پارہ 6

صفحہ 308 (لا يحب الله ۶ | النساء ۴)

عربی متن:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ ۚ أَتُرِيدُونَ أَن تَجْعَلُوا لِلَّهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا مُّبِينًا ﴿۱۴۴﴾ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَلَن تَجِدَ لَهُمْ نَصِيرًا ﴿ ۱۴۵﴾ إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَاعْتَصَمُوا بِاللَّهِ وَأَخْلَصُوا دِينَهُمْ لِلَّهِ فَأُولَٰئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ ۖ وَسَوْفَ يُؤْتِ اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ أَجْرًا عَظِيمًا ﴿۱۴۶﴾ مَّا يَفْعَلُ اللَّهُ بِعَذَابِكُمْ إِن شَكَرْتُمْ وَآمَنتُمْ ۚ وَكَانَ اللَّهُ شَاكِرًا عَلِيمًا ﴿۱۴۷﴾ ۞ لَّا يُحِبُّ اللَّهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا مَن ظُلِمَ ۚ وَكَانَ اللَّهُ سَمِيعًا عَلِيمًا ﴿۱۴۸﴾

اردو ترجمہ:

اے ایمان والو! مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست مت بناؤ۔ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اللہ کے پاس اپنے خلاف (یعنی اپنے مستحقِ عذاب ہونے کی) ایک کھلی کھلی وجہ پیدا کردو؟ ﴿۱۴۴﴾ یقین جانو کہ منافقین جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے، اور ان کے لئے تم کوئی مددگار نہیں پاؤگے ﴿۱۴۵﴾ البتہ جو لوگ توبہ کرلیں گے، اپنی اصلاح کرلیں گے، اللہ کا سہارا مضبوطی سے تھام لیں گے اور اپنے دین کو خالص اللہ کے لئے بنالیں گے تو ایسے لوگ مؤمنوں کے ساتھ شامل ہوجائیں گے، اور اللہ مؤمنوں کو ضرور اجرِ عظیم عطا کرے گا ﴿۱۴۶﴾ اگر تم شکرگزار بنو اور (صحیح معنی میں) ایمان لے آؤ تو اللہ تمہیں عذاب دے کر آخر کیا کرے گا؟ اللہ بڑا قدردان ہے، (اور) سب کے حالات کا پوری طرح علم رکھتا ہے ﴿۱۴۷﴾ اللہ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کسی کی برائی علانیہ زبان پر لائی جائے، الا یہ کہ کسی پر ظلم ہوا ہو، اور اللہ سب کچھ سنتا، ہر بات جانتا ہے ﴿۱۴۸﴾

تفسیر و حواشی:

(۸۵) یعنی کسی کی برائی بیان کرنا عام حالات میں جائز نہیں، البتہ اگر کسی پر ظلم ہوا ہو تو وہ اس ظلم کا تذکرہ لوگوں سے کرسکتا ہے، اس تذکرے میں ظالم کی جو برائی ہوگی وہ معاف ہے۔



صفحہ نمبر 309

عربی متن: إِنْ تُبْدُوا خَيْرًا أَوْ تُخْفُوهُ أَوْ تَعْفُوا عَنْ سُوءٍ فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِيرًا ﴿١٤٩﴾ إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيُرِيدُونَ أَنْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ وَيُرِيدُونَ أَنْ يَتَّخِذُوا بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا ﴿١٥٠﴾ أُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ حَقًّا وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا مُهِينًا ﴿١٥١﴾ وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَلَمْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ أُولَئِكَ سَوْفَ يُؤْتِيهِمْ أُجُورَهُمْ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا ﴿١٥٢﴾

ترجمہ: اگر تم کوئی نیک کام علانیہ کرو یا خفیہ طور پر کرو، یا کسی برائی کو معاف کردو، تو (بہتر ہے، کیونکہ) اللہ بہت معاف کرنے والا ہے (اگرچہ سزا دینے پر) پوری قدرت رکھتا ہے۔ ﴿149﴾ جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان فرق کرنا چاہتے اور کہتے ہیں کہ کچھ (رسولوں) پر تو ہم ایمان لاتے ہیں اور کچھ کا انکار کرتے ہیں، اور (اس طرح) وہ چاہتے ہیں کہ (کفر اور ایمان کے درمیان) ایک بیچ کی راہ نکال لیں ﴿150﴾ ایسے لوگ صحیح معنی میں کافر ہیں، اور کافروں کے لئے ہم نے ذلت آمیز عذاب تیار کر رکھا ہے۔ ﴿151﴾ اور جو لوگ اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائیں، اور ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہ کریں، تو اللہ ایسے لوگوں کو ان کے اجر عطا کرے گا، اور اللہ بہت معاف کرنے والا، بڑا مہربان ہے ﴿۱۵۲﴾

حواشی/تفسیر: (۸۶) اشارہ یہ کیا جارہا ہے کہ اگرچہ مظلوم کو شریعت نے یہ حق دیا ہے کہ وہ ظالم کے ظلم کی حد تک اس کی برائی کرے، لیکن اگر کوئی شخص مظلوم ہونے کے باوجود خفیہ اور علانیہ ہر حالت میں زبان سے ہمیشہ اچھی بات ہی نکالے، اور اپنا حق معاف کردے تو یہ اس کے لئے بڑے ثواب کا کام ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی صفت بھی یہی ہے کہ وہ سزا پر قدرت رکھنے کے باوجود کثرت سے لوگوں کو معاف کر دیتا ہے۔


صفحہ نمبر 310

عربی متن: يَسْأَلُكَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتَابًا مِنَ السَّمَاءِ فَقَدْ سَأَلُوا مُوسَى أَكْبَرَ مِنْ ذَلِكَ فَقَالُوا أَرِنَا اللَّهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْهُمُ الصَّاعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ فَعَفَوْنَا عَنْ ذَلِكَ وَآتَيْنَا مُوسَى سُلْطَانًا مُبِينًا ﴿153﴾ وَرَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّورَ بِمِيثَاقِهِمْ وَقُلْنَا لَهُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوا فِي السَّبْتِ وَأَخَذْنَا مِنْهُمْ مِيثَاقًا غَلِيظًا ﴿154﴾ فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِيثَاقَهُمْ وَكُفْرِهِمْ بِآيَاتِ اللَّهِ وَقَتْلِهِمُ الْأَنْبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَقَوْلِهِمْ قُلُوبُنَا غُلْفٌ

ترجمہ: (اے پیغمبر!) اہل کتاب تم سے (جو) مطالبہ کر رہے ہیں کہ تم ان پر آسمان سے کوئی کتاب نازل کرواؤ، تو (یہ کوئی نئی بات نہیں، کیونکہ) یہ لوگ تو موسیٰ سے اس سے بھی بڑا مطالبہ کر چکے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے (موسیٰ سے) کہا تھا کہ ہمیں اللہ کھلی آنکھوں دکھاؤ، چنانچہ ان کی سرکشی کی وجہ سے ان کو بجلی کے کڑکے نے آپکڑا تھا، پھر ان کے پاس جو کھلی کھلی نشانیاں آئیں، ان کے بعد بھی انہوں نے بچھڑے کو معبود بنالیا تھا۔ اس پر بھی ہم نے انہیں معاف کر دیا، اور ہم نے موسیٰ کو واضح اقتدار عطا کیا ﴿153﴾ اور ہم نے کوہِ طور کو ان پر بلند کر کے ان سے عہد لیا تھا، اور ہم نے ان سے کہا تھا کہ (شہر کے) دروازے میں جھکے ہوئے سروں کے ساتھ داخل ہونا، اور ان سے کہا تھا کہ تم سنیچر کے دن کے بارے میں حد سے نہ گزرنا، اور ہم نے ان سے بہت پکا عہد لیا تھا(۸۷) ﴿154﴾ پھر ان کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ اس لئے کہ انہوں نے اپنا عہد توڑا، اللہ کی آیتوں کا انکار کیا، انبیاء کو ناحق قتل کیا، اور یہ کہا کہ ہمارے دلوں پر غلاف چڑھا ہوا ہے(۸۸)

حواشی/تفسیر: (۸۷) ان واقعات کی تفصیل سورۃ بقرہ کی آیات ۵۱ تا ۶۶ اور ان کے حواشی میں گزر چکی ہے۔ (۸۸) اُن کا مطلب یہ تھا کہ ہمارے دل بالکل محفوظ ہیں کہ اُن میں اپنے مذہب کے سوا کسی اور مذہب کی بات داخل نہیں ہو سکتی۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کے جواب میں جملہ معترضہ کے طور پر ارشاد فرمایا کہ دل محفوظ نہیں ہیں، بلکہ


صفحہ نمبر 311

عربی متن: بَلْ طَبَعَ اللَّهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًا ﴿155﴾ وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَى مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيمًا ﴿156﴾ وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ

ترجمہ: —— حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اُن کے کفر کی وجہ سے اللہ نے اُن کے دلوں پر مہر لگادی ہے، اس لئے وہ تھوڑی سی باتوں کے سوا کسی بات پر ایمان نہیں لاتے(۸۹) ﴿155﴾ —— اور اس لئے کہ انہوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا، اور مریم پر بڑے بھاری بہتان کی بات کہی(۹۰)، ﴿156﴾ اور یہ کہا کہ: ”ہم نے اللہ کے رسول مسیح عیسیٰ ابن مریم کو قتل کر دیا تھا“ حالانکہ نہ انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کیا تھا، نہ انہیں سولی دے پائے تھے، بلکہ انہیں اشتباہ ہو گیا تھا(۹۱)۔

حواشی/تفسیر: ان کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگادی ہے جس کی وجہ سے کوئی صحیح بات اُن کے دلوں میں نہیں اُترتی۔ (۸۹) تھوڑی باتوں سے مراد یہ ہے کہ مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت پر تو ایمان لاتے ہیں، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لاتے۔ (۹۰) حضرت عیسیٰ علیہ السلام چونکہ حضرت مریم علیہا السلام کے بطن سے بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے، اس لئے یہودیوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے اس معجزے کو تسلیم کرنے کے بجائے حضرت مریم علیہا السلام جیسی پاک نفس اور عفت مآب خاتون پر گھناؤنا الزام لگایا تھا۔ (۹۱) قرآنِ کریم نے یہ حقیقت بڑے پر زور الفاظ میں بیان فرمائی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہ کوئی قتل کرسکا، اور نہ انہیں سولی دے سکا، بلکہ اُن کو اشتباہ ہو گیا، یعنی انہوں نے کسی اور شخص کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سمجھ کر اُسے سولی پر چڑھا دیا، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اوپر اُٹھا لیا۔ قرآنِ کریم نے اس حقیقت کو واضح کرنے پر اکتفا فرمایا ہے، اور اس واقعے کی تفصیل بیان نہیں فرمائی، بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جب آپ کا محاصرہ کیا گیا تو آپ کے مقدس ساتھیوں میں سے ایک نے یہ قربانی دی کہ خود باہر نکلے، اور اللہ تعالیٰ نے اُن کی صورت حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسی بنادی، دشمنوں نے اُن کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سمجھ کر سولی پر لٹکا دیا، اور اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اوپر اُٹھا لیا۔ ایک دوسری روایت کے مطابق جو شخص


صفحہ نمبر 312

عربی متن: وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا ﴿157﴾ بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا ﴿158﴾ وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا ﴿159﴾

ترجمہ: اور حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے اس بارے میں اختلاف کیا ہے، وہ اس سلسلے میں شک کا شکار ہیں(۹۲)، انہیں گمان کے پیچھے چلنے کے سوا اس بات کا کوئی علم حاصل نہیں ہے، اور یہ بالکل یقینی بات ہے کہ وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل نہیں کر پائے ﴿۱۵۷﴾ بلکہ اللہ نے انہیں اپنے پاس اٹھا لیا تھا، اور اللہ بڑا صاحب اقتدار، بڑا حکمت والا ہے ﴿۱۵۸﴾ اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو اپنی موت سے پہلے ضرور بالضرور عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان نہ لائے(۹۳)، اور قیامت کے دن وہ ان لوگوں کے خلاف گواہ بنیں گے ﴿۱۵۹﴾

حواشی/تفسیر: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جاسوسی کر کے انہیں گرفتار کرنے کے لئے اندر داخل ہوا تھا، اللہ تعالیٰ نے اُسی کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شکل میں تبدیل کردیا، اور جب وہ باہر نکلا تو اُسی کو گرفتار کر کے سولی دے دی گئی، واللہ سبحانہ اعلم۔ (۹۲) یعنی بظاہر تو وہ یقینی طور پر یہی سمجھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی دے دی گئی تھی، لیکن چونکہ اُن کے پاس اس کی کوئی یقینی دلیل نہیں ہے، اس لئے ایسا ہے جیسے وہ درحقیقت شک میں ہیں۔ (۹۳) یہودی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پیغمبر ہی نہیں مانتے، اور عیسائی خدا کا بیٹا ماننے کے باوجود یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اُن کو سولی پر چڑھا کر قتل کر دیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ سارے اہل کتاب، چاہے یہودی ہوں، یا عیسائی، اپنے مرنے سے ذرا پہلے جب عالم برزخ کے مناظر دیکھیں گے تو اُس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اُن کے تمام غلط خیالات خود بخود ختم ہو جائیں گے، اور وہ اُن کی اصل حقیقت پر ایمان لے آئیں گے۔ یہ اس آیت کی ایک تفسیر ہے جسے بہت سے مستند مفسرین نے ترجیح دی ہے، اور حضرت حکیم الامت مولانا تھانویؒ نے ”بیان القرآن“ میں اُسی کو اختیار کیا ہے۔ البتہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس آیت کی جو تفسیر منقول ہے، اُس کی رُو سے آیت کا ترجمہ اس طرح ہوگا: ”اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو عیسیٰ


صفحہ نمبر 313

عربی متن: فَبِظُلْمٍ مِنَ الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبَاتٍ أُحِلَّتْ لَهُمْ وَبِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ كَثِيرًا ﴿١٦٠﴾ وَأَخْذِهِمُ الرِّبَا وَقَدْ نُهُوا عَنْهُ وَأَكْلِهِمْ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا ﴿١٦١﴾ لَكِنِ الرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَالْمُؤْمِنُونَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَالْمُقِيمِينَ الصَّلَاةَ وَالْمُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَالْمُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أُولَئِكَ سَنُؤْتِيهِمْ أَجْرًا عَظِيمًا ﴿١٦٢﴾

ترجمہ: غرض یہودیوں کی سنگین زیادتی کی وجہ سے ہم نے اُن پر وہ پاکیزہ چیزیں حرام کر دیں جو پہلے اُن کے لئے حلال کی گئی تھیں، اور اس لئے کہ وہ بکثرت لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے تھے(۹۴) ﴿۱۶۰﴾ اور سود لیا کرتے تھے، حالانکہ انہیں اس سے منع کیا گیا تھا، اور لوگوں کے مال ناحق طریقے سے کھاتے تھے۔ اور ان میں سے جو لوگ کافر ہیں، اُن کے لئے ہم نے ایک دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے ﴿۱۶۱﴾ البتہ ان (بنی اسرائیل) میں سے جو لوگ علم میں پکے ہیں، اور مؤمن ہیں، وہ اس (کلام) پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو (اے پیغمبر!) تم پر نازل کیا گیا اور اس پر بھی جو تم سے پہلے نازل کیا گیا تھا، اور قابلِ تعریف ہیں وہ لوگ جو نماز قائم کرنے والے ہیں، زکوٰۃ دینے والے ہیں اور اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھنے والے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ہم اجرِ عظیم عطا کریں گے ﴿۱۶۲﴾

حواشی/تفسیر: کی موت سے پہلے اُن پر ضرور بالضرور ایمان نہ لائے۔“ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس وقت تو آسمان پر اُٹھا لیا ہے، لیکن، جیسا کہ صحیح احادیث میں مروی ہے، آخر زمانے میں وہ دوبارہ اس دُنیا میں آئیں گے، اور اُس وقت تمام اہل کتاب پر اُن کی اصل حقیقت واضح ہو جائے گی، اور وہ سب اُن پر ایمان لے آئیں گے۔ (۹۴) اس کی تفصیل ان شاء اللہ سورۃ انعام (۱۴۶:۶) میں آئے گی۔

صفحہ 314

عربی آیات:

إِنَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا إِلَىٰ نُوحٍ وَالنَّبِيِّينَ مِن بَعْدِهِ ۚ وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَعِيسَىٰ وَأَيُّوبَ وَيُونُسَ وَهَارُونَ وَسُلَيْمَانَ ۚ وَآتَيْنَا دَاوُودَ زَبُورًا ﴿163﴾ وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنَاهُمْ عَلَيْكَ مِن قَبْلُ وَرُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ ۚ وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًا ﴿164﴾ رُّسُلًا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا ﴿165﴾ لَّٰكِنِ اللَّهُ يَشْهَدُ بِمَا أَنزَلَ إِلَيْكَ ۖ أَنزَلَهُ بِعِلْمِهِ ۖ وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ شَهِيدًا ﴿166﴾

اردو ترجمہ:

(اے پیغمبر!) ہم نے تمہارے پاس اسی طرح وحی بھیجی ہے جیسے نوح اور ان کے بعد دوسرے نبیوں کے پاس بھیجی تھی، اور ہم نے ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور ان کی اولاد کے پاس، اور عیسیٰ، ایوب، یونس، ہارون اور سلیمان کے پاس بھی وحی بھیجی تھی، اور ہم نے داؤد کو زبور عطا کی تھی ﴿163﴾ اور بہت سے رسول ہیں جن کے واقعات ہم نے پہلے تمہیں سنائے ہیں، اور بہت سے رسول ایسے ہیں کہ ہم نے ان کے واقعات تمہیں نہیں سنائے۔ اور موسیٰ سے تو اللہ براہِ راست ہم کلام ہوا ﴿164﴾ یہ سب رسول وہ تھے جو (ثواب کی) خوشخبری سنانے اور (دوزخ سے) ڈرانے والے بنا کر بھیجے گئے تھے، تاکہ ان رسولوں کے آجانے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے سامنے کوئی عذر باقی نہ رہے، اور اللہ کا اقتدار بھی کامل ہے، حکمت بھی کامل ﴿165﴾ (یہ کافر لوگ مانیں یا نہ مانیں) لیکن اللہ نے جو کچھ تم پر نازل کیا ہے، اس کے بارے میں وہ خود گواہی دیتا ہے کہ اس نے اسے اپنے علم سے نازل کیا ہے، اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں، اور (یوں تو) اللہ کی گواہی ہی بالکل کافی ہے۔ ﴿166﴾

صفحہ 315

عربی آیات:

إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ قَدْ ضَلُّوا ضَلَالًا بَعِيدًا ﴿167﴾ إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَظَلَمُوا لَمْ يَكُنِ اللَّهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ طَرِيقًا ﴿168﴾ إِلَّا طَرِيقَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرًا ﴿169﴾ يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمُ الرَّسُولُ بِالْحَقِّ مِن رَّبِّكُمْ فَآمِنُوا خَيْرًا لَّكُمْ ۚ وَإِن تَكْفُرُوا فَإِنَّ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا ﴿170﴾ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ وَلَا تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقَّ ۚ إِنَّمَا الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُولُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَىٰ مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِّنْهُ ۖ

اردو ترجمہ:

یقین جانو کہ جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکا ہے وہ بھٹک کر گمراہی میں بہت دُور نکل گئے ہیں ﴿167﴾ جن لوگوں نے کفر اپنایا ہے، (اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روک کر ان پر) ظلم کیا ہے، اللہ ان کو بخشنے والا نہیں ہے، اور نہ ان کو کوئی اور راستہ دکھانے والا ہے ﴿168﴾ سوائے دوزخ کے راستے کے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اور یہ بات اللہ کے لئے بہت معمولی بات ہے ﴿169﴾ اے لوگو! یہ رسول تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے حق لے کر آگئے ہیں۔ اب (ان پر) ایمان لے آؤ، کہ تمہاری بہتری اسی میں ہے۔ اور اگر (اب بھی) تم نے کفر کی راہ اپنائی تو (خوب سمجھ لو کہ) تمام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے، اور اللہ علم اور حکمت دونوں کا مالک ہے ﴿170﴾ اے اہل کتاب! اپنے دین میں حد سے نہ بڑھو، اور اللہ کے بارے میں حق کے سوا کوئی بات نہ کہو۔ مسیح عیسیٰ ابن مریم تو محض اللہ کے رسول تھے، اور اللہ کا ایک کلمہ تھا جو اس نے مریم تک پہنچایا، اور ایک روح تھی جو اسی کی طرف سے (پیدا ہوئی) تھی، ⁽۹۵⁾

حاشیہ:

(۹۵) یہودیوں کے بعد ان آیات میں عیسائیوں کو تنبیہ کی گئی ہے۔ یہودی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جانی

صفحہ 316

عربی آیات:

فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ۖ وَلَا تَقُولُوا ثَلَاثَةٌ ۚ انتَهُوا خَيْرًا لَّكُمْ ۚ إِنَّمَا اللَّهُ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ ۖ سُبْحَانَهُ أَن يَكُونَ لَهُ وَلَدٌ ۘ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ وَكِيلًا ﴿171﴾ لَّن يَسْتَنكِفَ الْمَسِيحُ أَن يَكُونَ عَبْدًا لِّلَّهِ وَلَا الْمَلَائِكَةُ الْمُقَرَّبُونَ ۚ وَمَن يَسْتَنكِفْ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُهُمْ إِلَيْهِ جَمِيعًا ﴿172﴾ فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَيُوَفِّيهِمْ أُجُورَهُمْ وَيَزِيدُهُم مِّن فَضْلِهِ ۖ

اردو ترجمہ:

لہٰذا اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ، اور یہ مت کہو کہ (خدا) تین ہیں۔ اس بات سے باز آجاؤ، کہ اسی میں تمہاری بہتری ہے۔ اللہ تو ایک ہی معبود ہے، وہ اس بات سے بالکل پاک ہے کہ اس کا کوئی بیٹا ہو۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسی کا ہے، اور سب کی دیکھ بھال کے لئے اللہ کافی ہے ﴿۱۷۱﴾ مسیح کبھی اس بات کو عار نہیں سمجھ سکتے کہ وہ اللہ کے بندے ہوں، اور نہ مقرب فرشتے (اس میں کوئی عار سمجھتے ہیں)۔ اور جو شخص اپنے پروردگار کی بندگی میں عار سمجھے، اور تکبر کا مظاہرہ کرے، تو (وہ اچھی طرح سمجھ لے کہ) اللہ ان سب کو اپنے پاس جمع کرے گا ﴿۱۷۲﴾ پھر جو لوگ ایمان لائے ہوں گے اور انہوں نے نیک عمل کئے ہوں گے، ان کو ان کا پورا پورا ثواب دے گا، اور اپنے فضل سے اس سے زیادہ بھی دے گا۔

حاشیہ (گزشتہ صفحے سے جاری):

دشمن بن گئے تھے، اور دوسری طرف عیسائی آپ کی تعظیم میں حد سے گزر گئے، اور انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا کہنا شروع کردیا اور یہ عقیدہ اپنالیا کہ خدا تین ہیں، باپ بیٹا اور روح القدس۔ اس آیت میں دونوں کو حد سے گزرنے سے منع کیا گیا ہے، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں وہ معتدل بات بتائی گئی ہے جو حقیقت کے عین مطابق ہے، یعنی وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول تھے، اور اللہ نے ان کو اپنے کلمہ ”کن“ سے باپ کے واسطے کے بغیر پیدا کیا تھا، اور ان کی روح براہِ راست حضرت مریم علیہا السلام کے بطن میں بھیج دی تھی۔

صفحہ 317

عربی آیات:

وَأَمَّا الَّذِينَ اسْتَنكَفُوا وَاسْتَكْبَرُوا فَيُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا وَلَا يَجِدُونَ لَهُم مِّن دُونِ اللَّهِ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا ﴿173﴾ يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُم بُرْهَانٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَأَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ نُورًا مُّبِينًا ﴿174﴾ فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَاعْتَصَمُوا بِهِ فَسَيُدْخِلُهُمْ فِي رَحْمَةٍ مِّنْهُ وَفَضْلٍ وَيَهْدِيهِمْ إِلَيْهِ صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا ﴿175﴾ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ ۚ إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ ۚ وَهُوَ يَرِثُهَا إِن لَّمْ يَكُن لَّهَا وَلَدٌ ۚ فَإِن كَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَكَ ۚ وَإِن كَانُوا إِخْوَةً رِّجَالًا وَنِسَاءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ ۗ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ أَن تَضِلُّوا ۗ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ﴿176﴾

اردو ترجمہ:

رہے وہ لوگ جنہوں نے (بندگی کو) عار سمجھا ہوگا اور تکبر کا مظاہرہ کیا ہوگا، تو ان کو دردناک عذاب دے گا، اور ان کو اللہ کے سوا اپنا کوئی رکھوالا اور مددگار نہیں ملے گا ﴿۱۷۳﴾ اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے کھلی دلیل آچکی ہے، اور ہم نے تمہارے پاس ایک ایسی روشنی بھیج دی ہے جو راستے کی پوری وضاحت کرنے والی ہے ﴿۱۷۴﴾ چنانچہ جو لوگ اللہ پر ایمان لائے ہیں اور انہوں نے اسی کا سہارا تھام لیا ہے، اللہ ان کو اپنے فضل اور رحمت میں داخل کرے گا، اور انہیں اپنے پاس آنے کے لئے سیدھے راستے تک پہنچائے گا ﴿۱۷۵﴾ (اے پیغمبر!) لوگ تم سے (کلالہ کا حکم) پوچھتے ہیں۔ کہہ دو کہ اللہ تمہیں کلالہ ⁽۹۶⁾ کے بارے میں حکم بتاتا ہے۔ اگر کوئی شخص اس حال میں مرجائے کہ اس کی اولاد نہ ہو، اور اس کی ایک بہن ہو تو وہ اس کے ترکے میں سے آدھے کی حق دار ہوگی۔ اور اگر اس بہن کی اولاد نہ ہو (اور وہ مرجائے، اور اس کا بھائی زندہ ہو) تو وہ اس بہن کا وارث ہوگا۔ اور اگر بہنیں دو ہوں تو بھائی کے ترکے سے وہ دو تہائی کی

صفحہ 318

اردو ترجمہ (گزشتہ صفحے سے جاری):

حق دار ہوں گی۔ اور اگر (مرنے والے کے) بھائی بھی ہوں اور بہنیں بھی، تو ایک مرد کو دو عورتوں کے برابر حصہ ملے گا۔ اللہ تمہارے سامنے وضاحت کرتا ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہو، اور اللہ ہر چیز کا پورا علم رکھتا ہے۔ ﴿۱۷۶﴾

حاشیہ:

(۹۶) ”کلالہ“ اس شخص کو کہتے ہیں جس کے انتقال کے وقت نہ اس کا باپ یا دادا زندہ ہو، نہ کوئی بیٹا یا پوتا۔

اختتامی عبارت:

الحمدللہ، سورۂ نساء کا ترجمہ اور اس کے حواشی کی تکمیل آج بروز جمعہ ۶ ذوالقعدہ ۱۴۲۶ھ مطابق ۹ دسمبر ۲۰۰۵ء کو بحرین میں عشاء کے وقت (۶:۵۵ پر) ہوئی۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے بندہ کے گناہوں کو معاف فرما کر اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمالیں، اور باقی سورتوں کی بھی اپنی رضا کے مطابق تکمیل کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین ثم آمین۔










سورۃ المائدۃ

آپ کی فراہم کردہ تصاویر میں قرآنِ کریم کی سورۃ المائدہ کا تعارف، ابتدائی آیات کا ترجمہ اور ان کی تفسیر (توضیحی نوٹ) شامل ہیں۔ ذیل میں ان تمام صفحات کی مکمل ٹائپنگ ترتیب وار دی جا رہی ہے:

(صفحہ نمبر 320)

تعارف

یہ سورت حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کے بالکل آخری دور میں نازل ہوئی ہے۔ علامہ ابو حیانؒ فرماتے ہیں کہ اس کے کچھ حصے صلح حدیبیہ، کچھ فتح مکہ اور کچھ حجۃ الوداع کے موقع پر نازل ہوئے تھے۔ اس زمانے میں اسلام کی دعوت جزیرہ عرب کے طول و عرض میں اچھی طرح پھیل چکی تھی، دشمنانِ اسلام بڑی حد تک شکست کھا چکے تھے، اور مدینہ منورہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قائم کی ہوئی اسلامی ریاست مستحکم ہو چکی تھی۔ لہٰذا اس سورت میں مسلمانوں کے سماجی، سیاسی اور معاشی مسائل سے متعلق بہت سی ہدایات دی گئی ہیں۔ سورت کا آغاز اس بنیادی حکم سے ہوا ہے کہ مسلمانوں کو اپنے عہد و پیمان پورے کرنے چاہئیں۔ اس بنیادی حکم میں اجمالی طور پر شریعت کے تمام احکام آگئے ہیں چاہے وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق سے متعلق ہوں یا بندوں کے حقوق سے متعلق۔ اس ضمن میں یہ اصول بڑی تاکید کے ساتھ سمجھایا گیا ہے کہ دشمنوں کے ساتھ بھی ہر معاملہ انصاف کے ساتھ ہونا چاہئے۔ یہ خوشخبری دی گئی ہے کہ دشمنانِ اسلام اب اسلام کی پیش قدمی روکنے سے مایوس ہو چکی ہے اور اللہ نے اپنا دین مکمل فرما دیا ہے۔ اسی سورت میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کس قسم کی غذائیں حلال ہیں اور کس قسم کی حرام؟ اسی سلسلے میں شکار کے احکام بھی وضاحت کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔ اہل کتاب کے ذبیحے اور ان کی عورتوں سے نکاح کے احکام کا بیان آیا ہے، چوری اور ڈکیتی کی شرعی سزائیں مقرر فرمائی گئی ہیں، کسی انسان کو ناحق قتل کرنا کتنا بڑا گناہ ہے؟ اس کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل کا واقعہ ذکر کیا گیا ہے، شراب اور جوئے کو صریح الفاظ میں حرام قرار دیا گیا ہے، وضو اور تیمم کا طریقہ بتایا گیا ہے۔ یہودیوں اور عیسائیوں نے کس طرح اللہ تعالیٰ سے کئے ہوئے عہد کو توڑا؟ اس کی تفصیل بیان فرمائی گئی ہے۔

"مائدہ" عربی میں دستر خوان کو کہتے ہیں۔ اس سورت کی آیت نمبر 112 میں یہ واقعہ بیان ہوا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ان کے متبعین نے یہ دعا کرنے کی فرمائش کی تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے لئے آسمانی غذاؤں کے ساتھ ایک دستر خوان نازل فرمائے۔ اس واقعے کی مناسبت سے اس سورت کا نام "مائدہ" یعنی دستر خوان رکھا گیا ہے۔

(صفحہ نمبر 322)

۵ سُوْرَةُ الْمَآئِدَةِ مَدَنِيَّةٌ ۱۱۲ | آیاتھا ۱۲۰ | رکوعاتھا ۱۶

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیْنُ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ ۬ؕ اُحِلَّتْ لَکُمْ بَہِیْمَۃُ الْاَنْعَامِ اِلَّا مَا یُتْلٰی عَلَیْکُمْ غَیْرَ مُحِلِّی الصَّیْدِ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَحْکُمُ مَا یُرِیْدُ ﴿۱﴾

یہ مدنی سورت ہے اور اس میں ایک سو بیس آیات اور سولہ رکوع ہیں

شروع اللہ کے نام سے جو سب پر مہربان ہے، بہت مہربان ہے

اے ایمان والو! معاہدوں کو پورا کرو۔ تمہارے لئے وہ چوپائے حلال کر دیئے گئے ہیں جو مویشیوں میں داخل (یا ان کے مشابہ) ہوں(۱)، سوائے اُن کے جن کے بارے میں تمہیں پڑھ کر سنایا جائے گا(۲)، بشرطیکہ جب تم احرام کی حالت میں ہو اس وقت شکار کو حلال نہ سمجھو(۳)۔ اللہ جس چیز کا ارادہ کرتا ہے اس کا حکم دیتا ہے۔ ﴿۱﴾

(۱) چوپایہ تو ہر اس جانور کو کہتے ہیں جو چار ہاتھ پاؤں پر چلتا ہو، لیکن ان میں سے صرف وہ جانور حلال ہیں جو مویشیوں میں شمار ہوتے ہیں، یعنی گائے، اونٹ، اور بھیڑ بکری، یا پھر ان مویشیوں کے مشابہ ہوں، جیسے ہرن، نیل گائے وغیرہ۔

(۲) ان حرام چیزوں کی طرف اشارہ ہے جن کا ذکر آگے آیت نمبر ۳ میں آرہا ہے۔

(۳) یعنی مویشیوں کے مشابہ جانور، مثلاً ہرن وغیرہ اگرچہ حلال ہیں، اور ان کا شکار بھی حلال ہے، لیکن جب حج یا عمرے کے لئے کسی نے احرام باندھ لیا ہو تو ان جانوروں کا شکار حرام ہو جاتا ہے۔

(۴) اس جملے نے ان تمام سوالات اور اعتراضات کی جڑ کاٹ دی ہے جو لوگ محض اپنی محدود عقل کے سہارے شرعی احکام پر عائد کرتے ہیں، مثلاً یہ سوال کہ جانور بھی تو آخر جان رکھتے ہیں، ان کو ذبح کر کے کھانا کیوں جائز کیا گیا جبکہ یہ ایک جاندار کو تکلیف پہنچانا ہے، یا مثلاً یہ سوال کہ فلاں جانور کو کیوں حلال کیا گیا اور فلاں جانور کو کیوں حرام قرار دیا گیا ہے؟ آیت کے اس حصے نے اس کا مختصر اور جامع جواب یہ دے دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ پوری کائنات کا خالق ہے، وہی اپنی حکمت سے جس بات کا ارادہ فرماتا ہے اس کا حکم دے دیتا ہے۔ اس کا ہر حکم یقیناً...

(صفحہ نمبر 323)

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحِلُّوْا شَعَآئِرَ اللّٰہِ وَ لَا الشَّہْرَ الْحَرَامَ وَ لَا الْہَدْیَ وَ لَا الْقَلَآئِدَ وَ لَاۤ اٰۤمِّیْنَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنْ رَّبِّہِمْ وَ رِضْوَانًا ؕ وَ اِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا ؕ وَ لَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُوْا ۘ وَ تَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَ التَّقْوٰی ۪ وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ ۪ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ﴿۲﴾

اے ایمان والو! نہ اللہ کی نشانیوں کی بے حرمتی کرو، نہ حرمت والے مہینے کی، نہ ان جانوروں کی جو قربانی کے لئے حرم لے جائے جائیں، نہ ان پٹوں کی جو ان کے گلے میں پڑے ہوں، اور نہ ان لوگوں کی جو اللہ کا فضل اور اس کی رضامندی حاصل کرنے کی خاطر بیت حرام کا ارادہ لے کر جا رہے ہوں۔ اور جب تم احرام کھول دو تو شکار کر سکتے ہو۔ اور کسی قوم کے ساتھ تمہاری یہ دشمنی کہ انہوں نے تمہیں مسجد حرام سے روکا تھا تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم (ان پر) زیادتی کرنے لگو(۵)۔ اور نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو، اور گناہ اور ظلم میں تعاون نہ کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بیشک اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے ﴿۲﴾

حکمت پر مبنی ہے، لیکن ضروری نہیں کہ اس کے ہر حکم کی حکمت بندوں کی سمجھ میں بھی آئے، لہٰذا بندوں کا کام یہ ہے کہ اس کے ہر حکم کو چون و چرا کے بغیر تسلیم کر کے اس پر عمل کریں۔

(۵) صلح حدیبیہ کے واقعے میں مکہ مکرمہ کے کافروں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام کو حرم میں داخل ہونے اور عمرہ کرنے سے روکا تھا، مسلمانوں کو طبعی طور پر اس واقعے پر سخت غم و غصہ تھا، اور یہ احتمال تھا کہ اس غم اور غصے کی وجہ سے کوئی مسلمان اپنے دشمن سے کوئی ایسی زیادتی کر بیٹھے جو شریعت کے خلاف ہو، اس آیت نے متنبہ کر دیا کہ اسلام میں ہر چیز کی حدود مقرر ہیں، اور دشمن کے ساتھ بھی زیادتی کرنا جائز نہیں ہے۔

(صفحہ نمبر 324)

حُرِّمَتْ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃُ وَ الدَّمُ وَ لَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُہِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ وَ الْمُنْخَنِقَۃُ وَ الْمَوْقُوْذَۃُ وَ الْمُتَرَدِّیَۃُ وَ النَّطِیْحَۃُ وَ مَاۤ اَکَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَکَّیْتُمْ ٭ وَ مَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ وَ اَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ ؕ ذٰلِکُمْ فِسْقٌ ؕ

