Page 81
سیرت النبی ﷺ | حصہ پنجم
اوقات کی تکمیل
نمازوں کے اوقات کی تدریجی تکمیل:
اسلام کا آغاز سب کو معلوم ہے کہ کس غربت، مظلومی اور بے سروسامانی کے ساتھ ہوا تھا اس لئے ابتدائی زمانہ میں دن کے وقت کوئی نماز نہ تھی لوگ صرف رات کو کہیں ادھر ادھر چھپ کر دیر تک نماز پڑھا کرتے تھے۔ سورۂ مزمل میں جو مکہ کی نہایت ابتدائی سورتوں میں ہے یہ آیتیں ہیں۔
يٰۤاَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ ۙ قُمِ الَّيْلَ اِلَّا قَلِيْلًا ۙ نِّصْفَهٗۤ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيْلًا ۙ اَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِيْلًا ؕ اِنَّا سَنُلْقِيْ عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيْلًا ؕ اِنَّ نَاشِئَةَ الَّيْلِ هِيَ اَشَدُّ وَطْاً وَّ اَقْوَمُ قِيْلًا ؕ اِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيْلًا ؕ(سورہ مزمل: 1-7)
اے کملی اوڑھ کر سونے والے تھوڑی دیر کے علاوہ ساری رات اٹھ کر نماز پڑھا کر، آدھی رات تک یا اس سے کچھ کم یا اس سے (کچھ) زیادہ اور اس میں قرآن ٹھہر ٹھہر کر پڑھ، ہم تجھ پر عنقریب ایک بھاری بات ڈالنے والے ہیں۔ (شریعت کے مفصل احکام اتارنے والے ہیں) بے شک رات کو اٹھ کر نماز پڑھنے میں طمانیت قلب کا زیادہ موقع ہے اور قرآن سمجھ کر پڑھنے کے لئے زیادہ مناسب ہے، بے شبہ تجھ کو دن کے وقت آرام کی فرصت حاصل ہے۔
نماز کا یہ طریقہ غالباً تین برسوں تک رہا جب اسلام کی دعوت برملا نہیں دی جاسکتی تھی، کیونکہ جہاں
وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ ۙ(سورہ الشعراء: 214)
اپنے قریب کے اہل خاندان کو ہوشیار کرو۔
کے ذریعہ سے دعوت کے اعلان کا حکم آیا ہے وہیں یہ بھی اسی کے بعد مذکور ہے۔
وَتَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِيْزِ الرَّحِيْمِ ۙ الَّذِيْ يَرٰىكَ حِيْنَ تَقُوْمُ ۙ وَتَقَلُّبَكَ فِي السَّاجِدِيْنَ ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ ؕ(سورہ الشعراء: 217-220)
اور غالب مہربان پر بھروسہ رکھ جو تجھ کو اس وقت دیکھتا ہے جب تو (نماز کے لئے) اٹھتا ہے اور نمازیوں میں تیرا پھرنا (دیکھتا ہے) بے شک وہی سنتا اور جانتا ہے۔
اس کا مقصد یہ ہے کہ اعلانِ دعوت کا حکم ملنے سے پہلے آنحضرت ﷺ ان دشمنوں کے بیچ میں راتوں کو اٹھ کر خود نماز پڑھتے تھے اور مسلمانوں کو دیکھتے پھرتے تھے کہ کون نماز میں مصروف ہے اور کون سویا ہوا ہے۔ جس کو نماز کے لئے جگانا چاہئے، ایسی پرخطر حالت میں آپ کا راتوں کو تنہا یہ فرض انجام دینے کے لئے نکلنا اس اعتماد پر تھا کہ خدا آپ ﷺ کو خود دیکھ رہا ہے اور آپ کی حفاظت کر رہا ہے، اس کے بعد جب نسبتاً اطمینان حاصل ہوا اور دعوت کے اظہار کا وقت آیا تو رفتہ رفتہ اسلام کا قدم تکمیل کی طرف بڑھا اور رات کو طویل نماز (تہجد) کے علاوہ رات کے ابتدائی حصہ (عشاء) اور تاروں کے جھلملاتے وقت بھی ایک ایک نماز (فجر) اضافہ کی گئی۔
Page 82
سیرت النبی ﷺ | حصہ پنجم
وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْیُنِنَا وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِیْنَ تَقُوْمُ ۙ وَمِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَاِدْبَارَ النُّجُوْمِ ؕ(سورہ الطور: 48-49)
اور اپنے رب کے فیصلے کا انتظار کھینچ، بے شک تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے اور اپنے رب کی تعریف کی تسبیح کر جب تو (رات کو تہجد کے وقت) اٹھتا ہے اور کچھ رات کے حصہ میں اس کی تسبیح کر اور ستاروں کے پیٹھ پھیرتے وقت۔
یہ آیت سورۂ طور کے آخر میں ہے اور سورۂ طور کے متعلق معلوم ہے کہ وہ مکہ میں نازل ہوئی تھی (1) اور شاید اس وقت جب قریش نے آنحضرت ﷺ کو ایذاء دینا شروع کر دیا تھا۔ کیونکہ اسی سورہ میں اس آیت سے پہلے آپ کے مصائب اور ان پر صبر کرنے اور فیصلہ الٰہی کے انتظار کا حکم اور آپ کی ہر قسم کی حفاظت کی خوشخبری ہے، ابھی تک یہ رات کی نمازوں کی تفریق ہے۔ سورہ دہر میں جو جمہور کے نزدیک مکی ہے اور غالباً سورۂ طور کے بعد اتری ہے انہیں معنوں کی ایک اور آیت ہے جس میں ان اوقات کے علاوہ دن کے خاتمہ کے قریب کی ایک نماز جس کو عصر کہئے اور بڑھتی ہے۔
فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تُطِعْ مِنْهُمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًا ۚ وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا ۚ وَ مِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ وَ سَبِّحْهُ لَیْلًا طَوِیْلًا ؕ(سورہ الدہر/الانسان: 24-26)
تو اپنے پروردگار کے فیصلے کا انتظار کر اور ان مخالفوں میں سے کسی گنہگار یا اللہ کے ناشکر گزار کا کہنا نہ مان اور صبح کو اور تیسرے پہر کو اپنے پروردگار کا نام لیا کر اور کچھ رات گئے اس کو سجدہ کر اور رات کو دیر تک اس کی تسبیح کیا کر۔
اب رات کی دیر تک کی نماز تہجد کے علاوہ تین وقتوں کی تصریح ہے یعنی صبح اخیر دن اور ابتدائی شب مگر ہنوز اصیل (2) میں ظہر و عصر اور من اللیل (رات) میں مغرب اور عشاء کی تفریق نہیں ہوئی تھی کیوں کہ کل تین نمازیں تھیں ایک فجر کے وقت، ایک سہ پہر کو اور ایک رات کو اسی لئے ابھی تک باقی دو نمازوں کی جگہ رات کو دیر تک نماز پڑھتے رہنے کا حکم تھا جیسا کہ آیتِ بالا سے ظاہر ہے۔
اب یہ ان تین وقتوں کی تسبیح وتحمید باقاعدہ نماز کا قالب اختیار کرتی ہیں، حکم ہوتا ہے۔
اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ ؕ(سورہ ھود: 114)
دن کے دونوں کناروں میں (یعنی فجر اور عصر) اور رات کے ایک ٹکڑے میں نماز پڑھا کر۔
یہ آیت سورۂ ھود کی ہے جو مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ اس میں اکثر انبیاء علیہم السلام کے متعلق یہ بیان کر کے کہ انہوں نے اپنی اپنی امت کو خدائے برحق کی عبادت کی دعوت دی آنحضرت ﷺ کو بھی نماز کی اقامت کا حکم دیا گیا ہے اور غالباً نماز کے اوقات کے سلسلہ میں یہ پہلی آیت ہے جس میں تسبیح کی بجائے باقاعدہ صلوٰۃ کی اقامت کا حکم آیا ہے اس
(1) صحیح بخاری تفسیر طور واقعہ جبیر بن مطعم۔(2) اصیل دن کے آخری حصہ کو کہتے ہیں عام کتب لغت میں لکھا ہے کہ وہ وقت جو عصر کے بعد سے مغرب تک ہو اس کو اصیل کہتے ہیں لسان العرب میں اصیل کے معنی عشی لکھے ہیں جو عصر کے لئے سورۂ روم میں استعمال ہوا ہے۔(3) طرفی النهار کو مختلف طریقوں سے قرآن مجید میں ادا کیا گیا ہے "قبل طلوع الشمس وقبل غروبها" "بالعشی والابکار" "بالغدو والاصال" اس میں پہلا طرف فجر یا بكرة اور غدو ہے دوسرا طرف عصر، عشی اور اصیل ہے۔
Page 83
سیرت النبی ﷺ | حصہ پنجم
وقت مسلمانوں کی خاصی تعداد تھی جیسا کہ اس سے پہلے کی آیت سے ظاہر ہوتا ہے۔
فَاسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ وَ مَنْ تَابَ مَعَكَ وَ لَا تَطْغَوْا ؕ(سورہ ھود: 112)
پس تو سیدھا چلا چل جیسا کہ تجھ کو حکم دیا گیا ہے اور وہ جنہوں نے تیرے ساتھ توبہ کی (وہ بھی سیدھے چلیں) اور تم لوگ حد سے آگے نہ بڑھو۔
اب رات کی طویل نماز کو چھوڑ کر تین نمازیں باقاعدہ فرض ہوتی ہیں۔ ایک دن کے ایک کنارہ میں یعنی رات کے خاتمہ کے قریب تاروں کے جھلملاتے وقت، دوسری دن کے دوسرے کنارے میں دن کے خاتمہ کے قریب اور تیسری رات کے ابتدائی حصہ میں، پہلی سے صبح کی نماز، دوسری سے عصر کی، جس کو پہلے اصیل کہا گیا تھا اور تیسری سے عشاء کی نماز مراد ہے۔ ابھی تک دن اور رات کی نمازوں میں اجمال اور ابہام تھا دوسری میں ظہر و عصر، اور تیسری میں مغرب و عشاء کی نمازیں چھپی ہوئی تھیں۔ اب رات کی نمازیں سب سے پہلے علیحدہ ہوتی ہیں۔ سورہ ق میں جو مکی سورہ ہے اللہ تعالیٰ اپنے اوقاتِ خلق کو بیان کرنے کے بعد فرماتا ہے۔
فَاصْبِرْ عَلٰی مَا يَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِ ۚ وَ مِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اَدْبَارَ السُّجُوْدِ ؕ(سورہ ق: 39-40)
پس ان (مخالفوں) کے کہنے پر (اے رسول) صبر کر اور آفتاب کے نکلنے سے پہلے (صبح) اور اس کے ڈوبنے سے پہلے (عصر) اپنے پروردگار کی حمد و تسبیح کر۔ اور کچھ رات گئے پر (عشاء) اس کی تسبیح کر اور (آفتاب کے) (1) سجدہ کرنے کے بعد یعنی مغرب کے وقت اس کی تسبیح کر۔
صبر کی تلقین سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ حکم اس وقت کا ہے جب کفارِ قریش ہنوز آپ کی ایذاء و تحقیر کے درپے تھے۔ اس آیت پاک میں رات کی نماز کا ابہام دور کر کے مغرب اور عشاء کی تعیین کر دی گئی۔ ایک کی نسبت کہا گیا "من الیل" (کچھ رات گئے) اور دوسری کی نسبت کہا گیا "ادبار السجود" (آفتاب کے ڈوبنے پر) اوقاتِ نماز کی تفصیل کے سلسلہ میں رات سے آغاز اس لئے کیا گیا کہ یہ نسبتاً کفار سے محفوظ رہنے کا وقت تھا۔ زوال کے بعد سے غروب تک کی نماز جس کو پہلے اصیل اور پھر "طرفی النهار" (دن کے دونوں کناروں میں) اور یہاں "قبل غروب" کی نماز کہا گیا ہے ہنوز تفصیل طلب ہے جس کے اندر ظہر و عصر دونوں نمازیں داخل ہیں۔ چنانچہ سورۂ روم میں جو مکہ میں نازل ہوئی ہے اس کی تفصیل کی
(1) آفتاب کا لفظ چونکہ پہلے آ چکا ہے اس لئے ادبار السجود سے ادبار سجود الشمس مراد ہے۔ جیسا کہ "قبل الغروب" سے قبل غروب الشمس مقصود ہے۔ آفتاب کے سجدہ کرنے سے مراد اس کا ڈوب جانا ہے۔ جیسا کہ صحیح بخاری وغیرہ کی احادیث میں ہے کہ غروب کے بعد آفتاب خدا کو سجدہ کرتا ہے۔ چونکہ آفتاب کے ڈوبنے کے لئے غروب کا لفظ پہلے آ چکا تھا۔ اس لئے کلام کی فصاحت کا اقتضا یہ تھا کہ اب اس کے لئے دوسرا لفظ لایا جائے۔ چنانچہ اس معنی کے لئے سجود کا لفظ استعارۃً لایا گیا جو دراصل زمین پر پیشانی رکھنے کو کہتے ہیں اور غروب کے وقت آفتاب کی یہی حالت ہوتی ہے اس طرز ادا سے آفتاب پرستوں کی تردید مقصود ہے۔ اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے نماز کے لئے سجود شمس کا ذکر کیا کہ جس وقت آفتاب کا سر اپنے خالق کے آگے سجدہ میں ہو تم بھی اپنا سر اپنے خالق کے آگے جھکاؤ، تفسیروں میں حضرت علیؓ سے روایتیں ہیں کہ اس سے مراد مغرب کی نماز کے بعد کی دو رکعتیں ہیں
Page 84
[سیرتُ النَّبی ﷺ] [حِصَّہ پَنجم] | 84
گئی ہے۔ اس سورہ کے اترنے کا وقت تاریخ سے ثابت ہے کہ وہ رومیوں کی شکستِ کامل کے بعد ہے جس کا زمانہ نبوت کے پانچویں چھٹے سال سے لے کر آٹھویں نویں سال تک ہے۔
﴿فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ ١٧ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِيًّا وَّحِيْنَ تُظْهِرُوْنَ ١٨﴾
سورہ روم آیت 17–18 ہے)
اللہ کی تسبیح کرو جب شام (یا رات) کرو اور جب صبح کرو اور اس کی حمد آسمان اور زمین میں ہے اور اخیر دن کو اس کی تسبیح کرو اور جب ظہر کرو۔
اس آیتِ پاک میں زوال کے بعد (ظہر) اور غروب سے قبل (عصر) کی مبہم نمازوں کی توضیح کی گئی ہے۔ ایک کو «عَشِيًّا» (عصر) اور دوسری کو «تُظْهِرُوْنَ» کہا گیا ہے۔ تمام آیتوں کو سامنے رکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ نمازِ فجر کا بالتصریح ذکر طہٰ، طور، دہر، ہود، ق، روم اور نور میں۔ ظہر کا بالاجمل دہر، ق، طہٰ اور اسراء میں اور بالتصریح اسراء اور روم میں، عصر کا بقرہ، دہر، ہود، طہٰ، ق اور روم میں، مغرب کا بالاجمل ہود، طہٰ اور روم میں اور بالتصریح ق میں، عشاء کا بصورتِ «صَلٰوةَ اللَّيْلِ» مزمل، طور اور دہر میں اور بصورتِ عشاء بالاجمل طہٰ، ہود اور روم میں اور بالتصریح ق اور ہود میں ہے۔ تمام نمازوں کا بالاجمل تذکرہ بقرہ، اسراء اور طہٰ میں ہے، طور سے فجر اور عشاء دو وقتوں کی نماز، اسراء، ہود اور طہٰ سے کم از کم بظاہر تین وقتوں کی، روم سے چار وقتوں کی (اگر مساء سے صرف مغرب مراد لیں) اور طہٰ اور روم سے پانچ وقتوں کی نماز ثابت ہے۔
ایک نکتہ
جمع بین الصلوتین:
اوپر کی آیتوں پر غور کی نظر ڈالنے سے ایک عجیب نکتہ حل ہوتا ہے۔ پہلی آیتوں میں ظہر اور عصر کی نمازیں مجمل ہیں یعنی دونوں کو ایک لفظ «قَبْلَ الْغُرُوْبِ» یا «أَصِيْل» یا «طَرَفَ النَّهَارِ» کے ذریعہ سے بیان کیا گیا ہے، آخر آیت میں جو سورہ روم کی ہے، ظہر اور عصر کی نمازوں کا نام تصریح کے ساتھ آیا ہے مگر شام کی نماز میں اجمال ہے۔ یعنی مغرب و عشاء دونوں کو «حِيْنَ تُمْسُوْنَ» (جب رات کرو) کے ذریعہ سے ادا کر دیا گیا ہے۔ اس سے اس جانب ایک لطیف اشارہ نکلتا ہے کہ یہ دونوں مل کر ایک بھی ہیں اور علیحدہ بھی ہیں اسی بنا پر کسی اشد ضرورت اور سفر کی بے اطمینانی کے وقت ظہر و عصر کو ایک ساتھ اور مغرب و عشاء کو ایک ساتھ ملا کر بھی ادا کر سکتے ہیں ⁽1⁾ اور صبح کی نماز چونکہ ہر آیت میں ہمیشہ علیحدہ ذکر کی گئی ہے اس
⁽1⁾ مُؤَطَّا إِمَام مَالِک، مُسْلِم، تِرْمِذِي «بَابُ الْقَصْرِ فِي الصَّلٰوةِ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ»، بعض مستشرقین کو جمع بین الصلوتین کی حدیثیں دیکھ کر یہ شبہ پیدا ہوا ہے کہ زمانہ نبوی میں شاید تین وقت کی نمازیں ادا ہوتی تھیں۔ (انسائیکلو پیڈیا آف اسلام میں فاضل وینسِک کو بھی یہی شبہ ہوا ہے) دیکھو اس کا مضمون صلوٰۃ، مگر حقیقت یہ نہیں ہے بلکہ نمازیں ہمیشہ پانچ وقتوں کی ہوتی ہیں البتہ بضرورت ظہر و عصر کو ایک ساتھ اور مغرب و عشاء کو ایک ساتھ ملا کر پڑھ لیتے تھے۔ رکعتیں اتنی ہی رہتی تھیں، صرف وقت میں کمی ہو جاتی تھی۔ فقہاء میں باہم اس کے متعلق اختلاف ہے کہ دو دو نمازوں کو یکجا کن صورتوں میں پڑھا جا سکتا ہے۔ احناف کے نزدیک حقیقی طور سے صرف ایک موقع حج میں عرفات میں 9 ذی الحجہ کو ظہر اور عصر دونوں ظہر کے وقت (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر ملاحظہ فرمائیں)
Page 85
[سیرتُ النَّبی ﷺ] [حِصَّہ پَنجم] | 85
لئے اس کا کسی دوسری نماز سے ملانا جائز نہیں ہے۔ احادیث میں «جَمْعُ بَيْنَ الصَّلٰوتَيْنِ» کے عنوان سے آنحضرت ﷺ کی عملی مثالیں اس نکتہ قرآنی کی تشریح میں موجود ہیں۔
اوقاتِ پنج گانہ اور آیتِ اسراء:
محدثین اور مؤرخین کا اتفاقِ عام ہے کہ نماز کے اوقاتِ پنج گانہ کی تعیین معراج میں ہوئی ہے۔ جو ہماری تحقیق کے مطابق بعثت کے بارہویں سال اور ہجرت سے ایک سال پہلے واقع ہوئی تھی۔ گو اوقاتِ پنج گانہ کا ذکر سورہ ق اور روم میں موجود ہے جو اس سے پہلے نازل ہو چکی تھیں۔ لیکن اقامتِ صلوٰۃ کے امر کے ساتھ سب سے پہلے اسی سورہ اسراء (معراج) میں نمازِ پنج گانہ کا حکم ہوتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نمازِ پنج گانہ کی تکمیل بصورتِ صلوٰۃ اسی معراج میں ہوئی جس طرح وضو پر عمل گو پہلے سے تھا مگر اس کا حکم قرآن میں مدنی سورتوں کے اندر نازل ہوا ہے۔ سورہ اسراء (معراج) کی وہ آیت جس میں نمازِ پنج گانہ کا ذکر ہے حسب ذیل ہے۔
