حضرت صوفی محمد اقبال مدنی صاحب ﷫ کے مکتوب شریف کی تشریح

ملتان جوڑ

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
جامع مسجد زکریا، مدرسہ و خانقاہ اقبالیہ ملتان - چوک رشید آباد، نقشبند کالونی ، نزد پانی والی ٹینکی

سب سے جامع عنوان: تزکیۂ نفس، اخلاص اور دین کے کاموں میں استقامت

متبادل عنوان: روحانی اصلاح میں مشائخ کی رہنمائی اور وحدتِ مقصد کی اہمیت

اہم موضوعات:

نفس کے تقاضوں اور فجور کو تقویٰ سے دبانے کی فضیلت اور اجر۔

ہر نیک عمل اور عبادت کا ایک مخصوص وقت اور موقع (محل) ہوتا ہے۔

دینی کاموں اور عبادات میں حبِ جاہ (شہرت کی طلب) اور نفسانی خواہشات کی ملاوٹ کے تباہ کن اثرات۔

تبلیغی جماعت اور دیگر تمام دینی کاموں میں اکابرین اور مشائخ کی رہنمائی کی اہمیت۔

تزکیہ و اصلاح کے تین مختلف طریقے: اخیار، ابرار اور عشاق کا راستہ۔

روحانی ترقی کے لیے وحدتِ مقصد اور ایک ہی کامل شیخ سے وابستگی کی ضرورت۔

ذکر کی پابندی کے ثمرات اور دل پر ذکر کے نور سے گمراہی کے خلاف پیدا ہونے والی مزاحمت۔

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔ از مدینہ منورہ، عَلَى مُنَوِّرِهَا أَلْفُ أَلْفِ صَلَاةٍ وَسَلَامٍ، بخدمت محترم مقام جناب صاحب، زَيْدَ مَجْدُكُمْ، بعد سلام مسنون۔

یہ حضرت صوفی صاحب رحمۃ اللہ علیہ جن کی برکت سے آج ہم جمع ہوئے ہیں یہاں پر اللہ جل شانہ حضرت کے فیوض و برکات کو پورے عالم کے اندر پھیلائے اور ہمیں بہت زیادہ اس سے حصہ نصیب فرمائے، اور اس خدمت کے لیے ہمیں قبول فرمائے۔ تو یہ خط آج آپ کے سامنے پڑھا جا رہا ہے۔ چونکہ حضرت نے اس کو بڑی وضاحت کے ساتھ لکھا ہے، ان شاء اللہ مزید تشریح کی ضرورت نہیں ہوگی، لیکن جہاں جہاں ضرورت ہوگی، ان شاء اللہ عرض کر لیں گے۔

گزشتہ خط میں ایک بات کی وضاحت کا وعدہ کیا تھا، آج اس کو ہدیہ خدمت کر رہا ہوں۔ وضاحت بہت طویل ہو جاتی ہے، مگر ہمت اور وقت نہیں ہے۔ غیر مربوط اور مختصر چند اشارے عرض کرتا ہوں۔ اگر آپ توجہ فرمائیں گے تو اللہ کے فضل و کرم سے آپ کی ذہانت اور سعادت مندی اس سے فائدہ اٹھا لے گی۔

آپ نے کئی دفعہ خطوط میں اور زبانی بھی فرمایا، پھر میرے پاکستان کے سفر کے دوران کچھ مفصل تحریر فرمایا، جس کا خلاصہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ آج کل ماحول کی خرابی، بے حیائی، بے دینی کا آپ کی طبیعت پر بہت اثر پڑتا ہے۔ ایک طرف آپ کو اپنے نقصان کی پریشانی ہوتی ہے، دوسری طرف اپنے بھائیوں کی بدحالی پر ترس آتا ہے اور ان کی اصلاح کے بارے میں شدید ذمہ داری کا فکر ہو جاتا ہے۔ یہ دونوں چیزیں ذکاوت حس اور اعلیٰ مزاج اور اخلاق کی علامات ہیں۔ انسانیت، شرافت اور دینداری کی باتیں ہیں۔

ذکاوتِ حس کے متعلق تو زبانی بھی عرض کیا تھا کہ یہ بہت اچھی صفت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا قرب اور روحانی ترقی اس سے ہوتی ہے، کیونکہ تقویٰ کا تحقق اسی سے ہوتا ہے۔ تھوڑی سی ہمت اور فکر کے ساتھ اس سے بہت فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ اور کثرتِ عبادت سے وہ نفع نہیں ہوتا جو ذکی الحس کے تھوڑا سا تقویٰ کر لینے میں ہوتا ہے۔ اور تقویٰ کرنے میں جتنی ناکامی ہوتی ہے، وہ ناکامی ایک فکرمند ذاکر کے لیے دل کو شکستہ کرنے، عجز پیدا کرنے اور خطرناک امراضِ قلبی، کبر، عجب وغیرہ کے ازالے کے لیے تریاق کا کام کرتی ہے۔

آپ کو معلوم ہے کہ مادی زہروں کے بھی بہت سے تریاق زہروں ہی سے تیار ہوتے ہیں۔ یہی حال یہاں بھی ہے کہ اسی زہر سے مومن اور سعادت مند عقلِ سلیم والا فائدہ حاصل کر لیتا ہے۔ ماحول کی خرابی میں معاملات کے اندر صبر، تواضع اور ایثار کرنے کا موقع ملتا ہے۔ طعن اور مذاق سننے سے نفس ٹوٹتا ہے۔ ہر وقت مقابلے میں رہنے سے پختگی پیدا ہوتی ہے۔ سب سے زیادہ پریشان کن چیز نظر کا معاملہ ہے اور اسی میں سب سے زیادہ کمائی کا موقع ہے۔ جس کا حدیثِ پاک میں اشارہ ہے، جس کی تفصیل زبانی عرض کی تھی کہ پہلی نظر جو کہ معاف ہے، اس میں تمہارے لیے نفع اٹھانے کا موقع ہے کہ غضِ بصر کے امر کی تعمیل ہوئی جو رضا و قرب کا ذریعہ بنی۔ اللہ جل شانہ کے لیے ایک لذت کو چھوڑا، اس کا نعم البدل دنیا اور آخرت میں ملا۔ آخرت میں ثواب اور دنیا میں اسی وقت دل میں ایک روحانی لذت اور نور پیدا ہوا وغیرہ۔ بہت سے منافع ہیں۔ اس وقت تو آپ کے دوسرے شوق و تقاضے کے متعلق عرض کرنا ہے، پہلے چند امور بطور تمہید عرض ہیں۔

حضرت چونکہ حضرت شیخ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ کے فیوض و برکات سے مستفید ہو چکے تھے اور حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے بھی بہت سارے علوم کا حصہ حضرت کو ملا تھا، یہ بہت گہرے مضامین ہیں جن کے بارے میں حضرت نے اشارہ فرمایا ہے۔ اور چونکہ آسان زبان میں ارشاد فرمایا ہے تو شاید اس کی قدر نہ ہو۔

اصل میں اللہ جل شانہ نے یہ جو سورہ شمس ہے، اس کے اندر سات قسمیں کھا کر جو بات ارشاد فرمائی ہے: قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا۔ تو اس سے پہلے اللہ پاک نے فرمایا ہے: فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا۔ یعنی پس الہام کیا اس نفس کو اس کے فجور اور اس کا تقویٰ۔

تو فجور موجود ہیں انسان کے نفس میں، لیکن اس میں بڑی حکمت ہے جس کی طرف حضرت نے اشارہ فرمایا ہے۔ اور تقویٰ اس کی بنیاد پر ہے۔ مثلاً ایک شخص ہے، وہ باہر جاتا ہے اور غیر محرم ان کو نظر آجاتے ہیں جس کی طرف حضرت نے اشارہ فرمایا ہے۔ تو غیر محرم کے نظر آنے کی وجہ سے اس کے نفس کے اندر جو ہیجان بپا ہوتا ہے کہ میں اس کی طرف دیکھ لوں، اس پر اللہ پاک گرفت نہیں فرماتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ پہلے سے نفس کے اندر حکمتاً رکھا گیا ہے۔

البتہ دیکھا یہ جاتا ہے کہ اس ہیجان کا مقابلہ یہ کرتا ہے یا نہیں کرتا۔ اب اگر وہ اس ہیجان سے مغلوب ہو جائے اور غیر محرم کو دیکھنے لگے، نظر آلودہ ہو جائے، تو گناہ واقع ہو جائے گا، فجور واقع ہو جائیں گے۔ اور اگر اس نے اپنے ارادے سے، اللہ جل شانہ کے حکم کے مطابق، اللہ پاک کے ڈر سے، اپنے چہرے کو اس سے ہٹایا اور اس طرف دیکھ نہیں دیکھا، تو اس نے اللہ جل شانہ کے ایک حکم کی تعمیل کی، جس کی وجہ سے اس کو اللہ پاک نے اس اجر سے نوازا جس کی طرف حضرت نے اشارہ فرمایا ہے، کیونکہ جس وقت اس کو تقاضا ہوا تو اس تقاضے کو دبایا کس چیز سے؟ تقویٰ سے۔ یہی تقویٰ ہے۔ تو تقویٰ وجود میں آ گیا۔

اس لیے جس نے 100 یونٹ تقاضے کو چھوڑا اور اس پر عمل نہیں کیا، تو 100 یونٹ کا تقویٰ مل گیا۔ اور اگر کسی نے ہزار یونٹ کے تقاضے کو چھوڑا اور اس پر عمل نہیں کیا، تو اس کو ہزار یونٹ کا تقویٰ مل گیا۔ اس میں ہمارے لیے بشارت ہے کہ جس کو زیادہ تقاضا ہوگا اس کو زیادہ متقی بننے کا موقع دیا جا رہا ہے۔ تو وہ اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ تو یہاں پر بھی حضرت نے فرمایا کہ اس میں موقع ہے کہ انسان اس اجر کو حاصل کر لے اور غضِ بصر کے ذریعے سے اللہ جل شانہ کے اس حکم پر عمل کر لے، جس میں ہمارے قلب کو شامل کیا گیا ہے۔ یعنی قلبی عمل ہے، یہ قالبی عمل نہیں ہے۔ بلکہ ہمارے قلب کے اندر جو تقاضا پیدا ہوگا، اس کا مقابلہ قلب کا ہی عمل کرے گا، اس کے ذریعے سے اللہ جل شانہ اس نور اور روحانی لذت کو جس کو حلاوتِ ایمانی کہتے ہیں، وہ نصیب ہو جاتا ہے۔

حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہر عمل کا ایک موقع اور موسم ہے۔ اس موسم میں اس کو کیا جائے تو حسن اور ملاحت پیدا کرتا ہے اور اس موقع اور موسم میں ادا نہ کیا جائے تو بسا اوقات وہ خطا بن جاتا ہے، اگرچہ نیک عمل ہو۔ قرأۃِ فاتحہ کو دیکھو کہ تشہد کے موقع پر سورہ فاتحہ پڑھنا خطا ہے اگرچہ سورہ فاتحہ ام الکتاب ہے۔

