زکوٰة

صفحہ 123

سیرت النبی ﷺ | حصہ پنجم

زکوٰۃ

﴿وَآتُوا الزَّكَاةَ

زکوٰۃ کی حقیقت اور مفہوم:

نماز کے بعد جس کا اصل تعلق خالق و مخلوق کے باہمی سلسلہ اور رابطہ سے ہے اور جس کا ایک بڑا فائدہ نظام جماعت کا قیام ہے اسلامی عبادت کا دوسرا رکن زکوٰۃ ہے جو آپس میں انسانوں کے درمیان ہمدردی اور باہم ایک دوسرے کی امداد اور معاونت کا نام ہے اور جس کا اہم فائدہ نظام جماعت کے قیام کے لئے مالی سرمایہ بہم پہنچانا ہے۔ زکوٰۃ کا دوسرا نام صدقہ ہے جس کا اطلاق تعمیم کے ساتھ ہر مالی اور جسمانی امداد اور نیکی پر بھی ہوتا ہے۔ لیکن فقہی اصطلاح میں "زکوٰۃ" صرف اس مالی امداد کو کہتے ہیں جو ہر اس مسلمان پر واجب ہے جو دولت کی ایک مخصوص مقدار کا مالک ہو۔

زکوٰۃ گذشتہ مذاہب میں:

زکوٰۃ بھی ان عبادات میں سے ہے جو تمام آسمانی مذاہب کے صحیفوں میں فرض بتائی گئی ہے لیکن ان کے پیروؤں نے اس فرض کو اس حد تک بھلا دیا تھا کہ بظاہر ان کے مذہبی احکام کی فہرست میں اس کا نام بھی نظر نہیں آتا۔ حالانکہ قرآن پاک کا دعویٰ ہے اور اس کی تائید مختلف آسمانی صحیفوں سے ہوتی ہے کہ جس طرح نماز ہر مذہب کا جزوِ لاینفک تھی اسی طرح زکوٰۃ بھی تمام مذاہب کا ہمیشہ ضروری جزو رہی ہے۔ بنی اسرائیل سے خدا کا جو عہد تھا اس میں نماز اور زکوٰۃ دونوں تھیں۔

﴿أَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ﴾ (البقرہ: 83) (ہم نے بنی اسرائیل سے اقرار لیا تھا) کہ کھڑی رکھو نماز اور دیتے رہو زکوٰۃ۔

﴿لَئِنْ أَقَمْتُمُ الصَّلَاةَ وَآتَيْتُمُ الزَّكَاةَ﴾ (المائدہ: 12) (اے بنی اسرائیل) اگر تم کھڑی رکھتے نماز اور دیتے رہتے زکوٰۃ۔

حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ذکر میں ہے: ﴿وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِسْمَاعِيلَ ۚ إِنَّهُ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَكَانَ رَسُولًا نَّبِيًّا * وَكَانَ يَأْمُرُ أَهْلَهُ بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ وَكَانَ عِندَ رَبِّهِ مَرْضِيًّا﴾ (مریم: 54-55) اور قرآن میں اسماعیل کا ذکر کر بے شک وہ عہد کا سچا تھا اور وہ خدا کا بھیجا ہوا پیغمبر تھا اور وہ اپنے لوگوں کو نماز اور زکوٰۃ کی تاکید کرتا تھا اور وہ اپنے رب کے نزدیک پسندیدہ تھا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہتے ہیں: ﴿وَأَوْصَانِي بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ مَا دُمْتُ حَيًّا﴾ (مریم: 31) اور خدا نے مجھ کو زندگی بھر نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے کی تاکید کی ہے۔


صفحہ 125

سیرت النبی ﷺ | حصہ پنجم

توراہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل پر زمین کی پیداوار اور جانوروں میں ایک عشری یعنی دسواں حصہ (احبار 27: 30-32) نیز ہر بیس برس یا اس سے زیادہ عمر والے پر خواہ امیر ہو یا غریب آدھا مثقال دینا واجب تھا۔ (خروج 30: 13-15) ساتھ ہی غلہ کاٹتے وقت گرا پڑا اناج، کھلیان کی منتشر بالیں اور پھل والے درختوں میں کچھ پھل چھوڑ دیتے تھے جو مال کی زکوٰۃ تھی اور یہ عملاً ہر تیسرے سال واجب الادا ہوتی تھی۔ یہ رقم بیت المقدس کے خزانہ میں جمع کی جاتی تھی اس کا ساتواں حصہ مذہبی عہدہ دار پاتے تھے، دسواں حصہ حضرت ہارون کی اولاد (لاویین) قومی خاندانی کاہن ہونے کی حیثیت سے لیتی تھی، اور ہر تیسرے سال میں دسواں حصہ بیت المقدس کے حاجیوں کی مہمانی کے لئے رکھا جاتا تھا، اسی مد سے عام مسافروں، غریبوں، بیواؤں اور یتیموں کو روزانہ کھانا پکا کر تقسیم کیا جاتا تھا۔ اور نقد آدھے مثقال والی زکوٰۃ کی رقم جماعت کے خیمہ (یا مسجد بیت المقدس) اور قربانی کے ظروف و آلات کی خریداری کے خرچ کے لئے رہتی تھی۔

حضرت عیسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام نے شریعتِ موسوی کے ان ظاہری قواعد میں کوئی ترمیم نہیں کی بلکہ ان کی روحانی کیفیت پر زیادہ زور دیا۔ انجیل لوقا (11: 18) میں ہے کہ جو اپنا عشر (زکوٰۃ) ریا، نمائش اور فخر کے لئے دیتا ہے اس سے وہ شخص بہتر ہے جو اپنے قصور پر نادم ہے۔ اسی انجیل کے 21 ویں باب کی پہلی آیت میں ہے۔ "اگر کوئی دولت مند ہیکل کے خزانہ میں اپنی زکوٰۃ کی بڑی رقم ڈالے اور اس کے مقابلہ میں کوئی غریب بیوہ خلوصِ دل سے دو دمڑی ڈالے تو اس کی زکوٰۃ اس دولت مند کی زکوٰۃ سے کہیں بڑھ کر ہے۔"

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے لوگوں کو ترغیب دی کہ جس کے پاس جو کچھ ہے، وہ خدا کی راہ میں لٹا دے۔ "کہ اونٹ کا سوئی کے ناکے سے گذر جانا آسان ہے مگر دولت مند کا خدا کی بادشاہت میں داخل ہونا مشکل ہے۔" (متی 19: 22) ساتھ ہی انہوں نے خود اپنی طرف سے نیز اپنے رفیق کی طرف سے اپنی ناداری کے باوجود آدھے مثقال والی زکوٰۃ ادا کی ہے۔ (متی 17: 24)

توراہ کے زمانہ میں چونکہ دولت زیادہ تر صرف زمین کی پیداوار اور جانوروں کے گلوں تک محدود تھی اس لئے انہیں دونوں چیزوں کی زکوٰۃ کا زیادہ ذکر آیا ہے۔ سونا چاندی اور ان کے سکوں کی چونکہ قلت تھی اس لئے ان کی زکوٰۃ کا ذکر ایک دو جگہ ہے۔ اسی بناء پر یہودیوں نے نقد زکوٰۃ کی اہمیت محسوس نہیں کی علاوہ بریں زکوٰۃ کی مدت کی تعیین کہ وہ ہر سال یا دوسرے یا تیسرے سال واجب الادا ہے تصریحاً معلوم نہیں ہوتی، نیز یہ کہ اس زکوٰۃ کا مصرف کیا ہے یعنی وہ کہاں خرچ کی جائے اس کی تفصیل بھی خود توراہ کی زبان سے کم سنائی دیتی ہے۔

غرض وجوہ جو کچھ ہوں مگر حالت یہ تھی کہ یہود نے اس فرض کو بھلا دیا تھا اور خصوصاً عرب میں جہاں کی دولت کے وہ تنہا مالک بن بیٹھے تھے چند کے سوا اکثر کو اس فرض کا دھیان بھی نہ تھا، قرآن نے ان کو یاد دلایا کہ ﴿وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا مِنْكُمْ وَأَنْتُمْ مُعْرِضُونَ﴾ (البقرہ: 83)

انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا طبع یازدہم مضمون "خیرات" (Charity) باب "یہودیوں میں خیرات"۔

توراہ خروج 30: 16 اور 38: 26۔


صفحہ 126

سیرت النبی ﷺ | حصہ پنجم

(اور تم بنی اسرائیل سے معاہدہ تھا کہ) نماز کھڑی رکھنا اور زکوٰۃ دیتے رہنا پھر تم پھر گئے مگر تم میں سے تھوڑے اور تم دھیان نہیں دیتے۔

عیسوی مذہب میں گو سب کچھ دے دینے کا حکم تھا مگر یہ حکم ہر ایک کے لئے موزوں نہیں ہو سکتا تھا اور نہ ہر شخص اس پر عمل کر سکتا تھا، دوسرے مذہبوں میں بھی اگرچہ خیرات اور دان کرنے کے احکام موجود تھے تاہم ان کے لئے کوئی نظام اور اصول مقرر نہیں کیا گیا تھا اور نہ ہر شخص پر قانوناً کوئی رقم واجب الادا تھی جس کے ادا کرنے پر وہ مجبور ہو سکتا تھا۔

اسلام کی اس راہ میں تکمیل:

محمد رسول اللہ ﷺ کی شریعت نے اس بارے میں بھی اپنا تکمیلی کارنامہ انجام دیا۔ اس نے نہایت خوبی اور دقتِ نظر کے ساتھ زکوٰۃ کا پورا نظام تیار کیا۔ انسان کے مالی کاروبار کا معیار عموماً سالانہ آمدنی سے قائم ہوتا ہے۔ اس لئے اسلام نے زکوٰۃ کی مدت سال بھر کے بعد مقرر کی اور ہر سال اس کا ادا کرنا ضروری قرار دیا۔ ساتھ ہی اس نے دولت کے تین سرچشمے قرار دیئے سونا چاندی اور جانور اور پیداوار اور ان میں سے ہر ایک کی علیحدہ علیحدہ شرحیں مقرر کیں۔ سونے چاندی میں سے چالیسواں حصہ اور پیداوار میں دسواں حصہ متعین کیا۔ جانوروں کی مختلف قسموں میں ان کی مختلف تعداد پر ان کی قدر و قیمت کی کمی بیشی کے لحاظ سے مختلف شرحیں قرار دیں۔ پھر اس زکوٰۃ سے ہر قسم کے مصارف کی تعیین و تحدید کی اور اس کی تحصیل وصول اور جمع و خرچ کا کام بیت المال سے متعلق کیا۔ یہ تو اجمال تھا اب تفصیلی حیثیت سے ان میں سے ہر ایک پہلو پر شریعتِ محمدی کی تکمیلی حیثیت کو نمایاں کرنا ہے۔

اسلام میں زکوٰۃ کی اہمیت:

اسلام کی تعلیم اور محمد رسول اللہ ﷺ کے صحیفۂ وحی میں نماز کے ساتھ ساتھ جو فریضہ سب سے اہم نظر آتا ہے وہ زکوٰۃ ہے۔ نماز حقوق اللہ میں سے ہے اور زکوٰۃ حقوقِ عباد میں سے۔ ان دونوں فریضوں کا باہم لازم و ملزوم اور مربوط ہونا اس حقیقت کو منکشف کرتا ہے کہ اسلام میں حقوق اللہ کے ساتھ حقوقِ عباد کا بھی یکساں لحاظ رکھا گیا ہے۔ قرآن پاک میں جہاں کہیں نماز کا ذکر ہے اس کے متصل ہی ہمیشہ زکوٰۃ کا بھی بیان ہے۔ چنانچہ قرآن پاک میں بیسیوں مقامات پر اقام الصلوۃ کے بعد ایتاء الزکوٰۃ آیا ہے۔ مثلاً ﴿أَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ﴾ (یا) ﴿أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ

اور زکوٰۃ ادا کرنے کی مدح یا اس کے دینے والوں اور نہ دینے والوں کا تذکرہ اس کے علاوہ ہے اس سے معلوم ہوگا کہ اسلام میں زکوٰۃ کی کیا اہمیت ہے۔ بارگاہِ نبوی میں آ کر جب کسی نے اسلام کے احکام دریافت کئے ہیں تو ہمیشہ آپ نے نماز کے بعد زکوٰۃ کو پہلا درجہ دیا ہے۔ صحیحین کی کتاب الایمان میں اس قسم کی متعدد حدیثیں ہیں جن میں یہ ترتیب ملحوظ رہی ہے بلکہ کبھی وہ اسلام کے شرائطِ بیعت میں داخل کی گئی ہے۔ چنانچہ حضرت جریر بن عبداللہ بجلیؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت تین باتوں پر کی تھی نماز پڑھنا، زکوٰۃ دینا اور ہر مسلمان کی خیر خواہی کرنا۔ وفد عبد القیس نے 5ھ میں نبوت کے آستانہ پر حاضر ہو کر جب اسلام کی تعلیمات دریافت کیں تو آپ ﷺ نے اعمال میں پہلے نماز پھر زکوٰۃ کو جگہ دی۔ (1)

یہ دونوں حدیثیں صحیح بخاری کتاب الزکوٰۃ جلد اول صفحہ 188 میں ہیں۔


صفحہ 127

سیرت النبی ﷺ | حصہ پنجم

9ھ میں جب آنحضرت ﷺ نے حضرت معاذؓ کو اسلام کا داعی بنا کر یمن بھیجا ہے تو اسلام کے مذہبی فرائض کی یہ ترتیب بتائی کہ پہلے ان کو توحید کی دعوت دینا جب وہ یہ جان لیں تو ان کو بتانا کہ دن میں پانچ وقت کی نماز ان پر فرض ہے جب وہ نماز پڑھ لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے مال پر زکوٰۃ فرض کی ہے جوان کے دولت مندوں سے لے کر ان کے غریبوں کو دی جائے گی۔ (1)

صحابہؓ میں جو لوگ شریعت کے رازداں تھے وہ اس نکتہ سے اچھی طرح واقف تھے چنانچہ آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد جب اہلِ عرب نے بغاوت کی اور زکوٰۃ ادا کرنے سے انکار کیا تو حضرت ابوبکرؓ نے ان کے خلاف تلوار کھینچ لی۔ حضرت عمرؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ جو توحید کا قائل ہو اس کا خون روا نہیں اس کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے جواب دیا خدا کی قسم جو نماز اور زکوٰۃ میں فرق کرے گا میں اس سے لڑوں گا کہ زکوٰۃ مال کا حق ہے خدا کی قسم! جو رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں بھیڑ کا ایک بچہ بھی دیتا تھا وہ اس کو دینا پڑے گا (2) حقیقت میں یہ ایک لطیف نکتہ تھا جس کو صرف شریعت کا محرمِ اسرار سمجھ سکتا تھا۔ 3 اس نے سمجھا اور امت کو سمجھایا اور سب نے اس کے سامنے اطاعت کی گردن جھکا دی۔

