زکوٰة

صفحہ 123

سیرت النبی ﷺ | حصہ پنجم

زکوٰۃ

﴿وَآتُوا الزَّكَاةَ﴾

زکوٰۃ کی حقیقت اور مفہوم:

نماز کے بعد جس کا اصل تعلق خالق و مخلوق کے باہمی سلسلہ اور رابطہ سے ہے اور جس کا ایک بڑا فائدہ نظام جماعت کا قیام ہے اسلامی عبادت کا دوسرا رکن زکوٰۃ ہے جو آپس میں انسانوں کے درمیان ہمدردی اور باہم ایک دوسرے کی امداد اور معاونت کا نام ہے اور جس کا اہم فائدہ نظام جماعت کے قیام کے لئے مالی سرمایہ بہم پہنچانا ہے۔ زکوٰۃ کا دوسرا نام صدقہ ہے جس کا اطلاق تعمیم کے ساتھ ہر مالی اور جسمانی امداد اور نیکی پر بھی ہوتا ہے۔ لیکن فقہی اصطلاح میں "زکوٰۃ" صرف اس مالی امداد کو کہتے ہیں جو ہر اس مسلمان پر واجب ہے جو دولت کی ایک مخصوص مقدار کا مالک ہو۔

زکوٰۃ گذشتہ مذاہب میں:

زکوٰۃ بھی ان عبادات میں سے ہے جو تمام آسمانی مذاہب کے صحیفوں میں فرض بتائی گئی ہے لیکن ان کے پیروؤں نے اس فرض کو اس حد تک بھلا دیا تھا کہ بظاہر ان کے مذہبی احکام کی فہرست میں اس کا نام بھی نظر نہیں آتا۔ حالانکہ قرآن پاک کا دعویٰ ہے اور اس کی تائید مختلف آسمانی صحیفوں سے ہوتی ہے کہ جس طرح نماز ہر مذہب کا جزوِ لاینفک تھی اسی طرح زکوٰۃ بھی تمام مذاہب کا ہمیشہ ضروری جزو رہی ہے۔ بنی اسرائیل سے خدا کا جو عہد تھا اس میں نماز اور زکوٰۃ دونوں تھیں۔

﴿أَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ﴾ (البقرہ: 83) (ہم نے بنی اسرائیل سے اقرار لیا تھا) کہ کھڑی رکھو نماز اور دیتے رہو زکوٰۃ۔

﴿لَئِنْ أَقَمْتُمُ الصَّلَاةَ وَآتَيْتُمُ الزَّكَاةَ﴾ (المائدہ: 12) (اے بنی اسرائیل) اگر تم کھڑی رکھتے نماز اور دیتے رہتے زکوٰۃ۔

حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ذکر میں ہے: ﴿وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِسْمَاعِيلَ ۚ إِنَّهُ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَكَانَ رَسُولًا نَّبِيًّا * وَكَانَ يَأْمُرُ أَهْلَهُ بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ وَكَانَ عِندَ رَبِّهِ مَرْضِيًّا﴾ (مریم: 54-55) اور قرآن میں اسماعیل کا ذکر کر بے شک وہ عہد کا سچا تھا اور وہ خدا کا بھیجا ہوا پیغمبر تھا اور وہ اپنے لوگوں کو نماز اور زکوٰۃ کی تاکید کرتا تھا اور وہ اپنے رب کے نزدیک پسندیدہ تھا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہتے ہیں: ﴿وَأَوْصَانِي بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ مَا دُمْتُ حَيًّا﴾ (مریم: 31) اور خدا نے مجھ کو زندگی بھر نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے کی تاکید کی ہے۔

تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل پر زمین کی پیداوار اور جانوروں میں ایک عشری یعنی دسواں حصہ (احبار 27: 30-32) نیز ہر بیس برس یا اس سے زیادہ عمر والے پر خواہ امیر ہو یا غریب آدھا مثقال دینا واجب تھا۔ (خروج 30: 13-15) ساتھ ہی غلہ کاٹتے وقت گرا پڑا اناج، کھلیان کی منتشر بالیں اور پھل والے درختوں میں کچھ پھل چھوڑ دیتے تھے جو مال کی زکوٰۃ تھی اور یہ عملاً ہر تیسرے سال واجب الادا ہوتی تھی۔ یہ رقم بیت المقدس کے خزانہ میں جمع کی جاتی تھی اس کا ساتواں حصہ مذہبی عہدہ دار پاتے تھے، دسواں حصہ حضرت ہارون کی اولاد (لاویین) قومی خاندانی کاہن ہونے کی حیثیت سے لیتی تھی، اور ہر تیسرے سال میں دسواں حصہ بیت المقدس کے حاجیوں کی مہمانی کے لئے رکھا جاتا تھا، اسی مد سے عام مسافروں، غریبوں، بیواؤں اور یتیموں کو روزانہ کھانا پکا کر تقسیم کیا جاتا تھا۔ اور نقد آدھے مثقال والی زکوٰۃ کی رقم جماعت کے خیمہ (یا مسجد بیت المقدس) اور قربانی کے ظروف و آلات کی خریداری کے خرچ کے لئے رہتی تھی۔

حضرت عیسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام نے شریعتِ موسوی کے ان ظاہری قواعد میں کوئی ترمیم نہیں کی بلکہ ان کی روحانی کیفیت پر زیادہ زور دیا۔ انجیل لوقا (11: 18) میں ہے کہ جو اپنا عشر (زکوٰۃ) ریا، نمائش اور فخر کے لئے دیتا ہے اس سے وہ شخص بہتر ہے جو اپنے قصور پر نادم ہے۔ اسی انجیل کے 21 ویں باب کی پہلی آیت میں ہے۔ "اگر کوئی دولت مند ہیکل کے خزانہ میں اپنی زکوٰۃ کی بڑی رقم ڈالے اور اس کے مقابلہ میں کوئی غریب بیوہ خلوصِ دل سے دو دمڑی ڈالے تو اس کی زکوٰۃ اس دولت مند کی زکوٰۃ سے کہیں بڑھ کر ہے۔"

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے لوگوں کو ترغیب دی کہ جس کے پاس جو کچھ ہے، وہ خدا کی راہ میں لٹا دے۔ "کہ اونٹ کا سوئی کے ناکے سے گذر جانا آسان ہے مگر دولت مند کا خدا کی بادشاہت میں داخل ہونا مشکل ہے۔" (متی 19: 22) ساتھ ہی انہوں نے خود اپنی طرف سے نیز اپنے رفیق کی طرف سے اپنی ناداری کے باوجود آدھے مثقال والی زکوٰۃ ادا کی ہے۔ (متی 17: 24)

تورات کے زمانہ میں چونکہ دولت زیادہ تر صرف زمین کی پیداوار اور جانوروں کے گلوں تک محدود تھی اس لئے انہیں دونوں چیزوں کی زکوٰۃ کا زیادہ ذکر آیا ہے۔ سونا چاندی اور ان کے سکوں کی چونکہ قلت تھی اس لئے ان کی زکوٰۃ کا ذکر ایک دو جگہ ہے۔ اسی بناء پر یہودیوں نے نقد زکوٰۃ کی اہمیت محسوس نہیں کی علاوہ بریں زکوٰۃ کی مدت کی تعیین کہ وہ ہر سال یا دوسرے یا تیسرے سال واجب الادا ہے تصریحاً معلوم نہیں ہوتی، نیز یہ کہ اس زکوٰۃ کا مصرف کیا ہے یعنی وہ کہاں خرچ کی جائے اس کی تفصیل بھی خود تورات کی زبان سے کم سنائی دیتی ہے۔

غرض وجوہ جو کچھ ہوں مگر حالت یہ تھی کہ یہود نے اس فرض کو بھلا دیا تھا اور خصوصاً عرب میں جہاں کی دولت کے وہ تنہا مالک بن بیٹھے تھے چند کے سوا اکثر کو اس فرض کا دھیان بھی نہ تھا، قرآن نے ان کو یاد دلایا کہ ﴿وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا مِنْكُمْ وَأَنْتُمْ مُعْرِضُونَ﴾ (البقرہ: 83)

انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا طبع یازدہم مضمون "خیرات" (Charity) باب "یہودیوں میں خیرات"۔

تورات خروج 30: 16 اور 38: 26۔


صفحہ 126

سیرت النبی ﷺ | حصہ پنجم

(اور تم بنی اسرائیل سے معاہدہ تھا کہ) نماز کھڑی رکھنا اور زکوٰۃ دیتے رہنا پھر تم پھر گئے مگر تم میں سے تھوڑے اور تم دھیان نہیں دیتے۔

عیسوی مذہب میں گو سب کچھ دے دینے کا حکم تھا مگر یہ حکم ہر ایک کے لئے موزوں نہیں ہو سکتا تھا اور نہ ہر شخص اس پر عمل کر سکتا تھا، دوسرے مذہبوں میں بھی اگرچہ خیرات اور دان کرنے کے احکام موجود تھے تاہم ان کے لئے کوئی نظام اور اصول مقرر نہیں کیا گیا تھا اور نہ ہر شخص پر قانوناً کوئی رقم واجب الادا تھی جس کے ادا کرنے پر وہ مجبور ہو سکتا تھا۔

اسلام کی اس راہ میں تکمیل:

محمد رسول اللہ ﷺ کی شریعت نے اس بارے میں بھی اپنا تکمیلی کارنامہ انجام دیا۔ اس نے نہایت خوبی اور دقتِ نظر کے ساتھ زکوٰۃ کا پورا نظام تیار کیا۔ انسان کے مالی کاروبار کا معیار عموماً سالانہ آمدنی سے قائم ہوتا ہے۔ اس لئے اسلام نے زکوٰۃ کی مدت سال بھر کے بعد مقرر کی اور ہر سال اس کا ادا کرنا ضروری قرار دیا۔ ساتھ ہی اس نے دولت کے تین سرچشمے قرار دیئے سونا چاندی اور جانور اور پیداوار اور ان میں سے ہر ایک کی علیحدہ علیحدہ شرحیں مقرر کیں۔ سونے چاندی میں سے چالیسواں حصہ اور پیداوار میں دسواں حصہ متعین کیا۔ جانوروں کی مختلف قسموں میں ان کی مختلف تعداد پر ان کی قدر و قیمت کی کمی بیشی کے لحاظ سے مختلف شرحیں قرار دیں۔ پھر اس زکوٰۃ سے ہر قسم کے مصارف کی تعیین و تحدید کی اور اس کی تحصیل وصول اور جمع و خرچ کا کام بیت المال سے متعلق کیا۔ یہ تو اجمال تھا اب تفصیلی حیثیت سے ان میں سے ہر ایک پہلو پر شریعتِ محمدی کی تکمیلی حیثیت کو نمایاں کرنا ہے۔

اسلام میں زکوٰۃ کی اہمیت:

اسلام کی تعلیم اور محمد رسول اللہ ﷺ کے صحیفۂ وحی میں نماز کے ساتھ ساتھ جو فریضہ سب سے اہم نظر آتا ہے وہ زکوٰۃ ہے۔ نماز حقوق اللہ میں سے ہے اور زکوٰۃ حقوقِ عباد میں سے۔ ان دونوں فریضوں کا باہم لازم و ملزوم اور مربوط ہونا اس حقیقت کو منکشف کرتا ہے کہ اسلام میں حقوق اللہ کے ساتھ حقوقِ عباد کا بھی یکساں لحاظ رکھا گیا ہے۔ قرآن پاک میں جہاں کہیں نماز کا ذکر ہے اس کے متصل ہی ہمیشہ زکوٰۃ کا بھی بیان ہے۔ چنانچہ قرآن پاک میں بیسیوں مقامات پر اقام الصلوۃ کے بعد ایتائے الزکوٰۃ آیا ہے۔ مثلاً ﴿أَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ﴾ (یا) ﴿أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ﴾

اور زکوٰۃ ادا کرنے کی مدح یا اس کے دینے والوں اور نہ دینے والوں کا تذکرہ اس کے علاوہ ہے اس سے معلوم ہوگا کہ اسلام میں زکوٰۃ کی کیا اہمیت ہے۔ بارگاہِ نبوی میں آ کر جب کسی نے اسلام کے احکام دریافت کئے ہیں تو ہمیشہ آپ نے نماز کے بعد زکوٰۃ کو پہلا درجہ دیا ہے۔ صحیحین کی کتاب الایمان میں اس قسم کی متعدد حدیثیں ہیں جن میں یہ ترتیب ملحوظ رہی ہے بلکہ کبھی وہ اسلام کے شرائطِ بیعت میں داخل کی گئی ہے۔ چنانچہ حضرت جریر بن عبداللہ بجلیؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت تین باتوں پر کی تھی نماز پڑھنا، زکوٰۃ دینا اور ہر مسلمان کی خیر خواہی کرنا۔ وفد عبد القیس نے 5ھ میں نبوت کے آستانہ پر حاضر ہو کر جب اسلام کی تعلیمات دریافت کیں تو آپ ﷺ نے اعمال میں پہلے نماز پھر زکوٰۃ کو جگہ دی۔ (1)

یہ دونوں حدیثیں صحیح بخاری کتاب الزکوٰۃ جلد اول صفحہ 188 میں ہیں۔


صفحہ 127

سیرت النبی ﷺ | حصہ پنجم

9ھ میں جب آنحضرت ﷺ نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو اسلام کا داعی بنا کر یمن بھیجا ہے تو اسلام کے مذہبی فرائض کی یہ ترتیب بتائی کہ پہلے ان کو توحید کی دعوت دینا جب وہ یہ جان لیں تو ان کو بتانا کہ دن میں پانچ وقت کی نماز ان پر فرض ہے جب وہ نماز پڑھ لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے مال پر زکوٰۃ فرض کی ہے جوان کے دولت مندوں سے لے کر ان کے غریبوں کو دی جائے گی۔ (1)

صحابہ رضی اللہ عنہم میں جو لوگ شریعت کے رازداں تھے وہ اس نکتہ سے اچھی طرح واقف تھے چنانچہ آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد جب اہلِ عرب نے بغاوت کی اور زکوٰۃ ادا کرنے سے انکار کیا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کے خلاف تلوار کھینچ لی۔ حضرت عمرؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ جو توحید کا قائل ہو اس کا خون روا نہیں اس کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا خدا کی قسم جو نماز اور زکوٰۃ میں فرق کرے گا میں اس سے لڑوں گا کہ زکوٰۃ مال کا حق ہے خدا کی قسم! جو رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں بھیڑ کا ایک بچہ بھی دیتا تھا وہ اس کو دینا پڑے گا (2) حقیقت میں یہ ایک لطیف نکتہ تھا جس کو صرف شریعت کا محرمِ اسرار سمجھ سکتا تھا۔ اس نے سمجھا اور امت کو سمجھایا اور سب نے اس کے سامنے اطاعت کی گردن جھکا دی۔

نماز اور زکوٰۃ کے باہمی ارتباط کی ایک اور وجہ بھی ہے اور وہ یہ ہے اسلام کی تنظیمی زندگی صرف دو بنیادوں پر قائم ہے۔ جن میں سے ایک روحانی اور دوسری مادی ہے۔ اسلام کا نظامِ روحانی نماز باجماعت سے جو کسی مسجد میں ادا ہو قائم ہوتا ہے اور نظامِ مادی زکوٰۃ سے جو کسی بیت المال میں جمع ہو کر تقسیم ہو مرتب ہوتا ہے اسی لئے یہ دونوں چیزیں اسلام میں ساتھ ساتھ نظر آتی ہیں اور ان کی انفرادی حیثیت کے ساتھ ان کی اجتماعی حیثیت پر بھی شریعتِ محمدی نے خاص زور دیا ہے۔ نماز جس طرح جماعت اور مسجد کے بغیر بھی انجام پا جاتی ہے لیکن اپنی فرضیت کے بعض مقاصد سے دور ہو جاتی ہے اسی طرح زکوٰۃ بیت المال کی مجتمع صورت کے علاوہ بھی ادا ہو جاتی ہے مگر اس کی فرضیت کے بعض اہم مقاصد فوت ہو جاتے ہیں یہی سبب ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کے عہدِ خلافت میں جب بعض قبیلوں نے یہ کہا کہ وہ زکوٰۃ بیت المال میں داخل نہ کریں گے بلکہ بطورِ خود اس کو صرف کر دیں گے تو شریعتِ محمدی کے شناساے راز نے ان کی اس تجویز کو قبول نہیں کیا اور بزور ان کو بیت المال میں زکوٰۃ داخل کرنے پر مجبور کیا کہ اگر ان کی یہ بات تسلیم کر لی جاتی تو اسلام کی وحدت کا سررشتہ اسی وقت پارہ پارہ اور مسلمانوں کی امامت و جماعت کا نظام اسی وقت درہم برہم ہو جاتا۔

صحیح بخاری جلد دوم صفحہ 1096 کتاب الروعی الخمیہ۔

صحیح بخاری کتاب الزکوٰۃ جلد اول ص 188۔

درحقیقت حضرت ابوبکر صدیقؓ کا ماخذ قرآن پاک کی یہ آیت تھی: ﴿فَإِذَا انْسَلَخَ الْأَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ... فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ﴾ (توبہ: 5) ان مشرکوں کو مارو جہاں پاؤ۔۔ تو اگر وہ توبہ کریں اور نماز کھڑی کریں اور زکوٰۃ دیں تو ان کو آزادی دے دو نیز دیکھو صحیح بخاری جلد دوم صفحہ 1096 باب کراهیۃ الاختلاف۔


صفحہ 128

سیرت النبی ﷺ | حصہ پنجم

الغرض زکوٰۃ دوسرے الفاظ میں غریبوں کی چارہ گری، مسکینوں کی دست گیری، مسافروں کی امداد، یتیموں کی خبر گیری، بیواؤں کی نصرت، غلاموں اور قیدیوں کی اعانت، نماز کے بعد اسلام کی عبادت کا دوسرا رکن ہے اور اس فریضہ کی یہ سب سے پہلی اہمیت ہے جو مذاہب کی تاریخ میں نظر آتی ہے۔

زکوٰۃ کا آغاز اور تدریجی تکمیل:

جس طرح عام نماز کا آغاز اسلام کے ساتھ ساتھ ہوا اور مدینہ آ کر وہ رفتہ رفتہ تکمیل کو پہنچی۔ اسی طرح زکوٰۃ یعنی مطلق مالی خیرات کی ترغیب بھی ابتدائے اسلام ہی سے شروع ہوئی لیکن اس کا پورا نظام آہستہ آہستہ فتحِ مکہ کے بعد قائم ہوا۔ بعض مؤرخوں اور محدثوں کو اس بناء پر کہ 8ھ میں زکوٰۃ کی فرضیت کی تصریح ملتی ہے اس سے پہلے کے واقعات میں جو زکوٰۃ کا لفظ آیا ہے اس سے پریشانی ہوئی ہے۔ حالانکہ شروع اسلام میں زکوٰۃ کا لفظ صرف خیرات کا مترادف تھا۔ اس کی مقدار، نصاب، سال اور دوسری خصوصیتیں جو زکوٰۃ کی حقیقت میں داخل ہیں وہ بعد کو رفتہ رفتہ مناسب حالات کے پیدا ہونے کے ساتھ تکمیل کو پہنچیں۔ محمد رسول اللہ ﷺ کا پیغام صرف دو لفظوں سے مرکب ہے۔ خدا کا حق اور بھائیوں کا حق۔ پہلے لفظ کا مظہر اعظم نماز اور دوسرے کا زکوٰۃ ہے۔ اس لئے محمد رسول اللہ ﷺ کی دعوت حق جب بلند ہوئی تو اس پکار کی ہر آواز ان ہی دو لفظوں کی تفصیل و تشریح تھی۔ آنحضرت ﷺ جس طرح بعثت سے پہلے غارِ حرا میں چھپ کر خدا کی یاد (نماز) میں مصروف رہتے تھے اسی طرح بے کس اور لاچار انسانوں کی دستگیری (زکوٰۃ) بھی فرمایا کرتے تھے۔ حضرت خدیجہ الکبریٰؓ نے بعثت کے وقت آپ ﷺ کی نسبت فرمایا آپ قرابت داروں کا حق پورا کرتے ہیں، قرض داروں کا قرض ادا کرتے ہیں، غریب کو کمواتے ہیں، مہمان کو کھلاتے ہیں لوگوں کو مصیبتوں میں مدد دیتے ہیں۔ اے غور کرو کیا زکوٰۃ انہیں فرائض کے مجموعہ کا نام نہیں ہے؟ اس بناء پر یہ کہنا بالکل صحیح ہے کہ نماز اور زکوٰۃ توام ہیں اور ان ہی دو اجمالی حقیقتوں کی تشریح کا نام اسلام ہے۔

سورۂ مدثر اگرچہ وحی کی ابتدائی سورہ ہے لیکن اس سرزمین میں وہ تمام بیج موجود ہیں جن سے آگے چل کر رفتہ رفتہ احکامِ اسلامی کا عظیم الشان تناور درخت تیار ہوا۔ اس میں نماز کی تمام تفصیلات کو صرف ایک لفظ میں ادا کیا گیا ہے: ﴿وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ﴾ (مدثر: 3) اور اپنے پروردگار کی بڑائی کر۔ پروردگار کی بڑائی نماز کی روح ہے جو اس سورہ میں موجود ہے۔ اس کے بعد ہے: ﴿وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ﴾ (مدثر: 6) اور بدلہ بہت چاہنے کے لئے کسی پر احسان نہ کر۔ یہی وہ بیج ہے جس سے مسائل زکوٰۃ کے تمام برگ و بار پیدا ہوئے ہیں۔ مدثر کے بعد سورۂ مزمل اتری اس میں بہ تصریح دونوں حکم موجود ہیں اور زکوٰۃ کی کسی قدر تفصیل بھی کی گئی ہے۔ (1)

صحیح بخاری جلد اول باب اول۔


سیرت النبی ﷺ - حصہ پنجم

صفحہ 129

﴿وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَقْرِضُوا اللهَ قَرْضًا حَسَنًا ۚ وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُم مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِندَ اللهِ هُوَ خَيْرًا وَأَعْظَمَ أَجْرًا﴾ (سورۃ المزمل، آیت: 20) "اور نماز کھڑی کرو اور زکوٰۃ دو اور اللہ کو اچھا قرض دو اور جو تم آگے بھیجو گے اپنے واسطے، اس کو خدا کے پاس بہتر اور ثواب میں زیادہ پاؤ گے۔"