یعنی یہ حضرت نے اشارہ کیا کہ موقع محل کو دیکھ کر عمل کرنا چاہیے۔ بعض دفعہ جس چیز کا موقع ہوتا ہے اور اس کے مطابق اگر عمل کیا جائے، تو اس کا اس کو بہت اجر ملتا ہے۔ اور اگر اس موقع کے مطابق نہ کرے، دوسرے موقع میں... تو پھر ظاہر ہے اس کا یہ فائدہ ممکن ہے نہ ہو۔ مثال کے طور پر عرفات، اب عرفات کے موقع پر جو عرفات میں چلا گیا، تو اس کو کتنی بڑی سعادت مل جائے گی؟ حاجی بن جائے گا، اگر حج کی نیت سے چلا گیا، احرام کی حالت میں چلا گیا۔ تو وہ حاجی بن جائے گا۔ لیکن اگر وہ اس کے بعد احرام باندھے، دو دن کے بعد اور وہاں چلا جائے، تو کیا خیال ہے حاجی بن جائے گا؟ ظاہر ہے اس وقت تو حاجی نہیں بن سکتا، وہ موقع تھا گزر گیا۔

آپ نے اپنی آپ بیتی میں پڑھا ہوگا کہ ہمارے حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے طالبِ علمی کے دور میں ایک روز مغرب کی سنتوں کے بعد دو نفل پڑھ لیے۔ تو سلام پھیرتے ہی حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا ایک تھپڑ انعام میں ملا۔

کن کا ہے؟ یہ حضرت شیخ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ، مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ، ان کے بارے میں آپ بیتی میں، حضرت نے خود فرمایا ہے۔

کہ یہ زمانہ تو مطالعہ کرنے کا ہے نہ کہ ذکر و شغل کا اور نفلی عبادات کا۔ پھر نفلیں پڑھنے کا جب موسم آیا تو حضرت کی گھنٹوں کے حساب سے نیت بنتی رہتی تھی اور موسمِ رمضان میں تو تراویح کے بعد سحری تک ساری رات کھڑے رہنا ہم نے بھی دیکھا۔

یعنی علم کو حاصل کرنے کا جب موقع ہو تو اس وقت علم کو حاصل کیا جائے۔ بزرگوں کی صحبت میں بیٹھنے کا وقت ہو تو اس وقت بزرگوں کی صحبت میں بیٹھا جائے۔ یہاں تک فرماتے ہیں کہ اگر کوئی اپنے شیخ کی مجلس میں بیٹھا ہے، اس وقت ذکرِ لسانی نہ کرے۔ ذکرِ لسانی بہت اونچا عمل ہے، لیکن شیخ کی برکت سے اس کو جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے فیوض آ رہے ہیں، ان کو وصول کرنے کی کوشش کر لے کیونکہ وہ آئندہ کے لیے خزانہ ہے۔ آئندہ کے لیے اس کو اس پر کتنے اعمال ملیں گے، اس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ تو جو ان چیزوں کی قدر کرتے ہیں، ان سے مستفید ہو جاتے ہیں۔

قرآن پاک سمجھنا، علمِ تفسیر حاصل کرنا قرآن پاک کے محض حفظ سے افضل ہے۔ لیکن ماہرینِ تعلیم نے بچوں کے لیے تربیت میں پہلے حفظ کو رکھا ہے، بعد میں علوم کو۔ اگر کوئی پہلے علوم شروع کر دے حفظ کے ساتھ ساتھ دیگر علمی مشغلہ بھی رکھے، تو حفظ میں کامیابی نہیں ہوگی یا بہت مشکل سے ہوگی اور حفظ کمزور ہوگا۔

یہ اصل میں ما شاء اللہ حفاظِ کرام یہاں پر موجود ہیں، اور علماء کرام بھی موجود ہیں، ان حضرات کو اس بات کا پتہ ہے کہ حفظ اس وقت میں زیادہ بہتر طریقے سے کیا جا سکتا ہے جب ذہن خالی ہو باقی چیزوں سے، یعنی بچپن میں۔ جس وقت انسان بڑی عمر کا ہو جاتا ہے اور چیزیں دوسری بھی آ جاتی ہیں، تو تجربہ بڑھ جاتا ہے، اور علم حاصل کرنے کی استعداد بڑھ جاتی ہے لیکن حفظ کرنے کی استعداد کم ہو جاتی ہے۔ جتنا وقت گزرے گا، تو استعداد کم ہوتی جائے گی۔ لہٰذا جس وقت حفظ حاصل کرنے کی استعداد ہے، کا موقع ہے، اس وقت حفظ کرنا، اور جس وقت علم کو حاصل کرنے کی استعداد ہو اس وقت علم حاصل کرنا، جس وقت صحبت میں بیٹھنے کا موقع ہو اس وقت صحبت میں بیٹھنا، یعنی ہر چیز کو موقع بہ موقع، محل بہ محل کرنا۔


اس وقت آپ جس کام میں ہیں، وہ نسبتِ باطنی میں پختگی حاصل کرنے کا ہے۔ جب تمام باطل معبود قلب سے نکل جائیں گے، زیادہ مقدار میں اخلاص و یقین حاصل ہو جائے گا، تبھی دوسرے نیک اعمال کا پورا فائدہ ہوگا۔ کیونکہ ہر عمل کا اعتبار اور اس کا مدار اخلاص و یقین کی مقدار پر ہے۔ نسبت کا عظیم الشان کام، جس طرح توحیدِ مطلب چاہتا ہے، اسی طرح اس میں وحدتِ مقصد کی بھی شرط ہے۔ یعنی ساری ہمت اور توجہ صرف اسی طرف ہونا ضروری ہے۔ توجہ منتشر رہے گی تو کامیابی نہیں ہوگی۔

حضرت نے پورے عمر کے تجربے کا نچوڑ اس میں پیش فرمایا ہے۔ واقعتاً یہ چیزیں نظر نہیں آتیں لیکن یہ تمام خیروں کی بنیاد ہے، یعنی اخلاص ہے اور یقین ہے۔ اگر اخلاص اور یقین کسی عمل میں نہ ہو، مثلاً ریا ہو، اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرما دے۔ تو ریا کی وجہ سے کتنے بڑے بڑے عمل والے محروم ہو جاتے ہیں۔ حدیث شریف میں آتا ہے، ترمذی شریف کی حدیث شریف ہے، جس میں پہلے جن کو جہنم میں ڈالا جائے گا، اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے، تو وہ پہلے عالم، سخی، اور شہید کو جہنم میں گرایا جائے گا۔ کیونکہ انہوں نے یہ اعمال اللہ کے لیے نہیں کیے ہوں گے، انہوں نے اس لیے کیے ہوں گے کہ ان کو عالم کہا جائے، ان کو سخی کہا جائے، ان کو بہادر کہا جائے۔ اب یہاں پر اخلاص نہ ہونے کی وجہ سے کتنا بڑا نقصان ہوا؟ اس طریقے سے یقین جو ہے، یقین کے مطابق انسان کو درجات کی ترقی ہوتی ہے۔ آپ حضرات دیکھ لیں: وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ۔ أُولٰئِكَ عَلَىٰ هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ۔ یعنی یقین اگر آخرت پر ہے، تو اتنے ہی اعمالِ صالحہ نصیب ہوں گے، اتنے ہی انسان کو یعنی اعمالِ صالحہ کو حاصل کرنے کا شوق ہوگا، اور اس میں کامیابی ہوگی۔ اگر یقین نہیں ہوگا تو محض ایمان جو ہے وہ تو گناہگار سے گناہگار کو بھی حاصل ہے۔ گناہگار سے گناہگار کو بھی ایمان حاصل ہے، اصل میں اس کی جو ترقی ہوتی ہے ایمان کے بعد اعمال میں اور نتیجے میں، وہ یقین کی وجہ سے ہوتی ہے۔ لہٰذا علمائے کرام نے یقین کے اوپر بڑا زور دیا ہے۔ اور یہاں پہلا جو پیراگراف تھا حضرت کے خط کا، اس میں بھی عقل کے استعمال پر زور دیا گیا ہے اور عقل سے یقین پیدا ہوتا ہے، اور یقین سے اعمال پیدا ہوتے ہیں، اور اعمال سے پھر نتیجے پیدا ہوتے ہیں۔

اس مرحلے کو طے کرنے سے پہلے، یعنی نفیِ غیر اللہ کا معاملہ ہونے کے بعد، بقا حاصل ہونے سے پہلے، تمام نیک کام صورتاً نیک ہیں، کیونکہ خالص رضائے الٰہی کے لیے ہونے کا مغالطہ ہی ہوتا ہے۔ غور کرنے سے معلوم ہو جائے گا کہ فرائض کے علاوہ شان و شوکت اور جذبات والے نفلی اعمال میں اصلی محرک اپنی خواہش ہوتی ہے۔ اور باطل معبودوں میں سب سے بڑا اور باریک معبود بھی خواہش ہی ہے۔

گندی طبیعتوں والوں کی خواہشات گندی ہوتی ہیں، مثلاً زنا، چوری وغیرہ۔ اور شریف طبیعتوں کی خواہشات حبِ مال، حبِ جاہ کی صورتوں میں ہوتی ہیں۔

یہ حضرت نے ایک بڑا عجیب نکتہ بیان فرمایا ہے۔ تین چیزیں ہیں جو انسان کو تباہ کرتی ہیں، اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔ ایک ہے حبِ باہ، یعنی لذتوں کی طلب۔ دوسرا ہے حبِ مال، مال کی محبت۔ اور تیسرا ہے حبِ جاہ، یعنی بڑا بننے کا شوق، نمایاں ہونے کا شوق۔ تو فرمایا کہ یہ جو حبِ باہ والی بات ہے، یہ گندی طبیعتوں کی بات ہے۔ کیونکہ بظاہر بھی گندی نظر آتی ہے نا؟ بلکہ یہ لوگ اپنے آپ کو خود بھی dirty کہتے ہیں، اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔ تو یہ جو گندی طبیعتیں ہیں، وہ گندی طبیعتوں میں ان چیزوں کا تقاضا ہوتا ہے۔ لیکن جو ان سے نفیس طبیعتیں ہوتی ہیں، تو پھر یہ کیا کرتے ہیں؟ وہ ان چیزوں میں نہیں پڑتے، ان چیزوں میں اپنے آپ کو بچاتے ہیں، لیکن مال کو جمع کرتے ہیں، مالوں کے مقابلے کرتے ہیں۔ اور حبِ جاہ بالخصوص یعنی بڑے بننے کا جو شوق ہوتا ہے، اسی کے اندر سارا کچھ لٹاتے ہیں، اسی پہ ساری زندگی کو مدار کرتے ہیں۔ تو یہ جو اس قسم کی چیزیں ہیں اس میں خواہش بہت بڑا دخل دیتا ہے۔