﴿اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّيْلِ وَقُرْاٰنَ الْفَجْرِ ؕ اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًا ٧٨﴾
سورہ اسراء آیت 78 ہے)
آفتاب کے جھکاؤ کے وقت رات کی تاریکی تک نماز کھڑی کر، اور فجر کی قرآت کر بے شک فجر کی قرآت میں حضور ہوتا ہے۔
یہ آیت کریمہ اوقاتِ پنج گانہ کی تعیین اور اس کے سبب کو پوری طرح بیان کرتی ہے۔ اس میں سب سے اہم اور تشریح کے قابل لفظ «دُلُوْك» ہے «دُلُوْك» کے اصلی معنی جھکنے اور مائل ہونے کے ہیں لیکن تحقیق طلب یہ ہے کہ «دُلُوْكِ الشَّمْسِ» یعنی آفتاب کے جھکنے سے کیا مراد ہے؟ اور اہل عرب اس کو کن معنوں میں بولتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عربی میں اس لفظ کا اطلاق تین اوقات یا آفتاب کی تین حالتوں پر ہوتا ہے۔ زوال پر مقابل نقطہ نگاہ سے آفتاب کے ہٹ جانے پر اور غروب پر اور جب آیتِ مذکورہ میں یہ کہا گیا کہ آفتاب کے «دُلُوْك» (جھکاؤ) پر نماز پڑھو تو ان تینوں دلوکات یعنی آفتاب کے تینوں جھکاؤ پر ایک ایک نماز لازم آئی۔ غرض یہ ہے کہ اوجِ کمال پر پہنچنے کے بعد جب آفتاب ڈھلنا شروع ہوتا ہے تو اس کے تین دلوک یا جھکاؤ ہوتے ہیں۔ ایک نقطہ سمت الراس سے، دوسرا نقطہ تقابل سے اور تیسرا دائرہ افق سے، پہلا ظہر کا وقت ہے، دوسرا عصر کا، اور تیسرا مغرب کا اور اس کے ہر دلوک یعنی انحطاط پر اس کی خدائی کی نفی و تردید اور خدائے برحق کی الوہیت کے اقرار و اعلان کے لئے ایک ایک نماز رکھی ہے اس طرح ”دلوک“ کے لفظ کے اندر تین نمازوں کے وقت بتائے گئے ہیں چوتھی نماز کا وقت «غَسَقِ الَّيْلِ» (رات کی تاریکی) ہے یہ عشاء کی نماز ہے اور اس کو حقیقت میں نصف شب کو ادا کی جاتی ہیں۔ کیونکہ اس دن عصر کا وقت خاص حج کی دعاؤں کے لئے ہے۔ بقیہ نمازوں میں حنفیہ کے نزدیک حقیقی یکجائی نہیں بلکہ محض صورۃً دو دو نمازیں ایک ساتھ ادا کی جا سکتی ہیں۔ اس کی صورت یہ ہے کہ ایک نماز اخیر وقت میں اور دوسری اول وقت میں پڑھی جائے حنفیہ کے علاوہ دوسرے فقہاء کے نزدیک سفر میں حقیقتاً دو نمازیں یکجا ایک وقت میں پڑھی جا سکتی ہیں اور آنحضرت ﷺ نے ایسا کیا ہے۔ شیعوں میں دو دو نمازوں کے ایک ساتھ پڑھنے کا عام رواج ہے۔
Page 86
[سیرتُ النَّبی ﷺ] [حِصَّہ پَنجم] | 86
ہونا چاہئے جب آفتاب کا چہرہ نورانی تو برتر حجاباتِ ظلمت میں چھپ جاتا ہے۔ لیکن لوگوں کی تکلیف کے خیال سے وہ سونے سے پہلے رکھی گئی تا کہ خواب کی غفلت کی تلافی اس سے ہو جائے اور پانچویں نماز کا وقت «قُرْاٰنَ الْفَجْرِ» (صبح کا پڑھنا) بتایا گیا ہے یہ آفتاب کے طلوع سے پہلے اس لئے ادا کی جاتی ہے کہ عنقریب وہ ظاہر ہو کر اپنے پرستاروں کو اپنی طرف متوجہ کرے گا اس لئے ضرور ہے کہ دنیا اس کے طلوع سے پہلے ہی خالق اکبر کا نام لے، اور اس باطل پرستی سے جس میں آفتاب پرست عنقریب مبتلا ہونے والے ہیں تبری ظاہر کرے، غرض اس آیت پاک سے اقامتِ صلوٰۃ کے اوقاتِ پنج گانہ کا ثبوت ملتا ہے اب ہم کو یہ دکھانا ہے کہ کلامِ عرب میں آفتاب کے ان تینوں جھکاؤ یا میلانوات پر دلوک کا اطلاق ہوتا ہے۔ اگر کلامِ عرب سے یہ ثابت ہو جائے تو اس آیت سے اوقاتِ پنج گانہ کی تشریح کے قبول کرنے میں کسی کو عذر نہ ہوگا۔
دلوک کی تحقیق:
مفسرین میں سے بعض نے دلوک سے زوال کا وقت اور بعض نے غروب کا وقت مراد لیا ہے اور اہل لغت نے بھی اس کے یہ دونوں معنی لکھے ہیں اور ایک تیسرے معنی اور بھی بیان کئے ہیں یعنی مقابل نقطہ نگاہ سے ہٹ جانا اور اس کے ثبوت میں ایک جاہلی شاعر کا شعر بھی پیش کیا ہے۔ چنانچہ لسان العرب میں ہے۔
«وَدَلَکَتِ الشَّمْسُ تَدْلُکُ دُلُوْکًا: غَرَبَتْ، وَقِیْلَ: اصْفَرَّتْ وَمَالَتْ لِلْغُرُوْبِ، وَفِي التَّنْزِیْلِ الْعَزِیْزِ: ﴿اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّيْلِ﴾ وَقَدْ دَلَکَتْ: زَالَتْ عَنْ کَبِدِ السَّمَاءِ .... وَقَالَ الْفَرَّاءُ عَنْ اِبْنِ عَبَّاسٍ فِي دُلُوْکِ الشَّمْسِ اِنَّه زَوَالُهَا الظُّهْرَ، قَالَ: وَرَاَیْتُ الْعَرَبَ یَذْهَبُوْنَ بِالدُّلُوْکِ اِلٰی غِیَابِ الشَّمْسِ۔»
قَالَ الشَّاعِرُ:
هٰذَا مَقَامُ قَدَمَيْ رَبَاحِ
ذَبَّ حَتّٰى دَلَکَتْ بَرَاحِ
«يَعْنِي الشَّمْسَ۔ قَالَ أَبُو مَنْصُورٍ: وَقَدْ رُوِيْنَا عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ: دُلُوکُ الشَّمْسِ غُرُوبُهَا، وَرَوَى ابْنُ هَانِئٍ عَنِ الْأَخْفَشِ أَنَّهُ قَالَ: دُلُوکُ الشَّمْسِ مِنْ زَوَالِهَا إِلَى غُرُوبِهَا، وَقَالَ الزَّجَّاجُ: دُلُوکُ الشَّمْسِ زَوَالُهَا فِي وَقْتِ الظُّهْرِ وَذٰلِكَ مَيْلُهَا لِلْغُرُوبِ وَهُوَ دُلُوکُهَا أَيْضًا، يُقَالُ: دَلَکَتْ بَرَاحِ، وَبَرَاحِ أَيْ قَدْ مَالَتْ لِلزَّوَالِ حَتَّى كَادَ النَّاظِرُ يَحْتَاجُ إِذَا تَبَصَّرَهَا أَنْ يَكْسِرَ الشُّعَاعَ عَنْ بَصَرِهِ بِرَاحَتِهِ، فَإِنْ قِيلَ مَا مَعْنَى الدُّلُوکِ فِي كَلَامِ الْعَرَبِ؟ قِيلَ: الدُّلُوکُ الزَّوَالُ، وَلِذٰلِكَ قِيلَ لِلشَّمْسِ إِذَا زَالَتْ نِصْفَ النَّهَارِ دَالِکَةٌ، وَقِيلَ لَهَا إِذَا أَفَلَتْ دَالِکَةٌ لِأَنَّهَا فِي الْحَالَتَيْنِ زَائِلَةٌ .... قَالَ الْفَرَّاءُ فِي قَوْلِهِ بَرَاحِ جَمْعُ رَاحَتِهِ وَهِيَ الْكَفُّ، يَقُولُ: يَضَعُ كَفَّهُ عَلَى عَيْنَيْهِ يَنْظُرُ هَلْ غَرَبَتِ الشَّمْسُ بَعْدُ۔»
آفتاب کا دلوک ہوا یعنی وہ غروب ہوا اور کہا گیا ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ آفتاب زرد ہو گیا اور غروب کے لئے جھک گیا اور قرآن میں ہے کہ دلوکِ شمس کے وقت رات کی تاریکی تک نماز کھڑی کر اور آفتاب کو دلوک ہوا یعنی وہ آسمان کے بیچ سے ہٹ گیا.... اور فراء نے کہا کہ ابن عباس سے روایت ہے کہ دلوکِ شمس کے معنی ظہر کے وقت
Page 87
سیرت النبی | 87 | حصہ پنجم
آفتاب کے زوال کے ہیں اور اس نے بیان کیا کہ میں نے اہل عرب کو دلوک سے آفتاب کا غروب مراد لیتے دیکھا ہے شاعر کہتا ہے یہ وہ جگہ ہے جہاں لڑائی میں رباح کے دونوں قدم جمے تھے، اس نے دشمنوں سے اپنی عزت کی حفاظت کی، یہاں تک کہ سورج ہتھیلی سے جھک گیا، ابو منصور نے کہا کہ ہم نے ابن مسعود سے روایت کی ہے کہ دلوک شمس آفتاب کا غروب ہے اور ابن ہانی نے اخفش سے نقل کیا کہ دلوک شمس کے وقت آفتاب کا زوال ہے اور اس کے معنی غروب کے لئے جھکنا بھی ہیں اور یہ بھی اس کا دلوک ہے۔ محاورہ میں کہا جاتا ہے کہ دلکت براح و بسراج یعنی آفتاب زوال کے لئے جھک گیا یہاں تک کہ دیکھنے والا جب اس کو دیکھنا چاہے تو اس کرن کی شدت کو توڑنے کے لئے اس کو آنکھ پر ہتھیلی رکھنے کی ضرورت ہے..... تو اگر کہا جائے کہ عرب کے محاورہ میں دلوک کے کیا معنی ہیں؟ تو جواب دیا جائے گا کہ دلوک کے معنی زوال کے ہیں اور اسی لئے آفتاب کو دالک کہتے ہیں جب وہ دوپہر کو جھک جائے اور جب آفتاب ڈوب جاتا ہے تب بھی اس کو دالک کہتے ہیں کیوں کہ ان دونوں حالتوں میں وہ جھک جاتا ہے۔ فراء نے کہا کہ اس قول (شعری محاورہ) میں جو براح کا لفظ ہے یہ راحۃ کی جمع ہے جس کے معنی ہتھیلی کے ہیں کہنے والے کا مطلب یہ ہے کہ وہ دونوں آنکھوں پر ہتھیلی رکھ کر دیکھتا ہے کہ آفتاب ابھی غروب ہوا یا نہیں۔
شعراء عرب نے آفتاب کے ڈھل کر آنکھوں کے سامنے آ جانے کے وقت آنکھوں پر ہتھیلی رکھنے کا اکثر ذکر کیا ہے۔ عجاج کہتا ہے۔
وَالشَّمْسُ قَدْ كَادَتْ تَكُونُ دَلَفَا ٭٭ اِدْفَعُهَا بِالرَّاحِ كَيْ تَزَحْلَفَا
اور آفتاب قریب تھا کہ بیمار ہو کر دبلا ہو جائے میں اس کو ہتھیلی سے ہٹاتا تھا کہ وہ ہٹ جائے۔
اس دوسرے شعر سے پہلے شعر کے معنی کھل جاتے ہیں کہ اس میں دلوک سے زوال اور غروب کے بجائے وہ وقت مراد ہے جب آفتاب ڈھل کر آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے اور یہ عصر کا وقت ہوتا ہے الغرض دلوک کا لفظ آفتاب کے ہر جھکاؤ پر برابر بولا جاتا ہے اس کا پہلا جھکاؤ زوال کے وقت ہوتا ہے جب وہ سمت الراس سے ہٹتا ہے دوسرا جھکاؤ عصر کے وقت ہوتا ہے جب وہ مقابل کی سمت نظر سے ہٹتا ہے اور مغرب کی طرف چلنے والوں کے آنکھوں کے سامنے پڑتا ہے اس وقت شعاعوں کی تیزی سے بچنے کے لئے آدمی کو آنکھوں کے اوپر ہتھیلی رکھنے یا کسی اور چیز سے آڑ کرنے کی ضرورت لاحق ہوتی ہے، اور اس کا تیسرا جھکاؤ غروب کے وقت ہوتا ہے جب وہ سمت افق سے نیچے ہو کر ڈوب جاتا ہے ان ہی تین مسلسل اوقات کی وجہ سے جو زوال سے لے کر غروب تک کے زمانہ پر مشتمل ہیں بعض اہل لغت نے جیسا کہ اوپر گذرا سمجھا یہ کہہ دیا ہے کہ دلوک زوال سے غروب تک کے وقت کو کہتے ہیں حالانکہ اس کا اطلاق حقیقی طور سے آفتاب کے تین میلانات پر کیا جاتا ہے اول اس میلان پر جو سمت الراس سے ہوتا ہے، پھر اس میلان پر جو سمت نظر سے ہوتا ہے اور بالآخر اس کامل میلان پر جو سمت افق سے ہوتا ہے اور یہ اوقات زوال سے غروب تک مسلسل یکے بعد دیگرے چند گھنٹوں کے بعد آتے ہیں، اس تمام بحث کا نتیجہ یہ ہے کہ:
﴿أَقِمِ الصَّلَاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ﴾(Reference: Surah Al-Isra, Ayat 78)
آفتاب کے دلوک کے وقت نماز کھڑی کر۔
یہ شعر تفسیر طبری میں آیت مذکورہ کے تحت میں اور لسان العرب میں دلف اور زحلف کے تحت میں مذکور ہے۔
Page 88
سیرت النبی | 88 | حصہ پنجم
سے مراد تین نمازیں ہیں کیوں کہ تین دلوک ہوتے ہیں ظہر جب آفتاب کا دلوک (جھکاؤ) سمت الراس سے ہوتا ہے عصر جب اس کا دلوک سمت نظر سے ہوتا ہے، اور مغرب جب اس کا کامل دلوک سمت افق سے ہوتا ہے (1) اس کے بعد غسق اللیل (رات کی تاریکی) اور (قرآن الفجر (فجر کی قرأت) سے ظاہر ہے کہ عشاء اور فجر کی نمازیں مراد ہیں اس طرح اس آیت سے جو سورہ اسراء میں واقع ہے اوقات پنجگانہ میں اقامت صلوۃ کے اوقات کی تشریح ہو جاتی ہے۔
اوقات نماز کا ایک اور راز:اس آیت کریمہ کو ایک دفعہ اور پڑھو تو معلوم ہوگا کہ نماز کے اوقات کا آغاز ظہر (میلان اول آفتاب) سے ہوتا ہے اور یہی اس حدیث سے بھی ثابت ہے جس میں بذریعہ جبریل نماز کے اوقات پنجگانہ کی تعلیم کا ذکر ہے (2) اس میں پہلے ظہر کا نام آتا ہے پھر بہ ترتیب اور چاروں نمازوں کا ظہر کے بعد عصر، پھر مغرب، پھر سونے سے پہلے عشاء، یہ چار نمازیں تقریباً دو تین گھنٹوں کے فاصلے سے ہیں اس کے بعد صبح کی نماز ہے جو عشاء سے تقریباً سات آٹھ گھنٹوں کا فاصل رکھتی ہے اور پھر صبح سے ظہر تک تقریباً اس قدر فصل ہے۔ چنانچہ اس آیت میں ظہر سے عشاء تک ایک ساتھ نماز کا مسلسل حکم ہے چند گھنٹے ٹھہر کر صبح کا حکم ہوتا ہے پھر خاموشی ہو جاتی ہے یہاں تک کہ آفتاب طلوع ہو کر ایک لمبے وقفے کے بعد پھر ظہر کا وقت آتا ہے اور اسی طرح دور قائم ہو جاتا ہے غرض ظہر سے عصر، عصر سے مغرب اور مغرب سے عشاء تک مسلسل نمازیں ہیں پھر صبح تک استراحت کا طویل وقفہ ہے، صبح اٹھ کر خدا کی یاد ہوتی ہے اور پھر انسانی کاروبار کے لئے ایک طویل وقفہ رکھا گیا ہے جو صبح سے ظہر تک ہے، اور اس میں کوئی فرض نماز نہیں رکھی گئی ہے۔
اوقات پنجگانہ کی ایک اور آیت:سورہ اسراء کی آیت کی طرح سورہ طہ میں بھی ایک آیت ہے جس میں اوقات پنجگانہ کی تفصیل ہے وہ یہ ہے:
﴿وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا وَمِنْ آنَاءِ اللَّيْلِ فَسَبِّحْ وَأَطْرَافَ النَّهَارِ﴾(Reference: Surah Ta-Ha, Ayat 130)
اپنے پروردگار کی حمد کی تسبیح پڑھ آفتاب نکلنے سے پہلے، اور اس (آفتاب کے) ڈوبنے سے پہلے، اور رات کے کچھ وقت میں تسبیح پڑھا اور دن کے کناروں میں۔آفتاب نکلنے سے پہلے فجر ہے ڈوبنے سے پہلے عصر ہے رات کے کچھ وقت سے عشاء مراد ہے، اور دن کے کناروں میں ظہر اور مغرب ہے۔
تفسیروں میں بھی صحابہ کی روایتوں سے انہیں نمازوں کا باختلاف روایت مراد ہونا مذکور ہے۔ حضرت ابن مسعود دلوک سے غروب آفتاب اور حضرت ابن عباس زوال آفتاب مراد لیتے ہیں۔ اسی طرح غسق اللیل کو بعض لوگ مغرب اور بعض عشاء سمجھتے ہیں اور فیصلہ یہ کرتے ہیں کہ دلوک شمس سے ظہر اور عصر، اور غسق اللیل سے مغرب اور عشاء، اور قرآن الفجر سے نماز صبح مراد ہے اور اس طرح ان کے نزدیک بھی یہ آیت اوقات پنجگانہ کو بتاتی ہے۔
سیرت ابن ہشام باب ابتدا فرضیت صلوۃ۔
سیرت النبیؐ | 93 | حصہ پنجم
کہ ﴿فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ﴾ یعنی قرآن سے اس قدر حصہ پڑھو جتنا آسانی سے پڑھ سکو۔ (1) اس کے بعد اس آیت پاک میں جب اقامتِ صلوٰۃ کے اوقاتِ پنجگانہ کا ذکر آیا تو رات کی نمازِ تہجد کی فرضیت ساقط ہوگئی۔ یہاں ایک قابلِ ذکر بات اور بھی ہے اور وہ یہ کہ شاید یہ آیت پاک اوقاتِ نماز کی تکمیل کی آخری اطلاع ہے کیوں کہ اس کے نازل ہونے سے پیشتر قدیم فرض نماز تہجد نفل نہ تھی اور اب نفل ہوگئی۔
قبلہ:
انسان کا کوئی کام جس طرح زمانہ سے خالی نہیں ہوسکتا جس کی بنا پر اوقاتِ نماز کی تعیین کی گئی ہے اسی طرح مکان سے بھی خالی نہیں ہوسکتا۔ جب انسان کوئی کام کرے گا تو ظاہر ہے کہ اس کا منہ کسی نہ کسی سمت ہوگا۔ اگر نماز میں کسی خاص سمت کا تعیین نہ ہوتا اور یہ عام اجازت دے دی جاتی کہ جس کا جدھر جی چاہے منہ کرکے نماز ادا کرے تو جماعت کی یکسانی کا شیرازہ درہم برہم ہوجاتا اور نمازیوں کی وحدتِ صوری قائم نہ رہتی بلکہ اگر ایک ہی مسجد میں ایک ہی وقت میں کوئی پورب، کوئی پچھم، کوئی اتر اور کوئی دکھن رخ کرکے کھڑا ہوتا تو یہ وحدتِ نظام کے خلاف ہونے کے علاوہ اچھا خاصہ مضحکہ انگیز تماشا بن جاتا، اس لئے ہر مذہب میں عبادت کے لئے کوئی نہ کوئی سمت خاص کر لی گئی ہے۔ صائبی (ستارہ پرست) قطبِ شمالی کی طرف منہ کرتے تھے، کہ ستاروں میں وہی ہے جو نظر آنے کے باوجود اپنی جگہ سے حرکت نہیں کرتا بلکہ برقرار رہتا ہے۔ آفتاب پرست سورج کی طرف منہ کرتے ہیں، آتش پرست آگ کو سامنے رکھتے ہیں، اور بت پرست کوئی نہ کوئی بت آگے رکھ لیتے ہیں۔ اکثر شامی قومیں مشرق کی طرف رخ کرتی تھیں۔ یہاں تک کہ یہودیوں کے ایک فرقہ الیسینی نے آفتاب کے مطلع کو قبلہ بنا لیا تھا۔ شامی عیسائی بھی اسی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے۔ بنی اسرائیل میں بھی قبلہ ضروری تھا، تورات سے حضرت ابراہیمؑ، حضرت اسحاقؑ اور حضرت یعقوبؑ کا یہ دستور معلوم ہوتا ہے کہ وہ جہاں عبادت کرنا چاہتے تھے اس کو چند پتھروں سے گھیر کر "خدا کا گھر" "بیت ایل" بنا لیتے تھے قرآن مجید میں ہے کہ بنی اسرائیل جب مصر میں تھے تو حضرت موسیٰؑ کے ذریعہ سے ان کو حکم ہوا تھا کہ گھروں کو قبلہ رخ بنائیں اور نماز ادا کریں۔
﴿وَاجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قِبْلَةً وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ﴾ (سورہ یونس: 87)
اور اپنے گھروں کو قبلہ رخ کرلو اور نماز کھڑی کرو۔
بیت المقدس کے قبلہ ہونے کا ذکر عہدِ قدیم کے مجموعہ صحف میں متعدد موقعوں پر آیا ہے۔ حضرت داؤدؑ کے زبور میں ہے۔
