ہیں تو آپ نے اس کو واجب سمجھ لیا نا۔ تو مستحب کو بھی واجب اگر کوئی سمجھے تو تبدیلی واجب ہوجاتی ہے۔ تو چہ جائے کہ جو مستحب بھی نہ ہو، صرف جائز ہو؟ یہی اصل میں بنیادی چیز ہے جو بات ہے۔ تو حضرت نے جو فرمایا ہے ان دنوں عرس ناجائز نہیں ہوا کرتا تھا۔ اور یہی وہ مسئلہ ہوتا ہے کہ لوگ نہیں سمجھتے۔ لوگ بعض دفعہ جو عرس کے حق میں بولنے والے ہوتے ہیں وہ کہتے ہیں شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے بھی لکھا ہے۔ بھائی لکھا ہے لیکن کس دور میں لکھا ہے؟ لکھا ہے لیکن کس دور میں لکھا ہے؟ اُس دور کی بات آپ اِس دور پہ تو منطبق نہیں کر سکتے نا۔ وہ دور تو اچھا دور تھا اُس وقت ان تمام باتوں کی مطلب سمجھ تھی۔ اب چونکہ سمجھ نہیں ہے لہٰذا اب اس کے ساتھ attach ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ تو خیر بہرحال یہ عرس والی بات ہوگئی۔

عرسوں کا قیام، ان کی قبروں کی پابندی سے زیارت کرنا، وہاں جاکر فاتحہ پڑھنا، ان کی ارواح کے نام سے صدقہ دینا، ان کے آثار و تبرکات، ان کی اولاد اور ان کے متعلقین کی تعظیم و تکریم میں پورا پورا اہتمام کرنا یہ سب امور داخل ہیں۔

تشریح:

میں اپنا مشاہدہ بتاتا ہوں، اب بھی یہ چیزیں چل رہی ہیں اور صحیح بھی چل رہی ہیں اور غلط بھی چل رہی ہیں۔ صحیح بھی چل رہی ہیں، غلط بھی چل رہی ہیں۔ صحیح والوں کو اِسی طرح فائدہ ہورہا ہے اور غلط والوں کو نقصان ہورہا ہے۔ سمجھ میں آئی نا بات؟ کم از کم میرے سامنے جو چیزیں ہیں بالکل میں دیکھتا ہوں کہ صحیح بھی چل رہی ہیں، مثال کے طور پر قبروں کی زیارت کرنا۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو صحیح طریقہ سے باقاعدہ ان کو روحانی فائدہ ہورہا ہے اور وہاں جاکے ما شاء اللہ ان کو ہوتا ہے، اور ایسے ہیں جو شرک میں مبتلا ہیں اور مشرک بن رہے ہیں، ایسا بھی ہے۔ میں خود ایک دن آرہا تھا نوشہرہ سے زیارت کاکا صاحب جارہا تھا، تو بہت رش تھا، ان دنوں بسیں کم تھیں تو رش بہت زیادہ ہوتا تھا تو میں بھی کھڑا تھا میرے سامنے ایک بوڑھا بابا بھی کھڑا تھا تو ویسے انسان کے ساتھ کوئی قریب ہو تو کوئی بات چیت تو شروع ہی ہوجاتی ہے۔ بابا جی آپ کہاں سے آئے ہیں؟ انہوں نے دور جگہ بتائی کہ فلاں جگہ سے۔ میں نے کہا کس لئے آئے ہو؟ کہتا وہ میرا ایک پھوڑا جو ہے کیا ہوگیا تھا تو بہت علاج کیا لیکن ٹھیک نہیں ہوا، تو کسی نے کہا کہ کاکا صاحب چلے جائیں تو وہاں یہ ٹھیک ہوجائے گا۔ میں نے کہا ہاں ہاں یہ تو واقعی اللہ تعالیٰ کرے کہ ٹھیک ہوجائے۔ تو میں آپ کو صحیح طریقہ بتا دوں تاکہ آپ کو فائدہ ہوجائے؟ کہتے ہیں کیوں نہیں بیٹا بتاؤ۔ میں نے کہا وہاں پہ جاکے یوں کرنا کہ مسجد اس کے پاس قریب ہے دربار کے پاس وہاں جاکر دو رکعت پڑھ لینا ایصال ثواب کے لئے، پھر جاکے بزرگ کے مزار پہ، لیکن طواف نہ کرنا، طواف سے ناراض ہوتے ہیں، ہاں جی طواف نہیں کرنا یعنی سرہانے چلے گئے تو واپسی اس طرح آئیں، پائنتی سے جائیں تو پائنتی سے واپس آجائیں۔ طواف نہ کرنا اس سے ناراض ہوتے ہیں، ایسا نہیں کرنا چاہئے۔ اچھا ٹھیک ہے۔ میں نے کہا وہاں جاکر جتنا آپ قرآن پڑھ سکتے ہیں پڑھ کے اس کا ایصال ثواب کرلیں اور پھر آکر وہاں اسی مسجد میں دو رکعت صلوٰۃ الحاجت پڑھ لیں، اللہ تعالیٰ سے دعا کریں چونکہ وہ اللہ کے ولی ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی برکت سے آپ کی دعا بھی قبول فرمائیں گے تو ان شاء اللہ آپ کا کام ہوجائے گا۔ تو کہتے ہیں ما شاء اللہ آپ نے بالکل صحیح طریقہ بتایا، میں اسی پر عمل کروں گا، اللہ تعالیٰ آپ کو اجر دے۔ اب اگر میں اس کو کہتا کہ تو کیوں کر آیا ہے؟ اور اس طرح میں ذرا اس کو۔ تو کیا ہوتا؟ کیا وہ میری بات مانتے؟ پتا نہیں کیا کہتے اور خود بھی گناہگار ہوتے اور مجھے بھی ساتھ خراب کرتے۔ تو اب اللہ کا شکر ہے اَلْحَمْدُ للہ کہ ان کو صحیح طریقہ مل گیا۔ تو اسی طریقہ سے مطلب جو بزرگوں کے مزار پہ جاتے ہیں، صحیح طریقہ یہ ہوتا ہے اور صحیح طریقہ سے استفادہ کا طریقہ بھی ہوتا ہے، ما شاء اللہ بہت فائدہ ہوجاتا ہے۔ لیکن ہاں! ہر ایک کے لئے اپنا اپنا انداز اور طریقہ ہوتا ہے۔ ایک منتہی ہوتے ہیں یعنی صاحبِ نسبت ہوتے ہیں ان کا انداز الگ ہوتا ہے، اور ایک جو صاحبِ نسبت نہیں ہوتے ان کا انداز الگ ہوتا ہے۔ طریقہ پھر پوچھ لینا چاہئے کہ کس طریقہ سے جاؤں؟ تو اسی طریقہ سے ہوجاتا ہے۔ تو اس طرح مطلب یہ ہے کہ جب انسان جائے۔ جیسے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے واقعہ بتایا ہے، وعظ میں میں نے پڑھا ہے کہ شاہ رفیع الدین صاحب شاہ ولی اللہ کے جو (صاحبزادے) تھے، وہ کہتے ہیں وہ تشریف لے جارہے تھے تو ساتھ دو طالبعلم بھی تھے، تو حضرت تو بہت صاحب کشف تھے تو بیٹھ کے مراقب ہوگئے مزار پر، مزار پر مراقب ہوگئے تو ان طالبعلوں نے بھی آنکھیں بند کرلیں، مراقب ہوگئے۔ تو کہتے ہیں میں نے پیچھے سے ان کو دو مار دیں کہ وہ آنکھیں تمھاری بند ہیں تو یہ آنکھیں کیوں بند کردیں؟ مطلب وہ نظر کشفی جو تمھیں حاصل نہیں ہے تو یہ خواہ مخواہ نمائش کے لئے آنکھیں بند کردیں۔ ہاں جی۔ تو اب یہ والی بات ہے کہ مطلب لوگ خواہ مخواہ جس کو کہتے ہیں نا ”ما مه شمیره ددګډ یم“ پشتو میں اس کا کیا ترجمہ کریں؟ بڑی زبردست ضرب المثل ہے۔ وہ کہتے ہیں ’’مجھے گنو مت میں تمہارے اندر شامل ہوں۔‘‘ مطلب یہ ہے کہ بغیر کسی وجہ کے، وہ جو ہے نا وہ یہ ہے کہ بغیر کسی وجہ کے، کوئی مطلب نہیں اور میں بھی شامل ہوں۔ ہاں جی تو یہ اصل بات ہے کہ جو اہل ہیں ان کے لئے بہت کچھ ہے، ان کے لئے بہت کچھ ہے اور جو اہل نہیں ہیں تو خواہ مخواہ اپنے آپ کو خراب نہ کریں۔ بلاوجہ مطلب جو ہے نا اپنے آپ کو خراب نہ کریں۔ تو اس میں یہی والی بات ہے کہ فاتحہ پڑھنا، ان کی ارواح کے نام سے صدقہ دینا۔ کیا خیال ہے؟ میں ایصال ثواب کر سکتا ہوں ارواح کو؟ یہ صدقہ دینا ہے نا، ایصال ثواب صدقہ ہے نا، میں کوئی کھانے کی چیز پکا کے اللہ کے راستے میں دوں۔ ہاں! البتہ اس میں اصل چیز کیا ہے وہ؟ وہ نسبت موجود ہو اس میں، نسبت کیا ہے؟ اللہ کے لئے ہو۔ یعنی چیز اللہ کے لئے اور ثواب اس کے لئے ہو۔ مثال کے طور پر اگر میں نے مرغ ذبح کیا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے نام پر تو یہ ہلاک ہوگیا۔ نہ میں کھا سکتا ہوں نہ کوئی اور کھا سکتا ہے۔ اور اگر میں اللہ کے نام پر ذبح کردوں اور اس کا ثواب شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کو بخش دوں تو سبحان اللہ! بالکل ایصال ثواب ہے، میں خود بھی کھا سکتا ہوں دوسرے بھی کھا سکتے ہیں اور حضرت کو ثواب بھی پہنچ جائے گا اور آپ کو فائدہ بھی پہنچ جائے گا۔ ہاں جی تو اب صرف اتنا فرق ہے، اگر وہ کوئی نہیں کر سکتا تو پھر ہم کیا کہیں؟ پھر تو ظاہر ہے شامت ہی ہے نا اور ہم کیا کر سکتے ہیں۔ تو اسی طریقہ سے بزرگوں کے نام پر صدقہ کرنے کا مطلب یہی ہے۔ اَلْحَمْدُ للہ اللہ کا شکر ہے اَلْحَمْدُ للہ ہمارے اکابر یہ کیا کرتے تھے۔

