پارہ 5


Page 258


Quranic Text:

وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُمْ مِنْ نِسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا (٢٣) وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۖ

Translation:

اور تمہاری دودھ شریک بہنیں، اور تمہاری بیویوں کی مائیں، اور تمہارے زیر پرورش تمہاری سوتیلی بیٹیاں جو تمہاری ان بیویوں (کے پیٹ) سے ہوں جن کے ساتھ تم نے خلوت نہ کی ہو۔ ہاں اگر تم نے ان کے ساتھ خلوت نہ کی ہو (اور انہیں طلاق دے دی ہو یا ان کا انتقال ہو گیا ہو) تو تم پر (ان کی لڑکیوں سے نکاح کرنے میں) کوئی گناہ نہیں ہے، نیز تمہارے صلبی بیٹوں کی بیویاں بھی تم پر حرام ہیں، اور یہ بات بھی حرام ہے کہ تم دو بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں جمع کرو، البتہ جو کچھ پہلے ہو چکا وہ ہو چکا۔ بیشک اللہ بہت معاف کرنے والا، بڑا مہربان ہے (۲۳) نیز وہ عورتیں (تم پر حرام ہیں) جو دوسرے شوہروں کے نکاح میں ہوں، البتہ جو کنیزیں تمہاری ملکیت میں آ جائیں (وہ مستثنیٰ ہیں)۔

Footnote (19-20):

(۱۹) سوتیلی بیٹیاں عام طور پر انسان کے زیر پرورش ہوتی ہیں اس لئے یہ الفاظ استعمال کئے گئے ہیں، ورنہ اگر کوئی سوتیلی بیٹی زیر پرورش نہ بھی ہو تو وہ حرام ہی ہے۔

(۲۰) جو کنیزیں جہاد کے دوران گرفتار کر کے دارالاسلام لائی جاتی تھیں، اور ان کے شوہر دارالحرب میں رہ جاتے تھے، ان کا نکاح ان شوہروں سے ختم ہو جاتا تھا۔ لہذا جب وہ دارالاسلام میں آنے کے بعد ایک حیض کی مدت پوری کر لیتیں، اور ان کو پچھلے شوہر سے حمل نہ ہوتا تو ان کا نکاح دارالاسلام کے کسی مسلمان کے ساتھ جائز تھا۔ مگر یہ حکم انہی باندیوں کا ہے جو شرعی طور پر باندی بنائی گئی ہوں۔ آج کل ایسی کنیزوں یا باندیوں کا کہیں وجود نہیں ہے۔



صفحہ 259 (سورہ النساء، آیات 24-25 کا حصہ)

عربی متن:

كِتٰبَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ ۚ وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاءَ ذَٰلِكُمْ أَن تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُم مُّحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ ۚ فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً ۚ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا تَرَاضَيْتُم بِهِ مِن بَعْدِ الْفَرِيضَةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا (24)

وَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنكُمْ طَوْلًا أَن يَنكِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ فَمِن مَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُم مِّن فَتَيَاتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ۚ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِإِيمَانِكُم ۚ بَعْضُكُم مِّن بَعْضٍ ۚ

اردو ترجمہ:

اللہ نے یہ احکام تم پر فرض کر دیے ہیں۔ ان عورتوں کو چھوڑ کر تمام عورتوں کے بارے میں یہ حلال کر دیا گیا ہے کہ تم اپنا مال (بطور مہر) خرچ کر کے انہیں (اپنے نکاح میں لانا) چاہو، بشرطیکہ تم ان سے باقاعدہ نکاح کا رشتہ قائم کر کے عفت حاصل کرو، صرف شہوت نکالنا مقصود نہ ہو۔ چنانچہ جن عورتوں سے (نکاح کر کے) تم نے لطف اٹھایا ہو، ان کو ان کا وہ مہر ادا کرو جو مقرر کیا گیا ہو۔ البتہ مہر مقرر کرنے کے بعد بھی جس (کمی بیشی) پر تم آپس میں راضی ہو جاؤ، اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں۔ یقین رکھو کہ اللہ ہر بات کا علم بھی رکھتا ہے، حکمت کا بھی مالک ہے ﴿۲۴﴾

اور تم میں سے جو لوگ اس بات کی طاقت نہ رکھتے ہوں کہ آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کر سکیں، تو وہ ان مسلمان کنیزوں میں سے کسی سے نکاح کر سکتے ہیں جو تمہاری ملکیت میں ہوں، اور اللہ کو تمہارے ایمان کی پوری حالت خوب معلوم ہے۔ تم سب آپس میں ایک جیسے ہو۔

حواشی:

(۲۱) مقصد یہ ہے کہ نکاح ایک دیرپا تعلق کا نام ہے جس کا مقصد صرف جنسی خواہش پوری کرنا نہیں ہے، بلکہ ایک مضبوط خاندانی نظام کا قیام ہے جس میں مرد اور عورت ایک دوسرے کے حقوق اور ذمہ داریوں کے پابند ہوتے ہیں، اور اس رشتے کو عفت و عصمت کے تحفظ اور بقائے نسلِ انسانی کا ذریعہ بناتے ہیں۔ صرف شہوت نکالنے کے لئے ایک عارضی تعلق پیدا کر لینا، خواہ وہ پیسے خرچ کر کے ہی کیوں نہ ہو، ہرگز جائز نہیں ہے۔

(۲۲) چونکہ آزاد عورتوں کا مہر عام طور پر زیادہ ہوتا تھا، اور باندیوں کا مہر کم، اس لئے ایک طرف تو حکم یہ دیا گیا...