نماز اور زکوٰۃ کے باہمی ارتباط کی ایک اور وجہ بھی ہے اور وہ یہ ہے اسلام کی تنظیمی زندگی صرف دو بنیادوں پر قائم ہے۔ جن میں سے ایک روحانی اور دوسری مادی ہے۔ اسلام کا نظامِ روحانی نماز باجماعت سے جو کسی مسجد میں ادا ہو قائم ہوتا ہے اور نظامِ مادی زکوٰۃ سے جو کسی بیت المال میں جمع ہو کر تقسیم ہو مرتب ہوتا ہے اسی لئے یہ دونوں چیزیں اسلام میں ساتھ ساتھ نظر آتی ہیں اور ان کی انفرادی حیثیت کے ساتھ ان کی اجتماعی حیثیت پر بھی شریعتِ محمدی نے خاص زور دیا ہے۔ نماز جس طرح جماعت اور مسجد کے بغیر بھی انجام پا جاتی ہے لیکن اپنی فرضیت کے بعض مقاصد سے دور ہو جاتی ہے اسی طرح زکوٰۃ بیت المال کی مجتمع صورت کے علاوہ بھی ادا ہو جاتی ہے مگر اس کی فرضیت کے بعض اہم مقاصد فوت ہو جاتے ہیں یہی سبب ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کے عہدِ خلافت میں جب بعض قبیلوں نے یہ کہا کہ وہ زکوٰۃ بیت المال میں داخل نہ کریں گے بلکہ بطورِ خود اس کو صرف کر دیں گے تو شریعتِ محمدی کے شناساے راز نے ان کی اس تجویز کو قبول نہیں کیا اور بزور ان کو بیت المال میں زکوٰۃ داخل کرنے پر مجبور کیا کہ اگر ان کی یہ بات تسلیم کر لی جاتی تو اسلام کی وحدت کا سررشتہ اسی وقت پارہ پارہ اور مسلمانوں کی امامت و جماعت کا نظام اسی وقت درہم برہم ہو جاتا۔

صحیح بخاری جلد دوم صفحہ 1096 کتاب الروعی الخمیہ۔

صحیح بخاری کتاب الزکوٰۃ جلد اول ص 188۔

درحقیقت حضرت ابوبکر صدیقؓ کا ماخذ قرآن پاک کی یہ آیت تھی: ﴿فَإِذَا انْسَلَخَ الْأَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ... فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ﴾ (توبہ: 5) ان مشرکوں کو مارو جہاں پاؤ۔۔ تو اگر وہ توبہ کریں اور نماز کھڑی کریں اور زکوٰۃ دیں تو ان کو آزادی دے دو نیز دیکھو صحیح بخاری جلد دوم صفحہ 1096 باب کراهیۃ الاختلاف۔


صفحہ 128

سیرت النبی ﷺ | حصہ پنجم

الغرض زکوٰۃ دوسرے الفاظ میں غریبوں کی چارہ گری، مسکینوں کی دست گیری، مسافروں کی امداد، یتیموں کی خبر گیری، بیواؤں کی نصرت، غلاموں اور قیدیوں کی اعانت، نماز کے بعد اسلام کی عبادت کا دوسرا رکن ہے اور اس فریضہ کی یہ سب سے پہلی اہمیت ہے جو مذاہب کی تاریخ میں نظر آتی ہے۔

زکوٰۃ کا آغاز اور تدریجی تکمیل:

جس طرح عام نماز کا آغاز اسلام کے ساتھ ساتھ ہوا اور مدینہ آ کر وہ رفتہ رفتہ تکمیل کو پہنچی۔ اسی طرح زکوٰۃ یعنی مطلق مالی خیرات کی ترغیب بھی ابتدائے اسلام ہی سے شروع ہوئی لیکن اس کا پورا نظام آہستہ آہستہ فتحِ مکہ کے بعد قائم ہوا۔ بعض مؤرخوں اور محدثوں کو اس بناء پر کہ 8ھ میں زکوٰۃ کی فرضیت کی تصریح ملتی ہے اس سے پہلے کے واقعات میں جو زکوٰۃ کا لفظ آیا ہے اس سے پریشانی ہوئی ہے۔ حالانکہ شروع اسلام میں زکوٰۃ کا لفظ صرف خیرات کا مترادف تھا۔ اس کی مقدار، نصاب، سال اور دوسری خصوصیتیں جو زکوٰۃ کی حقیقت میں داخل ہیں وہ بعد کو رفتہ رفتہ مناسب حالات کے پیدا ہونے کے ساتھ تکمیل کو پہنچیں۔ محمد رسول اللہ ﷺ کا پیغام صرف دو لفظوں سے مرکب ہے۔ خدا کا حق اور بھائیوں کا حق۔ پہلے لفظ کا مظہر اعظم نماز اور دوسرے کا زکوٰۃ ہے۔ اس لئے محمد رسول اللہ ﷺ کی دعوت حق جب بلند ہوئی تو اس پکار کی ہر آواز ان ہی دو لفظوں کی تفصیل و تشریح تھی۔ آنحضرت ﷺ جس طرح بعثت سے پہلے غارِ حرا میں چھپ کر خدا کی یاد (نماز) میں مصروف رہتے تھے اسی طرح بے کس اور لاچار انسانوں کی دستگیری (زکوٰۃ) بھی فرمایا کرتے تھے۔ حضرت خدیجہ الکبریٰؓ نے بعثت کے وقت آپ ﷺ کی نسبت فرمایا آپ قرابت داروں کا حق پورا کرتے ہیں، قرض داروں کا قرض ادا کرتے ہیں، غریب کو کمواتے ہیں، مہمان کو کھلاتے ہیں لوگوں کو مصیبتوں میں مدد دیتے ہیں۔ اے غور کرو کیا زکوٰۃ انہیں فرائض کے مجموعہ کا نام نہیں ہے؟ اس بناء پر یہ کہنا بالکل صحیح ہے کہ نماز اور زکوٰۃ توام ہیں اور ان ہی دو اجمالی حقیقتوں کی تشریح کا نام اسلام ہے۔

سورۂ مدثر اگرچہ وحی کی ابتدائی سورہ ہے لیکن اس سرزمین میں وہ تمام بیج موجود ہیں جن سے آگے چل کر رفتہ رفتہ احکامِ اسلامی کا عظیم الشان تناور درخت تیار ہوا۔ اس میں نماز کی تمام تفصیلات کو صرف ایک لفظ میں ادا کیا گیا ہے: ﴿وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ﴾ (مدثر: 3) اور اپنے پروردگار کی بڑائی کر۔ پروردگار کی بڑائی نماز کی روح ہے جو اس سورہ میں موجود ہے۔ اس کے بعد ہے: ﴿وَلَا تَمُن تَّسْتَكْثِرُ﴾ (مدثر: 6) اور بدلہ بہت چاہنے کے لئے کسی پر احسان نہ کر۔ یہی وہ بیج ہے جس سے مسائل زکوٰۃ کے تمام برگ و بار پیدا ہوئے ہیں۔ مدثر کے بعد سورۂ مزمل اتری اس میں بہ تصریح دونوں حکم موجود ہیں اور زکوٰۃ کی کسی قدر تفصیل بھی کی گئی ہے۔ (1)

صحیح بخاری جلد اول باب اول۔


سیرت النبی ﷺ - حصہ پنجم

صفحہ 129

﴿وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَقْرِضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا ۚ وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُم مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِندَ اللَّهِ هُوَ خَيْرًا وَأَعْظَمَ أَجْرًا﴾ (سورۃ المزمل، آیت: 20) اور نماز کھڑی کرو اور زکوٰۃ دو اور اللہ کو اچھا قرض دو اور جو تم آگے بھیجو گے اپنے واسطے، اس کو خدا کے پاس بہتر اور ثواب میں زیادہ پاؤ گے۔

بعثت کے پانچویں سال جب حضرت جعفرؓ وغیرہ ہجرت کر کے حبشہ گئے ہیں اور نجاشی نے اپنے دربار میں بلا کر ان سے اسلام کی حقیقت اور اس کی تعلیمات دریافت کی ہیں اور حضرت جعفرؓ نے اس کے جواب میں جو تقریر کی ہے اس میں ہے "اور وہ پیغمبر ہم کو یہ سکھاتا ہے کہ ہم نماز پڑھیں، روزے رکھیں اور زکوٰۃ دیں،" 1 اس سے معلوم ہوا کہ عام زکوٰۃ یا مالی خیرات کا آغاز اسلام کی ابتدا ہی میں ہو چکا تھا اور وفد عبد القیس کے (جو تقریباً 5ھ میں آیا تھا) سوال کے جواب میں آپ نے جن احکام کی تعلیم دی ان میں ایک زکوٰۃ بھی تھی۔ 2 6ھ میں جب نجاشی نے نامہ مبارک پہنچنے کے بعد ابوسفیان سے جو اس وقت تک کافر تھے اسلام کی تعلیمات دریافت کیں تو انہوں نے دوسری چیزوں کے ساتھ زکوٰۃ و صدقہ کا 3 بھی تذکرہ کیا، ان واقعات سے بخوبی واضح ہے کہ 8ھ سے پہلے بلکہ ہجرت سے بھی پہلے بعثت کے بعد ہی نماز کے ساتھ ساتھ زکوٰۃ کی تعلیم بھی موجود تھی۔