"لیکن میں جو ہوں سو تیری رحمت کی کثرت سے تیرے گھر میں آؤں گا اور تجھ سے ڈر کر تیری مقدس ہیکل کی طرف تجھے سجدہ کروں گا۔" (5-7)
1۔ صحیح مسلم جلد اول باب وجوب قراۃ الفاتحہ حدیث ارجع فصل فانک لم تصل نیز دیکھو فتح الباری جلد اول صفحہ 393۔
2۔ الرد علی المنطقیین لابن تیمیہ۔
3۔ یہ تفصیلات انسائیکلو پیڈیا آف اسلام لفظ قبلہ میں ہیں۔
4۔ سفر تکوین باب 12- 8، 13- 18، 28- 17، 18- 31، 19- 13۔
سیرت النبیؐ | 94 | حصہ پنجم
سلاطینِ اوّل میں ہے۔
"جب تیرا گروہ لڑائی کے لئے اپنے دشمن کے برخلاف نکلے جہاں کہیں تو انہیں بھیج دے اور خداوند کے آگے دعا مانگے اس شہر کی طرف جس کو تو نے پسند کیا اور اس گھر کی طرف جسے میں نے تیرے نام کے لئے بنایا" (8-44)
اسی صحیفہ میں آگے چل کر ہے۔
اور اس زمین کی طرف جس کو تو نے ان کے باپ دادوں کو دی اور اس شہر کی طرف جسے تو نے چن لیا اور اس گھر کی طرف جو میں نے تیرے نام کے لئے بنایا تجھ سے دعا مانگیں" (48)
اہلِ عرب میں کعبہ کو وہی حیثیت حاصل تھی جو بنی اسرائیل میں بیت المقدس کو تھی اس لئے اہلِ عرب کا قبلہ کعبہ تھا اس تمام تفصیل سے قرآن مجید کی اس آیت کی تشریح ہوتی ہے۔
﴿وَلِكُلٍّ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ﴾ (سورہ البقرہ: 148)
اور ہر ایک امت کا ایک قبلہ ہے جدھر وہ منہ پھیرتی ہے تو اے مسلمانو! نیکیوں کی طرف دوڑو۔
اوپر کے بیان سے واضح ہوا ہوگا کہ دنیا کے تین مذاہب میں تین قسم کے قبلے تھے ستارہ پرست یا ستارہ پرستی سے متاثر پرستش کے لئے کسی ستارہ کو قبلہ بناتے تھے مثلاً آفتاب پرست آفتاب کے طلوع کے رخ یعنی مشرق کو اور صائبی (ستارہ پرست) قطبِ شمالی کو، عناصر پرست یا بت پرست اپنی پرستش کے عنصر یعنی آگ یا کسی دریا یا کسی بت کو قبلہ قرار دیتے تھے موحدین اپنی مرکزی مسجد کو قبلہ سمجھتے تھے۔
ابراہیمی قوموں میں اسی قسم کی مرکزی مسجدیں دو تھیں، مسجدِ اقصی (بیت المقدس) اور مسجدِ حرام (خانہ کعبہ)۔ پہلی مسجد کی تولیت حضرت اسحاقؑ اور ان کی اولاد کے سپرد ہوئی تھی، اس لئے وہ ان کا قبلہ تھی۔ دوسری مسجد کے متولی حضرت اسمٰعیلؑ اور ان کے بیٹے تھے جنہوں نے اس کو قبلہ بنایا تھا۔ آنحضرت ﷺ جب تک مکہ معظمہ میں رہے، خانہ کعبہ کی طرف اس طرح منہ کرکے کھڑے ہوتے تھے کہ کعبہ اور بیت المقدس دونوں سامنے پڑ جاتے تھے لیکن جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہ صورت ممکن نہ تھی، کیونکہ بیت المقدس مدینہ سے شمال اور خانہ کعبہ جنوب کی طرف واقع تھا، تاہم کعبہ کے قبلہ ہونے کی اب تک چونکہ اجازت نازل نہیں ہوئی تھی آپ بیت المقدس کی طرف رخ کرتے تھے کہ وہی انبیائے بنی اسرائیل کا قبلہ گاہ تھا، لیکن آپ ﷺ کی طبعی خواہش یہ تھی کہ اس تازہ ملتِ ابراہیمی کے لئے وہی ابراہیمی مسجد (خانہ کعبہ) قبلہ قرار پائے جس کی تولیت اس کے بانی (حضرت ابراہیمؑ) کی طرف سے بنی اسمٰعیل کے سپرد ہوئی تھی چنانچہ سورہ بقرہ کے وسط میں اس کے متعلق احکام نازل ہوئے جن میں سب سے پہلے بتایا گیا کہ خدا کو کسی جہت اور سمت سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ وہ بے سمت ہے اور سب سمتیں اسی کی ہیں۔
﴿وَلِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللهِ إِنَّ اللهَ وَاسِعٌ عَلِيمٌ﴾ (سورہ البقرہ: 115)
اور خدا ہی کے لئے ہے پورب اور پچھم تو جدھر رخ کرو ادھر ہی خدا کا منہ ہے بیشک اللہ بڑی گنجائش اور وسعت والا اور بڑے علم والا ہے۔
اس کی گنجائش اور وسعت میں ہر سمت داخل ہے اور ہر جہت کی اس کو خبر ہے یہ آیت کریمہ قبلہ کے تعیین کی کسی
سیرت النبیؐ | 95 | حصہ پنجم
ایسی تشریح کو جس سے شرک کا شائبہ پیدا ہوسکے قطعاً غلط قرار دیتی ہے اور دوسری آیت میں بھی یہی مضمون ادا ہوا ہے۔
﴿سَيَقُولُ السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلَّاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا قُلْ لِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلٰى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ﴾ (سورہ البقرہ: 142)
بے وقوف لوگ کہیں گے کہ ان (مسلمانوں) کو ان کے اس قبلہ سے کس نے ہٹا دیا جس پر وہ تھے، کہہ دے کہ پورب اور پچھم دونوں خدا کے ہیں وہ جس کو چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھاتا ہے۔
یہود جن کو سب سے زیادہ اعتراض یہ تھا کہ مشرقی مسجد یعنی بیت المقدس کو چھوڑ کر مغربی مسجد یعنی خانہ کعبہ کو کیوں قبلہ قرار دیا گیا ان کو خطاب کرکے فرمایا۔
﴿لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ أُولَئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ﴾ (سورہ البقرہ: 177)
نیکی یہ نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لو البتہ نیکی یہ ہے کہ خدا، قیامت، فرشتوں، کتاب اور پیغمبروں پر ایمان لائے اور اپنی دولت کو اس کی محبت کے باوجود (یا خدا کی محبت پر) رشتہ داروں، یتیموں، غریبوں، مسافروں سائلوں اور غلاموں کو (آزاد کرانے میں) دے اور نماز پڑھے اور زکوٰۃ دے اور (نیکی یہ ہے) جو اپنے وعدہ کو پورا کرتے ہیں اور سختی اور تکلیف اور جنگ میں صبر کرتے ہیں، یہی وہ ہیں جو سچے ہوئے اور یہی پرہیزگار ہیں۔
اس تصریح سے یہ اچھی طرح ثابت ہوجاتا ہے کہ اسلام میں قبلہ کی کیا حیثیت ہے قبلہ یعنی وہ سمت یا جگہ جس کا رخ کیا جائے عبادت کے لئے کوئی ضروری چیز نہیں ہے لیکن چونکہ نمازوں میں امت کے نظامِ وحدت کو قائم رکھنے کے لئے کسی ایک رخ کی تخصیص کی حاجت تھی اسی لئے 1 ھجری ماہ میں خانہ کعبہ بنانے کا حکم ہوا۔
﴿فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ﴾ (سورہ البقرہ: 144)
پس تو اپنا منہ مسجدِ حرام (خانہ کعبہ) کی طرف پھیر اور تم لوگ جہاں بھی ہو اسی کی طرف اپنے منہ پھیرو۔
اسلام نے قبلہ کے لئے کسی خاص سمت کا نہیں بلکہ ایک مرکزی مسجد کا انتخاب کیا، جس کے چاروں طرف چاروں سمتوں سے نماز پڑھی جاسکے اس طرح مشرق، مغرب، جنوب، شمال سب بہ یک وقت مسلمانانِ عالم کا قبلہ ہیں۔ جس سے ایک لطیف رمزیہ نکلتا ہے کہ مسلمانوں کے خدا کی طرح ان کا قبلہ بھی بے جہت ہے اور اس کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ سمت کے تعین سے اس سمت کی مرکزی چیز (مثلاً آفتاب یا قطب شمالی وغیرہ) کی مسجودیت اور معبودیت کا جو تخیل پیدا ہوتا تھا اور جس سے بت پرستی اور ستارہ پرستی کا رواج ہوگیا تھا اس کا کلیتہً خاتمہ ہوگیا۔
لیکن یہ مرکزی مسجد بیت المقدس کی بجائے مسجدِ حرام (کعبہ) قرار دی گئی جس میں بہت سی مصلحتیں تھیں۔
(1)۔ یہ ضرورت تھا کہ کوئی ایسی چیز ہو جس کی طرف ہر شخص ہر جگہ سے ہر ملک میں منہ پھیر سکے ایسی چیز یا تو
سیرت النبیؐ | 96 | حصہ پنجم
کوئی مصنوعی شے ہوسکتی تھی مثلاً چراغ، کوئی مومی شمع، کوئی تصویر، کوئی مجسمہ، کوئی کتاب جیسا کہ اوپر گذرا بعض اہلِ مذاہب ان چیزوں کو سامنے رکھتے تھے جن کی وہ پرستش کرتے تھے مثلاً بت، مجسمہ، آگ، پانی، آفتاب وغیرہ اشیاء وعناصر و کواکب، ظاہر ہے کہ اسلام اگر ایسا کرتا تو وہ بھی کھلی ہوئی بت پرستی میں گرفتار ہوجاتا، دوسری صورت یہ تھی کہ اشیاء کو نہیں بلکہ سمت کو خاص کیا جاتا مثلاً شمال یا مشرق کہ پہلی سمت میں جگہ سے نہ ٹلنے والا قطب تھا اور دوسری چہرہ خورشید کا مطلع اور بياضِ سحر کا دیباچہ تھی ۔ دینِ توحید کیلئے یہ بالکل ناممکن تھا کہ ستارہ پرستی کے ابطال کے ساتھ ساتھ ستارہ پرستی کے علامات اور امتیازات کو قائم رکھے۔
(2) یہ کہنا ممکن ہے کہ شمال اور مشرق کو چھوڑ کر جن کی طرف منہ کرنا ستارہ پرستی ہوتی کسی اور سمت کا انتخاب کیا جاسکتا تھا مگر یہ کھلی ہوئی بات ہے کہ چار سمتوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کسی نہ کسی مرجح سبب ہی کی بنا پر ہوسکتا ہے ورنہ خدا کے لحاظ سے تو ہر سمت برابر تھی۔ اب جو بھی سمت اختیار کی جاتی اس کے لئے ضروری تھا کہ اس کی تخصیص کی کوئی مناسب وجہ بھی ہوتی، سمت کی تعیین آفتاب یا دوسرے ممتاز ستاروں کا طلوع و غروب کا لحاظ کئے بغیر ممکن ہی نہیں کیونکہ ہر سمت میں کوئی نہ کوئی مشہور ستارہ ہے جس کی سیدھ سے وہ سمت متعین کی گئی ہے اس لئے جو سمت بھی اختیار کی جاتی اس سے اس سمت کا خاص ستارہ کے متعلق وجہ ترجیح کا پیدا کرنا ضروری تھا اور اس ترجیح سے دین توحید کا دینِ شرک بن جانا لازمی تھا۔
(3) اسی لئے ملتِ ابراہیمی نے ان صورتوں کو چھوڑ کر ہمیشہ کسی قربان گاہ یا مسجد کو اپنا قبلہ بنایا تا کہ شرک کے ہر قسم کے شائبہ سے اس کی نماز محفوظ رہے۔ حضرت ابراہیمؑ کی بنائی ہوئی مسجدوں میں ان کی نسل نے دو مرکزی مسجدوں کو محفوظ رکھا تھا، ایک بیت المقدس جس کو حضرت داؤدؑ اور حضرت سلیمانؑ نے اپنے زمانوں میں بڑے اہتمام سے تیار کرایا اور یہ بنی اسرائیل کا قبلہ بنی دوسری مسجد کعبہ جو بنی اسماعیل کا مذہبی مرکز تھی۔
(4) اسلام کا دعویٰ ہے کہ خانہ کعبہ بیت المقدس سے پہلے بنا تھا وہ دنیا میں پہلا گھر تھا جو خدا کی عبادت کے لئے تعمیر ہوا اور اس کے معمار خود حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسمٰعیلؑ تھے۔
﴿إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا﴾ (سورہ آل عمران: 96)
بے شک سب سے پہلا مبارک گھر جو انسانوں کے لئے (خدا کا) بنا وہ ہے جو مکہ میں ہے۔
﴿وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ﴾ (سورہ البقرہ: 127)
اور جبکہ ابراہیم اور اسماعیل بیت اللہ کے کھمبے اٹھا رہے تھے۔
خانہ کعبہ کا قبلہ ہونا ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار عہدِ اسلام کے یہود کو بھی نہ تھا چنانچہ قرآن پاک میں ہے
﴿وَإِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّهِمْ﴾ (سورہ البقرہ: 144)
اور جن کو کتاب دی گئی وہ جانتے ہیں کہ خانہ کعبہ کا قبلہ ہونا حق ہے (اور وہ) ان کے پروردگار کی طرف سے (ہے۔)
پولوس (پال) ایک خط میں جو گلتیوں کے نام ہے لکھتا ہے۔
کہ یہ لکھا ہے ابراہیم (حضرت ابراہیمؑ) کے دو بیٹے تھے ایک لونڈی (ہاجرہ) سے دوسرا آزاد (سارہ) سے پر وہ جو
سیرت النبیؐ | 97 | حصہ پنجم
لونڈی سے تھا (اسماعیلؑ) جسم کے طور پر پیدا ہوا اور جو آزاد سے تھا (اسحاقؑ) سو وعدہ کے طور پر یہ باتیں تمثیلی بھی مانی جاتی ہیں اس لئے کہ یہ عورتیں وہ عہد ہیں ایک تو سینا پہاڑ (حضرت ہاجرہ مصر کی تھیں اور سینا مصر کے راستہ میں ہے) پر سے جو ہوا وہ نرے غلام جنتی ہیں یہ ہاجرہ ہے کیونکہ ہاجرہ عرب کا کوہ سینا ہے اور اب کے یروشلم (بیت المقدس) کا جواب ہے اور یہ بھی اپنے لڑکوں کے ساتھ غلامی میں ہے پر اوپر کا یروشلم آزاد ہے (گلتیوں کے نام 22-26 باب 4)
اس اقتباس سے یہ واضح ہوگا کہ عیسائیت کا بانی بھی اس بھید سے آگاہ تھا کہ یروشلم اور بیت اللہ (یا عرب کا کوہ سینا) ایک دوسرے کا جواب ہیں "اب کے یروشلم" سے ظاہر ہوتا ہے کہ یروشلم نیا ہے اور بیت اللہ پرانا۔ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دونوں عورتیں دو عہد تھیں یعنی ان کی اولاد کے متعلق حضرت ابراہیمؑ سے خدا نے دو عہد کئے تھے ہاجرہ کا وعدہ کوہ سینا پر ہوا تھا جب وہ حضرت ابراہیمؑ کے ساتھ مصر سے آرہی تھیں اور راستہ میں سینا پڑتا تھا اس وعدہ کے مطابق ہاجرہ کی غلام اولاد نے عرب میں عبادت کا ایک مرکزی گھر تعمیر کیا تھا اور یہ غلام اس پرانے مرکزی گھر کے متولی ہوگئے۔ یہ گھر بعد کو بنی اسرائیل کے نزدیک ان کے نئے مرکزی عبادت گاہ بیت المقدس کا پورا جواب تھا۔ سارہ کے وعدہ کا یہاں ذکر نہیں ہے لیکن یہ معلوم ہے کہ بیت المقدس کی تولیت بنی اسرائیل کو عطا ہوئی تھی گویا حضور انور ﷺ کے بیشتر تک خدا کا عہد بیت المقدس اور بنی اسرائیل کے ساتھ تھا چونکہ بنی اسرائیل نے اپنی بغاوت، تمرد، سرکشی اور قساوت کے سبب سے اس عہد کو توڑ دیا تھا اس لئے آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد خدا نے ان کو متنبہ کیا جس کا ذکر سورہ اسراء کی آیتوں میں ہے اور جب بنی اسرائیل پر اس تنبیہ کا کچھ اثر نہ ہوا تو خدا نے ان سے اپنا عہد توڑ کر اسماعیلؑ کا وہ عہد شروع کیا جو سینا پر ہاجرہ کے متعلق باندھا گیا تھا۔
معراج میں آنحضرت ﷺ کا بیت المقدس (مسجدِ اقصی) میں نماز ادا کرنا اور اس سے چند سال بعد خانہ کعبہ کا قبلہ بن جانا گویا بنی اسرائیل کے عہد کی شکست اور بنو اسماعیل کے عہد کی ابتداء کا اعلان تھا جیسا کہ اس کتاب کی تیسری جلد میں بسلسلہ معراج
﴿سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ﴾ (سورہ بنی اسرائیل: 1)
پاک ہے وہ خدا جو اپنے بندہ کو رات کے وقت مسجدِ حرام (خانہ کعبہ) سے اس مسجدِ اقصی (بیت المقدس) تک لے گیا جس کے چاروں طرف ہم نے برکت دی ہے۔
کی تفسیر میں لکھا گیا ہے۔
اس تفصیل سے ظاہر ہوگا کہ بیت المقدس جو عہدِ اسرائیل کا نشان تھا اسلام کے بعد اس میں قبلہ ہونے کی شان باقی نہیں رہی بلکہ حضرت ابراہیمؑ کی وہ مسجد قبلہ بنائی گئی جس کا تعلق عہدِ اسماعیل سے تھا (یعنی خانہ کعبہ) وہ عہد کیا تھا؟ اس کی تفصیل یہ ہے۔
﴿وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَأَمْنًا وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ﴾
سیرت النبیؐ | 98 | حصہ پنجم
﴿إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى وَعَهِدْنَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ أَنْ طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ﴾ (سورہ البقرہ: 124-125)
اور جب خدا نے چند باتوں میں حضرت ابراہیمؑ کو آزمایا تو اس نے ان باتوں کو پورا کیا، خدا نے کہا میں تجھ کو لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں (ابراہیم نے) کہا اور میری نسل میں سے (خدا نے) فرمایا میرا عہد ظالموں کو شامل نہ ہوگا اور جب ہم نے گھر (کعبہ) کو لوگوں کے اجتماع کی جگہ اور امن بنایا اور تم ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز پڑھنے کی جگہ بناؤ اور ہم نے ابراہیمؑ اور اسماعیلؑ سے عہد کیا کہ تم دونوں میرے گھر کو طواف کرنے والوں اعتکاف کرنے والوں رکوع کرنے والوں اور سجدہ کرنے والوں کے لئے پاک رکھو۔
غرض یہ رمزِ الہی تھا جو ہزاروں برس پہلے سے خدا کے علم میں تھا اور جس کی بنا پر رسول اللہ ﷺ کی ہجرت کے بعد عالم کا روحانی مرکز بیت المقدس کے بجائے خانہ کعبہ قرار پایا جو تاریخی حیثیت سے وہ گھر تھا جہاں کھڑے ہوکر حضرت ابراہیمؑ نے توحید کی آواز بلند کی تھی اور دنیا میں اس لحاظ سے خدا کا سب سے پہلا گھر تھا اور روحانی حیثیت سے وہ گھر قبلہ قرار پایا جو اس دنیا میں عرشِ الہی کا سایہ اور زمین پر حظیرۃ القدس کا عکس تھا اس لئے حکم ہوا۔
﴿وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ﴾ (سورہ البقرہ: 149)
اور تو جہاں بھی نکلے مسجدِ حرام ہی کی طرف منہ کر۔