صفحہ 260 (آیت 25 کا بقیہ حصہ)

عربی متن:

فَانكِحُوهُنَّ بِإِذْنِ أَهْلِهِنَّ وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ مُحْصَنَاتٍ غَيْرَ مُسَافِحَاتٍ وَلَا مُتَّخِذَاتِ أَخْدَانٍ ۚ فَإِذَا أُحْصِنَّ فَإِنْ أَتَيْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَاتِ مِنَ الْعَذَابِ ۚ ذَٰلِكَ لِمَنْ خَشِيَ الْعَنَتَ مِنكُمْ ۚ وَأَن تَصْبِرُوا خَيْرٌ لَّكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (25)

اردو ترجمہ:

لہذا ان کنیزوں سے ان کے مالکوں کی اجازت سے نکاح کر لو، اور ان کو قاعدے کے مطابق ان کے مہر ادا کرو، بشرطیکہ ان سے نکاح کا رشتہ قائم کر کے انہیں پاک دامن بنایا جائے؛ نہ وہ صرف شہوت پوری کرنے کے لئے کوئی (ناجائز) کام کریں، اور نہ خفیہ طور پر ناجائز آشنائیاں پیدا کریں۔ پھر جب وہ نکاح کی حفاظت میں آ جائیں، اور اس کے بعد کسی بڑی بے حیائی (یعنی زنا) کا ارتکاب کریں تو ان پر اس سزا سے آدھی سزا واجب ہو گی جو (غیر شادی شدہ) آزاد عورتوں کے لئے مقرر ہے۔ یہ سب (یعنی کنیزوں سے نکاح کرنا) تم میں سے ان لوگوں کے لئے ہے جن کو (نکاح نہ کرنے کی صورت میں) گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو۔ اور اگر تم صبر ہی کئے رہو تو یہ تمہارے لئے بہت بہتر ہے۔ اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے ﴿۲۵﴾

حواشی:

...ہے کہ باندیوں سے نکاح اسی وقت کیا جائے جب آزاد عورتوں سے نکاح کی استطاعت نہ ہو، دوسری طرف یہ ہدایت دی گئی ہے کہ جب کسی باندی سے نکاح کی نوبت آجائے تو پھر محض اس کے باندی ہونے کی وجہ سے اس کو حقیر سمجھنا درست نہیں، کیونکہ فضیلت کا اصل دارومدار تقویٰ پر ہے، اور اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں کہ کس کی ایمانی حالت زیادہ مضبوط ہے، ورنہ اولادِ آدم ہونے کے لحاظ سے سب ایک دوسرے کے برابر ہیں۔

(۲۳) آزاد عورتیں اگر غیر شادی شدہ ہوں تو ان کے لئے زنا کی سزا سو کوڑے ہیں، جس کا ذکر سورہ نور کی دوسری آیت میں آیا ہے۔ زیر نظر آیت میں باندیوں کے لئے اس کی آدھی سزا یعنی پچاس کوڑے مقرر فرمائی گئی ہے۔

صفحہ 261 (آیات 26-29)

عربی متن:

يُرِيدُ اللَّهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمْ وَيَهْدِيَكُمْ سُنَنَ الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ وَيَتُوبَ عَلَيْكُمْ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (26) وَاللَّهُ يُرِيدُ أَن يَتُوبَ عَلَيْكُمْ وَيُرِيدُ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الشَّهَوَاتِ أَن تَمِيلُوا مَيْلًا عَظِيمًا (27) يُرِيدُ اللَّهُ أَن يُخَفِّفَ عَنكُمْ ۚ وَخُلِقَ الْإِنسَانُ ضَعِيفًا (28) يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَن تَكُونَ تِجَارَةً عَن تَرَاضٍ مِّنكُمْ ۚ وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا (29)

اردو ترجمہ:

اللہ چاہتا ہے کہ تمہارے لئے (احکام کی) وضاحت کر دے، اور جو (نیک) لوگ تم سے پہلے گزرے ہیں، تم کو ان کے طور طریقوں پر لے آئے، اور تم پر (رحمت کے ساتھ) توجہ فرمائے، اور اللہ ہر بات کا جاننے والا بھی ہے، حکمت والا بھی ﴿۲۶﴾ اللہ تو چاہتا ہے کہ تمہاری طرف توجہ کرے، اور جو لوگ نفسانی خواہشات کے پیچھے لگے ہوئے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہِ راست سے ہٹ کر بہت دُور جا پڑو ﴿۲۷﴾ اللہ چاہتا ہے کہ تمہارے ساتھ آسانی کا معاملہ کرے، اور انسان کمزور پیدا ہوا ہے۔ ﴿۲۸﴾ اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طریقے سے نہ کھاؤ، إلا یہ کہ کوئی تجارت باہمی رضامندی سے وجود میں آئی ہو (تو وہ جائز ہے)، اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔ یقین جانو اللہ تم پر بہت مہربان ہے ﴿۲۹﴾

حواشی:

(۲۴) یعنی انسان فطری طور پر جنسی خواہش کا مقابلہ کرنے میں کمزور واقع ہوا ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کو یہ خواہش جائز طریقے سے پورا کرنے سے نہیں روکا، بلکہ نکاح کو اس کے لئے آسان بنا دیا ہے۔

(۲۵) اس کا سادہ مطلب تو یہ ہے کہ جس طرح دوسرے کا مال ناحق طریقے سے کھانا حرام ہے، کسی کی جان لینا اس سے زیادہ حرام ہے۔ دوسرے کی جان لینے کو "اپنے آپ کو قتل کرنے" سے تعبیر کر کے اس طرف بھی اشارہ...

صفحہ 262 (آیات 30-32)

عربی متن:

وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ عُدْوَانًا وَظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِيهِ نَارًا ۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرًا (30) إِن تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُم مُّدْخَلًا كَرِيمًا (31) وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللَّهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۚ لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوا ۖ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَ ۚ وَاسْأَلُوا اللَّهَ مِن فَضْلِهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا (32)

اردو ترجمہ:

اور جو شخص زیادتی اور ظلم کے طور پر ایسا کرے گا، تو ہم اس کو آگ میں داخل کریں گے۔ اور یہ بات اللہ کے لئے بالکل آسان ہے ﴿۳۰﴾ اگر تم ان بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرو جن سے تمہیں روکا گیا ہے تو تمہاری چھوٹی برائیوں کا ہم خود کفارہ کر دیں گے، اور تم کو ایک باعزت جگہ داخل کریں گے ﴿۳۱﴾ اور جن چیزوں میں، ہم نے تم کو ایک دوسرے پر فوقیت دی ہے، ان کی تمنا نہ کرو، مرد جو کچھ کمائی کریں گے ان کو اس میں سے حصہ ملے گا، اور عورتیں جو کچھ کمائی کریں گی ان کو اس میں سے حصہ ملے گا۔ اور اللہ سے اس کا فضل مانگا کرو۔ بیشک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے ﴿۳۲﴾

