Page 84
[سیرتُ النَّبی ﷺ] [حِصَّہ پَنجم] | 84
گئی ہے۔ اس سورہ کے اترنے کا وقت تاریخ سے ثابت ہے کہ وہ رومیوں کی شکستِ کامل کے بعد ہے جس کا زمانہ نبوت کے پانچویں چھٹے سال سے لے کر آٹھویں نویں سال تک ہے۔
﴿فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ ١٧ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِيًّا وَّحِيْنَ تُظْهِرُوْنَ ١٨﴾
سورہ روم آیت 17–18 ہے)
اللہ کی تسبیح کرو جب شام (یا رات) کرو اور جب صبح کرو اور اس کی حمد آسمان اور زمین میں ہے اور اخیر دن کو اس کی تسبیح کرو اور جب ظہر کرو۔
اس آیتِ پاک میں زوال کے بعد (ظہر) اور غروب سے قبل (عصر) کی مبہم نمازوں کی توضیح کی گئی ہے۔ ایک کو «عَشِيًّا» (عصر) اور دوسری کو «تُظْهِرُوْنَ» کہا گیا ہے۔ تمام آیتوں کو سامنے رکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ نمازِ فجر کا بالتصریح ذکر طہٰ، طور، دہر، ہود، ق، روم اور نور میں۔ ظہر کا بالاجمل دہر، ق، طہٰ اور اسراء میں اور بالتصریح اسراء اور روم میں، عصر کا بقرہ، دہر، ہود، طہٰ، ق اور روم میں، مغرب کا بالاجمل ہود، طہٰ اور روم میں اور بالتصریح ق میں، عشاء کا بصورتِ «صَلٰوةَ اللَّيْلِ» مزمل، طور اور دہر میں اور بصورتِ عشاء بالاجمل طہٰ، ہود اور روم میں اور بالتصریح ق اور ہود میں ہے۔ تمام نمازوں کا بالاجمل تذکرہ بقرہ، اسراء اور طہٰ میں ہے، طور سے فجر اور عشاء دو وقتوں کی نماز، اسراء، ہود اور طہٰ سے کم از کم بظاہر تین وقتوں کی، روم سے چار وقتوں کی (اگر مساء سے صرف مغرب مراد لیں) اور طہٰ اور روم سے پانچ وقتوں کی نماز ثابت ہے۔
ایک نکتہ
جمع بین الصلوتین:
اوپر کی آیتوں پر غور کی نظر ڈالنے سے ایک عجیب نکتہ حل ہوتا ہے۔ پہلی آیتوں میں ظہر اور عصر کی نمازیں مجمل ہیں یعنی دونوں کو ایک لفظ «قَبْلَ الْغُرُوْبِ» یا «أَصِيْل» یا «طَرَفَ النَّهَارِ» کے ذریعہ سے بیان کیا گیا ہے، آخر آیت میں جو سورہ روم کی ہے، ظہر اور عصر کی نمازوں کا نام تصریح کے ساتھ آیا ہے مگر شام کی نماز میں اجمال ہے۔ یعنی مغرب و عشاء دونوں کو «حِيْنَ تُمْسُوْنَ» (جب رات کرو) کے ذریعہ سے ادا کر دیا گیا ہے۔ اس سے اس جانب ایک لطیف اشارہ نکلتا ہے کہ یہ دونوں مل کر ایک بھی ہیں اور علیحدہ بھی ہیں اسی بنا پر کسی اشد ضرورت اور سفر کی بے اطمینانی کے وقت ظہر و عصر کو ایک ساتھ اور مغرب و عشاء کو ایک ساتھ ملا کر بھی ادا کر سکتے ہیں ⁽1⁾ اور صبح کی نماز چونکہ ہر آیت میں ہمیشہ علیحدہ ذکر کی گئی ہے اس