در حقیقت ہر مسلمان کا فرض یہ ہے کہ وہ بھی اسی طرح کھڑا ہوکر فریضہ عبودیت ادا کرے جہاں حضرت ابراہیمؑ کھڑے ہوئے تھے لیکن چونکہ ہر مسلمان کو ہر جگہ اور ہر وقت ایسا کرنا ممکن نہیں تو کم از کم نماز کے وقت ادھر رخ ہی کرلے ورنہ ظاہر ہے کہ خدا کی رحمت اور اس کی توجہ ہر طرف برابر ہے اسی لئے قبلہ کی تعیین کے موقع پر فرمایا۔
﴿فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللهِ﴾ (سورہ البقرہ: 115)
پس جدھر منہ پھیرو ادھر ہی خدا کا منہ ہے۔
خانہ کعبہ کی دیواریں اور اس کی چھت کسی مسلمان کا معبود و مسجود نہیں نہ مشرکوں بت پرستوں اور ستارہ پرستوں کی طرح نماز و دعا میں قبلہ سے خطاب ہوتا ہے، نہ اس سے کچھ مانگا جاتا ہے، نہ اس کی دہائی دی جاتی ہے نہ اس کو خدا سمجھا جاتا ہے، اور نہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ خدا اس کے اندر بیٹھا ہے۔ خانہ کعبہ کی دیواریں اگر (بالفرض) ٹوٹ جائیں اس کی چھت گر جائے اور صرف فضا باقی رہ جائے تب بھی کعبہ قبلہ رہے گا۔ اسی طرح خود خانہ کعبہ کے اندر جاکر بلکہ اس کی چھت پر کھڑے ہوکر بھی نماز جائز ہے۔ اگر سمتِ قبلہ کا پتہ نہ لگ سکے تو جدھر قبلہ کا گمان ہو، ادھر ہی نماز پڑھی جاسکتی ہے۔ سواری میں نفل نماز ہر سمت جدھر سواری جارہی ہو پڑھ سکتے ہیں۔ گھمسان کی لڑائیوں میں بھی ایسا کیا جاسکتا ہے یہ باتیں ان تمام مشرکانہ غلط فہمیوں کی جو خانہ کعبہ کے قبلہ ہونے سے پیدا ہوسکتی ہیں قطعی تردید کرتی ہیں اور یہی اس باب میں دینِ محمدی کی تکمیلی حیثیت ہے۔
یہ قبلہ گویا مسلمانوں کا ارضی مرکزِ ملتِ ابراہیمی کے پیرو ہونے کا عملی ثبوت دنیا کے قدیم موحدوں کی پہلی یادگار محمد رسول اللہ ﷺ کے پیرو ہونے کا شعار اور مسلمانانِ عالم کی وحدیت کا شیرازہ ہے اسی لئے آنحضرت ﷺ نے اس کی طرف رخ کرنے کو قبولِ اسلام کی علامت قرار دیا اور فرمایا کہ جو ہمارے قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھے اور ہمارے
سیرت النبیؐ | 99 | حصہ پنجم
ہاتھ کا ذبح کیا ہوا جانور کھائے وہ مسلمان ہے اگر خیال کے پرواز سے اڑ کر اور فضائے آسمانی کی نیلگوں سطح پر کھڑے ہو کر دنیا کے مسلمانوں کو نماز کی حالت میں کوئی شخص دیکھے تو نظر آئے گا کہ قبلہ ایک مرکزی نقطہ ہے جس کے چاروں طرف تمام مسلمانانِ عالم دائرہ کی صورت میں خدا کے آگے صف بستہ اور سر بسجود ہیں۔
رکعتوں کی تعداد:
ایک قیام اس کے بعد رکوع پھر سجدہ اس مرتب صورت کا نام ایک رکعت ہے نماز میں کم از کم دو رکعتیں اور زیادہ سے زیادہ چار مقرر کی گئیں، صبح کو دو، ظہر، عصر اور عشاء کے وقت چار چار اور مغرب میں تین۔
ایک رکعت کی مستقل نماز نہیں رکھی گئی اور نہ چار سے زیادہ رکعتیں رکھی گئیں کیونکہ مصلحت یہ تھی کہ نماز نہ اتنی مختصر ہو کہ دل میں ذرا اثر بھی پیدا نہ کر سکے نہ اتنی لمبی کہ انسان کو بد دل بنا دے ایک رکعت کی نماز اتنی مختصر تھی کہ اس سے قلب میں خضوع و خشوع پیدا نہ ہوتا کیونکہ صرف چند سیکنڈ میں تمام ہو جاتی اور چار سے زیادہ رکعتوں کی نماز بد دلی کا باعث ہوتی کیونکہ دیر لگنے کی وجہ سے جی گھبرا جاتا، اس لئے فرض نماز کی رکعتیں چار سے زیادہ نہیں رکھی گئیں۔
مکہ میں مسلمانوں کو جو بے اطمینانی اور بے سروسامانی تھی اور جس طرح کفار کے ڈر سے چھپ کر وہ نماز پڑھتے تھے اس لحاظ سے اس وقت نماز میں زیادہ رکعتیں ہونا ممکن نہ تھا اس لئے مکہ معظمہ میں ہر نماز صرف دو رکعتوں کی تھی۔ جب مدینہ آ کر اطمینان نصیب ہوا تو ظہر، عصر اور عشاء کی چار چار رکعتیں کر دی گئیں لیکن مسافر کے لئے وہی دو رکعتیں قائم رہیں کیونکہ اس کی عارضی پریشان حالی باقی رہتی ہے جو اس تخفیف کی علت تھی۔ حضرت ابن عباسؓ کی روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ مقیم کے لئے چار رکعتیں مسافر کے لئے دو اور بحالتِ خوف ایک۔ اس سے ظاہر ہوا کہ اطمینان کی زیادتی اور کمی کی بناء پر ان رکعتوں کی تعداد گھٹتی اور بڑھتی ہے۔
مغرب اور صبح کی نمازیں قیام و سفر دونوں حالتوں میں یکساں ہیں، مغرب کی تین رکعتوں کا آدھا اور صبح میں کچھ دو رکعتیں ہیں ان میں کیا کمی ہوسکتی ہے؟ لیکن مغرب اور صبح میں یہ تین اور دو رکعتیں کیوں ہیں؟ اس کی گرہ کشائی ام المومنین حضرت عائشہؓ نے فرمائی ہے "مغرب میں تین اس لئے ہیں کہ وہ دن کا وتر ہے اور صبح میں دو اس لئے کہ اس میں دو رکعتوں کے بڑھانے کے بجائے قرأت لمبی کر دی گئی ہے"۔
حضرت عائشہؓ کے ارشاد میں تھوڑی سی تفصیل کی ضرورت ہے۔ گذر چکا ہے عین طلوع اور غروب کے وقت نماز کی ممانعت اس لئے کی گئی ہے کہ یہ کفار (آفتاب پرستوں) کی عبادت کا وقت تھا۔ مغرب کی نماز غروبِ آفتاب کے بعد فوراً ہوتی ہے اس لئے ضرورت ہے کہ اہل توحید آفتاب پرستی کے شرک سے پوری براءت ظاہر کریں اسی لئے اس
1۔ بخاری کتاب الصلوٰۃ باب فضل استقبال القبلہ۔
2۔ صحیح بخاری باب الہجرہ و صحیح مسلم صلوٰۃ المسافر و مسند ابن حنبل ج 6 ص 241 و ابن خزیمہ و ابن حبان و البیہقی (فتح الباری ج 1 ص 393)۔
3۔ صحیح مسلم صلوٰۃ المسافر۔
4۔ مسند احمد بن حنبل جلد 6 ص 241۔
5۔ صحیح مسلم النہی عن الصلوٰۃ فی الاوقات الثلث۔
Page 100
سیرت النبی ﷺ — حصہ پنجم
وقت کی نماز میں رکعتوں کی تعداد وہ رہ گئی جس سے خدا کے واحد اور وتر ہونے کا ثبوت مل سکے۔ یہ عدد واحد تو نہیں ہو سکتا کہ اس سے خضوع و خشوع اور تاثر کا مقصد فوت ہوتا، دو کا عدد بھی نہیں ہو سکتا کہ یہ زوج اور جوڑا ہے طاق نہیں بنابریں توحید کا رمز آشکارا کرنے والا سب سے قریب ترین طاق عدد تین ہی ہے جس سے خدا کا واحد ہونا اور وتر ہونا دونوں باتیں ثابت ہوتی ہیں نیز نماز کے خشوع و خضوع کا کمال بھی فوت نہیں ہوتا جو ایک رکعت ہونے میں فوت ہو سکتا تھا اس لئے مغرب میں رکعتوں کی تعداد تین رکھی گئی اور چونکہ آفتاب کا کامل زوال و انحطاط جس کو غروب کہتے ہیں اسی وقت ہوتا ہے اس لئے اس توحید کے رمز کو اسی وقت آشکارا ہونا چاہیے اس مفہوم کی تشریح اس حدیث کے الفاظ سے بھی ہوتی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے وتر نماز کی تاکید فرمائی ہے۔
﴿أَوْتِرُوا يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ فَإِنَّ اللهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ﴾ (ابوداؤد)
اے قرآن والو! وتر (طاق) پڑھا کرو کیونکہ خدا بھی وتر (طاق) ہے اور وہ وتر (طاق) کو پسند کرتا ہے۔
صبح کا وقت وہ دلکش وقت ہے جب انسان پورے آرام و سکون کے بعد بیدار ہوتا ہے یہ بڑا سہانا وقت ہوتا ہے طبیعت موزوں ہوتی ہے دل مطمئن ہوتا ہے تمام عالم اس وقت سراپا اثر مجسم کیف نظر آتا ہے اس لئے یہ وقت نماز و دعا کے لئے خاص طرح سے موزوں ہے، اور قرآن مجید میں اس کے اس خاص امتیاز کا ذکر ان لفظوں میں کیا گیا ہے۔
﴿إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا﴾ (سورة الإسراء: 78)
صبح کی نماز کی قراءت کا وقت حضوری کا ہوتا ہے۔
اس بناء پر شریعت محمدیہ نے اس وقت کی نماز میں رکعتوں کی تعداد کے بجائے اس کی اصل کیفیت کو پیشِ نظر رکھا یعنی رکعتیں تو دو ہی رہیں، مگر حکم دیا گیا کہ قراءت لمبی کر دی جائے اور سورتیں بڑی بڑی پڑھی جائیں چنانچہ خود آنحضرت ﷺ اور نمازوں میں ایک رکعت میں تقریباً پندرہ آیتیں تلاوت فرماتے تھے مگر صبح کی نماز میں ساٹھ آیتوں سے لے کر سو آیتوں تک قراءت فرماتے تھے۔ اور اسی نسبت سے رکوع و سجود بھی ہوتا تھا۔
رکعتوں کی تعداد اگرچہ آنحضرت ﷺ اور صحابہ کی سنتِ متواترہ سے ثابت ہے اور تمام مسلمان اس تواتر پر بلا استثناء عامل بھی ہیں تاہم اس کا عملی اشارہ قرآن پاک میں نماز خوف سے ظاہر ہوتا ہے جس میں یہ حکم ہے کہ اسلامی فوج کے دو حصے ہو جائیں پہلے اگلا حصہ امام کے پیچھے کھڑا ہو کر ایک رکعت ادا کرے اور دوسرا دشمن کے مقابل کھڑا رہے پھر اگلا حصہ امام کے سامنے کھڑا ہو جائے اور دوسرا امام کے پیچھے آ کر ایک رکعت ادا کرے اس طرح امام کی دو رکعتیں ہو جاتی ہیں اور مقتدیوں کی جماعت کے ساتھ ایک ایک، اور اگر دوسری رکعت کا موقع ملتا ہے تو وہ ارکان کے ساتھ اور یہ ممکن نہ ہو تو اشاروں سے علیحدہ علیحدہ ادا کرتے ہیں جب نمازِ خوف میں قصر کی دو رکعتیں ثابت ہوئیں تو اصل رکعتیں چار ہوں گی اس سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ قصر چار ہی رکعت والی نمازوں میں ہے نماز قصر کی آیات سورہ نساء کے پندرھویں رکوع میں ہیں۔
(1) عشاء کے بعد وتر نماز کو بھی وتر اسی لئے کہتے ہیں کہ وہ طاق ہوتی ہے یعنی جو رات کی نماز ہے۔
(2) صحیح مسلم کتاب الصلوٰة باب القراءۃ۔
(3) مسلم کتاب الصلوٰة باب اعتدال اركان الصلوٰة وتخفيفها في تمام۔
Page 101
سیرت النبی ﷺ — حصہ پنجم
نماز کے آداب باطنی:
قرآن پاک اور احادیثِ نبویہ میں نماز کے لئے متعدد الفاظ آئے ہیں۔ مثلاً صلوٰة، دعا، تسبیح اور ذکرِ الٰہی اور یہ الفاظ خود نماز کے روحانی خصوصیات و آداب ظاہر کرتے ہیں۔ نماز جسم و روح دونوں کی عبادت ہے اگر اس میں جسم کی حرکت کے ساتھ دل کی جنبش شامل نہ ہو اور روح میں اہتزاز نہ پیدا نہ ہو جائے تو ایسی نماز گلِ بے رنگ اور شرابِ بے کیف سے زیادہ نہ ہوگی۔
اقامتِ صلوٰة:
نماز پڑھنے کے لئے قرآن پاک میں جابجا اقامتِ صلوٰة (نماز کو قائم کرنا) کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی صرف نماز پڑھنے کے نہیں بلکہ نماز کو اس کے آداب اور ارکان و سنن کے ساتھ ادا کرنے کے ہیں چنانچہ خوف کی حالت میں جہاں نماز کے بعض آداب و ارکان و شرائط کو معاف کر دیا گیا ہے اس کے بعد ہی یہ کہا گیا ہے۔ ﴿فَإِذَا اطْمَأْنَنتُمْ فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ﴾ "پھر جب تم کو اطمینان ہو جائے تو نماز کو قائم کرو"۔ (سورة النساء: 103)
اس سے معلوم ہوا کہ اقامتِ صلوٰة یعنی نماز کو قائم کرنے کے معنی یہ ہیں کہ نماز کو اس کے آداب و ارکان و شرائط کے ساتھ بجا لایا جائے اس بناء پر نماز میں اطمینانِ ارکان کا اعتدال باطنی خضوع و خشوع ملحوظ رہنا چاہئے جس کے بغیر نماز ناقص رہتی ہے۔
قنوت:
نماز کے آداب باطنی میں دوسری چیز قنوت ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَقُومُوا لِلّٰهِ قَانِتِينَ﴾ (سورة البقرة: 238)
اور خدا کے سامنے ادب سے کھڑے ہو۔
صحابہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ پہلے نماز میں باتیں کر لیا کرتے تھے لیکن جب یہ آیت اتری تو آنحضرت ﷺ نے اس سے منع فرما دیا کہ یہ یکسوئی اور نماز کے باطنی آداب کے خلاف تھا۔ قرآن پاک میں جس قنوت کا حکم دیا گیا ہے وہ عجیب جامع لفظ ہے لغت میں (دیکھو لسان العرب) اس کے حسب ذیل معنی ہیں چپ رہنا، بندگی کرنا، دعا مانگنا، عبادت کرنا، کھڑے رہنا، دیر تک کھڑے رہنا، عاجزی کرنا، نماز کے جس قنوت کا اس آیت میں ذکر ہے اس کے متعدد معنوں میں سے ہر معنی نماز میں مقصود ہے کیوں کہ نماز میں ذکر و قراءت تسبیح و استغفار سلام و تشہد کے سوا تمام انسانی ضرورتوں اور باتوں سے خاموشی ہوتی ہے، وہ خدا کی بندگی بھی ہے، دعا بھی ہے، عبادت بھی ہے، اس میں دیر تک قیام بھی ہے، اور عاجزی کا اظہار بھی ہے۔ اگر ان میں سے کوئی بھی کسی نماز میں کم ہو تو اس قدر نماز کے اوصاف میں بھی کمی ہو جائے گی۔
خشوع: تیسری چیز خشوع ہے چنانچہ قرآن پاک میں نمازیوں کی یہ صفت آئی ہے۔
﴿اَلَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ﴾ (سورة المؤمنون: 2)
(وہ مؤمنین کامیاب ہیں) جو اپنی نماز میں خشوع و خضوع کرتے ہیں۔
خشوع کے لغوی معنی یہ ہیں بدن جھکا ہونا، آواز پست ہونا، آنکھیں نیچی ہونا یعنی ہر ادا سے مسکنت عاجزی اور تواضع ظاہر ہونا (لسان العرب) اس لئے نماز خدا کے سامنے اپنی مسکینی بیچارگی اور افتادگی کا اظہار ہے۔ اگر یہ کیفیت پیدا نہ ہو تو گویا نماز کی اصلی غرض فوت ہوگئی۔
تبتل:
تبتل کے اصلی معنی کٹ جانے کے ہیں اور اس کے اصطلاحی معنی ہیں خدا کے سوا ہر چیز سے کٹ کر صرف خدا کا ہو جانا، ظاہر ہے کہ یہ ایک مسلمان کی زندگی کا حقیقی نصب العین ہے۔ مگر قرآن پاک میں جہاں اس کا حکم ہے سیاق و سباق سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کی حالت سے متعلق ہے چنانچہ سورہ مزمل میں ہے۔
﴿يَآ أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ ◌ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا ◌ نِّصْفَهُ أَوِ انقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا ◌ أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا ◌ إِنَّا سَنُلْقِي عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيلًا ◌ إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئًا وَأَقْوَمُ قِيلًا ◌ إِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيلًا ◌ وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا﴾ (سورة المزمل: 1-8)
اے کملی اوڑھنے والے! تھوڑی دیر کے سوا تمام رات اٹھ کر نماز پڑھ آدھی رات یا اس سے کچھ کم و بیش، اور اس میں قرآن ٹھہر ٹھہر کر پڑھ ہم تجھ پر ایک بھاری بات اتارنے والے ہیں بے شک رات کو اٹھ کر نماز پڑھنا نفس کو خوب زیر کرتا ہے اور مؤثر ہوتا ہے تیرے لئے دن کو بڑی فرصت ہے، اپنے پروردگار کا نام لے اور ہر چیز سے کٹ کر اس کی طرف ہو جا۔
یعنی نماز کی حالت میں خدا کا ذکر کرتے وقت اس کی عظمت اور اپنی عاجزی کے سوا ذہن سے تمام خیالات نکل جانے چاہیں۔ صحیح مسلم میں حضرت عمرو بن عبسہ سلمی سے روایت ہے کہ مجھے آنحضرت ﷺ نے جو نماز سکھائی اس کے متعلق یہ فرمایا کہ وضو کر کے جب کوئی نماز کے لئے کھڑا ہوا پھر خدا کی حمد کی ثنا کی، اور خدا کی اس بزرگی کا اظہار کیا جس کا وہ سزاوار ہے اور اپنے دل کو خدا کے لئے ہر چیز سے خالی کر لیا (وَفَرَّغَ قَلْبَهٗ لِلّٰهِ) تو وہ نماز کے بعد ایسا ہو جاتا ہے جیسے اس کی ماں نے اس کو اسی وقت (1) پیدا کیا ہو۔ یہ حدیث گویا اسی آیت کی تفسیر ہے۔
تضرع:
تضرع کے معنی زاری اور عاجزی اور عاجزی کے ساتھ درخواست کرنے کے ہیں (لسان العرب) نماز میں بندہ پر عاجزی زاری اور عجز و الحاح کے ساتھ سوال کرنے کی کیفیت طاری ہونی چاہئے ورنہ اس حکم پر عمل نہ ہوگا۔
﴿اُدْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً﴾ (سورة الاعراف: 55)
تم اپنے پروردگار کو مسکنت اور زاری کے ساتھ اور دھیمی آواز سے پکارو۔
(1) صحیح مسلم جلد اول باب الاوقات التي نهى عن الصلوٰة فيها۔
Page 103
سیرت النبی ﷺ — حصہ پنجم
اخلاص:
نماز کے باطنی سنن و آداب کا اصلی جوہر اخلاص ہے یعنی یہ کہ نماز سے مقصود خدا کے سوا کوئی اور چیز نہ ہو کیوں کہ اگر ایسا نہیں ہے تو نماز نماز نہیں بلکہ ریاء اور نمائش ہوگی اور بعض اہل حق کے نزدیک شرک لازم آئے گا، فرمایا:
﴿وَأَقِيمُوا وُجُوهَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ﴾ (سورة الاعراف: 29)