حواشی:

...ہو گیا کہ کسی دوسرے کو قتل کرنا بالآخر اپنے آپ ہی کو قتل کرنا ہے، کیونکہ اس کے بدلے میں خود قاتل قتل ہو سکتا ہے، اور اگر یہاں قتل نہ بھی ہو تو آخرت میں اس کی جو سزا ملنی ہے وہ موت سے بھی بدتر ہو گی۔ اسی طرح اس تعبیر سے خودکشی کی ممانعت بھی واضح ہو گئی۔ دوسرے کسی کا مال ناحق کھانے کے ساتھ یہ جملہ لانے سے اس طرف بھی اشارہ ممکن ہے کہ جب ناحق مال کھانے کا رواج معاشرے میں عام ہو جائے تو اس کا نتیجہ اجتماعی خودکشی کی صورت میں نکلتا ہے۔

(۲۶) اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر انسان گناہِ کبیرہ سے پرہیز رکھے تو اس کے چھوٹے چھوٹے گناہوں کو اللہ تعالیٰ خود ہی معاف فرماتے رہتے ہیں۔ قرآن و حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر نیک عمل، مثلاً وضو، نماز، صدقات وغیرہ سے گناہِ صغیرہ معاف ہوتے رہتے ہیں۔

(۲۷) بعض خواتین نے اس تمنا کا اظہار کیا تھا کہ اگر وہ مرد ہوتیں تو وہ بھی جہاد وغیرہ میں حصہ لے کر مزید ثواب...

صفحہ 263 (آیات 33-34 کا حصہ)

عربی متن:

وَلِكُلِّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ ۚ وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدًا (33) الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ ۚ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ ۚ وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ ۖ

اردو ترجمہ:

اور ہم نے ہر اس مال کے کچھ وارث مقرر کئے ہیں جو والدین اور قریب ترین رشتہ دار چھوڑ کر جائیں۔ اور جن لوگوں سے تم نے کوئی عہد باندھا ہو ان کو ان کا حصہ دو۔ بیشک اللہ ہر چیز کا گواہ ہے ﴿۳۳﴾ مرد عورتوں کے نگراں ہیں، کیونکہ اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے، اور کیونکہ مردوں نے اپنے مال خرچ کئے ہیں۔ چنانچہ نیک عورتیں فرماں بردار ہوتی ہیں، مرد کی غیر موجودگی میں اللہ کی دی ہوئی حفاظت سے (اس کے حقوق کی) حفاظت کرتی ہیں۔ اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہو تو (پہلے) انہیں سمجھاؤ، اور (اگر اس سے کام نہ چلے تو) انہیں خواب گاہوں میں تنہا چھوڑ دو، (اور اس سے بھی اصلاح نہ ہو تو) انہیں مار سکتے ہو۔

حواشی:

...حاصل کرتیں۔ اس آیت کریمہ نے یہ اصول واضح فرما دیا کہ جو باتیں انسان کے اختیار سے باہر ہیں ان میں اللہ نے کسی شخص کو کسی اعتبار سے فوقیت دے رکھی ہے اور کسی کو کسی اور حیثیت سے۔ مثلاً کوئی مرد ہے کوئی عورت، کوئی زیادہ طاقت ور ہے کوئی کم، کسی کا حسن دوسرے کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ یہ چیزیں چونکہ انسان کے اختیار میں نہیں ہیں، اس لئے ان کی تمنا کرنے سے فضول حسرت ہونے کے سوا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ لہٰذا ان چیزوں میں اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر راضی رہنا چاہئے۔ البتہ جو اچھائیاں انسان کے اختیار میں ہیں انہیں حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہنا چاہئے، اور ان چیزوں میں اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ جو شخص جیسا عمل کرتا ہے ویسا ہی نتیجہ ظاہر ہوتا ہے۔ اس میں مرد اور عورت میں کوئی فرق نہیں ہے۔

(۲۸) جب کوئی شخص اسلام لائے اور مسلمانوں میں اس کا کوئی رشتہ دار نہ ہو تو وہ جس شخص کے ہاتھ پر مسلمان…

فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَيْهِنَّ سَبِيْلًا ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيْرًا ۝٣٤ وَاِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهٖ وَحَكَمًا مِّنْ اَهْلِهَا ۚ اِنْ يُّرِيْدَآ اِصْلَاحًا يُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَيْنَهُمَا ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا خَبِيْرًا ۝٣٥ وَاعْبُدُوا اللّٰهَ وَلَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَيْـًٔا وَّبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا وَّبِذِى الْقُرْبٰى وَالْيَتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْجَارِ ذِى الْقُرْبٰى وَالْجَارِ الْجُنُبِ

اردو ترجمہ: پھر اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو ان کے خلاف کارروائی کا کوئی راستہ تلاش نہ کرو۔ یقین رکھو کہ اللہ سب کے اوپر، سب سے بڑا ہے ﴿۳۴﴾ اور اگر تمہیں میاں بیوی کے درمیان پھوٹ پڑنے کا اندیشہ ہو تو (ان کے درمیان فیصلہ کرانے کے لئے) ایک منصف مرد کے خاندان میں سے اور ایک منصف عورت کے خاندان میں سے بھیج دو۔ اگر وہ دونوں اصلاح کرانا چاہیں گے تو اللہ دونوں کے درمیان اتفاق پیدا فرما دے گا۔ بیشک اللہ کو ہر بات کا علم اور ہر بات کی خبر ہے ﴿۳۵﴾ اور اللہ کی عبادت کرو، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹہراؤ، اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو، نیز رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، قریب والے پڑوسی، دور والے پڑوسی، ﴿۲۹﴾