لیکن چونکہ محمد رسول اللہ ﷺ کا طریقہ تعلیم صرف نظریوں کا پیش کرنا نہ تھا بلکہ امت کو عملاً اسلام کی تعلیمات پر کاربند بنانا تھا اس لئے حالات کے اقتضاء اور مناسبت کے ساتھ ساتھ تعلیمات کے تفصیلی اجزاء اور ان کے متعلقہ احکام کی تشریح آہستہ آہستہ تکمیل کو پہنچائی گئی۔ مکہ معظمہ میں مسلمانوں کی پریشانی، پراگندگی شکستہ حالی اور غربت و مسکینی کی جو کیفیت تھی اس کی بنا پر اتنا ہی ان کے لئے بہت تھا کہ وہ کسی یتیم و مسکین اور بھوکے کو کھانا کھلا دیں چنانچہ اس زمانہ میں اسی قسم کے خیرات کی تعلیم دی گئی۔

﴿وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْعَقَبَةُ ۝ فَكُّ رَقَبَةٍ ۝ أَوْ إِطْعَامٌ فِي يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ ۝ يَتِيمًا ذَا مَقْرَبَةٍ ۝ أَوْ مِسْكِينًا ذَا مَتْرَبَةٍ﴾ (سورۃ البلد، آیات: 12-16) اور تو کیا سمجھا کہ وہ گھاٹی کیا ہے کسی (قرض دار یا قیدی یا غلام) کی گردن چھڑانا یا بھوک کے دن میں ناتے کے کسی بن باپ کے بچے کو یا خاک میں پڑے ہوئے کسی محتاج کو کھانا کھلانا۔

عام قریش پر جنہوں نے محمد رسول اللہ ﷺ کی اس انسانی ہمدردی کی پکار کو نہیں سنا، عتاب آیا۔ ﴿فَذَٰلِكَ الَّذِي يَدُعُّ الْيَتِيمَ ۝ وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ الْمِسْكِينِ﴾ (سورۃ الماعون، آیات: 2-3) وہی ہے جو بن باپ کے بچے کو دھکا دیتا ہے اور غریب کے کھلانے پر اپنے کو آمادہ نہیں کرتا۔ ﴿كَلَّا ۖ بَل لَّا تُكْرِمُونَ الْيَتِيمَ ۝ وَلَا تَحَاضُّونَ عَلَىٰ طَعَامِ الْمِسْكِينِ﴾ (سورۃ الفجر، آیات: 17-18)


مسند احمد جلد اول صفحہ 202۔

صحیح بخاری کتاب الزکوٰۃ۔

صحیح بخاری جلد اول آغاز کتاب الزکوٰۃ و کتاب التفسیر۔


صفحہ 130

یہ بات نہیں بلکہ بن باپ کے بچے کی تم عزت نہیں کرتے اور آپس میں محتاج کے کھلانے کی تاکید نہیں کرتے۔ اور مسلمانوں کے اخلاصِ باہمی ہمدردی اور ان کے جذبۂ ترحم کی تعریف فرمائی کہ ﴿وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا ۝ إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا﴾ (سورۃ الانسان، آیات: 8-9) اور وہ (حاجت مند ہونے کے باوجود) محتاج یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تم کو صرف خدا کے لیے کھلاتے ہیں تم سے نہ بدلا چاہتے ہیں نہ شکریہ۔

مدینہ منورہ آ کر جب مسلمانوں کو کسی قدر اطمینان ہوا اور انہوں نے کچھ اپنا کاروبار شروع کیا تو روزہ کے ساتھ ساتھ 2ھ میں صدقۃ الفطر واجب ہوا، یعنی یہ کہ سال میں ایک دفعہ عید کے دن نماز سے پہلے ہر مسلمان سیر سوا سیر غلہ خدا کی راہ میں خیرات کرے تا کہ غریب و محتاج بھی اپنی عید کا دن پیٹ بھر کر خوشی اور مسرت سے گزاریں اس کے بعد مسلمانوں کو صدقہ اور خیرات کی عام طور سے تاکید کی گئی۔ انہوں نے دریافت کیا یا رسول اللہ ہم کیا خیرات کریں۔ ﴿يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ﴾ (سورۃ البقرہ، آیت: 215) وہ پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خیرات کریں۔ ارشاد ہوا۔ ﴿قُلِ الْعَفْوَ﴾ (سورۃ البقرہ، آیت: 219) کہہ دو (اے پیغمبر) کہ تمہاری ضرورت سے جو کچھ بچ رہے (اس کو خیرات کرو)

یہ زکوٰۃ کی تعیین کی راہ میں اسلام کا پہلا قدم ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت ابن عمرؓ کا قول نقل کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ زکوٰۃ کی مقدار و نصاب کے احکام نازل ہونے سے پہلے مسلمانوں کو یہ حکم تھا کہ جو کچھ بچے وہ خدا کی راہ میں خیرات کر دیں آئندہ کے لئے کچھ بچا کر نہ رکھیں 1 کہ اس وقت اسلام اور مسلمانوں کی حالت اسی کی مقتضی تھی کچھ دنوں کے بعد جب مسلمانوں کو فتوحات نصیب ہوئیں زمینیں اور جاگیریں ہاتھ آئیں تجارت کی آمدنی شروع ہوئی تو حکم ہوا۔ ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنفِقُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُم مِّنَ الْأَرْضِ﴾ (سورۃ البقرہ، آیت: 267) اے مسلمانوں! اپنی کمائی میں سے کچھ اچھی چیزیں اور جو ہم تمہارے لئے زمین سے پیدا کریں اس میں سے کچھ خیرات میں دو۔ مسلمانوں نے اس کی تعمیل کی تو خدا نے ان کی تعریف کی کہ ﴿وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ﴾ (سورۃ البقرہ، آیت: 3)


تاریخ طبری طبع یورپ صفحہ 1281۔

کتاب الزکوٰۃ مع فتح الباری جلد 3 صفحہ 216۔


صفحہ 131

اور ہم نے ان کو جو روزی دی ہے اس میں سے وہ کچھ خرچ (خیرات) کرتے ہیں۔ صحابہؓ کا یہ حال تھا کہ وہ بھی جن کے پاس کچھ نہ تھا خدا کی راہ میں کچھ نہ کچھ دینے کے لئے بے قرار رہتے تھے۔ چنانچہ جب یہ حکم ہوا کہ ہر مسلمان پر صدقہ دینا فرض ہے تو غریب و نادار صحابہؓ نے آ کر عرض کی، اے خدا کے رسول جس کے پاس کچھ نہ ہو وہ کیا کرے۔ فرمایا، وہ محنت مزدوری کر کے اپنے ہاتھ سے پیدا کرے، خود بھی فائدہ اٹھائے اور دوسروں کو بھی صدقہ دے۔ انہوں نے پھر گزارش کی کہ جس میں اس کی بھی طاقت نہ ہو وہ کیا کرے۔ فرمایا، کہ وہ فریاد خواہ حاجت مند کی مدد کرے۔ انہوں نے پھر دریافت کیا کہ اگر اس کی بھی قدرت نہ ہو تو؟ ارشاد ہوا تو وہ نیکی کا کام کرے اور برائی سے بچ رہے یہی اس کا صدقہ ہے۔ 1 آنحضرت ﷺ کی ان پر اثر تعلیمات اور نصیحتوں کا صحابہ پر یہ اثر ہوا کہ وہ اس غرض کے لئے بازار جا کر بوجھ اٹھاتے تھے اور اس سے جو کچھ ملتا تھا اس کو خدا کی راہ میں خرچ کرتے تھے۔ 2