مجھے خود اس دفعہ مکہ مکرمہ کے یعنی حاضری کے موقع پر ایک بہت بڑے بزرگ ہیں مولانا سیف الرحمٰن صاحب انہوں نے یہ واقعہ بتایا، وہاں استاذ ہیں، کہ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ کا وہاں پر جو ہے نا قبے جو تھے گھر، کہتے ہیں میں جب یہاں پر آیا پہلی دفعہ تو مجھے، ایک صاحب کا نام لیا اس وقت مجھے نہیں یاد کہ فرمایا کہ حاجی صاحب کے لئے ایصال ثواب کے لئے عمرہ کرو، حاجی صاحب کے ایصال ثواب کے لئے عمرہ کرو۔ کہتے ہیں میں نے حاجی صاحب کے ایصال ثواب کے لئے عمرہ کرلیا۔ کہتے ہیں اس کے بعد اَلْحَمْدُ للہ مجھے وہاں لے بھی لیا گیا اور ساتھ مجھے حاجی صاحب کے گھر میں ٹھہرایا گیا۔ اب جنہوں نے ٹھہرایا ان کو اس کا کیا پتا کہ وہ یعنی ان کے ایصالِ ثواب کے لیے عمرہ کیا ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ تو مطلب یہ ہے کہ یہ من جانب اللہ (اللہ پاک کے) انتظامات ہوتے ہیں تو ایصال ثواب سے کام بنتے ہیں، ایصال ثواب سے کام بنتے ہیں۔ لیکن یہ اپنا ایک اندرونی نظام ہے پورا، پورا ایک اندر پورا نظام ہے۔ البتہ یہ ہے کہ جیسے اس دنیا میں خیر اور شر ملے ہوئے ہیں، اس طرح اس چیز میں بھی خیر اور شر ملا ہوا ہے۔ تو شر سے اپنے آپ کو بچانا ہے اور خیر کو حاصل کرنا ہے۔



متن:

اولاد اور ان کے متعلقین کی تعظیم و تکریم۔

تشریح:

یہ تو مجھے اللہ تعالیٰ نے ایک عجیب طریقہ سے سمجھایا اس چیز کو اور وہ یہ ہے کہ ہمارے خاندان کے ایک بزرگ تھے مولانا عزیر گل صاحب رحمۃ اللہ علیہ جو اسیر مالٹا تھے، شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کے خصوصی خدام میں سے تھے۔ تو میری ملاقات بھی حضرت کے ساتھ بہت عرصہ کے بعد ہوئی، مجھے اصل میں حضرت کا پتا ہی نہیں تھا۔ چونکہ ہم اپنے گاؤں میں تھے میرے والد صاحب کو پتا تھا لیکن والد صاحب کی طرف سے ہمارے سامنے کبھی ذکر ہی نہیں ہوا، مطلب خیال ہی نہیں آیا یا جو بھی بات تھی تو میرا کوئی اس طرح نہیں تھا تعلق، حالانکہ والد صاحب کا ان کے ساتھ بڑا قریبی تعلق رہا تھا۔ تو تسنیم الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے مجھے ایک دن کہا کہ کیا مولانا عزیر گل صاحب کو آپ نے دیکھا ہے؟ میں نے کہا نہیں۔ تو کہتے ہیں کمال ہے اتنی تاریخی شخصیت کو ابھی تک آپ نے نہیں دیکھا، جس کے لئے اتنے دور دور سے لوگ آتے ہیں، آپ کو ابھی تک پتا بھی نہیں ہے۔ میں نے کہا میں کیا کروں؟ مجھے کسی نے بتایا نہیں۔ کہتے ہیں ابھی چلتے ہیں۔ حالانکہ حضرت مفلوج بھی تھے لیکن میرے ساتھ چل پڑے کیونکہ حضرت کا گاؤں تسنیم الحق صاحب کے گاؤں کے بالکل قریب تھا، تو مجھے حضرت لے گئے اور میرا تعارف دو طریقہ سے کیا، ایک میرے والد صاحب کے reference سے کہ فلاں کا بیٹا ہے، بہت خوشی ہوئی۔ اور پھر ساتھ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے بھی کیا کہ مولانا صاحب کا مرید ہے، تو حضرت اور بھی خوش ہوئے فرمایا اگر مولانا صاحب کے پاس جاتے ہو پھر میرے پاس کیوں آتا ہے؟ اصل کام تو مولانا صاحب کررہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مولانا صاحب کو اس لئے بٹھایا تاکہ جن کو ہدایت دلوانا ہو ان کے ذریعہ سے اس کو ہدایت دلوا دے۔ مطلب یہ فرمایا۔ خیر، اَلْحَمْدُ للہ پھر اس کے بعد حضرت کے ساتھ میرا آنے جانے کا تعلق ہوگیا تو جایا کرتا تھا اَلْحَمْدُ للہ۔ تو کچھ ایک عرصہ میں نے دیکھا کہ حضرت کی میری طرف بہت توجہ ہوگئی تو میں نے کہا کہ یہ کیا بات ہے یہ، حالانکہ حضرت تو بڑے مستغنی قسم کے بزرگ تھے، پرواہ ہی نہیں کرتے تھے، تو میں نے کہا یہ کیا بات ہوگئی؟ تو میں نے جب سوچا تو میں نے کہا اچھا اصل وجہ سمجھ میں آگئی۔ وہ ان کا ایک پوتا تھا اسلام آباد میں اپنے جو ہے نا ماموں کے ساتھ رہتا تھا، چھوٹا سا تھا، زکریا، تو ان کو انگلی سے پکڑ کر میں ویسے اپنے ساتھ پھرایا کرتا تھا نا تو کبھی میں کوئی ایک دعا سکھا دیتا تھا کبھی دوسری دعا سکھا دیتا، کبھی کوئی اور ذکر سکھا دیتا تھا اور وہ جاکر اپنی زبان میں اپنے گھر میں بات کرتا کہ شبیر uncle نے مجھے یہ سکھایا ہے، شبیر uncle نے مجھے سکھایا ہے، تو وہ وہاں جاکر report کرتا تھا۔ حضرت کو بھی پتا چلتا تھا۔ تو یہ باتیں حضرت کو پہنچتی تھیں اس سے توجہ ہوگئی میری طرف، تو مجھے فوراً پتا چلا اوہ یہ تو زکریا کے کمالات ہیں۔ مطلب اس وجہ سے ہم ان کی نظروں میں آگئے۔ اب مجھے بتاؤ اگر ایک زندہ بزرگ کی نظروں میں آپ آسکتے ہیں کہ آپ ان کی اولاد کے لئے مطلب بھلائی کا سوچ رہے ہیں، تو جو فوت شدہ بزرگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے کچھ دیا ہے، تو ان تک جب بات پہنچے گی تو کیا وہ متوجہ نہیں ہوں گے؟ ظاہر ہے متوجہ ہوں گے۔

حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کیسے ولی اللہ بن گئے؟ آپ کو یاد ہوگا، ان کا واقعہ یہ تھا کہ وہ پہلوان تھے اور شاہی پہلوان تھے۔ تو ایک دن ایک دبلے پتلے پہلوان نے اس کو challenge کردیا، تو یہ خود حیران ہوگئے، بادشاہ بھی حیران لوگ بھی حیران یہ کیا کر سکتا ہے، مطلب دیکھیں نا کوئی جوڑ ہی نہیں، ہاں جی لیکن بہرحال اصول کے مطابق تو لینا تھا۔ ٹھیک ہے جی ہوگیا، wrestling کی date طے ہوگئی، تو وہ جو پہلوان جب ہاتھ ملاتے ہیں نا پنجہ ملاتے ہیں پہلے، شروع کرنے سے پہلے، تو اس نے کہا کہ میں سید ہوں اور مجھے ضرورت ہے اور میں نے کہا کہ اس طریقہ سے کچھ پیسے مل جائیں تو میرا کام بن جائے گا، تو انہوں نے کہا کہ ایک سید کو میں کیسے گراؤں، ہاں جی تو خود اپنے آپ کو گرا دیا۔ کوئی اس طرح کرتب کرلیا کہ گر گئے۔ بادشاہ نے کہا کہ یہ Foul play ہے ٹھیک نہیں۔ مطلب دوبارہ کشتی ہو۔ دوبارہ کشتی ہوئی تو دوبارہ انہوں نے اپنے آپ کو گرا دیا۔ جو خود اپنے آپ کو گراتا ہے تو کتنی مرتبہ ہو تو وہ تو۔ تیسری دفعہ بھی ہوگیا۔ بادشاہ نے کہا بس ٹھیک ہے ہوگئی بات، اس کو تو انعام و اکرام سے نوازا، ان کو خوب جھاڑ پلائی۔ کیا میں نے اس لئے تمھیں تیار کیا تھا؟ اور یہ کیا تھا اور وہ کیا تھا اور عین موقع پہ تو نے۔ سر نیچے کیے سنتے رہے، کیا مطلب کہہ سکتے تھے ان کو، کچھ کہہ نہیں سکتے تھے۔ اخیر میں بہت ہوا تو انہوں نے کہا حضرت بات اس طرح ہوئی۔ کہا: بالکل ٹھیک کیا ہے، بالکل ٹھیک کیا۔ ہاں جی۔ بادشاہ بھی دل والا تھا، انہوں نے کہا: بالکل ٹھیک کیا ہے۔ پھر اس کے بعد خواب دیکھا، خواب میں آپ ﷺ کی زیارت ہوئی، آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو نے میرا خیال رکھا، میری اولاد کا اکرام کیا میں نے بھی اللہ تعالیٰ سے درخواست کرلی، اللہ تعالیٰ نے آج سے تمہارا نام اولیاء میں رکھ دیا۔ یہ ہیں حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کا۔ اب یہ مجھے بتائیں کہ مطلب یہ چیز وہ ہے یا نہیں ہے؟ بات تو یہی ہے۔ تو اگر کوئی اللہ والوں کی اولاد کے ساتھ اعزاز اور اکرام کرتا ہے تو یہ باتیں اس طرح رائیگاں نہیں جاتیں، یہ کہیں کہیں record ہوتی ہیں۔


متن:

اوپر کی ان نسبتوں میں سے جس شخص کو کوئی نسبت بھی حاصل ہوگی، وہ لازمی طور پر اس خاص نسبت کے آثار کی طرف طبعاً میلان رکھے گا خواہ اس نے اس نسبت کے متعلق کسی سے کچھ سنا ہو یا نہ سنا ہو۔ یا کسی کو اس حال میں دیکھا ہو یا نہ دیکھا ہو۔ اس شخص کا اس خاص نسبت کی طرف یہ میلان طبعی اور فطری ہوتا ہے بالکل اسی طرح جس طرح کہ ایک شخص جب جوان ہوتا ہے اور اس کے اندر مادہ منویہ پیدا ہوجاتا ہے تو لامحالہ اس کو بیوی کی خواہش ہوتی ہے اور اس کے دل میں بیوی کے لئے عشق و محبت پیدا ہوجاتی ہے۔

الغرض سالک جب ان نسبتوں میں سے کسی ایک نسبت سے بہرہ مند ہوجاتا ہے تو عالم ارواح کے طبقوں میں سے جن کا ذکر اوپر ہوچکا ہے، جس طبقے کی بھی وہ نسبت ہوتی ہے اس طبقے کی ارواح کو وہ خواب میں دیکھتا ہے اور ان کے فیوض سے مستفید ہوتا ہے اور جب کبھی زندگی میں اسے خطرات اور مصائب پیش آتے ہیں تو عالم ارواح کے اس طبقے کی صورتیں اس کے روبرو ظاہر ہوتی ہیں اور اس ضمن میں اس کی جو بھی مشکل حل ہوتی ہے وہ اسے ارواح کی ان صورتوں کی طرف منسوب کرتا ہے۔ مختصراً یہ اور اس طرح کی اور چیزیں جو اسے حاصل ہوتی ہیں وہ اسی نسبت کا ثمرہ ہوتا ہے۔

اس سلسلہ میں یہ بھی ملحوظ رہے کہ ”نسبت اویسی“ رکھنے والے کو اس خاص نسبت کی جو ارواح ہیں، ان سے اس طرح کا ربط پیدا ہوجاتا ہے کہ یہ چیز اس شخص کی روح کے جوہرِ اصلی میں داخل ہوجاتی ہے اور وہ بیداری اور حالتِ خواب میں اس کیفیت کو اپنے اندر یکساں پاتا ہے۔ لیکن جب یہ شخص سوتا ہے اور اس کے ظاہری حواس ںفسانی خواہشات کے اثر و تصرف سے امن میں ہوتے ہیں اور وہ فی الجملہ طبیعت کے تقاضوں اور اس کے احکام سے رہائی حاصل کرلیتا ہے تو اس حالت میں وہ تمام صورتیں جو اس کے دل کے اندر جمع ہوتی ہیں، خواب میں برملا طور پر اس کو اپنے سامنے نظر آتی ہیں اور وہ ان کی طرف پوری طرح متوجہ ہوجاتا ہے۔ چنانچہ سالک پر اس مقام میں عجیب عجیب چیزیں اور طرح طرح کے معاملات ظاہر ہوتے ہیں۔

الغرض ان اویسی نسبتوں میں سے سالک کو کسی نسبت سے بھی تعلق ہو۔ مجموعی طور پر ان سب نسبتوں کا حاصل یہ ہے کہ سالک رؤیا میں طرح طرح کے واقعات دیکھتا اور اچھی اچھی خوش خبریاں سنتا ہے اور نیز دوسرے لوگ اس کے متعلق جو خوابیں دیکھتے ہیں اور ان خوابوں میں اس شخص کی عظمت و جلال کے جو شواہد انہیں نظر آتے ہیں۔ اس وجہ سے یہ لوگ اس کے معتقد ہوجاتے ہیں۔ نیز اس شخص کو مصائب اور پریشانیوں میں غیب سے مدد ملتی ہے اور وہ اکثر اپنی معاش کے معاملات میں تائید غیبی کو مصروف عمل پاتا ہے۔ اسی طرح وہ سالک جو کسی ظاہری پیر کے بغیر صوفیائے کرام کے طریقے پر گامزن ہیں اور انہیں اس ضمن میں "جذب" اور "راحت" کی کیفیات بھی میسر ہیں اور نیز غفلت اور مصروفیت کے تمام موانع کے باوجود ان کی توجہ غیب سے نہیں ہٹتی، ان سالکوں کی یہ حالت یقیناً اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ان کو ارواح کے ساتھ "نسبت اویسی" حاصل ہے۔

تشریح:

یہ ایک خاص طرف اشارہ ہے اور وہ اشارہ یہ ہے کہ بعض حضرات کو کسی خاص سلسلے والے پیر کے ساتھ تعلق نہیں ہوتا، زندہ پیر کے ساتھ، لیکن ارواح کے ساتھ ہوتا ہے۔ اب ان کی اصلاح بھی ہوجاتی ہے، ان کو فائدہ بھی ہوجاتا ہے، سارا کچھ ہوجاتا ہے لیکن وہ سارا کچھ اس کی اپنی ذات کے لئے ہوتا ہے کسی اور کے لئے نہیں ہوتا کیونکہ اور کے لئے پھر کرنے کے لئے transparency چاہئے۔ کیونکہ سند نہیں ہے نا، جیسے خواب میں آپ ﷺ کا نظر آنا صحابی کوئی نہیں بنتا اس سے وہ حدیث نہیں بنتی، تو اسی طریقہ سے اس کو خود تو فائدہ ہوگیا نا، آپ ﷺ کی زیارت بھی ہوگئی علم بھی مل گیا جو آپ ﷺ نے فرمایا وہ بات صحیح بھی ہوگی۔ وہ باتیں ساری اپنی جگہ پر درست، ان کو فائدہ ہوگیا لیکن کیا وہ کسی اور کو اس پر تیار کر سکتا ہے؟ کیونکہ ظاہر ہے کسی اور کے لئے وہ حجت ہی نہیں۔ تو اسی طریقہ سے جو نسبت اویسی ہے یہ اپنے لئے ہوتی ہے تو ایسے لوگوں سے اللہ جو کام لیتے ہیں وہ دوسرے کام لیتے ہیں۔ عین ممکن ہے ان سے تکوینی کام لے لیں، عین ممکن ہے کہ کسی اللہ کے ولی کی طرف متوجہ ہونے کے بغیر اس کو بتائے کام لے لیں مثلاً کوئی اویسی بزرگ ہے وہ خود مشہور تو نہیں ہوئے ظاہر ہے کسی کو بتایا نہیں ہوگا نہ کسی کو پتا ہے، لیکن اللہ پاک اس کے دل میں ڈال لے کہ اس کی طرف متوجہ ہوجاؤ اور وہ جو تمھیں ارواح سے ملا ہے اس کو communicate کردو۔ اب وہ چیز ادھر سے وہاں چلی گئی، تو اس کو فائدہ ہوگیا لیکن اس کو پتا بھی نہیں کہ کس نے دیا ہے، مطلب یہ ہے کہ وہ صرف ایک ذریعہ کے طور پہ استعمال ہوگیا کیونکہ وہ transparent لائن میں نہیں ہے۔ اور جن سے اللہ پاک transparent لائن میں بھی کام لینا چاہتے ہیں ان کو کسی transparent لائن کے ساتھ ملا دیتے ہیں اور سلسلے میں جوڑ دیتے ہیں چاہے نقشبندیہ میں جوڑیں، چاہے چشتیہ میں جوڑیں، چاہے قادریہ میں جوڑیں چاہے سہروردیہ میں جوڑیں۔ یہ پھر اس پر نہیں کہ وہ سارے سلسلے اللہ کے ہیں۔ تو اس میں جوڑ دیتے ہیں۔ جب جوڑ دیتے ہیں تو پھر ان سے اس میں کام لیتے ہیں۔ وہی جیسے شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ تھے، شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی مثال موجود ہے، ان کے والد صاحب کی مثال موجود ہے، شاہ عبدالرحیم صاحب رحمۃ اللہ علیہ، تو یہ مطلب اس طرح ہوتا ہے کہ بعض حضرات کو پھر سلسلوں میں وہ جوڑ لیتے ہیں اس کی وجہ سے پھر ان سے سلسلوں میں بھی کام لیا جاتا ہے۔ ان کی طرف لوگ آتے ہیں ان سے بیعت ہوتے ہیں۔

کاکا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا بھی کچھ ایسے ہی تھا معاملہ، لہٰذا حضرت لوگوں کو ہٹاتے تھے حضرت کی طرف جو لوگ جاتے تھے ان کو روکتے تھے یہاں تک کہ جب لوگ آنے لگے تو حضرت نے ان سے لنگر کو بند کردیا تو جو محلے کے لوگ تھے یا اردگرد پہاڑوں میں جو لوگ رہتے تھے وہ ان کے لئے کھانا پکانے لگے زائرین کے لئے، تو حضرت نے پھر ان سے کہا کہ اگر میرے ساتھ تعلق رکھنا چاہتے ہو تو ان کو کچھ نہ دو کھانے کو۔ تو ان سے بند کروایا، جب بند کروایا تو لوگ اپنے ساتھ برتن لانے لگے، برتن لانے لگے اور خود وہیں پکانے لگے تو حضرت نے خادموں کو حکم دیا کہ ان کے برتن توڑ دو تو ان کے برتن تڑوا دیئے گئے۔ جب برتن تڑوا دیئے پھر بھی وہ آنے لگے کہ ہم مر جائیں گے لیکن نہیں جائیں گے۔ پھر حضرت نے کہا اب میں معذور ہوں، خود لکھا ہے، اس میں موجود ہے مقامات قطبیہ اور مقالات قدسیہ اس میں موجود ہے۔ ہاں جی کہ پھر حضرت نے جو ہے نا مطلب یہ ہے کہ کہا میں معذور ہوں۔ بس ٹھیک ہے، اب اللہ پاک چاہتے ہیں تو میں کیا کروں؟ اور اللہ پاک نے لوگوں کے قلوب اس طرف متوجہ کرلیے تو میں کیا کروں؟ اس میں کیسے کر سکتا ہوں۔ تو یہ نظام ہوتا ہے کہ جو اویسی بزرگ ہوتے ہیں وہ تو اپنے آپ کو بچاتے رہتے ہیں، سامنے نہیں لاتے، ہاں اللہ پاک نے اگر اس کو استعمال کرنا ہو تو پھر ایک علیحدہ بات ہے، پھر وہ اپنا ایک نظام ہے وہ چلتا ہے۔ لیکن یہ بات ہے یہ حضرات خود بخود نہیں آتے، کوشش کرتے ہیں کہ چھپے رہیں۔ اب کوئی ظاہر کرتا ہے میرا سلسلہ اویسیہ سے ہوں، بھئی کیا عجیب بات ہے؟ یعنی اویسیت کے بالکل خلاف بات ہے یا نہیں ہے؟ کہ میں اویسی سلسلہ سے ہوں۔

متن:

نیز اس شخص کو مصائب اور پریشانیوں میں غیب سے مدد ملتی ہے اور وہ اکثر اپنی معاش کے معاملات میں تائید غیبی کو مصروف عمل پاتا ہے۔ اسی طرح وہ سالک جو کسی ظاہری پیر کے بغیر صوفیائے کرام کے طریقے پر گامزن ہیں اور انہیں اس ضمن میں "جذب" اور "راحت" کی کیفیات بھی میسر ہیں اور نیز غفلت اور مصروفیت کے تمام موانع کے باوجود ان کی توجہ غیب سے نہیں ہٹتی، ان سالکوں کی یہ حالت یقیناً اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ان کو ارواح کے ساتھ "نسبت اویسی" حاصل ہے۔ اب یہ دوسری بات ہے کہ وہ تفصیل سے اس نسبت سے واقف ہوں یا انہیں اس نسبت کا سرے سے علم ہی نہ ہو۔

(لیکن وہ magnet کا آپ کو پتا بھی نہیں لیکن وہ اثر تو ہوتا ہے اثر سے تو کوئی انکار نہیں کر سکتا۔)

اس ضمن میں یہ بھی واضح رہے کہ اس سے پہلے اولیائے امت کی پاک روحوں کی بڑی کثرت تھی اور فضا ان سے بھری ہوئی تھی۔ وہ لوگ جن میں استعداد ہوتی، انہیں ان پاک روحوں کے توسط سے ملائکہ مقربین کی یہ نسبت حاصل ہوجاتی اور اس مقام سے ان کے لئے نبوت اور حکمت کے علوم مترشح ہوتے۔ چنانچہ اس نسبت رکھنے والوں میں سے جس کو انسانوں کے لئے مبعوث کیا جاتا اسے لوگ نبی کہتے اور جو اس طرح انسانوں کے لئے مبعوث نہ ہوتا وہ حکیم اور محدث کہلاتا۔ لیکن جب آنحضرت ﷺ کی بعثت عمل میں آئی اور آپ ﷺ کی بعثت کی جو صورت عالم مثال میں تھی وہ اس عالم اجسام میں منتقل ہوگئی اور اس سے یہ ساری فضا بھر گئی اور یہاں کثرت سے ارواحِ امت بھی پیدا ہوگئیں تو اس کی وجہ سے وہ کیفیت جو آپ ﷺ کی بعثت سے پہلے تھی لوگوں کی نظروں سے روپوش ہوگئی بعینہٖ اس طرح جس طرح کہ فضا میں گھٹا چھا جانے سے آفتاب آنکھوں سے اوجھل ہوجاتا ہے۔

اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اسرار میں سے جو بھی چیز اس عالم میں ظاہر ہوتی ہے، لامحالہ دوسرے عالم میں جسے عالم مثال کہتے ہیں، اس چیز کی ایک نہ ایک شکل اور صورت ہوتی ہے جس کی طرف یہ چیز منسوب ہوتی ہے۔ چنانچہ جب کوئی شخص عالم غیب کی طرف توجہ کرتا ہے تو عالم غیب کی بھی اس کی طرف توجہ ہوتی ہے لیکن عالم غیب کی یہ توجہ اسے ہمیشہ متشکل نظر آتی ہے۔ توجہ عالم غیب کے اس مثالی مظہر کا قالب رسول اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذات تھی۔

آنحضرت ﷺ کی امت میں سے جس شخص نے کہ سب سے پہلے "جذب" کا دروازہ کھولا اور اس راہ پر وہ سب سے پہلے گامزن ہوئے وہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہیں۔ (یہ نقشبندی بزرگ ہے جو لکھ رہا ہے، شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ، وہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہیں) اور یہی وجہ ہے کہ صوفیاء کے تمام سلسلے ان کی طرف منسوب ہیں۔ گو ان سلسلوں کا تعلق باعتبار روایت کے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ اور نہ یہ معلوم ہو سکا ہے کہ آخر حسن بصری کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کون سا خصوصی علاقہ تھا، جو آپ کا دوسروں کے ساتھ نہ تھا۔ لیکن اس کے باوجود تمام کے تمام صوفیاء کا نسلاً بعد نسلٍ اس بات پر اتفاق چلا آتا ہے کہ طریقت کے سارے سلسلے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف راجع ہیں۔ ظاہر ہے ان بزرگوں کا یہ اتفاق بغیر کسی وجہ کے نہیں ہو سکتا۔ فقیر کے نزدیک چونکہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس امت کے پہلے مجذوب ہیں اس لئے طریقت کے تمام سلسلے آپ کی طرف منسوب ہیں۔