دینی ذوق رکھنے والوں کی دینی خواہشیں دینی رنگ میں ہوتی ہیں، اور اس کے لیے آدمی جان و مال کی قربانی کرتا ہے، حتیٰ کہ سر بھی کٹواتا ہے۔ پھر یہی کام اس کے لیے وبالِ جان بن جاتا ہے۔ اور اس کو چوری، زنا، شراب خوروں سے پہلے جہنم میں لے جائے گا۔

حضرت نے اسی حدیث شریف کی طرف اشارہ کیا ہے۔

جیسا کہ حدیث پاک میں عالم، قاری اور شہید کا معاملہ ہے۔ قرآن پاک میں أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَاهُ غور کرنے کے بغیر خصوصاً نور کے بغیر انسان نیک کاموں کے ظاہری کو دیکھتا ہے، اپنے باطنی حالت پر توجہ نہیں ہوتی۔ اگر کوئی غور کرے تو معلوم ہو جائے گا کہ بہت سے نیک کاموں کا محرک شوق اور خواہش یہ ہے۔ اس حالت میں نیک کام قرب کے بجائے بعد اور ترقی کے بجائے تنزل کا باعث بنتے ہیں۔

اصل میں شوق کی بھی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ شوق جب انسان کسی دنیا کی چیز سے متاثر ہو کر اس چیز کو کرنے والا ہو جاتا ہے۔ یہ تو بہت ہی خطرناک چیز ہے جس کا حضرت ذکر فرما رہے ہیں۔ ایک وہ شوق ہے جو اللہ تعالیٰ کی محبت میں انسان سرشار ہو کر شوق سے کوئی دین کا کام کرتا ہے۔ اب چونکہ اس میں ایک نازک سا فرق ہے، اور اس نازک سے فرق کو مشائخ ہی جانتے ہیں۔ لہٰذا اپنے آپ جب فیصلہ کرتا ہے تو اس میں غلطی ہو جاتی ہے۔ اب آدمی پہلے والے درجے کے شوق سے مغلوب ہو کر کام کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ میں دوسرے درجے کے شوق کی وجہ سے کام کر رہا ہوں۔ اور جو ڈرنے والے لوگ ہیں وہ دوسرے درجے کے شوق سے کام کرتے ہیں لیکن ڈرتے ہیں کہ کہیں میں پہلے والے شوق سے کام کیوں نہیں کر رہا ہوں؟ یہاں گویا کہ دونوں ایک ہی قسم کی بات ہے۔ لیکن ایک میں تقویٰ ہے، دوسرے میں تقویٰ نہیں ہے۔ تو پہلے جن کے اندر تقویٰ نہیں ہے، وہ تو پہلے شوق سے کام کرتے ہیں، یعنی گویا دنیا کی چیزوں کے شوق کی وجہ سے، دنیا کی جاہ کی وجہ سے وہ کرتا ہے کام اور سمجھتا ہے کہ میں آخرت کے اور اللہ تعالیٰ کی محبت سے سرشار ہو کر یہ کام کر رہا ہوں۔ اس میں بہت سارے لوگ مبتلا ہو جاتے ہیں، اللہ جل شانہ ہماری حفاظت فرما دے۔

"اس کے برعکس بعض بندگانِ خدا کے لیے منکرات و منہیات میں مبتلا ہونے ہی ان کی ترقی کا سبب بن جاتا ہے۔ کیونکہ اس حالت میں اپنے نفس کی حقارت کرتے ہیں، ندامت اور ذلت ان کے دل میں ہوتی ہے۔ اور یہی قرب و وصل کا راستہ ہے۔ یہی صفات ان عبادات سے حاصل ہوتی ہیں جو خلوص سے کی جائیں۔

خواہش کا دخل نہ ہو۔ اس کو پاک صاف سمندر سے موتی نکالنا کہہ لیں اور منکرات سے نفع ہو جانے کو گندے پانی میں گرے ہوئے موتیوں کو نکالنا کہا جا سکتا ہے۔

دوسری مثال سے سمجھیں کہ آپ پیاس کی شدت سے جاں بلب ہیں۔ آپ کے پاس ایک گلاس روح افزا شربت کا ہو جو بہت خوشبودار، خوشرنگ اور ٹھنڈا ہو، لیکن اس میں ایک رتی بھر سنکھیا بھی ملا دیا گیا ہو، جس سے رنگ، خوشبو اور ذائقے میں تو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ زہر پھیکا، بے رنگ اور بے بو ہوتا ہے۔ اور دوسرا گلاس جوہڑ کے گندے پانی کا ہو، اس میں ایک قطرہ کلورین کا ڈال دیا گیا ہو جس سے بو اور مزہ بھی خراب ہو جائے، لیکن نظر نہ آنے والے جراثیم مر جائیں گے۔ یہ گندا پانی جان بچا لے گا اور روح افزا والا گلاس ہلاک کر دے گا۔

بسا اوقات ہمارے اچھے اعمال میں تکبر، عجب اور خواہش کا زہر ہوتا ہے۔ اور دوسروں کے برے اعمال میں ذلت اور عجز اور ندامت کا تریاق شامل ہوتا ہے۔

یہاں پر بھی حضرت نے ہمیں ایک راستہ دے دیا۔ وہ راستہ یہ دے دیا کہ اپنے اوپر جب نیک کام ہم کر رہے ہوں، تو اس میں یہ خوف ہو کہ کہیں ہم یہ دنیا کے محبت کی وجہ سے، دنیا کی چیزوں کو حاصل کرنے...

جیسے مثال کے طور پر ایک اور بات عرض کرتا ہوں۔ ہمارے اس روحانیت کے سلسلے میں، پیری مریدی جس کو عام طور پہ کہتے ہیں، اس میں بہت بڑا جو گڑھا ہے، جس میں پڑنے کا ہر وقت اندیشہ ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ انسان کو خلافت کا شوق ہو جائے۔ خلافت کا شوق ہو جائے۔ اب خلافت بظاہر تو دینی خدمت ہے، اور اللہ جل شانہ اگر صحیح طور پر نصیب فرما دے تو یقیناً کام اس کے ذریعے سے ہوتا ہے۔ لیکن اگر اس کے شوق میں کام کیا جائے تو یہ ان چیزوں میں آتا ہے، وہ جو سنکھیا ملا ہوا ہے۔ اتنی خطرناک چیز ہے یہ۔

حضرت مولانا اشرف سلیمانی رحمۃ اللہ علیہ ہمارے شیخ نے ایک موقع پر اس چیز کو بیان کرنے کے لیے ایک شعر پڑھا۔ فرمایا:

احمد تو عاشقی است، مشیخت ترا چہ کار

دیوانہ باش، سلسلہ شد شد، نشد نشد

کہ اے احمد! تو تو عاشق ہے، تجھے خلافت سے کیا کام ہے؟ مشیخت سے کیا کام ہے؟ تو تو اللہ کی محبت میں دیوانہ بن جا، سلسلہ ہوتا ہے، نہیں ہوتا، اس سے تیرا کیا کام ہے؟ لیکن اگر کوئی شخص اللہ کی محبت میں واقعی دیوانہ ہو جائے، اور وہ صلاحیتوں والا ہو، تو اللہ جل شانہ اس کی تمام صلاحیتیں اپنی محبت کے لیے استعمال کر لیتا ہے اور ان کو ان چیزوں سے بچا لیتا ہے۔ اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر یہی چیز انسان کے اندر جب رہتی ہے، اب وہ ذکر بھی کرے گا، اب وہ صحبت میں بھی بیٹھے گا، اب وہ تمام چیزیں بھی کرے گا لیکن اس کا نقصان ہوگا اس کو۔

اس کی ایک مثال ہے۔ مثال یہ ہے کہ ایک شخص اپنے محبوب کے پاس بیٹھا ہوا ہے۔ اور محبوب ایک شخص کو کہتا ہے کہ جاؤ بازار سے میرے لیے فلاں چیز لے آؤ۔ یہ دوسرا آدمی جو اپنے محبوب کے ساتھ بیٹھا ہے، اس کے دل میں خواہش پیدا ہو جائے: "اگر مجھے کہا ہوتا تو کتنا اچھا تھا! اگر مجھے کہا ہوتا تو کتنا اچھا تھا۔" اب آپ بتائیں کہ محبوب کو اگر اس چیز کا پتہ چل جائے کہ اس کے دل میں یہ خیال آیا، تو وہ کیا سمجھے گا؟ کہیں گے: "تجھے تو یہاں مزہ نہیں آ رہا، تو جا بازار میں چلا جا! تجھے تو بازار کا شوق ہے۔" دوسرا شخص ہے کہ محبوب کے پاس بیٹھا ہوا ہے، اور اس کو محبوب کہتا ہے کہ جاؤ بازار چلے جاؤ اور میرے لیے فلاں چیز لے آؤ۔ اب اس کا دل نہیں چاہتا کہ میں بازار چلا جاؤں، لیکن حکم کے مطابق اٹھتا ہے بھاری دل کے ساتھ، کہ کہیں مجھ سے اس میں حُکم عدولی بھی نہ ہو جائے، اور ساتھ ساتھ یہ ہے کہ ڈر رہا ہے کہ حضرت سے میں دور جا رہا ہوں، میں اس سے محروم ہو رہا ہوں۔ اور دل میں بار بار یہ تقاضا آ رہا ہے کہ میں جلدی اپنے محبوب کی طرف لوٹ آؤں۔ اب ایسا شخص اس قابل ہے کہ اس کو بازار بھیجا جائے۔ کیونکہ وہ بازار کے شر سے محفوظ ہے۔ وہ پہلا والا شخص جو ہے اس کو تو بازار بھیج دیا گیا تو وہ بازار میں ہی رہ جائے گا۔ اس کی دوسری مثال ایسی دی گئی ہے کہ جیسے ڈول ہوتا ہے ڈول پانی کا، اس کے ساتھ مضبوط رسی اگر بندھی ہو، ڈول بھی مضبوط ہو، تو اس کو آپ کنویں میں اتاریں گے تو محفوظ ہے، وہ پانی لینے کا باعث بن جائے گا۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہے، تو وہ جو ڈول آپ اتاریں گے، اور پانی کی وجہ سے بھاری ہو جائے گا، اور اس کا جو رسی ہے وہ کمزور ہے، یا ڈول کمزور ہے، تو کیا ہو جائے گا؟ وہ ڈول پانی میں ہی رہ جائے گا۔ نتیجتاً، مقصد فوت ہو جائے گا۔ تو اس وجہ سے یہ جو چیز ہے، جو بظاہر تو نیکی نظر آتی ہے، بظاہر تو دین نظر آتا ہے، لیکن اس کے اندر جو نجاستِ قلبی ہے، اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے، اس سے کتنا نقصان ہوگا۔