تم پر مردار جانور اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جانور حرام کر دیا گیا ہے جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو، اور وہ جو گلا گھٹنے سے مرا ہو، اور جسے چوٹ مار کر ہلاک کیا گیا ہو، اور جو اوپر سے گر کر مرا ہو، اور جسے کسی جانور نے سینگ مار کر ہلاک کیا ہو، اور جسے کسی درندے نے کھا لیا ہو، الایہ کہ تم (اس کے مرنے سے پہلے) اس کو ذبح کر چکے ہو، اور وہ (جانور بھی حرام ہے) جسے بتوں کی قربان گاہ پر ذبح کیا گیا ہو۔ اور یہ بات بھی (تمہارے لئے حرام ہے) کہ تم جوئے کے تیروں سے (گوشت وغیرہ) تقسیم کرو(۶)۔ یہ ساری باتیں سخت گناہ کی ہیں۔

(۶) جاہلیت کے زمانے میں ایک طریقہ یہ تھا کہ ایک مشترک اونٹ ذبح کر کے اس کا گوشت قرعہ اندازی کے ذریعے تقسیم کرتے تھے اور قرعہ اندازی کا طریقہ یہ ہوتا تھا کہ مختلف تیروں کے نام لکھ کر ایک تھیلے میں ڈال دیتے تھے، پھر جس شخص کے نام جو حصہ نکل آیا، اسے گوشت میں سے اتنا حصہ دے دیا جاتا تھا، اور کسی کے نام پر کوئی ایسا تیر نکل آیا جس پر کوئی حصہ مقرر نہیں ہے تو اس کو کچھ بھی نہیں ملتا تھا۔ اسی طرح ایک طریقہ یہ تھا کہ جب کسی اہم معاملے کا فیصلہ کرنا ہوتا تو تیروں کے ذریعے فال نکالتے تھے، اور اس فال میں جو بات نکل آئے اس کی پیروی لازم سمجھتے تھے۔ ان تمام طریقوں کو آیت کریمہ نے ناجائز قرار دیا ہے، کیونکہ پہلی صورت میں یہ جوا ہے، اور دوسری صورت میں یا علم غیب کا دعویٰ ہے، یا کسی معقول وجہ کے بغیر کسی بات کو لازم سمجھنے کی خرابی ہے۔ بعض حضرات نے آیت کا ترجمہ اس طرح کیا ہے کہ: ”اور یہ بات بھی (تمہارے لئے حرام ہے) کہ تم تیروں سے قسمت کا حال معلوم کرو۔“ یہ دوسرے طریقے کی طرف اشارہ ہے، اور آیت کے الفاظ میں اس ترجمے کی بھی گنجائش ہے۔

(صفحہ نمبر 325)

عربی متن:

اَلْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ دِيْنِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ ۚ اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا ؕ فَمَنِ اضْطُرَّ فِيْ مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ ﴿۳﴾ يَسْئَلُوْنَكَ مَاذَاۤ اُحِلَّ لَهُمْ ؕ قُلْ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبٰتُ ۙ وَمَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِيْنَ تُعَلِّمُوْنَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللّٰهُ ۖ فَكُلُوْا مِمَّاۤ اَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهِ ۖ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ ﴿۴﴾

اردو ترجمہ:

آج کافر لوگ تمہارے دین (کے مغلوب ہونے) سے ناامید ہو گئے ہیں، لہٰذا ان سے مت ڈرو، اور میرا ڈر دل میں رکھو۔ آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا، تم پر اپنی نعمت پوری کر دی، اور تمہارے لئے اسلام کو دین کے طور پر (ہمیشہ کے لئے) پسند کر لیا۔^((۷)) (لہٰذا اس دین کے احکام کی پوری پابندی کرو) ہاں جو شخص شدید بھوک کے عالم میں بالکل مجبور ہو جائے (اور اس مجبوری میں ان حرام چیزوں میں سے کچھ کھا لے)، بشرطیکہ گناہ کی رغبت کی بنا پر ایسا نہ کیا ہو، تو بیشک اللہ بہت معاف کرنے والا، بڑا مہربان ہے ﴿۳﴾ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لئے کونسی چیزیں حلال ہیں؟ کہہ دو کہ "تمہارے لئے تمام پاکیزہ چیزیں حلال کی گئی ہیں۔ اور جن شکاری جانوروں کو تم نے اللہ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق سکھا سکھا کر (شکار کے لئے) سدھا لیا ہو، وہ جس جانور کو (شکار کر کے) تمہارے لئے روک رکھیں، اس میں سے تم کھا سکتے ہو، اور اس پر اللہ کا نام لیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ جلد حساب لینے والا ہے ﴿۴﴾

حواشی:

(۷) صحیح احادیث میں آیا ہے کہ یہ آیت حجۃ الوداع کے موقع پر نازل ہوئی تھی۔

(۸) شکاری جانوروں مثلاً شکاری کتوں اور باز وغیرہ کے ذریعے حلال جانوروں کا شکار کر کے انہیں کھانا جن شرائط کے ساتھ جائز ہے ان کا بیان ہو رہا ہے۔ پہلی شرط یہ ہے کہ شکاری جانور کو سدھا لیا گیا ہو جس کی علامت

(صفحہ نمبر 326)

(سورہ المائدہ - آیت 5)

اَلْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ ۖ وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَّكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ ۖ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ وَلَا مُتَّخِذِي أَخْدَانٍ ۗ

آج تمہارے لئے پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئی ہیں، اور جن لوگوں کو (تم سے پہلے) کتاب دی گئی تھی، ان کا کھانا بھی تمہارے لئے حلال ہے، اور تمہارا کھانا ان کے لئے حلال ہے (۹) نیز مومنوں میں سے پاک دامن عورتیں بھی اور ان لوگوں میں سے پاک دامن عورتیں بھی تمہارے لئے حلال ہیں جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی، جبکہ تم نے ان کو نکاح کی حفاظت میں لانے کے لئے ان کے مہر دے دیئے ہوں، نہ تو (بغیر نکاح کے) صرف ہوس نکالنا مقصود ہو، اور نہ خفیہ آشنائی پیدا کرنا۔

یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ جس جانور کا شکار کرے اسے خود نہ کھائے، بلکہ اپنے مالک کے لئے روک رکھے، دوسری شرط یہ ہے کہ شکار کرنے والا شکاری کتے کو کسی جانور پر چھوڑتے وقت اللہ کا نام لے، یعنی بسم اللہ پڑھے۔

(۹) کھانے سے یہاں مراد ذبیحہ ہے، اہل کتاب یعنی یہودی اور عیسائی چونکہ جانور کے ذبح میں انہی شرائط کی رعایت رکھتے تھے جو اسلامی شریعت میں مقرر ہیں، اور وہ دوسرے غیر مسلموں سے اس معاملے میں ممتاز تھے کہ فی الجملہ آسمانی کتابوں کو مانتے تھے، اس لئے ان کے ذبح کئے ہوئے جانور مسلمانوں کے لئے جائز قرار دیئے گئے تھے، بشرطیکہ وہ جانور کو صحیح شرعی طریقے سے ذبح کریں، اور اس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام نہ لیں۔ آج کل کے یہودیوں اور عیسائیوں میں ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جو درحقیقت دہریے ہیں، خدا ہی کے قائل نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں کا ذبیحہ بالکل حلال نہیں ہے، اور ان میں سے بعض اگرچہ عیسائی یا یہودی ہیں، مگر اپنے مذہب کے احکام کو چھوڑے ہوئے ہیں، اور ذبح کرنے میں شرعی شرائط کا لحاظ نہیں کرتے، اس لئے ان کا ذبیحہ بھی حلال نہیں ہے۔ اس مسئلے کی پوری تحقیق میرے والد ماجد حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی تفسیر "معارف القرآن" اور "جواہر الفقہ" میں موجود ہے۔ نیز میرا بھی عربی رسالہ "احکام الذبائح" اسی موضوع پر ہے، اس کا انگریزی ترجمہ بھی شائع ہو چکا ہے۔

(۱۰) اہل کتاب کی دوسری خصوصیت یہ بیان کی گئی ہے کہ ان کی عورتوں سے نکاح بھی حلال ہے، لیکن یہاں بھی دو اہم نکتے یاد رکھنے ضروری ہیں۔ ایک یہ کہ یہ حکم ان یہودی یا عیسائی خواتین کا ہے جو واقعی یہودی یا عیسائی...

(صفحہ نمبر 327)

(سورہ المائدہ - آیت 6)

وَمَن يَكْفُرْ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ ﴿٥﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُؤُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ۚ وَإِن كُنتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا ۚ وَإِن كُنتُمْ مَّرْضَىٰ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيْكُمْ مِّنْهُ ۚ

اور جو شخص ایمان سے انکار کرے، اس کا سارا کیا دھرا غارت ہو جائے گا، اور آخرت میں اس کا شمار خسارہ اٹھانے والوں میں ہوگا۔ ﴿۵﴾

اے ایمان والو! جب تم نماز کے لئے اٹھو تو اپنے چہرے، اور کہنیوں تک اپنے ہاتھ دھولو، اور اپنے سروں کا مسح کرو، اور اپنے پاؤں (بھی) ٹخنوں تک (دھو لیا کرو)۔ اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو سارے جسم کو (غسل کے ذریعے) خوب اچھی طرح پاک کرو۔ اور اگر تم بیمار ہو یا سفر پر ہو یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت کرکے آیا ہو، یا تم نے عورتوں سے جسمانی ملاپ کیا ہو، اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کرو، اور اپنے چہروں اور ہاتھوں کا اس (مٹی) سے مسح کرلو۔

ہوں۔ جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، مغربی ممالک میں بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ مردم شماری کے حساب سے تو انہیں عیسائی یا یہودی گنا گیا ہے، لیکن نہ وہ خدا پر ایمان رکھتے ہیں، نہ کسی پیغمبر یا کسی آسمانی کتاب پر۔ ایسے لوگ اہل کتاب میں شامل نہیں ہیں، نہ ان کا ذبیحہ حلال ہے، اور نہ ایسی عورتوں سے نکاح حلال ہے۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اگر کوئی عورت واقعی یہودی یا عیسائی ہو، لیکن اس بات کا قوی خطرہ ہو کہ وہ اپنے شوہر یا بچوں پر اثر ڈال کر انہیں اسلام سے دور کر دے گی تو ایسی عورت سے نکاح کرنا گناہ ہوگا، یہ اور بات ہے کہ اگر کسی نے نکاح کر لیا تو نکاح منعقد ہو جائے گا، اور اولاد کو حرام نہیں کہا جائے گا۔ آج کل چونکہ مسلمان عوام میں اپنے دین کی ضروری معلومات اور ان پر عمل کی بڑی کمی ہے، اس لئے اس معاملے میں بہت احتیاط لازم ہے۔

(۱۱) "قضائے حاجت کی جگہ سے آنا" درحقیقت اس چھوٹی ناپاکی کی طرف اشارہ ہے جس میں انسان پر نماز...

(صفحہ نمبر 328)

(سورہ المائدہ - آیت 6 تا 8)

مَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُم مِّنْ حَرَجٍ وَلَٰكِن يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ﴿٦﴾ وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمِيثَاقَهُ الَّذِي وَاثَقَكُم بِهِ إِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ ﴿٧﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ ۖ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ ﴿٨﴾

اللہ تم پر کوئی تنگی مسلط کرنا نہیں چاہتا، لیکن یہ چاہتا ہے کہ تم کو پاک صاف کرے، اور یہ کہ تم پر اپنی نعمت تمام کر دے، تاکہ تم شکر گزار بنو۔ ﴿۶﴾

اللہ نے تم پر جو انعام فرمایا ہے اسے اور اس عہد کو یاد رکھو جو اس نے تم سے لیا تھا۔ جب تم نے کہا تھا کہ: "ہم نے (اللہ کے احکام کو) اچھی طرح سن لیا ہے، اور اطاعت قبول کر لی ہے" اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ یقیناً سینوں کے بھید سے پوری طرح باخبر ہے ﴿۷﴾ اے ایمان والو! ایسے بن جاؤ کہ اللہ (کے احکام کی پابندی) کے لئے ہر وقت تیار ہو، (اور) انصاف کی گواہی دینے والے ہو۔ اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم ناانصافی کرو۔ انصاف سے کام لو، یہی طریقہ تقویٰ سے قریب تر ہے۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ یقیناً تمہارے تمام کاموں سے پوری طرح باخبر ہے۔ ﴿۸﴾

وغیرہ پڑھنے کے لئے صرف وضو واجب ہوتا ہے، اور "عورتوں سے ملاپ" اس بڑی ناپاکی کی طرف اشارہ ہے جس کو "جنابت" کہتے ہیں اور جس میں غسل واجب ہوتا ہے۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ جب پانی میسر نہ ہو یا بیماری وغیرہ کی وجہ سے اس کا استعمال ممکن نہ ہو تو ناپاکی چاہے چھوٹی ہو یا بڑی، دونوں صورتوں میں تیمم کی اجازت ہے، اور دونوں صورتوں میں اس کا طریقہ ایک ہی ہے۔

(صفحہ نمبر 329)

(سورہ المائدہ - آیت 9 تا 11)

وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ۙ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ ﴿٩﴾ وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ ﴿١٠﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ هَمَّ قَوْمٌ أَن يَبْسُطُوا إِلَيْكُمْ أَيْدِيَهُمْ فَكَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنكُمْ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ ﴿١١﴾

جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کئے ہیں ان سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ (آخرت میں) ان کو مغفرت اور زبردست ثواب حاصل ہوگا۔ ﴿۹﴾ اور جن لوگوں نے کفر اپنایا اور ہماری نشانیوں کو جھٹلایا، وہ دوزخ کے باسی ہیں۔ ﴿۱۰﴾

اے ایمان والو! اللہ نے تم پر جو انعام فرمایا اس کو یاد کرو۔ جب کچھ لوگوں نے ارادہ کیا تھا کہ تم پر دست درازی کریں، تو اللہ نے تمہیں نقصان پہنچانے سے ان کے ہاتھ روک دیئے (۱۲)، اور (اس نعمت کا شکر یہ ہے کہ) اللہ کا رعب دل میں رکھتے ہوئے عمل کرو، اور مومنوں کو صرف اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔ ﴿۱۱﴾

(۱۲) یہ ان مختلف واقعات کی طرف اشارہ ہے جن میں کفار نے مسلمانوں کا خاتمہ کرنے کے منصوبے بنائے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان سب کو خاک میں ملا دیا۔ ایسے واقعات بہت سے ہیں۔ ان میں سے کچھ واقعات مفسرین نے اس آیت کے تحت بھی ذکر کئے ہیں۔ مثلاً صحیح مسلم میں روایت ہے کہ مشرکین سے ایک جنگ کے دوران عسفان کے مقام پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز تمام صحابہ کو جماعت سے پڑھائی مشرکین کو پتہ چلا تو ان کو حسرت ہوئی کہ جماعت کے دوران مسلمانوں پر حملہ کرکے انہیں ختم کر دینے کا یہ بہترین موقع تھا۔ پھر انہوں نے منصوبہ بنایا کہ جب یہ حضرات عصر کی نماز پڑھیں گے تو ان پر ایک دم حملہ کر دیں گے۔ لیکن عصر کا وقت آیا تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ نے صلاۃ الخوف پڑھی جس میں مسلمان دو حصوں میں تقسیم ہوکر نماز پڑھتے ہیں،اور ایک حصہ دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ (اس نماز کا طریقہ پیچھے سورہ نسا میں گزر چکا ہے) چناچہ مشرکین کا منصوبہ دھرا رہ گیا۔(روح المعانی)۔ مزید واقعات کے لیے دیکھیے معارف القرآن



صفحہ 330

لا یحب اللہ ۶ | ۳۳۰ | المآئدۃ ۵

وَلَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ بَنِيْٓ اِسْرَآءِيْلَ ۚ وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيْبًا ۭ وَقَالَ اللّٰهُ اِنِّيْ مَعَكُمْ ۭ لَىِٕنْ اَقَمْتُمُ الصَّلٰوةَ وَاٰتَيْتُمُ الزَّكٰوةَ وَاٰمَنْتُمْ بِرُسُلِيْ وَعَزَّرْتُمُوْهُمْ وَاَقْرَضْتُمُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا لَّاُكَفِّرَنَّ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ وَ لَاُدْخِلَنَّكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ ۚ فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِيْلِ ﴿۱۲﴾

اور یقیناً اللہ نے بنی اسرائیل سے عہد لیا تھا، اور ہم نے ان میں سے بارہ نگران مقرر کئے تھے،(۱۳) اور اللہ نے کہا تھا کہ ”میں تمہارے ساتھ ہوں، اگر تم نے نماز قائم کی، زکوٰۃ ادا کی، میرے پیغمبروں پر ایمان لائے، عزت سے ان کا ساتھ دیا اور اللہ کو اچھا قرض دیا(۱۴) تو یقین جانو کہ میں تمہاری برائیوں کا کفارہ کردوں گا، اور تمہیں ان باغات میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ پھر اس کے بعد بھی تم میں سے جو شخص کفر اختیار کرے گا تو در حقیقت وہ سیدھی راہ سے بھٹک جائے گا“ ﴿۱۲﴾

اور ایک حصہ دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہتا ہے۔ (اس نماز کا طریقہ پیچھے سورہ نساء ۴: ۱۰۲ میں گزر چکا ہے) چنانچہ مشرکین کا منصوبہ دھرا رہ گیا۔ (روح المعانی) مزید واقعات کے لئے دیکھئے معارف القرآن۔

(۱۳) بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے۔ چنانچہ جب ان سے یہ عہد لیا گیا تو ہر قبیلے کے سردار کو اپنے قبیلے کا نگران بنایا گیا تاکہ وہ عہد کی پابندی کی نگرانی کرے۔

(۱۴) اچھے قرض یا قرض حسن کا اصل مطلب تو وہ قرض ہے جو کوئی شخص کسی کو اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے دے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دینے کا مطلب یہ ہے کہ کسی غریب کی مدد کی جائے یا کسی اور نیک کام میں پیسے خرچ کئے جائیں۔

صفحہ 331

لا یحب اللہ ۶ | ۳۳۱ | المآئدۃ ۵

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِيَةً ۚ يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ ۙ وَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ ۚ وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰي خَآىِٕنَةٍ مِّنْهُمْ اِلَّا قَلِيْلًا مِّنْهُمْ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاصْفَحْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ ﴿۱۳﴾ وَ مِنَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰٓي اَخَذْنَا مِيْثَاقَهُمْ فَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ ۪ فَاَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَآءَ اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۭ وَسَوْفَ يُنَبِّئُهُمُ اللّٰهُ بِمَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ ﴿۱۴﴾