لیکن بایں ہمہ اب تک تمام عرب اسلام کے جھنڈے کے نیچے جمع نہیں ہوا تھا اور اس لئے اس کا کوئی مرتب قومی نظام بھی قائم نہ تھا۔ رمضان 8ھ میں مکہ کی فتح نے تمام عرب کو ایک رشتہ میں منسلک کر دیا اور اب وہ وقت آیا کہ اسلام اپنا خاص نظام قائم کرے، اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ ﴿خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا﴾ (سورۃ التوبہ، آیت: 103) (اے محمد رسول اللہ) ان کے مال میں سے صدقہ (زکوٰۃ) وصول کرو کہ اس کے ذریعہ سے تم ان کو پاک و صاف کر سکو۔ چنانچہ اس کے بعد نئے سال یعنی محرم 9ھ میں زکوٰۃ کے تمام احکام و قوانین مرتب ہوئے، اس کی وصولی کے لئے تمام عرب میں محصلوں اور عاملوں کا تقرر ہوا۔ 3 اور باقاعدہ ایک بیت المال کی صورت پیدا ہوئی یہ تمام احکام و قوانین سورہ براءت میں مذکور ہیں جو 8ھ کے آخر میں نازل ہوئی ہے۔

زکوٰۃ کی مدت کی تعیین:

اسلام سے پہلے زکوٰۃ کی مدت کی تعیین میں بڑی افراط و تفریط تھی، توراہ میں جو عشر یعنی دسواں حصہ مقرر کیا گیا تھا وہ تین سال میں ایک دفعہ واجب ہوتا تھا۔ (استثنا 14 - 28) اور انجیل میں کسی مدت اور زمانہ کی تعیین ہی نہ تھی۔ اس بنا پر زکوٰۃ کی تنظیم کے سلسلہ میں سب سے پہلی چیز اس کی مدت کا تعین تھا کہ وہ نہ تو اس قدر قریب اور مختصر زمانہ میں واجب الادا ہو کہ انسان بار بار کے دینے سے اکتا جائے اور بجائے خوشی اور دلی رغبت کے اس کو ناگوار اور جبر معلوم ہو اور نہ اس قدر لمبی مدت ہو کہ غریبوں مسکینوں اور قابل امداد لوگوں کو اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے طویل انتظار کی سخت تکلیف اٹھانی پڑے۔ اسلام نے اس معاملہ میں دنیا کے دوسرے مالی کاروبار کو دیکھ کر ایک سال کی مدت مقرر کی کیوں کہ تمام متمدن دنیا


صحیح بخاری کتاب الزکوٰۃ۔

ایضاً۔

ابن سعد جلد مغازی صفحہ 115 و تاریخ طبری جلد 3 صفحہ 272 مطبوعہ یورپ۔


صفحہ 132

نے خوب سوچ سمجھ کر اپنے کاروبار کے لئے 12 مہینوں کا سال مقرر کیا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ آمدنی کا اصلی سرچشمہ زمین کی پیداوار ہے اور اس کے بعد اس پیداوار کی خود یا اس کی بدلی ہوئی شکلوں کی صنعتی صورت کا بنانا اور ان کا بیوپار کرنا ہے آمدنی کے ان تمام ذریعہ کے لئے یہ ضروری ہے کہ سال کے مختلف موسم اور فصلیں جاڑا، گرمی، برسات، ربیع اور خریف گذر جائیں تا کہ پورے سال کے آمد و خرچ اور نفع و نقصان کی میزان لگ سکے اور زمیندار کاشتکار تاجر نوکر صناع ہر ایک اپنی آمدنی و سرمایہ کا حساب کتاب کر کے اپنی مالی حالت کا اندازہ لگا سکے۔ بڑے جانوروں کی پیدائش اور نسل کی افزائش میں بھی اوسطاً ایک سال لگتا ہے 1 ان تمام وجوہات سے ہر منظم جماعت ہر حکومت اور ہر قومی نظام نے محصول اور ٹیکس وصول کرنے کی مدت ایک سال مقرر کی ہے۔ شریعت محمدی نے بھی اس بارہ میں اسی طبعی اصول کا اتباع کیا ہے اور ایک سال کی مدت کی آمدنی پر ایک دفعہ اس نے زکوٰۃ کی رقم عائد کی ہے۔ چنانچہ اس کا کھلا ہوا ارشاد سورہ توبہ میں موجود ہے جس میں زکوٰۃ کے تمام احکام بیان ہوئے ہیں۔ زکوٰۃ کے بیان کے بعد ہی ہے۔ ﴿إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ﴾ (سورۃ التوبہ، آیت: 36) مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔

زکوٰۃ کی مقدار:

توراہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل میں زکوٰۃ کی مقدار پیداوار کا دسواں حصہ تھا اور نقد میں آدھا مثقال جو امیر و غریب سب پر یکساں فرض تھا۔ لیکن زمین کی مختلف قسمیں ہوتی ہیں کہیں زمین صرف بارش سے سیراب ہوتی ہے اور کہیں نہر کے پانی سے جہاں مزدوری اور محنت کا اضافہ ہو جاتا ہے نقد دولت کے بھی مختلف اصناف ہیں، بعض مرتبہ دولت بے محنت مفت ہاتھ آ جاتی ہے اور بعض اوقات سخت محنت کرنی پڑتی ہے اس لئے سب کا یکساں حال نہیں ہو سکتا۔ انجیل نے حسب دستور اس مشکل کا کوئی حل نہیں کیا۔ لیکن محمد رسول اللہ ﷺ کی شریعت کاملہ نے علم اقتصاد سیاسی (پولیٹیکل اکانومی) کے نہایت صحیح اصول کے مطابق دولت کے فطری اور طبعی ذرائع کی تعیین کی اور ہر ایک کے لئے زکوٰۃ کی مناسب شرح مقرر کر دی۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ شریعت محمدیہ نے توراہ کی قانونی تعیین اور انجیل کی اخلاقی عدم تعیین دونوں حقیقتوں کو اپنے نظام میں جمع کر لیا۔ اس نے اخلاقی طور پر ہر شخص کو اجازت دے دی کہ وہ اپنا کل مال یا نصف مال یا کم و بیش جو وہ چاہے خدا کی راہ میں دے دے اس کا نام انفاق یا عام خیرات و صدقہ ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی فرض کر دیا کہ ہر شخص کی دولت میں غریبوں اور محتاجوں اور دوسرے نیک کاموں کے لئے بھی ایک مقررہ سالانہ حصہ ہے اور اس کا نام زکوٰۃ ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ﴿الَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ دَائِمُونَ ۝ وَالَّذِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُومٌ ۝ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ﴾ (سورۃ المعارج، آیات: 23-25)