تفسیری حواشی (صفحہ کے نچلے حصے سے): ہوا ہے بعض اوقات اس کے ساتھ یہ عہد کر لیتا تھا کہ وہ دونوں آپس میں بھائی بن گئے ہیں، لہٰذا وہ ایک دوسرے کے وارث بھی ہوں گے، اور اگر ان میں سے کسی پر کوئی تاوان آ پڑا تو دوسرا اس کی ادائیگی میں اس کی مدد کرے گا۔ اس رشتے کو "موالاۃ" کہا جاتا تھا۔ یہاں اسی معاہدے کا ذکر ہے، اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا مسلک اس آیت کی بنا پر یہی ہے کہ یہ رشتہ اب بھی کسی نو مسلم سے قائم ہو سکتا ہے، اور اگر دوسرے مسلمان رشتہ دار موجود نہ ہوں تو میراث میں بھی ان کا حصہ ہوگا۔

(۲۹) قرآن و سنت نے پڑوسیوں کے حقوق کی رعایت اور ان کے ساتھ حسن سلوک کی بڑی تاکید فرمائی ہے۔ پھر پڑوسیوں کے تین درجے اس آیت میں بیان فرمائے گئے ہیں۔ پہلے درجے کو "جار ذی القربیٰ" (قریب والا پڑوسی) اور دوسرے کو "الجار الجنب" کہا گیا ہے جس کا ترجمہ اوپر "دور والے پڑوسی" سے کیا گیا ہے۔ پہلے سے... (بقیہ اگلے صفحے پر)


عربی متن: وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْۢبِ وَابْنِ السَّبِيْلِ ۙ وَمَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرًا ۝٣٦ۙ الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ وَيَأْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَيَكْتُمُوْنَ مَآ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ ؕ وَاَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابًا مُّهِيْنًا ۝٣٧ۚ وَالَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ رِئَآءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ؕ وَمَنْ يَّكُنِ الشَّيْطٰنُ لَهٗ قَرِيْنًا فَسَآءَ قَرِيْنًا ۝٣٨

اردو ترجمہ: ساتھ بیٹھے (یا ساتھ کھڑے) ﴿۳۰﴾ ہوئے شخص اور راہگیر کے ساتھ اور اپنے غلام باندیوں کے ساتھ بھی (اچھا برتاؤ رکھو)۔ بیشک اللہ کسی اترانے والے شیخی باز کو پسند نہیں کرتا ﴿۳۶﴾ ایسے لوگ جو خود بھی کنجوسی کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی کنجوسی کی تلقین کرتے ہیں، اور اللہ نے ان کو اپنے فضل سے جو کچھ دے رکھا ہے اسے چھپاتے ہیں۔ اور ہم نے ایسے ناشکروں کے لئے ذلیل کر دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے ﴿۳۷﴾ اور وہ لوگ جو اپنے مال لوگوں کو دکھانے کے لئے خرچ کرتے ہیں، اور نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں، نہ روز آخرت پر۔ اور شیطان جس کا ساتھی بن جائے تو وہ بدترین ساتھی ہوتا ہے ﴿۳۸﴾

تفسیری حواشی: مراد وہ پڑوسی ہے جس کا گھر اپنے گھر سے بالکل ملا ہوا ہو، اور دوسرے سے مراد وہ پڑوسی ہے جس کا گھر اتنا ملا ہوا نہ ہو۔ بعض حضرات نے اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ پہلے سے مراد وہ پڑوسی ہے جو رشتہ دار بھی ہو، اور دوسرے سے مراد وہ جو صرف پڑوسی ہو۔ نیز بعض مفسرین نے پہلے کا مطلب مسلمان پڑوسی اور دوسرے کا مطلب غیر مسلم پڑوسی بتایا ہے، قرآن کریم کے الفاظ میں ان سب معانی کی گنجائش ہے۔ خلاصہ یہ کہ پڑوسی چاہے رشتہ دار ہو یا اجنبی، مسلمان ہو یا غیر مسلم، اس کا گھر بالکل ملا ہوا ہو یا ایک دو گھر چھوڑ کر ہو، ان سب کے ساتھ اچھے برتاؤ کی تاکید فرمائی گئی ہے۔

(۳۰) یہ پڑوسی کی تیسری قسم ہے جس کو قرآن کریم نے "صاحب بالجنب" سے تعبیر فرمایا ہے۔ اس سے مراد وہ شخص ہے جو عارضی طور پر تھوڑی دیر کے لئے ساتھی بن گیا ہو، مثلاً سفر کے دوران ساتھ بیٹھا یا کھڑا ہو، یا کسی مجلس... (بقیہ اگلے صفحے پر)


عربی متن: وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ بِهِمْ عَلِيْمًا ۝٣٩ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ ۚ وَاِنْ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَّدُنْهُ اَجْرًا عَظِيْمًا ۝٤٠ فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِيْدٍ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰٓؤُلَآءِ شَهِيْدًا ۝٤١ يَوْمَئِذٍ يَّوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَعَصَوُا الرَّسُوْلَ لَوْ تُسَوّٰى بِهِمُ الْاَرْضُ ؕ وَلَا يَكْتُمُوْنَ اللّٰهَ حَدِيْثًا ۝٤٢

اردو ترجمہ: بھلا ان کا کیا بگڑ جاتا اگر یہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لے آتے، اور اللہ نے ان کو جو رزق عطا فرمایا ہے اس میں سے کچھ (نیک کاموں میں) خرچ کر دیتے؟ اور اللہ کو ان کا حال خوب معلوم ہے ﴿۳۹﴾ اللہ ذرہ برابر بھی کسی پر ظلم نہیں کرتا، اور اگر کوئی نیکی ہو تو اسے کئی گنا کر دیتا ہے، اور خود اپنے پاس سے عظیم ثواب دیتا ہے ﴿۴۰﴾ پھر (یہ لوگ سوچ رکھیں کہ) اس وقت (ان کا) کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لے کر آئیں گے، اور (اے پیغمبر!) ہم تم کو ان لوگوں کے خلاف گواہ کے طور پر پیش کریں گے؟ ﴿۳۱﴾ ﴿۴۱﴾ جن لوگوں نے کفر اپنا رکھا ہے اور رسول کے ساتھ نافرمانی کا رویہ اختیار کیا ہے، اس دن وہ یہ تمنا کریں گے کہ کاش انہیں زمین (میں دھنسا کر اس) کے برابر کر دیا جائے، اور وہ اللہ سے کوئی بات چھپا نہیں سکیں گے۔ ﴿۴۲﴾