پھر یہ ان کی عہد شکنی ہی تو تھی جس کی وجہ سے ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دُور کیا، اور ان کے دلوں کو سخت بنادیا۔ وہ باتوں کو اپنے موقع محل سے ہٹا دیتے ہیں۔ اور جس بات کی ان کو نصیحت کی گئی تھی اس کا ایک بڑا حصہ بھلا چکے ہیں، اور ان میں سے کچھ لوگوں کو چھوڑ کر تمہیں آئے دن ان کی کسی نہ کسی خیانت کا پتہ چلتا رہتا ہے۔ لہٰذا (فی الحال) انہیں معاف کردو اور درگزر سے کام لو۔(۱۵) بیشک اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ﴿۱۳﴾ اور جن لوگوں نے کہا تھا کہ ہم نصرانی ہیں، ان سے (بھی) ہم نے عہد لیا تھا، پھر جس چیز کی ان کو نصیحت کی گئی تھی، اس کا ایک بڑا حصہ وہ (بھی) بھلا بیٹھے۔ چنانچہ ہم نے ان کے درمیان قیامت کے دن تک کے لئے دُشمنی اور بغض پیدا کردیا۔(۱۶) اور اللہ انہیں عنقریب بتادے گا کہ وہ کیا کچھ کرتے رہے ہیں ﴿۱۴﴾

(۱۵) یعنی اس قسم کی شرارتیں تو ان کی پرانی عادت ہے، لیکن آپ کو فی الحال سارے بنی اسرائیل کو کوئی اجتماعی سزا دینے کا حکم نہیں ہے۔ جب وقت آئے گا، اللہ تعالیٰ خود سزا دے گا۔

(۱۶) عیسائی مذہب کے ماننے والے مختلف فرقوں میں بٹ گئے تھے، اور ان کے مذہبی اختلافات نے دُشمنی اور خانہ جنگی کی شکل اختیار کرلی تھی۔ یہ اس خانہ جنگی کی طرف اشارہ ہے۔

صفحہ 332

لا یحب اللہ ۶ | ۳۳۲ | المآئدۃ ۵

يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيْرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْكِتٰبِ وَيَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ ۭ قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّكِتٰبٌ مُّبِيْنٌ ﴿ۙ۱۵﴾ يَّهْدِيْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَيُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ بِاِذْنِهٖ وَيَهْدِيْهِمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ ﴿۱۶﴾ لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ ۭ قُلْ فَمَنْ يَّمْلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَيْـًٔا اِنْ اَرَادَ اَنْ يُّهْلِكَ الْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَاُمَّهٗ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا ۭ وَلِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۭ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ ۭ وَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ﴿۱۷﴾

اے اہل کتاب ! تمہارے پاس ہمارے (یہ) پیغمبر آگئے ہیں جو کتاب (یعنی تورات اور انجیل) کی بہت سی ان باتوں کو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں جو تم چھپایا کرتے ہو، اور بہت سی باتوں سے درگزر کرجاتے ہیں۔(۱۷) تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک روشنی آئی ہے، اور ایک ایسی کتاب جو حق کو واضح کردینے والی ہے ﴿۱۵﴾ جس کے ذریعے اللہ ان لوگوں کو سلامتی کی راہیں دکھاتا ہے جو اس کی خوشنودی کے طالب ہیں، اور انہیں اپنے حکم سے اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے، اور انہیں سیدھے راستے کی ہدایت عطا فرماتا ہے ﴿۱۶﴾ جن لوگوں نے یہ کہا ہے کہ اللہ ہی مسیح ابن مریم ہے، وہ یقیناً کافر ہوگئے ہیں۔ (اے نبی ! ان سے) کہہ دو کہ اگر اللہ مسیح ابن مریم کو اور ان کی ماں کو اور زمین میں جتنے لوگ ہیں ان سب کو ہلاک کرنا چاہے تو کون ہے جو اللہ کے مقابلے میں کچھ کرنے کی ذرا بھی طاقت رکھتا ہو؟ تمام آسمانوں اور زمین پر اور ان کے درمیان جو کچھ موجود ہے اس پر تنہا ملکیت اللہ ہی کی ہے۔ وہ جو چیز چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ اور اللہ ہر چیز پر پوری پوری قدرت رکھتا ہے ﴿۱۷﴾

(۱۷) مطلب یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ نے یوں تو اپنی آسمانی کتابوں کی بہت سی باتوں کو چھپا رکھا تھا، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ان باتوں کو ظاہر فرمایا جن کی وضاحت دینی اعتبار سے ضروری تھی۔ بہت

صفحہ 333

لا یحب اللہ ۶ | ۳۳۳ | المآئدۃ ۵

وَقَالَتِ الْيَهُوْدُ وَالنَّصٰرٰي نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَاَحِبَّآؤُهٗ ۭ قُلْ فَلِمَ يُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوْبِكُمْ ۭ بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ ۭ يَغْفِرُ لِمَنْ يَّشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَّشَآءُ ۭ وَلِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۠ وَاِلَيْهِ الْمَصِيْرُ ﴿۱۸﴾ يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلٰي فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَنَا مِنْۢ بَشِيْرٍ وَّلَا نَذِيْرٍ ۡ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَشِيْرٌ وَّنَذِيْرٌ ۭ وَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ﴿۱۹﴾ ۧ

یہود و نصاریٰ کہتے ہیں کہ ”ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں“ (ان سے) کہو کہ ”پھر اللہ تمہارے گناہوں کی وجہ سے تمہیں سزا کیوں دیتا ہے؟(۱۸) نہیں ! بلکہ تم انہی انسانوں کی طرح انسان ہو جو اس نے پیدا کئے ہیں۔ وہ جس کو چاہتا ہے بخش دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے عذاب دیتا ہے۔ آسمانوں اور زمین پر اور ان کے درمیان جو کچھ موجود ہے اس پر تنہا ملکیت اللہ ہی کی ہے، اور اسی کی طرف (سب کو) لوٹ کر جانا ہے“ ﴿۱۸﴾ اے اہل کتاب ! تمہارے پاس ہمارے پیغمبر ایسے وقت دین کی وضاحت کرنے آئے ہیں جب پیغمبروں کی آمد رکی ہوئی تھی، تاکہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہمارے پاس نہ کوئی (جنت کی) خوشخبری دینے والا آیا، نہ کوئی (جہنم سے) ڈرانے والا۔ لو اب تمہارے پاس خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا آگیا ہے۔ اور اللہ ہر بات پر پوری پوری قدرت رکھتا ہے ﴿۱۹﴾

سی باتیں ایسی بھی تھیں جو انہوں نے چھپائی ہوئی تھیں، مگر ان کے پوشیدہ رہنے سے کوئی عملی یا اعتقادی نقصان نہیں تھا، اور اگر ان کو ظاہر کیا جاتا تو یہود و نصاریٰ کی رُسوائی کے سوا کوئی خاص فائدہ نہیں تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی باتوں سے درگزر فرمایا ہے، اور ان کی حقیقت واضح کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی۔

(۱۸) یہ بات یہود و نصاریٰ بھی مانتے تھے کہ وہ مختلف مواقع پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا نشانہ بنے ہیں، اور ان میں سے بہت سے لوگ اس بات کے بھی قائل تھے کہ آخرت میں بھی کچھ عرصے کے لئے وہ دوزخ میں جائیں گے۔ لہٰذا بتانا یہ منظور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انسان ایک جیسے پیدا فرمائے ہیں، ان میں سے کسی خاص نسل کے بارے میں یہ دعویٰ کرنا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی لاڈلی قوم ہے، اور اس کے قوانین سے لازمی طور پر مستثنیٰ ہے، بالکل غلط

صفحہ 334

لا یحب اللہ ۶ | ۳۳۴ | المآئدۃ ۵

وَاِذْ قَالَ مُوْسٰي لِقَوْمِهٖ يٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِيْكُمْ اَنْۢبِيَآءَ وَجَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا ۖ وَّاٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ يُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ ﴿۲۰﴾ يٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِيْ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ وَلَا تَرْتَدُّوْا عَلٰٓي اَدْبَارِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِيْنَ ﴿۲۱﴾

اور اُس وقت کا دھیان کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ ”اے میری قوم ! اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جو اس نے تم پر نازل فرمائی ہے کہ اس نے تم میں نبی پیدا کئے، تمہیں حکمران بنایا، اور تمہیں وہ کچھ عطا کیا جو تم سے پہلے دُنیا جہان کے کسی فرد کو عطا نہیں کیا تھا ﴿۲۰﴾ اے میری قوم ! اُس مقدس سرزمین میں داخل ہو جاؤ جو اللہ نے تمہارے واسطے لکھ دی ہے،(۱۹) اور اپنی پشت کے بل پیچھے نہ لوٹو، ورنہ پلٹ کر نامراد جاؤ گے“ ﴿۲۱﴾

دعویٰ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے قوانین سب کے لئے برابر ہیں۔ اس نے کوئی خاص نسل اپنی رحمت کے لئے مخصوص نہیں کی ہے۔ البتہ وہ اپنی حکمت کے تحت جس کو چاہتا ہے بخش بھی دیتا ہے، اور جس کو چاہتا ہے اپنے قانونِ عدل کے تحت سزا بھی دیتا ہے۔

(۱۹) مقدس سرزمین سے مراد شام اور فلسطین کا علاقہ ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس علاقے کو انبیائے کرام کو مبعوث کرنے کے لئے منتخب فرمایا تھا اس لئے اس کو مقدس فرمایا گیا ہے۔ جس واقعے کی طرف ان آیات میں اشارہ کیا گیا ہے وہ مختصراً یہ ہے کہ بنی اسرائیل کا اصل وطن شام اور بالخصوص فلسطین کا علاقہ تھا۔ فرعون نے مصر میں ان کو غلام بنا رکھا تھا۔ جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرعون اور اس کا لشکر غرق ہو گیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا کہ اب وہ فلسطین میں جا کر آباد ہوں۔ اس وقت فلسطین پر ایک کافر قوم کا قبضہ تھا جو عمالقہ کہلاتے تھے۔ لہٰذا اس حکم کا لازمی تقاضا یہ تھا کہ بنی اسرائیل فلسطین جا کر عمالقہ سے جہاد کریں۔ مگر ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ وعدہ بھی کرلیا گیا تھا کہ جہاد کے نتیجے میں تمہیں فتح ہوگی، کیونکہ یہ سرزمین تمہارے مقدر میں لکھ دی گئی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اس حکم کی تعمیل میں فلسطین کی طرف روانہ ہوئے۔ جب فلسطین کے قریب پہنچے تو بنی اسرائیل کو پتہ چلا کہ عمالقہ تو بڑے طاقتور لوگ ہیں۔ دراصل یہ لوگ قومِ عاد کی نسل سے تھے، اور بڑے زبردست ڈیل ڈول کے مالک تھے۔ بنی اسرائیل ان کے ڈیل ڈول سے ڈر گئے، اور یہ نہ سوچا کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت بہت بڑی ہے اور اس نے فتح کا وعدہ کر رکھا ہے۔

آپ کی فراہم کردہ تصاویر میں موجود قرآنی آیات، ان کا اردو ترجمہ اور حواشی (تفسیر) مکمل درستی کے ساتھ ذیل میں ٹائپ کر دیے گئے ہیں:

صفحہ 335 (المآئدۃ ۵)

عربی آیات:

قَالُوْا يٰمُوْسٰٓى اِنَّ فِيْهَا قَوْمًا جَبَّارِيْنَ ۙ وَاِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَا حَتّٰى يَخْرُجُوْا مِنْهَا ۚ فَاِنْ يَّخْرُجُوْا مِنْهَا فَاِنَّا دٰخِلُوْنَ ﴿۲۲﴾ قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِيْنَ يَخَافُوْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمَا ادْخُلُوْا عَلَيْهِمُ الْبَابَ ۚ فَاِذَا دَخَلْتُمُوْهُ فَاِنَّكُمْ غٰلِبُوْنَ ۙ وَعَلَى اللّٰهِ فَتَوَكَّلُوْٓا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ ﴿۲۳﴾ قَالُوْا يٰمُوْسٰٓى اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَآ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِيْهَا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَآ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ ﴿۲۴﴾ قَالَ رَبِّ اِنِّيْ لَآ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِيْ وَاَخِيْ فَافْرُقْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِيْنَ ﴿۲۵﴾

اردو ترجمہ:

وہ بولے، ”اے موسیٰ! اُس (ملک) میں تو بڑے طاقت ور لوگ رہتے ہیں، اور جب تک وہ لوگ وہاں سے نکل نہ جائیں، ہم ہرگز اس میں داخل نہیں ہوں گے۔ ہاں اگر وہ وہاں سے نکل جائیں تو بیشک ہم اس میں داخل ہوجائیں گے۔“ ﴿۲۲﴾ جو لوگ (خدا کا) خوف رکھتے تھے، ان میں سے دو مرد جن کو اللہ نے اپنے فضل سے نوازا تھا، (۲۰) بول اُٹھے کہ ”تم اُن پر چڑھائی کر کے (شہر کے) دروازے میں گھس تو جاؤ۔ جب گھس جاؤ گے تو تم ہی غالب رہوگے۔ اور اپنا بھروسہ صرف اللہ پر رکھو، اگر تم واقعی صاحبِ ایمان ہو۔“ ﴿۲۳﴾ وہ کہنے لگے ”اے موسیٰ! جب تک وہ لوگ اس (ملک) میں موجود ہیں، ہم ہرگز ہرگز اس میں قدم نہیں رکھیں گے۔ (اگر ان سے لڑنا ہے تو) بس تم اور تمہارا رَبّ چلے جاؤ، اور ان سے لڑو، ہم تو یہیں بیٹھے ہیں“ ﴿۲۴﴾ موسیٰ نے کہا ”اے میرے پروردگار! سوائے میری اپنی جان کے اور میرے بھائی کے کوئی میرے قابو میں نہیں ہے۔ اب آپ ہمارے اور ان نافرمان لوگوں کے درمیان الگ الگ فیصلہ کر دیجئے۔“ ﴿۲۵﴾

حاشیہ:

(۲۰) یہ دو صاحبان حضرت یوشع اور حضرت کالب علیہما السلام تھے جو ہر مرحلے پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وفادار رہے تھے، اور بعد میں اللہ تعالیٰ نے ان کو نبوت سے بھی سرفراز فرمایا۔ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم اللہ پر بھروسہ کر کے آگے بڑھو تو اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق تم ہی غالب رہو گے۔

صفحہ 336 (المآئدۃ ۵)

عربی آیات:

قَالَ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ اَرْبَعِيْنَ سَنَةً ۛ يَتِيْهُوْنَ فِى الْاَرْضِ ۛ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْفٰسِقِيْنَ ﴿۲۶﴾ وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ ابْنَيْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ ۘ اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِ ۭ قَالَ لَاَقْتُلَنَّكَ ۭ قَالَ اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ ﴿۲۷﴾

اردو ترجمہ:

اللہ نے کہا ”اچھا! تو وہ سرزمین ان پر چالیس سال تک حرام کردی گئی ہے، یہ (اس دوران) زمین میں بھٹکتے پھریں گے۔ (۲۱) تو (اے موسیٰ!) اب تم بھی ان نافرمان لوگوں پر ترس مت کھانا“ ﴿۲۶﴾ اور (اے پیغمبر!) ان کے سامنے آدم کے دو بیٹوں کا واقعہ ٹھیک ٹھیک پڑھ کر سناؤ۔ جب دونوں نے ایک ایک قربانی پیش کی تھی، اور ان میں سے ایک کی قربانی قبول ہوگئی، اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی۔ (۲۲) اس (دوسرے نے پہلے سے) کہا کہ ”میں تجھے قتل کرڈالوں گا“ پہلے نے کہا کہ ”اللہ تو ان لوگوں سے (قربانی) قبول کرتا ہے جو متقی ہوں ﴿۲۷﴾

حاشیہ:

(۲۱) بنی اسرائیل کی اس نافرمانی کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ سزا دی کہ چالیس سال تک فلسطین میں ان کا داخلہ بند کر دیا۔ یہ لوگ صحرائے سینا کے ایک مختصر علاقے میں بھٹکتے رہے۔ نہ آگے بڑھنے کا راستہ ملتا تھا، نہ پیچھے مصر واپس جانے کا۔ حضرت موسیٰ، حضرت ہارون، حضرت یوشع اور حضرت کالب علیہم السلام بھی ان لوگوں کے ساتھ تھے، اور انہی کی برکت اور دعاؤں سے اللہ تعالیٰ کی بہت سی نعمتیں ان پر نازل ہوئیں جن کا ذکر پیچھے سورۂ بقرہ (آیات 57 تا 60) میں گزر چکا ہے۔ بادل کے سائے نے انہیں دُھوپ سے بچایا۔ کھانے کے لئے من و سلویٰ نازل ہوا، پینے کے لئے پتھر سے بارہ چشمے پھوٹے۔ بنی اسرائیل کے لئے خانہ بدوشی کی یہ زندگی ایک سزا تھی، لیکن ان بزرگوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس کو قلبی راحت کا سامان بنا دیا۔ حضرت ہارون اور حضرت موسیٰ علیہما السلام کی یکے بعد دیگرے اسی صحرا میں وفات ہوئی۔ بعد میں حضرت یوشع علیہ السلام پیغمبر بنے، اور شام کا کچھ علاقہ ان کی سرکردگی میں اور کچھ حضرت سموئیل علیہ السلام کے زمانے میں طالوت کی سرکردگی میں فتح ہوا۔

صفحہ 337 (المآئدۃ ۵)

(گزشتہ صفحے کے حاشیے نمبر 21 کا بقیہ حصہ)

جس کا واقعہ سورۂ بقرہ (آیات 246 تا 251) میں گزر چکا ہے۔ اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے یہ سرزمین بنی اسرائیل کے حق میں لکھنے کا جو وعدہ فرمایا تھا وہ پورا ہوا۔

حاشیہ:

(۲۲) پیچھے بنی اسرائیل کی اس نافرمانی کا ذکر تھا کہ جہاد کا حکم آجانے کے باوجود وہ اس سے جان چراتے رہے، اب بتانا یہ مقصود ہے کہ ایک با مقصد جہاد میں کسی کی جان لے لینا تو نہ صرف جائز بلکہ واجب ہے، لیکن ناحق کسی کو قتل کرنا بڑا زبردست گناہ ہے۔ بنی اسرائیل نے جہاد سے تو جان چرائی، لیکن بہت سے بے گناہوں کو قتل کرنے میں کوئی باک محسوس نہیں کیا۔ اس سلسلے میں وہ واقعہ بیان کیا جارہا ہے جو اس دنیا میں سب سے پہلے قتل کی واردات پر مشتمل ہے۔ اس واقعے میں قرآن کریم نے تو صرف اتنا بتایا ہے کہ آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں نے کچھ قربانی پیش کی تھی، ایک کی قربانی قبول ہوئی، دوسرے کی نہ ہوئی، اس پر دوسرے کو غصہ آگیا، اور اس نے اپنے بھائی کو قتل کرڈالا۔ لیکن اس قربانی کا کیا پس منظر تھا؟ قرآن کریم نے اس کی تفصیل نہیں بتائی۔ البتہ مفسرین نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ اور کچھ دوسرے صحابہ کرام کے حوالے سے اس کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹے تھے جن میں سے ایک کا نام قابیل تھا اور ایک کا ہابیل۔ اس وقت چونکہ دنیا کی آبادی صرف حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد پر مشتمل تھی، اس لئے ان کی اہلیہ کے ہر حمل میں دو جڑواں بچے پیدا ہوتے تھے۔ ایک لڑکا اور ایک لڑکی۔ ان دونوں کے درمیان تو نکاح حرام تھا، لیکن ایک حمل میں پیدا ہونے والے لڑکے کا نکاح دوسرے حمل سے پیدا ہونے والی لڑکی سے ہو سکتا تھا۔ قابیل کے ساتھ جو لڑکی پیدا ہوئی وہ بڑی خوبصورت تھی، لیکن جڑواں بہن ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ قابیل کا نکاح جائز نہ تھا۔ اس کے باوجود اس کا اصرار تھا کہ اسی سے نکاح کرے۔ ہابیل کے لئے وہ لڑکی حرام نہ تھی، اس لئے وہ اس کے ساتھ نکاح کرنا چاہتا تھا۔ جب دونوں کا یہ اختلاف بڑھا تو فیصلہ اس طرح قرار پایا کہ دونوں کچھ قربانی اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کریں۔ جس کی قربانی اللہ تعالیٰ نے قبول فرمالی اس کا دعویٰ برحق سمجھا جائے گا۔ چنانچہ دونوں نے قربانی پیش کی۔ روایات میں ہے کہ ہابیل نے ایک دُنبہ قربان کیا، اور قابیل نے کچھ زرعی پیداوار پیش کی۔ اس وقت قربانی کے قبول ہونے کی علامت یہ تھی کہ آسمان سے ایک آگ آکر قربانی کو کھا لیتی تھی۔ ہابیل کی قربانی کو آگ نے کھالیا، اور اس طرح اس کی قربانی واضح طور پر قبول ہوگئی، اور قابیل کی قربانی وہیں پڑی رہ گئی جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ قبول نہیں ہوئی۔ اس پر بجائے اس کے کہ قابیل حق کو قبول کرلیتا، حسد میں مبتلا ہوکر اپنے بھائی کو قتل کرنے کے لئے تیار ہوگیا۔

صفحہ 338 (المآئدۃ ۵)

عربی آیات:

لَئِنْۢ بَسَطْتَّ اِلَيَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِيْ مَآ اَنَا بِبَاسِطٍ يَّدِيَ اِلَيْكَ لِاَقْتُلَكَ ۚ اِنِّيْٓ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ ﴿۲۸﴾ اِنِّيْٓ اُرِيْدُ اَنْ تَبُوْٓاَ بِاِثْمِيْ وَاِثْمِكَ فَتَكُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ ۚ وَذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِيْنَ ﴿۲۹﴾ فَطَوَّعَتْ لَهٗ نَفْسُهٗ قَتْلَ اَخِيْهِ فَقَتَلَهٗ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ ﴿۳۰﴾ فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا يَّبْحَثُ فِى الْاَرْضِ لِيُرِيَهٗ كَيْفَ يُوَارِيْ سَوْءَةَ اَخِيْهِ ۭ

اردو ترجمہ:

اگر تم نے مجھے قتل کرنے کو اپنا ہاتھ بڑھایا تب بھی میں تمہیں قتل کرنے کو اپنا ہاتھ نہیں بڑھاؤں گا۔ میں تو اللہ رَبّ العالمین سے ڈرتا ہوں ﴿۲۸﴾ میں تو یہ چاہتا ہوں کہ انجامِ کار تم اپنے اور میرے دونوں کے گناہ میں پکڑے جاؤ، (۲۳) اور دوزخیوں میں شامل ہو۔ اور یہی ظالموں کی سزا ہے“ ﴿۲۹﴾ آخر کار اس کے نفس نے اس کو اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کرلیا، چنانچہ اس نے اپنے بھائی کو قتل کر ڈالا، اور نامرادوں میں شامل ہوگیا ﴿۳۰﴾ پھر اللہ نے ایک کوّا بھیجا جو زمین کھودنے لگا تاکہ اسے دکھائے کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کیسے چھپائے۔ (۲۴)

حاشیہ:

(۲۳) اگرچہ اپنے دفاع کا اگر کوئی اور راستہ نہ ہو تو حملہ آور کو قتل کرنا جائز ہے، لیکن ہابیل نے احتیاط پر عمل کرتے ہوئے اپنا یہ حق استعمال کرنے سے گریز کیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ میں اپنے بچاؤ کا اور ہر طریقہ اختیار کروں گا، مگر تمہیں قتل کرنے کا اقدام نہیں کروں گا۔ ساتھ ہی اسے یہ جتلادیا کہ اگر تم نے قتل کا ارتکاب کیا تو مظلوم ہونے کی بنا پر میرے گناہوں کی تو معافی کی اُمید ہے، مگر تم پر نہ صرف اپنے گناہوں کا بوجھ ہوگا، بلکہ میرے قتل کرنے کی وجہ سے کچھ میرے گناہ بھی تم پر لد جائیں تو بعید نہیں، کیونکہ آخرت میں مظلوم کا حق ظالم سے دلوانے کا ایک طریقہ احادیث میں یہ بیان ہوا ہے کہ ظالم کی نیکیاں مظلوم کو دے دی جائیں، اور اگر نیکیاں کافی نہ ہوں تو مظلوم کے گناہ ظالم پر ڈال دیئے جائیں۔ (ماخوذ از تفسیر کبیر امام رازی)

(۲۴) یہ چونکہ کسی کے مرنے کا پہلا واقعہ تھا جو قابیل نے دیکھا اس لئے اسے مردوں کو دفن کرنے کا طریقہ معلوم نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک کوّا بھیجا جو زمین کھود کر کسی مردہ کوّے کو دفن کر رہا تھا۔ اسے دیکھ کر قابیل کو نہ صرف دفن کرنے کا طریقہ معلوم ہوا بلکہ پشیمانی بھی ہوئی۔

صفحہ 339 (المآئدۃ ۵)

عربی آیات:

قَالَ يٰوَيْلَتٰٓى اَعَجَزْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِثْلَ هٰذَا الْغُرَابِ فَاُوَارِيَ سَوْءَةَ اَخِيْ ۚ فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِيْنَ ﴿۳۱﴾ مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ ۛ كَتَبْنَا عَلٰي بَنِيْٓ اِسْرَآءِيْلَ اَنَّهٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًاۢ بِغَيْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِى الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيْعًا ۭ وَمَنْ اَحْيَاهَا فَكَاَنَّمَآ اَحْيَا النَّاسَ جَمِيْعًا ۭ وَلَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَيِّنٰتِ ۡ ثُمَّ اِنَّ كَثِيْرًا مِّنْهُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ فِى الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ ﴿۳۲﴾

اردو ترجمہ:

(یہ دیکھ کر) وہ بولا ”ہائے افسوس! کیا میں اس کوّے جیسا بھی نہ ہوسکا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپا دیتا۔“ اس طرح بعد میں وہ بڑا شرمندہ ہوا ﴿۳۱﴾ اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل کو یہ فرمان لکھ دیا تھا کہ جو کوئی کسی کو قتل کرے، جبکہ یہ قتل نہ کسی اور جان کا بدلہ لینے کے لئے ہو اور نہ کسی کے زمین میں فساد پھیلانے کی وجہ سے ہو، تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا، اور جو شخص کسی کی جان بچالے تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کی جان بچالی۔ (۲۵) اور واقعہ یہ ہے کہ ہمارے پیغمبر ان کے پاس کھلی کھلی ہدایات لے کر آئے، مگر اس کے بعد بھی ان میں سے بہت سے لوگ زمین میں زیادتیاں ہی کرتے رہے ہیں ﴿۳۲﴾

حاشیہ:

(۲۵) مطلب یہ ہے کہ ایک شخص کے خلاف قتل کا یہ جرم پوری انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ کیونکہ کوئی شخص قتلِ ناحق کا ارتکاب اسی وقت کرتا ہے جب اس کے دل سے انسان کی حرمت کا احساس مٹ جائے۔ ایسی صورت میں اگر اس کے مفاد یا سرشت کا تقاضا ہوگا تو وہ کسی اور کو بھی قتل کرنے سے دریغ نہیں کرے گا، اور اس طرح پوری انسانیت اس کی مجرمانہ ذہنیت کی زد میں رہے گی۔ نیز جب اس ذہنیت کا چلن عام ہوجائے تو تمام انسان غیر محفوظ ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا قتلِ ناحق کا ارتکاب چاہے کسی کے خلاف کیا گیا ہو، تمام انسانوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ یہ جرم ہم سب کے خلاف کیا گیا ہے۔


یہاں آپ کی فراہم کردہ تصاویر میں موجود متن کی ٹائپنگ ہے:

صفحہ ۳۴۰

لا یحب اللہ ۶ | 340| المآئدۃ ۵

إِنَّمَا جَزَاؤُا الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلَافٍ أَوْ يُنفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ۚ ذَٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ ﴿٣٣﴾ إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِن قَبْلِ أَن تَقْدِرُوا عَلَيْهِمْ ۖ فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿٣٤﴾ يَآ أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴿٣٥﴾

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑائی کرتے اور زمین میں فساد مچاتے پھرتے ہیں، ان کی سزا یہی ہے کہ انہیں قتل کر دیا جائے، یا سولی پر چڑھا دیا جائے، یا ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالے جائیں، یا انہیں زمین سے دُور کر دیا جائے۔ (۲۷) یہ تو دُنیا میں ان کی رُسوائی ہے، اور آخرت میں ان کے لئے زبردست عذاب ہے ﴿۳۳﴾ ہاں وہ لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں جو تمہارے اُن کو قابو میں لانے سے پہلے ہی توبہ کر لیں۔ (۲۸) ایسی صورت میں یہ جان رکھو کہ اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔ ﴿۳۴﴾

اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اور اس تک پہنچنے کے لئے وسیلہ تلاش کرو، (۲۹) اور اس کے راستے میں جہاد کرو۔ (۳۰) اُمید ہے کہ تمہیں فلاح حاصل ہوگی۔ ﴿۳۵﴾

(۲۶) پیچھے جہاں انسانی جان کی حرمت کا ذکر تھا وہاں یہ اشارہ بھی دیا گیا تھا کہ جولوگ زمین میں فساد مچاتے ہیں ان کی جان کو یہ حرمت حاصل نہیں ہے۔ اب ان کی مفصل سزا بیان کی جارہی ہے۔ مفسرین اور فقہاء کا اس بات پر تقریباً اتفاق ہے کہ اس آیت میں ان لوگوں سے مراد وہ ڈاکو ہیں جو اسلحے کے زور پر لوگوں کو لوٹتے ہیں۔ ان کے بارے میں جو یہ کہا گیا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑائی کرتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان کے قوانین کی بے حرمتی کرتے ہیں، اور ان کا لوگوں سے لڑنا گویا اللہ اور اس کے رسول سے لڑنا ہے۔ ان لوگوں کے

صفحہ ۳۴۱

لا یحب اللہ ۶ | 341 | المآئدۃ ۵

لئے اس آیت میں چار سزائیں بیان کی گئی ہیں۔ ان سزاؤں کی تشریح امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے یہ فرمائی ہے کہ اگر ان لوگوں نے کسی کو قتل کیا ہو، مگر مال لوٹنے کی نوبت نہ آئی ہو تو انہیں قتل کیا جائے گا، مگر یہ قتل کرنا حدِ شرعی کے طور پر ہوگا، قصاص کے طور پر نہیں، جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اگر مقتول کے وارث معاف بھی کرنا چاہیں تو ان کی معافی نہیں ہوگی۔ اور اگر ڈاکوؤں نے کسی کو قتل بھی کیا ہو اور مال بھی لوٹا ہو تو انہیں سولی پر لٹکا کر ہلاک کیا جائے گا، اور اگر مال لوٹا ہو اور کسی کو قتل نہ کیا ہو تو ان کا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹا جائے گا۔ اور اگر انہوں نے لوگوں کو صرف ڈرایا دھمکایا ہو، نہ مال لوٹنے کی نوبت آئی ہو، نہ کسی کو قتل کرنے کی تو چوتھی سزا دی جائے گی جس کی تشریح اگلے حاشیے میں آرہی ہے۔ یہاں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ قرآن کریم نے ان جرائم کی سزائیں اصولی طور پر بیان فرمائی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث میں تفصیل بیان فرمائی ہے کہ ان سخت سزاؤں پر عمل درآمد کے لئے کیا شرائط ہیں۔ فقہ کی کتابوں میں یہ ساری تفصیل آئی ہے۔ یہ شرائط اتنی کڑی ہیں کہ کسی مقدمے میں ان کا پورا ہونا آسان نہیں، کیونکہ مقصد ہی یہ ہے کہ یہ سزائیں کم سے کم جاری ہوں، مگر جب جاری ہوں تو دوسرے مجرموں کے لئے سامانِ عبرت بن جائیں۔

(۲۷) یہ قرآنی الفاظ کا لفظی ترجمہ ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے ”زمین سے دُور کرنے“ کی تشریح یہ کی ہے کہ انہیں قید خانے میں بند کر دیا جائے گا۔ یہ تشریح حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف بھی منسوب ہے۔ دوسرے فقہاء نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ انہیں جلاوطن کر دیا جائے گا۔

(۲۸) مطلب یہ ہے کہ اگر وہ گرفتار ہونے سے پہلے ہی توبہ کرلیں اور اپنے آپ کو حکام کے حوالے کردیں تو ان کی مذکورہ سزائیں معاف ہو جائیں گی۔ البتہ چونکہ بندوں کے حقوق صرف توبہ سے معاف نہیں ہوتے، اس لئے اگر انہوں نے مال لوٹا ہے تو وہ مالک کو لوٹانا ہوگا، اور اگر کسی کو قتل کیا ہے تو اس کے وارثوں کو حق ملے گا کہ وہ ان کو قصاص کے طور پر قتل کرنے کا مطالبہ کریں۔ ہاں اگر وہ بھی معاف کردیں یا قصاص کے بدلے خون بہا لینے پر راضی ہو جائیں تو ان کی جان بخشی ہو سکتی ہے۔

(۲۹) ”وسیلہ“ سے یہاں مراد ہر وہ نیک عمل ہے جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا ذریعہ بن سکے، اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے نیک اعمال کو وسیلہ بناؤ۔

(۳۰) ”جہاد“ کے لفظی معنی کوشش اور محنت کرنے کے ہیں۔ قرآنی اصطلاح میں اس کے معنی عام طور سے اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے دشمنوں سے لڑنے کے آتے ہیں، لیکن بعض مرتبہ دین پر عمل کرنے کے لئے ہر قسم کی کوشش کو بھی ”جہاد“ کہا جاتا ہے۔ یہاں دونوں معنی مراد ہو سکتے ہیں۔

صفحہ ۳۴۲

لا یحب اللہ ۶ | 342 | المآئدۃ ۵

إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ أَنَّ لَهُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا وَمِثْلَهُ مَعَهُ لِيَفْتَدُوا بِهِ مِنْ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿٣٦﴾ يُرِيدُونَ أَن يَخْرُجُوا مِنَ النَّارِ وَمَا هُم بِخَارِجِينَ مِنْهَا ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّقِيمٌ ﴿٣٧﴾ وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا جَزَآءً بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ﴿٣٨﴾ فَمَن تَابَ مِن بَعْدِ ظُلْمِهِ وَأَصْلَحَ فَإِنَّ اللَّهَ يَتُوبُ عَلَيْهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿٣٩﴾ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يُعَذِّبُ مَن يَشَاءُ وَيَغْفِرُ لِمَن يَشَاءُ ۗ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ﴿٤٠﴾

یقین رکھو کہ جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، اگر زمین میں جتنی چیزیں ہیں وہ سب ان کے پاس ہوں، اور اتنی ہی اور بھی ہوں، تاکہ وہ قیامت کے دن کے عذاب سے بچنے کے لئے وہ سب فدیہ میں پیش کردیں، تب بھی ان کی یہ پیشکش قبول نہیں کی جائے گی، اور ان کو دردناک عذاب ہوگا ﴿۳۶﴾ وہ چاہیں گے کہ آگ سے نکل جائیں، حالانکہ وہ اس سے نکلنے والے نہیں ہیں، اور ان کو ایسا عذاب ہوگا جو قائم رہے گا ﴿۳۷﴾ اور جو مرد چوری کرے اور جو عورت چوری کرے، دونوں کے ہاتھ کاٹ دو، تاکہ ان کو اپنے کئے کا بدلہ ملے، اور اللہ کی طرف سے عبرتناک سزا ہو۔ اور اللہ صاحبِ اقتدار بھی ہے، صاحبِ حکمت بھی ﴿۳۸﴾ پھر جو شخص اپنی ظالمانہ کارروائی سے توبہ کرلے، اور معاملات درست کرلے، تو اللہ اس کی توبہ قبول کر لے گا۔ (۳۱) بیشک اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے ﴿۳۹﴾ کیا تم نہیں جانتے کہ آسمانوں اور زمین کی حکمرانی صرف اللہ کے پاس ہے؟ وہ جس کو چاہے عذاب دے، اور جس کو چاہے بخش دے، اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ ﴿۴۰﴾

(۳۱) ڈاکے کی سزا میں بھی اوپر توبہ کا ذکر آیا تھا، مگر وہاں توبہ کا اثر یہ تھا کہ گرفتاری سے پہلے توبہ کرلینے سے حد

صفحہ ۳۴۳

لا یحب اللہ ۶ | 343 | المآئدۃ ۵

يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ لَا يَحْزُنكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ مِنَ الَّذِينَ قَالُوا آمَنَّا بِأَفْوَاهِهِمْ وَلَمْ تُؤْمِن قُلُوبُهُمْ ۛ وَمِنَ الَّذِينَ هَادُوا ۛ سَمَّاعُونَ لِلْكَذِبِ سَمَّاعُونَ لِقَوْمٍ آخَرِينَ لَمْ يَأْتُوكَ ۖ يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ مِن بَعْدِ مَوَاضِعِهِ ۖ

اے پیغمبر! جو لوگ کفر میں بڑی تیزی دکھا رہے ہیں، وہ تمہیں غم میں مبتلا نہ کریں، (۳۲) یعنی ایک تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے زبان سے تو کہہ دیا ہے کہ ہم ایمان لے آئے ہیں، مگر ان کے دل ایمان نہیں لائے، اور دوسرے وہ لوگ ہیں جنہوں نے (کھلے بندوں) یہودیت کا دین اختیار کر لیا ہے۔ یہ لوگ جھوٹی باتیں کان لگا لگا کر سننے والے ہیں، (۳۳) (اور تمہاری باتیں) ان لوگوں کی خاطر سنتے ہیں جو تمہارے پاس نہیں آئے، (۳۴) جو (اللہ کی کتاب کے) الفاظ کا موقع محل طے ہو جانے کے بعد بھی ان میں تحریف کرتے ہیں۔