محترمی! تمام مخلوق اللہ ہی کی ہے۔ اس نسبت سے سب برابر ہیں۔ خالق و مالک ہی نے کسی کو اپنے سامنے کھڑا کر رکھا ہے، کسی کو محل کے بیت الخلاء کی صفائی پر مقرر کیا ہوا ہے۔ یہ مالک کی مرضی ہے۔ اس کو مالک کے سوا کوئی بدل نہیں سکتا۔ ہاں، اگر سامنے والے غلام کے دماغ میں سرداری کی بو آ جائے، تو اس کی گردن ماری جائے گی، اور صفائی والا اگر خاکساری کرتا ہے تو تنخواہ پاتا ہے۔ اور کبھی اس کی عاجزی ایسی قبول ہوتی ہے کہ نہلا دھلا کر مقرب بنا لیا جاتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ دنیا میں کوئی چھوٹا، بڑا، عام و خاص گناہگار ہونے سے خالی نہیں۔ کیونکہ حدیثِ پاک میں آ گیا کہ: "تم سب گناہگار ہو"۔ البتہ ہر شخص کا گناہ اس کے درجے، اس کی عقل اور معرفت کے لحاظ سے ہوتا ہے۔ جتنا کوئی بڑا ہوتا ہے اتنا ہی زیادہ خوفزدہ ہے۔ حتیٰ کہ صحابہ کرام میں کوئی آرزو کرتا ہے کہ: "کاش میں تنکا ہوتا!" اور کوئی کہتا ہے: "کاش میں پیدا ہی نہ ہوتا!" جس کو اپنے گھر میں آگ لگتی ہوئی نظر آتی ہو، وہ دوسروں کے گھروں کی صفائی کا اپنے خواہش سے کیسے کر سکتا ہے؟ فکر کر سکتا ہے؟ ہاں، اگر کبھی مالک ہی حکم دے کہ تمہارے گھر کے ہم ذمہ دار ہیں، اس وقت تم ڈیوٹی پر جاؤ تو اور بات ہے۔ اس وقت اپنے تباہ حالی کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے، مالک کے حکم (امر بالمعروف والنہی عن المنکر) کی تعمیل ہوگی۔ اس میں خواہش کا دخل نہیں ہوگا بلکہ جس کے پاس جائے گا، اس کا خادم بن کر رہ جائے گا۔ یہ حال اس وقت ہوگا جب نفی اثبات کا معاملہ پورا ہو جائے۔ اس سے پہلے تو آدمی کو اپنے غم ہی سے فرصت نہیں ہونی چاہیے، اور یہ غم تا حیات بڑھتا رہے گا، کبھی فرصت نہیں مل سکتی۔ اب یہ بات رہ گئی، پھر تبلیغ کا کام کب کرنا چاہیے؟ اس کے لیے مالک کے حکم کی متوجہ ہونے کا کیسے علم ہوگا؟

تو اس میں یہ والی بات سامنے آ رہی ہے کہ اصل میں انسان اپنی خواہش سے کوئی کام نہ کرے بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کر لے۔ اگر اللہ پاک فرماتے ہیں کہ بیٹھ جاؤ، آرام سے... تو اس بیٹھنے میں ہی فائدہ ہے۔ اور اگر اللہ پاک فرما دیں کہ پہاڑ پہ چڑھ جاؤ، تو پہاڑ پہ چڑھنے میں ہی خیر ہے۔ بیٹھنے کے حکم کے دوران پہاڑ پہ چڑھنا حکم عدولی ہے، اور پہاڑ پہ چڑھنے کے حکم میں بیٹھنے کو اختیار کرنا، یہ حکم عدولی ہے۔ لہٰذا جس کے لیے جو حکم ہو۔ اب فرماتے ہیں ہمارے مشائخ فرماتے ہیں کہ جب انسان کسی شیخ سے بیعت ہوتا ہے اور اس کے حکم کے مطابق سب کچھ کرتا ہے، تو اگر وہ ترقی کرتا ہے، تو دو صورتیں پیش آتی ہیں۔ یا اللہ جل شانہ اس کو اپنے لیے قبول فرماتے ہیں۔ اس کو اپنا ولی بنا دیتا ہے، اور کسی اور پہ ظاہر ہی نہیں کرتا۔ بس اس کی ولایت اللہ تعالیٰ چھپا دیتا ہے، اور اس کو اپنے پاس ہی رکھتا ہے، اپنی طرف ہی متوجہ رکھتا ہے، اور کوئی کام اس سے نہیں لیتا۔ اللہ کی مرضی ہے۔ اور بعض لوگوں کو اللہ جل شانہ واپس لوٹا دیتا ہے۔ فنا کے بعد بقا حاصل ہو جاتا ہے۔ واپس لوٹا دیتا ہے، اور پھر اس سے دین کا کام لیتے ہیں۔ اب جن کو لوٹا دیتے ہیں، ان سے اللہ پاک پھر کام لیتے ہیں۔ جن کو لوٹایا نہیں، خود لوٹ جاتے ہیں، وہ فتنہ بن جاتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ جن کو لوٹایا نہیں جاتا، حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی تشریح جو فرمائی ہے، وہ یہ فرمائی ہے کہ جب انسان کو جذب حاصل ہو جائے، کسی بھی طریقے سے جذب حاصل ہو جائے، تو یہ جو جذب حاصل ہو گیا، اس کے بعد اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ریاضت اور مجاہدے کے ذریعے سے سلوک کو طے کر لے، اور جو دس مقامات ہیں، تفصیل کے ساتھ ان کو طے کرے۔ اگر کوئی ایسا نہیں کرتا اور وہ ہوشیار ہے، یعنی سمجھدار ہے، اور اپنے جذب کو استعمال کرنا شروع کر لیتا ہے، اور دوسروں کی تربیت شروع کر لے، بغیر اس کے کہ یہ منتہیِ مرجوع ہے (یعنی واپس کیا گیا ہے، اس کے بغیر کر لیتا ہے)، فرمایا یہ مجذوب... مجذوب متمکن ہے، منتہیِ مرجوع نہیں ہے۔ یہ نہ خود پہنچا ہے نہ دوسروں کو پہنچا سکتا ہے۔ یہ آج سے چار سو سال پہلے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ یہ نہ خود پہنچا ہے نہ دوسروں کو پہنچا سکتا ہے۔ اس کو چاہیے کہ اپنے آپ کو اس میں شامل نہ کرے، ڈاکو نہ بنے، لوگوں کا راستہ نہ کاٹے، بلکہ ان کو منتہیِ مرجوع کے پاس بھیج دے اگر لوگ ان کے پاس آتے ہیں۔ فرمایا ایسی حالت میں لوگوں کی توجہ کی قوت زیادہ ہوتی ہے۔ لوگوں کی توجہ کی قوت زیادہ ہوتی ہے۔ لہٰذا لوگ ان سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، لوگ ان کی طرف زیادہ آتے ہیں، مجذوبین کی طرف زیادہ آتے ہیں۔ منتہی مرجوعین کی طرف نہیں آتے، مجذوبین کی طرف زیادہ آتے ہیں۔لیکن مجذوبین کی طرف آنے میں نہ ان کو خود فائدہ ہوتا ہے، نہ مجذوب کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس کی مثال حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے دی ہے جیسے پکی ہوئی فصل ہوتی ہے، وہ اتنا پسندیدہ نہیں ہوتا بظاہر نظروں کو لیکن کام کا وہی ہوتا ہے۔ اور دوسری فصل جو ابھی پکی نہیں ہے، سرسبز ہے، سبزہ زار ہے، وہ خوب سبز ہے، خوب دل کو بھاتا ہے، ایسی فصل اگر اس وقت کاٹ دی جائے تو کیا ہوگا؟ صرف چارے کا کام کرے گی۔ تو اس وجہ سے جلدی نہیں مچانی چاہیے، اور اپنے شوق کو اللہ پاک کی مرضی پر فنا کرنا چاہیے۔ یہی فنائیت ہے۔ انسان جب تک اپنی مرضی کو اللہ کی مرضی میں فنا نہ کر دے، اس وقت تک اس کو اس کام کی طرف نہیں آنا چاہیے۔ جب اللہ پاک اس کو اس طرف لوٹا دے، تو پھر ٹھیک ہے، لیکن وہ بھی اللہ کی مرضی کے مطابق، اس کا انتظار بھی نہ کرے۔



اب فرماتے ہیں کیسے اس کا علم ہوگا؟

ظاہر ہے کہ ہر چھوٹے سے چھوٹے کام کے کرنے کے لیے اہلیت کا ہونا اور طریقے کا معلوم ہونا شرط ہے۔ پھر جس کا کام کرنا ہے، اس کی اجازت کی بھی ضرورت ہے۔ اگر ان شروط اور اجازت کے بغیر کوئی کام کرے گا تو کام غلط ہوگا اور کرنے والا مجرم ہوگا۔ مثلاً آپ کو بیماروں کو دیکھ کر ترس آتا ہے، ان کا علاج کرنا چاہتے ہیں، تو اس کے لیے کئی سال ڈاکٹری پڑھنی ہوگی۔ اساتذہ کے ساتھ مل کر عملی کام بھی کرنا ہوگا۔ پھر امتحان کے بعد آپ کو سند مل جائے گی جس میں علاج کرنے کی اجازت بھی ہوگی۔ اب آپ علاج کریں گے تو معاوضہ ملے گا۔ باوجود یہ کہ مریض کی شفا آپ کے بس میں نہیں ہے، یہ پھر بھی مالک کے ہاتھ میں ہے، جس کو چاہے شفا دے جس کو چاہے نہ دے۔ یہ حال تو جسمانی معالج کا ہے۔ لیکن روحانی علاج اور تبلیغ کا کام، جس کو لوگوں نے جہالت اور اپنی بیماری اور تکبر کی وجہ سے آسان سمجھ لیا ہے، وہ اتنا آسان نہیں ہے، بلکہ انبیاء کرام کا کام ہے۔ ان کے بعد نائبینِ رسالت کا کام ہے۔ اور نائبِ رسول ظاہری و باطنی علوم کو مستند طریق پر حاصل کیے ہوئے کو کہتے ہیں۔ پھر جیسے ڈاکٹری کے کئی شعبے ہیں، کوئی قلبی امراض کا ماہر ہے، کوئی جلدی امراض کا، اس طرح تبلیغ کے بھی شعبے ہیں۔ کوئی قلبِ حقیقی کے امراض کا ماہر ہے تو کوئی جوارح کے اعمال کا ماہر ہے، اور کوئی دونوں کی جامع بھی ہوتا ہے۔ یہ سب اپنے دائرے میں خدمت کرتے ہیں، اور سبھی فریضۂ تبلیغ ادا کرنے والے کہلاتے ہیں۔ گو اصلاحِ قلب کا درجہ زیادہ ہوتا ہے کیونکہ جوارح کی صحت کا مدار قلب ہی کی صحت پر ہے۔ ارشاد فرمایا: إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ۔ سینکڑوں برس سے تبلیغ کا کام انہی نائبینِ رسول کے ذریعے ہوتا آیا ہے۔ مشائخ کے کام سے ملکوں کے ملک مسلمان ہوئے اور اسلام پھیلا۔