⁽1⁾ مُؤَطَّا إِمَام مَالِک، مُسْلِم، تِرْمِذِي «بَابُ الْقَصْرِ فِي الصَّلٰوةِ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ»، بعض مستشرقین کو جمع بین الصلوتین کی حدیثیں دیکھ کر یہ شبہ پیدا ہوا ہے کہ زمانہ نبوی میں شاید تین وقت کی نمازیں ادا ہوتی تھیں۔ (انسائیکلو پیڈیا آف اسلام میں فاضل وینسِک کو بھی یہی شبہ ہوا ہے) دیکھو اس کا مضمون صلوٰۃ، مگر حقیقت یہ نہیں ہے بلکہ نمازیں ہمیشہ پانچ وقتوں کی ہوتی ہیں البتہ بضرورت ظہر و عصر کو ایک ساتھ اور مغرب و عشاء کو ایک ساتھ ملا کر پڑھ لیتے تھے۔ رکعتیں اتنی ہی رہتی تھیں، صرف وقت میں کمی ہو جاتی تھی۔ فقہاء میں باہم اس کے متعلق اختلاف ہے کہ دو دو نمازوں کو یکجا کن صورتوں میں پڑھا جا سکتا ہے۔ احناف کے نزدیک حقیقی طور سے صرف ایک موقع حج میں عرفات میں 9 ذی الحجہ کو ظہر اور عصر دونوں ظہر کے وقت (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر ملاحظہ فرمائیں)
Page 85
[سیرتُ النَّبی ﷺ] [حِصَّہ پَنجم] | 85
لئے اس کا کسی دوسری نماز سے ملانا جائز نہیں ہے۔ احادیث میں «جَمْعُ بَيْنَ الصَّلٰوتَيْنِ» کے عنوان سے آنحضرت ﷺ کی عملی مثالیں اس نکتہ قرآنی کی تشریح میں موجود ہیں۔
اوقاتِ پنج گانہ اور آیتِ اسراء:
محدثین اور مؤرخین کا اتفاقِ عام ہے کہ نماز کے اوقاتِ پنج گانہ کی تعیین معراج میں ہوئی ہے۔ جو ہماری تحقیق کے مطابق بعثت کے بارہویں سال اور ہجرت سے ایک سال پہلے واقع ہوئی تھی۔ گو اوقاتِ پنج گانہ کا ذکر سورہ ق اور روم میں موجود ہے جو اس سے پہلے نازل ہو چکی تھیں۔ لیکن اقامتِ صلوٰۃ کے امر کے ساتھ سب سے پہلے اسی سورہ اسراء (معراج) میں نمازِ پنج گانہ کا حکم ہوتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نمازِ پنج گانہ کی تکمیل بصورتِ صلوٰۃ اسی معراج میں ہوئی جس طرح وضو پر عمل گو پہلے سے تھا مگر اس کا حکم قرآن میں مدنی سورتوں کے اندر نازل ہوا ہے۔ سورہ اسراء (معراج) کی وہ آیت جس میں نمازِ پنج گانہ کا ذکر ہے حسب ذیل ہے۔
﴿اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّيْلِ وَقُرْاٰنَ الْفَجْرِ ؕ اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًا ٧٨﴾
سورہ اسراء آیت 78 ہے)
آفتاب کے جھکاؤ کے وقت رات کی تاریکی تک نماز کھڑی کر، اور فجر کی قرآت کر بے شک فجر کی قرآت میں حضور ہوتا ہے۔