اور تم ہر نماز کے وقت اپنے رخ کو ٹھیک رکھو اور خدا کو اخلاص کے ساتھ پکارو۔
اس سے معلوم ہوا کہ نماز میں اخلاص کا پیدا کرنا اس کی تکمیل کے لئے ضروری ہے۔
ذکر:
نماز خدا کی یاد کے لئے ہے اگر دل میں کچھ اور زبان پر کچھ ہو تو خدا کی حقیقی یاد نہ ہوگی اس لئے فرمایا:
﴿أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي﴾ (سورة طه: 14)
"میری یاد کے لئے نماز کھڑی کر"۔
ظاہر ہے کہ یہ یاد صرف زبان سے الفاظ ادا کرنے کا نام نہیں ہے اس کے ساتھ دل کی معیت اور قلب کی حضوری ہونا چاہئے اور یہی نماز کی بڑی غرض ہے۔
فہم و تدبر:
نماز میں جو کچھ پڑھا جائے اس کے سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اگر بے پروائی کی وجہ سے معنوں کی طرف دل متوجہ نہ ہوا تو اس سے دل پر کچھ اثر نہ ہوگا اسی لئے نشے کی حالت میں نماز پڑھنے کی ممانعت کی گئی ہے کہ اس حالت میں سمجھنے والا دل شرابی کے پہلو میں نہیں، فرمایا:
﴿لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنتُمْ سُكَارَىٰ حَتَّىٰ تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ﴾ (سورة النساء: 43)
نماز کے قریب نہ جاؤ جب تم نشے میں ہو یہاں تک کہ (اتنا ہوش آ جائے کہ) جو تم کہو اس کو سمجھو۔
اس آیت پاک نے یہ واضح کیا کہ نماز میں جو کچھ پڑھا جائے اس کے سمجھنے کی بھی ضرورت ہے اسی بنا پر آپ ﷺ نے نیند کے غلبہ کی حالت میں نماز پڑھنے کی ممانعت فرمائی ہے کہ اس میں بھی انسان فہم اور تدبر سے عاری ہو جاتا ہے۔ چنانچہ حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ نماز میں جب تم پر نیند غالب آئے تو سو جاؤ کیوں کہ اگر نیند کی حالت میں نماز پڑھو گے تو ممکن ہے کہ دعا کی بجائے اپنے آپ کو برا بھلا کہنے لگو (1) دوسری روایت میں ہے کہ فرمایا نمازی کو جب نیند آئے تو سو جانا چاہئے تا کہ وہ جو کہتا ہے وہ سمجھے (2) حاکم کی مستدرک میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص اچھی طرح وضو کرے پھر اس طرح نماز پڑھے کہ جو وہ کہتا ہے اس کو سمجھتا بھی ہے یہاں تک کہ نماز ختم کر لے تو وہ ایسا ہو
(1) مسلم کتاب الصلوٰة باب امر من نعس في صلاته جلد 1 صفحہ 293۔
(2) بخاری وابوداؤد ومسند احمد عن انس۔
Page 104
سیرت النبی ﷺ — حصہ پنجم
جاتا ہے کہ گویا اسی دن وہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا۔ (1)
یہ نماز کے وہ باطنی آداب ہیں جن کے بغیر نماز کامل نہیں ہوتی۔ جس طرح نماز کے ظاہری شرائط سے غفلت برتنا نماز سے غفلت ہے اسی طرح نماز کے ان باطنی آداب کا لحاظ نہ کرنا بھی نماز سے غفلت ہے اور اس لئے اس آیت ذیل کے مصداق دونوں ہیں۔
﴿فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ ◌ الَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ ◌ الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ﴾ (سورة الماعون: 4-6)
"پھٹکار ہو ان نمازیوں پر جو اپنی نماز سے غفلت برتتے ہیں جو دکھاوے کی نماز پڑھتے ہیں"۔
ذرا ان الفاظ پر غور کیجئے ”ان نمازیوں پر جو اپنی نماز سے غافل ہیں پھٹکار ہو“ نمازی ہونے کے باوجود نماز سے غافل ہونے کے یہی معنی ہیں کہ نماز کے لئے جو ظاہری آداب مثلاً وقت کا لحاظ اور ادائے ارکان میں اعتدال وغیرہ اور جو باطنی آداب مثلاً خشوع و خضوع، تضرع و زاری اور فہم و تدبر وغیرہ ضروری ہیں ان سے نماز میں تغافل برتا جائے۔
نماز کے گذشتہ آداب کے مطابق آنحضرت ﷺ کی ہدایاتِ تعلیمات اور عملی مثالیں ہیں جن میں آپ ﷺ نے نماز کی اصلی حقیقت کو آشکارا کیا ہے۔ ایک دفعہ مسجد نبوی میں ایک شخص نے آ کر نہایت عجلت میں نماز پڑھی آپ ﷺ نے فرمایا اے شخص اپنی نماز پھر پڑھ کیوں کہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ اس نے دوبارہ اسی طرح نماز ادا کی آپ ﷺ نے پھر وہی ارشاد فرمایا جب تیسری دفعہ بھی ایسا ہی ہوا تو اس نے عرض کی یا رسول اللہ کیسے نماز پڑھوں؟ فرمایا اس طرح کھڑے ہو اس طرح قراءت کرو، اس طرح اطمینان و سکون کے ساتھ رکوع اور سجدہ کرو۔ (2)
نماز میں نظر اٹھا کر ادھر ادھر دیکھنا خشوع کے خلاف ہے اس سے انسان کی توجہ بٹتی ہے اور حضورِ قلب میں خلل پڑتا ہے اس لئے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ نماز میں ادھر ادھر نہ دیکھا کرو کیا تمہیں یہ ڈر نہیں کہ تمہاری نظر واپس نہ آ سکے۔ (3) آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ جب تک بندہ نماز میں دوسری طرف ملتفت نہیں ہوتا خدا اس کی طرف ملتفت رہتا ہے اور جب وہ خدا کی طرف سے منہ پھیر لیتا ہے تو خدا بھی اپنا منہ اس کی طرف سے پھیر لیتا ہے۔ (4) طبرانی میں ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لئے کھڑا ہو تو وہ خدا کی طرف پوری طرح متوجہ رہے یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہو جائے اور نماز میں منہ پھیر کر ادھر ادھر نہ دیکھو کیوں کہ جب تک تم نماز میں ہو خدا سے باتیں کر رہے ہو (5) مسند بزار میں ہے کہ جب بندہ نماز میں ادھر ادھر دیکھتا ہے تو خدا فرماتا ہے تو کدھر دیکھتا ہے؟ کیا تیرے نزدیک مجھ سے بھی بہتر
(1) مستدرک (ترغیب و ترهیب حافظ منذری جلد اول صفحہ 372 مصر) اس سے ان مسلمانوں کو جو عربی زبان نہیں سمجھتے عبرت حاصل کرنی چاہئے ورنہ چاہنے کہ نماز میں جو سورتیں اور دعائیں وہ پڑھتے ہیں ان کے معنی ذہن نشین کر لیں اور یہ ہر مسلمان کے لئے بہت آسانی سے ممکن ہے بشرطیکہ وہ تھوڑی توجہ کرے۔
(2) صحیح بخاری، صحیح مسلم وابوداؤد کتاب الصلوٰة۔
(3) مسند احمد عن جابر بن سمرة۔
(4) مسند احمد جلد 5 صفحہ 427 وابوداؤد باب الالتفات في الصلوة۔
(5) طبرانی فی الاوسط عن ابی ہریرہؓ بحوالہ کنز العمال جلد 4 صفحہ 108۔
Page 105
سیرت النبی ﷺ — حصہ پنجم
کوئی چیز ہے، تو میری طرف دیکھ دوسری دفعہ بھی خدا یہی فرماتا ہے پھر تیسری دفعہ جب اس سے یہ حرکت صادر ہوتی ہے تو خدا اس کی طرف سے اپنا منہ پھیر لیتا ہے۔ (1)
ایک دفعہ آپ ﷺ نے فرمایا سب سے بڑا چور وہ ہے جو نماز کی چوری کرتا ہے۔ صحابہؓ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! نماز کی چوری کیا ہے؟ فرمایا رکوع اور سجدہ اچھی طرح نہ کرنا اور خشوع نہ ہونا۔ (2) ایک دفعہ آپ ﷺ نے نماز سے فارغ ہو کر آخری صف کے ایک شخص کو آواز دی کہ اے فلاں! تو خدا سے نہیں ڈرتا کس طرح نماز پڑھتا ہے۔ جب کوئی شخص نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے تو اپنے رب سے باتیں کرتا ہے پس سوچنا چاہئے کہ اس سے کس طرح باتیں کرے۔ (3) صحیح مسلم میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تو نماز بھی اچھی طرح نہیں پڑھتا۔ کیا نماز پڑھنے والا جب نماز پڑھتا ہے تو نہیں سمجھتا کہ وہ کس طرح نماز پڑھ رہا ہے تو اپنے ہی فائدہ کے لئے نماز پڑھتا ہے۔ (4) نماز کی حالت میں تھوکنا اور خصوصاً سامنے تھوکنا ادب کے خلاف ہے۔ آپ ﷺ نے صحابہؓ سے فرمایا کہ نماز کی حالت میں خدا تمہارے سامنے ہوتا ہے تو کیا تم پسند کرتے ہو کہ تم اس کے سامنے تھوکو۔ (5) دوسری روایتوں میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا نماز میں کوئی شخص سامنے نہ تھوکے کہ اس وقت وہ خدا سے باتیں کرتا ہوتا ہے۔ (6) مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا نماز میں خدا تمہارے منہ کے سامنے ہوتا ہے۔ (7)
نماز میں سکون اور اطمینان پیدا کرنے کی بھی آپ ﷺ نے ہدایتیں فرمائی ہیں۔ ارشاد ہوا کہ جب نماز ہو رہی ہو اور تم باہر سے آؤ تو دوڑ کر مت آؤ بلکہ اس طرح آؤ کہ تم پر سکون اور وقار طاری ہو (8) اس سے اول تو یہ مقصود ہے کہ خود اس شخص پر سکون و اطمینان طاری رہے، دوسرے یہ کہ اس کی دوڑ یا چال سے دوسرے نمازیوں کے سکون میں خلل نہ آئے اسی طرح بے اطمینانی کے اگر طبعی اسباب ہوں تو نماز سے پہلے ان سے بھی فراغت کر لی جائے۔ مثلاً بھوک ہو اور کھانا رکھا ہو اور ادھر جماعت کھڑی ہو رہی ہو تو پہلے کھانا کھا لینا چاہئے تا کہ نماز اطمینان سے ادا ہو۔ (9) اسی طرح اگر استنجا یا قضائے حاجت کی ضرورت ہو تو پہلے اس سے فراغت کر لی جائے تب نماز پڑھی جائے۔ (10)
(1) کنز العمال جلد 4 صفحہ 108۔
(2) مسند احمد عن قتادہ ودارمی باب من لا يتم الركوع والسجود، وابن ابی شیبہ، وابن خزیمہ، وابن حبان، وعبد بن حميد، وعبدالرزاق، وطبرانی فی الاوسط اخیر لفظ بعض روایتوں میں نہیں ہے۔
(3) مستدرک حاکم فی الصلوٰة جلد اول صفحہ 236 (على شرط مسلم)۔
(4) صحیح مسلم کتاب الصلوٰة باب الامر بتحسين الصلوة۔
(5) صحیح مسلم کتاب المساجد باب النهى عن البصاق فيها وحاکم فی المستدرک وابوداؤد۔
(6) صحیح بخاری ومسلم کتاب الصلوٰة والمساجد۔
(7) ايضاً باب النهى عن البصاق فيها۔
(8) صحیح مسلم باب استحباب ايتان الصلوة بوقار۔
(9) صحیح بخاری ومسلم وابوداؤد وترمذی باب كراهة الصلوة بحضرة الطعام۔
(10) صحیح مسلم وابوداؤد ومؤطا امام مالک وترمذی وحاکم فی الصلوٰة۔
Page 106
سیرت النبی ﷺ — حصہ پنجم
آغازِ اسلام میں لوگ نماز کی حالت میں ہاتھ اٹھا کر سلام کا جواب دیتے تھے۔ لیکن مدینہ آ کر یہ اجازت منسوخ ہوگئی ایک صحابیؓ نے جن کو اس کی خبر نہ تھی آنحضرت ﷺ کو کئی دفعہ نماز میں سلام کیا اور جب آپ ﷺ نے جواب نہ دیا تو نماز کے بعد انہوں نے اس کا ذکر کیا فرمایا۔ (1)
﴿إِنَّ فِي الصَّلَاةِ شُغْلًا﴾
نماز میں اور ہی مصروفیت ہوتی ہے۔
نماز پڑھتے وقت ایسے کپڑے پہننا یا سامنے ایسا پردہ لٹکانا جن کے نقش و نگار میں دل محو ہو جائے اور توجہ بٹ جائے مکروہ ہے۔ ایک دفعہ آنحضرت ﷺ نے گل بوٹوں کی ایک چادر اوڑھ کر نماز پڑھی پھر فرمایا اس کے گل بوٹوں نے مجھے اپنی طرف متوجہ کر لیا اس کو ابوجہم (تاجر کا نام) کے پاس لے جاؤ اور انجبانی سادہ چادر لے آؤ۔ (2) اسی طرح ایک دفعہ حضرت عائشہؓ نے سامنے دیوار پر ایک منقش پردہ لٹکا دیا تھا آپ ﷺ نے نماز پڑھی تو خیالات میں یکسوئی نہ رہی آپ ﷺ نے اس کو اتروا دیا۔ (3)
نماز کے اوقات کی تعیین میں بھی یہ اصول مدنظر رکھا گیا ہے کہ وہ ایسے ہونے چاہئیں جن میں نسبتاً سکون میسر ہوتا ہو اسی لئے ظہر کی نماز کا اصلی وقت اگرچہ فوراً بعد زوال ہونا چاہئے تاہم چونکہ اس وقت گرمی سخت ہوتی ہے اس لئے توقف کا حکم دیا گیا۔ گرمی کے دنوں میں چونکہ اور بھی زیادہ شدت ہوتی ہے اس لئے فرمایا کہ یہ دوپہر کی گرمی (گویا) جہنم کی آگ ہے اس لئے ذرا ٹھنڈک کے بعد ظہر کی نماز پڑھو۔
﴿فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ﴾ (4)
کیونکہ نماز میں حضور ہوتا ہے۔
نماز کی روحانی کیفیت کا سب سے اعلیٰ منظر یہ ہے کہ انسان پر ایسی حالت طاری ہو جائے کہ اسے معلوم ہو کہ وہ اس وقت خدا کے سامنے کھڑا ہے۔ گذر چکا ہے کہ ایک شخص نے آپ ﷺ سے دریافت کیا تھا کہ احسان کیا ہے؟ فرمایا یہ ہے کہ جب تم عبادت کرو تو تم کو یہ معلوم ہو کہ تم خدا کو دیکھ رہے ہو۔ کیوں کہ اگر تم خدا کو نہیں دیکھ رہے ہو تو وہ تم کو بہرحال دیکھ رہا ہے۔ (5) کبھی کبھی آنحضرت ﷺ پر نماز میں رقت طاری ہو جاتی تھی اور چشم مبارک سے آنسو نکلنے لگتے تھے۔ ایک صحابی جنہوں نے آنحضرت ﷺ کی اس کیفیت کو ایک دفعہ دیکھا تھا کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ آنحضرت ﷺ نماز میں ہیں آنکھوں سے آنسو جاری ہیں روتے روتے ہچکیاں بندھ گئی ہیں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا چکی چل رہی ہے یا ہانڈی ابل رہی ہے۔ (1)
(1) صحیح مسلم باب تحريم الكلام في الصلوة۔
(2) صحیح مسلم باب كراهة الصلوة فى ثوب لها اعلام۔
(3) صحیح بخاری ومسلم کتاب اللباس۔
(4) صحیح مسلم باب النهى عن الاوقات الثلث۔
(5) صحیح بخاری کتاب الایمان۔
Page 107
سیرت النبی ﷺ — حصہ پنجم
ابل رہی ہے۔ (1)
رات کی نمازوں میں آنحضرت ﷺ پر عجیب ذوق و شوق کا عالم طاری ہوتا تھا۔ قرآن پڑھتے چلے جاتے۔ جب خدا کی عظمت و کبریائی کا ذکر آتا پناہ مانگتے، جب رحم و کرم کی آیتیں آتیں تو دعا کرتے۔ (2) آپ ﷺ نے فرمایا کہ نماز دو دورکعت کر کے ہے اور ہر دوسری رکعت میں تشہد ہے اور تضرع وزاری ہے خشوع اور خضوع ہے عاجزی اور مسکنت ہے اور ہاتھ اٹھا کر اے رب، اے رب کہنا ہے، جس نے ایسا نہ کیا تو اس کی نماز ناقص ہے۔ (3)
ایک دفعہ آپ ﷺ اعتکاف میں تھے اور لوگ مسجد میں زور زور سے قراءت کر رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا لوگو تم میں سے ہر ایک خدا سے مناجات کر رہا ہے تو وہ سمجھے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور ایک دوسرے کی مناجات میں اپنی آواز سے خلل انداز نہ ہو۔ (4)
ایک صحابی نے درخواست کی کہ یا رسول اللہ ﷺ مجھے کچھ ہدایت فرمائیے۔ ارشاد ہوا کہ ”جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو تمہاری نماز ایسی ہونی چاہئے کہ یہ معلوم ہو کہ تم اس وقت مر رہے ہو اور دنیا کو چھوڑ رہے ہو“ (5) تمہاری نماز کی اس کیفیت کا کوئی شخص اندازہ کر سکتا ہے؟
اس پوری تفصیل سے ظاہر ہوگا کہ اسلام کی نماز کیا ہے؟ قرآن کس نماز کو لے کر اترا ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ نے کس نماز کی تعلیم دی ہے؟ اور اس کی اصلی کیفیتیں کیا کیا ہیں؟ اور اگر نماز یہ نماز ہو تو وہ انسان کی روحانی اور اخلاق اصلاحات کا کتنا مؤثر ذریعہ ہے؟ اسی لئے قرآن پاک نے نماز کی محافظت یعنی پابندی اور آداب کے ساتھ ادا کرنے کو ایمان کا نتیجہ بتایا ہے۔
﴿وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ يُؤْمِنُونَ بِهِ وَهُمْ عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ يُحافظُونَ﴾ (سورة الانعام: 92)
اور جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ قرآن کو مانتے ہیں اور وہ اپنی نماز کی نگہداشت کرتے ہیں۔
نماز کی اس نگہداشت اور محافظت کے دو معنی ہیں اور دونوں یہاں مقصود ہیں یعنی ایک تو اس کے ظاہری شرائط کی تعمیل اور دوسرے اس کے باطنی آداب کی رعایت۔
نماز کے اخلاقی، تمدنی اور معاشرتی فائدے:
نماز تو درحقیقت ایمان کا ذائقہ روح کی غذا اور دل کی تسکین کا سامان ہے مگر اسی کے ساتھ ساتھ وہ مسلمانوں کے اجتماعی اخلاقی، تمدنی اور معاشرتی اصلاحات کا بھی کارگر آلہ ہے آنحضرت ﷺ کے ذریعہ سے اخلاق و تمدن و معاشرت کی جتنی اصلاحیں وجود میں آئیں ان کا بڑا حصہ نماز کی بدولت حاصل ہوا اس کا اثر ہے کہ اسلام نے ایک ایسے
(1) ترمذی وابوداؤد وباب البكاء في الصلوة۔
(2) مسند احمد بن حنبل جلد 6 صفحہ 93۔
(3) ابوداؤد باب صلوة النهار وترمذی باب ما جاء في التخشع في الصلوة صفحہ 71 مطبوعہ دہلی۔
(4) ابوداؤد صلوة الليل۔
(5) مسند احمد جلد 5 صفحہ 412 عن ابی ایوب۔
سیرت النبی ﷺ | حصہ پنجم
صفحہ 108