تفسیری حواشی: یا کسی لائن میں لگے ہوئے اپنے پاس ہو۔ وہ بھی ایک طرح کا پڑوسی ہے، اور اس کے ساتھ بھی اچھے برتاؤ کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ بلکہ اس سے بھی آگے ہر راہگیر اور مسافر کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے، چاہے وہ اپنا ساتھی یا پڑوسی نہ ہو۔

(۳۱) تمام انبیائے کرام قیامت کے روز اپنی اپنی امتوں کے اچھے برے اعمال پر گواہی دیں گے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کے لوگوں پر گواہ بنا کر پیش کیا جائے گا۔

عربی متن: يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَلَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِيْ سَبِيْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا ؕ وَاِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَيَمَّمُوْا صَعِيْدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَاَيْدِيْكُمْ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُوْرًا ۝٤٣ اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ اُوْتُوْا نَصِيْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ يَشْتَرُوْنَ الضَّلٰلَةَ وَيُرِيْدُوْنَ اَنْ تَضِلُّوا السَّبِيْلَ ۝٤٤ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِاَعْدَآئِكُمْ ؕ وَكَفٰى بِاللّٰهِ وَلِيًّا ٭ۖ وَكَفٰى بِاللّٰهِ نَصِيْرًا ۝٤٥

اردو ترجمہ: اے ایمان والو! جب تم نشے کی حالت میں ہو تو اس وقت تک نماز کے قریب بھی نہ جانا جب تک تم جو کچھ کہہ رہے ہو، اسے سمجھنے نہ لگو، ﴿۳۲﴾ اور جنابت کی حالت میں بھی جب تک غسل نہ کر لو (نماز جائز نہیں) الّا یہ کہ تم مسافر ہو (اور پانی نہ ملے تو تیمم کر کے نماز پڑھ سکتے ہو)۔ اور اگر تم بیمار ہو یا سفر پر ہو یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت کی جگہ سے آیا ہو یا تم نے عورتوں کو چھوا ہو، پھر تم کو پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کر لو، اور اپنے چہروں اور ہاتھوں کا (اس مٹی سے) مسح کر لو۔ بیشک اللہ بڑا معاف کرنے والا بڑا بخشنے والا ہے ﴿۴۳﴾ جن لوگوں کو کتاب (یعنی تورات کے علم) میں سے ایک حصہ دیا گیا تھا، کیا تم نے ان کو نہیں دیکھا کہ وہ (کس طرح) گمراہی مول لے رہے ہیں، اور چاہتے ہیں کہ تم بھی راستے سے بھٹک جاؤ ﴿۴۴﴾ اور اللہ تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے، اور رکھوالا بننے کے لئے بھی اللہ کافی ہے، اور مددگار بننے کے لئے بھی اللہ کافی ہے ﴿۴۵﴾

تفسیری حواشی: (۳۲) یہ اس وقت کی بات ہے جب شراب کی حرمت کا حکم نہیں آیا تھا۔ لیکن اسی آیت کے ذریعے یہ اشارہ دے دیا گیا تھا کہ وہ کوئی اچھی چیز نہیں ہے، کیونکہ اس کو پینے کی حالت میں نماز پڑھنے سے روکا گیا ہے، لہٰذا کسی وقت اس کو بالکل حرام بھی کیا جا سکتا ہے۔

عربی متن: مِنَ الَّذِيْنَ هَادُوْا يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ وَيَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَاسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍ وَّرَاعِنَا لَيًّا بِاَلْسِنَتِهِمْ وَطَعْنًا فِى الدِّيْنِ ؕ وَلَوْ اَنَّهُمْ قَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا وَاسْمَعْ وَانْظُرْنَا لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَاَقْوَمَ ۙ وَلٰكِنْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِيْلًا ۝٤٦

اردو ترجمہ: یہودیوں میں سے کچھ وہ ہیں جو (تورات) کے الفاظ کو ان کے موقع محل سے ہٹا ڈالتے ہیں، اور اپنی زبانوں کو توڑ مروڑ کر اور دین میں طعنہ زنی کرتے ہوئے کہتے ہیں، "سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا" اور "اسمع غیر مسمع" اور "رَاعِنَا" حالانکہ اگر وہ یہ کہتے کہ "سمعنا واطعنا" اور "اسمع وانظرنا" تو ان کے لئے بہتر اور راست بازی کا راستہ ہوتا، ﴿۳۳﴾ لیکن ان کے کفر کی وجہ سے اللہ نے ان پر پھٹکار ڈال رکھی ہے، اس لئے تھوڑے سے لوگوں کے سوا وہ ایمان نہیں لاتے ﴿۴۶﴾

تفسیری حواشی: (۳۳) اس آیت میں بعض یہودیوں کی دو شرارتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایک شرارت یہ ہے کہ وہ تورات کے الفاظ کو اپنے موقع محل سے ہٹا کر اس میں لفظی یا معنوی تحریف کا ارتکاب کرتے ہیں، یعنی بعض اوقات اس کے الفاظ ہی کو کسی اور لفظ سے بدل دیتے ہیں اور بعض اوقات اس لفظ کو غلط معنی پہنا کر اس کی من مانی تفسیر کرتے ہیں۔ اور دوسری شرارت یہ ہے کہ جب وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے ہیں تو ایسے مبہم اور منافقانہ الفاظ استعمال کرتے ہیں جن کا ظاہری مفہوم برا نہیں ہوتا لیکن وہ اندرونی طور پر ان سے برے معنی مراد لیتے ہیں جو ان الفاظ میں چھپے ہوئے ہوتے ہیں۔ قرآن کریم نے اس کی تین مثالیں اس آیت میں ذکر کی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ کہتے ہیں: "سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا" جس کے معنی یہ ہیں کہ "ہم نے آپ کی بات سن لی، اور نافرمانی کی"۔ وہ ان الفاظ کا مطلب یہ ظاہر کرتے تھے کہ ہم نے آپ کی بات سن لی ہے اور آپ کے مخالفین کی نافرمانی کی ہے، لیکن اندر سے ان کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ ہم نے آپ کی بات سن کر اس کی نافرمانی کی ہے۔ دوسرے وہ کہتے تھے "اسمع غیر مسمع" اس کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ "آپ ہماری بات سنیں، خدا کرے آپ کو کوئی بات سنائی نہ جائے" ظاہری طور پر وہ یہ دعا دیتے تھے کہ آپ کو کوئی ایسی بات نہ سنائی جائے جو آپ کی طبیعت کے خلاف ہو،… يٰأَيُّهَا الَّذِيْنَ أُوْتُوا الْكِتٰبَ اٰمِنُوْا بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّطْمِسَ وُجُوْهًا فَنَرُدَّهَا عَلٰٓى اَدْبَارِهَآ اَوْ نَلْعَنَهُمْ كَمَا لَعَنَّآ اَصْحٰبَ السَّبْتِ ؕ وَكَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا ﴿۴۷﴾ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَآءُ ۚ وَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰٓى اِثْمًا عَظِيْمًا ﴿۴۸﴾