یہ آیت کریمہ اوقاتِ پنج گانہ کی تعیین اور اس کے سبب کو پوری طرح بیان کرتی ہے۔ اس میں سب سے اہم اور تشریح کے قابل لفظ «دُلُوْك» ہے «دُلُوْك» کے اصلی معنی جھکنے اور مائل ہونے کے ہیں لیکن تحقیق طلب یہ ہے کہ «دُلُوْكِ الشَّمْسِ» یعنی آفتاب کے جھکنے سے کیا مراد ہے؟ اور اہل عرب اس کو کن معنوں میں بولتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عربی میں اس لفظ کا اطلاق تین اوقات یا آفتاب کی تین حالتوں پر ہوتا ہے۔ زوال پر مقابل نقطہ نگاہ سے آفتاب کے ہٹ جانے پر اور غروب پر اور جب آیتِ مذکورہ میں یہ کہا گیا کہ آفتاب کے «دُلُوْك» (جھکاؤ) پر نماز پڑھو تو ان تینوں دلوکات یعنی آفتاب کے تینوں جھکاؤ پر ایک ایک نماز لازم آئی۔ غرض یہ ہے کہ اوجِ کمال پر پہنچنے کے بعد جب آفتاب ڈھلنا شروع ہوتا ہے تو اس کے تین دلوک یا جھکاؤ ہوتے ہیں۔ ایک نقطہ سمت الراس سے، دوسرا نقطہ تقابل سے اور تیسرا دائرہ افق سے، پہلا ظہر کا وقت ہے، دوسرا عصر کا، اور تیسرا مغرب کا اور اس کے ہر دلوک یعنی انحطاط پر اس کی خدائی کی نفی و تردید اور خدائے برحق کی الوہیت کے اقرار و اعلان کے لئے ایک ایک نماز رکھی ہے اس طرح ”دلوک“ کے لفظ کے اندر تین نمازوں کے وقت بتائے گئے ہیں چوتھی نماز کا وقت «غَسَقِ الَّيْلِ» (رات کی تاریکی) ہے یہ عشاء کی نماز ہے اور اس کو حقیقت میں نصف شب کو ادا کی جاتی ہیں۔ کیونکہ اس دن عصر کا وقت خاص حج کی دعاؤں کے لئے ہے۔ بقیہ نمازوں میں حنفیہ کے نزدیک حقیقی یکجائی نہیں بلکہ محض صورۃً دو دو نمازیں ایک ساتھ ادا کی جا سکتی ہیں۔ اس کی صورت یہ ہے کہ ایک نماز اخیر وقت میں اور دوسری اول وقت میں پڑھی جائے حنفیہ کے علاوہ دوسرے فقہاء کے نزدیک سفر میں حقیقتاً دو نمازیں یکجا ایک وقت میں پڑھی جا سکتی ہیں اور آنحضرت ﷺ نے ایسا کیا ہے۔ شیعوں میں دو دو نمازوں کے ایک ساتھ پڑھنے کا عام رواج ہے۔
Page 86
[سیرتُ النَّبی ﷺ] [حِصَّہ پَنجم] | 86
ہونا چاہئے جب آفتاب کا چہرہ نورانی تو برتر حجاباتِ ظلمت میں چھپ جاتا ہے۔ لیکن لوگوں کی تکلیف کے خیال سے وہ سونے سے پہلے رکھی گئی تا کہ خواب کی غفلت کی تلافی اس سے ہو جائے اور پانچویں نماز کا وقت «قُرْاٰنَ الْفَجْرِ» (صبح کا پڑھنا) بتایا گیا ہے یہ آفتاب کے طلوع سے پہلے اس لئے ادا کی جاتی ہے کہ عنقریب وہ ظاہر ہو کر اپنے پرستاروں کو اپنی طرف متوجہ کرے گا اس لئے ضرور ہے کہ دنیا اس کے طلوع سے پہلے ہی خالق اکبر کا نام لے، اور اس باطل پرستی سے جس میں آفتاب پرست عنقریب مبتلا ہونے والے ہیں تبری ظاہر کرے، غرض اس آیت پاک سے اقامتِ صلوٰۃ کے اوقاتِ پنج گانہ کا ثبوت ملتا ہے اب ہم کو یہ دکھانا ہے کہ کلامِ عرب میں آفتاب کے ان تینوں جھکاؤ یا میلانوات پر دلوک کا اطلاق ہوتا ہے۔ اگر کلامِ عرب سے یہ ثابت ہو جائے تو اس آیت سے اوقاتِ پنج گانہ کی تشریح کے قبول کرنے میں کسی کو عذر نہ ہوگا۔