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعد اولیائے کرام اور اصحابِ طرق کا سلسلہ چلتا ہے۔ ان میں سے سب سے زیادہ قوی الاثر بزرگ جنہوں نے راہ جذب کو باحسن وجوہ طے کرکے نسبت اویسی کی اصل کی طرف رجوع کیا اور اس میں نہایت کامیابی سے قدم رکھا، وہ شیخ عبدالقادر جیلانی کی ذات گرامی ہے۔ اسی بناء پر آپ کے متعلق کہا گیا ہے کہ موصوف اپنی قبر میں زندوں کی طرح تصرف کرتے ہیں۔

تشریح:

یہ ہمارے حلیمی صاحب نے یہ واقعہ مجھے سنایا ہے، خود سنایا ہے، اس میں درمیان میں کوئی اور راوی نہیں ہے۔ حلیمی صاحب خود بھی چاروں سلسلوں کے شیخ تھے، وہ حضرت تھانوی رحمہ اللہ کے سلسلے میں شیخ تھے۔ تو فرمایا کہ وہ پورے افسر تھے ADBD سسٹم میں، بٹخیلہ میں، نہیں سوات میں تھے غالباً اس وقت۔ تو ایسا ہوا کہ کہتے ہیں ایک صاحب آئے میرے پاس اور مجھے کہا کہ مجھے شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی طرف سے حکم ملا ہے کہ آپ کے ساتھ ملوں، آپ کے اوپر اپنے آپ کو ظاہر کر دوں، اور مجھے یعنی یہ کام کرنے کا سونپا گیا ہے کام۔ کہتا میں نے اس کا مذاق اُڑایا کہ تم بڑے آگئے شیخ عبدالقادر جیلانی کی طرف سے، خوامخواہ اپنی طرف سے باتیں بنائی ہو۔ پھر تھوڑی دیر کے بعد وہ ایسا ہوا کہ اس طرح ہلے تو میں نے کہا کیا ہوا؟ کہتے ہیں دو بس آمنے سامنے تھیں، بس ٹکراؤ ہونے والا تھا تو بس ایک کو میں نے ذرا تھوڑا سا ہٹا دیا تو ایکسیڈنٹ سے بچ گئے دونوں۔میں نے کہا جا جا، بچانے والا ہے، کہتا اس کا میں نے خوب مذاق اُڑایا۔ کہتے ہیں وہ ناراض ہو کے چلا گیا، ناراض ہو کے چلا گیا۔کہتے تھوڑی دیر کے بعد میرا ایک دوست مجھ سے ملنے کے لئے آیا اور بڑی چہرے کے اوپر ہوائیاں اڑئی ہوئی تھیں اور جیسے اس پر بڑا اثر تھا۔تو میں نے کہا کیا بات ہے؟ کہتے ہیں بس بال بال بچ گئے، وہ فلاں موڑ پہ، میں ایک بس میں بیٹھا تھا دوسرا بس بالکل head-on-collision ہونے والی تھی، بس ایک انچ سے ہی تقریباً بچ گئے ورنہ پتہ نہیں کیا ہوتا۔کہتے پھر مجھے خیال آیا کہ اوہ یہ تو اُس نے بھی کہا تھا۔ کہتے مجھے بہت افسوس ہوا کہ میں نے ان کے ساتھ زیادتی کی اور کہ میں نے خوامخواہ مذاق اُڑایا۔ کہتے ہیں پھر ایسا ہوا کہ رات کو میں مراقبہ کر رہا تھا، خلوت میں۔ کہتے ہیں شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کا روح مبارک آیا، مجھ سے فرمایا کہ میں نے جس کو بھیجا تھا، تم نے اس کے ساتھ یہ حرکت کرنی تھی؟ تو یہ دو انگلیوں میں یہ جگہ (شہ رگ) میری پکڑ لی کہ دبا دوں۔تو کہتے میں تو چیخنے لگا کہ میں کیا کروں۔ کہتے ہیں بڑے بڑے بزرگ کھڑے تھے، کچھ بھی نہیں کر سکتے تھے۔ اب جس کی طرف دیکھتا ہوں ہر ایک کا رنگ زرد ہے کہ وہ پریشان ہیں کہ کیا کریں۔ کہتے ہیں ظاہر ہے پریشان بلکہ کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ کہتے ہیں پھر اوپر سے آواز آئی علی رضی اللہ عنہ کی: میرا پوتا ہے چھوڑ دو۔ تو کہتے ہیں ان کی انگلیوں سے جیسے وہ طاقت ختم ہو گئی اور چھوڑ دیا۔کہتے ہیں وہ گلا میرا کافی دنوں تک دکھتا رہا جو یہ جگہ پکڑی تھی نا، کہتے ہیں کافی دنوں تک دکھتا رہا۔تو یہ اب دیکھو حضرت کی طرف سے۔

ٍیہ واقعہ شاید میں نہ بتاتا، لیکن شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے چونکہ یہ فرما دیا کہ وہ مطلب اس طرح زندہ کی طرح تصرف کرتے ہیں تو پھر تو ظاہر ہے بہت بڑی سند مل گئی تو اس وجہ سے پھر یہ بات میں نے عرض کر لی کہ یہ واقعی بعض حضرات ایسے ہیں جن کو اللہ پاک نے یہ دیا ہوتا ہے لیکن یہ من جانب اللہ ہوتا ہے۔ اس وجہ سے میں یہ کہتا ہوں کہ بھائی! زندہ اور مردہ کو نہ دیکھو، دیکھو حکم کس کا ہے، حکم کس کا ہے۔ اگر زندوں کو حکم اللہ نہ دے تو زندہ بھی کچھ نہیں کر سکتا۔ یہ حضرت سید عطا اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ، ان سے کسی نے سوال کیا عین جلسہ میں کہ کیا مردے سنتے ہیں؟ تو حضرت نے کہا کہ میں تو چیخ چیخ رہا ہوں میری زندہ نہیں سنتے تو مردوں کی بات میں کیا کروں؟ میری تو زندہ بھی نہیں سنتے۔ اب یہ جو بات ہے مطلب ظاہر ہے بات بالکل صحیح ہے کہ جو شخص وہ آنکھ نہیں رکھتا اس کو سمجھانا ناممکن ہے، اور جو شخص وہ کان نہیں رکھتا اس کو سنانا ناممکن ہے۔ تو لہٰذا ان کو سنانے کی ضرورت ہی کیا ہے، ان کو دکھانے کی ضرورت ہی کیا ہے، ان کو سمجھانے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ کیونکہ یہ دین کا کوئی بنیادی تقاضا تو ہے نہیں، معرفت کی بات ہے نا، تو معرفت کی بات تو نوافل کے درجہ میں آتی ہے۔ مطلب یہ تو ایک مزید اضافی چیز ہے، مطلب یہ کوئی دین کا بنیادی جزو تو نہیں ہے کہ آپ اگر نہ مانیں تو نَعُوْذُ بِاللہ مِنْ ذَالِکْ یعنی مطلب یہ ہے کہ آپ کوئی نہ مانے تو بس ٹھیک ہے، صرف یوں کہہ سکتے ہیں کہ اس کے فائدے سے محروم ہوجائے گا۔ تو کوئی بات نہیں، ٹھیک ہے۔ مطلب ظاہر ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے دینا ہوگا تو دے دیں گے۔ لیکن یہ والی بات ہے کہ ہم لوگ انکار نہیں کر سکتے۔ مطلب جن کو اللہ تعالیٰ نے دکھا دیا ہو یا بتا دیا ہو یا سمجھا دیا ہو تو وہ تو انکار نہیں کریں گے نا۔ مطلب ان کی بات تو ظاہر ہے الگ ہوگی۔

میں آپ کو کیا بتاؤں ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے، پوچھ لیں علماء کرام سے، ان کی روایت ہے کہ جو حصہ آپ ﷺ کے علوم کا ہم تک پہنچا تھا وہ جو ہم نے بتا دیا تو بتا دیا اور ایک ایسا ہے کہ اگر وہ ہم بتا دیں تو لوگ ہماری گردن اتار دیں، لوگ ہماری گردن کو اتار دیں۔ تو اس کی وجہ یہی ہے کہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو اہل کے لئے ہیں، نااہل کے لئے نہیں ہیں۔ جو اس کا اہل نہیں ہے اس کے اوپر نہ ثابت کرو، جو اہل ہے ان تک خود ہی پہنچ جائے گا۔ جو اہل ہیں ان تک خود ہی پہنچ جائے گا۔ جو نااہل ہے اس کی طرف کیوں خواہ مخواہ نسبت کرتے ہو؟ کوئی لازم چیز تو نہیں ہے۔ تو یہی اصل میں بنیادی بات ہے جس پہ تشدد پہ لوگ آجاتے ہیں، تو نقصان اس پہ ہوجاتا ہے، تشدد میں نہیں آنا چاہئے، مطلب سمجھانے میں بھی تشدد نہیں کرنا چاہئے اور انکار میں بھی تشدد نہیں کرنا چاہئے۔ بہت ساری باتیں ایسی ہوتی ہیں جو مجھے نہیں معلوم تو کیا وہ نہیں ہیں؟