اردو ترجمہ: اے اہل کتاب! جو (قرآن) ہم نے اب نازل کیا ہے، جو تمہارے پاس پہلے سے موجود کتاب کی تصدیق بھی کرتا ہے، اس پر ایمان لے آؤ، قبل اس کے کہ ہم کچھ چہروں کو مٹا کر انہیں گدی جیسا بنا دیں، یا ان پر ایسی پھٹکار ڈال دیں جیسی پھٹکار ہم نے سبت والوں پر ڈالی تھی۔^(۳۴) اور اللہ کا حکم ہمیشہ پورا ہو کر رہتا ہے۔ ﴿۴۷﴾ بیشک اللہ اس بات کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے، اور اس سے کمتر ہر بات کو جس کے لئے چاہتا ہے معاف کر دیتا ہے^(۳۵) ، اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے وہ ایسا بہتان باندھتا ہے جو بڑا زبردست گناہ ہے۔ ﴿۴۸﴾

حاشیہ: لیکن اندر سے ان کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ خدا کرے آپ کو ایسی بات نہ سنائی جائے جو آپ کو خوش کرے۔ تیسرے وہ ایک لفظ "راعنا" استعمال کرتے تھے جس کے معنی عربی زبان میں تو یہ ہیں کہ "ہمارا خیال رکھئے" لیکن عبرانی زبان میں یہ ایک گالی کا لفظ تھا جو وہ اندرونی طور پر مراد لیتے تھے۔ (۳۴) "سبت" سنیچر کے دن کو کہتے ہیں۔ تورات میں بنی اسرائیل کو اس دن روزگار کا کوئی کام کرنے سے منع کیا گیا تھا، لیکن ایک بستی کے لوگوں نے اس حکم کی نافرمانی کی جس کے نتیجے میں ان پر عذاب آیا اور ان کو مسخ کر دیا گیا۔ اس واقعے کی تفصیل کے لئے دیکھئے سورہ اعراف (۷:۱۶۳)۔ (۳۵) یعنی شرک سے کم کسی گناہ کو اللہ تعالیٰ جب چاہے تو توبہ کے بغیر بھی محض اپنے فضل سے معاف کر سکتا ہے، لیکن شرک کی معافی اس کے بغیر ممکن نہیں کہ مشرک اپنے شرک سے سچی توبہ کر کے موت سے پہلے پہلے اسلام قبول کر کے توحید پر ایمان لے آئے۔

(صفحہ 270)

عربی متن: اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ يُزَكُّوْنَ اَنْفُسَهُمْ ؕ بَلِ اللّٰهُ يُزَكِّيْ مَنْ يَّشَآءُ وَلَا يُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا ﴿۴۹﴾ اُنْظُرْ كَيْفَ يَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ ؕ وَكَفٰى بِهٖٓ اِثْمًا مُّبِيْنًا ﴿۵۰﴾ اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ اُوْتُوْا نَصِيْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ يُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوْتِ وَيَقُوْلُوْنَ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا هٰٓؤُلَآءِ اَهْدٰى مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا سَبِيْلًا ﴿۵۱﴾

اردو ترجمہ: کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنے آپ کو بڑا پاکیزہ بتاتے ہیں؟ حالانکہ پاکیزگی تو اللہ جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے، اور (اس عطا میں) ان پر ایک تاگے کے برابر بھی ظلم نہیں ہوتا۔^(۳۶) ﴿۴۹﴾ دیکھو یہ لوگ اللہ پر کیسے کیسے جھوٹے بہتان باندھتے ہیں، اور کھلا گناہ ہونے کے لئے یہی بات کافی ہے۔ ﴿۵۰﴾ جن لوگوں کو کتاب (یعنی تورات کے علم) میں سے ایک حصہ دیا گیا تھا، کیا تم نے ان کو نہیں دیکھا کہ وہ (کس طرح) بتوں اور شیطان کی تصدیق کر رہے ہیں اور کافروں (یعنی بت پرستوں) کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ مومنوں سے زیادہ سیدھے راستے پر ہیں۔^(۳۷) ﴿۵۱﴾

حاشیہ: (۳۶) یعنی پاکیزگی اور تقدس اللہ تعالیٰ انہی کو عطا فرماتا ہے جو اپنے اختیاری اعمال سے ایسا چاہتے ہیں، جن کو پاکیزگی اور تقدس نہیں ملتا، وہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اپنے اختیاری اعمال کے ذریعے خود نااہل بن جاتے ہیں، لہذا اگر اللہ انہیں تقدس عطا نہیں فرماتا تو اس میں ان پر کوئی ظلم نہیں ہے، کیونکہ انہوں نے خود اپنے اختیار سے اپنے آپ کو نااہل بنا دیا ہے۔ (۳۷) یہ مدینہ منورہ میں آباد بعض یہودیوں کا تذکرہ ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے ساتھ یہ معاہدہ کیا ہوا تھا کہ وہ اور مسلمان آپس میں امن کے ساتھ رہیں گے، اور ایک دوسرے کے خلاف کسی بیرونی دشمن کی مدد بھی نہیں کریں گے، لیکن انہوں نے اس معاہدے کی بار بار خلاف ورزی کی، اور مسلمانوں کے دشمن کفار مکہ کی حمایت اور درپردہ مدد کا سلسلہ جاری رکھا۔ ان کا ایک بڑا سردار کعب بن اشرف تھا۔ جنگِ اُحد کے بعد وہ اور ایک یہودی سردار حی بن اخطب مکہ مکرمہ کے کافروں کے پاس گیا، اور انہیں مسلمانوں کے خلاف تعاون کی پیشکش کی۔ کفار مکہ کے سردار ابوسفیان نے کہا کہ اگر تم واقعی اپنی پیشکش میں سچے ہو تو ہمارے دو بتوں کے سامنے سجدہ کرو، چنانچہ کعب بن اشرف نے ابوسفیان کا یہ مطالبہ بھی مان لیا، پھر ابوسفیان نے کعب سے...