بکری کی مدت حمل چھ مہینے، گائے کی نو اونٹ کی گیارہ اور بھینس کی بارہ مہینے ہے۔


صفحہ 133

جو اپنی نماز ہمیشہ ادا کرتے ہیں اور جن کے مالوں میں مانگنے اور محروم کا معلوم حصہ ہے۔ اس آیت سے صاف و صریح طریقہ سے یہ ثابت ہے کہ مسلمانوں کی دولت میں غریبوں کا جو حصہ ہے وہ متعین، مقرر، معلوم اور عملاً رائج ہے۔ چنانچہ قرآن پاک میں ﴿مَعْلُومٌ﴾ اور ﴿مَعْلُومَاتٍ﴾ کے الفاظ جہاں آئے ہیں وہاں یہی مقصود ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ عرب میں جو قوم کسی نہ کسی طرح زکوٰۃ ادا کرتی تھی اس کی جو شرح متعین اور رواج پذیر تھی اس کو اسلام نے کسی قدر اصلاح کے بعد قبول کر لیا تھا۔ عرب میں اس قسم کی زکوٰۃ صرف بنی اسرائیل ادا کرتے تھے جس کا حکم توراہ میں مذکور ہے اور اس کی شرح بھی اس میں مقرر ہے۔ یعنی پیداوار میں دسواں حصہ اور نقد میں نصف مثقال۔ آنحضرت ﷺ نے اپنی حکمت ربانی سے اجناس زکوٰۃ پر مختلف شرحیں مقرر فرمائیں جو قیمت کے لحاظ سے اسی شرح معلوم کے مساوی ہیں اور ان شرحوں کو فرامین کی صورت میں لکھوا کر اپنے عمال کے پاس بھجوایا۔ یہی تحریری فرامین تدوین حدیث کے زمانہ تک بعینہٖ محفوظ تھے اور تدوین حدیث کے بعد ان کو بعینہٖ کتب حدیث میں درج کیا گیا جو آج تک موجود ہیں۔ اس تمام تفصیل کا مخرج قرآن پاک میں بھی ایک حیثیت سے مذکور ہے۔

یہ ظاہر ہے کہ انسان کی دولت صرف اس کی محنت اور سرمایہ کی پیداوار ہے۔ اس لئے اصول کا اقتضا یہ ہے کہ جس حد تک محنت اور سرمایہ کم لگتا ہو زکوٰۃ کی مقدار اسی قدر زیادہ رکھی جائے اور جیسے جیسے محنت بڑھتی اور سرمایہ کا اضافہ ہوتا جائے زکوٰۃ کی شرح کم ہوتی جائے۔ عرب میں یہ دستور تھا کہ قبیلوں کے سردار چوتھائی وصول کرتے تھے۔ اسی لئے وہ اپنے سرداروں کو رِباع (یعنی چوتھائی والا) کہا کرتے تھے۔ شاید دوسری پرانی قوموں میں بھی یہ دستور ہو۔ ہندوستان میں مرہٹوں نے بھی چوتھ ہی کو رائج کیا تھا مگر چونکہ اسلام کو محکوموں اور سپاہیوں کے ساتھ زیادہ رعایت مد نظر تھی اس لئے اس نے چار کو پانچ کر دیا۔ اس طرح چوتھ کے بجائے دولت کا پانچواں حصہ خدا اور رسول کا حصہ قرار پایا جس کو رسول اور ان کے بعد ان کے نائب اپنے ذاتی ضروریات اہل و عیال کے نان و نفقہ اور نادار مسلمانوں کی امداد یا حکومت اور جماعت کی کسی اور ضروری مدد میں صرف کر سکیں۔ اس زکوٰۃ کا نام جو غنیمت کے مال پر عائد ہوتی ہے 'خُمس' ہے قرآن نے کہا۔ ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ﴾ (سورۃ الانفال، آیت: 41) اور جان لو کہ جو کچھ تم کو غنیمت ملے اس کا پانچواں حصہ خدا کے لئے اور رسول کے لئے اور قرابت مندوں کے لئے اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافر کے لئے ہے۔

نکتہ:

اس موقع پر ایک خاص بات سمجھنے کے لائق ہے جہاد یا دشمنوں سے لڑائی کا اصلی مقصد دین کی حمایت اور اعلائے کلمۃ اللہ ہے غنیمت کا مال حاصل کرنا نہیں اور اگر کوئی صرف حصول غنیمت کی نیت سے دشمن سے لڑے تو اس کی یہ لڑائی اسلام کی نگاہ میں جہاد نہ ہو گی اور نہ اس کا کوئی ثواب ملے گا۔ اس کی طرف خود قرآن پاک میں اشارہ موجود ہے اور


صفحہ 134

سیرت النبی ﷺ (حصہ پنجم)

آنحضرت ﷺ نے بھی متعدد حدیثوں میں اس کی تشریح فرما دی ہے۔ اس بنا پر درحقیقت وہ مال غنیمت جو لڑائی میں دشمنوں سے ہاتھ آتا ہے ایک ایسا سرمایہ ہے جو بلا قصد اور بلا محنت اتفاقاً مسلمانوں کو مل جاتا ہے اس سے یہ نکتہ حل ہو جاتا ہے کہ جو سرمایہ کسی محنت کے بغیر اتفاقاً ہاتھ آئے اس میں پانچواں حصہ نظام جماعت کا حق ہے یا حکومت کے مقررہ بالا مصارف کے لئے ہے۔

یہ اصول کہ جو سرمایہ بلا کسی محنت کے اتفاقاً کسی مسلمان کے ہاتھ آ جائے اس میں سے پانچواں حصہ خدا اور رسول کا ہے تاکہ وہ جماعت کے مشترکہ مقاصد کے صرف میں آئے وہی ہے جس کی بنا پر رِکاز یعنی دفینہ میں جو کسی کو بلا محنت اتفاقاً غیب سے ہاتھ آ جائے خمس (یعنی پانچواں حصہ) جماعت کے بیت المال کا حق تسلیم کیا گیا ہے۔

محنت اور سرمایہ سے جو دولت پیدا ہوتی ہے اس میں سب سے پہلی چیز زمین کی پیداوار ہے۔ توراہ نے ہر قسم کی پیداوار پر عشری یعنی دسواں حصہ مقرر کیا تھا۔ شریعتِ محمدیہ نے نہایت نکتہ سنجی کے ساتھ پیداوار کی مختلف قسموں پر مختلف شرح زکوٰۃ کی تفصیل کی۔ سب سے پہلے پیداوار کے ان اصناف پر زکوٰۃ مقرر ہوئی جو کچھ زمانہ تک محفوظ رہ سکتے ہیں تاکہ ان سے حسب منشاء خانگی اور تجارتی فائدہ اٹھایا جا سکے اور نقصان کا اندیشہ نہ ہو۔ اسی بنا پر سبزیوں اور ترکاریوں پر جو ایک دو روز سے زیادہ نہیں رہ سکتیں کوئی زکوٰۃ مقرر نہیں فرمائی گئی۔ اسی طرح اس مالیت پر جس میں نشو و نما اور ترقی کی صلاحیت نہیں مثلاً آلات، مکان، لباس، سامان، اسباب، سواری، قیمتی پتھر ان پر بھی زکوٰۃ نہیں رکھی گئی، کچھ دنوں تک باقی رہنے والی اور نشو و نما پانے والی چیزیں چار ہیں۔ زمین، جانور، سونا، چاندی یا ان کے سکے اور تجارتی مال، چنانچہ ان چاروں چیزوں پر زکوٰۃ مقرر ہوئی۔

زمین کی دو قسمیں کی گئیں ایک وہ جس کے جوتنے اور بونے کی محنت اور مزدوری کا خرچ گاہ کا شکار کرتا ہے مگر قیمتی پتھروں سے مراد جواہرات اور موتی وغیرہ ہیں ان پر اس لئے زکوٰۃ نہیں ہے کہ اسلام نے ان کو صرف اسبابِ زینت قرار دیا ہے۔ فرمایا: {حِلْيَةً تَلْبَسُونَهَا} (1) (نحل و فاطر) زینت جن کو تم پہنتے ہو۔ یہ ایسے ہی ہیں جیسے بعض فقہا کے نزدیک سونے چاندی کے استعمالی زیوروں پر زکوٰۃ نہیں کہ یہ بھی ان کے نزدیک اسبابِ زینت میں ہیں، اب اگر کوئی شخص ہزاروں اور لاکھوں روپے کے جواہرات جمع کرلے تو اس کی تین صورتیں ہو سکتی ہیں۔ یا تو تجارت کے لئے ہیں، تو ان پر مالِ تجارت کی حیثیت سے ان کی قیمت کے لحاظ سے زکوٰۃ واجب ہوگی دوسری یہ کہ کوئی بد نصیب زکوٰۃ سے بچنے کے لئے اپنی دولت کو جواہرات کی صورت میں منتقل کرتا ہے تو قانوناً اس سے زکوٰۃ وصول نہیں کی جائے گی لیکن دیانتاً وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سخت گنہگار ہوگا، اور تیسری صورت یہ ہے کہ وہ محض سامانِ تعیش اور فخر و مباہات کے لئے جمع کرتا ہے تو اس کی حالت وہی ہوگی جو بیش قیمت لباسوں اور سامانوں کا ذخیرہ جمع کرلے، اس کا شمار اسراف میں ہوگا اور اس پر وعید ہے۔