کی سزا معاف ہو جاتی تھی۔ یہاں اس قسم کے الفاظ نہیں ہیں۔ لہٰذا امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی تشریح کے مطابق چور کی سزا توبہ سے معاف نہیں ہوتی، چاہے وہ گرفتاری سے پہلے توبہ کرلے۔ یہاں صرف یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ اس توبہ کا اثر آخرت میں جاری ہوگا کہ اس کا گناہ معاف کر دیا جائے گا۔ اس کے لئے بھی آیت میں دو شرطیں بیان کی گئی ہیں، ایک یہ کہ وہ دل سے شرمندہ ہو کر توبہ کرے، اور دوسرے یہ کہ اپنے معاملات درست کرلے۔ اس میں یہ بات بھی داخل ہے کہ جن جن کا سامان چرایا تھا، ان کو وہ سامان واپس کرے، الا یہ کہ وہ معاف کردیں۔

(۳۲) یہاں سے آیت نمبر 50 تک کی آیتیں کچھ خاص واقعات کے پس منظر میں نازل ہوئی ہیں جن میں کچھ یہودیوں نے اپنے کچھ جھگڑے اس اُمید پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لانے کا ارادہ کیا تھا کہ آپ ان کا فیصلہ ان کی خواہش کے مطابق کریں گے۔ ان میں سے ایک واقعہ تو یہ تھا کہ خیبر کے دو شادی شدہ یہودی مرد و عورت نے زنا کر لیا تھا جس کی سزا خود تورات میں یہ مقرر تھی کہ ایسے مرد و عورت کو سنگسار کر کے ہلاک کیا

جائے۔ یہ سزا موجودہ تورات میں بھی موجود ہے (دیکھئے : استثنا ۲۲: ۲۳ و ۲۴)۔ لیکن یہودیوں نے اس کو چھوڑ کر کوڑوں اور منہ کالا کرنے کی سزا مقرر کر رکھی تھی۔ شاید وہ یہ چاہتے تھے کہ اس سزا میں بھی کمی ہو جائے، اس لئے انہوں نے یہ سوچا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت میں بہت سے احکام تورات کے احکام کے مقابلے میں نرم ہیں، اس لئے اگر آپ سے فیصلہ کرایا جائے تو شاید آپ کوئی نرم فیصلہ کریں۔ اس غرض کے لئے خیبر کے یہودیوں نے مدینہ منورہ میں رہنے والے کچھ یہودیوں کو جن میں سے کچھ منافق بھی تھے ان مجرموں کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، مگر ساتھ ہی انہیں یہ تاکید کی کہ اگر آپ سنگساری کے سوا کوئی اور فیصلہ کریں تو اسے قبول کر لینا، اور اگر سنگساری کا فیصلہ کریں تو قبول مت کرنا۔ چنانچہ یہ لوگ آپ کے پاس آئے۔ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بتا دیا گیا تھا کہ اس کی سزا سنگساری ہے جسے سن کر وہ بوکھلا گئے۔ آپ نے انہی سے پوچھا کہ تورات میں اس کی سزا کیا ہے؟ شروع میں انہوں نے چھپانے کی کوشش کی، مگر آخر میں جب آپ نے ان کے ایک بڑے عالم ابن صوریا کو قسم دی اور حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے جو پہلے خود یہودی عالم تھے، ان کا پول کھول دیا تو وہ مجبور ہو گیا اور اس نے تورات کی وہ آیت پڑھ دی جس میں زنا کی سزا سنگساری بیان کی گئی تھی۔ اور یہ بھی بتایا کہ تورات کا حکم تو یہی تھا، مگر ہم میں سے غریب لوگ یہ جرم کرتے تو یہ سزا ان پر جاری کی جاتی تھی، اور کوئی مال دار یا باعزت گھرانے کا آدمی یہ جرم کرتا تو اسے کوڑوں وغیرہ کی سزا دے دیا کرتے تھے۔ پھر رفتہ رفتہ سبھی کے لئے سنگساری کی سزا کو چھوڑ دیا گیا۔ اسی قسم کا ایک دوسرا واقعہ بھی پیش آیا تھا جس کی تفصیل نیچے آیت نمبر 45 کے حاشیے میں آرہی ہے۔

(۳۳) یعنی یہودیوں کے پیشوا جو جھوٹی بات تورات کی طرف منسوب کر کے بیان کر دیتے ہیں، اور وہ ان کی خواہشات کے مطابق ہوتی ہے تو یہ اسے بڑے شوق سے سنتے اور اس پر یقین کرلیتے ہیں، چاہے وہ تورات کے صاف اور صریح احکام کے خلاف ہو اور یہ لوگ جانتے ہوں کہ ان کے پیشواؤں نے رشوت لے کر یہ بات بیان کی ہے۔

(۳۴) اس سے ان یہودیوں کی طرف اشارہ ہے جو خود تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں آئے، لیکن ان یہودیوں اور منافقوں کو آپ کے پاس بھیج دیا۔ جو لوگ آئے تھے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بات اس لئے سننے آئے تھے کہ آپ کا موقف سننے کے بعد ان لوگوں کو مطلع کریں جنہوں نے ان کو بھیجا تھا۔




یہاں آپ کی فراہم کردہ تصاویر میں موجود متن کی مکمل ٹائپنگ دی گئی ہے:

صفحہ نمبر 345

لَا یُحِبُّ اللّٰهُ ۶ (پارہ) 345 المآئدۃ ۵ (سورۃ)

يَقُولُونَ إِنْ أُوتِيتُمْ هَذَا فَخُذُوهُ وَإِن لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوا ۚ وَمَن يُرِدِ اللَّهُ فِتْنَتَهُ فَلَن تَمْلِكَ لَهُ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ۚ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ لَمْ يُرِدِ اللَّهُ أَن يُطَهِّرَ قُلُوبَهُمْ ۚ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ ۖ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ ﴿٤١﴾ سَمَّاعُونَ لِلْكَذِبِ أَكَّالُونَ لِلسُّحْتِ ۚ فَإِن جَاءُوكَ فَاحْكُم بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ ۖ وَإِن تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَن يَضُرُّوكَ شَيْئًا ۖ وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُم بَيْنَهُم بِالْقِسْطِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ ﴿٤٢﴾

کہتے ہیں کہ اگر تمہیں یہ حکم دیا جائے تو اس کو قبول کر لینا، اور اگر یہ حکم نہ دیا جائے تو بچ کر رہنا۔ اور جس شخص کو اللہ فتنے میں ڈالنے کا ارادہ کرلے تو اسے اللہ سے بچانے کے لئے تمہارا کوئی زور ہرگز نہیں چل سکتا۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ (ان کی نافرمانی کی وجہ سے) اللہ نے ان کے دلوں کو پاک کرنے کا ارادہ نہیں کیا (۳۵)۔ ان کے لئے دُنیا میں رُسوائی ہے، اور انہی کے لئے آخرت میں زبردست عذاب ہے ﴿٤١﴾ یہ کان لگا لگا کر جھوٹی باتیں سننے والے، جی بھر بھر کر حرام کھانے والے ہیں (۳۶)۔ چنانچہ اگر یہ تمہارے پاس آئیں تو چاہے ان کے درمیان فیصلہ کردو، اور چاہے ان سے منہ موڑ لو (۳۷)۔ اگر تم ان سے منہ موڑ لوگے تو یہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے، اور اگر فیصلہ کرنا ہو تو انصاف سے فیصلہ کرو۔ یقیناً اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے ﴿٤٢﴾

(۳۵) چونکہ یہ دُنیا آزمائش ہی کے لئے بنائی گئی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کسی ایسے شخص کو زبردستی راہِ راست پر لاکر اس کے دل کو پاک نہیں کرتا جو ضد پر اڑا ہوا ہو۔ یہ پاکیزگی انہی کو عطا ہوتی ہے جو حق کی طلب رکھتے ہوں، اور خلوص کے ساتھ اسے قبول کریں۔

(۳۶) یہاں حرام سے مراد وہ رشوت ہے جس کی خاطر یہودی پیشوا تورات کے احکام میں تبدیلیاں کر دیتے تھے۔

(۳۷) جو یہودی فیصلہ کرانے آئے تھے ان سے جنگ بندی کا معاہدہ تو تھا، مگر وہ باقاعدہ اسلامی حکومت کے شہری نہیں تھے۔ اس لئے آپ کو یہ اختیار دیا گیا کہ چاہیں تو ان کا فیصلہ کردیں اور چاہیں تو انکار فرمادیں۔ ورنہ جو غیر مسلم

صفحہ نمبر 346

لَا یُحِبُّ اللّٰهُ ۶ (پارہ) 346 المآئدۃ ۵ (سورۃ)

وَكَيْفَ يُحَكِّمُونَكَ وَعِندَهُمُ التَّوْرَاةُ فِيهَا حُكْمُ اللَّهِ ثُمَّ يَتَوَلَّوْنَ مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ ۚ وَمَا أُولَٰئِكَ بِالْمُؤْمِنِينَ ﴿٤٣﴾ إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ ۚ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا لِلَّذِينَ هَادُوا وَالرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوا مِن كِتَابِ اللَّهِ وَكَانُوا عَلَيْهِ شُهَدَاءَ ۚ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا ۚ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ ﴿٤٤﴾

اور یہ کیسے تم سے فیصلہ لینا چاہتے ہیں جبکہ ان کے پاس تورات موجود ہے جس میں اللہ کا فیصلہ درج ہے؟ پھر اس کے بعد (فیصلے سے) منہ بھی پھیر لیتے ہیں (۳۸)۔ دراصل یہ ایمان والے نہیں ہیں ﴿٤٣﴾ بیشک ہم نے تورات نازل کی تھی جس میں ہدایت تھی اور نور تھا۔ تمام نبی جو اللہ تعالیٰ کے فرماں بردار تھے، اسی کے مطابق یہودیوں کے معاملات کا فیصلہ کرتے تھے، اور تمام اللہ والے اور علماء بھی (اسی پر عمل کرتے رہے) کیونکہ ان کو اللہ کی کتاب کا محافظ بنایا گیا تھا، اور وہ اس کے گواہ تھے۔ لہٰذا (اے یہودیو!) تم لوگوں سے نہ ڈرو، اور مجھ سے ڈرو، اور تھوڑی سی قیمت لینے کی خاطر میری آیتوں کا سودا نہ کیا کرو۔ اور جو لوگ اللہ کے نازل کئے ہوئے حکم کے مطابق فیصلہ نہ کریں، وہ لوگ کافر ہیں ﴿٤٤﴾

اسلامی حکومت کے باقاعدہ شہری بن جائیں، ملک کے عام قوانین میں ان کا فیصلہ بھی اسلامی شریعت کے مطابق ہی کرنا ضروری ہے جیسا کہ آگے آرہا ہے۔ البتہ ان کے خاص مذہبی قوانین جو نکاح، طلاق اور وراثت وغیرہ سے متعلق ہیں، ان میں انہی کے مذہب کے مطابق فیصلہ انہی کے ججوں کے ذریعے کروایا جاتا ہے۔

(۳۸) اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ تورات کے احکام سے منہ موڑ لیتے ہیں، اور یہ بھی کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے فیصلے کی خود درخواست کرنے کے باوجود جب آپ فیصلہ سناتے ہیں تو اس سے منہ موڑ لیتے ہیں۔

صفحہ نمبر 347

لَا یُحِبُّ اللّٰهُ ۶ (پارہ) 347 المآئدۃ ۵ (سورۃ)

وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْأَنفَ بِالْأَنفِ وَالْأُذُنَ بِالْأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ ۚ فَمَن تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهُ ۚ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ ﴿٤٥﴾

اور ہم نے اس (تورات میں) ان کے لئے یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت۔ اور زخموں کا بھی (اسی طرح) بدلہ لیا جائے۔ ہاں جو شخص اس (بدلے) کو معاف کردے تو یہ اس کے لئے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا۔ اور جو لوگ اللہ کے نازل کئے ہوئے حکم کے مطابق فیصلہ نہ کریں، وہ لوگ ظالم ہیں (۳۹) ﴿٤٥﴾

(۳۹) دوسرا واقعہ ان آیات کے پس منظر میں یہ ہے کہ مدینہ منورہ میں یہودیوں کے دو قبیلے آباد تھے، ایک بنو قریظہ اور دوسرے بنو نضیر۔ بنو نضیر کے لوگ مال دار تھے، اور بنو قریظہ کے لوگ مالی اعتبار سے ان کے مقابلے میں کمزور تھے۔ اگرچہ دونوں یہودی تھے، مگر بنو نضیر نے ان کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر ان سے یہ ظالمانہ اصول طے کرالیا تھا کہ اگر بنو نضیر کا کوئی آدمی بنو قریظہ کے کسی شخص کو قتل کرے گا تو قاتل سے جان کے بدلے جان کے اصول پر قصاص نہیں لیا جائے گا، بلکہ وہ خوں بہا کے طور پر ستر وسق کھجوریں دے گا (وسق ایک پیمانہ تھا جو تقریباً پانچ من دس سیر کا ہوتا تھا)، اور اگر بنو قریظہ کا کوئی آدمی بنو نضیر کے کسی شخص کو قتل کرے گا تو نہ صرف یہ کہ قاتل کو قصاص میں قتل کیا جائے گا، بلکہ اس سے خوں بہا بھی لیا جائے گا، اور وہ بھی دُگنا۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو ایک واقعہ ایسا پیش آیا کہ قریظہ کے کسی شخص نے بنو نضیر کے ایک آدمی کو قتل کردیا۔ بنو نضیر نے جب اپنی سابق قرارداد کے مطابق قصاص اور خوں بہا دونوں کا مطالبہ کیا تو قریظہ کے لوگوں نے اسے انصاف کے خلاف قرار دیا اور تجویز پیش کی کہ فیصلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کرایا جائے، کیونکہ اتنا وہ بھی جانتے تھے کہ آپ کا دین انصاف کا دین ہے۔ جب قریظہ کے لوگوں نے زیادہ اصرار کیا تو بنو نضیر نے کچھ منافقین کو مقرر کیا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے غیر رسمی طور پر آپ کا عندیہ معلوم کریں، اور اگر آپ کا عندیہ بنو نضیر کے حق میں ہو تو فیصلہ ان سے کرائیں، ورنہ ان سے فیصلہ نہ لیں۔ اس پس منظر میں یہ آیت بتارہی ہے کہ تورات نے تو واضح طور پر فیصلہ دیا ہوا ہے کہ جان کے بدلے جان لینی ہے، اور اس لحاظ سے بنو نضیر کا مطالبہ سراسر ظالمانہ اور تورات کے خلاف ہے۔

صفحہ نمبر 348

لَا یُحِبُّ اللّٰهُ ۶ (پارہ) 348 المآئدۃ ۵ (سورۃ)

وَقَفَّيْنَا عَلَىٰ آثَارِهِم بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ ۖ وَآتَيْنَاهُ الْإِنجِيلَ فِيهِ هُدًى وَنُورٌ وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِينَ ﴿٤٦﴾ وَلْيَحْكُمْ أَهْلُ الْإِنجِيلِ بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فِيهِ ۚ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ﴿٤٧﴾ وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْكِتَابِ وَمُهَيْمِنًا عَلَيْهِ ۖ فَاحْكُم بَيْنَهُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ عَمَّا جَاءَكَ مِنَ الْحَقِّ ۚ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا ۚ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَٰكِن لِّيَبْلُوَكُمْ فِي مَا آتَاكُمْ ۖ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ ۚ

اور ہم نے ان (پیغمبروں) کے بعد عیسیٰ ابن مریم کو اپنے سے پہلی کتاب یعنی تورات کی تصدیق کرنے والا بنا کر بھیجا، اور ہم نے ان کو انجیل عطا کی جس میں ہدایت تھی اور نور تھا، اور جو اپنے سے پہلی کتاب یعنی تورات کی تصدیق کرنے والی اور متقیوں کے لئے سراپا ہدایت ونصیحت بن کر آئی تھی ﴿٤٦﴾ اور انجیل والوں کو چاہئے کہ اللہ نے اس میں جو کچھ نازل کیا ہے، اس کے مطابق فیصلہ کریں، اور جو لوگ اللہ کے نازل کئے ہوئے حکم کے مطابق فیصلہ نہ کریں، وہ لوگ فاسق ہیں ﴿٤٧﴾

اور (اے رسول محمد! صلی اللہ علیہ وسلم) ہم نے تم پر بھی حق پر مشتمل کتاب نازل کی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور ان کی نگہبان ہے۔ لہٰذا ان لوگوں کے درمیان اسی حکم کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ نے نازل کیا ہے، اور جو حق بات تمہارے پاس آگئی ہے اسے چھوڑ کر ان کی خواہشات کے پیچھے نہ چلو۔ تم میں سے ہر ایک (اُمت) کے لئے ہم نے ایک (الگ) شریعت اور طریقہ مقرر کیا ہے (۴۰)۔ اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک اُمت بنا دیتا، لیکن (الگ شریعتیں اس لئے دیں) تاکہ جو کچھ اس نے تمہیں دیا ہے اس میں تمہیں آزمائے۔ لہٰذا نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔

(۴۰) یہودی اور عیسائی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو قبول کرنے سے جو انکار کرتے تھے اس کی ایک (بقیہ حاشیہ اگلے صفحے پر)

صفحہ نمبر 349

لَا یُحِبُّ اللّٰهُ ۶ (پارہ) 349 المآئدۃ ۵ (سورۃ)

إِلَى اللَّهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ ﴿٤٨﴾ وَأَنِ احْكُم بَيْنَهُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ وَاحْذَرْهُمْ أَن يَفْتِنُوكَ عَن بَعْضِ مَا أَنزَلَ اللَّهُ إِلَيْكَ ۖ

اللہ ہی کی طرف تم سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ اُس وقت وہ تمہیں وہ باتیں بتائے گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے ﴿٤٨﴾ اور (ہم حکم دیتے ہیں) کہ تم ان لوگوں کے درمیان اسی حکم کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ نے نازل کیا ہے اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو، اور ان کی اس بات سے بچ کر رہو کہ وہ تمہیں فتنے میں ڈال کر کسی ایسے حکم سے ہٹا دیں جو اللہ نے تم پر نازل کیا ہو۔

(گزشتہ صفحے کا بقیہ حاشیہ ۴۰)

