کعبہ کے ساتھ ایک والہانہ اظہار محبت


کہاں ہم اور کہاں یہ گھر خدایا! ہے کرم تیرا

یہاں پر فضل سے اپنے بلایا! ہے کرم تیرا


کہاں عظمت یہ کعبہ کی کہاں ہم عاجز و مسکین

بس ایک جھونکا تیری رحمت کا پایا! ہے کرم تیرا


بہ فیضِ کعبہ روشن کر میرا دل ذکر سے اپنے

فضل سے تو نے اپنا نام سکھایا! ہے کرم تیرا


میں اب اس گھر سے باندھوں دل نہ چھوڑوں میں کبھی اس کو

جو نور سے اس کا میرا دل سجایا! ہےکرم تیرا


میں ظلمت کے گڑھے سے کیسے نکلوں ہے شبیؔر کہتا

فضل سے تو نے مجھ کو ہے جگایا! ہے کرم تیرا