بعثت کے پانچویں سال جب حضرت جعفرؓ وغیرہ ہجرت کر کے حبشہ گئے ہیں اور نجاشی نے اپنے دربار میں بلا کر ان سے اسلام کی حقیقت اور اس کی تعلیمات دریافت کی ہیں اور حضرت جعفرؓ نے اس کے جواب میں جو تقریر کی ہے اس میں ہے "اور وہ پیغمبر ہم کو یہ سکھاتا ہے کہ ہم نماز پڑھیں، روزے رکھیں اور زکوٰۃ دیں،" ۔1 اس سے معلوم ہوا کہ عام زکوٰۃ یا مالی خیرات کا آغاز اسلام کی ابتدا ہی میں ہو چکا تھا اور وفد عبد القیس کے (جو تقریباً 5ھ میں آیا تھا) سوال کے جواب میں آپ نے جن احکام کی تعلیم دی ان میں ایک زکوٰۃ بھی تھی۔ 2۔ 6ھ میں جب نجاشی نے نامہ مبارک پہنچنے کے بعد ابوسفیان سے جو اس وقت تک کافر تھے اسلام کی تعلیمات دریافت کیں تو انہوں نے دوسری چیزوں کے ساتھ زکوٰۃ و صدقہ کا 3 بھی تذکرہ کیا، ان واقعات سے بخوبی واضح ہے کہ 8ھ سے پہلے بلکہ ہجرت سے بھی پہلے بعثت کے بعد ہی نماز کے ساتھ ساتھ زکوٰۃ کی تعلیم بھی موجود تھی۔

لیکن چونکہ محمد رسول اللہ ﷺ کا طریقہ تعلیم صرف نظریوں کا پیش کرنا نہ تھا بلکہ امت کو عملاً اسلام کی تعلیمات پر کاربند بنانا تھا اس لئے حالات کے اقتضاء اور مناسبت کے ساتھ ساتھ تعلیمات کے تفصیلی اجزاء اور ان کے متعلقہ احکام کی تشریح آہستہ آہستہ تکمیل کو پہنچائی گئی۔ مکہ معظمہ میں مسلمانوں کی پریشانی، پراگندگی شکستہ حالی اور غربت و مسکینی کی جو کیفیت تھی اس کی بنا پر اتنا ہی ان کے لئے بہت تھا کہ وہ کسی یتیم و مسکین اور بھوکے کو کھانا کھلا دیں چنانچہ اس زمانہ میں اسی قسم کے خیرات کی تعلیم دی گئی۔

﴿وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْعَقَبَةُ ۝ فَكُّ رَقَبَةٍ ۝ أَوْ إِطْعَامٌ فِي يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ ۝ يَتِيمًا ذَا مَقْرَبَةٍ ۝ أَوْ مِسْكِينًا ذَا مَتْرَبَةٍ﴾ (سورۃ البلد، آیات: 12-16) "اور تو کیا سمجھا کہ وہ گھاٹی کیا ہے کسی (قرض دار یا قیدی یا غلام) کی گردن چھڑانا یا بھوک کے دن میں ناتے کے کسی بن باپ کے بچے کو یا خاک میں پڑے ہوئے کسی محتاج کو کھانا کھلانا"

عام قریش پر جنہوں نے محمد رسول اللہ ﷺ کی اس انسانی ہمدردی کی پکار کو نہیں سنا، عتاب آیا۔ ﴿فذٰلِكَ الَّذِي يَدُعُّ الْيَتِيمَ ۝ وَلَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِينِ﴾ (سورۃ الماعون، آیات: 2-3) وہی ہے جو بن باپ کے بچے کو دھکا دیتا ہے اور غریب کے کھلانے پر اپنے کو آمادہ نہیں کرتا۔ ﴿كَلَّا ۖ بَل لَّا تُكْرِمُونَ الْيَتِيمَ ۝ وَلَا تَحَاضُّونَ عَلَىٰ طَعَامِ الْمِسْكِينِ﴾ (سورۃ الفجر، آیات: 17-18)


مسند احمد جلد اول صفحہ 202۔

صحیح بخاری کتاب الزکوٰۃ۔

صحیح بخاری جلد اول آغاز کتاب الزکوٰۃ و کتاب التفسیر۔


صفحہ 130

یہ بات نہیں بلکہ بن باپ کے بچے کی تم عزت نہیں کرتے اور آپس میں محتاج کے کھلانے کی تاکید نہیں کرتے۔ اور مسلمانوں کے اخلاص باہمی ہمدردی اور ان کے جذبۂ ترحم کی تعریف فرمائی کہ ﴿وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا ۝ إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا﴾ (سورۃ الانسان، آیات: 8-9) اور وہ (حاجت مند ہونے کے باوجود) محتاج یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تم کو صرف خدا کے لیے کھلاتے ہیں تم سے نہ بدلا چاہتے ہیں نہ شکریہ۔

مدینہ منورہ آ کر جب مسلمانوں کو کسی قدر اطمینان ہوا اور انہوں نے کچھ اپنا کاروبار شروع کیا تو روزہ کے ساتھ ساتھ 2ھ میں صدقۃ الفطر واجب ہوا، یعنی یہ کہ سال میں ایک دفعہ عید کے دن نماز سے پہلے ہر مسلمان سیر سوا سیر غلہ خدا کی راہ میں خیرات کرے تا کہ غریب و محتاج بھی اپنی عید کا دن پیٹ بھر کر خوشی اور مسرت سے گزاریں اس کے بعد مسلمانوں کو صدقہ اور خیرات کی عام طور سے تاکید کی گئی۔ انہوں نے دریافت کیا یا رسول اللہ ہم کیا خیرات کریں۔ ﴿يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ﴾ (سورۃ البقرہ، آیت: 215) وہ پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خیرات کریں۔ ارشاد ہوا۔ ﴿قُلِ الْعَفْوَ﴾ (سورۃ البقرہ، آیت: 219) کہہ دو (اے پیغمبر) کہ تمہاری ضرورت سے جو کچھ بچ رہے (اس کو خیرات کرو)

یہ زکوٰۃ کی تعیین کی راہ میں اسلام کا پہلا قدم ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت ابن عمرؓ کا قول نقل کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ زکوٰۃ کی مقدار و نصاب کے احکام نازل ہونے سے پہلے مسلمانوں کو یہ حکم تھا کہ جو کچھ بچے وہ خدا کی راہ میں خیرات کر دیں آئندہ کے لئے کچھ بچا کر نہ رکھیں 1 کہ اس وقت اسلام اور مسلمانوں کی حالت اسی کی مقتضی تھی کچھ دنوں کے بعد جب مسلمانوں کو فتوحات نصیب ہوئیں زمینیں اور جاگیریں ہاتھ آئیں تجارت کی آمدنی شروع ہوئی تو حکم ہوا۔ ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنفِقُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُم مِّنَ الْأَرْضِ﴾ (سورۃ البقرہ، آیت: 267) اے مسلمانوں! اپنی کمائی میں سے کچھ اچھی چیزیں اور جو ہم تمہارے لئے زمین سے پیدا کریں اس میں سے کچھ خیرات میں دو۔ مسلمانوں نے اس کی تعمیل کی تو خدا نے ان کی تعریف کی کہ ﴿وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ﴾ (سورۃ البقرہ، آیت: 3)


تاریخ طبری طبع یورپ صفحہ 1281۔

کتاب الزکوٰۃ مع فتح الباری جلد 3 صفحہ 216۔


صفحہ 131

اور ہم نے ان کو جو روزی دی ہے اس میں سے وہ کچھ خرچ (خیرات) کرتے ہیں۔ صحابہؓ کا یہ حال تھا کہ وہ بھی جن کے پاس کچھ نہ تھا خدا کی راہ میں کچھ نہ کچھ دینے کے لئے بے قرار رہتے تھے۔ چنانچہ جب یہ حکم ہوا کہ ہر مسلمان پر صدقہ دینا فرض ہے تو غریب و نادار صحابہؓ نے آ کر عرض کی، اے خدا کے رسول جس کے پاس کچھ نہ ہو وہ کیا کرے۔ فرمایا: وہ محنت مزدوری کر کے اپنے ہاتھ سے پیدا کرے، خود بھی فائدہ اٹھائے اور دوسروں کو بھی صدقہ دے۔ انہوں نے پھر گزارش کی کہ جس میں اس کی بھی طاقت نہ ہو وہ کیا کرے۔ فرمایا: کہ وہ فریاد خواہ حاجت مند کی مدد کرے۔ انہوں نے پھر دریافت کیا کہ اگر اس کی بھی قدرت نہ ہو تو؟ ارشاد ہوا تو وہ نیکی کا کام کرے اور برائی سے بچ رہے یہی اس کا صدقہ ہے۔ 1 آنحضرت ﷺ کی ان پُر اثر تعلیمات اور نصیحتوں کا صحابہ پر یہ اثر ہوا کہ وہ اس غرض کے لئے بازار جا کر بوجھ اٹھاتے تھے اور اس سے جو کچھ ملتا تھا اس کو خدا کی راہ میں خرچ کرتے تھے۔ 2

لیکن بایں ہمہ اب تک تمام عرب اسلام کے جھنڈے کے نیچے جمع نہیں ہوا تھا اور اس لئے اس کا کوئی مرتب قومی نظام بھی قائم نہ تھا۔ رمضان 8ھ میں مکہ کی فتح نے تمام عرب کو ایک رشتہ میں منسلک کر دیا اور اب وہ وقت آیا کہ اسلام اپنا خاص نظام قائم کرے، اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ ﴿خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا﴾ (سورۃ التوبہ، آیت: 103) "(اے محمد رسول اللہ) ان کے مال میں سے صدقہ (زکوٰۃ) وصول کرو کہ اس کے ذریعہ سے تم ان کو پاک و صاف کر سکو۔" چنانچہ اس کے بعد نئے سال یعنی محرم 9ھ میں زکوٰۃ کے تمام احکام و قوانین مرتب ہوئے، اس کی وصولی کے لئے تمام عرب میں محصلوں اور عاملوں کا تقرر ہوا۔ 3 اور باقاعدہ ایک بیت المال کی صورت پیدا ہوئی یہ تمام احکام و قوانین سورہ براءت میں مذکور ہیں جو 8ھ کے آخر میں نازل ہوئی ہے۔

زکوٰۃ کی مدت کی تعیین:

اسلام سے پہلے زکوٰۃ کی مدت کی تعیین میں بڑی افراط و تفریط تھی، تورات میں جو عشر یعنی دسواں حصہ مقرر کیا گیا تھا وہ تین سال میں ایک دفعہ واجب ہوتا تھا۔ (استثنا 14 - 28) اور انجیل میں کسی مدت اور زمانہ کی تعیین ہی نہ تھی۔ اس بنا پر زکوٰۃ کی تنظیم کے سلسلہ میں سب سے پہلی چیز اس کی مدت کا تعین تھا کہ وہ نہ تو اس قدر قریب اور مختصر زمانہ میں واجب الادا ہو کہ انسان بار بار کے دینے سے اکتا جائے اور بجائے خوشی اور دلی رغبت کے اس کو ناگوار اور جبر معلوم ہو اور نہ اس قدر لمبی مدت ہو کہ غریبوں مسکینوں اور قابل امداد لوگوں کو اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے طویل انتظار کی سخت تکلیف اٹھانی پڑے۔ اسلام نے اس معاملہ میں دنیا کے دوسرے مالی کاروبار کو دیکھ کر ایک سال کی مدت مقرر کی کیوں کہ تمام متمدن دنیا


صحیح بخاری کتاب الزکوٰۃ۔

ایضاً۔

ابن سعد جلد مغازی صفحہ 115 و تاریخ طبری جلد 3 صفحہ 272 مطبوعہ یورپ۔


صفحہ 132

نے خوب سوچ سمجھ کر اپنے کاروبار کے لئے 12 مہینوں کا سال مقرر کیا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ آمدنی کا اصلی سرچشمہ زمین کی پیداوار ہے اور اس کے بعد اس پیداوار کی خود یا اس کی بدلی ہوئی شکلوں کی صنعتی صورت کا بنانا اور ان کا بیوپار کرنا ہے آمدنی کے ان تمام ذریعہ کے لئے یہ ضروری ہے کہ سال کے مختلف موسم اور فصلیں جاڑا، گرمی، برسات، ربیع اور خریف گذر جائیں تا کہ پورے سال کے آمد و خرچ اور نفع و نقصان کی میزان لگ سکے اور زمیندار کاشتکار تاجر نوکر صناع ہر ایک اپنی آمدنی و سرمایہ کا حساب کتاب کر کے اپنی مالی حالت کا اندازہ لگا سکے۔ بڑے جانوروں کی پیدائش اور نسل کی افزائش میں بھی اوسطاً ایک سال لگتا ہے 1 ان تمام وجوہات سے ہر منظم جماعت ہر حکومت اور ہر قومی نظام نے محصول اور ٹیکس وصول کرنے کی مدت ایک سال مقرر کی ہے۔ شریعت محمدی نے بھی اس بارہ میں اسی طبعی اصول کا اتباع کیا ہے اور ایک سال کی مدت کی آمدنی پر ایک دفعہ اس نے زکوٰۃ کی رقم عائد کی ہے۔ چنانچہ اس کا کھلا ہوا ارشاد سورہ توبہ میں موجود ہے جس میں زکوٰۃ کے تمام احکام بیان ہوئے ہیں۔ زکوٰۃ کے بیان کے بعد ہی ہے۔ ﴿إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ﴾ (سورۃ التوبہ، آیت: 36) مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔

زکوٰۃ کی مقدار:

تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل میں زکوٰۃ کی مقدار پیداوار کا دسواں حصہ تھا اور نقد میں آدھا مثقال جو امیر و غریب سب پر یکساں فرض تھا۔ لیکن زمین کی مختلف قسمیں ہوتی ہیں کہیں زمین صرف بارش سے سیراب ہوتی ہے اور کہیں نہر کے پانی سے جہاں مزدوری اور محنت کا اضافہ ہو جاتا ہے نقد دولت کے بھی مختلف اصناف ہیں، بعض مرتبہ دولت بے محنت مفت ہاتھ آ جاتی ہے اور بعض اوقات سخت محنت کرنی پڑتی ہے اس لئے سب کا یکساں حال نہیں ہو سکتا۔ انجیل نے حسب دستور اس مشکل کا کوئی حل نہیں کیا۔ لیکن محمد رسول اللہ ﷺ کی شریعت کاملہ نے علم اقتصاد سیاسی (پولیٹیکل اکانومی) کے نہایت صحیح اصول کے مطابق دولت کے فطری اور طبعی ذرائع کی تعیین کی اور ہر ایک کے لئے زکوٰۃ کی مناسب شرح مقرر کر دی۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ شریعت محمدیہ نے تورات کی قانونی تعیین اور انجیل کی اخلاقی عدم تعیین دونوں حقیقتوں کو اپنے نظام میں جمع کر لیا۔ اس نے اخلاقی طور پر ہر شخص کو اجازت دے دی کہ وہ اپنا کل مال یا نصف مال یا کم و بیش جو وہ چاہے خدا کی راہ میں دے دے اس کا نام انفاق یا عام خیرات و صدقہ ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی فرض کر دیا کہ ہر شخص کی دولت میں غریبوں اور محتاجوں اور دوسرے نیک کاموں کے لئے بھی ایک مقررہ سالانہ حصہ ہے اور اس کا نام زکوٰۃ ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ﴿الَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ دَائِمُونَ ۝ وَالَّذِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُومٌ ۝ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ﴾ (سورۃ المعارج، آیات: 23-25)


بکری کی مدت حمل چھ مہینے، گائے کی نو اونٹ کی گیارہ اور بھینس کی بارہ مہینے ہے۔


صفحہ 133

جو اپنی نماز ہمیشہ ادا کرتے ہیں اور جن کے مالوں میں مانگنے اور محروم کا معلوم حصہ ہے۔ اس آیت سے صاف و صریح طریقہ سے یہ ثابت ہے کہ مسلمانوں کی دولت میں غریبوں کا جو حصہ ہے وہ متعین، مقرر، معلوم اور عملاً رائج ہے۔ چنانچہ قرآن پاک میں ﴿مَعْلُومٌ﴾ اور ﴿مَعْلُومَاتٍ﴾ کے الفاظ جہاں آئے ہیں وہاں یہی مقصود ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ عرب میں جو قوم کسی نہ کسی طرح زکوٰۃ ادا کرتی تھی اس کی جو شرح متعین اور رواج پذیر تھی اس کو اسلام نے کسی قدر اصلاح کے بعد قبول کر لیا تھا۔ عرب میں اس قسم کی زکوٰۃ صرف بنی اسرائیل ادا کرتے تھے جس کا حکم تورات میں مذکور ہے اور اس کی شرح بھی اس میں مقرر ہے۔ یعنی پیداوار میں دسواں حصہ اور نقد میں نصف مثقال۔ آنحضرت ﷺ نے اپنی حکمت ربانی سے اجناس زکوٰۃ پر مختلف شرحیں مقرر فرمائیں جو قیمت کے لحاظ سے اسی شرح معلوم کے مساوی ہیں اور ان شرحوں کو فرامین کی صورت میں لکھوا کر اپنے عمال کے پاس بھجوایا۔ یہی تحریری فرامین تدوین حدیث کے زمانہ تک بعینہٖ محفوظ تھے اور تدوین حدیث کے بعد ان کو بعینہٖ کتب حدیث میں درج کیا گیا جو آج تک موجود ہیں۔ اس تمام تفصیل کا مخرج قرآن پاک میں بھی ایک حیثیت سے مذکور ہے۔

یہ ظاہر ہے کہ انسان کی دولت صرف اس کی محنت اور سرمایہ کی پیداوار ہے۔ اس لئے اصول کا اقتضا یہ ہے کہ جس حد تک محنت اور سرمایہ کم لگتا ہو زکوٰۃ کی مقدار اسی قدر زیادہ رکھی جائے اور جیسے جیسے محنت بڑھتی اور سرمایہ کا اضافہ ہوتا جائے زکوٰۃ کی شرح کم ہوتی جائے۔ عرب میں یہ دستور تھا کہ قبیلوں کے سردار چوتھائی وصول کرتے تھے۔ اسی لئے وہ اپنے سرداروں کو رِباع (یعنی چوتھائی والا) کہا کرتے تھے۔ شاید دوسری پرانی قوموں میں بھی یہ دستور ہو۔ ہندوستان میں مرہٹوں نے بھی چوتھ ہی کو رائج کیا تھا مگر چونکہ اسلام کو محکوموں اور سپاہیوں کے ساتھ زیادہ رعایت مد نظر تھی اس لئے اس نے چار کو پانچ کر دیا۔ اس طرح چوتھ کے بجائے دولت کا پانچواں حصہ خدا اور رسول کا حصہ قرار پایا جس کو رسول اور ان کے بعد ان کے نائب اپنے ذاتی ضروریات اہل و عیال کے نان و نفقہ اور نادار مسلمانوں کی امداد یا حکومت اور جماعت کی کسی اور ضروری مدد میں صرف کر سکیں۔ اس زکوٰۃ کا نام جو غنیمت کے مال پر عائد ہوتی ہے 'خُمس' ہے قرآن نے کہا۔ ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ﴾ (سورۃ الانفال، آیت: 41) اور جان لو کہ جو کچھ تم کو غنیمت ملے اس کا پانچواں حصہ خدا کے لئے اور رسول کے لئے اور قرابت مندوں کے لئے اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافر کے لئے ہے۔

نکتہ:

اس موقع پر ایک خاص بات سمجھنے کے لائق ہے جہاد یا دشمنوں سے لڑائی کا اصلی مقصد دین کی حمایت اور اعلائے کلمۃ اللہ ہے غنیمت کا مال حاصل کرنا نہیں اور اگر کوئی صرف حصول غنیمت کی نیت سے دشمن سے لڑے تو اس کی یہ لڑائی اسلام کی نگاہ میں جہاد نہ ہو گی اور نہ اس کا کوئی ثواب ملے گا۔ اس کی طرف خود قرآن پاک میں اشارہ موجود ہے اور


صفحہ 134

سیرت النبی ﷺ (حصہ پنجم)

آنحضرت ﷺ نے بھی متعدد حدیثوں میں اس کی تشریح فرما دی ہے۔ اس بنا پر درحقیقت وہ مال غنیمت جو لڑائی میں دشمنوں سے ہاتھ آتا ہے ایک ایسا سرمایہ ہے جو بلا قصد اور بلا محنت اتفاقاً مسلمانوں کو مل جاتا ہے اس سے یہ نکتہ حل ہو جاتا ہے کہ جو سرمایہ کسی محنت کے بغیر اتفاقاً ہاتھ آئے اس میں پانچواں حصہ نظام جماعت کا حق ہے یا حکومت کے مقررہ بالا مصارف کے لئے ہے۔

یہ اصول کہ جو سرمایہ بلا کسی محنت کے اتفاقاً کسی مسلمان کے ہاتھ آ جائے اس میں سے پانچواں حصہ خدا اور رسول کا ہے تاکہ وہ جماعت کے مشترکہ مقاصد کے صرف میں آئے وہی ہے جس کی بنا پر رِکاز یعنی دفینہ میں جو کسی کو بلا محنت اتفاقاً غیب سے ہاتھ آ جائے خمس (یعنی پانچواں حصہ) جماعت کے بیت المال کا حق تسلیم کیا گیا ہے۔

محنت اور سرمایہ سے جو دولت پیدا ہوتی ہے اس میں سب سے پہلی چیز زمین کی پیداوار ہے۔ تورات نے ہر قسم کی پیداوار پر عشری یعنی دسواں حصہ مقرر کیا تھا۔ شریعتِ محمدیہ نے نہایت نکتہ سنجی کے ساتھ پیداوار کی مختلف قسموں پر مختلف شرح زکوٰۃ کی تفصیل کی۔ سب سے پہلے پیداوار کے ان اصناف پر زکوٰۃ مقرر ہوئی جو کچھ زمانہ تک محفوظ رہ سکتے ہیں تاکہ ان سے حسب منشاء خانگی اور تجارتی فائدہ اٹھایا جا سکے اور نقصان کا اندیشہ نہ ہو۔ اسی بنا پر سبزیوں اور ترکاریوں پر جو ایک دو روز سے زیادہ نہیں رہ سکتیں کوئی زکوٰۃ مقرر نہیں فرمائی گئی۔ اسی طرح اس مالیت پر جس میں نشو و نما اور ترقی کی صلاحیت نہیں مثلاً آلات، مکان، لباس، سامان، اسباب، سواری، قیمتی پتھر ان پر بھی زکوٰۃ نہیں رکھی گئی، کچھ دنوں تک باقی رہنے والی اور نشو و نما پانے والی چیزیں چار ہیں۔ زمین، جانور، سونا، چاندی یا ان کے سکے اور تجارتی مال، چنانچہ ان چاروں چیزوں پر زکوٰۃ مقرر ہوئی۔