آپ سب حضرات شاید علم رکھتے ہوں، حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ، جس وقت اپنے شیخ حضرت عثمان ہارونی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو حضرت نے ان کی استعداد... یعنی جب ان سے بیعت کی، ان کی استعداد کے مطابق جو ان سے کام لیا، چوبیس گھنٹے کے بعد ان کی استعداد کی برکت سے اتنی ترقی ہوئی تھی کہ حضرت نے ان کو اجازت عطا فرمائی۔ لیکن اب وفا کو دیکھیں، اجازت تو ہو گئی! وفا کو دیکھیں کہ 20 سال تک حضرت سے جدا نہیں ہوئے۔ حضرت کے ساتھ ہی رہتے ہیں، اور حضرت ایک جگہ پر مقیم نہیں ہیں، بلکہ حضرت قریہ قریہ، قصبہ قصبہ، سیاحت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے دین کو پھیلا رہے ہیں۔ یہ ہمارا جو مغربی پاکستان ہے، اس میں تقریباً حضرت کئی جگہوں سے گزرے ہیں۔ یہ علاقہ حضرت کے مبارک قدموں کے نیچے آیا ہے۔ تو 20 سال کے بعد حضرت نے فرمایا: "اب جاؤ!" اب جاؤ!۔ تو وہاں سے جانے کے بعد حضرت نے حج کیا، پھر مدینہ منورہ حاضر ہوئے، مدینہ منورہ سے ہندوستان جانے کا حکم ہوا۔ ہندوستان کی تشکیل ہو گئی۔ یہاں آ کر حضرت سے ایسا کام لے لیا گیا کہ مؤرخین لکھتے ہیں کہ حضرت کے ہاتھ پر 90 لاکھ لوگ مسلمان ہوئے۔ یہ 90 لاکھ کس دور کے ہیں؟ کہ اس دور کی کہ ہندوستان کی پوری آبادی شاید چار پانچ کروڑ ہوگی۔ اس میں 90 لاکھ لوگ حضرت کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے۔ گویا کہ اسلام صحیح معنوں میں داخل کس کے ذریعے سے ہوا؟ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھ سے ہوا۔ اب دیکھ لیں، اگر حضرت ابتدا ہی میں چلے آتے، اور یہ فیضان جو شیخ سے ان کو ملا تھا، یہ حاصل نہ کرتے، تو شاید یہ اتنا بڑا کام نہ لیا جاتا۔ لیکن انہوں نے اصل بات یہ ہے کہ اپنے آپ کو کچھ نہیں سمجھا، اور شیخ کے فیض کو اصل سمجھا، اپنی طرف نظر نہیں کی، بلکہ شیخ کی طرف نظر کی۔ اللہ پاک نے اس نظر کی برکت اتنی ان کو عطا فرمائی کہ آج الحمدللہ ہم سب یہاں پر اسلام کی بہاریں دیکھ رہے ہیں۔ اور پھر ذرا غور سے دیکھیں کہ خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کے ذریعے سے اسلام آتا ہے۔ لیکن جس وقت اسلام خطرے میں آ گیا، یعنی گویا کہ مسلمان خطرے میں آ گئے اور اسلام ختم ہونے کو آیا اکبر کے دور میں، وہ دینِ الٰہی اس نے شروع کیا، اس کے لیے بھی اللہ پاک نے ایک فقیر کو اٹھایا۔ حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کو۔ ان کے ذریعے سے پھر دوبارہ احیائے اسلام ہو گیا۔ تو اصل میں جن لوگوں نے اپنے آپ کو اللہ پاک کے حوالے کیا ہو، اپنی تمام صلاحیتیں اللہ پاک کے حوالے کی ہوں، اپنے بارے میں کچھ نہ سمجھتے ہوں، جو ان کے مشائخ کے ذریعے ان تک بات پہنچائی گئی، اسی کو اصل سمجھتے ہوں، تو اللہ تعالیٰ ان سے پھر ایسا کام لیتے ہیں۔

گزشتہ پون صدی میں حضرت مولانا محمد الیاس قدس سرہٗ کو اس صورتحال کا شدت سے احساس ہوا، تو انہوں نے عوام کو تبلیغ کے نام سے ایک کام پر لگا دیا۔ ان کو تبلیغ کے فضائل سنائے اور یہ واضح کر دیا کہ اس کام کا مقصد اپنی اصلاح ہے۔

مجھے آج بھی یاد ہے، الحمدللہ جب بھی ہم جماعت میں نکلتے، تو اس بات پر پورا زور دیا جاتا کہ ہم کسی کے پاس جا رہے ہیں، یہ ہم سے زیادہ اہم ہیں۔ اور ہم اپنی اصلاح کی نیت سے جا رہے ہیں، کسی اور کی اصلاح کی نیت نہیں کرنی۔ مجھے خوب یاد ہے کہ جس وقت میں جا رہا تھا وہاں شکرگڑھ میں ہماری تشکیل ہوئی تھی، تو ہمارے ساتھ جو امیر صاحب تھے، تو اکثر مجھے خصوصی گشت پر ساتھ لے جاتے تھے۔ تو وہاں جو شیخ تھے اور ما شاء اللہ بہت بڑے عالم بھی تھے، ان کی خدمت میں ہم ظاہر ہے حاضر ہو رہے تھے حضرت کو اطلاع کرنے کے لیے اور دعائیں لینے کے لیے۔ راستے میں مجھ سے امیر صاحب نے کہا: "شبیر! یاد رکھیے، دل میں بھی ان کو دعوت کی نیت نہیں کرنی چاہیے۔ دل میں بھی ان کو دعوت دینے کی نیت نہیں کرنی چاہیے۔ کیوں؟ وہ بڑے کام پر لگا ہوا ہے، اور ہم تو چھوٹے کام پر لگے ہوئے ہیں۔ ہم تو اپنی اصلاح کے لیے آئے ہوئے ہیں۔ ہمارا کام یہی ہے۔ (یہ حضرت کی باتیں ہیں اس امیر صاحب کی) اگر ہماری چکنی چپڑی باتوں سے متاثر ہو کر حضرت اپنے کام کو چھوڑ کر ہمارے کام میں آئے، اگر اس سے دین کو نقصان ہوا، تو ذمہ دار کون ہوگا؟" یہ امیر صاحب کی بصیرت تھی۔ میں نے کہا: "حضرت میرا بھی یہی مسلک ہے۔" فرمایا: "پھر کوئی بات نہیں۔" پھر ہم چلے گئے حضرت کی خدمت میں حاضری دی۔ حضرت کو پہلے سے اطلاع ہو چکی تھی۔ حضرت نے فرمایا: "مجھے اطلاع ہو گئی ہے، ان شاء اللہ جمعہ کے بیان میں، میں ان شاء اللہ جماعت کا تعارف کر دوں گا۔" اور حضرت ہمارے ساتھ ہر مرحلے پر ساتھ دے رہے تھے۔ تو یہی بات میں عرض کرتا ہوں کہ اگر آج بھی ایسا ہو جائے اور ہم جو دین کے جتنے بھی کام ہیں، ان سب کو اپنا کام سمجھیں، تو خود بخود محبت دلوں میں پیدا ہو جائے گی اور ایک دوسرے کے دست و بازو بن جائیں گے۔

بالکل خالص یہی مقصد ہے اس میں لگنے سے اپنی ابتدائی اور ضروری درجے کی اصلاح ہو جاتی ہے۔ حضرت نے اس کام کی ترکیب، اس کے اصول اور نمبر اس طرح کے تجویز فرمائے کہ اپنی اصلاح کے ذیل میں ماحول کی اصلاح بھی ہو جاتی ہے۔

یہ چھ نمبر آپ حضرات جانتے ہیں، بہت مشہور ہیں اور اس میں تقریباً دین کی ضرورت کی تمام چیزیں آ جاتی ہیں، دین پر آنا آسان ہو جاتا ہے۔ بلکہ ہمیں یہ فرماتے ہیں کہ یہ پورا دین نہیں ہے۔ یہ پورا دین نہیں بلکہ پورے دین پر آنے کے لیے جو راستہ ہے، وہ اس کو ہموار کرنے کے لیے ہم جو ہے نا یہ چھ نمبر کا مذاکرہ کرتے ہیں۔ اس میں وہ تمام باتیں آتی ہیں جس کو سمجھ کر انسان دین کے لیے قربانی دینے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔

حضرت نے اس کام کی ترکیب، اس کے اصول اور نمبر اس طرح کے تجویز فرمائے کہ اپنی اصلاح کے ذیل میں ماحول کی اصلاح بھی ہو جاتی ہے۔ اس طرح پیغمبر والے عظیم کام میں نا اہل عوام کی شرکت ہو جاتی ہے اور تبلیغ کی برکت حاصل ہو جاتی ہے۔ جس سے عوام بڑی ترقی بھی کر لیتے ہیں، مگر یہ شرکت اس درجے کی ہے جیسے ہسپتال میں کمپاؤنڈروں، کلرکوں اور خدام کی ہوتی ہے۔