بدوی وحشی اور غیر متمدن ملک کو جس کو پہننے اوڑھنے کا بھی سلیقہ نہ تھا، چند سال میں ادب و تہذیب کے اعلیٰ معیار پر پہنچا دیا، اور آج بھی اسلام جب افریقہ کے وحشی سے وحشی ملک میں پہنچ جاتا ہے، تو وہ کسی بیرونی تعلیم کے بغیر صرف مذہب کے اثر سے مہذب و متمدن ہو جاتا ہے، متمدن قوموں میں جب وہ پہنچ جاتا ہے، تو ان کے تخیل کو بلند سے بلند تر ، پاکیزہ سے پاکیزہ تر بنا دیتا ہے، اور ان کو اخلاص کی وہ تعلیم دیتا ہے جس کے سبب سے ان کا وہی کام جو پہلے مٹی تھا، اب اکسیر بن جاتا ہے۔
1۔ نماز کے ان معاشرتی فائدوں میں بالکل ابتدائی چیز ستر پوشی کا خیال ہے، انسان کا شرم و حیا کی نگہداشت کے لئے اپنے جسم کے بعض حصوں کو چھپانا نہایت ضروری ہے، عرب کے بدو اس تہذیب سے ناواقف تھے بلکہ شہروں کے باشندے بھی اس سے بے پرواہ تھے، یہاں تک کہ غیر قریشی عورتیں جب حج کے لئے آتی تھیں تو اپنے کپڑے اتار دیتی تھیں، اور اکثر ننگی ہو کر طواف کرتی تھیں، اسلام آیا تو اس نے ستر پوشی کو ضروری قرار دیا، یہاں تک کہ بغیر اس ستر پوشی کے اس کے نزدیک نماز ہی درست نہیں، آیت نازل ہوئی:
﴿خُذُوا زِيْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ﴾(سورۃ الاعراف: 31)
ہر نماز کے وقت اپنے کپڑے پہنو۔مردوں کے لئے کم از کم ناف سے گھٹنے تک، اور عورتوں کے لئے پیشانی سے لے کر پاؤں تک چھپانا نماز میں ضروری قرار پایا، اس تعلیم نے جاہل اور وحشی عربوں کو اور جہاں جہاں اسلام گیا، وہاں کے برہنہ باشندوں کو ستر عورت پر مجبور کیا، اور نماز کی تاکید نے دن میں پانچ دفعہ اس کو اس فرض سے آشنا کر کے ہمیشہ کے لئے ان کو ستر پوش بنا دیا، افریقہ اور ہندوستان میں مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کے لباسوں پر ایک نظر ڈالنے سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ اسلام نے تمدن کے اس ابتدائی سبق میں دنیا کی کتنی بڑی مدد کی ہے، دوسری طرف متمدن قومیں زیب و زینت اور حسن و آرائش اور تمدن کی بے اعتدالی سے بے حیائی پر اتر آتی ہیں، مرد گھٹنوں سے اونچا لباس اور عورتیں نیم برہنہ یا نہایت باریک لباس پہنتی ہیں، نماز ان کی بھی اصلاح کرتی ہے اور ان متمدن قوموں کو اعتدال سے تجاوز نہیں کرنے دیتی، چنانچہ عورتوں کو تیز خوشبو لگا کر مسجد میں جانے سے منع فرمایا، اور بے حیائی کے کپڑوں کے پہننے سے عموماً روک دیا ہے، اور کہہ دیا ہے کہ ستر عورت کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
2۔ اس کے بعد تمدن کا دوسرا ابتدائی سبق طہارت اور پاکیزگی ہے جو اسلام کے اولین احکام میں سے ہے، اقراء کے بعد دوسری ہی وحی میں جو آنحضرت ﷺ پر نازل ہوئی اس میں یہ حکم تھا:
﴿وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ﴾(سورۃ المدثر: 4)
اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھ۔چنانچہ اسلام نے اس طہارت اور پاکیزگی کے اصول مقرر کئے، اور آنحضرت ﷺ نے اپنی تعلیمات سے اس کے حدود متعین فرمائے اور نماز کی درستی کے لئے یہ ضروری قرار دیا کہ انسان کا بدن، اس کے کپڑے اور اس کی نماز پڑھنے کی جگہ نجاستوں اور آلودگیوں سے پاک ہو، اہل عرب کو دوسری وحشی قوموں کی طرح طہارت و نظافت کی مطلق تمیز نہ تھی،
صفحہ 109
یہاں تک کہ ایک بدو نے مسجد نبوی میں آ کر سب کے سامنے بیٹھ کر پیشاب کر دیا، صحابہؓ اس کو مارنے کو دوڑے، آپ ﷺ نے ان کو روکا اور اس بدو کو اپنے پاس بلا کر نہایت مہربانی سے فرمایا کہ "یہ نماز پڑھنے کی جگہ ہے، اس قسم کی نجاستوں کے لئے یہ موزوں نہیں ہے"، اور صحابہ سے فرمایا کہ اس نجاست پر پانی بہا دو، ایک دفعہ ایک قبر کے پاس سے آپ ﷺ گزرے تو فرمایا کہ "اس قبر والے پر اس لئے عذاب ہو رہا ہے کہ یہ پیشاب کی چھینٹوں سے پرہیز نہیں کرتا تھا"، غرض اس تعلیم نے جو صرف نماز کے لئے تھی، اہل عرب اور عام مسلمانوں کو پاک و صاف رہنے کا خوگر بنایا، اور استنجاء، بیت الخلا اور طہارت کے وہ آداب سکھائے جن سے آج کی بڑی بڑی متمدن قومیں بھی نا آشنا ہیں۔نجاستوں سے اپنے بدن، کپڑے اور مکان کو صاف رکھنے کی تعلیم دی، جو صحابہ طہارت کا اہتمام کرتے تھے خدا نے ان کی مدح فرمائی:
﴿فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُوا ۚ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ﴾(سورۃ التوبہ: 108)
اس مسجد میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو پسند کرتے ہیں کہ وہ پاک و صاف رہیں، اور اللہ تعالیٰ پاک و صاف رہنے والوں کو پیار کرتا ہے۔جب اسلام نے طہارت و پاکیزگی کو خدا کے پیار کرنے کا ذریعہ ٹھہرایا تو اس نعمت سے محرومی کو کون پسند کر سکتا ہے؟
3۔ نماز کا تیسرا فائدہ یہ ہے کہ وہ انسان کو اپنے جسم اور اعضاء کے پاک اور ستھرا رکھنے پر مجبور کرتی ہے، دن میں عموماً پانچ دفعہ ہر نمازی کو منہ ہاتھ پاؤں جو اکثر کھلے رہتے ہیں ان کے دھونے کی ضرورت پیش آتی ہے، ناک میں پانی ڈال کر ناک صاف کرنی ہوتی ہے، ایک بڑے ڈاکٹر نے مجھ سے یہ کہا کہ آج کل کے جراثیم کے نظریہ کی بناء پر بہت سی بیماریاں ناک کی سانس کے ذریعہ جراثیم کے بدن کے اندر جانے سے پیدا ہوتی ہیں اور ناک کے نتھنوں کو پانی ڈال کر صاف کرنے سے یہ جراثیم دور ہوتے ہیں۔دنیا میں اسلام کے سوا اور کوئی مذہب نہیں ہے جس نے ناک میں پانی ڈالنا ضروری قرار دیا ہو، حالانکہ طبی حیثیت سے یہ سب سے زیادہ ضروری چیز ہے، اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے احکام کس قدر طبی اصول پر مبنی ہیں، نمازوں کو پنج وقتہ وضو کی ہدایت کی اہمیت اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم نازل ہوا، اس ملک میں جہاں پانی سب سے زیادہ کمیاب ہے۔اہل عرب اور خصوصاً بدو دانتوں کو بہت کم صاف کرتے ہیں، جس سے گندہ دہنی اور بدنمائی کے علاوہ طرح طرح کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں، آنحضرت ﷺ نے ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کی اتنی تاکید فرمائی ہے کہ گویا وجوب کے قریب پہنچ گئی اور فرمایا کہ "اگر میری امت پر یہ شاق نہ گزرتا تو میں اس کو ضروری قرار دیتا"۔اسی پانی کی کمی کی وجہ سے اہل عرب نہاتے کم تھے، ان کے کپڑے عموماً اون کے ہوا کرتے تھے، وہ محنت مزدوری کرتے تھے جس سے پسینہ میں شرابور ہو جاتے تھے اور چونکہ ایک ایک کپڑے کو ہفتوں پہنے رکھتے تھے، اس لئے جب مسجد میں نماز پڑھنے آتے تو ان کے بدن اور کپڑوں سے بدبو آتی تھی، اس بناء پر اسلام نے ہفتہ میں کم از کم ایک مرتبہ جمعہ کو نماز سے پہلے غسل کرنا اور نہانا مستحب و واجب کر دیا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا:
صفحہ 110
﴿غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَىٰ كُلِّ مُحْتَلِمٍ﴾(صحیح بخاری، کتاب الجمعۃ)
جمعہ کے دن نہانا ہر بالغ پر ضروری ہے۔اسی کے ساتھ اس دن دھلے ہوئے کپڑے پہننا، خوشبو ملنا اور صفائی و نظافت کے دوسرے امور کو مستحسن قرار دیا، بعض حالات میں غسل کرنا فرض قرار دیا، جس کے بغیر کوئی نماز ممکن ہی نہیں، فرمایا:
﴿وَإِن كُنتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا﴾(سورۃ المائدہ: 6)
اور اگر تم ناپاک ہو گئے ہو تو نہا کر اچھی طرح پاک ہو جاؤ۔
4۔ پابندی وقت:انسان کی کامیاب عملی زندگی کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ اس کے تمام کام مقررہ اوقات پر انجام پائیں، انسان فطرتاً آرام پسند اور راحت طلب پیدا ہوا ہے، اس کو پابند اوقات بنانے کے لئے ضروری ہے کہ اس کے بعض کاموں کے اوقات جبراً مقرر کر دیئے جائیں، جیسا کہ کاروبار کے کاموں میں آپ کو یہ اصول نظر آتا ہے، اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنے دوسرے کاموں کے اوقات بھی ان کی خاطر مقرر کر لیتا ہے، اور اس طرح اس کی زندگی باقاعدہ ہو جاتی ہے، اور اس کا وقت فضول برباد نہیں ہوتا، نماز کے اوقات چونکہ مقرر ہیں، اس لئے وہ لوگ جو نماز کے پابند ہیں، خصوصاً نماز باجماعت کے، ان کے اوقات خود بخود منظم ہو جاتے ہیں، ان کے دن رات کے کام باقاعدہ انجام پاتے ہیں، اور نماز کے اوقات ان کے کاموں کا معیار ہو جاتے ہیں، وقت پر سونا اور وقت پر اٹھنا ان کے لئے ضروری ہو جاتا ہے، مشہور صحابی حضرت سلمان فارسیؓ کا مقولہ ہے:
﴿الصَّلَاةُ مِكْيَالٌ فَمَنْ أَوْفَىٰ أَوْفَىٰ بِهِ وَمَنْ طَفَّفَ فَقَدْ عَلِمْتُمْ مَا لِلْمُطَفِّفِيْنَ﴾نماز ایک پیمانہ ہے، جس نے اس کو پورا ناپا، اس کو پورا ناپ دیا جائے گا، اور جس نے ناپنے میں کمی کی، تو تمہیں کم ناپنے والوں کی سزا معلوم ہے۔اس قول کے جہاں اور مطلب ہو سکتے ہیں، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نماز ہر مسلمان کے کام کا پیمانہ ہے، اسی سے اس کی ہر چیز ناپی جا سکتی ہے۔
5۔ صبح خیزی:طب اور حفظان صحت کے اصول سے رات کو سویرے سونا اور صبح کو طلوع آفتاب سے پہلے بیدار ہونا جس درجہ ضروری ہے، وہ مخفی نہیں، جو لوگ نماز کے پابند ہیں، وہ اس اصول کی خلاف ورزی کبھی نہیں کر سکتے، جب تک رات کو وقت پر سویا نہ جائے گا، صبح کو وقت پر آنکھ نہیں کھل سکتی، اسی لئے آنحضرت ﷺ نے رات کو نماز عشاء کے بعد بے کار باتیں (1) کرنے سے اور قصہ کہانی سے منع فرمایا ہے (1) تا کہ وقت پر سونے سے وقت پر آنکھ کھل سکے، اور صبح خیزی مسلمانوں کی عادت ہو جائے، اور صبح کو مؤذن کی پر تاثیر آواز:
﴿الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ﴾سونے سے نماز بہتر ہے۔ان کو بے تابانہ اپنے خواب کے بستر سے اٹھا دے۔
(1) کنز العمال مندوبات الصلوۃ جلد چہارم صفحہ 230 بحوالہ مصنف عبدالرزاق۔
صفحہ 111
6۔ اللہ کا خوف:ایک مسلمان جو نماز پڑھتا ہے، جب کبھی غلطی سے یا بشری کمزوری سے اس کا قدم ڈگمگاتا ہے، تو رحمت الٰہی اس کا ہاتھ تھام لیتی ہے، اس کو اپنے فعل پر ندامت ہوتی ہے، اس کو اپنے خدا کے سامنے جاتے ہوئے شرم آتی ہے، اس کا ضمیر اس کو ملامت کرتا ہے، وہ لوگوں سے اس بناء پر شرماتا ہے کہ وہ کہیں گے کہ یہ نمازی ہو کر اس قسم کے افعال کا مرتکب ہوتا ہے، کہ اس کے پاؤں بدی کے راستہ پر پڑتے وقت کانپتے ہیں، غرض نماز انسان کے اخلاقی حاسہ کو بیدار کرتی ہے اور برائیوں سے بچاتی ہے، اور خود خدا نے نماز کا وصف یہ بیان کیا ہے:
﴿إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ﴾(سورۃ العنکبوت: 45)
بے شک نماز بے حیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے۔
7۔ ہشیاری:نماز عقل، ہوش، بیداری اور آیات الٰہی میں تدبر اور غورو فکر، خدا کی تسبیح و تہلیل اور اپنے لئے دعائے مغفرت کا نام ہے، اس لئے وہ تمام چیزیں جو انسان کی عقل و ہوش اور فہم اور احساس کو کھو دیں، نماز کی حقیقت کے منافی ہیں، اسی لئے اس وقت بھی جب شراب کی ممانعت نہیں ہوئی تھی، اس کو پی کر نشہ کی حالت میں نماز پڑھنا جائز نہ تھا۔
﴿لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَىٰ حَتَّىٰ تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ﴾(سورۃ النساء: 43)
نشہ کی حالت میں تم نماز کے قریب نہ جاؤ، یہاں تک کہ تم سمجھنے لگو جو کچھ کہتے ہو۔اس بناء پر ایک نماز کا پابند تمام ایسی چیزوں سے جو اس کی عقل و ہوش کو گم کر دیں قطعاً پرہیز کرے گا۔
8۔ مسلمان کا امتیازی نشان:مذہبی بلکہ سیاسی حیثیت سے بھی اسلام کو سب سے زیادہ مخلصین اور منافقین کے امتیاز کی ضرورت تھی، قانون ان دونوں گروہوں میں کوئی امتیاز نہیں کر سکتا تھا، احکام میں حج ایک ایسی چیز ہے جس کے اہل عرب مدت سے خوگر تھے، اس کے ساتھ وہ ان کے مذاق کی چیز تھی، خلائق کا اجتماع ایک میلے کی صورت اختیار کر لیتا تھا، جو عرب کے تمدن کا ایک لازمی جز تھا، فخر و امتیاز کے موقعے بھی اس میں حاصل ہو سکتے تھے، گو اسلام نے اس کی اصلاح کر دی، زکوٰۃ بھی کوئی حد فاصل نہیں ہو سکتی تھی، کیونکہ اکثر منافقین متمول تھے اور یہ جاہ و فخر کا بھی ذریعہ ہو سکتی تھی، اس کے ساتھ یہ عرب کی فیاض طبیعت پر بھی گراں نہیں ہو سکتی تھی، فقراء کے ساتھ ہمدردی کا جذبہ بھی فطری ہے، صرف معمولی تحریک کی ضرورت تھی، روزہ بھی اس کا معیار نہیں قرار دیا جا سکتا، کیونکہ روزہ میں چھپے چوری کھا پی لینے کا موقع بہ آسانی حاصل ہو سکتا ہے، صرف نماز ایک ایسی چیز ہے جو ان دونوں گروہوں میں حد فاصل ہو سکتی ہے، چنانچہ قرآن پاک نے اسی فریضہ میں سستی کو منافقین کی خاص پہچان قرار دیا۔
(1) صحیح بخاری، کتاب الصلوۃ باب مایکره من السمر بعد العشاء۔
صفحہ 112
﴿وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَىٰ﴾(سورۃ النساء: 142)
اور جب وہ نماز پڑھنے کو اٹھتے ہیں تو کسل مندی کے ساتھ اٹھتے ہیں۔نیز فرمایا:﴿وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخَاشِعِينَ﴾(سورۃ البقرہ: 45)
خضوع و خشوع والوں کے علاوہ نماز سب پر گراں ہے۔خصوصاً عشاء اور فجر کی نماز کی نسبت کہ یہ راحت کے اوقات ہیں، آنحضرت ﷺ نے فرمایا:
﴿لَيْسَ صَلَاةٌ أَثْقَلَ عَلَى الْمُنَافِقِينَ مِنَ الْفَجْرِ وَالْعِشَاءِ﴾ (1)منافقین پر فجر اور عشاء سے زیادہ کوئی نماز گراں نہیں۔حضرت ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ "جب ہم (صحابہ) کسی کو عشاء اور صبح کی نمازوں میں غیر حاضر پاتے تھے تو ہم اس سے بدگمان ہو جاتے تھے" (2)۔مدینہ آ کر نماز میں قبلہ کی تبدیلی جہاں اور مصلحتوں سے تھی، وہاں ایک مصلحت یہ بھی تھی کہ اس سے مخلصین اور منافقین کی تمیز ہو سکے، مکہ معظمہ کے لوگ جو کعبہ کی عظمت کے قائل تھے، بیت المقدس کی طرف منہ کرنا جائز نہیں سمجھتے تھے، مدینہ میں یہودی آباد تھے، جن میں کچھ مسلمان ہو گئے تھے، وہ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے، اور کعبہ کی عظمت تسلیم نہیں کرتے تھے، اس لئے عرب منافقین کی پہچان بیت المقدس کے قبلہ بنانے سے اور یہود منافقین کی پہچان کعبہ قبلہ بنانے سے ہو سکتی تھی، چنانچہ قرآن پاک میں ہے:
﴿وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنْتَ عَلَيْهَا إِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّنْ يَنْقَلِبُ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ ۚ وَإِنْ كَانَتْ لَكَبِيرَةً إِلَّا عَلَى الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ﴾(سورۃ البقرہ: 143)
اور جس قبلہ پر تم تھے اس کو ہم نے قبلہ نہیں بنایا لیکن اس لئے تا کہ ہم ان کو جو رسول کی پیروی کرتے ہیں ان سے الگ کر دیں جو الٹے پاؤں پھر جائیں گے، اور یہ قبلہ گراں ہوا لیکن ان پر جن کو خدا نے راہ دکھائی۔یہ پہچان اور شناخت اب قیامت تک قائم رہے گی، اسی لئے آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے ہمارا ذبیحہ کھایا اور ہمارے قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی، وہ مسلمان ہے (3)۔
9۔ باطل کی شکست اور حق کی خاطر لڑنا انسان کا فرض ہے، اس فرض کے انجام دینے کے لئے انسان کو ہر وقت...