زمین کی دو قسمیں کی گئیں ایک وہ جس کے جوتنے اور بونے کی محنت اور مزدوری کا خرچ گاہ کا شکار کرتا ہے مگر

حاشیہ:



قیمتی پتھروں سے مراد جواہرات اور موتی وغیرہ ہیں ان پر اس لئے زکوٰۃ نہیں ہے کہ اسلام نے ان کو صرف اسبابِ زینت قرار دیا ہے۔ فرمایا: {حِلْيَةً تَلْبَسُونَهَا} (1) (نحل و فاطر) زینت جن کو تم پہنتے ہو۔ یہ ایسے ہی ہیں جیسے بعض فقہا کے نزدیک سونے چاندی کے استعمالی زیوروں پر زکوٰۃ نہیں کہ یہ بھی ان کے نزدیک اسبابِ زینت میں ہیں، اب اگر کوئی شخص ہزاروں اور لاکھوں روپے کے جواہرات جمع کرلے تو اس کی تین صورتیں ہو سکتی ہیں۔ یا تو تجارت کے لئے ہیں، تو ان پر مالِ تجارت کی حیثیت سے ان کی قیمت کے لحاظ سے زکوٰۃ واجب ہوگی دوسری یہ کہ کوئی بد نصیب زکوٰۃ سے بچنے کے لئے اپنی دولت کو جواہرات کی صورت میں منتقل کرتا ہے تو قانوناً اس سے زکوٰۃ وصول نہیں کی جائے گی لیکن دیانتاً وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سخت گنہگار ہوگا، اور تیسری صورت یہ ہے کہ وہ محض سامانِ تعیش اور فخر و مباہات کے لئے جمع کرتا ہے تو اس کی حالت وہی ہوگی جو بیش قیمت لباسوں اور سامانوں کا ذخیرہ جمع کرلے، اس کا شمار اسراف میں ہوگا اور اس پر وعید ہے۔

اصل یہ ہے کہ جواہرات کی قیمت کی گرانی نقدین (یعنی سونے چاندی) کی طرح طبعی نہیں ہے بلکہ محض فرضی ہے نہ وہ خود ضروریاتِ زندگی میں ہیں نہ ان سے ضروریات زندگی کا مبادلہ یا خریداری معمولاً کی جاتی ہے چند دولت مندوں کی طلب اور مانگ نے ان کی فرضی قیمت بنا رکھی ہے اگر ان جواہرات کی آب جاتی رہی یا وہ ٹوٹ جائیں یا ان میں بال پڑ جائے تو ان کی قیمت فوراً گر جائے گی، بخلاف سونے چاندی کے کہ ان کی قیمت کی گرانی طبعی اسباب سے ہے اور وہ ضروریات زندگی کے لئے زرِ مبادلہ ہے۔ وہ بھی ٹوٹ جائے یا میلا بھی ہو جائے تو بھی اس کی قیمت ہر حال میں باقی ہے اس لئے وہ معیارِ زر ہیں۔


صفحہ 135

سیرت النبی ﷺ (حصہ پنجم)

موسیٰ اور اقلیمی خصوصیت کی وجہ سے اس کے سیراب کرنے میں کاشتکار کی کسی بڑی محنت اور مزدوری کو دخل نہیں ہوتا بلکہ وہ بارش یا نہر کے پانی یا زمین کی نمی اور شبنم سے آپ سے آپ سیراب ہوتی ہے اس پر بلا محنت والی اتفاقی دولت سے آدھی زکوٰۃ یعنی عشر (1/10) مقرر کیا گیا۔ زمین کی دوسری قسم یعنی وہ جس کی سیرابی کاشتکار کی خاص محنت اور مزدوری سے ہو مثلاً کنوئیں سے پانی نکال کر لانا یا نہر بنا کر پانی لانا تو اس میں قسم اول سے بھی نصف یعنی بیسواں حصہ (1/20) مقرر ہوا۔ نقدی سرمایہ جس کی ترقی حفاظت نشو و نما اور افزائش میں انسان کو شب و روز کی سخت محنت کرنی پڑتی ہے اور جس کی افزائش کے لئے بڑے سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے اور جس میں ہر قدم پر چوری، گم شدگی، لوٹ اور نقصان کا اندیشہ رہتا ہے زمین کی دوسری قسم کا بھی آدھا یعنی چالیسواں (1/40) حصہ مقرر ہوا۔ (1) (جانوروں کا ذکر آگے آتا ہے)۔

زمینی پیداوار اور نقد سرمایہ میں شرحِ زکوٰۃ کی کمی بیشی کی ایک دقیق اقتصادی علت اور بھی ہے انسان کی اصلی ضرورت جس پر اس کا جینا منحصر ہے صرف غذا ہے۔ زمین کے مالکوں کو یہ چیز براہ راست خود اپنی محنت سے حاصل ہوتی جاتی ہے اور زندگی کی سب سے بڑی ضرورت سے وہ بے پروا ہو جاتے ہیں لیکن سونے چاندی کے مالکوں اور تاجروں کی جو دولت ہے وہ براہ راست ان کی زندگی کی اصلی ضرورت کے کام میں نہیں آتی بلکہ مبادلہ اور خرید و فروخت کے ذریعہ سے وہ اس کو حاصل کرتے ہیں وہ کاشتکاروں کی پیداوار کو خرید کر ان کو نقد روپے دیتے ہیں جس سے ان کی دوسری ضرورتیں پوری ہوتی ہیں پھر وہ اس پیداوار کو لے کر گاؤں گاؤں، شہر شہر، ملک ملک پھرتے ہیں اور اس کی بھی اجرت ادا کرتے ہیں نیز جو محنت زمین کی پیداوار حاصل کرنے میں صرف ہوتی ہے اس سے بدرجہا زیادہ نقد کے حصول میں صرف کرنی پڑتی ہے۔ سونا چاندی صدیوں کے فطری انقلابات کے بعد کہیں پیدا ہوتی ہے اور غلہ ہر سال اور سال کی ہر فصل میں انسان کی کوشش سے پیدا ہوتا ہے اس لئے سونا چاندی کی قیمت کا معیار غلہ سے گراں تر ہے ایک اور بات یہ ہے کہ کاشتکار اور زمینوں کے مالک عموماً دیہاتوں میں رہتے اور شہروں سے دور ہوتے ہیں نیز وہ عموماً سونا چاندی اور سکوں سے بھی محروم رہتے ہیں۔ اس لئے نسبتاً وہ قومی ضروریاتِ دین کی مالی خدمات اور مستحقین کی امداد میں اس انفاق یعنی اخلاقی خیرات کی گرفت سے آزاد رہتے ہیں جن کو عموماً نقد صورت میں دولت کے مالک اور تاجر پورا کیا کرتے ہیں اس بنا پر بھی سخت ضرورت تھی کہ ان کے لئے قانونی خیرات کی شرح اہل زمین سے مختلف رکھی جائے۔

زکوٰۃ کی شرح مقدار کی تعیین میں اس خمس والی آیت سے ایک اور نکتہ معلوم ہوتا ہے کہ خمس میں چونکہ امامت و حکومت کے تمام ذاتی و قومی مصارف شامل ہیں اس لئے وہ کل کا خمس یعنی 1/5 مقرر ہوا اور زکوٰۃ کے مصارف جیسا کہ سورہ توبہ رکوع 8 میں مذکور ہیں صرف آٹھ ہیں اس بناء پر ان آٹھ مصارف کے لئے مجموعی رقم چالیسواں حصہ رکھی گئی پھر غور کیجئے کہ سونا چاندی کی شرح 200 درہم یا اس کے مماثل سونا ہے۔ ان دو سو درہموں کو 5 پر تقسیم کر دیجئے تو 40 ہو جائے گا۔ یہ کل زکوٰۃ کی شرحیں 1/5 اور 1/10 اور 1/20 اور 1/40 ایک دوسرے کا نصف یا ایک دوسرے کا مضاعف ہوتی چلی گئی ہیں اس سے یہ اندازہ ہوگا کہ یہ تقسیم و تحدید حساب اور اقتصادیات کے خاص اصول پر مبنی ہے۔

(1) یہ نکتہ حافظ ابن قیم نے زاد المعاد میں بیان کیا ہے۔


صفحہ 136

سیرت النبی ﷺ (حصہ پنجم)

جانوروں پر زکوٰۃ:

تورات میں ہر قسم کے جانوروں میں دسواں حصہ زکوٰۃ کا تھا۔ (1) لیکن چونکہ ہر قسم کے جانوروں میں نسل کی افزائش کی صلاحیت اور مدتِ افزائش (زمانہ حمل) یکساں نہیں ہوتی نیز جانوروں میں دسویں بیسویں کا حصہ مشاع ہر تعداد پر چسپاں نہیں ہو سکتا اس لئے ان میں دسویں بیسویں کے بجائے تعداد کے تعیین کی ضرورت تھی۔ شریعتِ محمدیہ نے اس نقص کو پورا کیا۔ چنانچہ اسی پہلے اصول (پیدائش اور افزائش کی مدت کیفیت اور کمیت) کی بنا پر اولاً بے نسل یا کم نسل کے جانوروں کو زکوٰۃ سے مستثنیٰ کر دیا۔ مثلاً خچر، گھوڑے (2) پر کوئی زکوٰۃ نہیں دوسرے جانوروں کی مالیت اور قوت و کیفیت افزائش کے لحاظ سے حسبِ ذیل شرح معین ہوئی۔ یہ وہ شرح نامہ ہے جو خود آنحضرت ﷺ نے اپنی حکمتِ ربانی سے فیصلہ فرما کر طے کیا اور زبانی نہیں بلکہ فرامین کی صورت میں لکھوا کر عمال کو عنایت فرمایا تھا اور خلفائے راشدین نے اسی کی نقلیں حدودِ حکومت میں بھجوائیں اور جس کی تعمیل آج تک برابر بلا اختلاف ہوتی آئی ہے۔

(1) اخبار 27: 32-34 (2) حنفیہ کے نزدیک خیل متناسل اور تجارت کے گھوڑوں میں زکوٰۃ ہے، سواری اور جہاد کے گھوڑوں میں نہیں۔


صفحہ 137

سیرت النبی ﷺ (حصہ پنجم)

نصابِ مال کی تعیین:

شرحِ زکوٰۃ کے تعیین کے سلسلہ میں شرائعِ سابقہ میں ایک اور کمی تھی جس کی تکمیل محمد رسول اللہ ﷺ کی شریعت نے کر دی۔ جن دوسری شریعتوں میں قانونی خیرات کی تعیین ہے ان میں امیر و غریب اور کم اور زیادہ دولت والوں کی تفریق نہیں کی گئی تھی۔ مثلاً اگر دس میں روپے والوں یا دس پانچ گائے اور بکری والوں سے یہ زکوٰۃ وصول کی جاتی تو ان پر ظلم ہوتا، تورات میں غلہ اور مویشی پر جو عشر اور نقد پر جو آدھا مثقال مقرر کیا گیا ہے اس میں اس کا لحاظ نہیں کیا گیا ہے بلکہ آدھے مثقال کی زکوٰۃ میں تو یہاں تک کہہ دیا گیا ہے کہ: "خداوند کے لئے نذر کرتے وقت آدھے مثقال سے امیر زیادہ نہ دے اور غریب کم نہ دے"۔ (خروج 30: 15)

لیکن شریعتِ محمدی نے اس نکتہ کو ملحوظ رکھا اور غریبوں، ناداروں، مقروضوں اور ان غلاموں کو جو سرمایہ نہیں رکھتے یا اپنی آزادی کے لئے سرمایہ جمع کر رہے ہیں اس سے بالکل مستثنیٰ کر دیا نیز دولت کی کم مقدار رکھنے والوں پر بھی ان کی اپنی حسبِ خواہش اخلاقی خیرات کے علاوہ کوئی باقاعدہ زکوٰۃ عائد نہیں کی اور کم مقدار کی دولت کا معیار بھی اس نے خود مقرر کر دیا۔ سونے کی زکوٰۃ وہی آدھا مثقال رکھا لیکن بتا دیا کہ یہ آدھا مثقال اسی سے لیا جائے گا جو کم از کم پانچ اوقیہ یعنی بیس مثقال سونے کا مالک ہو اور 5 اوقیہ یعنی 20 مثقال سونے کی متوسط قیمت دو سو درہم چاندی کے سکے ہیں یعنی ایک اوقیہ چالیس درہم کے برابر ہے۔ (1) وہ کم سے کم معیارِ دولت جس پر زکوٰۃ نہیں حسب ذیل ہے۔

(1) موجودہ انگریزی حساب سے بیس مثقال سونا سات تولہ کے اور دو سو درہم چاندی 52 روپے کے برابر ہے۔ (2) سنن ابی داؤد کتاب الزکوٰۃ باب من یعطی الزکوۃ الغنی جلد اول صفحہ 164 اصح المطابع لکھنو۔ (3) ایک وسق وہ بوجھ ہے جس کو عادتاً ایک اونٹ اٹھا سکتا ہے۔


صفحہ 138

سیرت النبی ﷺ (حصہ پنجم)

اس معیار سے امیر و غریب کی سطحوں میں جو یکساں زکوٰۃ کی ناہمواری تھی وہ دور ہو گئی اور جو غریب خود زکوٰۃ کے مستحق تھے وہ اس قومی محصول سے بری ہو گئے۔

ان مذکورہ بالا اشیاء کی تعداد و جنسیت کے اختلاف کی وجہ سے گو مختلف ہے مگر مالی اعتبار سے وہ ایک ہی معیار پر مبنی ہیں۔ پانچ وسق غلہ، دو سو درہم چاندی اور پانچ اوقیہ سونا درحقیقت ایک ہی معیار ہے۔ ایک اوقیہ جیسا کہ معلوم ہو چکا چالیس درہم کے برابر ہے۔ اس بنا پر پانچ اوقیہ اور دو سو درہم برابر ہیں۔ اسی طرح ایک وسق غلہ کی قیمت اس زمانہ میں چالیس (1) یا 4 مثقال تھی یعنی پانچ اوقیہ اور پانچ وسق کی قیمت وہی دو سو درہم یا 20 مثقال ہوگی۔

زکوٰۃ کے مصارف اور ان میں اصلاحات:

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت میں تین قسم کی زکوٰۃ تھی ایک آدھے مثقال سونے چاندی کی یہ رقم جماعت کے خیمہ یا پھر بیت المقدس کی تعمیر و مرمت اور قربانی کے طلائی و نقرئی ظروف و سامان کے بنانے میں خرچ کی جاتی تھی۔ (خروج 30: 13) دوسری خیرات یہ تھی کہ کھیت کاٹتے اور پھل توڑتے وقت حکم تھا کہ جا بجا کونوں اور گوشوں میں کچھ دانے اور پھل چھوڑ دیئے جائیں۔ وہ غریبوں اور مسافروں کا حصہ تھا۔ (احبار 19: 10) اور سوم یہ تھی کہ ہر تیسرے سال کے بعد پیداوار اور جانوروں کا دسواں حصہ خدا کے نام پر نکالا جائے اس کے مصارف یہ تھے کہ دینے والا مع اہل و عیال کے بیت المقدس جا کر جشن منائے اور کھلائے اور کھلائے اور لاویوں میں جو مورتی کاہن اور خدا کے گھر کے خدمت گزار ہیں نام بنام تقسیم کیا جائے (اس کے بدلے میں وہ خاندانی وراثت سے محروم رکھے گئے تھے) اس کے بعد یہ چیزیں بیت المقدس کے خزانہ میں جمع کر دی جاتی تھیں کہ ان سے مسافروں، یتیموں اور بیواؤں کو کھانا کھلایا جائے۔ (استثناء 14: 26 سے 29 تک)

شریعتِ محمدیہ نے مذہب کی حقیقت میں سب سے بڑی جو اصلاح کی۔ 1۔ وہ عبادت میں خدا اور بندہ کے درمیان سے واسطوں کا حذف کرنا تھا۔ یہاں ہر شخص اپنا آپ امام اور کاہن ہے۔ اس بنا پر مفت خور کاہنوں اور عبادت گاہوں کے خادموں کی ضرورت ساقط ہو گئی اور اس لئے زکوٰۃ کا یہ مصرف جو قطعاً بیکار تھا کلیتہً اڑ گیا۔ 2۔ عبادت میں سادگی پیدا کر کے ظاہری رسموں اور نمائشوں سے اس کو پاک کر دیا گیا اس لئے سونے چاندی کے سامانوں قربانی کے برتنوں اور محرابوں کے طلائی شمع دانوں کی ضرورت ہی نہیں رہی۔ 3۔ حج ان ہی پر واجب کیا گیا جن کے پاس زادِ راہ ہو اس لئے ہر شخص کو خواہ مخواہ بیت اللہ جانے کی حاجت نہ رہی اور اس لئے یہ رقم بھی خارج ہو گئی۔ 4۔ زکوٰۃ کی چیز کو مالک کے ذاتی ضروریات اور کھانے میں صرف ہونے کی ممانعت کر دی گئی کہ اگر وہ

(1) ہدایتہ جلد اول باب الزکوۃ فی التجارة۔


صفحہ 139

سیرت النبی ﷺ (حصہ پنجم)

مالک ہی کے ضروریات میں خرچ ہو گئی تو اس میں ایثار کیا ہوا۔

۵۔ اسی طرح وہ تمام سامان اور رقمیں جو ان مدوں سے بچیں، غریبوں، مسکینوں اور مسافروں وغیرہ کو دے دی گئیں۔

گذشتہ اصلاحات کے علاوہ شریعت محمدیہ نے زکوٰۃ کے سلسلہ میں بعض اور اصلاحیں بھی کی ہیں مثلاً

۶۔ شریعت سابقہ میں ایک بڑی تنگی یہ تھی کہ زکوٰۃ خود مستحقین کے حوالہ نہیں کی جاتی تھی بلکہ ذخیرہ میں جمع ہو کر اس کا کھانا پک کر غرباء میں تقسیم ہوتا تھا لیکن عام انسانی ضرورتیں صرف کھانے تک محدود نہیں ہیں۔ اس لئے شریعت محمدیہ نے اس رسم میں یہ اصلاح کی کہ غلہ یا رقم خود مستحقین کو دے دی جائے تا کہ وہ جس طرح چاہیں اپنی ضروریات میں صرف کریں۔

۷۔ ایک بڑی کمی یہ تھی کہ نقد زکوٰۃ جو آدھے مثقال والی تھی وہ بیت المقدس کے خرچ کے لئے مخصوص تھی اس کے علاوہ کوئی دوسری نقد زکوٰۃ نہ تھی۔ شریعت محمدیہ نے بیس مثقال پر آدھا مثقال نقد زکوٰۃ فرض کر کے اس کو بھی تمام تر مستحقین کے ہاتھوں میں دے دیا۔

۸۔ غلہ کی صورت یہ تھی کہ سارے کا سارا بیت المقدس چلا جاتا تھا اور وہیں سے وہ پکوا کر تقسیم کیا جاتا تھا۔ یہ انتظام بنی اسرائیل کی ایک چھوٹی سی قوم کے لئے تو شاید موزوں ہو سکتا ہو مگر ایک عالمگیر مذہب کے تمام عالم میں منتشر پیروؤں کے لئے یہ بالکل ناممکن تھا اس لئے مناسب سمجھا گیا کہ ہر جگہ کی زکوٰۃ اسی مقام کے مستحقین میں صرف کی جائے۔

۹۔ بعض منافقین اور دیہاتی بدوؤں کی یہ حالت تھی کہ وہ اس قسم کے صدقات کی لالچ کرتے تھے۔ جب تک ان کو امداد ملتی رہتی خوش اور مطمئن رہتے اور جب نہ ملتی تو طعن و طنز کرنے لگتے۔ اسلام نے ایسے لوگوں کا منہ بند کرنے اور ان کی مفت خوری کی عادت بد کی اصلاح کے لئے زکوٰۃ کے جملہ مصارف کی تعیین کر دی اور بتا دیا کہ اس کے مستحق کون لوگ ہیں اور اس رقم سے کس کس کو مدد دی جا سکتی ہے۔ چنانچہ سورۂ توبہ کے ساتویں رکوع میں اس کا مفصل ذکر ہے۔

۱۰۔ اگر زکوٰۃ کے مصارف کی تعیین نہ کی جاتی اور اس کے مستحقین کے اوصاف نہ بتا دیئے جاتے تو یہ تمام سرمایہ خلفاء اور سلاطین کے ہاتھوں میں کھلونا بن جاتا اور سلطنت کی دوسری آمدنیوں کی طرح یہ بھی ان کے عیش و عشرت کے پر تکلف سامانوں کی نذر ہو جاتا اس لئے تاکید کر دی گئی کہ جو غیر مستحق اس کو لے گا اس کے لئے یہ حرام ہے اور جو شخص کسی غیر مستحق کو اپنی زکوٰۃ جان بوجھ کر دے گا تو اس کی زکوٰۃ ادا نہ ہوگی۔ اسی بندش کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں زکوٰۃ تا بامکان اب تک صحیح مصارف میں خرچ ہوتی ہے۔

۱۱۔ اس قسم کی مالی رقوم جب کوئی اپنے پیروؤں پر عائد کرتا ہے تو اس کی نہایت قوی بدگمانی ہو سکتی ہے کہ وہ اس طرح اپنے اور اپنے خاندان کے لئے ایک دائمی آمدنی کا سلسلہ پیدا کرنا چاہتا ہے۔ حضرت موسیٰ کی شریعت میں زکوٰۃ کا مستحق حضرت ہارون اور ان کی اولاد (بنولاوی) کو ٹھہرایا گیا تھا، کہ وہ خاندانی کاہن مقرر ہوئے تھے۔ مگر آنحضرت ﷺ نے اس قسم کی بدگمانیوں کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کر دیا اور اپنے خاندان کے لئے قیامت تک زکوٰۃ کی ہر مد قطعی طور پر حرام

صفحہ 140

سیرت النبی ﷺ (حصہ پنجم)

قرار دی۔

۱۲۔ قرآن مجید میں زکوٰۃ کے آٹھ مصارف قرار دیئے گئے۔

﴿إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ﴾ (توبہ۔۸)