ایک دفعہ ایک بڑے میاں بیٹھے تھے میرے بیان میں، تو میں نے بیان کرلیا تو بیان کے بعد مجھے کہتے ہیں یہ جو آپ نے باتیں بتائی یہ تو ہم نے نہیں سنیں۔ تو میں نے کہا کیا ساری باتیں آپ نے سن لی ہیں؟ آپ کا سننا لازم تو نہیں ہے کہ جو باتیں آپ نے سنی ہیں وہی دین ہے۔ یہ تو کسی نے نہیں کہا کہ جو باتیں آپ نے سنی ہیں وہی دین ہوگا۔ تو ہم تو قرآن و سنت کی بات کر سکتے ہیں تو ظاہر ہے وہی ہمارا دین ہے، تو باقی اگر آپ نے نہیں سنا تو آپ کی اپنی مرضی ہے۔ تو مطلب بات یہ ہے کہ تشدد اس میں بھی نہیں ہونا چاہئے۔ انکار نہیں کرنا چاہئے، تشدد نہیں کرنا۔ ہاں! کہتے ہیں کہ بھئی مجھے پتا نہیں ہے۔ تو یہ ایک اچھی بات ہے، یہ اس میں کوئی غلطی نہیں ہے۔ آدمی کہتا ہے مجھے نہیں معلوم۔ یہ خود حلیمی صاحب کے ساتھ کئی بار میں لڑا ہوں، ایسی باتیں میں نہیں مانتا تھا۔ تو میں ان کے ساتھ لڑتا تھا لیکن حضرت نے برا بھی نہیں مانا حضرت نے برا بھی نہیں مانا، کیوں؟ وجہ یہ ہے کہ وہ جس وجہ سے میں نہیں مان رہا تھا وہ اس کو پتا تھا۔ تو لہٰذا اس نے مجھ پہ تشدد نہیں کیا۔ ہاں! البتہ مجھے سخت الفاظ ضرور کہتے، تم بر خود غلط ہو، یہ ہے، وہ ہے، فلاں ہے، سارا کچھ کرلیں۔ ساری باتیں سن لیتا میں، کیونکہ ظاہر ہے۔ لیکن اَلْحَمْدُ للہ اتنا اکرام دل میں ان کا تھا کہ مجھے اجازت دینے کے لئے خود سفر کیا، تشریف لائے راولپنڈی اور ٹیلی فون کیا ہمارے گھر، ان دنوں اکثر میں مجالس میں ہوتا تھا مختلف جگہوں پہ مجلسیں ہوتی تھیں، تو گھر والے بھی ناراض ہوتے تھے کہ یہ کیوں ہر وقت پرواز میں رہتا ہے۔ میری والدہ تو سخت ناراض ہوتی تھیں، تو ٹیلی فون کیا تو ٹیلی فون اس نے سنا، تو انہوں نے کہا کہ شبیر کدھر ہے؟ کہتی ہیں آپ کو پتا نہیں وہ تو آسمانوں پہ چلتے ہیں آج کل۔ کہتے ہیں وہ تو مجھے بھی پتا ہے، بس یہ پوچھنا تھا کہ اس وقت کون سے آسمان پر ہے۔ ہاں جی، خیر! بہرحال اس نے کہا کہ نمبر یہ لے لو جب وہ آجائیں تو ان کو یہ نمبر دے دینا، تو میں فلاں جگہ پہ ہوں۔ تو میں جب آیا تو اچھا ہوا کہ نمبر نوٹ کرلیا تھا۔ خیر بہرحال نمبر مجھے دیا تو میں نے ٹیلی فون کردیا، انہوں نے کہا: ہاں میں اپنی بیٹی کے ہاں آیا ہوا ہوں۔ تو میں نے کہا کہ کل ملاقات ہوگی۔ کہتے ہیں ہاں بالکل۔ پھر ہم چلے گئے۔ چلے گئے تو حضرت بہت خوش ہوئے اور پھر ہم نے درخواست کی ہم نے کہا کہ حضرت پیر کی مجلس ہے ہماری، کیونکہ اتوار کے دن آئے ہوئے تھے، پیر کی مجلس ہے تو اگر آپ اس میں تشریف لے آئیں ہمارے ساتھی بھی آپ کی زیارت کرلیں گے خوش ہوجائیں گے۔ تو مان لیا، تو ہم گاڑی میں جارہے تھے تو راستہ میں کہہ دیا کہ میں آپ کو اجازت دینا چاہتا تھا لیکن اب نہیں دوں گا۔ میں نے کہا کہ کیوں؟ کہتے ہیں آپ مشہور ہوگئے ہیں اور اب آپ سمجھیں گے کہ میں مشہور ہوگیا ہوں تبھی مجھے اجازت دے رہا ہے تو آپ کو اجازت کی قدر نہیں ہوگی۔ تو مجھے حضرت کی طبیعت کا پتا تھا، میں نے کہا کہ اب تو میں زبردستی لوں گا۔ اس نے کہا کہ کیوں؟ میں نے کہا اپنی چیز کوئی چھوڑتا ہے؟ انہوں نے کہا اچھا اچھا ٹھیک ہے پھر دیتا ہوں، تو ساتھ ہی جیب سے نکالا اور مجھے printed وہ دے دیا۔ تو مقصد میرا یہ ہے کہ اخیر میں پھر کہہ دیا کہ جو کچھ میرے پاس تھا میں نے شبیر کو دے دیا۔ مقصد میرا یہ ہے کہ اَلْحَمْدُ للہ ان باتوں پہ ہم بھی وہ کرتے تھے، یہ نہیں کہ مطلب یہ باتیں ہم نے آسانی سے مانی ہیں۔ ہم بھی کرتے تھے اور پرزور اختلاف کرتے تھے، لیکن جب اللہ پاک نے دکھا دیا تو پھر اس کے بعد انکار تو ہم نہیں کر سکتے۔ ہاں اس کے باوجود اگر ہمارے ساتھ کوئی اس طرح لڑے گا تو ان کے ساتھ بھی ہم اختلاف نہیں کریں گے، ہم کہتے ہیں بس ٹھیک ہے، لڑو۔ چونکہ ہم بھی کسی کے ساتھ لڑے تھے۔ اگر ہمارے ساتھ کوئی لڑے تو کوئی غلط بات تو نہیں ہوگی۔ اگر کوئی نہیں مانتا تو بے شک نہیں مانے، ظاہر ہے یہ تو ایسی بات نہیں ہے، تو یہاں پر اس قسم کی بات ہے۔

متن:

اس ضمن میں فقیر کو اس حقیقت سے بھی آگاہ کیا گیا ہے کہ حضرت شیخ عبدالقادر کا مسلک طریقت یہ ہے کہ جذب کی راہ کو طے کرنے کے بعد نسبت اویسی کا جو حاصل مقصود ہے اس کے رنگ میں سالک اپنے آپ کو رنگ دے۔ مزید برآں ملت مصطفوی میں بالعموم اور اس زمانے میں خاص طور پر ان دونوں بزرگوں یعنی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ سے بڑھ کر کوئی اور بزرگ خرق عادات اور کرامات میں مشہور نہیں ہیں، اس لئے ان کی یہ شہرت اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ سالک جب عالمِ غیب کی توجہ کو اپنی طرف مبذول پائے تو وہ اس توجہ کو ان بزرگوں میں سے کسی نہ کسی صورت میں متشکل دیکھے۔ الغرض ان امور کے پیش نظر آج اگر سالک کو کسی خاص روح سے مناسبت حاصل ہوجائے اور وہاں سے اسے فیض پہنچے تو اس واقعہ کی اصل حقیقت غالباً یہ ہوگی کہ اسے یہ فیض یا تو آنحضرت ﷺ کی نسبت سے حاصل ہوا یا امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی نسبت سے یا اسے یہ فیض حضرت غوث اعظم کی نسبت سے ملا۔

راہِ طریقت کے بعض سالک ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں تمام ارواح سے نسبت حاصل ہوتی ہے۔ اس طرح کی نسبت بالعموم عارضی اسباب کا نتیجہ ہوتی ہے۔ مثلاً سالک کو اس بزرگ سے غیر معمولی محبت ہے اور اس بزرگ کی قبر پر وہ اکثر جاتا ہے۔ اس نسبت کا انحصار ایک تو سالک کی اپنی استعداد پر ہوتا ہے کہ اس میں فیض حاصل کرنے کی خود کتنی قابلیت ہے۔ دوسری چیز اس خاص بزرگ کا اثر و نفوذ ہے جس سے سالک کو ربط ہوتا ہے۔ اب اگر وہ بزرگ اپنے سلسلہ کے متعلقین کی تربیت میں بڑی ہمت رکھتا تھا اور اس دنیا سے انتقال کے بعد بھی اس کی روح میں تاثیر و تصرف کی یہ ہمت ہنوز باقی ہے تو اس اعتبار سے سالک کے باطن میں اس نسبت کو پیدا کرنے میں مرشد کا اثر بڑا کام کرے گا۔ اس سلسلہ میں بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ سالک کو اویسی نسبت گو تمام عالم ارواح سے بالاجمال حاصل ہوتی ہے لیکن بعض اسباب ایسے ہوتے ہیں جن کی وجہ سے یہ نسبت تمام ارواح کی بجائے کسی خاص بزرگ کی صورت میں متشخص نظر آتی ہے۔