یہ شہداد کوٹ میں ہم گئے تھے، وہاں پر ذکر کی مجلس تھی۔ وہاں ایک وکیل صاحب آئے۔ ہمارے ساتھی ڈر گئے کہ وکیل صاحب تو ایسے سوال کرتے ہیں جس سے ماحول خراب ہو جاتا ہے۔ تو کہا یہاں پر بھی ماحول نہ خراب کر دیں۔ وکیل صاحب نے مجھ سے سوال کیا: "شاہ صاحب! تبلیغی جماعت کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟" میں نے کہا: "سبحان اللہ! بہت اچھا خیال ہے، تبلیغی جماعت تو ہمارے دل کی آواز ہے، اس وجہ سے ان کے ساتھ ہیں ہم۔ اس میں کوئی درمیانی اور بات تو نہیں ہے۔ ہاں البتہ باقی جو دینی کام ہیں، ان کو بھی ہم ضروری سمجھتے ہیں، اور ان کے لیے بھی ہم ایسے ہی کوشش کو ضروری سمجھتے ہیں جیسے تبلیغ کے کام کے لیے۔" پھر میں نے ایک مثال بتائی۔ میں نے کہا: "دیکھو، آپ سوچیں، ایک جگہ پر وبا آ گئی۔ وبا کے لیے ڈاکٹر ناکافی ہو گئے۔ ظاہر ہے وبا بہت زیادہ تھی اور ڈاکٹر کم تھے۔ تو ڈاکٹروں نے سوچا کہ ہم تو خود کچھ نہیں کر سکتے سارا کچھ، تو چلو کمپاؤنڈروں کو بھی ساتھ ملا لیتے ہیں۔ تو انہوں نے کمپاؤنڈروں کو بھی بتایا کہ یہ اس کی علامتیں ہیں، اور یہ اس کی دوائی ہے، اور یہ اپنے ساتھ رکھو۔ جب کسی مریض کو دیکھو تو ان کے ساتھ یہ کرو۔ لیکن کمپاؤنڈروں کی بھی محدود تعداد تھی، کام نہیں ہو سکا۔ تو پھر مشورہ ہو گیا کہ اب کیا کریں؟ تو انہوں نے کہا نہیں، اس طرح کر لیں کہ گاؤں سے اور دیہات سے اور شہروں سے جو ہوشیار لوگ ہیں، جو سمجھدار لوگ ہیں، ان کو اکٹھا کیا جائے، ان کو Refresher Course کرایا جائے، ان کو موٹی موٹی باتیں سمجھائی جائیں، اور ان کو بھی اس کام میں لگا دیا جائے کہ یہ علامات ہیں اور یہ بیماری ہے اور اس کا علاج یہ ہے، اور یہ کر لو۔ اور وہ ساتھ جب شامل ہو گئے، تو چونکہ بہت زیادہ تعداد میں تھے، وبا قابو میں آ گیا۔ وبا قابو میں آ گیا۔ اب ذرا دیکھ لو، جن کی کثرت کی وجہ سے وبا قابو میں آ گیا، اگر وہ یہ کہہ دیں کہ وبا کو ہم نے کنٹرول کیا، ڈاکٹروں سے تو کنٹرول نہیں ہوا، کیا خیال ہے وہ کہنا کیسے ہوگا؟" اس نے کہا: "یہ تو جائز نہیں ہے۔ کیونکہ ڈاکٹر نہ ہوتے تو ان کو یہ Course کون کراتا؟ ان کی نگرانی کون کرتا؟ یہ تو ڈاکٹروں کی وجہ سے ہوا ہے۔" تو میں نے کہا: "بس یہی بات ہے۔ علماء اور مشائخ نے اگر کچھ لوگوں کو موٹی موٹی باتیں سکھائیں کہ آپ ان باتوں کو اس طرح کر لیں، تو اس سے آپ کو بھی فائدہ ہوگا اور باقی لوگوں کو بھی فائدہ ہوگا۔ تو اگر فائدہ ہو گیا تو کس کی وجہ سے ہوا؟ جن نے یہ ترتیب بنائی جن کے ذریعے سے یہ کام چل پڑا، اور اب بھی Control ان کے ہاتھ میں ہو تو پھر کام ہوگا۔ اگر Control جیسے ان لوگوں کے ہاتھ میں ہوتا جو عام لوگ تھے، تو کیا کام ہو جاتا؟" تو یہی بات ہے۔ تو اس میں بھی یہی بات...

اس طرح پیغمبر والے عظیم کام میں نا اہل عوام کی شرکت ہو جاتی ہے، اور تبلیغ کی برکت حاصل ہو جاتی ہے، جس سے عوام بڑی ترقی بھی کر لیتے ہیں۔ مگر یہ شرکت اس درجے کی ہے جیسے ہسپتال میں کمپاؤنڈروں، کلرکوں اور خدام کے کام کی ہوتی ہے، کہ شفاخانے چلنے میں ان لوگوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے، مگر ڈاکٹر کا درجہ اور ہی ہے۔ کہ اصل دار و مدار انہی پر ہے۔ اگر ڈاکٹر نہ ہوں تو باقی عملہ سب بیکار ہے۔ اگر کام کرے گا تو شفاخانے کی بجائے مرض خانہ بن جائے گا۔ تبلیغی کام کرنے والوں کی نیت اور ان کا مقصد اللہ کی رضا کے لیے اپنی اصلاح کا نہ ہو، تو یہ کام تکبر پیدا کرے گا۔

اللہ ہماری حفاظت فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔ یہ صرف تبلیغی جماعت کے کام کی بات نہیں ہے، کسی بھی کام میں کوئی لگا ہو۔ اگر وہ اپنے آپ کو اصل سمجھے، اور جو اپنے بڑے ہیں، ان کو چھوڑ دے، تو یہ بھی فتنہ بن جائیں گے۔ فتنہ بن جائیں گے۔

کیونکہ دعوت کا کام کرنے کا دعویٰ بہت اونچا ہے۔ اس طرح کام مشائخ اور علماء کی نگرانی کے بغیر ہو، یا پورے اصول اور نمبروں پر عمل نہ ہو، تو مقصد حاصل نہیں ہوگا۔ مثلاً نمبر تین علم و ذکر اور نمبر پانچ اخلاص پر عمل نہ ہونے کی صورت میں، کام کرنے کو مجددِ تبلیغ خود ہی فتنہ قرار دیتے ہیں۔

ایک بات ہے، آپ کے ساتھ Share کرتا ہوں۔ ہمارے ایک ساتھی کو حضرت مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت ہوئی۔ تو انہوں نے حضرت سے پوچھا کہ حضرت! آپ کے کچھ ملفوظات ہم تک پہنچے ہیں۔ تو اس کی تصدیق آپ سے کروانی ہے۔ فرمایا کرو۔ تو ایک ملفوظ کے بارے میں یہ پوچھا گیا کہ علم اور ذکر میرے کام کے دو وہ ہیں، اگر یہ رہ جائیں تو ظاہر ہے ہمارا جو کام ہے وہ فتنہ بن جائے گا۔ حضرت نے فرمایا: "کون سا کام ہے جو تعلیم و تربیت کے بغیر اچھا ہو سکتا ہے؟" جلال میں آ کر فرمایا: "حضرت! کون سا کام ہے جو تعلیم و تربیت کے بغیر صحیح ہو سکتا ہے؟" تو علم و ذکر کیا چیز ہے؟ تعلیم و تربیت ہے نا۔ ذکر تربیت کا ذریعہ ہے، علم تعلیم کا ذریعہ ہے۔ تو تعلیم و تربیت کے بغیر تو کوئی کام صحیح نہیں ہو سکتا۔ اور ایک اور ملفوظ کا تھا کہ وہ اس وقت ذہن سے نکل گیا، یاد آ جائے گا تو پھر ان شاء اللہ عرض کر لوں گا۔ دو باتیں تھیں۔

گو اس کے فتنہ ہونے کے سمجھنے کے لیے بھی علم اور بصیرت چاہیے۔ بغیر بصیرت کے تو ایک کام ہوتا ہوا نظر آتا ہے، اور بالکل نہ ہونے سے بہرحال اچھا سمجھا جاتا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے کہ ڈاکٹروں کے بغیر ہسپتال کا باقی عملہ کام شروع کر دے، تو لوگ دیکھیں کہ مریض آ جا رہے ہیں، دوائیاں مل رہی ہیں، ٹیکے لگ رہے ہیں، کئی مریضوں کو شفا بھی ہے، مگر آپ جانتے ہیں کہ عملے کی یہ حرکت کتنا خطرناک جرم ہے۔ ان تمام ملحوظات کے بعد، اس تحریر کا مقصد اور خلاصہ عرض ہے کہ اگر کچھ لوگ کمپاؤنڈری اور تیمارداری کا کورس کریں، پھر ہسپتال میں نوکری کریں، تو یہ بہت اچھا خیال ہے، خدمتِ خلق کا ذریعہ اور کسبِ حلال ہے۔ ہم خرمہ و ہم ثواب۔ لیکن اگر کسی میڈیکل کالج کے آخری سال کے طالبِ علم پر بیماروں کی خدمت کا شوق سوار ہو جائے، اور وہ اپنی تکمیل کو چھوڑ کر ہسپتال میں نوکری کی کوشش کرے، تو اس کو اس خسارے کے کام سے روکا جائے گا۔ اگر وہ بات کو نہ مانے تو تعلیم کو چھوڑ کر نوکری کر لینے کو حرام اور ناجائز تو کوئی نہیں کہہ سکتا، بلکہ میرے خیال میں ایسے مجنون کو ڈاکٹر بننا ہی نہیں چاہیے، اچھا ہوا کہ راستے ہی سے واپس آ گیا۔ آپ کے متعلق شروع میں عرض کیا ہے کہ اس وقت آپ کے وحدتِ مقصد کی بہت ضرورت ہے۔ دیگر دوسرے کسی بھی فکر میں پڑنا مضر ہے۔ ہمہ تن اپنے فکر اور اپنے کام میں لگیں، جو کہ ذکر و شغل اور مراقبہ ہے۔ جب آپ کو اللہ کریم اس کام کے قابل بنا دیں گے، تو عادۃ اللہ کے مطابق آپ کو مہمل نہیں چھوڑا جائے گا، بلکہ کوئی خدمت آپ کے سپرد ہو جائے گی۔ چند باتیں اور لکھنا تھیں، مگر ابھی ڈاکٹر صاحب جا رہے ہیں، اس لیے باقی آئندہ۔ اور امید ہے کہ مزید کی ضرورت نہیں پڑے گی، تا ہم جو کچھ دوبارہ پوچھنا ہو یا اشکال پیدا ہو، بلا تکلف لکھیں، کیونکہ یہ راستہ بالکل صفائی چاہتا ہے۔