(1) صحیح بخاری کتاب الصلوۃ باب فضل صلاة العشاء فی الجماعة۔(2) مستدرک حاکم (علی شرط الشیخین) جلد اول صفحہ 211۔(3) صحیح بخاری باب فضل استقبال القبلة۔
یہ کتاب "سیرت النبی ﷺ" (حصہ پنجم) کے صفحات کی ٹرانسکرپشن ہے:
صفحہ 113
تیار رہنا چاہئے، اس تیاری کا نقشہ ہماری روزانہ کی نمازیں ہیں، چنانچہ ابوداؤد میں ہے۔﴿كَانَ النَّبِيُّ ﷺ وَجُيُوشُهُ إِذَا عَلَوُا الثَّنَايَا كَبَّرُوا وَإِذَا هَبَطُوا سَبَّحُوا فَوُضِعَتِ الصَّلَاةُ عَلَى ذٰلِكَ﴾ (ابوداؤد)آنحضرت ﷺ اور آپ کا لشکر جب پہاڑی پر چڑھتا تھا تو تکبیر اور جب نیچے اترتا تھا تو تسبیح کہتا تھا، نماز اسی طریقے پر قائم کی گئی۔
صف بندی، ایک افسر (امام) کی اطاعت، تمام سپاہیوں (نمازیوں) کی باہم محبت اور دلگیری اور ایک تکبیر کی آواز پر پوری صفوف کی حرکت اور نشست و برخاست مسلمانوں کو صفِ جنگ کے اوصاف سکھاتی ہے اور ان کے قوائے عمل کو بیدار کرتی ہے، جاڑوں میں پانچ وقت وضو کرنا، ظہر کے وقت دھوپ کی شدت میں گھر سے نکل کر مسجد کو جانا، عصر کے وقت لہو ولعب کی دلچسپیوں سے وقت نکال کر خدا کو یاد کرنا، رات کو سونے سے پہلے دعا وزاری کر لینا، صبح کو خوابِ سحر کی لذت کو چھوڑ کر حمدِ باری میں مصروف ہونا، اس کے بغیر ممکن نہیں کہ ہم فرضی راحت و تکلیف سے بے پروا ہو کر عمل کی طاقت اپنے میں پیدا کریں اور کام کی ضرورت کے وقت احساسِ فرض کے تقاضے کو بجالانا ضروری سمجھیں اور اس کے لئے عارضی تکلیفوں کی برداشت کا اپنے کو خوگر بنائیں، ہفتہ میں ایک دن نمازِ جمعہ کے لئے شہر کے سب مسلمانوں کا ایک جگہ جمع ہونا، دن رات کے پُر آرام سے پُر آرام وقت میں ممکن تھا، مگر اس کے لئے بھی دوپہر کا وقت مقرر کیا گیا تا کہ اس اجتماع اور مظاہرہ میں بھی مسلمان سپاہیانہ خصائص کے خوگر رہیں، اور نمازِ جمعہ کا ہر پابند شہادت دے گا کہ اس کی اتنی سی یہ عادت مشکلاتِ وقت کے اتفاقات میں اس کے لئے کس قدر مدد ثابت ہوتی ہے۔
10۔ تمام عبادات بلکہ تمام مذاہب کا اصل مقصد تکمیلِ اخلاق ہے، لیکن اصلاحِ اخلاق کا سب سے بڑا ذریعہ یہ ہے کہ نفس ہر وقت بیدار اور اثر قبول کرنے کے لئے آمادہ رہے، تمام عبادات میں صرف نماز ہی ایک ایسی چیز ہے جو نفس کو بیدار رکھ سکتی ہے، روزہ، حج، زکوٰۃ اولاً تو ہر شخص پر فرض نہیں، اس کے ساتھ روزہ سال میں ایک بار فرض ہوتا ہے، زکوٰۃ کا بھی یہی حال ہے، حج عمر میں ایک بار ادا کرنا پڑتا ہے، اس لئے یہ فرائض نفس کے تنبہ اور بیداری کا دائمی اور ہر روزہ ذریعہ نہیں ہو سکتے، برخلاف ان کے نمازوں میں پانچ بار ادا کرنی ہوتی ہے، ہر وقت وضو کرنا پڑتا ہے، سجدہ، رکوع، قیام و قعود، جہر و خفاء، تسبیح و تہلیل، تکبیر و تشہد نے اس کے ارکان و اعمال میں تنوع و امتیاز پیدا کر دیا ہے، جن میں ہر چیز نفس میں تدریجی اثر پذیری کی قابلیت پیدا کرتی ہے، اور ہر چوبیس گھنٹہ میں چند گھنٹوں کے وقفہ سے نفسِ انسانی کو ہوشیار اور قلبِ خفتہ کو بیدار کرتی ہے، اس طرح نفس کو رات دن تنبہ ہوا کرتا ہے۔
11۔ الفت و محبت:نماز مسلمانوں میں باہمی الفت و محبت پیدا کرنے کا ذریعہ ہے، محلہ کے تمام مسلمان جب کسی ایک جگہ دن میں پانچ دفعہ جمع ہوں اور باہم ایک دوسرے سے ملیں تو ان کی بیگانگی دور ہوگی، ان میں آپس میں محبت اور الفت پیدا ہوگی، اس طرح وہ ایک دوسرے کی امداد کے لئے ہر وقت تیار رہیں گے، قرآنِ پاک نے نماز کے اس وصف اور اثر کی طرف خود اشارہ کیا ہے۔
صفحہ 114
﴿وَاتَّقُوهُ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا﴾ (الروم: 31-32)خدا سے ڈرتے رہو اور نماز کھڑی رکھو اور مشرکوں میں سے نہ بنو، ان میں سے جنہوں نے اپنے دین میں پھوٹ ڈالی اور بہت سے جتھے ہو گئے۔
اس سے معلوم ہوا کہ نماز کا اجتماع مسلمانوں کو جتھہ بندی اور فرقہ آرائی سے بھی روک سکتا ہے کہ جب ایک دوسرے سے ملاقاتیں ہوتی رہیں گی، تو غلط فہمیوں کا موقع کم ملے گا۔
12۔ غمخواری:بلکہ اس سے آگے بڑھ کر نماز مسلمانوں میں باہمی ہمدردی اور غمخواری کا ذریعہ بھی بنتی ہے، جب امیر و غریب سب ایک جگہ ہوں گے اور امراء اپنی آنکھ سے غریبوں کو دیکھیں گے تو ان کی فیاضی کو تحریک ہوگی، ایک دوسرے کے دکھ درد کی خبر ہوگی، اور اس کی تلافی کی صورت پیدا ہوگی۔
ابتدائے اسلام میں اصحابِ صفہ کا ایک گروہ تھا جو سب سے زیادہ مستحقِ اعانت تھا، یہ گروہ مسجد میں رہتا تھا، صحابہ نماز کو جاتے تو ان کو دیکھ کر خود بخود ہمدردی پیدا ہوتی تھی، چنانچہ اکثر صحابہ کھجور کے خوشے لے جا کر مسجد میں لٹکا دیتے تھے، جس پر یہ گروہ گزر اوقات کرتا تھا، اکثر صحابہ اور خود آنحضرت ﷺ نماز سے فارغ ہو کر ان لوگوں کو ساتھ لاتے اور اپنے گھروں میں کھانا کھلاتے تھے، اب بھی مساجد خیرات و صدقات کا ذریعہ ہیں، یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں نماز اور زکوٰۃ کا ذکر ایک ساتھ کیا گیا ہے۔
﴿وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ﴾ (البقرہ: 3)اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے دیا ہے اس میں سے صرف کرتے ہیں۔(ترمیم شدہ حوالہ: اصل کتاب میں البقرہ: 1 لکھا ہے جو کہ غلط ہے، صحیح حوالہ آیت 3 ہے)
13۔ اجتماعیت:اجتماعیت چونکہ ایک فطری چیز ہے، اس لئے تمام قوموں نے اس کے لئے مختلف اوقات اور تہوار مقرر کئے ہیں، جن قوموں کو مذہبی قیود سے آزاد کہا جاتا ہے، ان میں بھی اس اجتماعیت کی نمائش کلبوں، کانفرنسوں، اینیورسریوں اور دوسرے جلسوں، جلوسوں اور مظاہروں سے کی جاتی ہے، لیکن یہ اجتماعیت جہاں فائدہ پہنچاتی ہے وہاں اپنے مضر اثرات بھی ضرور پیش کرتی ہے، اجتماعیت کام چاہتی ہے، اگر مفید کام پیشِ نظر نہ ہو تو وہی رنگ رلیاں، رقص و سرود، شراب خواری، قمار بازی، چوری، بد نظری، بدکاری، رشک و حسد بلکہ قتل و غارت تک پہنچ جاتی ہے، میلے ٹھیلے، عرس، ہولی، تہوار جن کی مثالیں عرب مشرکوں میں بھی ملتی تھیں اور اب بھی ملتی ہیں، "قبور پر ناجائز اجتماع" غرض تمام اجتماعی بدعات بدترین گناہوں اور فسادوں کا مرکز بن جاتے ہیں، اب اگر ان خطرناک رسوم کا صرف انسداد ہی کیا جاتا تو ان کی جگہ اسلام کے سامنے کوئی دوسری چیز پیش نہ کرتا تو محض یہ سلبی علاج کافی نہ ہوتا، ضرورت تھی کہ وہ اپنے قومی اجتماع کے لئے کوئی مشغلہ مقرر کرے جس سے قلبِ انسانی اپنی فطری پیاس کو بجھا سکے اور اجتماعیت پیدا ہو کر بدی کی بجائے نیکی کی طرف بہے چنانچہ...
صفحہ 115
اسلام نے اسی لئے روزانہ جماعت کی عام نمازیں، ہفتہ میں جمعہ کی نماز اور سال میں دو دفعہ عیدین کی نمازیں مقرر کیں، کہ اجتماعیت کا فطری تقاضا بھی پورا ہو اور مشرکانہ بدیوں اور اخلاقی برائیوں سے بھی احتراز ہو، کہ اس اجتماع کی بنیادی دعوت خیر پر رکھی گئی ہے، حج کے عالمگیر مذہبی اجتماع میں دوسرے اجتماعی اور اقتصادی مقاصد کے برقرار رکھنے کے ساتھ اس کے مشاغل بھی خدا کے ذکر اور اس کی بارگاہ میں توبہ وانابت کو قرار دیا، اس طرح اسلام کا ہر اجتماع پاکیزگی خیال اور اخلاصِ عمل کی بنیاد پر قائم ہے۔
14۔ کاموں کا تنوع:انسان کی فطرت کچھ ایسی بنی ہے کہ وہ ہر رنگی کے باوجود تفنن اور تجدد کا طالب ہے، لیکن اگر انسان کے دل و دماغ، اعضاء و جوارح ہر وقت اسی ایک کام میں مصروف رہیں تو سکون واطمینان، عیش و راحت اور دلچسپی کی لذت، جو ہر عمل کا آخری نتیجہ ہے، مفقود ہو جائے، مفید سے مفید کام سے بھی دنیا چیخ اٹھے، اسی لئے قدرت نے اوقات کی تقسیم ایسے مناسب طریقے پر کی ہے جس میں انسان کو حرکت و سکون دونوں کا یکساں موقع ملتا رہتا ہے، رات اور دن کا اختلاف اسی بنا پر آیاتِ الہی میں شمار کیا گیا ہے کہ اس تغیر و تبدل سے نظامِ عالم میں نیرنگی پیدا ہوتی ہے، اور اس تقسیم سے انسانوں میں اپنے ہر کام کی لذت قائم رہتی ہے، نماز ایک ایسا فریضہ ہے جو نہ تو ہر لمحہ انسان پر فرض ہے اور نہ سال میں ایک دفعہ یا عمر بھر میں صرف ایک دفعہ فرض ہے، بلکہ ہر روز پانچ دفعہ اس کو ادا کرنا پڑتا ہے، صبح سے کام شروع کیا تو ظہر پر آ کر توڑ دیا، پھر مشغولیت ہوئی اور عصر پر پہنچ کر ختم ہوئی، پھر جو سلسلہ چھڑا اس کا مغرب پر خاتمہ ہوا، بعد ازیں خانگی مصروفیت شروع ہوئی اور عشاء پر جا کر منتہی ہوئی، اب نیند آ گئی اور صبح تک بے خبری رہی، اٹھے تو دعاؤں کے افتتاح سے پھر اپنا کاروبار شروع کیا، وہ دولت مند جو جسمانی یا دماغی محنت و مشقت اور مزدوری سے اپنی روزی نہیں حاصل کرتے، وہ اس روحانی "انٹرول" (وقفہ) کے لطف سے آگاہ نہیں، یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان چند گھنٹوں تک ایک ہی قسم کی محنت کے بوجھ سے جو دبا جاتا تھا، وہ چند منٹ میں ہاتھ منہ دھو کر دعا و تسبیح اور نشست و برخاست کے ذریعہ اس سے ہلکا ہو گیا اور پھر سے اس نے اپنے کام کے لئے نئی قوت پیدا کر لی۔
15۔ تربیت:انسان کی عملی کامیابی استقلال اور مواظبت پر موقوف ہے کہ جس کام کو اس نے شروع کیا پھر اس پر عمر بھر قائم رہے، اسی کا نام عادات و اخلاق کی استواری اور کیرکٹر کی مضبوطی ہے، جس کام میں اس خلق کی استواری اور کیرکٹر کی مضبوطی کی تربیت ہو، وہ ضرور ہے کہ روزانہ ہو بلکہ دن میں کئی دفعہ ہو۔ نماز ایک ایسا فریضہ ہے جس کے بارے میں عہدہ برآ ہونے کے لئے انسان میں استقلال، مواظبت اور مداومت شرط ہے، اس لئے انسان میں اس اخلاقی خوبی کے پیدا کرنے کا ذریعہ نماز سے بڑھ کر کوئی اور چیز نہیں ہو سکتی، اس لئے قرآنِ پاک نے صحابہ کی مدح میں فرمایا:﴿الَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ دَائِمُونَ﴾ (المعارج: 23)وہ جو اپنی نماز مداومت کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔(ترمیم شدہ حوالہ: اصل کتاب میں المعارج: 1 لکھا ہے جو کہ غلط ہے، صحیح حوالہ آیت 23 ہے)
صفحہ 116
آنحضرت ﷺ نے فرمایا:﴿أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ﴾ (ابوداؤد: باب مَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنَ الْقَصْدِ فِي الصَّلَاةِ)محبوب ترین عمل خدا کے نزدیک وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے گو وہ کم ہو۔
16۔ نظمِ جماعت:کسی قوم کی زندگی اس کے نظمِ جماعت کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی، یہی گرہ جب کھل جاتی ہے تو قوم کا شیرازہ منتشر و پراگندہ ہو جاتا ہے، اسلام میں نماز باجماعت مسلمانوں کی زندگی کی عملی مثال ہے، محمد رسول اللہ ﷺ نے اسی عملی مثال کو عربوں کے سامنے پیش کر کے ان کی زندگی کا خاکہ کھینچا اور بتایا کہ مسلمانوں کا یہ صف بہ صف کھڑا ہونا، ایک دوسرے سے شانہ بہ شانہ ملانا، اور یکساں حرکت و جنبش کرنا، ان کی قومی زندگی کی مستحکم و مضبوط دیوار کا مسالہ ہے، جس طرح نماز کی درستی صف اور نظامِ جماعت کی درستی پر موقوف ہے، اسی طرح پوری قوم کی زندگی اسی باہمی تعاون، تضامن، مشارکت، میل جول اور باہمی ہمدردی پر موقوف ہے، اسی لئے آنحضرت ﷺ صفوف کی درستی پر بہت زور دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ "جب تک تم خوب مل کر کھڑے نہ ہو گے تمہارے دل بھی آپس میں نہ ملیں گے"۔ (1)
17۔ مساوات:یہی جماعت کی نماز مسلمانوں میں برادرانہ مساوات اور انسانی برابری کی درسگاہ ہے، یہاں امیر و غریب، کالے گورے، رومی حبشی، عرب و عجم کی کوئی تمیز نہیں ہے، سب ایک ساتھ ایک درجہ اور ایک صف میں کھڑے ہو کر خدا کے آگے سرنگوں ہوتے ہیں، جماعت کی امامت کے لئے حسب و نسب و خاندان، رنگ روپ، قومیت اور جنسیت، عہدہ اور منصب کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ علم و دانش، فضل و کمال، تقویٰ و طہارت کی ضرورت ہوتی ہے، یہاں شاہ و گدا اور شریف و رذیل کی تفریق نہیں، سب ہی ایک زمین پر ایک امام کے پیچھے ایک صف میں دوش بدوش کھڑے ہوتے ہیں اور کوئی کسی کو اپنی جگہ سے نہیں ہٹا سکتا، اور اس برادرانہ مساوات اور انسانی برادری کی مشق دن میں پانچ دفعہ ہوتی ہے، کیا مسلمانوں کی معاشرتی جمہوریت کی یہ درسگاہ کہیں اور بھی قائم ہے؟
18۔ اطاعت:جماعت کی سلامتی بغیر ایک مفترض الطاعہ امام کے ناممکن ہے، جس کے اشارہ پر تمام قوم حرکت کرے، نماز باجماعت مسلمانوں کی اس زندگی کا رمز ہے کہ جس طرح ان کی اس عبادت کا ایک امام ہے، جس کے اشارہ پر وہ حرکت کرتے ہیں، اسی طرح قوم کی پوری زندگی کا بھی ایک امام ہونا چاہئے، جس کی اللہ اکبر کی آواز قوم کے کاروان کے لئے بانگِ درا اور صدائے جرس ثابت ہو۔اطاعتِ امام کے لئے ایک طرف تو قوم میں فرمانبرداری کی قابلیت موجود ہونی چاہئے، جس کی تعلیم مقتدیوں کو...
(1) صحیح بخاری کتاب الصلوۃ باب تسویة الصفوف عند الاقامة و بعدها و ابوداؤد کتاب الصلوۃ باب تسوية الصفوف۔
صفحہ 117
نماز میں ہوتی ہے، دوسری طرف امام کو اخلاقِ صالحہ کی ایک ایسی مثال پیش کرنی چاہئے جو ہمیشہ لوگوں کے پیشِ نظر رہے، نماز ان دونوں چیزوں کا مجموعہ ہے، وہ ایک دائمی حرکت ہے، جو قوم کے اعضاء و جوارح کو ہر وقت اطاعت گزاری کے لئے تیار رکھتی ہے، اس کے ساتھ نمازِ پنج گانہ اور جمعہ وعیدین کی امامت خاص امام کا حق ہے، اس لئے ہر وقت قوم کو اس کے اعمال کے احتساب، اس پر نکتہ چینی، اس سے اثر پذیری کا موقع ملتا ہے، نماز کے اوقات خاص طور پر ایسے موزوں ہیں جو ایک عیاش اور راحت طلب شخص کا پردہ فاش کر دیتے ہیں، ایک ایسا شخص جو شب بھر عیش و عشرت میں مصروف ہو نمازِ صبح میں شریک نہیں ہو سکتا، ایک راحت طلب آدمی ظہر کے وقت دھوپ کی شدت برداشت کر کے شریکِ جماعت ہونا پسند نہیں کر سکتا، چنانچہ خلافتِ راشدہ کے بعد جب بنو امیہ کا زمانہ آیا تو صحابہ کو خاص طور پر اس کا احساس ہوا اور بے خوف نگاہوں نے ان پر نکتہ چینیاں کیں، احادیث میں بھی خاص طور پر اس زمانہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، جس میں آئمہ وقت پر نماز ادا کرنے میں غفلت کریں گے۔
19۔ معیارِ فضیلت:نماز کی امامت کے لئے چونکہ سوائے علم و فضل اور تقویٰ کے کوئی اور قید نہیں ہے، اس لئے امامت کے رتبہ اور درجہ کو حاصل کرنا ہر مسلمان کے لئے ہر وقت ممکن ہے، آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جماعت میں جو سب سے زیادہ صاحبِ علم (اقراء) ہے وہ امام بننے کا سب سے زیادہ مستحق ہے، ایک دفعہ ایک مقام سے کچھ لوگ مسلمان ہونے کے لئے آئے، دریافت کرنے سے معلوم ہوا کہ ان میں سے جو صاحب سب سے زیادہ کمسن ہیں انہیں قرآن زیادہ یاد ہے، چنانچہ آپ نے اسی کم سن صحابی کو ان کا امام مقرر فرمایا، اس سے مقصود یہ ہے کہ لوگوں میں اس کے ذریعہ سے علمی و عملی فضائل کے حاصل کرنے کی تشویق و ترغیب بھی پیدا ہوتی ہے۔
20۔ روزانہ کی مجلسِ عمومی:آنحضرت ﷺ اور خلفائے راشدین کے زمانہ میں یہ قاعدہ تھا کہ جب کوئی اہم واقعہ پیش آتا، یا کوئی سیاسی و قومی مشکل پیدا ہوتی، یا کوئی مذہبی بات سنانی ہوتی، تو مسلمانوں میں منادی کرائی جاتی تھی کہ "الصلوٰۃ جامعہ" (نمازِ جمع کرنے والی ہے) سب لوگ وقت پر جمع ہو جاتے، اور اس اہم امر سے اطلاع پاتے یا اس کے متعلق اپنے مشورے عرض کرتے، یہ گویا مسلمانوں کے مذہبی، اجتماعی، سیاسی مسائل کے مخلصانہ حل کا بھی ذریعہ تھا، جس کے لئے نماز سے ہر مسلمان کا کسل وسستی کے بہانہ بغیر جمع ہونا ضروری تھا۔ان تمام امور کو سامنے رکھنے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ نمازِ اسلام کا اولین شعار اور اس کے مذہبی و اجتماعی، تمدنی و سیاسی و اخلاقی مقاصد کی آئینہ دار ہے، اسی کی شیرازہ بندی سے مسلمانوں کا شیرازہ بندھا تھا، اور اسی کی گرہ کھل جانے سے اس کی نظم و جماعت کی ہر گرہ کھل گئی ہے، مسجد مسلمانوں کے ہر قومی اجتماع کا مرکز، اور نماز اس مرکزی اجتماع کی ضروری رسم تھی، جس طرح آج ہر جلسہ کا افتتاح اس کے نصب العین کے اظہار و تعین کے لئے صدارتی خطبات سے ہوتا ہے، اسی طرح مسلمان جب زندہ تھے ان کے ہر اجتماع کا افتتاح نماز سے ہوتا تھا، ان کی ہر چیز اس کے تابع اور اسی کے زیرِ…
سیرت النبیؐ — حصہ پنجم — صفحہ 118 تا 122
صفحہ 118
نظر ہوتی تھی، ان کی نماز کا گھر ہی ان کا دارالامارہ تھا، وہی دارالشوریٰ تھا، وہی بیت المال تھا، وہی صیغہ جنگ کا دفتر تھا، وہی درسگاہ اور وہی معبد تھا۔