اصل یہ ہے کہ جواہرات کی قیمت کی گرانی نقدین (یعنی سونے چاندی) کی طرح طبعی نہیں ہے بلکہ محض فرضی ہے نہ وہ خود ضروریاتِ زندگی میں ہیں نہ ان سے ضروریات زندگی کا مبادلہ یا خریداری معمولاً کی جاتی ہے چند دولت مندوں کی طلب اور مانگ نے ان کی فرضی قیمت بنا رکھی ہے اگر ان جواہرات کی آب جاتی رہی یا وہ ٹوٹ جائیں یا ان میں بال پڑ جائے تو ان کی قیمت فوراً گر جائے گی، بخلاف سونے چاندی کے کہ ان کی قیمت کی گرانی طبعی اسباب سے ہے اور وہ ضروریات زندگی کے لئے زرِ مبادلہ ہے۔ وہ بھی ٹوٹ جائے یا میلا بھی ہو جائے تو بھی اس کی قیمت ہر حال میں باقی ہے اس لئے وہ معیارِ زر ہیں۔


صفحہ 135

سیرت النبی ﷺ (حصہ پنجم)

موسیٰ اور اقلیمی خصوصیت کی وجہ سے اس کے سیراب کرنے میں کاشتکار کی کسی بڑی محنت اور مزدوری کو دخل نہیں ہوتا بلکہ وہ بارش یا نہر کے پانی یا زمین کی نمی اور شبنم سے آپ سے آپ سیراب ہوتی ہے اس پر بلا محنت والی اتفاقی دولت سے آدھی زکوٰۃ یعنی عشر (1/10) مقرر کیا گیا۔ زمین کی دوسری قسم یعنی وہ جس کی سیرابی کاشتکار کی خاص محنت اور مزدوری سے ہو مثلاً کنوئیں سے پانی نکال کر لانا یا نہر بنا کر پانی لانا تو اس میں قسم اول سے بھی نصف یعنی بیسواں حصہ (1/20) مقرر ہوا۔ نقدی سرمایہ جس کی ترقی حفاظت نشو و نما اور افزائش میں انسان کو شب و روز کی سخت محنت کرنی پڑتی ہے اور جس کی افزائش کے لئے بڑے سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے اور جس میں ہر قدم پر چوری، گم شدگی، لوٹ اور نقصان کا اندیشہ رہتا ہے زمین کی دوسری قسم کا بھی آدھا یعنی چالیسواں (1/40) حصہ مقرر ہوا۔ (1) (جانوروں کا ذکر آگے آتا ہے)۔

زمینی پیداوار اور نقد سرمایہ میں شرحِ زکوٰۃ کی کمی بیشی کی ایک دقیق اقتصادی علت اور بھی ہے انسان کی اصلی ضرورت جس پر اس کا جینا منحصر ہے صرف غذا ہے۔ زمین کے مالکوں کو یہ چیز براہ راست خود اپنی محنت سے حاصل ہوتی جاتی ہے اور زندگی کی سب سے بڑی ضرورت سے وہ بے پروا ہو جاتے ہیں لیکن سونے چاندی کے مالکوں اور تاجروں کی جو دولت ہے وہ براہ راست ان کی زندگی کی اصلی ضرورت کے کام میں نہیں آتی بلکہ مبادلہ اور خرید و فروخت کے ذریعہ سے وہ اس کو حاصل کرتے ہیں وہ کاشتکاروں کی پیداوار کو خرید کر ان کو نقد روپے دیتے ہیں جس سے ان کی دوسری ضرورتیں پوری ہوتی ہیں پھر وہ اس پیداوار کو لے کر گاؤں گاؤں، شہر شہر، ملک ملک پھرتے ہیں اور اس کی بھی اجرت ادا کرتے ہیں نیز جو محنت زمین کی پیداوار حاصل کرنے میں صرف ہوتی ہے اس سے بدرجہا زیادہ نقد کے حصول میں صرف کرنی پڑتی ہے۔ سونا چاندی صدیوں کے فطری انقلابات کے بعد کہیں پیدا ہوتی ہے اور غلہ ہر سال اور سال کی ہر فصل میں انسان کی کوشش سے پیدا ہوتا ہے اس لئے سونا چاندی کی قیمت کا معیار غلہ سے گراں تر ہے ایک اور بات یہ ہے کہ کاشتکار اور زمینوں کے مالک عموماً دیہاتوں میں رہتے اور شہروں سے دور ہوتے ہیں نیز وہ عموماً سونا چاندی اور سکوں سے بھی محروم رہتے ہیں۔ اس لئے نسبتاً وہ قومی ضروریاتِ دین کی مالی خدمات اور مستحقین کی امداد میں اس انفاق یعنی اخلاقی خیرات کی گرفت سے آزاد رہتے ہیں جن کو عموماً نقد صورت میں دولت کے مالک اور تاجر پورا کیا کرتے ہیں اس بنا پر بھی سخت ضرورت تھی کہ ان کے لئے قانونی خیرات کی شرح اہل زمین سے مختلف رکھی جائے۔

زکوٰۃ کی شرح مقدار کی تعیین میں اس خمس والی آیت سے ایک اور نکتہ معلوم ہوتا ہے کہ خمس میں چونکہ امامت و حکومت کے تمام ذاتی و قومی مصارف شامل ہیں اس لئے وہ کل کا خمس یعنی 1/5 مقرر ہوا اور زکوٰۃ کے مصارف جیسا کہ سورہ توبہ رکوع 8 میں مذکور ہیں صرف آٹھ ہیں اس بناء پر ان آٹھ مصارف کے لئے مجموعی رقم چالیسواں حصہ رکھی گئی پھر غور کیجئے کہ سونا چاندی کی شرح 200 درہم یا اس کے مماثل سونا ہے۔ ان دو سو درہموں کو 5 پر تقسیم کر دیجئے تو 40 ہو جائے گا۔ یہ کل زکوٰۃ کی شرحیں 1/5 اور 1/10 اور 1/20 اور 1/40 ایک دوسرے کا نصف یا ایک دوسرے کا مضاعف ہوتی چلی گئی ہیں اس سے یہ اندازہ ہوگا کہ یہ تقسیم و تحدید حساب اور اقتصادیات کے خاص اصول پر مبنی ہے۔

(1) یہ نکتہ حافظ ابن قیم نے زاد المعاد میں بیان کیا ہے۔


صفحہ 136

سیرت النبی ﷺ (حصہ پنجم)

جانوروں پر زکوٰۃ:

توراہ میں ہر قسم کے جانوروں میں دسواں حصہ زکوٰۃ کا تھا۔ (1) لیکن چونکہ ہر قسم کے جانوروں میں نسل کی افزائش کی صلاحیت اور مدتِ افزائش (زمانہ حمل) یکساں نہیں ہوتی نیز جانوروں میں دسویں بیسویں کا حصہ مشاع ہر تعداد پر چسپاں نہیں ہو سکتا اس لئے ان میں دسویں بیسویں کے بجائے تعداد کے تعیین کی ضرورت تھی۔ شریعتِ محمدیہ نے اس نقص کو پورا کیا۔ چنانچہ اسی پہلے اصول (پیدائش اور افزائش کی مدت کیفیت اور کمیت) کی بنا پر اولاً بے نسل یا کم نسل کے جانوروں کو زکوٰۃ سے مستثنیٰ کر دیا۔ مثلاً خچر، گھوڑے (2) پر کوئی زکوٰۃ نہیں دوسرے جانوروں کی مالیت اور قوت و کیفیت افزائش کے لحاظ سے حسبِ ذیل شرح معین ہوئی۔ یہ وہ شرح نامہ ہے جو خود آنحضرت ﷺ نے اپنی حکمتِ ربانی سے فیصلہ فرما کر طے کیا اور زبانی نہیں بلکہ فرامین کی صورت میں لکھوا کر عمال کو عنایت فرمایا تھا اور خلفائے راشدین نے اسی کی نقلیں حدودِ حکومت میں بھجوائیں اور جس کی تعمیل آج تک برابر بلا اختلاف ہوتی آئی ہے۔