اللہ جل شانہ حضرت کو بہت زیادہ اجر عطا فرمائے۔ آج کل کے دور کا ایک بہت بڑا مسئلہ حضرت نے فرما دیا ہے، اور اس کا علاج بھی فرما دیا ہے۔ ہر شخص جس جس دینی کام میں لگا ہوا ہے، اس دینی کام کو اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت سمجھے، اور اس میں اخلاص اور تقویٰ کو لازم پکڑے۔ جو بھی دینی کام ہے، اور اخلاص اور تقویٰ بغیر اس راستے کے نہیں آتا، یعنی جو مشائخ کے ساتھ تعلق ہے، صحبت کے ذریعے سے اور تعلق کے ذریعے سے جو آتا ہے، اس کے بغیر یہ چیز ویسے عادتاً نہیں ہے۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے بہت آسانی سے اس بات کو سمجھایا ہے۔ فرمایا تین طریقے ہیں اصلاح کے۔ ایک طریقہ ہے اخیار کا۔ اخیار کے طریقے میں انسان علم حاصل کرتا ہے اپنے طور پر۔ اور پھر قوتِ ارادی سے کام لیتے ہوئے اس علم پر عمل کرتا ہے اور ساری عمر وہ نفس کے ساتھ لڑتا رہتا ہے۔ لیکن یہ راستہ بہت مشکل ہے، کیونکہ ساری عمر اس کو یہی کرنا پڑتا ہے، کسی بھی وقت اگر لغزش ہوتی ہے تو پھر مسائل ہوتے ہیں، اور کسی کی نگرانی بھی نہیں ہوتی لہٰذا اس میں مشکلات ہوتے ہیں۔ فرمایا اس طریقے پر بہت سارے لوگ چل رہے ہیں، لیکن یہ جو ہے نا، یہ مشکل طریقہ ہے۔ دوسرا فرمایا، دوسرا طریقہ ہے ابرار کا طریقہ۔ جو ابرار کا طریقہ ہے، وہ یہ ہے کہ وہ کسی شیخِ کامل سے بیعت کر لیتے ہیں۔ اس ذریعے سے ان کو دو فائدے فوراً مل جاتے ہیں۔ ایک اس شیخ کے سلسلے کی برکت، اور دوسرا شیخ کے تجربے کا فائدہ۔ ظاہر ہے ایک تجربہ کار شخص سے پوچھ پوچھ کر جو کام کریں گے اس کا فائدہ الگ ہے۔ اور جو اپنے طور پر کوئی کام کر رہا ہوگا، تو اس کی بات تو الگ ہے۔ تو تجربے کا جو اس کو فائدہ ہے وہ فوراً مل جائے گا اور دوسری بات یہ ہے کہ اس کو شیخ کے سلسلے کی برکت بھی حاصل ہو جائے گی۔ فرمایا کہ اس وجہ سے ان لوگوں کو جلدی جلدی فائدہ ہوتا ہے اور یہ بہت جلدی جلدی ترقی کر لیتے ہیں کیونکہ غلطیوں کا تدارک بھی موجود ہے۔ شیخ کے ساتھ اگر تعلق ہوگا تو اگر غلط بھی کرے گا تو اس کو روک دیں گے۔ فرمایا تیسرا سلسلہ عشاق کا طریقہ ہے۔ جو کسی بھی شیخ سے بیعت ہو اور اس کے عاشق ہوں۔ جس کے بیعت ہیں، اس کے عاشق ہوں۔ ایسی صورت میں قوتِ ارادی کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ کیونکہ جس کا کوئی عاشق ہوتا ہے، تو اس کی بات کو تو عمل میں لانے کے لیے وہ تڑپ رہا ہوتا ہے کہ مجھے کوئی بات کہہ دے تو میں عمل کروں۔ تو ایسی صورت میں وہ کیا قوتِ ارادی استعمال کرے گا؟ بلکہ وہ جو بھی بات ہوگی اس پر فوراً عمل کرنے کی کوشش کرے گا۔ فرمایا ایسے لوگوں کو جو دن دگنی رات چوگنی ترقی ہوتی ہے اس کا اندازہ کوئی نہیں کر سکتا۔ تو اب حضرت نے جو تین طریقے بتا دیے ہیں اس میں تیسرا طریقہ تو خیر ہر ایک کی قسمت میں نہیں ہے۔ وہ تو قسمت قسمت کی بات ہے۔ لیکن دوسرا طریقہ تو بہت زیادہ آسان ہے اور ہو سکتا ہے کہ انسان قوتِ ارادی صرف اس چیز میں استعمال کر لے کہ اپنے شیخ کی مانے۔ اسی کو وحدتِ مطلب کہتے ہیں۔ اسی کو وحدتِ مطلب کہتے ہیں۔

اور پھر میں آپ سے عرض کروں کہ وحدتِ مطلب پر حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے جس تشدد کے ساتھ کلام فرمایا ہے، میں نے کسی اور بزرگ کا تشدد اس میں اتنا نہیں دیکھا۔ حضرت کی کتاب موجود ہے 'امداد السلوک'، اس میں حضرت نے وحدتِ مطلب کے عنوان سے فرمایا کہ جس طرح اللہ ایک ہے۔ اور جس پیغمبر کے پیچھے چل رہا ہے وہ ایک ہے، اور خانۂ کعبہ ایک ہے۔ اس طرح شیخ بھی ایک ہوتا ہے۔ اس طرح شیخ بھی ایک ہوتا ہے۔ اور اگر وہ شیخ کی، مطلب اس کے وحدتِ مطلب کا خیال نہ رکھے اور کسی اور شیخ کو بھی سمجھے کہ وہ بھی میرے لیے مفید ہو سکتا ہے، تو ایسا شخص کسی بھی وقت شیطان کے نرغے میں آ سکتا ہے۔ اور وہ کسی بھی دوسرے پیر... کیوں، وجہ کیا ہے؟ حضرت نے بڑی عجیب بات فرمائی ہے۔ فرمایا کہ جیسے آپ ﷺ کی صورت مبارک میں شیطان خواب میں نہیں آ سکتا، اس طرح شیخ کی صورت میں بھی شیطان نہیں آ سکتا۔ شیخ کی صورت میں بھی... کیونکہ یہ ہدایت کی کڑی ہے۔ تو ہدایت کی کڑی کو اللہ تعالیٰ محفوظ رکھتے ہیں۔ جیسے قرآن پاک کے لیے خصوصی حفاظت تھی، اور آپ ﷺ کے لیے حفاظت ہے، تو اس طرح شیخ کے لیے بھی حفاظت ہوتی ہے۔ فرمایا اگر کوئی دوسرا پیر ہے، تو ظاہر ہے شیطان کے اوپر تو دروازہ بند نہیں ہے نا؟ وہ اس کی صورت میں آکر اس کو گمراہ کر سکتا ہے۔ تو اس نے راستہ چھوڑ دیا ہے۔ فرمایا بارہا لوگوں کو ہم نے دیکھا ہے ایسے راہ میں گمراہ ہوتے ہوئے۔ فرمایا: اللہ کو بھی پرواہ نہیں ہوتی کہ کون سی گھاٹی میں وہ ہلاک ہو جائے۔ اللہ کو بھی پرواہ نہیں ہوگی کہ کون سی گھاٹی میں ہلاک ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔ اس بات کی بہت ضرورت ہے۔


ذکر میں استقامت اور صحبتِ بد سے اجتناب

یہ حضرت کا دوسرا مکتوب شریف ہے۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔ از مدینہ منورہ، عَلَى مُنَوِّرِهَا أَلْفُ أَلْفِ صَلَاةٍ وَسَلَامٍ، محترم مقام، زَيْدَ مَجْدُكُمْ، بعد سلام مسنون،

مجھے آپ کا خیال اور فکر رہتا ہے۔ پرسوں گھر پر فون کیا کہ شاید آپ گئے ہوں۔ کل حرم شریف میں بیٹھے ہوئے آپ کا محبت نامہ مؤرخہ 12 اپریل از ناگپور موصول ہوا۔ اسی وقت روضۂ اقدس پر صلاۃ و سلام عرض کیا، سفر کے مختصر حالات سے خوشی ہوئی اور حضرت مولانا علی میاں کی تفصیلی ملاقات اور حالات کا اشتیاق ہے۔ حضرت کی طرف سے "دستورِ حیات" مجھے پہنچ گئی تھی۔ ذکر و معمولات کے علاوہ امید ہے کہ آپ کا بھی "دستورِ حیات" کے مندرجات پر پہلے سے عمل ہوگا۔ جس جزو میں کمی ہو پورا کر لیں۔ "کاروانِ زندگی" کا بھی آپ نے اشتیاق دلایا، ان شاء اللہ عجیب چیز ہوگی، اس میں ہمارے حضرت کا اور دیگر مشائخ کا ذکر بھی ضرور آئے گا۔ آپ کے اس خط میں معمولات اور ذکر کی عدم پابندی سے دل پر چوٹ لگی۔ اور چوٹ کیوں نہ لگتی؟ مجھے تو امید تھی کہ اب پابندی اور عدم پابندی کا سوال ہی نہیں رہنا چاہیے کہ ذکر اثر کرنے کے بعد خود ہی نہیں چھوڑتا۔ پانچ ماہ پہلے کی حالت کا خط عبرت کے لیے ارسال کرتا ہوں۔ اس کو پڑھ لیں معلوم ہوگا، میرا افسوس کرنا ٹھیک ہے۔ مجھے ذکر میں کمزوری کا تو آپ کے سفر سے پہلے کچھ احساس ہو گیا تھا۔ جس دن فون پر آپ نے ڈاکٹر اسرار صاحب کی ملاقات کا ذکر کیا تھا، کیونکہ حقیقی ذاکر آدمی کسی سے کتنی اچھی اور حق باتیں سنے، گمراہ آدمی سے متاثر نہیں ہو سکتا۔ وہ اچھی باتیں دل و دماغ کو، عقل کو تو اچھی لگتی ہیں، دل جس میں ذکر ہو، اثر نہیں لیتا۔