(صفحہ 271)

عربی متن: اُولٰٓئِكَ الَّذِيْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ ؕ وَمَنْ يَّلْعَنِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ نَصِيْرًا ﴿۵۲﴾ اَمْ لَهُمْ نَصِيْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا يُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِيْرًا ﴿۵۳﴾ اَمْ يَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰى مَآ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ ۚ فَقَدْ اٰتَيْنَآ اٰلَ اِبْرٰهِيْمَ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَاٰتَيْنٰهُمْ مُّلْكًا عَظِيْمًا ﴿۵۴﴾

اردو ترجمہ: یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے پھٹکار ڈال رکھی ہے، اور جس پر اللہ پھٹکار ڈال دے، اس کے لئے تم کوئی مددگار نہیں پاؤ گے۔ ﴿۵۲﴾ تو کیا ان کو (کائنات کی) بادشاہی کا کچھ حصہ ملا ہوا ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو یہ لوگوں کو گھٹلی کے شگاف کے برابر بھی کچھ نہ دیتے۔^(۳۸) ﴿۵۳﴾ یا یہ لوگوں سے اس بنا پر حسد کرتے ہیں کہ اللہ نے ان کو اپنا فضل (کیوں) عطا فرمایا ہے؟ سو ہم نے تو ابراہیم کے خاندان کو کتاب اور حکمت عطا کی تھی اور انہیں بڑی سلطنت دی تھی۔^(۳۹) ﴿۵۴﴾

حاشیہ: پوچھا کہ ہمارا مذہب اچھا ہے یا مسلمانوں کا؟ تو اس نے یہاں تک کہہ دیا کہ تمہارا مذہب مسلمانوں کے مذہب سے زیادہ بہتر ہے، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ مکہ کے یہ لوگ بت پرست ہیں اور کسی آسمانی کتاب پر ایمان نہیں رکھتے۔ لہذا ان کے مذہب کو بہتر قرار دینے کا مطلب بت پرستی کی تصدیق کرنا تھا۔ اس آیت میں اسی واقعے کی طرف اشارہ ہے۔ (۳۸) یہودیوں کی مسلمانوں سے دشمنی اور عناد کا سبب قرآن کریم نے یہ بیان فرمایا ہے کہ انہیں یہ توقع تھی کہ جس طرح پچھلے بہت سے انبیائے کرام بنی اسرائیل میں سے آئے ہیں، نبی آخر الزماں بھی انہی کے خاندان سے ہوں گے، لیکن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں مبعوث فرمائے گئے تو یہ لوگ حسد میں مبتلا ہو گئے، حالانکہ نبوت اور خلافت و حکومت تو اللہ تعالیٰ کا ایک فضل ہے، وہ جب جس کو مناسب سمجھتا ہے اپنے اس فضل سے سرفراز فرماتا ہے۔ اگر کوئی شخص اس پر اعتراض کرے تو گویا وہ یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ کائنات کی بادشاہی اس کے پاس ہے اور اسی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی پسند سے انبیاء کو منتخب کرے۔ اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتے ہیں کہ اگر کہیں بادشاہی واقعی ان کو مل گئی ہوتی تو یہ اتنے بخیل ہیں کہ کسی کو ذرہ برابر بھی کچھ نہ دیتے۔ (۳۹) یعنی اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے تحت جس کو مناسب سمجھتا ہے نبوت اور خلافت و حکومت کے اعزاز سے سرفراز فرماتا ہے، چنانچہ اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نبوت و حکمت عطا فرمائی اور ان کی اولاد میں یہ سلسلہ...


(صفحہ 272)

عربی متن: فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ بِهٖ وَمِنْهُمْ مَّنْ صَدَّ عَنْهُ ؕ وَكَفٰى بِجَهَنَّمَ سَعِيْرًا ﴿۵۵﴾ اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِيْهِمْ نَارًا ؕ كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُهُمْ بَدَّلْنٰهُمْ جُلُوْدًا غَيْرَهَا لِيَذُوْقُوا الْعَذَابَ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِيْزًا حَكِيْمًا ﴿۵۶﴾ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ؕ لَهُمْ فِيْهَآ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ ۙ وَنُدْخِلُهُمْ ظِلًّا ظَلِيْلًا ﴿۵۷﴾

اردو ترجمہ: چنانچہ ان میں سے کچھ ان پر ایمان لائے اور کچھ نے ان سے منہ موڑ لیا۔ اور جہنم ایک بھڑکتی آگ کی شکل میں (ان کافروں کی خبر لینے کے لئے) کافی ہے۔ ﴿۵۵﴾ بیشک جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے انکار کیا ہے ہم انہیں آگ میں داخل کریں گے۔ جب بھی ان کی کھالیں جل جل کر پک جائیں گی، تو ہم انہیں ان کے بدلے دوسری کھالیں دے دیں گے تاکہ وہ عذاب کا مزہ چکھیں۔ بیشک اللہ صاحب اقتدار بھی ہے، صاحب حکمت بھی۔ ﴿۵۶﴾ اور جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کئے ہیں، ان کو ہم ایسے باغات میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ وہاں ان کے لئے پاکیزہ بیویاں ہوں گی، اور ہم انہیں گھنی چھاؤں میں داخل کریں گے۔^(۴۰) ﴿۵۷﴾