زکوٰۃ کا مال تو غریبوں مسکینوں اور زکوٰۃ کے صیغہ میں کام کرنے والوں، اور ان لوگوں کے لئے ہے جن کے دلوں کو اسلام کی طرف ملانا ہے اور گردن چھڑانے میں جو تاوان بھریں ان میں اور خدا کی راہ میں اور مسافر کے بارہ میں یہ خدا کی طرف سے ٹھہرایا ہوا ہے اور خدا جاننے والا اور حکمت والا ہے۔ (اس لئے اس کی یہ تقسیم علم و حکمت پر مبنی ہے)

فقراء میں ان خود دار اور مستور الحال شرفاء کو ترجیح دی ہے جو دین اور مسلمانوں کے کسی کام میں مصروف ہونے کی وجہ سے کوئی نوکری چاکری یا بیوپار نہیں کر سکتے اور حاجت مند ہونے کے باوجود کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے اور اپنی آبرو اور خودداری کو ہر حال میں قائم رکھتے ہیں چنانچہ فرمایا:

﴿لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُهُمْ بِسِيمَاهُمْ لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا﴾ (بقرہ۔۳۷)

ان مفلسوں کو دینا ہے جو اللہ کی راہ میں اٹک رہے ہیں اور زمین میں (روزی حاصل کرنے کے لئے) چل پھر نہیں سکتے، ناواقف ان کے نہ مانگنے کی وجہ سے ان کو بے احتیاج سمجھتے ہیں، تم ان کو ان کے چہرہ سے پہچانتے ہو کہ وہ حاجت مند ہیں، وہ لوگوں سے لپٹ کر نہیں مانگتے۔

تمام مستحقین کو درجہ بدرجہ ان کی اہمیت اور اپنے تعلق کے لحاظ سے دینا چاہئے۔ چنانچہ اسی سورہ میں فرمایا:

﴿وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ﴾ (بقرہ۔۲۲)

اور جس نے خدا کی محبت پر (یا مال کی محبت کے باوجود) قرابت مندوں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں، مانگنے والوں اور (غلاموں یا مقروضوں کی) گردن چھڑانے میں مال دیا۔

اس کے تین چار رکوع کے بعد ہے۔

﴿قُلْ مَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ﴾ (بقرہ۔۳۶)

کہو جو تم مال خرچ کرو وہ اپنے ماں باپ رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لئے۔

دو ضرور تمندوں میں ترجیح:

اسلام سے پہلے عام طور پر یہ سمجھا جاتا تھا کہ قرابت مندوں اور رشتہ داروں کے دینے سے اجنبی بیگانہ اور بے تعلق لوگوں کو دینا زیادہ ثواب کا کام ہے اور اس کی وجہ یہ سمجھی جاتی تھی کہ اپنے لوگوں کے دینے میں کچھ نہ کچھ نفسانیت کا اور ایک حیثیت سے خود غرضی کا شائبہ ہوتا ہے کیوں کہ وہ اپنے ہی رشتہ دار ہیں اور ان کا نفع و نقصان اپنا ہی نفع و نقصان ہے،

صفحہ 141

سیرت النبی ﷺ (حصہ پنجم)

لیکن درحقیقت یہ ایک قسم کا اخلاقی مغالطہ اور فریب تھا۔ ایک انسان پر دوسرے انسان کے جو حقوق ہیں وہ تمام تر تعلقات کی کمی و بیشی پر مبنی ہیں۔ جو جتنا قریب ہے اتنا ہی زیادہ آپ کے حقوق اس پر اور اس کے حقوق آپ پر ہیں۔ اگر یہ نہ ہو تو رشتہ داری اور قرابت مندی کے فطری تعلقات بالکل لغو اور مہمل ہو جائیں۔ انسان پر سب سے پہلے اس کا اپنا حق ہے پھر اہل و عیال کا۔ ان کے جائز حقوق ادا کرنے کے بعد اگر سال میں کچھ بچ رہے تو اس میں حصہ پانے کے سب سے زیادہ مستحق قرابت دار ہیں۔ چنانچہ وراثت اور ترکہ کی تقسیم میں اس اصول کی رعایت کی گئی ہے۔

یہ سمجھنا بھی کہ اگر قرابت داروں کو ترجیح دی جائے تو دوسرے غریبوں کا حق کون ادا کرے گا ایک قسم کا مغالطہ ہے دنیا میں ہر انسان کسی نہ کسی کا رشتہ دار ضرور ہے اس بنا پر اگر ہر شخص اپنے رشتہ داروں کی خبر گیری کرے تو کل انسانوں کی خبر گیری ہو جائے گی اس کے علاوہ اس مقام پر ایک اور غلط فہمی بھی ہے جس کو دور ہو جانا چاہئے مستحقین میں باہم ایک کو دوسرے پر جو فوقیت ہے اس کا مدار دو چیزوں پر ہے ایک تو دینے والوں سے ان اشخاص کے قرب و بعد کی نسبت، دوسرے ان اشخاص کی حاجتوں اور ضرورتوں کی کمی و بیشی۔ قرابت مندوں کی ترجیح کے یہ معنی نہیں ہیں کہ خواہ ان کی ضرورت کتنی ہی کم اور معمولی ہو ان کو ان لوگوں پر ترجیح ہے جن کی ضرورت اور حاجتمندی ان سے کہیں زیادہ ہے بلکہ مسئلہ کی صورت یہ ہے کہ اگر دو ضرورت مند برابر کے حاجت مند ہوں اور ان میں سے ایک آپ کا عزیز یا دوست یا ہمسایہ ہو تو وہ آپ کی امداد کا زیادہ مستحق ہوگا۔ یعنی ضرورت اور حاجت کی مساوات کے بعد تعلقات کی کمی و بیشی ترجیح کا دوسرا سبب بنے گی نہ کہ پہلا سبب اور یہ انسان کی فطرت ہے کہ ایسی حالت میں وہ اپنے عزیزوں اور دوستوں کو ترجیح دے۔

فقراء اور مساکین میں سے ان لوگوں پر جو بے حیائی کے ساتھ در بدر بھیک مانگتے پھرتے ہیں ان کو ترجیح دی گئی ہے جو فقر و فاقہ کی ہر قسم کی تکلیف گوارا کرتے ہیں، لیکن اپنی عزت و آبرو اور خودداری کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتے اور لوگوں کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے ہیں۔ یہ تعلیم خود قرآن پاک نے دی ہے جیسا کہ اوپر بیان ہوا نیز آنحضرت ﷺ نے بھی اس کی تاکید فرمائی ہے۔ آپ نے فرمایا، مسکین وہ نہیں ہے جس کو ایک دو لقمے در بدر پھرایا کرتے ہیں۔ صحابہؓ نے دریافت کیا پھر کون مسکین ہے۔ ارشاد ہوا، وہ جس کو حاجت ہے لیکن اس کا پتہ نہیں چلتا اور وہ کسی سے مانگتا نہیں۔ ۱؎

اس تعلیم کے دو مقصد ہیں ایک تو یہ کہ ان بھیک مانگنے والوں کو تو کوئی نہ کوئی دے ہی دے گا اور وہ کہیں نہ کہیں سے پا ہی جائیں گے اس لئے ان کی طرف اس قدر اعتنا ضروری نہیں، اصلی توجہ ان مستور الحال مسکینوں کی طرف ہونی چاہئے جو صبر و قناعت کے ساتھ فقر و فاقہ کی تکلیف برداشت کر رہے ہیں کہ ان کی خبر اکثریت کو نہیں ہو سکتی اور اکثر وہ امداد سے محروم رہ جاتے ہیں، دوسرا مقصد یہ ہے کہ شریعت اپنی تعلیم اور عمل سے یہ ثابت کر دے کہ بے حیا گداگروں کی عزت اس کی نگاہ میں نہایت کم ہے اور وہ ہر حال میں اس بے حیائی کو ناپسند کرتی ہے۔

شریعت نے مصارف زکوٰۃ کی تعیین و تحدید اس غرض سے بھی کی ہے تاکہ ہر شخص کو مانگنے کی ہمت نہ ہو اور ہر کس و ناکس اس کو اپنی آمدنی کا ایک آسان ذریعہ نہ سمجھ لے۔ جیسا کہ بعض منافقین اور اہل بادیہ نے اس کو اپنے ایمان و اسلام کی قیمت سمجھ رکھا تھا۔ چنانچہ وحی الٰہی نے ان کی پردہ دری ان الفاظ میں کی ۔

۱؎ صحیح مسلم کتاب الزکوٰۃ باب المسكين الذي لايجد غنى و لا يفطن له فيتصدق عليه۔

صفحہ 142

سیرت النبی ﷺ (حصہ پنجم)

﴿وَمِنْهُمْ مَنْ يَلْمِزُكَ فِي الصَّدَقَاتِ فَإِنْ أُعْطُوا مِنْهَا رَضُوا وَإِنْ لَمْ يُعْطَوْا مِنْهَا إِذَا هُمْ يَسْخَطُونَ ۰ وَلَوْ أَنَّهُمْ رَضُوا مَا آتَاهُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ سَيُؤْتِينَا اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَرَسُولُهُ إِنَّا إِلَى اللَّهِ رَاغِبُونَ ۰ إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ﴾ (توبہ۔۸)

اور بعض ان میں سے ایسے ہیں جو تجھ کو (پیغمبر کو) زکوٰۃ بانٹنے میں طعن دیتے ہیں اگر ان کو اس میں سے ملے تو راضی ہوں اور اگر نہ ملے تو وہ ناخوش ہو جائیں اور کیا خوب تھا اگر وہ اس پر راضی رہتے جو خدا اور اس کے رسول نے ان کو دیا اور کہتے ہیں کہ ہم کو اللہ بس ہے، ان کو اللہ اپنی مہربانی سے اور اس کا رسول دے رہیں گے ہم کو تو خدا ہی چاہئے زکوٰۃ تو حق ہے غریبوں کا، مسکینوں کا، اور اس کا کام کرنے والوں کا، اور ان کا جن کا دل (اسلام کی طرف) پرچانا ہے، اور گردن چھڑانے میں اور خدا کی راہ میں اور مسافروں میں یہ حصے خدا کی طرف سے ٹھہرائے ہوئے ہیں۔

ایک دفعہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے زکوٰۃ کے مال میں سے کچھ پانے کی درخواست کی۔ آپ نے فرمایا ”اے شخص اللہ تعالیٰ نے مال زکوٰۃ کی تقسیم میں کسی انسان کو بلکہ پیغمبر تک کو کوئی اختیار نہیں دیا ہے۔ بلکہ اس کی تقسیم خود اپنے ہاتھ میں رکھی ہے اور اس کے آٹھ مصرف بیان کر دیئے ہیں اگر تم ان آٹھ میں سے ہو تو میں تم کو دے سکتا ہوں۔“ ۱؎

اسلام میں زکوٰۃ کے مصارف ہشت گانہ:

یہ آٹھوں مصارف نیکی، بھلائی اور خیر و فلاح کی ہر قسم اور ہر صنف کو محیط ہیں، فقراء اور مساکین میں وہ تمام اہل حاجت داخل ہیں جو اپنی محنت و کوشش سے اپنی روزی کمانے کی صلاحیت نہیں رکھتے جیسے بوڑھے، بیمار، اندھے، لولے، لنگڑے، مفلوج، کوڑھی، یا وہ جو محنت کر سکتے ہیں لیکن موجودہ حالت میں دین وملت کی کسی ایسی ضروری خدمت میں مصروف ہیں کہ وہ اپنی روزی کمانے کی فرصت نہیں پاتے، جیسے مبلغین، مذہبی معلمین، بالغ طالب العلم جو ﴿لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ﴾ میں اسی طرح داخل ہیں جس طرح آنحضرت ﷺ کے زمانہ مبارک میں اصحاب صفہ داخل تھے اور وہ کم نصیب بھی داخل ہیں جو اپنی پوری محنت اور کوشش کے باوجود اپنی روزی کا سامان پیدا کرنے سے اب تک قاصر رہے ہیں اور فاقہ کرتے ہیں۔

﴿وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا﴾ یعنی امام کی طرف سے صدقہ کی تحصیل وصول کا کام کرنے والے بھی اس میں سے اپنے کام کی اجرت پاسکتے ہیں اور ﴿وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ﴾ (جن کی تالیف قلوب کی جائے) میں وہ لوگ داخل ہیں جن کو ابھی اسلام کی طرف مائل کرنا ہے یا جن کو اسلام پر مضبوط کرنا ہے ﴿وَفِي الرِّقَابِ﴾ (گردن کے چھڑانے میں) اس سے مقصود وہ غلام ہیں جن کی گردنیں دوسروں کے قبضہ میں ہیں اور ان کو خرید کر آزاد کرنا ہے اور وہ مقروض ہیں جو اپنا قرض آپ کسی طرح ادا نہیں کر سکتے ﴿وَالْغَارِمِينَ﴾ (تاوان اٹھانے والوں) سے مراد وہ نیک لوگ ہیں جنہوں نے دوسرے لوگوں اور قبیلوں میں مصالحت کرانے کے لئے کسی مالی ضمانت کی ذمہ داری اپنے اوپر لے لی ہے۔ یہ مالی ضمانت ایک قومی نظام کی حیثیت سے زکوٰۃ کے بیت المال سے ادا کی جا سکتی ہے۔ ﴿وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ (خدا کی راہ میں) ایک وسیع مفہوم

۱؎ ابوداؤد کتاب الزکوٰۃ باب من یعطی الصدقہ و حدالغنی۔

صفحہ 143

سیرت النبی ﷺ (حصہ پنجم)

ہے جو ہر قسم کے نیک کاموں کو شامل ہے۔ ۱؎ اور حسب ضرورت کبھی اس سے مذہبی لڑائی یا سفر حج یا اور دوسرے نیک کام مراد لئے جاسکتے ہیں اور ﴿وَابْنِ السَّبِيلِ﴾ (مسافر میں) میں مسافروں کی ذاتی مدد کے علاوہ مسافروں کی راحت رسانی کے سامان کی تیاری مثلاً راستوں کی درستی، پلوں اور مسافر خانوں کی تعمیر بھی داخل ہو سکتی ہے۔ ۲؎ یہ ہیں زکوٰۃ کے وہ آٹھ مقررہ مصارف جن میں اسلام نے اس قومی ومذہبی رقم کو خرچ کرنے کی تاکید کی ہے۔

مسکینوں، فقیروں اور معذوروں کی امداد:

زکوٰۃ کا سب سے اہم مصرف یہ ہے کہ اس سے لنگڑے، لولے، اندھے، بوڑھے، کوڑھی، مفلوج اور دوسرے معذور لوگوں کی امداد کی جائے۔ نادار یتیموں بیواؤں اور ان لوگوں کی خبر گیری کی جائے جو اپنی کوشش اور جدوجہد کے باوجود روزی کا سامان نہیں کر پاتے۔ یہ زکوٰۃ کا وہ مصرف ہے جو تقریباً ہر قوم میں اور ہر مذہب میں ضروری خیال کیا گیا ہے اور ان مستحقین کی یہ قابل افسوس حالت خود کسی مزید تشریح کی محتاج نہیں۔ لیکن اسلام نے ان کے علاوہ زکوٰۃ کے چند اور ایسے مصارف مقرر کئے ہیں جن کی اہمیت کو خاص طور سے صرف اسلام ہی نے محسوس کیا ہے۔

غلامی کا انسداد:

غلامی انسان کے قدیم تمدن کی سب سے بوجھل زنجیر تھی یہ زنجیر انسانیت کی نازک گردن سے صرف اسلام نے کاٹ کر الگ کی، غلاموں کے آزاد کرنے کے فضائل بتائے ان کے ساتھ نیکی احسان اور حسن سلوک کی تاکید کی اور ان سب سے بڑھ کر یہ کہ زکوٰۃ کی آمدنی کا ایک خاص حصہ اس کے لئے نامزد فرمایا کہ اس سے غلاموں کو خرید کر آزاد کیا جائے لیکن چونکہ غلاموں کو آزاد کرنے کی پوری قیمت یا اس کی آزادی کا پورا زر فدیہ ہر ایک شخص برداشت نہیں کر سکتا تھا اس لئے زکوٰۃ کی مجموعی رقم سے اجتماعی طور سے اس فرض کو ادا کرنے کی صورت تجویز کی انسانوں کے اس درماندہ طبقہ پر یہ اتنا بڑا عظیم الشان احسان کیا گیا ہے کہ جس کی نظیر دنیا کے محسنین کی فہرست میں نظر نہیں آسکتی۔ پیغمبر اسلامؐ کی شریعت نے صرف اس لئے کہ انسانوں کے اس واجب الرحم فرقہ کو اپنی کھوئی ہوئی آزادی واپس ملے، اپنی امت پر ایک دائمی رقم واجب ٹھہرا دی کہ اس کے ذریعہ سے نیکی کے اس سلسلہ کو اس وقت تک قائم رکھا جائے جب تک دنیا کے تمام غلام آزاد نہ ہو جائیں یا اس رسم کا دنیا کی تمام قوموں سے خاتمہ نہ ہوجائے۔

مسافر:

گذشتہ زمانہ میں سفر کی مشکلات اور دقتوں کو پیش نظر رکھ کر یہ بہ آسانی سمجھ میں آسکتا ہے کہ مسافروں کی امداد

۱؎ اکثر فقہاء نے فی سبیل اللہ سے مراد صرف جہاد لیا ہے مگر یہ تحدید صحیح نہیں معلوم ہوتی۔ آیت گذر چکی لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ یہاں فی سبیل اللہ سے بالاتفاق صرف جہاد ہی نہیں بلکہ ہر نیکی اور دینی کام مراد ہے اکثر فقہاء نے یہ بھی کہا ہے کہ زکوٰۃ میں تملیک یعنی کسی شخص کی ذاتی ملکیت بنانا ضروری ہے مگر ان کا استدلال جو للفقراء کے لام تملیک پر مبنی ہے بہت کچھ مشتبہ ہے ہو سکتا ہے کہ لام انتفاع ہو جیسے خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا۔

۲؎ کتاب الخراج قاضی ابو یوسف باب الصدقات۔

سیرت النبی ﷺ

حصہ پنجم

۱۴۴

اور ان کے لئے سفر کے وسائل و ذرائع کی آسانی کی کتنی ضرورت تھی۔ صحرا اور بیابان جنگل اور میدان آبادی اور ویرانی ہر جگہ آنے جانے والوں کا تانتا لگا رہتا تھا اور اب تک یہ سلسلہ قائم ہے۔ یہ وہ ہیں جو اپنے اہل وعیال عزیز واقارب دوست واحباب مال و دولت سے الگ ہو کر اتفاقات اور حوادث کے سیلاب سے بہہ کر کہاں سے کہاں نکل جاتے ہیں ان کے پاس کھانے کے لئے کھانا، پینے کے لئے پانی ،سونے کے لئے بستر ، اوڑھنے کے لئے چادر نہیں ہوتی اور یہ حالت ہر انسان کو کسی نہ کسی وقت پیش آجاتی ہے۔ اس لئے ضرورت تھی کہ ان کے آرام و آسائش کا سامان کیا جائے اسی اصول پر سرائیں، کنوئیں، مسافر خانے پہلے بھی بنوائے جاتے تھے اور اب بھی بنوائے جاتے ہیں۔

آپ کہہ سکتے ہیں کہ اب اس اسٹیم اور بجلی کے عہد میں یہ تمام مشکلیں افسانہ کہن اور داستان پارینہ ہوگئی ہیں اب ہر جگہ اچھے سے اچھے ہوٹل ، تیز سے تیز سواریاں، بڑے سے بڑے بنک ، اور آمدورفت کا سامان کرنے والی کمپنیاں قائم ہوگئی ہیں اور سفر وحضر میں کوئی فرق نہیں رہا ہے۔ مگر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ جو کچھ ہوا ہے یہ صرف دولتمندوں اور سرمایہ داروں کی راحت و آسائش کے لئے ہوا اور ان کے ان نئے طریقوں نے پرانے طریقوں کے پرانے آثار کو حرف غلط کی طرح مٹا دیا ہے۔ آج متمدن دنیا کے بڑے سے بڑے پررونق شہروں سے لے کر معمولی دیہاتوں تک میں جہاں امیر اور دولتمند مسافروں کے لئے قدم قدم پر ہوٹل، ریستوران ، قہوہ خانے، اور آرام خانے موجود ہیں وہاں اس پورے مسیحی ملک میں حضرت مسیحؑ کی طرح ایک غریب مسافر کے لئے کہیں سر رکھنے کی جگہ نہیں۔ کسی کی جیب میں جب تک کسی بنک کا نوٹ اور چیک نہیں اس کے لئے ہوٹلوں اور اقامت خانوں کے تمام دروازے بند ہیں۔ کیا یہ انسانیت کے لئے رحم ہے؟ کیا یہ بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی ہے؟ لیکن ان تمام ملکوں کے طول وعرض میں جو محمد رسول اللہ ﷺ کے غلاموں کے قبضہ میں آئے سراؤں، مسافرخانوں، کنوؤں اور مہمان خانوں کا وہ وسیع سلسلہ قائم ہو گیا کہ ایک غریب مسلمان سپین کے کنارہ سے چل کر کاشغر کے ایک گاؤں میں بہ آرام و آسائش پہنچ جاتا تھا اور ہندوستان کے اس سرے سے روم کے اس سرے تک ﴿اَهْلاً بِاَهْلٍ وَادٍ طَاناً بِاَوْطَانٍ﴾ کہتا ہوا بے خطر چلا جاتا تھا اور آج بھی اس نظام کی بدولت ان اسلامی ملکوں میں جو ابھی یورپ کے سرمایہ دارانہ طور وطریق سے واقف نہیں ہیں غریب مسافروں کو وہی آرام و آسائش حاصل ہے اور امراء اور دولتمندوں کے لئے کیا کہنا کہ ایک پرانے جہاں گرد سیاح بزرگ (سعدی) کے مقولہ کے مطابق:

منعم بکوہ و دشت و بیاباں غریب نیست ہر جا کہ رفت خیمہ زد و بارگاہ ساخت

جماعتی کاموں کے اخراجات:

جب تک منتشر افراد ایک شیرازہ میں نہیں بندھ جاتے حقیقت میں جماعت کا وجود نہیں ہوتا لیکن جماعت کے وجود کے ساتھ ہی افراد کی طرح جماعت کو بھی ضروریات پیش آتی ہیں، جماعت کے کمزوروں معذوروں اور مفلسوں کی مدد جماعت اور اس کے اصول کی حفاظت کے لئے سرفروشانہ مجاہدہ کی صورت میں اس کے اخراجات کی کفالت، جماعت کی آمدورفت اور سفر کے وسائل کی ترقی و تعمیر، جماعت کی خاطر جماعت کے مالی نقصان اٹھانے والوں اور مقروضوں کی امداد کرنا، جماعت کے ان کارکنوں کو معاوضہ دینا جو جماعت کی مذہبی علمی تعلیمی خدمات بجالائیں اور اس رقم کی فراہمی اور نظم و