دلوک کی تحقیق:
مفسرین میں سے بعض نے دلوک سے زوال کا وقت اور بعض نے غروب کا وقت مراد لیا ہے اور اہل لغت نے بھی اس کے یہ دونوں معنی لکھے ہیں اور ایک تیسرے معنی اور بھی بیان کئے ہیں یعنی مقابل نقطہ نگاہ سے ہٹ جانا اور اس کے ثبوت میں ایک جاہلی شاعر کا شعر بھی پیش کیا ہے۔ چنانچہ لسان العرب میں ہے۔
«وَدَلَکَتِ الشَّمْسُ تَدْلُکُ دُلُوْکًا: غَرَبَتْ، وَقِیْلَ: اصْفَرَّتْ وَمَالَتْ لِلْغُرُوْبِ، وَفِي التَّنْزِیْلِ الْعَزِیْزِ: ﴿اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّيْلِ﴾ وَقَدْ دَلَکَتْ: زَالَتْ عَنْ کَبِدِ السَّمَاءِ .... وَقَالَ الْفَرَّاءُ عَنْ اِبْنِ عَبَّاسٍ فِي دُلُوْکِ الشَّمْسِ اِنَّه زَوَالُهَا الظُّهْرَ، قَالَ: وَرَاَیْتُ الْعَرَبَ یَذْهَبُوْنَ بِالدُّلُوْکِ اِلٰی غِیَابِ الشَّمْسِ۔»
قَالَ الشَّاعِرُ:
هٰذَا مَقَامُ قَدَمَيْ رَبَاحِ
ذَبَّ حَتّٰى دَلَکَتْ بَرَاحِ
«يَعْنِي الشَّمْسَ۔ قَالَ أَبُو مَنْصُورٍ: وَقَدْ رُوِيْنَا عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ: دُلُوکُ الشَّمْسِ غُرُوبُهَا، وَرَوَى ابْنُ هَانِئٍ عَنِ الْأَخْفَشِ أَنَّهُ قَالَ: دُلُوکُ الشَّمْسِ مِنْ زَوَالِهَا إِلَى غُرُوبِهَا، وَقَالَ الزَّجَّاجُ: دُلُوکُ الشَّمْسِ زَوَالُهَا فِي وَقْتِ الظُّهْرِ وَذٰلِكَ مَيْلُهَا لِلْغُرُوبِ وَهُوَ دُلُوکُهَا أَيْضًا، يُقَالُ: دَلَکَتْ بَرَاحِ، وَبَرَاحِ أَيْ قَدْ مَالَتْ لِلزَّوَالِ حَتَّى كَادَ النَّاظِرُ يَحْتَاجُ إِذَا تَبَصَّرَهَا أَنْ يَكْسِرَ الشُّعَاعَ عَنْ بَصَرِهِ بِرَاحَتِهِ، فَإِنْ قِيلَ مَا مَعْنَى الدُّلُوکِ فِي كَلَامِ الْعَرَبِ؟ قِيلَ: الدُّلُوکُ الزَّوَالُ، وَلِذٰلِكَ قِيلَ لِلشَّمْسِ إِذَا زَالَتْ نِصْفَ النَّهَارِ دَالِکَةٌ، وَقِيلَ لَهَا إِذَا أَفَلَتْ دَالِکَةٌ لِأَنَّهَا فِي الْحَالَتَيْنِ زَائِلَةٌ .... قَالَ الْفَرَّاءُ فِي قَوْلِهِ بَرَاحِ جَمْعُ رَاحَتِهِ وَهِيَ الْكَفُّ، يَقُولُ: يَضَعُ كَفَّهُ عَلَى عَيْنَيْهِ يَنْظُرُ هَلْ غَرَبَتِ الشَّمْسُ بَعْدُ۔»
آفتاب کا دلوک ہوا یعنی وہ غروب ہوا اور کہا گیا ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ آفتاب زرد ہو گیا اور غروب کے لئے جھک گیا اور قرآن میں ہے کہ دلوکِ شمس کے وقت رات کی تاریکی تک نماز کھڑی کر اور آفتاب کو دلوک ہوا یعنی وہ آسمان کے بیچ سے ہٹ گیا.... اور فراء نے کہا کہ ابن عباس سے روایت ہے کہ دلوکِ شمس کے معنی ظہر کے وقت