وجہ یہ تھی کہ اسلام میں عبادت کے طریقے اور بعض دوسرے احکام حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کی شریعت سے مختلف تھے، اور ان لوگوں کو ان نئے احکام پر عمل کرنا بھاری معلوم ہوتا تھا۔ اس آیت نے واضح فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے تحت مختلف پیغمبروں کو الگ الگ شریعتیں عطا فرمائی ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ تو ہے ہی کہ ہر زمانے کے تقاضے الگ ہوتے ہیں، لیکن ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعے یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ عبادت کا کوئی ایک طریقہ یا کوئی ایک قانون اپنی ذات میں کوئی تقدس نہیں رکھتا، اس میں جو کچھ تقدس پیدا ہوتا ہے وہ اللہ کے حکم سے پیدا ہوتا ہے۔ لہٰذا جس زمانے میں اللہ تعالیٰ جو حکم دے دیں وہی اس زمانے میں تقدس کا حامل ہے۔ اب ہوتا یہ ہے کہ جو لوگ ایک طریقے کے عادی ہوجاتے ہیں، وہ اسی کو ذاتی طور پر مقدس سمجھ بیٹھتے ہیں، اور جب کوئی نیا پیغمبر نئی شریعت لے کر آتا ہے تو ان کا امتحان ہوتا ہے کہ وہ پرانے طریقے کو ذاتی طور پر مقدس سمجھ کر نئے طریقے کا انکار کر بیٹھتے ہیں یا اللہ کے حکم کو اصل تقدس کا حامل سمجھ کر نئے حکم کو دل و جان سے تسلیم کرتے ہیں۔ آگے جو ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ”لیکن (تمہیں الگ شریعتیں اس لئے دیں) تاکہ جو کچھ اس نے تمہیں دیا ہے اس میں تمہیں آزمائے“ اس کا یہی مطلب ہے۔

(۴۱) یہ حکم اس صورت میں ہے جب غیر مسلم لوگ اسلامی حکومت کے باقاعدہ شہری بن جائیں جن کو فقہی اصطلاح میں ”ذمی“ کہا جاتا ہے، یا اس صورت میں جب وہ اپنی رضامندی سے اپنا فیصلہ مسلمان قاضی سے کروانا چاہیں۔ ایسی صورت میں مسلمان قاضی عام ملکی قوانین میں فیصلہ اسلامی شریعت کے مطابق کرے گا۔ البتہ ان کے خالص مذہبی معاملات مثلاً عبادات، نکاح، طلاق اور وراثت میں انہیں اپنے مذہب کے مطابق فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہوگا۔ مگر یہ فیصلہ انہی کے افراد کریں گے۔

صفحہ ۳۵۰

قرآنی آیات:

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اَنَّمَا يُرِيدُ اللّٰهُ اَنْ يُصِيْبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوْبِهِمْ ۗ وَاِنَّ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُونَ ﴿۴۹﴾ اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ ۗ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُّوقِنُونَ ﴿۵۰﴾ يٰٓاَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصٰرٰى اَوْلِيَآءَ ۘ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ ۗ وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ ۗ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِينَ ﴿۵۱﴾

ترجمہ:

اس پر اگر وہ منہ موڑیں تو جان رکھو کہ اللہ نے ان کے بعض گناہوں کی وجہ سے ان کو مصیبت میں مبتلا کرنے کا ارادہ کر رکھا ہے۔(۴۲) اور ان لوگوں میں سے بہت سے فاسق ہیں ﴿۴۹﴾ بھلا کیا یہ جاہلیت کا فیصلہ حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ حالانکہ جو لوگ یقین رکھتے ہوں ان کے لئے اللہ سے اچھا فیصلہ کرنے والا کون ہوسکتا ہے؟ ﴿۵۰﴾

اے ایمان والو! یہودیوں اور نصرانیوں کو یار و مددگار نہ بناؤ۔(۴۳) یہ خود ہی ایک دوسرے کے یار و مددگار ہیں۔ اور تم میں سے جو شخص ان کی دوستی کا دم بھرے گا تو پھر وہ انہی میں سے ہوگا۔ یقیناً اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا ﴿۵۱﴾

حواشی:

(۴۲) ”بعض گناہ“ اس لئے فرمایا کہ تمام گناہوں کی سزا تو آخرت میں ملنی ہے۔ البتہ اللہ اور رسول کے فیصلے سے منہ موڑنے کی سزا ان کو دُنیا میں بھی ملنے والی ہے۔ چنانچہ کچھ عرصہ بعد ان کی عہد شکنی اور سازشوں کے نتیجے میں ان کو جلاوطنی اور قتل کی سزائیں دُنیا ہی میں مل گئیں۔

(۴۳) اس آیت کی تشریح اور غیر مسلموں سے تعلقات کی حدود کی تفصیل کے لئے دیکھئے سورۃ آل عمران (۲۸:۳) کا حاشیہ۔

صفحہ ۳۵۱

قرآنی آیات:

فَتَرَى الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ يُّسَارِعُونَ فِيهِمْ يَقُولُونَ نَخْشٰى اَنْ تُصِيبَنَا دَآئِرَةٌ ۗ فَعَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّأْتِيَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِهٖ فَيُصْبِحُوا عَلٰى مَآ اَسَرُّوا فِي اَنْفُسِهِمْ نٰدِمِينَ ﴿۵۲﴾ وَيَقُولُ الَّذِينَ اٰمَنُوْا اَهٰٓؤُلَآءِ الَّذِينَ اَقْسَمُوا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ ۙ اِنَّهُمْ لَمَعَكُمْ ۗ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَاَصْبَحُوا خٰسِرِينَ ﴿۵۳﴾ يٰٓاَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوا مَنْ يَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهٖ فَسَوْفَ يَأْتِي اللّٰهُ بِقَوْمٍ يُّحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهٗ ۙ اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ اَعِزَّةٍ عَلَى الْكٰفِرِينَ ۖ

ترجمہ:

چنانچہ جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) روگ ہے، تم انہیں دیکھتے ہو کہ وہ لپک لپک کر اُن میں گھستے ہیں، کہتے ہیں: ”ہمیں ڈر ہے کہ ہم پر کوئی مصیبت کا چکر آ پڑے گا“(۴۴) (لیکن) کچھ بعید نہیں کہ اللہ (مسلمانوں کو) فتح عطا فرمائے یا اپنی طرف سے کوئی اور بات ظاہر کردے(۴۵)، اور اُس وقت یہ لوگ اُس بات پر پچھتائیں جو انہوں نے اپنے دلوں میں چھپا رکھی تھی ﴿۵۲﴾

اور (اس وقت) ایمان والے (ایک دوسرے سے) کہیں گے کہ کیا یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے بڑے زور و شور سے اللہ کی قسمیں کھائی تھیں کہ وہ تمہارے ساتھ ہیں۔ ان کے اعمال غارت ہو گئے، اور وہ نامراد ہو کر رہے ﴿۵۳﴾ اے ایمان والو! اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھر جائے گا تو اللہ ایسے لوگ پیدا کردے گا جن سے وہ محبت کرتا ہوگا، اور وہ اس سے محبت کرتے ہوں گے، جو مومنوں کے لئے نرم اور کافروں کے لئے سخت ہوں گے،

حواشی:

(۴۴) یہ منافقین کا ذکر ہے جو یہود و نصاریٰ سے ہر وقت گھلے ملے رہتے اور ان کی سازشوں میں شریک رہتے تھے، اور جب ان پر اعتراض ہوتا تو وہ جواب دیتے کہ اگر ہم ان سے تعلقات نہ رکھیں گے تو ان کی طرف سے ہمیں تنگ کیا جائے گا اور ہم کسی مصیبت میں گرفتار ہو سکتے ہیں۔ اور ان کے دل میں یہ نیت ہوتی تھی کہ کسی وقت مسلمان ان کے ہاتھوں مغلوب ہو جائیں گے تو ہمیں بالآخر انہی سے واسطہ پڑے گا۔

(۴۵) ”کوئی اور بات ظاہر کرنے“ سے مراد غالباً یہ ہے کہ ان کے پول وحی کے ذریعے کھول دیئے جائیں اور ان کی رسوائی ہو۔

صفحہ ۳۵۲

قرآنی آیات:

يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَآئِمٍ ۗ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَّشَآءُ ۗ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ ﴿۵۴﴾ اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّٰهُ وَرَسُولُهٗ وَالَّذِينَ اٰمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلٰوةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكٰوةَ وَهُمْ رٰكِعُونَ ﴿۵۵﴾ وَمَنْ يَّتَوَلَّ اللّٰهَ وَرَسُولَهٗ وَالَّذِينَ اٰمَنُوا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْغٰلِبُونَ ﴿۵۶﴾

يٰٓاَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَكُمْ هُزُوًا وَّلَعِبًا مِّنَ الَّذِينَ اُوتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَالْكُفَّارَ اَوْلِيَآءَ ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِينَ ﴿۵۷﴾ وَاِذَا نَادَيْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ اتَّخَذُوهَا هُزُوًا وَّلَعِبًا ۗ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْقِلُونَ ﴿۵۸﴾

ترجمہ:

اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے، اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔ یہ اللہ کا فضل ہے جو وہ جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور اللہ بڑی وسعت والا، بڑے علم والا ہے ﴿۵۴﴾ (مسلمانو!) تمہارے یار و مددگار تو اللہ، اس کے رسول اور وہ ایمان والے ہیں جو اس طرح نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں کہ وہ (دل سے) اللہ کے آگے جھکے ہوئے ہوتے ہیں ﴿۵۵﴾ اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو اور ایمان والوں کو دوست بنائے تو (وہ اللہ کی جماعت میں شامل ہو جاتا ہے اور) اللہ کی جماعت ہی غلبہ پانے والی ہے۔ ﴿۵۶﴾

اے ایمان والو! جن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی ان میں سے ایسے لوگوں کو جنہوں نے تمہارے دین کو مذاق اور کھیل بنا رکھا ہے اور کافروں کو یار و مددگار نہ بناؤ، اور اگر تم واقعی صاحب ایمان ہو تو اللہ سے ڈرتے رہو ﴿۵۷﴾ اور جب تم نماز کے لئے (لوگوں کو) پکارتے ہو تو وہ اس (پکار) کو مذاق اور کھیل کا نشانہ بناتے ہیں۔ یہ سب (حرکتیں) اس وجہ سے ہیں کہ ان لوگوں کو عقل نہیں ہے۔ ﴿۵۸﴾

صفحہ ۳۵۳

قرآنی آیات:

قُلْ يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ هَلْ تَنْقِمُونَ مِنَّآ اِلَّآ اَنْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْنَا وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ ۙ وَاَنَّ اَكْثَرَكُمْ فٰسِقُونَ ﴿۵۹﴾ قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ مَثُوبَةً عِنْدَ اللّٰهِ ۗ مَنْ لَّعَنَهُ اللّٰهُ وَغَضِبَ عَلَيْهِ وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوتَ ۗ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّاَضَلُّ عَنْ سَوَآءِ السَّبِيلِ ﴿۶۰﴾ وَاِذَا جَآءُوكُمْ قَالُوٓا اٰمَنَّا وَقَدْ دَّخَلُوا بِالْكُفْرِ وَهُمْ قَدْ خَرَجُوا بِهٖ ۗ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا كَانُوا يَكْتُمُونَ ﴿۶۱﴾ وَتَرٰى كَثِيراً مِّنْهُمْ يُسَارِعُونَ فِي الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاَكْلِهِمُ السُّحْتَ ۗ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿۶۲﴾

ترجمہ:

تم (ان سے) کہو کہ: ”اے اہل کتاب! تمہیں اس کے سوا ہماری کونسی بات بُری لگتی ہے کہ ہم اللہ پر اور جو کلام ہم پر اتارا گیا اس پر اور جو پہلے اتارا گیا تھا اُس پر ایمان لے آئے ہیں، جبکہ تم میں سے اکثر لوگ نافرمان ہیں؟“ ﴿۵۹﴾ (اے پیغمبر! ان سے) کہو کہ: ”کیا میں تمہیں بتاؤں کہ (جس بات کو تم برا سمجھ رہے ہو) اس سے زیادہ برے انجام والے کون ہیں؟ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے پھٹکار ڈالی، جن پر اپنا غضب نازل کیا، جن میں سے لوگوں کو بندر اور سور بنایا، اور جنہوں نے شیطان کی پرستش کی! وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا بھی بدترین ہے اور وہ سیدھے راستے سے بھی بہت بھٹکے ہوئے ہیں۔“ ﴿۶۰﴾

اور جب یہ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ”ہم ایمان لے آئے ہیں“ حالانکہ یہ کفر لے کر ہی آئے تھے، اور اسی کفر کو لے کر باہر نکلے ہیں۔ اور اللہ خوب جانتا ہے کہ یہ کیا کچھ چھپاتے رہے ہیں ﴿۶۱﴾ اور ان میں سے بہت سوں کو تم دیکھو گے کہ وہ گناہ، ظلم اور حرام خوری میں لپک لپک کر آگے بڑھتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ جو حرکتیں یہ کرتے ہیں وہ نہایت بری ہیں ﴿۶۲﴾


Page 354

المائدہ ۵ | ۳۵۴ | لا یحب اللہ ۶

لَوْلَا يَنْهٰىهُمُ الرَّبَّانِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَاَكْلِهِمُ السُّحْتَ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ ﴿63﴾ وَقَالَتِ الْيَهُوْدُ يَدُ اللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ غُلَّتْ اَيْدِيْهِمْ وَلُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا بَلْ يَدٰهُ مَبْسُوْطَتٰنِ يُنْفِقُ كَيْفَ يَشَآءُ وَلَيَزِيْدَنَّ كَثِيْرًا مِّنْهُمْ مَّآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْيَانًا وَّكُفْرًا وَاَلْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَآءَ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ كُلَّمَا اَوْقَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ اَطْفَاَهَا اللّٰهُ وَيَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِيْنَ ﴿64﴾

ان کے مشائخ اور علماء ان کو گناہ کی باتیں کہنے اور حرام کھانے سے آخر کیوں منع نہیں کرتے؟ حقیقت یہ ہے کہ ان کا یہ طرز عمل نہایت برا ہے۔ ﴿63﴾ اور یہودی کہتے ہیں کہ "اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں" ہاتھ تو خود ان کے بندھے ہوئے ہیں، اور جو بات انہوں نے کہی ہے اس کی وجہ سے ان پر لعنت الگ پڑی ہے، ورنہ اللہ کے دونوں ہاتھ پوری طرح کشادہ ہیں، وہ جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے۔ اور (اے پیغمبر!) جو وحی تم پر نازل کی گئی ہے وہ ان میں سے بہت سوں کی سرکشی اور کفر میں مزید اضافہ کر دے گی، اور ہم نے ان کے درمیان قیامت کے دن تک کے لیے عداوت اور بغض پیدا کر دیا ہے۔ جب کبھی یہ جنگ کی آگ بھڑکاتے ہیں، اللہ اس کو بجھا دیتا ہے، اور یہ زمین میں فساد مچاتے پھرتے ہیں، جبکہ اللہ فساد مچانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ ﴿64﴾

(36) جب مدینہ منورہ کے یہودیوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو قبول نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو تنبیہ کے طور پر کچھ عرصے کے لئے معاشی تنگی میں مبتلا کر دیا۔ اس موقع پر بجائے اس کے کہ وہ ہوش میں آتے، ان کے بعض سرداروں نے یہ گستاخانہ جملہ کہا۔ ”ہاتھ کا بندھا ہونا“ عربی میں بخل اور کنجوسی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ لہٰذا ان کا مطلب یہ تھا کہ معاذ اللہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ بخل کا معاملہ کیا ہے۔ حالانکہ بخل کی صفت تو خود ان کی مشہور و معروف تھی، اس لئے فرمایا گیا کہ ”ہاتھ تو خود ان کے بندھے ہوئے ہیں“۔

(37) یہ یہودیوں کی ان سازشوں کی طرف اشارہ ہے جو وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر کرتے رہتے تھے۔

Page 355

المائدہ ۵ | ۳۵۵ | لا یحب اللہ ۶

وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَلَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ ﴿65﴾ وَلَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ مِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ سَآءَ مَا يَعْمَلُوْنَ ﴿66﴾ يٰٓاَيُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ ﴿67﴾

اور اگر اہل کتاب ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ضرور ان کی برائیاں معاف کر دیتے، اور انہیں ضرور آرام وراحت کے باغات میں داخل کرتے ﴿65﴾ اور اگر وہ تورات اور انجیل اور جو کتاب (اب) ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے بھیجی گئی ہے اس کی ٹھیک ٹھیک پابندی کرتے تو وہ اپنے اوپر اور اپنے پاؤں کے نیچے ہر طرف سے (اللہ کا رزق) کھاتے۔ (اگرچہ) ان میں ایک جماعت راہ راست پر چلنے والی بھی ہے، مگر ان میں سے بہت سے لوگ ایسے ہی ہیں کہ ان کے اعمال خراب ہیں ﴿66﴾ اے رسول! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اس کی تبلیغ کرو۔ اور اگر ایسا نہیں کرو گے تو (اس کا مطلب یہ ہوگا کہ) تم نے اللہ کا پیغام نہیں پہنچایا۔ اور اللہ تمہیں لوگوں (کی سازشوں) سے بچائے گا۔ یقین رکھو کہ اللہ کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا ﴿67﴾۔

تھے۔ اگرچہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ بندی کا معاہدہ کر رکھا تھا، لیکن درپردہ وہ اس کوشش میں لگے رہتے تھے کہ مسلمانوں پر کوئی حملہ ہو اور وہ اس میں شکست کھائیں۔ مگر اللہ تعالیٰ ہر موقع پر ان کی سازش کو ناکام بنا دیتے تھے۔

Page 356

المائدہ ۵ | ۳۵۶ | لا یحب اللہ ۶

قُلْ يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰى شَیْءٍ حَتّٰى تُقِيْمُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَلَيَزِيْدَنَّ كَثِيْرًا مِّنْهُمْ مَّآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْيَانًا وَّكُفْرًا فَلَا تَاْسَ عَلَی الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ ﴿68﴾ اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِيْنَ هَادُوْا وَالصّٰبِؤُوْنَ وَالنَّصٰرٰى مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ ﴿69﴾ لَقَدْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَ بَنِیْ اِسْرَآئِيْلَ وَاَرْسَلْنَا اِلَيْهِمْ رُسُلًا كُلَّمَا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤی اَنْفُسُهُمْ فَرِيْقًا كَذَّبُوْا وَفَرِيْقًا يَّقْتُلُوْنَ ﴿70﴾