سیرت النبی ﷺ

حصہ پنجم

۱۴۵

نسق کے فرائض انجام دیں زکوٰۃ اسی نظام جماعت کا سرمایہ دولت ہے۔

زکوٰۃ کے مقاصد، فوائد اور اصلاحات:

زکوٰۃ کا اصلی اور مرکزی مقصد وہی ہے جو خود لفظ ”زکوٰۃ“ کے اندر ہے۔ زکوٰۃ کے لفظی معنی پاکی اور صفائی کے ہیں یعنی گناہ اور دوسری روحانی قلبی اور اخلاقی برائیوں سے پاک وصاف ہونا قرآن پاک میں یہ لفظ اسی معنی میں بار بار آیا ہے۔ سورہ والشمس میں ہے۔

﴿ قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا ﴾ (شمس۔۱)

مراد پایا وہ جس نے اپنے نفس کو پاک وصاف کیا اور نامراد ہوا وہ جس نے اس کو میلا اور گندہ کیا۔

ایک اور سورہ میں ہے

﴿ قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ ﴾ (اعلیٰ۔۱)

مراد پایا وہ جو پاک وصاف ہوا۔

یہ تزکیہ اور پاکی وصفائی نبوت کی ان تین عظیم الشان خصوصیتوں میں سے ایک ہے جن کا ذکر قرآن پاک کی تین چار آیتوں میں آیا ہے۔

﴿ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ ﴾ (بقرہ و جمعہ۔۱)

وہ نبی خدا کی آیتیں پڑھ کر ان کو سناتا ہے اور ان کو گناہوں سے پاک وصاف کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت کی باتیں سکھاتا ہے۔

تزکیۂ نفس:

ان آیتوں سے اندازہ ہوگا کہ زکوٰۃ اور تزکیہ یعنی پاکی وصفائی کی اہمیت اسلام اور شریعت محمدی میں کتنی ہے؟ یہ دل کی پاکی، روح کی صفائی اور نفس کی طہارت، مذہب کی اصل غایت اور نبوتوں کا اصل مقصد ہے۔ انسانوں کی روحانی و نفسانی بیماریوں کے بڑے حصہ کا سبب تو خدا سے خوف ورجاء اور تعلق ومحبت کا نہ ہونا ہے اور اس کی اصلاح نماز سے ہوتی ہے۔ لیکن دوسرا بڑا سبب غیر اللہ کی محبت اور مال ودولت اور دیگر اسباب دنیا سے دل کا تعلق ہے۔ زکوٰۃ اسی دوسری بیماری کا علاج ہے غزوہ تبوک کے موقع پر جب بعض صحابہؓ سے باغ وبستان کی محبت کے سبب سے، جو ان کی دولت تھی، غزوہ میں عدم شرکت کا جرم ثابت ہوا ہے اور پھر ان کی صداقت اور سچائی کے باعث خدا نے ان کو معاف کیا ہے وہاں محمد رسول اللہ ﷺ کو خطاب کر کے قرآن پاک میں ارشاد ہے۔

﴿ خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا ﴾ (توبہ۔۱۳)

ان کے مالوں میں سے زکوٰۃ لے کر ان کو پاک وصاف بنا۔

اس آیت سے ثابت ہوا کہ اپنے محبوب مال میں سے کچھ نہ کچھ خدا کی راہ میں دیتے رہنے سے انسانی نفس کے آئینہ کا سب سے بڑا زنگ جس کا نام محبت مال ہے دل سے دور ہو جاتا ہے۔ بخل کی بیماری کا اس سے علاج ہو جاتا

سیرت النبی ﷺ

حصہ پنجم

۱۴۶

ہے۔ مال کی حرص بھی کم ہو جاتی ہے۔ دوسروں کے ساتھ ہمدردی کرنے کا جذبہ ابھرتا ہے۔ شخصی خودغرضی کی بجائے جماعتی اغراض کے لئے اپنے اوپر ایثار کرنا انسان سیکھتا ہے اور یہی وہ دیواریں ہیں جن پر تہذیب نفس اور حسن خلق کی عمارت قائم اور جماعتی زندگی کا نظام ہے۔

قرآن مجید میں سود اور صدقہ میں جو حد فاصل قرار دی گئی ہے، وہ یہ ہے۔

﴿ يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ ﴾ (بقرہ۔۳۸)

خدا سود کو گھٹاتا اور صدقہ کو بڑھاتا ہے۔

لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ درحقیقت سود میں نقصان اور صدقہ کے مال میں اضافہ ہوتا ہے کیوں کہ مشاہدہ بالکل برعکس ہے۔ بلکہ اخروی ثواب وگناہ اور برکت و بے برکتی کے فرق کے علاوہ اصلی مقصد اس سے یہ ہے کہ سود گو شخصی دولت میں اضافہ کرتا ہے لیکن جماعتی دولت کو برباد کر دیتا ہے جس سے پوری قوم مفلس ہو جاتی ہے اور آخر وہ شخص بھی تباہ ہو جاتا ہے اور قومی صدقہ وعطا سے قوم کے نہ کمانے والے افراد کی امداد ہو کر قومی دولت کا معتدل نظام باقی رہتا ہے اور ساری قوم خوشی اور برکت کی زندگی بسر کرتی ہے۔ اگر سود لینے والا کبھی اتفاقی مالی خطرہ میں پڑ جاتا ہے تو اس کی مدد کے لئے جماعت ایک انگلی تک نہیں ہلاتی لیکن صدقہ دینے والے کی امداد کے لئے پوری قوم کھڑی ہو جاتی ہے۔

ایک اور بات یہ ہے کہ سود خور اس قدر حریص اور طماع ہوجاتے ہیں کہ ان کو مال کی کثیر مقدار بھی کم نظر آتی ہے اور جو لوگ صدقہ اور زکوٰۃ دینے کے خوگر ہوتے ہیں وہ اس قدر مستغنی اور قانع ہو جاتے ہیں کہ ان کے لئے تھوڑا مال بھی کافی ہوتا ہے۔ سود خور اپنے مال کے اضافہ اور ترقی کی حرص میں اتنا آگے بڑھ جاتا ہے کہ جس تلوار سے دوسروں کو قتل کر کے اس کی دولت پر قبضہ کرتا ہے آخر اسی تلوار سے دوسرا اس کو قتل کر کے اس کے تمام اصل ومنافع پر بیک دفعہ قبضہ کر لیتا ہے۔ لیکن صدقہ وخیرات دینے والا جو دوسروں کی دولت ناجائز طریق سے نہیں لوٹتا بلکہ خود دوسروں کو اپنے مال سے دیتا ہے اور سلامت روی کے ساتھ اپنے کاروبار کو چلاتا ہے، اس کو کوئی دوسرا بھی نہیں لوٹتا وہ اپنے سرمایہ اور قلیل منافع کو محفوظ رکھتا ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے تجارتی شہروں کی منڈیاں اور کوٹھیاں اس عبرت انگیز واقعہ کی پوری تصویر ہیں اور یہ ہر روز کا مشاہدہ ہے۔ پھر ظاہر ہے کہ استغنا اور قناعت ایسی چیز ہے جو تمام اخلاقی محاسن کا سنگ بنیاد ہے۔ بلکہ محمد رسول اللہ ﷺ نے نہایت بلیغ وحکیمانہ طریق سے یہ ارشاد فرمایا کہ:

﴿ لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ ﴾ ۱؂

تونگری دولت کی کثرت کا نام نہیں ہے بلکہ مال کی بے نیازی کا نام ہے۔

اس حدیث کا ترجمہ سعدی نے ان لفظوں میں کیا ہے 'تونگری بدل ست نہ بمال' دوسرے لفظوں میں یوں کہو کہ دولت آمدنی کی زیادتی کا نام نہیں بلکہ ضروریات کی کمی کا نام ہے لیکن یہ غیر فانی دولت حرص وطمع سے نہیں بلکہ صبر وقناعت کی بدولت حاصل ہوتی ہے۔ اس بناء پر کیا کسی کو زکوٰۃ وصدقہ کے مظہر مزکی اور مصلح اخلاق ہونے میں شبہ ہوسکتا ہے؟

سود خور کو دوسروں کو لوٹنے سے اتنی فرصت کہاں ملتی ہے کہ وہ دوسروں کی مدد کا فرض ادا کرے وہ تو ہمیشہ اس

۱؂ بخاری کتاب الرقاق باب الغنی غنی النفس۔

سیرت النبی ﷺ

حصہ پنجم

۱۴۷

تاک میں رہتا ہے کہ دوسرے مصیبتوں اور دقتوں میں پھنسیں اور وہ ان کی اس حالت سے فائدہ اٹھائے۔ لیکن جو زکوٰۃ ادا کرتے ہیں وہ ہمیشہ قابل ہمدردی اشخاص کی ٹوہ میں لگے رہتے ہیں تاکہ وہ اپنے مال ودولت سے اس کی مدد کر کے ان کے زخم دل پر مرہم رکھ سکیں۔


باہمی اعانت کی عملی تدبیر:

زکوٰۃ اور صدقات کے مصارف کا بڑا حصہ غریبوں اور حاجت مندوں کی امداد ہے۔ انسانیت کا یہ وہ طبقہ ہے جس کے ساتھ تمام مذہبوں نے ہمدردی کی ہے، اور اس کی تسلی اور تسکین کے لئے دوسری دنیا کی توقع اور امید کے بڑے بڑے خوش آئند الفاظ استعمال کئے ہیں، لیکن یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اس کی زندگی کی یہ تلخی محض اہل مذاہب کی شیریں کلامی سے دور نہیں ہو سکتی۔ محمد رسول اللہ ﷺ دنیا کے پہلے اور وہی پچھلے پیغمبر ہیں جنہوں نے اس طبقہ کے ساتھ اپنی عملی ہمدردی کا ثبوت دیا اور اس کی تکلیفوں اور مصیبتوں کو کم کرنے کے لئے عملی تدبیر جاری اور نافذ فرمائی۔ خود اپنی زندگی غریبوں اور مسکینوں کی صورت سے بسر کی اور دعا فرمائی کہ خداوند! مجھے مسکین زندہ رکھ، مسکین اٹھا اور مسکینوں ہی کے زمرہ میں میرا حشر کر۔ آپ کے گھر کا چبوترا (صفہ) غریبوں اور مسکینوں کی پناہ کا سایہ تھا، وہی آپ کی بزم قدس کے مقرب درباری اور اسلام کے معرکوں کے مخلص جانباز تھے۔ آپ کی نظر میں کسی انسان کی غربت اور تنگ دستی اس کی ذلت اور رسوائی کے ہم معنی نہ تھی۔ نہ دولت وامارت عزت و وقار کے مرادف تھی بلکہ صرف نیکی اور پرہیزگاری فضیلت و بزرگی کا اصلی معیار تھی۔ حضرت مسیحؑ نے فرمایا کہ مبارک ہیں وہ جو دل کے غریب ہیں کیوں کہ آسمان کی بادشاہت انہیں کی ہے۔ ۱؂ آنحضرت ﷺ نے اس سے زیادہ اختصار وایجاز کے ساتھ اس مطلب کو ادا فرمایا۔

﴿ إِنَّ الْمُكْثِرِينَ هُمُ الْمُقِلُّونَ ﴾ ۲؂

جو دولت مند ہیں وہی غریب ہیں۔

اس کے دوسرے معنی یہ ہوئے کہ جو غریب ہیں وہی دولت مند ہوں گے۔ پھر انہیں خوشخبری دی کہ غریب (جن کو خدا کے آگے اپنی کسی دولت کا حساب نہیں دینا ہے) دولت والوں سے 40 سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ ۳؂

اسلام نے ان روحانی تسلیوں اور بشارتوں کے ساتھ جو مزید کام کیا وہ ان کی دنیاوی تکلیفوں اور مصیبتوں کو کم کرنے کی عملی تدبیریں ہیں جن کا نام صدقہ اور زکوٰۃ ہے۔ اس کی تعلیم نے اس عملی ہمدردی اور اعانت کو صرف اخلاقی ترغیب و تشویق تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس کے لئے دو قسم کی تدبیریں اختیار کیں۔ ایک یہ کہ ہر مسلمان کو نصیحت کی کہ جس سے جتنا ہو اپنی دولت سے ان کی مدد کرے۔ یہ اخلاقی خیرات ہے جس کا نام قرآن کی اصطلاح میں انفاق ہے لیکن چونکہ یہ اخلاقی خیرات ہر شخص کو اس ضروری نیکی پر مجبور نہیں کرتی اس لئے ایک مقدار معین کے مالک پر ایک ایسا قانونی محصول

۱؂ متی ۵۔۳۔

۲؂ صحیح بخاری کتاب الرقاق باب المکثرون ہم المقلون۔

۳؂ جامع ترمذی کتاب الزہد باب ماجاء ان فقراء المھاجرین یدخلون الجنۃ قبل اغنیائھم۔


عائد کیا جس کا سالانہ ادا کرنا اس کا مذہبی فرض ہے اور اس مجموعی رقم کا بڑا حصہ غریبوں اور محتاجوں کی امداد و اعانت کے لئے مخصوص کیا اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی اس تعلیم کو ایک ناقابل تغیر دستور العمل کے طور پر اپنی امت کو ہمیشہ کے لئے سپرد فرمایا۔ چنانچہ آپ نے معاذ بن جبلؓ کو اپنا نائب بنا کر یمن بھیجا تو توحید اور نماز کے بعد جس چیز کا حکم دیا وہ یہی زکوٰۃ ہے۔ پھر اس کی نسبت ان کو یہ ہدایت فرمائی کہ:

﴿ تُؤْخَذُ مِنْ اَغْنِيَاءِهِمْ فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَاءِهِمْ ﴾ ۱؂

وہ ان کے دولتمندوں سے لے کر ان کے غریبوں کو لوٹا دیا جائے

صحابہؓ نے آپ کی ہدایت کے بموجب ان دونوں قسموں کی خیراتوں پر اس شدت سے عمل کیا کہ جو استطاعت نہ بھی رکھتے تھے وہ بازار جا کر مزدوری کرتے تھے تا کہ جو رقم ہاتھ آئے وہ غریب و معذور بھائیوں کی اخلاقی اعانت میں خرچ کریں اور اس معاملہ میں خود آپ نے یہاں تک اس طبقہ کی دلجوئی کی فرمایا ’’اگر کسی کے پاس کچھ اور نہ ہو تو لطف و مہربانی سے بات کرنا ہی اس کا صدقہ ہے‘‘ اس سے زیادہ یہ کہ اس کی بھی ممانعت کی گئی کہ جو تمہارے سامنے ہاتھ پھیلائے اس کو سختی سے واپس نہ کیا کرو، خدا نے تعلیم دی:

﴿ فَاَمَّا الْيَتِيْمَ فَلَا تَقْهَرْ ۝ وَاَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْهَرْ ﴾ (الضحیٰ: ۱۰)

تو یتیم کو نہ دبانا اور نہ مانگنے والے کو جھڑک۔

ساتھ ہی یہ بھی حکم دیا کہ اگر تم کسی حاجت مند کی مدد کرو تو اس پر احسان مت دھرو کہ وہ شرمندہ ہو بلکہ خدا کا شکر ادا کرو کہ اس نے تم کو یہ نعمت دی اور اس کی توفیق عنایت کی۔ احسان دھرنے سے وہ نیکی کا پیالہ حباب کی طرح ٹوٹ کر بیٹھ جائے گا فرمایا:

﴿ لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْاَذٰى ﴾ (بقرہ: ۲۶۴)

تم اپنی خیرات کو احسان دھر کر یا طعنہ دے کر برباد نہ کرو۔

اس لطف، اس مدارات اور اس دلجوئی کے ساتھ محمد رسول اللہ ﷺ نے خدا کے حکم سے انسانیت کے قابل رحم طبقہ کی چارہ نوازی فرمائی اور ہم کو باہمی انسانی محبت اور ایک دوسرے کی مدد کا سبق پڑھایا۔ اگر یہ حکم صرف اخلاقی حیثیت سے یا صرف مبہم طریقہ سے ہوتا یا سب کو سب کچھ دے ڈالنے کا عام حکم دے دیا جاتا تو کبھی اس پر اس خوبی، اس نظام اور اس پابندی کے ساتھ عمل نہ ہوسکتا اور آج بھی مسلمانوں کے سامنے یہ راہ کھلی ہوئی ہے اور کچھ نہ کچھ ہر جگہ اس پر عمل بھی ہے یہی سبب ہے کہ مسلمانوں میں اگر امیر کم ہیں تو ویسے غریب و محتاج بھی کم ہیں جیسے دوسری قوموں میں نظر آتے ہیں تاہم افسوس ہے کہ ایک مدت سے مسلمانوں کا یہ نظام سخت ابتری کی حالت میں ہے اور اس کی تنظیم کی طرف سے غفلت بڑھتی جارہی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارا ہر قسم کا جماعتی کام منتشر و پراگندہ ہے۔

دولت مندی کی بیماریوں کا علاج:

دولت مندی اور تمول کا مسئلہ ہمیشہ سے دنیا کے مذاہب میں ایک معرکۃ الآراء بحث کی حیثیت سے چلا آرہا ہے،

۱؂ صحیح بخاری جلد دوم صفحہ ۱۰۹۹ کتاب الزکوٰۃ مطبع احمدی۔

صفحہ 149

سیرت النبی ﷺ (حصہ پنجم)

یہودیت کی طرح بعض ایسے مذہب ہیں جن میں نہ تو دولت مندی کی کوئی تحقیر کی گئی اور نہ مفلسی وغربت کو سراہا گیا ہے بلکہ گویا اس بحث کو نامفصل چھوڑ دیا گیا ہے لیکن عیسائیت اور بودھ مت دو ایسے مذہب ہیں جن میں دولت کی پوری تحقیر کی گئی ہے۔ عیسائیت کی نظر میں دولت مندی اور تمول نجات کی راہ کا کانٹا ہے بلکہ کوئی انسان اس وقت تک نجات نہیں پا سکتا جب وہ سب کچھ جو اس کے پاس ہے خدا کی راہ میں لٹا نہ دے، انجیل میں ہے کہ ایک نیکوکار دولت مند نے حضرت عیسیٰؑ سے نجات کا طریقہ دریافت کیا تو جواب میں فرمایا:

’’اگر تو کامل ہوا چاہتا ہے تو جا کے سب کچھ جو تیرا ہے بیچ ڈال اور محتاجوں کو دے کہ تجھے آسمان پر خزانہ ملے گا تب آ کے میرے پیچھے ہولے۔‘‘

وہ دولت مند یہ تعلیم سن کر غمگین ہو کر چلا گیا تب انجیل میں ہے کہ حضرت عیسیٰؑ نے فرمایا:

’’میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ دولت مند کا آسمان کی بادشاہت میں داخل ہونا مشکل ہے بلکہ میں تم سے کہتا ہوں کہ اونٹ کا سوئی کے ناکے سے گزر جانا اس سے آسان ہے کہ دولت مند خدا کی بادشاہت میں داخل ہو۔‘‘ (متی ۱۹۔۲۱-۲۴)

بدھ مت نے نیک لوگوں کو ترک دنیا کی تلقین کی ہے اور ہر قسم کی دولت سے پاک رہنے کی ہدایت کی ہے اور ایسے لوگوں کے لئے یہ سامان کیا ہے کہ جب وہ بھوکے ہوں تو بھیک کا پیالہ لے کر لوگوں کے دروازوں پر کھڑے ہو جائیں۔ لیکن محمد رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں طریقوں کو ناپسند فرمایا، اصل یہ ہے کہ اگر دولت ایسی بری چیز ہے تو اس برائی کو دوسروں کی طرف منتقل کر دینا ان کی خیر خواہی نہ ہوئی دشمنی ہوئی اور اگر غربت کوئی برائی کی چیز ہے تو سب کچھ دوسروں کو دے کر خود اسی حال میں بن جانا کہاں کی دانشمندی اور اصلاح ہے، اس لئے یہ طریقہ ہر شخص کے لئے یکساں مفید نہیں۔ نہ نفسِ دولت فرشتہ کو شیطان اور نہ نفسِ غربت شیطان کو فرشتہ بناتی ہے جس طرح دولت مندی دنیا میں ہزاروں سیہ کاریوں کی محرک ہے اسی طرح غربت بھی دنیا کے ہزاروں جرائم کا باعث ہے اور ان دونوں خرابیوں سے انسانوں کو بچانا ایک نبوتِ عظمیٰ کا فرض تھا۔ دولت بہ حیثیت دولت اور غربت بہ حیثیت غربت، نیک و بد اور خیر و شر دونوں صفتوں سے پاک ہے۔ بلکہ نیکی کرنے کی عام صلاحیت اور اہلیت کے لحاظ سے دیکھا جائے تو ایک نیکوکار دولت مند ایک نیکوکار غریب سے بدرجہا نیکی کے مواقع زیادہ رکھتا ہے اسی لئے دولت اسلام کی نگاہ میں خدا کی ایک نعمت ہے لعنت نہیں، ہنر ہے عیب نہیں، خیر ہے شر نہیں۔ چنانچہ قرآن پاک میں متعدد موقعوں پر دولت کو خیر اور فضل سے تعبیر کیا گیا ہے اور احادیث سے بھی دولت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔

چنانچہ آنحضرت ﷺ کے ایک صحابی نے مرتے وقت یہ چاہا کہ اپنا سارا مال و اسباب خدا کی راہ میں دے دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اہل وعیال کو غنی چھوڑ جاؤ یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔ ۱؂ آپ کے حلقہ بگوشوں میں دولت مند بھی تھے اور غریب بھی اور دونوں آپ کے دربار میں برابری کی حیثیت رکھتے تھے۔ ایک دفعہ غریبوں نے آ کر عرض کی کہ یا رسول اللہ! ہمارے دولت مند بھائی تو ہم سے سبقت لئے جاتے ہیں ہم جو نیکی کے کام کرتے ہیں وہ بھی کرتے ہیں اور اس کے علاوہ وہ خیرات بھی کرتے ہیں جو ہم نہیں کر پاتے۔ آپ نے

۱؂ بخاری کتاب الوصایا باب ان یترك ورثة الاغنیاء خیر من ان یتکففوا الناس۔

صفحہ 150

سیرت النبی ﷺ (حصہ پنجم)