جماعت کی ہر ترقی کی بنیاد افراد کے باہمی نظم وارتباط پر ہے، اور جماعت کے فائدہ کے لئے افراد کا اپنے ہر آرام وعیش اور فائدہ کو قربان کر دینا، اور اختلاف باہمی کو تہہ کر کے صرف ایک مرکز پر جمع ہو کر جماعتی ہستی کی وحدت میں فنا ہو جانا، اس کے حصول کی لازمی شرط ہے، اسی کی خاطر کسی ایک کو امام و قائد و سرلشکر مان کر اس کی اطاعت وفرمانبرداری کا عہد کر لینا ضروری ہے، اسلام کی نماز انہیں رموز و اسرار کا گنجینہ ہے، یہ مسلمانوں کا لظم و جماعت‘ اطاعت پذیری و فرمانبرداری اور وحدت قوت کا سبق دن میں پانچ بار سکھاتی ہے، اسی لئے اس کے بغیر مسلمان ‘ مسلمان نہیں، اور نہ اس کی کوئی اجتماعی وحدت ہے، نہ انقیاد و امامت ہے، نہ زندگی ہے، اور نہ زندگی کا نصب العین ہے، اسی بناء پر داعیِ اسلام ﷺ نے یہ فرما دیا۔
﴿ الْعَهْدُ الَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلَاةُ فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ ﴾ (احمد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)ہمارے اور ان کے درمیان جو معاہدہ ہے وہ نماز ہے، تو جس نے اس کو چھوڑا اس نے کفر کا کام کیا۔
کہ نماز کو چھوڑ کر مسلمان صرف قالب بے جان، شرابِ بے نشہ اور گلِ بے رنگ و بو ہو کر رہ جاتا ہے، اور رفتہ رفتہ اسلامی جماعت کا ایک ایک شعار اور ایک ایک امتیازی خصوصیت اس سے رخصت ہو جاتی ہے، اسی لئے نماز اسلام کا اولین شعار ہے، اور اسی کی زندگی سے اسلام کی زندگی ہے۔
عرب کی روحانی کایا پلٹ:
وہ عرب جو خدا کی عبادت سے بیگانہ تھا، وہ جس کی پیشانی خدا کے سامنے کبھی جھکی نہ تھی، وہ جس کا دل خدا کی پرستش سے لذت آشنا نہ تھا، وہ جس کی زبان خدا کی تسبیح و تحمید کے ذائقہ سے واقف نہ تھی، وہ جس کی آنکھوں نے شب بیداری کا اضطراب انگیز منظر نہیں دیکھا تھا، وہ جس کی روح ربانی تسکین و تسلی کے احساس سے خالی تھی، محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیم سے دفعتاً کیا ہو گیا؟ اب عبادتِ الٰہی اس کے ہر کام کا مقصد بن گئی۔ اب اس کو اپنے ہر کام میں اخلاص کے سوا اور کوئی چیز مطلوب نہ تھی۔ اس کی پیشانی خدا کے سامنے جھک کر پھر اٹھنا نہیں چاہتی تھی، اس کے دل کو اس لذت کے سوا دنیا کی کوئی لذت پسند نہیں آتی تھی۔ اس کی زبان کو اس مزہ کے سوا اور کوئی مزہ اچھا نہ معلوم ہوتا تھا۔ اس کی آنکھیں اس منظر کے سوا اور کسی منظر کی طالب نہ تھیں۔ اس کی روح یادِ الٰہی کی تڑپ اور ذکرِ الٰہی کی بے قراری کے سوا کسی اور چیز سے تسلی نہ پاتی تھی۔
دل را کہ مردہ بود حیاتِ نو رسید
تابوئے از نسیم میش در مشام رفت
وہ عرب جن کی حالت یہ تھی کہ﴿ وَلَا يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلَّا قَلِيلًا ﴾ (سورۃ النساء: 142)اور جو خدا کو بہت کم یاد کرتے ہیں۔
دعوتِ حق اور فیضِ نبوت کے اثر وبرکت نے ان کی یہ شان نمایاں کی کہ دنیا کی کاروباری مشغولیتیں بھی ان کو
صفحہ 119
ذکرِ الٰہی سے غافل نہ کرسکیں۔﴿ رِجَالٌ لَّا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَن ذِكْرِ اللَّهِ ﴾ (سورۃ النور: 37)ایسے لوگ جن کو کاروبار اور خرید و فروخت کا شغل خدا کی یاد سے غافل نہیں کرتا۔
اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے غرض ہر حال میں ان کے اندر خدا کی یاد کے لئے بے قراری تھی۔﴿ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ ﴾ (سورۃ آل عمران: 191)جو خدا کو اٹھتے بیٹھتے اور لیٹے یاد کرتے ہیں۔
راتوں کو جب غافل دنیا نیند کے خمار میں ہوتی وہ بستروں سے اٹھ کر خدا کے سامنے سربسجود اور راز و نیاز میں مصروف ہوتے تھے۔﴿ تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا ﴾ (سورۃ السجدہ: 16)جن کے پہلو (رات کو) خواب گاہوں سے علیحدہ رہتے ہیں، وہ خوف اور امید کے ساتھ اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں۔
وہ جن کا یہ حال تھا کہ﴿ وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ارْكَعُوا لَا يَرْكَعُونَ ﴾ (سورۃ المرسلات: 48)اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ خدا کے آگے جھکو تو نہیں جھکتے۔
اب ان کی یہ صورت ہوگئی کہ﴿ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا ﴾ (سورۃ الفتح: 29)تم ان کو دیکھو گے کہ رکوع میں جھکے ہوئے اور سجدہ میں پڑے ہوئے خدا کے فضل اور خوشنودی کو تلاش کرتے ہیں۔
وہ جن کے دلوں کی یہ کیفیت تھی کہ﴿ وَإِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَحْدَهُ اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ ﴾ (سورۃ الزمر: 45)اور جب تنہا خدا کا نام لیا جاتا ہے تو ان کے دل جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے مکدر ہو جاتے ہیں۔
آفتابِ نبوت کے پرتو نے ان مکدر آیتوں میں خشیتِ الٰہی کا جوہر پیدا کر دیا۔﴿ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ ﴾ (سورۃ الانفال: 2)وہ لوگ کہ جب خدا کا نام لیا جائے تو ان کے دل دہل جاتے ہیں۔
یہ خود قرآن پاک کی شہادتیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے عمل اور تعلیم نے عرب کی روحانی کائنات میں کتنا عظیم الشان انقلاب پیدا کر دیا تھا۔ وہ تمام لوگ جو حلقہ بگوشِ اسلام ہو چکے تھے خواہ وہ کھیتی کرتے ہوں یا تجارت یا محنت مزدوری مگر ان میں سے کوئی چیز ان کو خدا کی یاد سے غافل نہیں کرتی تھی۔ قتادہؒ کہتے ہیں کہ یہ لوگ (صحابہؓ) خرید و فروخت اور تجارت کرتے تھے لیکن جب خدا کا کوئی معاملہ پیش آتا تھا تو یہ شغل و عمل ان کو یادِ الٰہی سے غافل نہیں کرتا تھا بلکہ وہ اس کو پوری طرح ادا کرتے تھے۔ (1) حضرت ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ وہ بازار میں تھے، نماز کی
صَحِيحُ البُخَارِيِّ بَابُ التِّجَارَةِ فِي البَزِّ مُرْسَلًا۔
صفحہ 120
تکبیر ہوئی دیکھا کہ صحابہؓ نے فوراً دکانیں بند کر دیں اور مسجد میں داخل ہوگئے۔ (1)صحابہؓ تمام تر راتیں خدا کی یاد میں جاگ جاگ کر بسر کرتے تھے یہاں تک کہ مکہ معظمہ کی غیر مطمئن راتوں میں بھی وہ عبادتِ الٰہی میں مصروف رہتے تھے۔ خدا نے گواہی دی۔﴿ إِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ أَنَّكَ تَقُومُ أَدْنَىٰ مِن ثُلُثَيِ اللَّيْلِ وَنِصْفَهُ وَثُلُثَهُ وَطَائِفَةٌ مِّنَ الَّذِينَ مَعَكَ ﴾ (سورۃ المزمل: 20)بے شک تیرا رب جانتا ہے کہ تو دو تہائی رات کے قریب اور آدھی رات اور تہائی رات کے بعد اٹھتا ہے اور تیرے ساتھ ایک جماعت بھی اٹھ کر نماز پڑھتی ہے۔
اس زمانہ میں صحابہؓ کو راتوں کے سوا خدا کے یاد کرنے کا موقع کہاں ملتا تھا۔ جلوۂ دیدار کے مشتاق دن بھر کے انتظار کے بعد رات کو کہیں کسی مخفی گوشہ میں جمع ہوتے تھے۔ ذوق و شوق سے اپنی پیشانی خدا کے سامنے زمین پر رکھ دیتے تھے۔ دیر تک سجدہ میں پڑے رہتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اس والہانہ اندازِ عبادت کو دیکھتے پھرتے تھے۔ قرآن پاک نے اس نظارہ کی کیفیت اپنے الفاظ میں اس طرح ادا کی ہے۔﴿ وَتَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ ۞ الَّذِي يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ ۞ وَتَقَلُّبَكَ فِي السَّاجِدِينَ ﴾ (سورۃ الشعراء: 217-219)اور اس غالب رحم والے پر بھروسہ کر جو رات کو جب تو نماز کے لئے اٹھتا ہے اور سجدہ میں پڑے رہنے والوں کے درمیان آنا جانا تیرا دیکھتا ہے۔
مدینہ منورہ میں آ کر سب سے پہلا فقرہ جو آپؐ کی زبان مبارک سے نکلا وہ یہ تھا۔﴿ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَأَفْشُوا السَّلَامَ، وَصَلُّوا بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ ﴾ (ترمذی)اے لوگو! غریبوں کو کھانا کھلاؤ اور سلام کو پھیلاؤ اور نماز پڑھو جب لوگ سوتے ہوں۔
بعض صحابہؓ نے اس حکم پر اس شدت سے عمل کیا کہ انہوں نے راتوں کا سونا چھوڑ دیا۔ آخر آنحضرت ﷺ کو ان لوگوں کو اعتدال اور میانہ روی کا حکم دینا پڑا۔ چنانچہ حضرت عثمان بن مظعونؓ رات بھر نماز میں مصروف رہتے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ "عثمان! تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے نماز بھی پڑھو اور سوؤ بھی"۔ (2) حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ صحابہؓ راتوں کو اٹھ اٹھ کر نماز پڑھتے تھے اور بہت کم سوتے تھے۔ (3) حضرت ابوہریرہؓ نے رات کے تین حصے کر دیئے تھے ایک میں خود نماز پڑھتے تھے دوسرے میں ان کی بیوی اور تیسرے میں ان کا غلام اور باری باری سے ایک دوسرے کو جگاتا تھا۔ (4) حضرت عبداللہ بن عمروؓ ساری رات نماز پڑھا کرتے تھے۔ آنحضرت ﷺ کو معلوم ہوا تو ان کو جا کر نصیحت فرمائی۔ (5) حضرت ابودرداءؓ صحابی کا بھی یہی حال تھا کہ وہ رات بھر نماز میں
فتح الباری جلد 4 صفحہ 253 بحوالہ عبدالرزاق۔
أَبُو دَاوُدَ بَابُ القَصْدِ فِي الصَّلَاةِ۔
أَبُو دَاوُدَ كِتَابُ الصَّلَاةِ فِي وَقْتِ قِيَامِ النَّبِيِّ ﷺ مِنَ اللَّيْلِ۔
صَحِيحُ البُخَارِيِّ كِتَابُ الأَطْعِمَةِ بَابُ الخَشَفِ۔
صَحِيحُ البُخَارِيِّ كِتَابُ الصَّوْمِ۔
صفحہ 121
گزار دیتے تھے۔ حضرت سلمان فارسیؓ ان کے اسلامی بھائی تھے ایک شب وہ ان کے ہاں جاکر مہمان ہوئے۔ جب رات کو حضرت ابودرداءؓ عبادت کے لئے اٹھنے لگے تو حضرت سلمانؓ نے منع کیا۔ پچھلے پہر جب سناٹا چھایا ہوا تھا حضرت سلمانؓ نے ان کو جگایا کہ اب نماز کا وقت ہے۔ (1) کوئی صحابی ایسا نہ تھا جس نے اسلام لانے کے بعد پھر ایک وقت کی بھی نماز عمداً قضا کی ہو یہاں تک کہ لڑائی اور خطرہ کی حالت میں بھی وہ اس فرض سے غافل نہیں رہتے تھے۔ ایک صحابی کو آنحضرت ﷺ نے ایک پرخطر کام کے لئے کہیں بھیجا تھا۔ جب وہ منزل مقصود کے قریب پہنچے تو عصر کا وقت ہو چکا تھا۔ ان کو خوف تھا کہ اگر کہیں ٹھہر کر عصر پڑھنے کا اہتمام کیا جائے گا تو وقت نکل جائے گا اور اگر عصر میں تاخیر کی جائے تو حکمِ الٰہی کی تعمیل میں دیر ہو جائے گی اس مشکل کا حل انہوں نے اس طرح کیا کہ وہ اشاروں میں نماز پڑھتے جاتے اور چلتے جاتے تھے۔ (2) سخت سے سخت مجبوری کی حالت میں بھی نماز ان سے ترک نہیں ہوتی تھی۔ چنانچہ بیماری کی حالت میں وہ دوسروں کا سہارا لے کر مسجد میں حاضر ہوتے تھے۔ (3) پھر وہ جو خضوع و خشوع و محویت اور استغراق کے ساتھ نماز ادا کرتے تھے اس کا نظارہ بڑا پر اثر ہوتا تھا۔ چنانچہ حضرت ابوبکرؓ جب نماز پڑھنے کھڑے ہوتے تو ان پر اس شدت سے رقت طاری ہوتی کہ کافر عورتوں اور بچوں تک پر بھی اس کا اثر ہوتا تھا (4) حضرت عمرؓ نماز میں اس زور سے روتے تھے کہ ان کے رونے کی آواز پچھلی صف تک جاتی تھی (5) حضرت تمیم داریؓ ایک رات تہجد کے لئے کھڑے ہوئے تو صرف ایک آیت کی تلاوت میں صبح کر دی۔ بار بار اس کو دہراتے تھے اور مزے لیتے تھے۔ (6)
ع: شب شود صبح و ہماں محو تماشا باشم
حضرت انسؓ قیام اور سجدہ میں اتنی دیر لگاتے تھے کہ لوگ سمجھتے کہ کچھ بھول گئے ہیں۔ (7) حضرت عبداللہ بن زبیرؓ جب نماز میں کھڑے ہوتے تھے تو کئی کئی سورتیں پڑھ ڈالتے تھے اور اس طرح کھڑے ہوتے تھے کہ معلوم ہوتا تھا کہ کوئی ستون کھڑا ہے اور جب سجدہ میں جاتے تو اتنی دیر تک سجدہ کرتے تھے کہ حرم محترم کے کبوتر ایک سطح جامد سمجھ کر ان کی پیٹھ پر آ کر بیٹھ جاتے تھے۔ (8)
ایک رات میدانِ جنگ میں ایک پہاڑی پر دو صحابی پہرہ دینے کے لئے متعین ہوتے ہیں۔ ایک صاحب سو جاتے ہیں اور دوسرے نماز کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دشمن ان کو تاک کر تیر مارتا ہے جو بدن میں ترازو ہو جاتا
صَحِيحُ البُخَارِيِّ كِتَابُ الصَّوْمِ۔
أَبُو دَاوُدَ بَابُ صَلَاةِ الطَّالِبِ۔
نَسَائِي كِتَابُ الإِمَامَةِ بَابُ المُحَافَظَةِ عَلَى الصَّلَاةِ۔
صَحِيحُ البُخَارِيِّ كِتَابُ الصَّلَاةِ بَابُ إِذَا بَكَى الإِمَامُ فِي الصَّلَاةِ۔
صَحِيحُ البُخَارِيِّ كِتَابُ الهِجْرَةِ وَكِتَابُ الصَّلَاةِ بَابُ المَسْجِدِ يَكُونُ فِي الطَّرِيقِ۔
اسد الغابہ تذکرہ حضرت تمیمؓ داری۔
صَحِيحُ البُخَارِيِّ بَابُ المَكْثِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ۔
حالات عبد اللہ بن زبیرؓ اصابہ واسد الغابہ وغیرہ۔
صفحہ 122
کپڑے خون سے تر بتر ہو جاتے ہیں مگر نماز کا استغراق اسی طرح قائم رہتا ہے۔ نماز تمام کر کے اپنے رفیق کو بیدار کرتے اور واقعہ سناتے ہیں۔ ساتھی کہتے ہیں کہ تم نے اس وقت مجھے کیوں نہ جگایا۔ جواب ملتا ہے میں نے ایک پیاری سورہ شروع کی تھی پسند نہ آیا کہ اس کو ختم کئے بغیر نماز توڑ دوں۔ (1)
اس سے بھی زیادہ پر اثر منظر یہ ہے کہ دشمنوں کی فوجیں مقابل کھڑی ہیں تیروں کا مینہ برس رہا ہے نیزوں اور تلواروں کی بجلیاں ہر طرف کوند رہی ہیں، سرو گردن دست و بازو کٹ کٹ کر گر رہے ہیں کہ دفعتاً نماز کا وقت آ جاتا ہے فوراً جنگ کی صفیں نماز کی صفیں بن جاتی ہیں اور ایک اللہ اکبر کی آواز کے ساتھ موت و حیات سے بے پرواہ ہو کر گردنیں جھکنے اور اٹھنے لگتی ہیں۔
نور کا تڑکا ہے اسلام کے دائرہ کا مرکز فاروقِ اعظمؓ امامِ نماز ہے۔ پیچھے صحابہ کی صفیں قائم ہیں۔ دفعتاً ایک شقی خنجر بکف آگے بڑھتا ہے اور خلیفہ پر حملہ آور ہو کر شکمِ مبارک کو چاک چاک کر دیتا ہے۔ آپ غش کھا کر گر پڑتے ہیں خون کا فوارہ جاری ہو جاتا ہے یہ سب کچھ ہو رہا ہے مگر نماز کی صفیں اپنی جگہ پر قائم ہیں۔ حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نماز پڑھانے کو آگے بڑھتے ہیں۔ پہلے صبح کا دوگانہ ادا ہوتا ہے تب خلیفہ وقت کو اٹھایا جاتا ہے۔ (2)
حضرت عمرؓ کو جس صبح کی نماز میں زخم لگا اس کے بعد کی صبح کو لوگوں نے ان کو نماز کے لئے جگایا تو بولے ہاں جو شخص نماز چھوڑ دے اسلام میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔ چنانچہ اسی حالت میں کہ زخم سے خون جاری تھا آپ نے نماز پڑھی۔ (3)
حضرت علی مرتضیٰؓ صبح کی نماز کے لئے مسجد میں داخل ہوتے ہیں یا صبح کی نماز میں ہوتے ہیں (4) کہ ابن ملجم کی تلوار ان کو گھائل کر دیتی ہے اور کچھ دیر کے بعد وہ داعیِ اجل کو لبیک کہتے ہیں۔ امام مظلوم حسینؓ بن علیؓ کربلا کے میدان میں رونق افروز ہوتے ہیں۔ عزیزوں اور دوستوں کی لاشیں میدانِ جنگ میں نظر کے سامنے پڑی ہوتی ہیں ہزاروں اشقیاء آپ کو نرغہ میں لئے ہوتے ہیں اتنے میں ظہر کا وقت آ جاتا ہے۔ آپ دشمنوں سے اجازت چاہتے ہیں کہ وہ اتنا موقع دیں کہ آپ ظہر کی نماز ادا کر سکیں۔ (5)
نماز میں جس خضوع اور خشوع کا حکم ہے صحابہ کرامؓ نے اس کے یہ نمونے پیش کئے کہ عزیز سے عزیز چیز بھی اگر ان کے اس روحانی ذوق و شوق میں خلل انداز ہوئی تو انہوں نے اس کو اس ذوق پر نثار کر دیا۔ حضرت ابوطلحہؓ انصاری اپنے باغ میں نماز پڑھ رہے تھے ایک خوشنما چڑیا نے سامنے آ کر چہچہانا شروع کیا۔ حضرت ابوطلحہؓ دیر تک ادھر ادھر دیکھتے رہے پھر جب نماز کا خیال آیا تو رکعت یاد نہ رہی۔ دل میں کہا اس باغ نے یہ فتنہ برپا کیا۔ یہ کہہ کر رسول اللہ ﷺ کی
حواشی:
ابوداؤد کتاب الطہارۃ، باب الوضوء من الدم۔
صحیح بخاری واقعہ شہادت عمرؓ۔
موطا امام مالک کتاب الصلوۃ باب العمل فیمن غلب علیہ الدم۔
الریاض النضرۃ للمحب الطبری جلد 2 صفحہ 242 مصر۔
تاریخ طبری کیمرص 734 ج 7 واقعات 61ھ۔
آپ کی فراہم کردہ تصاویر کا متن درج ذیل ہے، جس میں تمام ہدایات (مشرقی اعداد کو مغربی میں تبدیل کرنا اور عربی متن پر اعراب لگانا) کا مکمل خیال رکھا گیا ہے۔
صفحہ 123 (تصویر نمبر 4)
سیرتُ النبی ﷺ | 123 | حصہ پنجم
خدمت میں آئے اور واقعہ بیان کیا اور کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ یہ باغ راہِ خدا میں نذر ہے۔اسی طرح ایک اور صحابی اپنے باغ میں نماز میں مشغول تھے۔ باغ اس وقت نہایت سرسبز و شاداب اور پھلوں سے لدا ہوا تھا، پھلوں کی طرف نظر اٹھ گئی تو نماز یاد نہ رہی۔ جب اس کا خیال آیا تو دل میں نادم ہوئے کہ دنیا کے مال و دولت نے اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ یہ حضرت عثمانؓ کی خلافت کا دور تھا، ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ یہ باغ جس نے مجھے فتنہ میں مبتلا کر دیا، راہِ خدا میں دیتا ہوں؛ چنانچہ حضرت عثمانؓ نے اس کو بیت المال کی طرف سے 50 ہزار میں فروخت کیا۔ (1)
(حاشیہ)
یہ دونوں واقعے مُؤَطَّا إِمَام مَالِك كِتَابُ الصَّلَاةِ بَابُ مَا يَشْغَلُكَ عَنْهَا میں مذکور ہیں۔