کہہ دو کہ: ”اے اہل کتاب! جب تک تم تورات اور انجیل پر اور جو (کتاب) تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس (اب) بھیجی گئی ہے اس کی پوری پابندی نہیں کرو گے، تمہاری کوئی بنیاد نہیں ہوگی جس پر تم کھڑے ہو سکو۔“ اور (اے رسول!) جو وحی اپنے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل کی گئی ہے وہ ان میں سے بہت سوں کی سرکشی اور کفر میں مزید اضافہ کر کے رہے گی، لہٰذا تم ان کافر لوگوں پر افسوس مت کرنا ﴿68﴾ حق تو یہ ہے کہ جو لوگ بھی، خواہ وہ مسلمان ہوں یا یہودی یا صابی یا نصرانی، اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لے آئیں گے اور نیک عمل کریں گے ان کو نہ کوئی خوف ہوگا، نہ وہ کسی غم میں مبتلا ہوں گے۔ ﴿69﴾ ہم نے بنو اسرائیل سے عہد لیا تھا، اور ان کے پاس رسول بھیجے تھے۔ جب کوئی رسول ان کے پاس کوئی ایسی بات لے کر آتا جس کو ان کا دل نہیں چاہتا تھا تو کچھ (رسولوں) کو انہوں نے جھٹلایا اور کچھ کو قتل کرتے رہے ﴿70﴾۔

(38) یہی مضمون سورہ بقرہ کی آیت 62 (2:62) میں گذرا ہے۔ اس کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے۔

Page 357

المائدہ ۵ | ۳۵۷ | لا یحب اللہ ۶

وَحَسِبُوْا اَلَّا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ فَعَمُوْا وَصَمُّوْا ثُمَّ تَابَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ ثُمَّ عَمُوْا وَصَمُّوْا كَثِيْرٌ مِّنْهُمْ وَاللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِمَا يَعْمَلُوْنَ ﴿71﴾ لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ وَقَالَ الْمَسِيْحُ يٰبَنِیْ اِسْرَآئِيْلَ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَرَبَّكُمْ اِنَّهٗ مَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَاْوٰىهُ النَّارُ وَمَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ ﴿72﴾ لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ وَمَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَاِنْ لَّمْ يَنْتَهُوْا عَمَّا يَقُوْلُوْنَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ ﴿73﴾

اور وہ یہ سمجھ بیٹھے کہ کوئی پکڑ نہیں ہوگی، اس لئے اندھے بہرے بن گئے، پھر اللہ نے ان کی توبہ قبول کی تو ان میں سے بہت سے پھر اندھے بہرے بن گئے، اور اللہ ان کے تمام اعمال کو خوب دیکھ رہا ہے ﴿71﴾ وہ لوگ یقیناً کافر ہو چکے ہیں جنہوں نے یہ کہا ہے کہ ”اللہ مسیح ابن مریم ہی ہے“ حالانکہ مسیح نے تو یہ کہا تھا کہ ”اے بنی اسرائیل! اللہ کی عبادت کرو جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار۔ یقین جانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے، اللہ نے اس کے لئے جنت حرام کر دی ہے، اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے، اور جو لوگ (یہ) ظلم کرتے ہیں، ان کو کسی قسم کے یارومددگار میسر نہیں آئیں گے“ ﴿72﴾ وہ لوگ (بھی) یقیناً کافر ہو چکے ہیں جنہوں نے یہ کہا ہے کہ: ”اللہ تین میں کا تیسرا ہے“ (39) حالانکہ ایک خدا کے سوا کوئی خدا نہیں ہے۔ اور اگر یہ لوگ اپنی اس بات سے باز نہ آئے تو ان میں سے جن لوگوں نے (ایسے) کفر کا ارتکاب کیا ہے، ان کو دردناک عذاب پکڑ کر رہے گا ﴿73﴾۔

(39) یہ عیسائیوں کے عقیدہء تثلیث کی طرف اشارہ ہے۔ اس عقیدے کا مطلب یہ ہے کہ خدا تین اقانیم (Persons) کا مجموعہ ہے، ایک باپ (یعنی اللہ)، ایک بیٹا (یعنی حضرت مسیح علیہ السلام) اور ایک روح

Page 358

المائدہ ۵ | ۳۵۸ | لا یحب اللہ ۶

اَفَلَا يَتُوْبُوْنَ اِلَی اللّٰهِ وَيَسْتَغْفِرُوْنَهٗ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ ﴿74﴾ مَا الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ وَاُمُّهٗ صِدِّيْقَةٌ كَانَا يَاْكُلَانِ الطَّعَامَ اُنْظُرْ كَيْفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ الْاٰيٰتِ ثُمَّ انْظُرْ اَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ ﴿75﴾ قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا وَاللّٰهُ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ ﴿76﴾ قُلْ يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِيْنِكُمْ غَيْرَ الْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعُوْا اَهْوَآءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَاَضَلُّوْا كَثِيْرًا وَّضَلُّوْا عَنْ سَوَآءِ السَّبِيْلِ ﴿77﴾

کیا پھر بھی یہ لوگ معافی کے لئے اللہ کی طرف رجوع نہیں کریں گے، اور اس سے مغفرت نہیں مانگیں گے؟ حالانکہ اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے ﴿74﴾ مسیح ابن مریم تو ایک رسول تھے، اس سے زیادہ کچھ نہیں، ان سے پہلے (بھی) بہت سے رسول گذر چکے ہیں، اور ان کی ماں صدیقہ تھیں۔ یہ دونوں کھانا کھاتے تھے۔ دیکھو! ہم ان کے سامنے کس طرح کھول کھول کر نشانیاں واضح کر رہے ہیں! پھر یہ بھی دیکھو کہ ان کو اوندھے منہ کہاں لے جایا جا رہا ہے! ﴿75﴾ (اے پیغمبر! ان سے) کہو کہ: ”کیا تم اللہ کے سوا ایسی مخلوق کی عبادت کرتے ہو جو تمہیں نہ کوئی نقصان پہنچانے کی طاقت رکھتی ہے، اور نہ فائدہ پہنچانے کی، جبکہ اللہ ہر بات کو سننے والا، ہر چیز کو جاننے والا ہے؟“ ﴿76﴾ (اور ان سے یہ بھی کہو کہ:) ”اے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو، اور ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چلو جو پہلے خود بھی گمراہ ہوئے، بہت سے دوسروں کو بھی گمراہ کیا، اور سیدھے راستے سے بھٹک گئے ﴿77﴾۔

القدس۔ اور بعض فرقے اس بات کے بھی قائل تھے کہ تیسری حضرت مریم علیہا السلام ہیں۔ اور ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ تینوں مل کر ایک ہیں۔ یہ تینوں مل کر ایک کس طرح ہیں؟ اس معنی کا کوئی معقول جواب کسی کے پاس نہیں ہے، اس لئے ان کے متکلمین (Theologians) نے اس عقیدے کی مختلف تعبیریں اختیار کی ہیں۔


صفحہ 359

لا يحب الله ٦ | 359 | المائدہ ۵

بعض نے تو یہ کہا کہ حضرت مسیح علیہ السلام صرف خدا تھے، انسان نہیں تھے۔ آیت نمبر 72 میں ان کے عقیدے کو کفر قرار دیا گیا ہے۔ اور بعض لوگ یہ کہتے تھے کہ خدا جن تین اقانیم کا مجموعہ ہے، ان میں سے ایک باپ یعنی اللہ ہے، اور دوسرا بیٹا ہے جو اللہ ہی کی ایک صفت تھی جو انسانی وجود میں حلول کر کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شکل میں آگئی تھی، لہٰذا وہ انسان بھی تھے، اور اپنی اصل کے اعتبار سے خدا بھی تھے۔ آیت نمبر 73 میں اس عقیدے کی تردید کی گئی ہے۔ عیسائیوں کے ان عقائد کی تفصیل اور ان کی تردید کے لئے دیکھئے راقم الحروف کی کتاب ”عیسائیت کیا ہے؟“۔

(50) ”صدیقہ“ صدیق کا مؤنث کا صیغہ ہے۔ اس کے لفظی معنی ہیں ”بہت سچا“ یا ”راست باز“۔ اصطلاح میں صدیق عام طور سے ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو کسی پیغمبر کا افضل ترین متبع ہوتا ہے، اور نبوت کے بعد یہ سب سے اونچا مرتبہ ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام اور ان کی والدہ ماجدہ حضرت مریم علیہا السلام دونوں کے بارے میں یہاں قرآن کریم نے یہ حقیقت جتلائی ہے کہ وہ کھانا کھاتے تھے، کیونکہ تنہا یہ حقیقت اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ وہ خدا نہیں تھے۔ ایک معمولی سمجھ کا شخص بھی یہ سمجھ سکتا ہے کہ خدا تو وہی ذات ہو سکتی ہے جو ہر قسم کی بشری حاجتوں سے بے نیاز ہو۔ اگر خدا بھی کھانا کھانے کا محتاج ہو تو وہ خدا کیا ہوا؟

(51) قرآن کریم نے یہاں مجہول کا صیغہ استعمال کیا ہے، اس لئے ترجمہ یہ نہیں کیا گیا کہ ”وہ اوندھے منہ کہاں جا رہے ہیں؟“ بلکہ ترجمہ یہ کیا گیا ہے کہ: ”انہیں اوندھے منہ کہاں لیجایا جا رہا ہے؟“ اور بظاہر مجہول کا یہ صیغہ استعمال کرنے سے اشارہ اس طرف مقصود ہے کہ ان کی نفسانی خواہشات اور ذاتی مفادات ہیں جو انہیں الٹائے جا رہے ہیں۔ واللہ سبحانہ اعلم۔

(52) حضرت مسیح علیہ السلام اگر چہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ پیغمبر تھے، لیکن کسی کو نفع یا نقصان پہنچانے کی ذاتی صلاحیت اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو حاصل نہیں ہے۔ اگر وہ کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں تو صرف اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی مشیت سے پہنچا سکتے ہیں۔

(53) ”غلو“ کا مطلب ہے کسی کام میں اس کی معقول حدود سے آگے بڑھ جانا۔ عیسائیوں کا غلو یہ تھا کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعظیم میں اتنے آگے بڑھ گئے کہ انہیں خدا قرار دے دیا، اور یہودیوں کا غلو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے محبت کا جو اظہار کیا تھا اس کی بنا پر یہ سمجھ بیٹھے کہ دنیا کے دوسرے لوگوں کو چھوڑ کر بس وہی اللہ کے چہیتے ہیں، اور اس وجہ سے وہ جو چاہیں کریں، اللہ تعالیٰ ان سے ناراض نہیں ہوگا، نیز ان میں سے بعض نے حضرت عزیر علیہ السلام کو خدا کا بیٹا قرار دے لیا تھا۔

صفحہ 360

لا يحب الله ٦ | 360 | المائدہ ۵

لُعِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِيْلَ عَلٰی لِسَانِ دَاوٗدَ وَعِيْسَی ابْنِ مَرْيَمَ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّكَانُوْا يَعْتَدُوْنَ ﴿78﴾ كَانُوْا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ ﴿79﴾ تَرٰی كَثِيْرًا مِّنْهُمْ يَتَوَلَّوْنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ اَنْفُسُهُمْ اَنْ سَخِطَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ وَفِی الْعَذَابِ هُمْ خٰلِدُوْنَ ﴿80﴾ وَلَوْ كَانُوْا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالنَّبِیِّ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مَا اتَّخَذُوْهُمْ اَوْلِيَآءَ وَلٰكِنَّ كَثِيْرًا مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ ﴿81﴾

(Reference: Surah Al-Ma'idah, Ayat 78-81)

بنو اسرائیل کے جو لوگ کافر ہوئے ان پر داؤد اور عیسیٰ ابن مریم کی زبان سے لعنت بھیجی گئی تھی (54)۔ یہ سب اس لئے ہوا کہ انہوں نے نافرمانی کی تھی، اور وہ حد سے گذر جایا کرتے تھے ﴿78﴾ وہ جس بدی کا ارتکاب کرتے تھے، اس سے ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کا طرزِ عمل نہایت برا تھا ﴿79﴾ تم ان میں سے بہت سوں کو دیکھتے ہو کہ انہوں نے (بت پرست) کافروں کو اپنا دوست بنایا ہوا ہے (55)۔ یقیناً جو کچھ انہوں نے اپنے حق میں اپنے آگے بھیج رکھا ہے وہ بہت برا ہے، کیونکہ (ان کی وجہ سے) اللہ ان سے ناراض ہو گیا ہے، اور وہ ہمیشہ عذاب میں رہیں گے ﴿80﴾ اگر یہ لوگ اللہ پر اور نبی پر اور جو کلام ان پر نازل ہوا ہے اس پر ایمان رکھتے تو ان (بت پرستوں) کو دوست نہ بناتے، لیکن (بات یہ ہے کہ) ان میں زیادہ تعداد ان کی ہے جو نافرمان ہیں ﴿81﴾

(54) یعنی اس لعنت کا ذکر زبور میں بھی تھا جو حضرت داؤد علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی، اور انجیل میں بھی تھا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اتری تھی۔

(55) یہ ان یہودیوں کی طرف اشارہ ہے جو مدینہ منورہ میں آباد تھے، اور انہوں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معاہدہ بھی کیا ہوا تھا، اس کے باوجود انہوں نے درپردہ مشرکین مکہ سے دوستیاں گانٹھی ہوئی تھیں، اور ان کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے رہتے تھے۔ بلکہ ان کی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے ان سے یہ تک کہہ دیتے تھے کہ ان کا مذہب مسلمانوں کے مذہب سے اچھا ہے۔

صفحہ 361

لا يحب الله ٦ | 361 | المائدہ ۵

لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا الْيَهُوْدَ وَالَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا وَلَتَجِدَنَّ اَقربَهُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا الَّذِيْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰی ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيْسِيْنَ وَرُهْبَانًا وَّاَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ ﴿82﴾

(Reference: Surah Al-Ma'idah, Ayat 82)

تم یہ بات ضرور محسوس کر لو گے کہ مسلمانوں سے سب سے سخت دشمنی رکھنے والے ایک تو یہودی ہیں، اور دوسرے وہ لوگ ہیں جو (کھل کر) شرک کرتے ہیں۔ اور تم یہ بات بھی ضرور محسوس کر لو گے کہ (غیر مسلموں میں) مسلمانوں سے دوستی میں قریب تر وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو نصرانی کہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں بہت سے علم دوست عالم اور بہت سے تارک الدنیا درویش ہیں (56)، نیز یہ وجہ بھی ہے کہ وہ تکبر نہیں کرتے ﴿82﴾

(56) مطلب یہ ہے کہ عیسائیوں میں چونکہ بہت سے لوگ دنیا کی محبت سے خالی ہیں، اس لئے ان میں قبولِ حق کا مادہ بھی زیادہ ہے، اور کم از کم انہیں مسلمانوں سے اتنی سخت دشمنی نہیں ہے، کیونکہ دنیا کی محبت وہ چیز ہے جو انسان کو حق کے قبول کرنے سے روکتی ہے۔ اس کے برعکس یہودیوں اور مشرکینِ مکہ پر دنیا پرستی غالب ہے، اس لئے وہ سچے طالبِ حق کا طرزِ عمل اختیار نہیں کر پاتے۔ عیسائیوں کے نسبۃً نرم دل ہونے کی دوسری وجہ قرآن کریم نے یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ تکبر نہیں کرتے، کیونکہ انسان کی انا بھی اکثر حق کو قبول کرنے میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ عیسائیوں کو جو مسلمانوں سے محبت میں قریب تر فرمایا گیا ہے اس کا ایک اثر یہ تھا کہ جب مشرکینِ مکہ نے مسلمانوں پر ظلم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تو بہت سے مسلمانوں نے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے پاس پناہ لی، اور نہ صرف نجاشی، بلکہ اس کی رعایا نے بھی ان کے ساتھ بڑے اعزاز واکرام کا معاملہ کیا۔ بلکہ جب مشرکینِ مکہ نے اپنا ایک وفد نجاشی کے پاس بھیجا اور اس سے درخواست کی کہ جن مسلمانوں نے اس کے ملک میں پناہ لی ہے انہیں اپنے ملک سے نکال کر واپس مکہ مکرمہ بھیج دے، تاکہ مشرکین ان کو اپنے ظلم کا نشانہ بنا سکیں تو نجاشی نے مسلمانوں کو بلا کر ان سے ان کا موقف سنا اور مشرکینِ مکہ کا مطالبہ ماننے سے انکار کر دیا، اور جو تحفے انہوں نے بھیجے تھے وہ بھی واپس کر دیئے۔ لیکن یہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ عیسائیوں کو جو مسلمانوں سے قریب تر کہا گیا

صفحہ 362

واذا سمعوا ٦ | 362 | المائدہ ۵

وَاِذَا سَمِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَی الرَّسُوْلِ تَرٰی اَعْيُنَهُمْ تَفِيْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اٰمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِيْنَ ﴿83﴾ وَمَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَمَا جَآءَنَا مِنَ الْحَقِّ وَنَطْمَعُ اَنْ يُّدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصّٰلِحِيْنَ ﴿84﴾

(Reference: Surah Al-Ma'idah, Ayat 83-84)

اور جب یہ لوگ وہ کلام سنتے ہیں جو رسول پر نازل ہوا ہے تو چونکہ انہوں نے حق کو پہچان لیا ہوتا ہے، اس لئے تم ان کی آنکھوں کو دیکھو گے کہ وہ آنسوؤں سے بہہ رہی ہیں (57)، (اور) وہ کہہ رہے ہیں کہ ”اے ہمارے پروردگار! ہم ایمان لے آئے ہیں، لہٰذا گواہی دینے والوں کے ساتھ ہمارا نام بھی لکھ لیجئے ﴿83﴾ اور ہم اللہ پر اور جو حق ہمارے پاس آگیا ہے اس پر آخر کیوں ایمان نہ لائیں، اور پھر یہ توقع بھی رکھیں کہ ہمارا رب ہمیں نیک لوگوں میں شمار کرے گا؟“ ﴿84﴾

ہے، یہ ان عیسائیوں کی اکثریت کے اعتبار سے کہا گیا ہے جو اپنے مذہب پر عمل کرتے ہوئے دنیا کی محبت سے دُور ہوں، اور ان میں تکبر نہ پایا جاتا ہو۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر زمانے کے عیسائیوں کا یہی حال ہے، چنانچہ تاریخ میں ایسی بھی بہت مثالیں ہیں جن میں عیسائیوں نے مسلمانوں کے ساتھ بدترین معاملہ کیا۔

(57) جب مسلمانوں کو حبشہ سے نکالنے کا مطالبہ لے کر مشرکینِ مکہ کا وفد نجاشی کے پاس آیا تھا تو اس نے مسلمانوں کو اپنے دربار میں بلا کر ان کا موقف سنا تھا۔ اس موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازاد بھائی حضرت جعفر بن ابی طالبؓ نے اس کے دربار میں بڑی مؤثر تقریر کی تھی جس سے نجاشی کے دل میں مسلمانوں کی عظمت اور محبت بڑھ گئی، اور اسے اندازہ ہو گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہی آخری نبی ہیں جن