حضرت نے بڑی گر کی باتیں بتائی ہیں۔ ایک بات یاد رکھنا چاہیے کہ جس کے دل میں اللہ جل شانہ کے ذکر کا نور داخل ہو جائے، تو وہ پھر جب تک قائم ہوتا ہے تو وہ ظلمت کے لیے مزاحمت کرتا ہے۔ کیسے مزاحمت کرتا ہے؟ وہ مزاحمت اس طرح ہوتی ہے کہ جیسے ایک گھر میں روشنی ہے، ابھی روشنی ہے، اور اچانک اندھیرا ہو جائے۔ اندھیرا ہو جائے تو آدمی کیا سوچے گا کہ کیوں اندھیرا ہو گیا؟ دن کا وقت ہے۔ پتہ چل گیا بادل آ گئے۔ بادل آنے سے فوراً پتہ چل گیا کہ اندھیرا ہوگیا اور بادل آگئے۔اس طرح کسی اور وجہ سے انسان اندازہ لگا لیتا ہے۔ اب جس دل میں ذکر کی روشنی موجود ہوتی ہے اور اس کے اندر کوئی گمراہی کی چیز آ جائے، اس گمراہی کی وجہ سے جو ظلمت پیدا ہوتی ہے، اس ظلمت کا ادراک وہ ذکر والا کر لیتا ہے۔ اور جو ذکر والا نہیں ہوتا، تو اس کو کیا ادراک ہوگا؟ اس کو تو ادراک ہوگا ہی نہیں۔ تو جو ذکر والا ہوتا ہے، اس کو ادراک ہو جاتا ہے، تو وہ اس چیز کو قبول نہیں کرتا کہ یہاں پر کوئی گڑبڑ ہے۔ یہاں پر کوئی گڑبڑ ہے۔ بعض دفعہ مسئلے کا پتہ بھی نہیں ہوتا، اس کا علم بھی نہیں ہوتا، لیکن اس کا اثر محسوس کر لیتا ہے۔ بعد میں جب تحقیق کر لیتے ہیں تو بات سمجھ میں آ جاتی ہے کہ واقعی یہ تو یہ بات تھی۔ اس وجہ سے میں عرض کرتا ہوں کہ اگر کوئی ذکر کر رہا ہے، تو جیسے حضرت نے فرمایا، اس ذکر کو مستقل کرنا چاہیے۔ ہمارے حضرت مولانا اشرف رحمۃ اللہ علیہ کو جو حضرت شاہ عبدالعزیز دعاجو رحمۃ اللہ علیہ، ان سے جب ملاقات ہوئی تو حضرت نے فرمایا: "جاؤ باہر دیکھو کیا ہو رہا ہے؟" تو باہر دیکھ کر... کچھ اندازہ نہیں ہوا کہ کیا ہے۔ پھر آگئے حضرت کے پاس، حضرت نے فرمایا: "بھئی کچھ دیکھا نہیں؟" انہوں نے کہا: "حضرت، کچھ اندازہ نہیں ہو رہا۔" "نہیں، نہیں، کچھ اہم چیز ہو رہی ہے باہر، اس کو دیکھ کے آؤ۔" حضرت شاہ عبدالعزیز دعاجو رحمۃ اللہ علیہ، تبلیغی جماعت کے بڑے اکابر میں سے تھے، اور ان کا اندازِ بیان اور طریقہ کار اس طرح تھا کہ ایسے ہی چیزوں سے ما شاء اللہ اصلاح فرماتے۔ تین چار دفعہ جب جانا ہوا تو حضرت کی اچانک نظر پڑ گئی کہ ایک جگہ سے قطرہ قطرہ پانی گر رہا ہے اور وہ پتھر پہ پڑ رہا ہے مسلسل، اور اس پتھر میں سوراخ ہو گیا ہے۔ تو حضرت سمجھے کہ شاید یہی بات ہے۔ تو حضرت اندر چلے گئے۔ انہوں نے کہا: "حضرت یہ بات تو نہیں ہے؟" فرمایا: "ہاں بالکل یہی بات ہے۔ اچھا کیا سمجھے؟" تو حضرت نے کہا کہ: "حضرت آپ خود ہی بتا دیجیے۔ کیونکہ ایسے بزرگ جب کوئی سمجھانا چاہتے ہوں تو پھر تو سمجھنا چاہیے۔ حضرت آپ خود ہی بتا دیجیے۔" فرمایا: "دیکھو، جتنا پانی اتنے سالوں اس پتھر پر یہ پانی گرا ہے، اگر یہ سارا جمع کیا جائے اور ایک وقت میں اس پہ ڈالا جائے، تو اس پتھر کا کچھ بھی نہیں ہونا۔ لیکن دیکھو نا، یہ قطرہ قطرہ جو اس پر آ رہا ہے، اس نے اس کے اندر سوراخ کر دیا۔ فرمایا: اسی طرح ہمارے معمولات کا کام ہے۔ اگر ہمارے معمولات روزانہ کے مسلسل چلتے رہیں، اس میں ناغہ نہ ہو، تو یہ پتھر میں بھی سوراخ کر لیتا ہے۔ لہذا دل کو فائدہ ہوتا ہے۔ بس یہی بات ہے۔" تو حضرت نے بھی یہ بات ارشاد فرمائی کہ جو ذکر ہے، وہ جب اثر کرتا ہے تو پھر تو پتہ چل جاتا ہے نا؟ پھر تو اس کے مطابق ہی آگے بڑھتا ہے۔ تو آپ نے کوئی گڑبڑ کی ہے جس کی وجہ سے آپ کو پتہ نہیں چلا، اور گڑبڑ کی وجہ بھی بتا دی لیکن اشاروں سے۔


حرج مرض اور اتار چڑھاؤ تو زندگی میں ہر کسی کے ساتھ ہے، لیکن استقامت سے پہلے سالک کو بہت ہمت اور احتیاط اور چوکنا رہنے کی ضرورت رہتی ہے۔ ایک حالت پر ٹھہرنا بھی خطرناک ہوتا ہے، کیونکہ حقیقی ٹھہرنا نہیں ہوتا، بلکہ گرنا ہوتا ہے۔

آپ ہیلی کاپٹر کو دیکھیں، ہیلی کاپٹر اگر اپنی جگہ پر کھڑا رہنا چاہے، تو کیا خیال ہے اس کے پر ہلنے چاہئیں یا رکنے چاہئیں؟ اگر پر رک گئے تو زمین پر گر جائے گا۔ تو اس وجہ سے اگر وہ ایک جگہ پر کھڑا بھی رہنا چاہے گا، تو اس کے پر مسلسل، مطلب مسلسل چکر کاٹتے رہیں گے۔

اور یہ سلسلے وصول تک رہتے ہیں، پھر غیبی کفالت اور تربیت ہو جاتی ہے، پھر اتنا خطرہ نہیں کہ وہاں خود ہی ٹھہراؤ نہیں ہوتا۔ دعاؤں کا بھی محتاج ہوں، امید ہے کہ اس خط کے پہنچنے تک آپ آ جائیں گے۔ بچوں کو پیار اور دعا۔

یہ حضرات بہت شفیق ہوتے ہیں، دل سے محبت کرتے ہیں، دل سے اس محبت کے تقاضوں پر عمل کرتے ہیں۔ تو آپ نے حضرت کا خط دیکھ لیا کہ کس محبت اور شفقت کے ساتھ حضرت نے ان کو یہ بات سمجھائی۔ وجہ یہ ہے کہ ہم اگر ان مواقع کو ضائع کر دیں، جو جس کے ساتھ بھی وابستہ ہے، اگر مواقع کو ضائع... پھر بعد میں افسوس ہوتا ہے۔ لیکن اس افسوس سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔

اصل وقت یہی ہوتا ہے جب انسان کسی کے ساتھ... اور یہ بھی بتا دوں فاصلہ کچھ بھی نہیں ہے، لیکن اگر کچھ وقت زیادہ دیر تک اپنے شیخ کے ساتھ رہا جائے، تو اس میں نسبت کو ترقی جلدی ہو جاتی ہے۔ پھر اس کے بعد اگر دور بھی رہے، حضرت نے فرمایا حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے، پھر اگر دور بھی رہے تو کوئی بات نہیں کیونکہ خط و کتابت سے بھی کام ہوتا ہے اور دل کو دل سے راہ ہوتی ہے۔دل کو دل سے راہ ہوتی ہے۔

لہٰذا انسان اگر اپنا معمولات باقاعدگی سے کرتا ہے، اپنے احوال اپنے شیخ کو باقاعدگی کے ساتھ بتاتا ہے، اور اس کے ساتھ محبت اس کو ہے، تو اس محبت کی وجہ سے اس کو ایک قسم کا تصور حاصل ہوگا۔ جیسے شیخ کے قرب کا تصور حاصل ہوگا۔ وہ تصور جو ہے نا انسان کی حفاظت کرتا ہے۔ انسان کو اپنی جگہ پر رکھتا ہے، اس کو کسی اور ادھر ادھر جگہ نہیں لے جاتا۔ ورنہ پھر یہ ہوتا ہے کہ انسان ہرجائی بن جاتا ہے۔ کبھی ایک کے پاس، کبھی دوسرے کے پاس، کبھی تیسرے کے پاس، تو کسی جگہ پر بھی اس کو کامیابی نہیں ہوتی۔ کسی جگہ بھی اس کو کامیابی نہیں ہوتی۔

لیکن اگر ایک کو کامل طور پر... تو کہتے ہیں 'یک گیر و محکم گیر'۔ ایک کو پکڑو اچھی طرح پکڑو۔ اگر اچھی طرح پکڑ لیا، دینے والی ذات اللہ کی ہے، وہ انسان نہیں دے سکتا۔ لیکن اللہ پاک نے طریقے ایسے بنائے، اللہ جل شانہ نظام ہی ایسا بنایا ہے۔ لہٰذا اپنے شیخ کو اللہ کے لیے مضبوطی کے ساتھ پکڑنا چاہیے۔ اللہ جل شانہ سے دعا بھی کرنی چاہیے کہ یا اللہ اس راستے کے جو گھاٹیاں ہیں، اس سے مجھے بچا دے۔

اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اپنے آپ کو ایسی چیزوں سے جو کہ ظاہر ہے گڑھے ہیں، اس کے ذریعے بنتے ہیں، اس سے بہت محفوظ کرنا چاہیے۔ مثلاً یہ خلافت کا جو شوق ہے، یا بڑا بننے کا جو شوق ہے، اس کو تو بالکل ہی صفر سے ضرب دے۔ بھئی وہ کیا ہے بس اگر میں خلیفہ ہو بھی جاؤں گا تو کیا ہو جائے گا؟ اگر اللہ پاک کے ہاں میرا وہ مسئلہ دوسرا ہو، تو پھر کیا ہو جائے گا؟ لیکن اگر میں خلیفہ نہ بھی ہوں، بس میں ایک بندہ ہوں، اور اللہ جل شانہ سے میں اپنے گناہوں کے مغفرت کا طالب ہوں، اور کوشش اور محنت میں لگا ہوں، اپنے آپ کو کچھ نہیں سمجھتا، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ہے، تو اللہ جل شانہ پر جب بھروسہ ہوتا ہے اور اپنے آپ پر نہیں ہوتا، تو اللہ تعالیٰ مدد فرما دیتے ہیں۔

وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ۔


اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلِّمْ۔

اللَّهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔

رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ۔

يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّطْ قُلُوبَنَا عَلَى دِينِكَ۔ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّطْ قُلُوبَنَا عَلَى دِينِكَ۔ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّطْ قُلُوبَنَا عَلَى دِينِكَ۔

يَا مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ صَرِّفْ قُلُوبَنَا عَلَى طَاعَتِكَ۔ يَا مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ صَرِّفْ قُلُوبَنَا عَلَى طَاعَتِكَ۔ يَا مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ صَرِّفْ قُلُوبَنَا عَلَى طَاعَتِكَ۔

يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ نَسْتَغِيثُ، أَصْلِحْ لَنَا شَأْنَنَا كُلَّهُ، وَلَا تَكِلْنَا إِلَى أَنْفُسِنَا طَرْفَةَ عَيْنٍ۔ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ نَسْتَغِيثُ، أَصْلِحْ لَنَا شَأْنَنَا كُلَّهُ، وَلَا تَكِلْنَا إِلَى أَنْفُسِنَا طَرْفَةَ عَيْنٍ۔ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ نَسْتَغِيثُ، أَصْلِحْ لَنَا شَأْنَنَا كُلَّهُ، وَلَا تَكِلْنَا إِلَى أَنْفُسِنَا طَرْفَةَ عَيْنٍ۔

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً، إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ۔

اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ حَبِيبُكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ حَبِيبُكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ۔ أَنْتَ الْمُسْتَعَانُ وَعَلَيْكَ الْبَلَاغُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