ان کو ایک دعا سکھائی کہ یہ پڑھ لیا کرو۔ دولت مند صحابیوں نے یہ سنا تو وہ بھی وہ دعا پڑھنے لگے۔ غریبوں نے پھر جا کر عرض کی تو آپ نے فرمایا یہ خدا کا فضل ہے جس کو چاہے دے۔ ۱؂

آنحضرت ﷺ نے اس عظیم الشان مسئلہ کو جو دنیا میں ہمیشہ سے غیر منفصل اور ناطے شدہ چلا آرہا تھا اپنی روشن تعلیم اور تلقین کے ذریعہ سے ہمیشہ کے لئے حل کر دیا۔ ایک دفعہ آپ نے تقریر میں فرمایا کہ ’’لوگو! مجھے تمہاری نسبت جو ڈر ہے وہ دنیا کے خیر و برکت کا ہے‘‘۔ صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ! دنیا کے خیر و برکت سے آپ کا کیا مقصود ہے۔ فرمایا ’’دنیا کا باغ و بہار‘‘ (عیش و نشاط اور مال و دولت) ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ! کیا بھلائی سے بھی برائی پیدا ہوتی ہے؟ سائل کا منشاء یہ تھا کہ دولت جو خیر و برکت ہے وہ فتنہ کیوں کر ہو سکتی ہے۔ آپ نے سوال سن کر ذرا تامل کیا پھر پیشانی سے پسینہ کے قطرے پونچھے پھر فرمایا ’’بھلائی سے بھلائی ہی پیدا ہوتی ہے۔ لیکن دولت کی مثال ایک ہرے بھرے چراگاہ کی ہے جس کو موسم بہار نے سرسبز و شاداب بنایا ہو، جب بعض جانور حرص و طمع میں آ کر حد اعتدال سے زیادہ کھا لیتے ہیں تو دیکھو وہی خیر و برکت کی چیز ان کی ہلاکت اور موت کا باعث ہو جاتی ہے، لیکن جو جانور اس کو اعتدال سے چرتا ہے جب اس کا پیٹ بھر جاتا ہے تو وہ دھوپ کے سامنے ہو جاتا ہے اور کچھ دیر جگالی کرتا ہے فضلہ باہر پھینک دیتا ہے اور پھر چرنے لگتا ہے۔ دولت ایک خوشگوار چیز ہے تو جو شخص اس کو صحیح طریقہ سے خرچ کرے تو یہ دولت اس کے لئے بہترین مددگار ہے لیکن جو شخص اس کو صحیح طریقہ سے حاصل نہیں کرتا اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی کھاتا چلا جاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا۔ ۲؂

اس تقریر میں آنحضرت ﷺ نے مسئلہ کے اہم نکتہ کو واضح فرمادیا اور بتا دیا کہ نفسِ دولت خیر و شر نہیں ہے بلکہ اس کا درست و نادرست طریقہ حصول اور جائز و ناجائز مصرف خیر و شر ہے۔ اگر درست طریقہ سے وہ حاصل کی جائے اور صحیح طریقہ سے خرچ کی جائے تو وہ نیکیوں اور بھلائیوں کا بہتر سے بہتر ذریعہ ہے اگر اس کے حصول و صرف کا طریقہ صحیح نہیں تو وہ بری اور شرانگیز ہے۔ اخلاقی محاسن و معائب، امیر و غریب دونوں کے لئے یکساں ہیں۔ ایک غنی و فیاض و متواضع امیر اور ایک قناعت پسند اور صابر و شاکر غریب اسلام کی نظر میں فضیلت کے ایک ہی درجہ پر ہیں اسی طرح ایک متکبر، بخیل، امیر اور خوشامدی اور لالچی فقیر پستی کی ایک ہی سطح پر ہیں۔ اس لئے ضرورت تھی کہ دولت کی اجازت کے ساتھ ساتھ ایک طرف امراء اور دولت مندوں کے اخلاق کی اصلاح کی جائے اور دوسری طرف غریبوں اور فقیروں کی امداد اور دستگیری کے ساتھ ان کے اخلاق و عادات کو بھی درست کیا جائے اسلام میں زکوٰۃ اسی عظیم الشان دوطرفہ اصلاح کا نام ہے۔

اس سلسلہ میں آنحضرت ﷺ کی تعلیم نے سب سے پہلے حصول دولت کے ناجائز طریقوں دھوکا فریب، خیانت، لوٹ مار، جوا، سود وغیرہ کی سخت سے سخت ممانعت کی۔ سرمایہ داری کے اصول کی حمایت نہیں کی اور اس کا سب سے آسان ترین ذریعہ اور غریبوں کے لوٹنے کے سب سے عام طریقہ سود کو حرامِ مطلق اور خدا اور رسول سے لڑائی کے ہم معنی فرمایا۔ جو زمین یونہی پڑی ہوئی ہے اس کو جو بھی اپنی کوشش سے آباد و سیراب کرے اسی کی ملکیت قرار دی۔ چنانچہ فرمایا ’’زمین خدا کی ہے اور سب بندے خدا کے بندے ہیں جو کسی مردہ زمین کو زندہ کرے وہ اسی کی ہے‘‘ (طیالسی صفحہ ۲۰۴)

۱؂ صحیح بخاری وصحیح مسلم باب استحباب الذکر بعد الصلوٰۃ۔

۲؂ صحیح بخاری کتاب الزکوٰۃ و کتاب الزہد والرقاق باب ما یحذر من زھرۃ الدنیا۔

صفحہ 151

سیرت النبی ﷺ (حصہ پنجم)

متروکہ جائیداد کا مالک کسی ایک کو نہیں بلکہ بقدر استحقاق تمام عزیزوں کو اس کا حصہ دار بنا دیا۔ ممالک مفتوحہ کو امیر اسلام کی شخصی ملکیت نہیں بلکہ پوری جماعت کی ملکیت قرار دیا۔ فطرت کی ان بخششوں کو جو انسانی محنت کی ممنون نہیں جیسے پانی، تالاب، گھاس، چراگاہ، نمک کی کان، معدنیات وغیرہ جماعتی تصرف میں دیا اور بن لڑائی کے دشمنوں سے حاصل کی ہوئی زمینوں کو امراء اور دولت مندوں کے بجائے خالص غریبوں اور بیکسوں کا حق قرار دیا اور اس کی وجہ بھی ظاہر کردی۔

﴿ مَآ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى فَلِلّٰهِ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِى الْقُرْبٰى وَالْيَتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِۙ كَىْ لَا يَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَيْنَ الْاَغْنِيَآءِ مِنْكُمْ ﴾ (حشر: ۷)

بستیوں والوں کی ملکیت سے اللہ جو اپنے رسول کو ہاتھ لگادے وہ خدا اور اس کے رسول اور رشتہ داروں اور یتیموں اور غریبوں اور مسافروں کا حق ہے، تاکہ وہ دولت پھر کر تم میں سے دولتمندوں ہی کے لینے دینے میں نہ رہ جائے۔

اس کے بعد اس سلسلہ میں دولت مندی کی سب سے بڑی بیماری بخل کو دنیا میں انسانیت کا بدترین مظہر اور آخرت میں بڑی سے بڑی سزا کا مستوجب قرار دیا اور جو اس گناہ سے پاک ہو اسی کو کامیابی کی بشارت دی، فرمایا:

﴿ وَمَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ﴾ (حشر: ۹)

اور جو اپنے جی کے لالچ سے بچایا گیا وہی لوگ ہیں مراد پانے والے۔

بخل کا مبتلا دوسروں کے ساتھ بخل نہیں کرتا بلکہ درحقیقت وہ خود اپنے ساتھ بخل کرتا ہے وہ اس کی بدولت اس دنیا میں اپنے آپ کو ہر دلعزیزی اور نیک نامی بلکہ جائز آرام و راحت تک سے اور آخرت میں ثواب کی نعمت سے محروم رکھتا ہے، فرمایا:

﴿ وَمَنْ يَّبْخَلْ فَاِنَّمَا يَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖ ؕ وَاللّٰهُ الْغَنِىُّ وَاَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ ﴾ (محمد: ۳۸)

اور جو بخل کرتا ہے وہ اپنے آپ ہی سے بخل کرتا ہے، اللہ تو غنی ہے اور تم ہی محتاج ہو۔

اس آیت پاک میں درپردہ یہ بھی واضح کردیا کہ جس دولت کو تم اپنی سمجھتے ہو وہ درحقیقت تمہاری نہیں، اصل مالک خدا ہے اور تم خود اس کے محتاج ہو پھر جو شخص مال کا اصلی مالک نہ ہو بلکہ محض امین ہو وہ اصلی مالک کے حکم کے مطابق اس کو صرف نہ کرے اور یہ سمجھے کہ یہ خود اس کی ملکیت ہے اور اس کو اپنی ملکیت میں سے کسی کو کچھ دینے نہ دینے کا اختیار ہے، خائن اور بے ایمان نہ کہا جائے گا؟ درحقیقت یہی تصور کہ یہ مال میرا ہے اور میری شخصیت اور انانیت کی طرف اس کی نسبت ہے دنیا کی تمام برائیوں اور بدیوں کی جڑ ہے۔ اس آیت پاک کی یہ تعلیم اسی جڑ کو کھودتی اور بیخ و بن سے اکھاڑ کر پھینک دیتی ہے۔

پھر دولت کے ان مجازی مالکوں اور امینوں کو یہ بتا دیا گیا کہ ان کو خدا کی عدالت میں اپنی دولت کے ایک ایک ذرہ کا حساب دینا پڑے گا۔

﴿ ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ يَوْمَىِٕذٍ عَنِ النَّعِيْمِ ﴾ (تکاثر: ۸)

پھر اس دن تم سے تمہاری نعمت کا حساب پوچھا جائے گا۔

اس لئے ان کو خوب سمجھ لینا چاہئے کہ وہ اپنی دولت کو کہاں اور کس طرح صرف کرتے ہیں۔ ان لوگوں کو جو اپنے روپے کی تھیلیوں کو اپنی نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں تنبیہ کی:

﴿ وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ ۙ ۝ الَّذِىْ جَمَعَ مَالًا وَّعَدَّدَهٗ ۙ ۝ يَحْسَبُ اَنَّ مَالَهٗٓ اَخْلَدَهٗ ؕ كَلَّا... ﴾ (ہمزہ: ۱)

برائی ہو اس کی جو طعنہ دیتا اور عیب چنتا ہو جو مال کو سمیٹ کر رکھتا ہو اور اس کو گن گن کر وہ خیال کرتا ہے کہ اس کا مال اس کے ساتھ سدا رہے گا، ہرگز نہیں۔

فرمایا رشک کرنا صرف دو آدمیوں پر جائز ہے ایک تو اس پر جس کو خدا نے علم دیا ہے اور وہ اس کے مطابق شب و روز عمل کرتا ہے اور دوسرے اس پر جس کو خدا نے دولت دی ہے اور وہ اس کو دن رات خدا کی راہ میں خرچ کرتا ہے ۱؂ جو لوگ سونے چاندی کو زمین میں گاڑ کر رکھتے ہوں اور کارِ خیر میں خرچ نہ کرتے ہوں ان کو خطاب کیا:

﴿ وَالَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُوْنَهَا فِىْ سَبِيْلِ اللّٰهِۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ ۙ ﴾ (توبہ: ۳۴)

وہ لوگ جو سونا اور چاندی گاڑ کر رکھتے ہیں اور اس کو خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ان کو دردناک عذاب کی بشارت دے دو۔

اس آیت پاک نے صحابہ میں دو فریق پیدا کر دیئے ایک کہتا تھا کہ جو کچھ ملے سب خدا کی راہ میں خرچ کر دینا چاہئے کل کے لئے کچھ نہ رکھنا چاہئے ورنہ جو شخص ایسا نہ کرے گا وہ اس آیت کے تحت میں عذاب کا مستحق ہوگا۔ دوسرا کہتا تھا خدا نے ہماری دولت میں جو حق واجب ٹھہرایا ہے (یعنی زکوٰۃ) اس کے ادا کرنے کے بعد سرمایہ جمع کرنا عذاب کا مستوجب نہیں۔ لیکن اہل راز صحابہ اور علمائے امت نے اپنے قول و عمل سے اس مشکل کی پوری گرہ کھول دی۔ حضرت موسیٰؑ کی توراۃ میں مقررہ زکوٰۃ ادا کرنے کے سوا مال کی خیرات کی کوئی تعلیم نہیں اور حضرت عیسیٰؑ کی انجیل میں آسمانی بادشاہی کی کنجیاں اسی کے حوالہ کی گئی ہیں، جو سب کچھ خدا کی راہ میں لٹا دے۔ یہ دونوں تعلیمات اپنی اپنی جگہ پر صحیح و درست ہیں لیکن جس طرح پہلی تعلیم بعض بلند ہمت حوصلہ مندوں کے حوصلہ سے کم ہے اسی طرح دوسری تعلیم جو یقیناً ایک بلند روحانی تخیل ہے مگر وہ عملاً عام انسانوں کے حوصلہ سے بہت زیادہ ہے۔ اسی لئے کہا جاسکتا ہے کہ وہ ایک گونہ انسانی فطرت کے دائرہ سے باہر ہے اور اسی لئے بہت کم لوگ اس پر عمل کر سکے۔ محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیم موسوی اور عیسوی دونوں شریعتوں کی جامع ہے۔ اسلام نے خیرات کے درجے مقرر کر دیئے ایک قانونی اور دوسری اخلاقی، قانونی خیرات کی وہی مقدار باقی رکھی جو موسوی شریعت میں ملحوظ تھی یعنی نصف مثقال نقد میں اور عشر پیداوار میں یہ وہ کم سے کم خیرات ہے جس کا سالانہ ادا کرنا ہر مستطیع اور صاحب نصاب پر واجب ہے اور اس کا وصول اور خرچ کرنا جماعت کا فرض ہے اور اخلاقی خیرات جس کو ہر انسان کی مرضی اور خوشی پر منحصر رکھا ہے اس کو حضرت عیسیٰؑ کی تعلیم کی طرح بلند سے بلند روحانی تخیل کے مطابق قرار دیا اور بلند ہمت انسانوں کو اس پر عمل کرنے کی ترغیب دی۔ صحابہؓ میں دونوں قسم کے لوگ تھے۔ وہ بھی تھے جو کل کے لئے آج اٹھا کر رکھنا حرام سمجھتے تھے جیسے حضرت ابوذرؓ ۲؂ اور وہ بھی تھے جو وقت پر اپنی تمام

۱؂ بخاری کتاب العلم باب الاغتباط فی العلم والحکمة۔

۲؂ بخاری کتاب الزکوٰۃ باب ما ادی زکوتہ فلیس بکنز۔

صفحہ 153

سیرت النبی ﷺ (حصہ پنجم)

دولت اسلام کے قدموں پر لا کر ڈال دیتے تھے جیسے حضرت ابوبکرؓ ۱؂ اور ایسے بھی تھے جو اپنی تجارت کا تمام سرمایہ خدا کی راہ میں بیک وقت لٹا دیتے تھے جیسے حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ ۲؂ اور وہ بھی تھے جو خود بھوکے رہ کر دوسروں کو کھلا دیتے تھے اور خود تکلیف اٹھا کر دوسروں کو آرام پہنچاتے تھے جیسے حضرت علی مرتضیٰؓ اور بعض انصار کرامؓ خدا نے ان کی مدح فرمائی۔

﴿ وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّيَتِيْمًا وَّاَسِيْرًا ﴾ (دہر: ۸)

اور وہ اپنی ذاتی حاجت کے باوجود اپنا کھانا مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھلا دیتے ہیں۔

﴿ وَيُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓى اَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ﴾ (حشر: ۹)

اور وہ اپنے آپ پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ وہ خود حاجت مند ہوں۔

غرض محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیم مختلف انسانی طبیعتوں کے موافق اور فطرت سلیمہ کے مطابق ہے اور ہر ایک کے لئے اس کی استعداد اور اہلیت کے مطابق نجات کا دروازہ کھولتی ہے۔ اس نے وہ طریقہ سکھایا ہے جس سے اہل حاجت اور نیک کاموں کے لئے عملاً ہر وقت امداد مل سکے اور ساتھ ہی اہل دل اور اہل استعداد کے مرتبہ کمال کے لئے بلند سے بلند روحانی معیار کی دعوت اور ترغیب بھی پیش کر دی ہے اور اس کی خوبیاں اور بڑائیاں بھی بیان کر دی ہیں تا کہ امت کے باحوصلہ افراد ہمت کے شہپروں سے اڑ کر اس سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچنے کی کوشش کریں۔

حضرت شیخ شرف الدین یحییٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ اپنے مکتوبات میں اسلام کے اس آخری مرتبہ کمال کی تشریح ان الفاظ میں فرماتے ہیں:۔

"وایں طائفہ جان و مال در باختہ اند و ہیچ کس ماسوا اللہ نہ پرداختہ اند گفتہ ایشاں است الفقیر ماہم مباح و دمہ حد ر یعنی درویش صادق آں بود کہ بخون و مال او را دعویٰ نبود... اگر مالش برند خوش گردد گوید الحمدللہ کہ حجابے از پیش من برداشتند نا گفتہ اند زکوٰۃ نعمت دنیا نزدیک ایں طائفہ محمود نباشد از انکہ بخل ناستودہ است و نقلی تمام باید تا دویست درم را در بند کند و یکسال محبوس دارد آنگاہ پنج درم از اں بدہد"

اس فرقہ نے اپنی جان اور مال کو ہار دیا ہے اور خدا کے سوا کسی سے دل نہیں لگایا۔ اس کا مقولہ ہے کہ درویش وہ ہے جس کا مال وقف اور جس کا خون معاف ہو۔ اس کو اپنی جان و مال پر کوئی دعویٰ نہ ہو.. اگر لوگ اس کا مال اٹھا لے جائیں تو خوش ہو کہ الحمد للہ اس کے اور خدا کے درمیان جو ایک پردہ پڑا تھا وہ اٹھ گیا۔ یہاں تک کہ ان کا کہنا یہ ہے کہ دنیا کی دولت کو جمع کر کے زکوٰۃ دینا کچھ اچھا نہیں ہے کیوں کہ بخالت تعریف کے قابل نہیں اور اس کے لئے کہ سال میں دو سو درہم جمع ہوں اور پھر وہ ایک سال تک بند پڑے رہیں، تب جا کر ایک سال کے بعد پانچ درہم ان میں سے خدا کی راہ میں دئے، بڑی بخالت کی حالت ہے۔

۱؂ ترمذی کتاب المناقب فضائل ابی بکر۔

۲؂ اسد الغابہ جلد ۳ صفحہ ۳۱۶۔

صفحہ 154

سیرت النبی ﷺ (حصہ پنجم)

اس کے بعد حضرت شبلیؒ کا ایک فتویٰ نقل کیا ہے۔

یکے از فقہاء برسبیل آزمائش شبلی رحمۃ اللہ علیہ را پرسید کہ زکوٰۃ در چند لازم آید گفت جواب بر مذہب فقیہاں خواہی یا بر مذہب فقیراں؟ گفت بر ہر دو جواب فرما، شبلی گفت بر مذہب فقیہاں از دویست درم بعد از حولان حول، پنجدرم باید داد او بر مذہب فقیراں در حال ہر دویست درم باید داد و جان بشکرانہ بر سر باید نہاد فقیہ گفت ما ایں مذہب از آئمہ دین گرفتیم شبلی گفت ما ایں مذہب از صادق رب العالمین گرفتیم یعنی ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہ او ہر چہ داشت پیش سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نہاد و جگر گوشہ خویشتن بشکرانہ داد (مکتوب ۳۳۔ سہ صدی)

کسی نے حضرت شبلیؒ سے امتحاناً پوچھا کہ زکوٰۃ کتنے پر ہوتی ہے، فرمایا فقہاء کے مسلک پر جواب چاہئے یا فقراء کے؟ کہا دونوں کے، فرمایا فقہاء کے مذہب کے مطابق ایک سال گزرنے پر دوسو درم میں سے پانچ درم اور فقراء کے مسلک پر فوراً پورے کے پورے دوسو اور اس نذرانہ کی خوشی میں اپنی جان بھی سر پر رکھ کر پیش کرنی چاہئے۔ فقیہ نے کہا ہم نے یہ مذہب آئمہ دین سے حاصل کیا ہے، فرمایا ہم نے یہ مسلک صدیق اکبرؓ سے حاصل کیا ہے کہ جو کچھ تھا وہ سب سرور عالم ﷺ کے سامنے رکھ دیا اور اپنی جگر گوشہ (حضرت عائشہ صدیقہؓ) کو شکرانہ میں دیا،

محمد رسول اللہ ﷺ کی ذاتی مثال اسی دوسرے فریق کے مطابق تھی۔ آپ کے پاس عمر بھر کبھی اتنا جمع نہ ہوا کہ زکوٰۃ کی نوبت آئے جو کچھ ہوتا وہ اسی دن اہل استحقاق میں تقسیم ہو جاتا۔ اگر گھر میں رات کو سونے چاندی کے چند خزف ریزے بھی پڑے رہتے، تو گھر میں آرام نہ فرماتے۔ مگر عام امت کے لئے اپنے مسلک کو فرض نہیں قرار دیا بلکہ اتنا ہی ان کے لئے مقرر کیا گیا جو ان کی قوتِ استطاعت اور ہمت کے مطابق ہو، تا کہ نجات کا دروازہ غریبوں اور دولت مندوں کے ہر طبقہ کے لئے یکساں کھلا رہے اور اس لئے تا کہ بے قیدی و عدم پابندی لوگوں کی سستی اور عدم عمل کا باعث نہ ہو۔ مقدار معین کے مالک پر ایک رقم قانوناً فرض کی گئی تا کہ جماعت کے مجبور و معذور افراد کی لازمی طور سے دستگیری ہوتی رہے۔

اشتراکیت کا علاج:

دنیا میں امیر و غریب کی جنگ ہمیشہ سے قائم ہے۔ ہر تمدن کے آخری دور میں قوم کے مختلف افراد کے درمیان دولت کی غیر مساوی صورت یقینی طور سے پیدا ہو جاتی ہے۔ بعض طبقے نہایت دولت مند ہو جاتے ہیں جن کے خزانوں کے لئے زمین کا پورا طبقہ بھی کافی نہیں ہوتا اور دوسری طرف وہ غریب ہوتے ہیں جن کے پاس کھانے کے لئے ایک سوکھا ٹکڑا اور سونے کے لئے ایک بالشت زمین بھی نہیں ہوتی اور دولت مند طبقوں کی خود غرضی، خود پسندی اور عیاشی اس حد تک پہنچ جاتی ہے کہ وہ اپنے بھوکے اور ننگے بھائیوں کے لئے روٹی کا ایک ٹکڑا اور کپڑے کا ایک چیتھڑا تک دینے کے روادار نہیں ہوتے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ اتفاقی دولت خدا کی طرف سے نہیں بلکہ ان کے علم و ہنر سعی و کوشش اور دست و بازو سے حاصل ہوئی ہے۔ اس لئے ان سست و ناکارہ افراد کا اس میں کوئی حصہ نہیں۔ قارون کو جب زکوٰۃ و خیرات کا حکم ہوا تو اس نے جواب میں یہی کہا۔