یہ فقیر جب مشائخ صوفیاء کی ارواح کی طرف متوجہ ہوا تو اس نے ان کی توجہ اور اس کے اثرات کو مختلف صورتوں میں اپنے اندر منعکس پایا۔ اس توجہ کے اثرات میں سے ایک اثر یہ تھا کہ اس طبیعت کی بہیمی قوتیں یکسر ملکی رنگ میں اس طرح رنگی گئیں گویا کہ بہمیت ملکیت میں بالکل فنا ہوگئی۔ اس سلسلہ میں فقیر کو بتایا گیا ہے کہ جب مشائخ صوفیاء کو انتقال فرمائے چار سو سال یا پانچ سو سال یا اس کے قریب گزر جاتے ہیں تو ان کے نفوس کی طبعی قوتیں جو زندگی میں ان کی ارواح کو خالص مجرد صورت میں ظاہر ہونے نہیں دیتی تھیں، اتنا عرصہ گزرنے کے بعد یہ طبعی قوتیں بے اثر ہوجاتی ہیں اور اس دوران میں ان نفوس کے "نسمہ" یعنی روح ہوائی کے اجزاء منتشر ہوجاتے ہیں۔ اس حالت میں جب ان مشائخ کی قبور کی طرف توجہ کی جاتی ہے، تو ان مشائخ کی ارواح سے اس توجہ کرنے والے کی روح پر ایک رنگ کا فیضان ہوتا ہے۔ اس فیضان کی مثال ایسی ہے جیسے آفتاب کسی مرطوب چیز پر اپنی شعاعیں ڈالے اور ان کی گرمی سے یہ رطوبت تحلیل ہوجائے۔ اور اس مرطوب چیز سے پانی کے قطرات ٹپکنے لگیں یا اس کی مثال یوں سمجھئے کہ توجہ کرنے والے کی روح ایک حوض کے مشابہ ہے جو پانی سے بھرا ہوا ہے اور آفتاب کی روشنی نے ہر طرف سے اس کا احاطہ کرلیا ہے۔ چنانچہ وہ حوض آفتاب کی شعاعوں سے اس طرح چمک اٹھتا ہے گویا کہ وہ حوض خود سرتاپا ایک شعاع بن گیا ہے۔ ارواح مشائخ کی طرف توجہ کرنے والا سالک جب اس منزل میں پہنچتا ہے تو اس میں "یادداشت" یا "توجہ بجانب غیب" کی کیفیت ظاہر ہوتی ہے اور یہ کیفیت اس شخص کی روح کو ہر طرف سے گھیر لیتی ہے۔

ان امور کے ضمن میں یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ توجہ ارواح کا اثر دو طرح ہوتا ہے ایک تو یہ کہ توجہ کرنے والا اپنی روح کی اس حالت کا تصور کرے جو حالت کہ مرنے کے بعد قبر میں اس کی ہوگی اس کے بعد وہ روح کی اس حالت کو اپنے اوپر طاری کرے۔ اس سے اس شخص پر ایک رنگ کا فیضان ہوگا۔ سالک کو چاہئے کہ وہ اس رنگ میں غور و تامل کرے اور اس کی حقیقت کو پہچاننے کی کوشش کرے۔ بالکل اسی طرح جس طرح کہ آلۂ مقیاس ظل سے آفتاب کی بلندی ناپی جاتی ہے یا جیسے ایک شخص اپنے چہرہ کو آئینے میں دیکھتا اور اسے پہچاننے کی کوشش کرتا ہے۔

توجہ ارواح کی اثر آفرینی کی دوسری قسم یہ ہے کہ مثلاً سالک نے ایک بزرگ کی قبر پر توجہ کی چنانچہ صاحب قبر کی روح اس پر منکشف ہوگئی اور سالک نے اس بزرگ کی روحانی کیفیات کا واضح طور پر مشاہدہ کرلیا۔ بعینہ اسی طرح جیسے کوئی شخص آنکھ کھولے اور اس کے سامنے جو چیز پڑی ہو، اسے وہ اچھی طرح سے دیکھ لے۔ لیکن یاد رہے کہ سالک کا یہ دیکھنا چشم ظاہر سے نہیں بلکہ چشم باطن سے ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ اس سلسلہ میں یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ انبیاء علیہم السلام کو فطری طور پر ملائکہ مقربین سے جو کائنات کے مدبر اور منتظم ہیں، خاص نسبت حاصل ہوتی ہے اور اسی نسبت کی وجہ سے انبیاء کے سامنے نفوس افلاک، ملاء اعلیٰ اور نیز اس "تجلئ حق" کی طرف جو کہ شخصِ اکبر کے دل پر قائم ہے، ایک کشادہ راہ کھل جاتی ہے اور وہاں سے ان کے نفوس پر کلی علم کی صورت کا فیضان ہوتا ہے۔ چنانچہ کلی علم کی موجودگی میں انبیاء کو تفصیلی علوم کی ضرورت نہیں رہتی۔ علمی صورت کا یہ فیضان انبیاء کے نفوس پر جس طریق سے ہوتا ہے یہ طریق راہ جذب اور راہ سلوک سے ایک الگ چیز ہے لیکن یہ جاننے کے باوجود جو لوگ انبیاء کے کلام کو وحدت الوجود پر حمل کرتے ہیں وہ نہ تو انبیاء کی حقیقت کو پہچانتے ہیں اور نہ انہیں انبیاء کے خصوصی مسلک کی کچھ خبر ہے۔

تشریح:

یہ اصل میں نسبت اویسی کی بات ہے، اس میں پورے chapter میں کہیں اویسی سلسلہ کا نام آیا ہے؟ نہیں، کچھ بھی نہیں۔ تو نسبت اویسی exist کرتی ہے اور سلسلہ اویسیہ exist نہیں کرتا کیونکہ یہ دونوں By definiton مختلف ہیں۔ جو اویسی ہے وہ سلسلہ نہیں ہے اور جو سلسلہ ہے وہ اویسی نہیں ہے، ٹھیک ہے؟ جیسے radiation ہے وہ conduction نہیں اور جو conduction ہے وہ radiation نہیں ہے۔ تو بالکل اسی طریقہ سے یہ بات ہے۔ یہ دونوں چیزوں کو جمع کرنے کی کوشش کرنا یہ غلطی ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جیسے آزاد نظم والے ہیں (جانتے ہیں نا آزاد نظم والے کون تھے؟) یہ آج کل ایک آرٹ نکلا ہے جو ادیب تھے نا ادیب، اور شاعر نہیں تھے لیکن شاعروں میں اپنا نام لکھوانا چاہتے ہیں تو انہوں نے نظم کی ایک نئی صورت نکالی جس کو آزاد نظم کہتے ہیں۔ وہ جو ہے نا نثر کو نظم کے رنگ میں وہ پیش کرلیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ بھی نظم ہے۔؎