(1) اخبار 27: 32-34 (2) حنفیہ کے نزدیک خیل متناسل اور تجارت کے گھوڑوں میں زکوٰۃ ہے، سواری اور جہاد کے گھوڑوں میں نہیں۔


صفحہ 137

سیرت النبی ﷺ (حصہ پنجم)

نصابِ مال کی تعیین:

شرحِ زکوٰۃ کے تعیین کے سلسلہ میں شرائعِ سابقہ میں ایک اور کمی تھی جس کی تکمیل محمد رسول اللہ ﷺ کی شریعت نے کر دی۔ جن دوسری شریعتوں میں قانونی خیرات کی تعیین ہے ان میں امیر و غریب اور کم اور زیادہ دولت والوں کی تفریق نہیں کی گئی تھی۔ مثلاً اگر دس میں روپے والوں یا دس پانچ گائے اور بکری والوں سے یہ زکوٰۃ وصول کی جاتی تو ان پر ظلم ہوتا، توراہ میں غلہ اور مویشی پر جو عشر اور نقد پر جو آدھا مثقال مقرر کیا گیا ہے اس میں اس کا لحاظ نہیں کیا گیا ہے بلکہ آدھے مثقال کی زکوٰۃ میں تو یہاں تک کہہ دیا گیا ہے کہ: "خداوند کے لئے نذر کرتے وقت آدھے مثقال سے امیر زیادہ نہ دے اور غریب کم نہ دے"۔ (خروج 30: 15)

لیکن شریعتِ محمدی نے اس نکتہ کو ملحوظ رکھا اور غریبوں، ناداروں، مقروضوں اور ان غلاموں کو جو سرمایہ نہیں رکھتے یا اپنی آزادی کے لئے سرمایہ جمع کر رہے ہیں اس سے بالکل مستثنیٰ کر دیا نیز دولت کی کم مقدار رکھنے والوں پر بھی ان کی اپنی حسبِ خواہش اخلاقی خیرات کے علاوہ کوئی باقاعدہ زکوٰۃ عائد نہیں کی اور کم مقدار کی دولت کا معیار بھی اس نے خود مقرر کر دیا۔ سونے کی زکوٰۃ وہی آدھا مثقال رکھا لیکن بتا دیا کہ یہ آدھا مثقال اسی سے لیا جائے گا جو کم از کم پانچ اوقیہ یعنی بیس مثقال سونے کا مالک ہو اور 5 اوقیہ یعنی 20 مثقال سونے کی متوسط قیمت دو سو درہم چاندی کے سکے ہیں یعنی ایک اوقیہ چالیس درہم کے برابر ہے۔ (1) وہ کم سے کم معیارِ دولت جس پر زکوٰۃ نہیں حسب ذیل ہے۔

(1) موجودہ انگریزی حساب سے بیس مثقال سونا سات تولہ کے اور دو سو درہم چاندی 52 روپے کے برابر ہے۔ (2) سنن ابی داؤد کتاب الزکوٰۃ باب من یعطی الزکوۃ الغنی جلد اول صفحہ 164 اصح المطابع لکھنو۔ (3) ایک وسق وہ بوجھ ہے جس کو عادتاً ایک اونٹ اٹھا سکتا ہے۔


صفحہ 138

سیرت النبی ﷺ (حصہ پنجم)

اس معیار سے امیر و غریب کی سطحوں میں جو یکساں زکوٰۃ کی ناہمواری تھی وہ دور ہو گئی اور جو غریب خود زکوٰۃ کے مستحق تھے وہ اس قومی محصول سے بری ہو گئے۔

ان مذکورہ بالا اشیاء کی تعداد و جنسیت کے اختلاف کی وجہ سے گو مختلف ہے مگر مالی اعتبار سے وہ ایک ہی معیار پر مبنی ہیں۔ پانچ وسق غلہ، دو سو درہم چاندی اور پانچ اوقیہ سونا درحقیقت ایک ہی معیار ہے۔ ایک اوقیہ جیسا کہ معلوم ہو چکا چالیس درہم کے برابر ہے۔ اس بنا پر پانچ اوقیہ اور دو سو درہم برابر ہیں۔ اسی طرح ایک وسق غلہ کی قیمت اس زمانہ میں چالیس (1) یا 4 مثقال تھی یعنی پانچ اوقیہ اور پانچ وسق کی قیمت وہی دو سو درہم یا 20 مثقال ہوگی۔

زکوٰۃ کے مصارف اور ان میں اصلاحات:

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت میں تین قسم کی زکوٰۃ تھی ایک آدھے مثقال سونے چاندی کی یہ رقم جماعت کے خیمہ یا پھر بیت المقدس کی تعمیر و مرمت اور قربانی کے طلائی و نقرئی ظروف و سامان کے بنانے میں خرچ کی جاتی تھی۔ (خروج 30: 13) دوسری خیرات یہ تھی کہ کھیت کاٹتے اور پھل توڑتے وقت حکم تھا کہ جا بجا کونوں اور گوشوں میں کچھ دانے اور پھل چھوڑ دیئے جائیں۔ وہ غریبوں اور مسافروں کا حصہ تھا۔ (احبار 19: 10) اور سوم یہ تھی کہ ہر تیسرے سال کے بعد پیداوار اور جانوروں کا دسواں حصہ خدا کے نام پر نکالا جائے اس کے مصارف یہ تھے کہ دینے والا مع اہل و عیال کے بیت المقدس جا کر جشن منائے اور کھلائے اور کھلائے اور لاویوں میں جو مورتی کا ہن اور خدا کے گھر کے خدمت گزار ہیں نام بنام تقسیم کیا جائے (اس کے بدلے میں وہ خاندانی وراثت سے محروم رکھے گئے تھے) اس کے بعد یہ چیزیں بیت المقدس کے خزانہ میں جمع کر دی جاتی تھیں کہ ان سے مسافروں، یتیموں اور بیواؤں کو کھانا کھلایا جائے۔ (استثناء 14: 26 سے 29 تک)

شریعتِ محمدیہ نے مذہب کی حقیقت میں سب سے بڑی جو اصلاح کی۔ 1۔ وہ عبادت میں خدا اور بندہ کے درمیان سے واسطوں کا حذف کرنا تھا۔ یہاں ہر شخص اپنا آپ امام اور کاہن ہے۔ اس بنا پر مفت خور کاہنوں اور عبادت گاہوں کے خادموں کی ضرورت ساقط ہو گئی اور اس لئے زکوٰۃ کا یہ مصرف جو قطعاً بیکار تھا کلیتہً اڑ گیا۔ 2۔ عبادت میں سادگی پیدا کر کے ظاہری رسموں اور نمائشوں سے اس کو پاک کر دیا گیا اس لئے سونے چاندی کے سامانوں قربانی کے برتنوں اور محرابوں کے طلائی شمع دانوں کی ضرورت ہی نہیں رہی۔ 3۔ حج ان ہی پر واجب کیا گیا جن کے پاس زادِ راہ ہو اس لئے ہر شخص کو خواہ مخواہ بیت اللہ جانے کی حاجت نہ رہی اور اس لئے یہ رقم بھی خارج ہو گئی۔ 4۔ زکوٰۃ کی چیز کو مالک کے ذاتی ضروریات اور کھانے میں صرف ہونے کی ممانعت کر دی گئی کہ اگر وہ

(1) ہدایتہ جلد اول باب الزکوۃ فی التجارة۔