﴿ اِنَّمَآ اُوْتِيْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ عِنْدِىْ ﴾ (قصص: 78)

مجھ کو تو ایک ہنر سے جو میرے پاس ہے یہ سب ملا ہے۔

چنانچہ ہر زمانہ کے قارونوں کا اپنی دولت کے متعلق یہی تصور اور اعتقاد ہوتا ہے۔

یونان کے آخری دور میں یہی صورت پیدا ہوئی۔ ایران کے انتہائی زمانہ میں یہی شکل نمودار ہوئی۔ یورپ کی موجودہ فضا میں یہی آب و ہوا، اقتصادی مشکلات کی ابر و باد کا طوفان اور سیلاب پیدا کر رہی ہے۔ مزدور و سرمایہ دار کی جنگ پورے زور پر قائم ہے اور سوشلزم، کمیونزم، انارکزم اور بالشوزم کے طوفان جگہ جگہ اٹھ رہے ہیں لیکن دنیا میں مساوات اور برابری پیدا کرنے کے لئے یہ دنیا کے نئے خاکے تیار کرنے والے جو نقشے بنا رہے ہیں وہ انسانی فطرت و تربیت کے اس درجہ مخالف ہیں کہ ان کی دائمی کامیابی حد درجہ مشکوک ہے۔

محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیم نے دنیا کی اس مشکل کا اندازہ کر لیا تھا اور اس نے اسی کے حل کرنے کے لئے یہ اصول مقرر کر دیا کہ ذاتی و شخصی ملکیت کے جواز کے ساتھ جس کی انسانی فطرت متقاضی ہے، دولت و سرمایہ کو چند اشخاص کے ہاتھوں میں جانے سے روکا جائے۔ سود کو حرام قرار دیا، متروکہ جائداد کو صرف ایک ہی شخص کی ملکیت قرار نہیں دیا، نفع عام کی چیزیں اشخاص کے بجائے جماعت کی ملکیت قرار دیں، قیصریت اور شہنشاہیت کی بجائے جماعت کی حکومت قائم کی۔ زمینداری کا پرانا اصول جن میں کاشتکار غلام کی حیثیت رکھتا تھا بدل دیا اور اس کی حیثیت اجیر اور مزدور کی رکھی۔ انسانی فطرت کے خلاف یہ نہیں کیا کہ سرمایہ کو لے کر تمام انسانوں میں برابر تقسیم کر دیا جائے تاکہ دنیا میں کوئی ننگا اور بھوکا باقی نہ رہے بلکہ یہ کیا کہ ہر سرمایہ دار پر جس کے پاس سال کے مصارف کے بعد مقررہ رقم باقی بچ جائے اس کے غریب بھائیوں کی امداد کے لئے ایک سالانہ رقم قانونی طور سے مقرر کر دی تا کہ وہ اس کے ادا کرنے پر مجبور ہو اور جماعت کا فرض قرار دیا کہ وہ اس رقم سے قابل اعانت لوگوں کی دستگیری کرے۔ یہی وہ راز ہے جس کی بنا پر اسلام کے تمدن کا دور اس قسم کی اقتصادی مصیبتوں سے محفوظ رہا اور آج بھی اگر اسلامی ممالک میں اس پر عمل درآمد ہو تو یہ فتنے زمین کے اتنے رقبہ میں جتنے میں محمد رسول اللہ ﷺ کی روحانی حکومت ہے پیدا نہیں ہو سکتے، خلافت راشدہ کے عہد میں حضرت عثمانؓ کی حکومت کا دور وہ زمانہ ہے جب عرب میں دولت افراط کی حد تک پہنچ گئی تھی۔ حضرت ابوذر غفاریؓ نے شام میں قرآن پاک کی اس آیت کے مطابق کہ ”جو لوگ سونا چاندی گاڑ کر رکھتے ہیں اور خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے“ یہ فتویٰ دیا کہ دولت کا جمع کرنا حرام ہے ۱؂ اور ہر شخص کے پاس جو کچھ اس کی ضرورت سے زیادہ ہو وہ خدا کی راہ میں دے دے اور شام کے دولت مند صحابہؓ نے ان کی مخالفت کی اور فرمایا کہ ہم خدا کی راہ میں دے کر بچاتے ہیں تو حضرت ابوذرؓ کی یہ آواز عام پسند نہ ہو سکی اور نہ عوام میں کوئی فتنہ پیدا کر سکی کیوں کہ زکوٰۃ کا قانون پورے نظام کے ساتھ جاری تھا اور عرب کے آرام و آسائش کا یہ حال تھا کہ ایک زمانہ میں کوئی خیرات کا قبول کرنے والا باقی نہیں رہا۔ ۲؂

۱؂ مسند ابن حنبل جلد ۵ صفحہ ۱۶۷۔

۲؂ فتح الباری شرح بخاری جلد ۶ صفحہ ۳۵۱ و طبقات ابن سعد ترجمہ عمر بن عبدالعزیز صفحہ ۲۵۶۔


یہاں پانچوں صفحات کی مکمل اور درست تحریر پیش کی جا رہی ہے:

[صفحہ ۱۵۶]

سیرت النبیؐ | حصہ پنجم | ۱۵۶

اقتصادی اور تجارتی فائدے:

زکوٰۃ میں ان روحانی اور اخلاقی فائدوں کے ساتھ اقتصادی حیثیت سے دنیاوی فائدے کے پہلو بھی ملحوظ ہیں اور گذر چکا ہے کہ زکوٰۃ انہی چیزوں میں واجب ہوتی ہے جن میں دو صفتیں پائی جائیں یعنی بقا اور نمو۔ بقا سے یہ مقصود ہے کہ وہ ایک مدت تک اپنی حالت پر باقی رہ سکیں کیوں کہ ہر چیز ایسی نہ ہوگی۔ اس کی تجارت میں نہ چنداں فائدہ ہے اور نہ دوسروں کے استعمال کے لئے دیر تک ذخیرہ بن سکتی ہے اسی لئے سبزیوں اور ترکاریوں پر زکوٰۃ نہیں ہے اور نمو سے یہ مقصد ہے کہ ان میں یا تو پیداوار یا تناسل یا مبادلہ کی بنا پر افزائش کی صلاحیت ہو۔ اسی لئے جواہرات اور دیگر قیمتی معدنی پتھروں میں یا غیر مزروعہ زمین اور مکان میں بھی زکوٰۃ نہیں ہے ان دونوں نکتوں سے یہ بات حل ہوتی ہے کہ شریعت نے زکوٰۃ کے فرض کرنے سے یہ مقصد بھی پیش نظر رکھا ہے کہ لوگ اپنے سرمایہ کو بیکار نہ رکھیں بلکہ محنت کوشش اور جدوجہد سے اس کو ترقی دیں ورنہ اصل سرمایہ میں سال بہ سال کمی ہوتی جائے گی جس کو فطرتاً کوئی برداشت نہیں کر سکتا اس طرح زکوٰۃ کا ایک بالواسطہ مقصد یہ بھی ہے کہ تجارت و زراعت کو جو دولت کا اصل سرچشمہ ہیں ترقی دی جائے کیوں کہ جب ہر شخص کو لازمی طور پر سال میں ایک خاص رقم ادا کرنا پڑے گی تو وہ کوشش کرے گا کہ جہاں تک ہو یہ رقم منافع سے ادا کرے اور اصل سرمایہ محفوظ رکھے اسی بنا پر اسلام نے زکوٰۃ کو انہی چیزوں کے ساتھ مخصوص کیا ہے جن میں نمو اور اضافہ کی قابلیت ہو اور اسی بنا پر زکوٰۃ کے ادا کرنے کے لئے ایک سال کی وسیع مدت مقرر کی تاکہ ہر شخص اپنے مال یا جائداد سے کامل طور پر فائدہ اٹھا سکے۔

صحابہؓ کرام اس نکتہ کو سمجھ کر ہمیشہ تجارت اور کاروبار میں مصروف رہتے تھے۔ حضرت عمرؓ نے اپنے زمانہ خلافت میں ان لوگوں کو جو یتیموں کے سرمایوں کے متولی تھے ہدایت کی کہ وہ ان کو تجارت میں لگائیں تاکہ ان کے بالغ ہونے تک ان کا اصل سرمایہ زکوٰۃ میں سب صرف نہ ہو جائے۔

یورپ نے بڑی تحقیق کے بعد ایشیاء کے تجارتی اور تمدنی تنزل کی یہ وجہ بتائی ہے کہ یہاں مال کا اکثر حصہ بیکار زمین میں مدفون رکھا جاتا ہے۔ لیکن محمد رسول اللہ ﷺ کی زبان وحی ترجمان نے آج سے تیرہ سو برس پہلے زکوٰۃ کو فرض کر کے یہ نکتہ بتا دیا تھا۔

﴿وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ﴾ (توبہ - ۵)

اور جو لوگ چاندی اور سونے کو گاڑ کر رکھتے ہیں اور اس کو خدا کی راہ میں نہیں صرف کرتے ان کو سخت دردناک عذاب کی بشارت دو۔

یہ دردناک عذاب قیامت میں تو جو کچھ ہوگا وہ ہوگا اس دنیا میں بھی ان کے لئے اقتصادی دردناک عذاب یہ ہے کہ وہ اس مدفون سرمایہ کو دبا کر ملک کی دولت کو تباہ کرتے ہیں اور اس سے دولت کی افزائش اور ترقی کا کام لینے کے بجائے اس کو بیکار اور معدوم کر کے ملک کو فقر و محتاجی کے عذاب الیم میں مبتلا کرتے ہیں اور بالآخر خود مبتلا ہوتے ہیں اس لئے امراء کی اخلاقی اصلاح اور مالی ترقی اسی میں ہے کہ وہ اپنی دولت کو مناسب طور سے صرف کریں۔

فقراء کی اصلاح:

اب دوسری طرف فقراء کا گروہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا کے تمام شارعین مذاہب نے انسانوں کے اس قابل رحم فرقہ کی جانب ہمدردی اور ترحم کی نگاہ سے دیکھا ہے اور اس کی طرف امداد و اعانت کا ہاتھ بڑھایا ہے مگر درحقیقت ان کے رحم، ہمدردی اور محبت کی مثال ایسی ہے جیسے کسی کے پھوڑا یا زخم ہوا اور اس کا دوست اس کی محبت اور خیر خواہی کی بنا پر ہمیشہ اس کے پھوڑے اور زخم کی حفاظت کرتا ہے کہ اس کو ٹھیس نہ لگے اور ٹوٹنے نہ پائے اور نہ کسی جراح کا نشتر اس کو چیرے کہ ان باتوں سے ان کو تکلیف ہوگی، کیا کوئی عقلمند کہہ سکتا ہے کہ اس نادان دوست کا یہ عمل اس کے ساتھ دوستی کا ثبوت ہوگا۔

گذشتہ مصلحین نے عموماً اس میں افراط و تفریط سے کام لیا ہے۔ بعض نے تو اس زخم میں صرف نشتر ہی لگایا ہے اور مرہم کا کوئی پھایہ نہیں رکھا۔ چنانچہ زردشتی مذہب میں سوال قطعاً ممنوع قرار دیا گیا ہے اور اس کے بالمقابل بودھ مذہب میں اس زخم کو سرتا پا مادہ فاسد بننے دیا گیا ہے اور بھکشوؤں کا ایک مذہبی گروہ ہی سوال اور بھیک کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ لیکن اسلام نے نہایت حکمت کے ساتھ اس زخم کو بھرنے اور پھوڑے کو دور کرنے کے لئے ایک تجربہ کار اور ماہر جراح کی طرح دونوں عمل کئے ہیں۔ اس نے اس غمگین اور دردمند طبقہ کے زخم میں نشتر بھی لگایا ہے اور اس پر مرہم بھی رکھا ہے۔ یہ مرہم اس کی وہ مہربانیاں، تسلیاں، بشارتیں اور عملی امداد و اعانت کی تدبیریں ہیں جو اس کے دل کی ڈھارس اور اس کی امیدوں کا سہارا ہیں اور نشتر اس کی وہ اصلاحات ہیں جو اس نے اس طبقہ کو دنائت، پستی، کم ہمتی، لالچ، دوسروں کی دست نگری اور ان کے سہارے جینے کی ذلت سے بچانے کے لئے جاری کیں۔ اس نے اہل حاجت کے لئے دوسروں سے سوال اور مانگنے کی قانونی ممانعت نہیں کی۔ لیکن ہر اخلاقی طریق سے ان کو اس ذلت سے باز رکھنے کی کوشش کی ہے اور ان کی کفالت کا بار خود جماعت کے سر پر ڈالا ہے۔

عام طور سے اس قسم کا وعظ جیسا کہ عیسائی مذہب میں ہے کہ جو کچھ ہے لٹا دو اور غریبوں اور مسکینوں کو دے ڈالو نہایت اعلیٰ اخلاقی تعلیم اور رحم و محبت کا نہایت بلند مظہر نظر آتا ہے لیکن غور سے تصویر کا دوسرا رخ دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ جس شدت سے آپ دولت مندوں کو سب کچھ غریبوں اور مسکینوں کو دے دینے کی ترغیب دے رہے ہیں اور اس سے دینے والوں کے جذبہ ایثار اور ان کے جود و سخا اور فیاضی کے جوہر کو ترقی دے رہے ہیں اسی شدت سے آپ انسانیت کے کثیر التعداد طبقے کو گداگری کی لعنت، بھیک مانگنے کی پستی، اور دوسرے کے سہارے جینے کی ذلت کا خوگر بنا رہے ہیں، اور بے محنت کھانے اور بے تلاش پانے کا سبق پڑھا رہے ہیں۔ اس طرح ان کے لئے گداگری، دنائت، پستی، ذلت، سَفَلہ پن، کم ہمتی، نامردی اور تمام رذیل پست اخلاق کا گڑھا تیار کر رہے ہیں جہاں یہ تمام نجاستیں آ کر جمع ہوں گی۔ کیا یہ انسانیت کے ساتھ رحم ہے؟ کیا یہ نوع بشر کے ساتھ محبت ہے؟ کیا یہ جنس بنی آدم کے ساتھ ہمدردی ہے؟

پیغمبر اسلام کی بعثت کسی ایک طبقہ کی اصلاح کے لئے نہیں ہوئی وہ انسانوں کے ہر طبقہ کے مصلح اور معلم بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ غریب و امیر اور مسکین و دولت مند دونوں آپ کی نگاہ میں یکساں ہیں اس لئے آپ نے کسی ایک ہی طبقہ کی اصلاح کا فرض انجام نہیں دیا بلکہ دونوں طبقوں کو ترازو کے دونوں پلڑوں میں رکھ کر برابر باٹ سے ناپا ہے اور اپنی تعلیمات اور اصلاحات میں سے دونوں کو مساوی حصہ دیا ہے۔

یہ اخلاقی اصلاح کی وہ نازک پل صراط ہے جس پر نبیوں کے خاتم اور دینوں کے مکمل علیہ السلام کے سوا دنیا کے کسی اخلاقی معلم اور روحانی مصلح کے قدم نہ جم سکے اور نہ وہ اپنے ہاتھ میں ترازو کے دونوں پلوں کو برابر رکھ سکا۔ اگر غریبوں کی اصلاح کی خاطر صدقہ اور خیرات اور دوسروں کی اعانت و ہمدردی کے تمام دروازے بند کر دیئے جائیں تو انسانی جوہر شرافت کی بربادی کے ساتھ امراء کا طبقہ اپنے اخلاقی معایب کی فراوانی اور کثرت سے ہلاک اور اخلاقی محاسن سے تمام تر تہی مایہ ہو جائے گا اور اگر غرباء اور فقراء کو ہر قسم کی گداگری اور دریوزہ گری کی اجازت دے دی جائے تو انسانوں کی وسیع آبادی کی اخلاقی زندگی تباہ و برباد ہو جائے گی۔ اسی لئے داعی اسلام نے انسانوں کے دونوں طبقوں کے سامنے خدا کی بتائی ہوئی وہ تعلیم پیش کی جس سے دونوں طبقوں کو اپنی اپنی جگہ پر اپنے اپنے اخلاقی معیار کی ترقی کا موقع مل گیا اور دونوں کو اپنی اپنی شرافت کے جوہر کو پیش کرنے اور اپنے اپنے نقائص اور کمزوریوں کو دور کرنے کی صورت ہاتھ آئی۔ ایک طرف تو اسلام نے امراء اور دولت مندوں کے طبقہ کو خطاب کر کے کہا۔

﴿وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْهَرْ﴾ (ضحٰی - ۱)

مانگنے والے کو جھڑک نہ دو۔

دوسری طرف خوددار و بے نیاز فقراء اور غریبوں کے طبقہ کی مدح فرمائی۔

﴿يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُهُم بِسِيمَاهُمْ لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا﴾ (بقرہ - ۳۷)

ناواقف ان کی خودداری اور سوال کی ذلت سے بچنے کے سبب سے ان کو دولت مند سمجھتے ہیں۔ تو ان کو ان کی پیشانی سے پہچانتا ہے۔ وہ لوگوں سے لپٹ کر نہیں مانگتے۔

اور بھیک مانگنے کو خلافِ تقویٰ قرار دیا، جو لوگ بھیک مانگ مانگ کر حج کرتے تھے ان کو خطاب کر کے کہا:

﴿وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَىٰ﴾ (بقرہ - ۲۵)

اور زادِ راہ لے کر چلو کہ بہترین زادِ راہ تقویٰ (بھیک نہ مانگنا) ہے۔

ایک طرف دولت مندوں کو فرمایا کہ تمہارا حسنِ اخلاق یہ ہے کہ جو تمہارے سامنے ہاتھ پھیلائے اس کو خالی مت لوٹاؤ ﴿وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ﴾ اگرچہ چھوہارے کی ایک پھانک ہی کیوں نہ ہو، دوسری طرف فقیروں کو فرمایا کہ تمہاری خودداری یہی ہونی چاہئے کہ کسی کے سامنے کبھی ہاتھ نہ پھیلاؤ کہ ﴿الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَىٰ﴾ اوپر کا ہاتھ نیچے کے ہاتھ سے بہتر ہے (یعنی لینے والے ہاتھ سے دینے والا ہاتھ بہتر ہے) یہ ہے وہ تعلیم جس نے انسانوں کے دونوں طبقوں کو اپنے فیض سے معمور کیا اور دونوں کے لئے اپنے اخلاق کی اصلاح کا موقع بہم پہنچایا۔

صدقہ و خیرات درحقیقت وہ پانی ہے جو دینے والوں کے قلوب و نفوس کے تمام میل اور گندہ پن کو چھانٹ کر ان کو پاک و صاف بنا دیتا ہے۔ لیکن وہ خود جب اس میل اور گندہ پن کو لے کر باہر نکلتا ہے تو حرص و طمع کے پیاسے اس کو چلو میں لے کر پینے لگتے ہیں اسی لئے آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔

﴿إِنَّ هَذِهِ الصَّدَقَاتِ إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ﴾

یہ صدقہ تو لوگوں کا میل ہے۔

اگر آج ان فقیروں اور گداگروں کی صورتوں اور سیرتوں پر نظر ڈالو جو استحقاق شرعی کے بغیر اس مال سے فائدہ اٹھاتے ہیں تو نظر آجائے گا کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے اس کو لوگوں کے دلوں کا میل کہہ کر کتنی بڑی حقیقت کو آشکارا کیا ہے۔

حرص، طمع، لالچ، فریب، بے حیائی، بے غیرتی اور وہ تمام باتیں جو ان کے لازمی اخلاقی نتائج ہیں ان میں سے کونسی چیز ہے جو غیر مستحق ابناء السبیل، فقراء اور مہذب گداگروں کا تمغائے امتیاز نہیں اور درحقیقت یہی وہ میل ہے جو زکوٰۃ دینے والوں کے دامن سے چھٹ کر فقراء اور گداگروں کے دامنِ دل کو نجس بنا دیتا ہے۔ تاہم اس سے کون انکار کر سکتا ہے کہ بعض دفعہ قدرتاً ایسی مجبوریاں پیش آ جاتی ہیں جب نفیس الطبع سے نفیس الطبع انسان کو اپنی جان بچانے کے لئے گندے سے گندہ اور میلے سے میلا پانی کے پی لینے پر مجبور ہونا پڑتا ہے اور اس وقت اس اجازت کی ضرورت پیش آتی ہے کہ ایسے مجبور اشخاص کو شخصی طور سے صدقہ و خیرات کے قبول کرنے کی اجازت دی جائے۔ شریعتِ محمدیہ نے اسی اصول پر اسی حیثیت سے لوگوں کو اس کے قبول کرنے کی اجازت دی ہے اور اس مجبورانہ قبول سے اس گروہ کے اخلاق و عادات پر جو برے اثرات طاری ہو سکتے ہیں ان کے انسداد اور دفعیہ یا ان کو کم سے کم مضر بنانے کے لئے مفید تدابیر اختیار کی ہیں اور چند نہایت مناسب احکام جاری کئے ہیں، جن کی تفصیل حسبِ ذیل ہے۔

۱۔ اسلام کی پہلی تعلیم یہ ہے کہ صدقہ اور زکوٰۃ کو خالصتاً لوجہ اللہ ادا کیا جائے یعنی لینے والے پر نہ کسی قسم کا احسان کا بار رکھا جائے نہ اس کو ممنون کرم بنایا جائے، نہ عام مجمع میں اس کو ذلیل و رسوا کرنے کے لئے دیا جائے، کیوں کہ اس سے ایک طرف اگر دینے والے کی اخلاقی پستی اور دنائت ظاہر ہوتی ہے تو دوسری طرف خود اس طرح کے لینے والے کی خودداری کی روح اور اخلاقی غیرت کی حس کو صدمہ پہنچتا ہے اور بجائے اس کے کہ لینے والا اس طرح دینے والے کا ممنون ہو اس کو اس کے اس فعل سے پہلے سے تو نفرت ہوگی پھر رفتہ رفتہ شائد اس کی یہ اخلاقی حس غیرت اور شرمندگی کا شریفانہ جوہر ہمیشہ کے لئے فنا ہو جائے یا ان میں بڑے ظرف کے شریف النفس لوگ ہوں وہ اپنی نظر میں اپنی ذلت آپ محسوس کر کے اپنی جان پر کھیل نہ جائیں۔