میں چہکتا رہا وہ بھٹکتا رہا

جب کسی کو پتا چلے

تو ادھر سے ایک آگ

اس سے وہ ساری چیز حاصل ہوگئی۔ یعنی یہ نظم ہے، یہ آزاد نظم ہے۔ اب اس کا نظم کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ تو اسی طریقہ سے جن لوگوں کو سلسلوں میں کچھ نہیں ملا، تو سلسلوں کے ثبوت تو دے نہیں سکتے تھے تو انہوں نے اپنے آپ کو کسی روح کے ساتھ جوڑ دیا جس کا کوئی ثبوت کوئی تلاش کر نہیں سکتے اور کہا کہ جی ہمیں وہاں سے نسبت حاصل ہوگئی۔ ایک اس قسم کی بات ہوئی، ایک صاحب تھے جو تیرہ سال کسی ایسے شخص کے ساتھ رہے، تیرہ سال بڑا وقت ہے، خدا کی شان! اس کے دل میں کوئی چیز ہوگی جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کو ہدایت دینا چاہی، وہ خود واقعہ بیان کرتا ہے کہ میں خواب دیکھ رہا ہوں، خواب میں دیکھا کہ یہ کھنہ پل کے پاس ہوں اور سائیکل پر ہوں اور شیخ کی تلاش میں جارہا ہوں۔ کہتے ہیں پھر میں نے چند دنوں کے بعد خواب دیکھا کہ میں شیخ کی تلاش میں سائیکل پر جارہا ہوں اور ترامڑی چوک کے پاس ہوں۔ پھر اس کے بعد کہتے ہیں کہ میں نے خواب دیکھا کہ میں شیخ کی تلاش میں جارہا ہوں اور یہ نیلور کا جو barrier ہے اس کے پاس ہوں، اور اس کے بعد جو ہماری مسجد تھی جمعہ کی جہاں میں جمعہ پڑھاتا تھا وہاں پر میرے ساتھ ملاقات ہوگئی جو barrier کے بالکل پاس ہی تھا۔ اس وجہ سے مناسبت ہوگئی، پھر جمعہ ہمارے ساتھ ہی پڑھنا شروع ہوگیا لہٰذا مجلسوں میں بھی آنا شروع ہوگیا۔ مجھے کہا کہ حضرت یہ میرے پاس یہ کتاب ہے وہ اسی قسم کے لوگوں کی تھی۔ تو یہ کتاب آپ ذرا پڑھ لیجئے گا۔ میں نے کہا ٹھیک ہے، میں نے لے لی کتاب۔ مجھے ان کی کتابوں کا پتا تھا کہ وہ کیا کرتے ہیں، وہ یہ کرتے ہیں کہ باتیں مستند کتابوں سے لے لیتے ہیں جیسے حضرت تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے لے لی یا مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے لے لی یا شاہ ولی اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے لے لی، تو وہ تو صحیح ہوتی ہیں تو اس کے ذریعہ سے پھر اخیر میں کہتے ہیں کہ سب سے بڑا مقام یہ ہے۔ وہ بھی ٹھیک ہوتا ہے کیونکہ ظاہر ہے مطلب صحیح بزرگوں کی تعلیمات سے لی ہوتی ہے۔ پھر ایک دن اچانک ان کو کشف ہوجاتا ہے کہ یہ مقام آپ کو حاصل ہوگیا۔ ہاں جی، میں اس میں صرف یہ ڈھونڈنا چاہتا تھا کہ اس میں یہ حرکت ہے یا نہیں ہے، تو میں نے وہ کتاب ان سے لے لی، وہ کتاب میں نے لے لی تو میں نے صرف اسی جگہ پڑھا جہاں اس قسم کی چیز ہو سکتی ہے، تو میں نے وہ پڑھا تو اس میں وہ چیز تھی بس میں نے بند کرکے رکھ دی۔ اگلی دفعہ جب ملاقات ہوگئی تو مجھ سے پوچھا وہ کتاب پڑھ لی؟ میں نے کہا چھوڑ دو اِن خرافات کو اور کتاب واپس کردی، کہتا اچھا کمال ہے، یہ بات تو میں نے خواب میں سنی ہے آپ کی یہ بات۔ کیسے سنی؟ کہتے ہیں میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک انڈر گراؤنڈ ہسپتال ہے، بازار ہے، اس میں میں نیچے اترتا ہوں، تاریکی ہے، کلینک بند ہے، prescription میرے ہاتھ میں ہے، اب میں حیران ہوں کہ کیا کروں، کہتے ہیں اسی حیرانگی میں میرے دل سے پرزور آواز آتی ہے: ”چھوڑ دو ان خرافات کو، جاؤ شبیر کاکاخیل کے پاس“ وہ کہتے ہیں بس اس کے بعد میں اوپر چڑھ آیا سیڑھیوں کے اوپر، تو وہاں بس کھڑی ہے، بس میں میں بیٹھ گیا تو اس میں ایک اللہ کا نام روشن ادھر سے دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں اس طرح چل رہا ہے۔ پھر میں خواب سے جاگ گیا۔ تو کہتے ہیں بالکل یہی آواز تو میں نے خواب میں بھی سنی ہے کہ چھوڑ دو اِن خرافات کو۔ میں نے کہا چلو دونوں باتیں ایک ہوگئی ہیں۔ تو پھر اس کے بعد وہ سلسلہ میں داخل ہوگئے۔ تو مقصد میرا یہ ہے کہ یہ باتیں ان لوگوں نے اسی طریقہ سے چلائی ہیں، اُن لوگوں کو الو بنایا ہوا ہے، آج کل ویسے بہت ساری چیزیں ہیں، صرف وہ نہیں ہے، بہت سارے لوگ اپنے اپنے طریقوں پہ لوگوں کو الو بناتے ہیں۔ لیکن یہ ایک بہت بڑا میدان ہے جو لوگوں نے بنایا ہوا ہے۔ سلسلہ اویسیہ اور نقشبندیہ بھی ساتھ ملا دیا، حالانکہ نقشبندی تو ایک پورا سلسلہ ہے اس کو اویسی کی کیا ضرورت ہے؟ وہ سلسلہ ہے، نقشبندی سلسلہ ہے، اس کے اندر کسی بزرگ میں اویسی نسبت ہوگی تو ہوگی نا، تو کیا کرتے ہیں وہ لنگر مخدوم، تین سو سال کا فاصلہ ہے، ان سے لے لیا اور پھر اس کے بعد سارا کام اپنا ہے۔ تو اصل بات یہ ہے کہ بہت بڑی گمراہی ہے، اس کے خلاف سب سے پہلے آواز ہمارے شیخ نے اٹھائی تھی، شیخ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے۔

یہ ایک بات بہت اہم بات ہے جو میں نے ان شاء اللہ کرکے پھر ان شاء اللہ ذکر کرتے ہیں۔

حاشیہ:

تصوف کے سلسلوں کا شجرہ یوں بیان کیا گیا ہے کہ رسالت مآب ﷺ سے تصوف کے معارفِ لدنی حضرت علی نے حاصل کیے اور ان سے حضرت حسن بصری نے ان معارف کو اخذ کیا اور پھر ان سے صوفیاء کے تمام سلسلے چلتے ہیں۔ امام ولی اللہ ”قرۃ العینین“ میں لکھتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کا اتصال اور ان سے آپ کا خرقہ خلافت پہننا نہ اہل تشیع کے ہاں ثابت ہے اور نہ اہل سنت کے ہاں۔

تشریح:

اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ اللہ جل شانہٗ نے ان چیزوں کا جو اجرا فرمایا اس کے لئے ابتدائی نظام جو تھا وہ خیر القرون کے ذریعہ سے تھا۔ ”خَيْرُ الْقُرُوْنِ قَرْنِيْ ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ“ (مسلم، حدیث نمبر: 2533) جماعت سے جماعت والی بات، تو ان کے ذریعہ سے معارف جو حاصل کیے وہ تو (ہیں) اس کے بعد پھر عام طور پر جس کو کہتے ہیں شیخ اور مرید والی بات شروع ہوگئی۔ تو اس کی سب سے بڑی جو support ہے وہ یہ ہے کہ وہ زمانہ خیر القرون کا تھا اور دوسری بات یہ ہے کہ جتنے اہلِ حق ہیں ان سے اس کے خلاف ثابت نہیں ہے، انہوں نے انکار نہیں کیا حالانکہ اس وقت انکار کرنے والے بہت زیادہ تھے یعنی کسی ناجائز چیز کو برداشت نہیں کرتے تھے۔ سمجھ میں آگئی نا بات؟ بڑے بڑے محدثین موجود تھے، بڑے بڑے فقہاء موجود تھے، بڑے بڑے نقاد اسماء الرجال والے موجود تھے۔ سب سے بڑی بات یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ جو رجال کے اندر سب سے سخت مشہور ہیں، اپنے استاد کو بھی معاف نہیں کرتے تھے، وہ ایسے مطلب اصحاب الرجال میں سے تھے کہ اپنے استاد کا بھی امتحان لیا، وہ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں بہت اونچے کلمات کہتے ہیں۔ بات سمجھ میں آرہی ہے نا؟ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ جل شانہٗ نے اس نظام کو جو قائم کیا اس وقت، تو اس وقت کے لوگوں نے جب انکار نہیں کیا تو آج کے دور میں اس کے خلاف کیسے بات کی جا سکتی ہے؟ بات سمجھ میں آرہی ہے یا نہیں آرہی؟ اگر انکار کی بات ہوتی تو اس وقت کرنی چاہئے تھی نا، تو اس وقت کسی نے انکار نہیں کیا بلکہ ان کو مانا ہے، جب مانا ہے تو پھر اس کے بعد یعنی امام حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ یہ سب حضرات موجود تھے اس وقت، یعنی مطلب اس کے فوراً بعد آئے ہوئے ہیں نا؟ یہ تابعین ہیں نا امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ۔ تو یہ سب حضرات تھے تو انہوں نے ان چیزوں کا انکار نہیں کیا۔ نہ محدثین نے انکار کیا، نہ اسماء الرجال والے حضرات نے انکار کیا، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت کوئی نظم تھا جو ان کے اوپر کھل گیا تھا۔ لہٰذا انہوں نے تو اس کو۔ کیونکہ اس کو ذریعہ مانا گیا ہے اور ذریعہ جو ہوتا ہے وہ الگ ہوتا ہے اور مقصد الگ ہوتا ہے، مقصد میں جو فرق آتا ہے تو پھر اس کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اگر کسی نئے ذریعہ سے مقصد پرانا حاصل ہوتا ہو تو اس کے خلاف جو علماء حق ہیں وہ بات نہیں کرتے۔ تو چونکہ اس کا انداز میں تعارف ہوا ہے لہٰذا اس کے اوپر آج کل کے دور میں رد کرنا یہ کوئی بات نہیں بنتی۔ یہ والی بات ہے۔

وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ

نسبتِ اویسی - ہمعات - پہلا دور