اسلام نے انہیں باتوں کو سامنے رکھ کر یہ تعلیم دی کہ دینے والوں کے سامنے یہ نظریہ ہو کہ ﴿إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا﴾ (دھر - ۱)

ہم تم کو خدا کے لئے کھلاتے ہیں ہم تم سے کوئی بدلہ اور شکریہ نہیں چاہتے۔

اس شریفانہ تعلیم کو دیکھو کہ بدلہ تو کجا ہم کو تمہاری احسان مندی اور شکر گزاری بھی نہیں چاہئے۔ پھر صدقہ دینے والوں کو بہ تصریح بتا دیا کہ تمہارے احسان دھرنے، طعنہ دینے یا لینے والے کو ذلیل و رسوا کرنے سے تمہارے اس عظیم الشان کارنامہ کی حقیقت باطل ہو جائے گی اور تمام ثواب حرفِ غلط کی طرح تمہارے نامہ اعمال سے مٹ جائے گا فرمایا:

﴿الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ لَا يُتْبِعُونَ مَا أَنفَقُوا مَنًّا وَلَا أَذًى لَّهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ۞ قَوْلٌ مَّعْرُوفٌ وَمَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِّن صَدَقَةٍ يَتْبَعُهَا أَذًى وَاللَّهُ غَنِيٌّ حَلِيمٌ﴾ (بقرہ - ۳۶)

جو لوگ خدا کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں اور اس کے بعد نہ احسان جتاتے ہیں نہ طعنہ دیتے ہیں ان کا اجر ان کے خدا کے پاس امانت ہے اور نہ ان کو قیامت میں کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے، کچھ نرمی کی بات کہہ کر اور چشم پوشی کر کے سائل کو ٹال دینا اس صدقہ سے بہتر ہے جس کے بعد طعنہ دیا جائے یا احسان جتایا جائے، خدا تمہاری ایسی خیرات سے بے نیاز ہے اور تمہارے ایسے کاموں پر بردباری سے درگذر کرنے والا ہے۔

اس حقیقت کو قرآن پاک نے ایک دل نشین تشبیہ سے واضح کیا ہے۔

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ كَالَّذِي يُنفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلْدًا لَّا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوا وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ﴾ (بقرہ - ۳۶)

مسلمانو! اپنے صدقوں کو احسان جتا کر اور طعنہ دے کر برباد نہ کرو جیسے کہ وہ اپنے صدقوں کو برباد کرتا ہے جو محض لوگوں کے دکھلانے کو دیتا ہے اور خدا پر اور قیامت پر ایمان نہیں لاتا اس قسم کی خیرات کی مثال اس چٹان کی ہے جس پر کچھ گرد پڑی ہوئی ہو اور اس پر ایک پانی پڑ گیا ہو جس نے اس کو صاف اور چٹیل کر دیا کہ اب اس پر کوئی چیز جم نہیں سکتی ہے ان لوگوں نے جو کام کیا اس سے کچھ فائدہ نہیں اٹھا سکتے خدا کافروں کو ہدایت یاب نہیں کرتا۔

منجملہ اور اسباب کے یہ بھی ایک سبب ہے کہ اسلام نے زکوٰۃ ادا کرنے کا صحیح طریقہ یہ مقرر کیا کہ دینے والے خود کسی کو نہ دیں بلکہ وہ اس کو امیر جماعت کے بیت المال میں جمع کریں اور وہ امیر حسبِ ضرورت مستحقین کو بانٹ دے تاکہ اس طرح غریب لینے والا مگر شریف مسلمان ذاتی طور سے کسی دوسرے شخص کا ممنون احسان بن کر اپنی ذلت نہ محسوس کرے اور دینے والے کو ذاتی طور سے کسی پر منت رکھنے کا موقع نہ ملے اور اس طرح پوری قوم کا اخلاقی معیار اپنی پوری بلندی پر قائم رہے ساتھ ہی یہ کہ فقراء اور معذوروں کو در بدر کی ٹھوکر کھانے کی رسوائی اور ہر ضرورت کے لئے ایک ایک پیسہ کی بھیک جمع کرنے کی ذلت سے بچایا جائے۔

۲۔ اسی لئے صدقہ دینے کا دوسرا اصول اسلام نے یہ بتایا کہ صدقہ چھپا کر دیا جائے کہ علانیہ دینے میں بھی سائل بے حیائی اور بے غیرتی کا عادی ہو جاتا ہے۔ کیوں کہ جب کسی کی ذلت اور فقر و فاقہ کی داستان عام ہو جاتی ہے تو پھر اپنے فعل سے اس کو غیرت اور شرم نہیں آتی اور اس لئے اس کا ڈر تھا کہ اگر اس کا انسداد نہ کیا جائے تو اظہار و اعلان کا یہ طریقہ دنیا میں گداگری، دریوزہ گری اور بھیک مانگنے کے پیشہ کی اشاعت کا سبب بن جائے گا اور یہ اخفا اور چھپا کر دینے کی صورت اس لئے بھی اچھی ہے کہ دینے والا نمائش اور شہرت طلبی کی آلائشوں سے اپنے اخلاق کو محفوظ رکھ سکے گا۔ اسی لیے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ بہتر صدقہ وہ ہے کہ داہنے ہاتھ سے دو تو بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہو

لیکن بعض موقعے ایسے بھی ہیں کہ جہاں صدقہ خیرات اور زکوٰۃ کے اعلان کی ضرورت پیش آتی ہے اور وہ یہ کہ دوسروں کو ترغیب اور تشویق دلانے کی خالص نیت ہو یا خود سائل پیش دستی کر کے مجمع میں سوال کر بیٹھے یا اور کوئی نیک غرض شامل ہو۔ چنانچہ قرآن پاک نے اس حقیقت کو ان الفاظ میں ظاہر کیا۔

﴿إِن تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِيَ ۖ وَإِن تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ﴾ (بقرہ - ۳۷)

اگر تم صدقہ کو کھلم کھلا دو تو یہ بھی اچھا ہے لیکن اگر تم اس کو چھپا کر فقراء کو دو تو یہ بہت ہی بہتر ہے۔

مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں صدقہ کے اخفاء کو عام خیرات کے ساتھ مخصوص کیا ہے۔ مگر فرض زکوٰۃ کے لئے اس بنا پر اظہار و اعلان کو مستحق قرار دیا ہے کہ اس سے اسلام کے ایک رُکن کی اشاعت اور تبلیغ اور دوسروں میں اس کی پیروی کی ترغیب و تشویق ہوتی ہے اور زکوٰۃ دینے والے عدم ادائے زکوٰۃ کی تہمت سے بری خیال کئے جاتے ہیں لیکن ہمارے نزدیک آیت کریمہ کا مفہوم صاف ہے۔ زکوٰۃ کے ادا کرنے کا اصلی طریقہ تو وہی ہے جو عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں تھا یعنی یہ کہ زکوٰۃ کی رقم بیت المال یا بیت المال کے عاملوں کے سپرد کی جائے، اس لئے اخفاء کا جو فائدہ فقراء کے حق میں ہے وہ اس طرح خود بخود حاصل ہو جاتا ہے۔ لیکن آیت کا اشارہ یہ ہے کہ اگر تم خود براہِ راست فقیروں کو دو تو چھپا کر دینا بہتر ہے کہ لینے والے کی عزت سلامت رہے اسی لئے جن آیت میں اعلان کی اجازت ہے اس میں فقراء کو براہِ راست دینے کا حکم نہیں اور جہاں اخفاء کے ساتھ دینے کا ذکر ہے وہاں فقراء کو دینے کی تصریح ہے۔ اس لئے اعلان اور اخفاء کا اصلی فرق زکوٰۃ اور عام خیرات کے درمیان نہیں ہے بلکہ ادا کرنے کے طریقہ میں ہے کہ اگر بیت المال اور نائبینِ بیت المال کے ذریعہ سے ادا کرو تو ظاہر کر کے دو کہ دینے والے اور وصول کرنے والے دونوں کا حساب پاک رہے اور تہمت اور بدگمانی کا موقع نہ ملے۔ لیکن اگر کسی سبب سے تم گو براہِ راست مستحقین کو دینا پڑے جس میں حساب کتاب کی ضرورت نہیں اور براہِ راست تم ہی کو ان کو دینا ہے، بیت المال کا پردہ بیچ میں نہیں ہے اس لئے تم پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ چھپا کر دو تا کہ دینے والا نمائش سے اور لینے والا ذلت و خواری سے محفوظ رہے۔ پھر ترغیبِ اعلان اور اظہار کی ضرورت اس وقت ہے جب مسلمان کا مذہبی احساس اس قدر کمزور ہو جائے کہ حقوقِ اسلام ادا کرنے میں اس قسم کی فقیہانہ ٹھوکروں کی ضرورت ہو ورنہ صحابہ کرامؓ کی ترغیب کے لئے صرف اسلام کا خالص جوش کافی تھا۔ مگر آج تو یہ حالت ہے کہ معمولی سے معمولی رقم کے لئے جب تک اخباروں کے پورے کالم سیاہ نہ کر دیئے جائیں دینے والوں کے نزدیک خدا کو ان کے عطیہ کی خبر ہی نہیں ہوتی۔

۳۔ تمام اخلاقی اور تمدنی ترقی کا دارومدار صرف بلند ہمتی اور عالی خیالی پر ہے۔ بلند ہمتی کا اقتضاء یہ ہے کہ مسلمان کی نگاہ بلند سے بلند نقطہ پر بھی پہنچ کر نہ ٹھہرے اور اس کو دنیا کی تمام چیزیں ہیچ نظر آئیں اس بنا پر اسلام نے یہ اصول قرار دیا کہ زکوٰۃ و صدقہ میں مال کا عمدہ اور بہتر حصہ دیا جائے تاکہ مبتذل اور ادنیٰ درجہ کی چیزوں کے دینے اور لینے سے دینے والے اور لینے والے کے اندر پستی اور دنائت نہ پیدا ہو۔ کیوں کہ اس سے لینے والے کے اندر حد درجہ کا لالچ اور چھچھورپن پیدا ہوگا کہ معمولی اور سڑی گلی چیز تک اس کے لالچ سے نہیں بچ سکتی اور دوسری طرف دینے والے کی روح میں بھی اس قسم کی خیرات سے بلندی اور علو کے بجائے بخالت، حرص اور کینہ پن اور تزکیہ کے بجائے اور زیادہ نجاست اور گندگی پیدا ہوگی کیوں کہ کوئی بری چیز کسی کو دے دینے کا منشا دوسرے کی مدد اور خدا کی خوشنودی کا خیال نہیں ہوتا بلکہ اس بیکار اور سڑی گلی چیز سے اپنے دامن اور صحن خانہ کو صاف کرنا ہوتا ہے اس لئے اس سے دینے والے کے دل میں صفائی کی بجائے اور گندگی پیدا ہوتی ہے۔ روایتوں میں ہے کہ اصحابِ صفہ کو جنہوں نے اپنی زندگی کا مقصد صرف اسلام کی خدمت اور خدا کی عبادت قرار دیا تھا کسبِ معاش کا موقع نہیں ملتا تھا اس لئے لوگ کھجوروں کے بدمزہ خوشے لا کر مسجدوں میں لٹکا دیتے تھے اور جب وہ گروہ بھوک کی شدت سے بے تاب ہو جاتا تھا تو مجبوراً ان میں سے دو چار کھجوریں توڑ کر کھا لیتا تھا چونکہ یہ نہایت ذلیل حرکت تھی اس بنا پر یہ آیت نازل ہوئی:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنفِقُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُم مِّنَ الْأَرْضِ ۖ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنفِقُونَ وَلَسْتُم بِآخِذِيهِ إِلَّا أَن تُغْمِضُوا فِيهِ ۚ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ﴾ (بقرہ - ۳۷)

مسلمانو! اپنی کمائی سے اور اس چیز سے جو تمہارے لئے ہم نے زمین سے نکالی ہے بہتر حصہ خیرات کرو اور ان میں سے ردی مال کی خیرات کا قصد نہ کرو۔ حالانکہ اگر وہی تم کو دیا جائے تو خود تم نہ لو گے لیکن یہ کہ چشم پوشی کر جاؤ اور یقین کرو کہ خدا تمہاری اس قسم کی خیرات سے بے نیاز ہے اور وہ خوبیوں والا ہے (خوبیوں ہی والی چیز پسند کرتا ہے)

۴۔ فقراء اور مساکین کی دنائت اور حرص و طمع کے زائل کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انہیں لوگوں کو زکوٰۃ اور صدقہ کا حقیقی مستحق قرار دیا جائے جو باوجود تنگ دستی اور بے بضاعتی کے خودداری اور قناعت کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتے کیوں کہ جب قوم کی توجہ اس قسم کے اشخاص کی طرف مبذول ہوگی تو ہر شخص خود بخود ان اخلاق کی تقلید پر مجبور ہوگا۔ صحابہ کرامؓ میں سب سے زیادہ مفلس اور نادار اصحابِ صفہ تھے۔ لیکن ان کی خودداری اور قناعت کا یہ حال تھا کہ پریشانی صورت کے علاوہ کوئی چیز ان کے فقر و فاقہ کا راز فاش نہیں کر سکتی تھی۔ اس بناء پر اسلام نے ان کو زکوٰۃ کا بہترین مستحق قرار دیا۔

﴿لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُهُم بِسِيمَاهُمْ لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا﴾ (بقرہ - ۳۷)

صدقہ ان فقراء کے لئے ہے جو خدا کی راہ میں گھرے ہوئے ہیں (بغرض معاش و تجارت) سفر کی قدرت نہیں رکھتے۔ جو لوگ ان سے ناواقف ہیں خودداری اور عدمِ سوال کی وجہ سے ان کو مالدار سمجھتے ہیں تم صرف ان کے بشرہ سے ان کو پہچانتے ہو وہ لوگوں سے گڑگڑا کر کچھ نہیں مانگتے۔

آج مسلمانوں نے اس اصول کو چھوڑ دیا ہے جس کا یہ نتیجہ ہے کہ سینکڑوں شریف آدمی در در کی ٹھوکریں کھاتے ہیں اور قوم اور خاندان کا نام بیچتے ہیں۔

۵۔ لیکن بایں ہمہ حزم و احتیاط گداگری در حقیقت ایک نہایت مبتذل شیوہ ہے اس بنا پر اسلام نے سخت مجبوری کی حالت میں اس کی اجازت دی اور جہاں تک ممکن ہوا لوگوں کو اس سے باز رکھنے کی کوشش کی ہے۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ نے بعضوں سے اس کی بیعت بھی لی کہ وہ کسی سے کچھ نہیں مانگیں گے انہوں نے اس بیعت کی اس شدت سے پابندی کی کہ راستہ میں اگر ان میں سے کسی کا کوڑا گر جاتا تھا تو بھی وہ کسی سے نہیں کہتے تھے کہ اٹھا دو۔لے ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مجھ سے یہ ضمانت کرے کہ وہ کسی سے مانگے گا نہیں تو میں اس کے لئے جنت کی ضمانت کرتا ہوں۔ آپ کے آزاد کردہ غلام ثوبانؓ بولے میں یہ ضمانت کرتا ہوں۔ چنانچہ اس کے بعد وہ کبھی کسی سے کچھ نہیں مانگتے تھے۔

حکیم بن حزام ایک صحابی تھے۔ انہوں نے ایک دفعہ آنحضرت ﷺ سے سوال کیا، آپ نے عنایت کیا، پھر مانگا، پھر دیا، پھر تیسری دفعہ یہ صورت پیش آئی تو فرمایا ’’اے حکیم یہ مال بظاہر نہایت شیریں اور خوش رنگ چیز ہے، جو اس کو شرافت کے ساتھ لے گا اس میں برکت دی جائے گی اور جو لالچ کے ساتھ لے گا اس کو برکت نہ ملے گی اور اس کی حالت ایسی ہوگی جیسے کوئی کھاتا چلا جائے اور اس کا پیٹ نہ بھرے، اوپر کا ہاتھ نیچے کے ہاتھ سے بہتر ہے‘‘، حکیم نے کہا ’’یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم!) آج سے میں پھر کسی سے کچھ نہ مانگوں گا‘‘، اس کے بعد ان کا یہ حال ہوا کہ خلافتِ راشدہ کے زمانہ میں خلفاء ان کو اپنا وظیفہ لینے کے لئے بلاتے تھے اور وہ انکار کرتے رہے اور آخر تک اس انکار پر قائم رہے۔

اس کی اور متعدد مثالیں ہیں اس عمومی ممانعت کے ساتھ خصوصیت سے ان تمام لوگوں کے لئے جو صاحبِ دست و بازو ہوں یعنی جن کے ہاتھ پاؤں اور آنکھیں صحیح و سالم ہوں بھیک مانگنے سے سخت ممانعت کر دی گئی، فرمایا کہ:

﴿لا تحل المسألة لرجل قوی و لا لذی مرّة سویّ﴾ (ترمذی)

طاقت اور سکت والے اور صحیح و سالم آدمی کے لئے بھیک مانگنا حلال نہیں۔

صحیح بخاری میں ہے کہ آپ نے فرمایا:

﴿والذی نفسی بیدہ لان یاخذ احدکم حبلہ فیحتطب علی ظہرہ خیر لہ من ان یاتی رجلا فیسالہ اعطاہ او منعہ﴾

قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم میں کسی کا رسی لے کر اپنی پیٹھ پر لکڑی کا بوجھ اٹھانا اس سے بہتر ہے کہ دوسرے سے بھیک مانگے، وہ اسے دے یا نہ دے۔

آنحضرت ﷺ نے اپنے زمانہ میں اس پر عمل بھی فرمایا۔ ایک دست نگر صحابی نے خیرات مانگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس کچھ ہے؟ عرض کی ایک ٹاٹ اور ایک پیالہ ہے۔ آپ نے ان کو منگوا کر نیلام کیا اور ان کی قیمت سے ایک کلہاڑی خرید دی اور فرمایا کہ جنگل سے لکڑی کاٹ لاؤ اور بیچو، انہوں نے اس پر عمل کیا تو خدا نے ان کو یہ برکت دی کہ وہ

گداگری کی ذلت سے ہمیشہ کے لئے بچ گئے۔

۶۔ لیکن جو لوگ بدقسمتی سے کسبِ معاش نہیں کر سکتے ان کو بھی الحاح، کثرتِ سوال، لجاجت اور گڑگڑا کر زبردستی مانگنے کی نہایت سختی کے ساتھ ممانعت کی، آپ ﷺ نے فرمایا۔

﴿لیس المسکین الذی تردہ الاکلة والا کلْتان و لکن المسکین الذی لیس لہ غنی و یستحی و لا یسأل الناس الحافاً﴾ (بخاری کتاب الزکوٰۃ باب قول الله عزوجل لا یسألون الناس الحافا)

مسکین وہ نہیں ہے جس کو لقمہ دو لقمے دروازوں سے واپس لوٹا دیتے ہیں، مسکین وہ ہے جو بے نیاز نہیں ہے لیکن حیا کرتا ہے اور لوگوں سے گڑگڑا کر نہیں مانگتا۔

پھر یہ بھی بتا دیا کہ گداگری اور بھیک کا طریقہ جو سخت مجبوری کی حالت کے علاوہ ہو وہ ہر حال میں انسان کی شرم و حیا اور غیرت و آبرو کو برباد کر دیتا ہے، فرمایا۔

﴿ما زال الرجل یسئل الناس حتی یاتی یوم القيامة ليس فى وجهه مضغة لحم﴾ (بخاری کتاب الزکوٰۃ باب من سال الناس تکثرا)

آدمی ہمیشہ مانگتا پھرتا ہے یہاں تک کہ وہ قیامت کے روز اس طرح آئے گا کہ اس کے چہرہ پر گوشت کا ایک ٹکڑا نہ ہوگا۔

یہ اس کی سزا ہوگی کہ اس نے دنیا میں مانگ مانگ کر اپنے چہرہ سے عزت و آبرو کی رونق خود دھو دی تھی۔

ان ضروری اصلاحات کے ساتھ اسلام نے زکوٰۃ کے نظام کو قائم کیا اور ان تمام برائیوں اور بداخلاقیوں کی جڑ کاٹ دی جو اس مفت خوری سے انسانوں میں پیدا ہو سکتی تھیں اور ساتھ ہی انسانی برادری کے دونوں طبقوں کو ترازو کے پلڑے میں برابر رکھ کر ان کو باہمی معاونت، باہمی مشارکت، باہمی ہمدردی اور امداد کا سبق سکھایا اور اس طرح پوری جماعتِ انسانی کو باہم جوڑ کر ایک کر دیا۔ پست و بلند کے تفرقے ممکن حد تک کم کر دیئے اور اس اقتصادی بربادی سے جماعت کو محفوظ رکھنے کا طریقہ بتا دیا جو اکثر اپنی بھیانک شکلوں سے اس کو ڈرایا کرتی ہے۔

آنحضرت ﷺ کی اس تعلیم کا نتیجہ یہ ہوا کہ دولت مند صحابہؓ میں یہ فیاضی آ گئی کہ وہ دین و ملت کی خدمت کے لئے اپنی ساری دولت لٹا کر بھی سیر نہ ہوتے تھے، اور غریب صحابیوں میں یہ قناعت اور خودداری پیدا ہو گئی کہ وہ کسی سے کسی کام کا سوال کرنا بھی عیب سمجھتے تھے۔ دولت مند اپنی زکوٰۃ آپ لے کر بیت المال کے دروازوں تک خود آتے تھے اور غریب اپنے افلاس و حاجت کو خدا کے سوا دوسروں کے سامنے پیش کرنا توکل کے منافی سمجھتے تھے اور تیسری طرف آنحضرت ﷺ کے بعد جب فراغت آئی تو جماعت کے بیت المال میں اتنا سرمایہ رہتا تھا کہ زکوٰۃ کے کسی مصرف کے لئے کمی محسوس نہیں ہوتی تھی۔ ضرورت مندوں کو اسی رقم سے قرض بھی دیا جاتا تھا اس طرح یہ ایک ایسا مالی و باقتصادی نظام تھا کہ بلا نفع قرض دینے میں افراد کو جو تامل ہوتا ہے وہ اس جماعتی نظام کے ماتحت آسان تھا اور سود کی لعنت کے بغیر داد و ستد کا راستہ کھلا ہوا تھا۔