حاشیہ: جاری رکھا۔ چنانچہ ان میں سے بعض (مثلاً حضرت داؤد اور سلیمان علیہما السلام) نبی ہونے کے ساتھ حکمران بھی بنے۔ اب تک ان کے ایک صاحبزادے (حضرت یعقوب علیہ السلام) کی اولاد میں نبوت و حکومت کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ اب اگر ان کے دوسرے صاحبزادے (حضرت اسماعیل علیہ السلام) کی اولاد میں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اعزاز بخش دیا گیا ہے تو اس میں اعتراض یا حسد کی کیا بات ہے؟ (۴۰) اشارہ اس طرف ہے کہ جنت میں روشنی ہوگی مگر دھوپ کی تپش نہیں ہوگی۔


(صفحہ 273)

عربی متن: اِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَهْلِهَا ۙ وَاِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ ؕ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهٖ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِيْعًا بَصِيْرًا ﴿۵۸﴾ يٰأَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِى الْاَمْرِ مِنْكُمْ ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ؕ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَأْوِيْلًا ﴿۵۹﴾

اردو ترجمہ: (مسلمانو!) یقیناً اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے حق داروں تک پہنچاؤ، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔ یقین جانو اللہ تم کو جس بات کی نصیحت کرتا ہے وہ بہت اچھی ہوتی ہے۔ بیشک اللہ ہر بات کو سنتا اور ہر چیز کو دیکھتا ہے۔ ﴿۵۸﴾ اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی بھی اطاعت کرو اور تم میں سے جو صاحب اختیار ہوں، ان کی بھی۔^(۴۱) پھر اگر تمہارے درمیان کسی چیز میں اختلاف ہو جائے تو اگر واقعی تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اسے اللہ اور رسول کے حوالے کر دو۔ یہی طریقہ بہترین ہے اور اس کا انجام بھی سب سے بہتر ہے۔ ﴿۵۹﴾

حاشیہ: (۴۱) "صاحب اختیار" سے مراد اکثر مفسرین کے مطابق مسلمان حکمران ہیں۔ جائز امور میں ان کے احکام کی اطاعت بھی مسلمانوں کا فرض ہے۔ البتہ یہ اطاعت اس شرط کے ساتھ ہے کہ وہ کسی ایسی بات کا حکم نہ دیں جو شرعاً ناجائز ہو۔ اس بات کو قرآن کریم نے دو طرح واضح فرمایا ہے۔ ایک تو اس طرح کہ اصحاب اختیار کی اطاعت کا ذکر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے بعد فرمایا ہے جس میں یہ اشارہ ہو گیا کہ حکمرانوں کی اطاعت اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے تابع ہے۔ دوسرے اگلے جملے میں مزید صراحت کے ساتھ بتا دیا گیا کہ اگر کسی معاملے میں یہ اختلاف پیدا ہو جائے کہ آیا حکمرانوں کا دیا ہوا حکم صحیح اور قابلِ اطاعت ہے یا نہیں تو اسے اللہ اور اس کے رسول کے حوالے کر دو جس کا مطلب یہ ہے کہ اس حکم کو قرآن اور سنت کی کسوٹی پر پرکھ کر دیکھو، اگر وہ…

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ يَزْعُمُوْنَ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّتَحَاكَمُوْٓا اِلَى الطَّاغُوْتِ وَقَدْ اُمِرُوْٓا اَنْ يَّكْفُرُوْا بِهٖ ؕ وَيُرِيْدُ الشَّيْطٰنُ اَنْ يُّضِلَّهُمْ ضَلٰلًۢا بَعِيْدًا ﴿۶۰﴾

اردو ترجمہ: (اے پیغمبر!) کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ وہ اُس کلام پر بھی ایمان لے آئے ہیں جو تم پر نازل کیا گیا ہے اور اُس پر بھی جو تم سے پہلے نازل کیا گیا تھا، (لیکن) ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اپنا مقدمہ فیصلے کے لئے طاغوت کے پاس لے جانا چاہتے ہیں؟ حالانکہ ان کو حکم یہ دیا گیا تھا کہ وہ اس کا کھل کر انکار کریں۔ اور شیطان چاہتا ہے کہ انہیں بھٹکا کر پرلے درجے کی گمراہی میں مبتلا کردے ﴿۶۰﴾

حاشیہ: قرآن وسنت کے خلاف ہو تو اس کی اطاعت واجب نہیں ہے اور حکمرانوں کا فرض ہے کہ وہ ایسا حکم واپس لے لیں، اور اگر وہ حکم قرآن وسنت کے کسی صریح یا اجماعی طور پر مسلم حکم کے خلاف نہیں ہے تو عام مسلمانوں کا فرض ہے کہ اس پر عمل کریں۔ (۴۲) یہاں سے ان منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے جو اصل میں دل سے تو یہودی تھے، مگر مسلمانوں کو دکھانے کے لئے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے۔ ان کا حال یہ تھا کہ جس معاملے میں ان کو توقع ہوتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے فائدے کا فیصلہ کریں گے، ان کا مقدمہ تو آپ کے پاس لے جاتے، لیکن جس مسئلے میں ان کو خیال ہوتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ان کے خلاف ہوگا، وہ مقدمہ آپ کے بجائے کسی یہودی سردار کے پاس لے جاتے جسے اس آیت میں ”طاغوت“ کہا گیا ہے۔ منافقین کی طرف سے ایسے کئی واقعات پیش آئے تھے جو متعدد روایات میں منقول ہیں۔ ”طاغوت“ کے لفظی معنی ہیں ”نہایت سرکش“، لیکن یہ لفظ شیطان کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے، اور ہر باطل کے لئے بھی۔ یہاں اس سے مراد وہ حاکم ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے احکام سے بے نیاز ہوکر یا ان کے خلاف فیصلہ کرے۔ آیت نے واضح کردیا کہ اگر کوئی شخص زبان سے مسلمان ہونے کا دعویٰ کرے، لیکن اللہ اور اس کے رسول کے احکام پر کسی اور قانون کو ترجیح دے تو وہ مسلمان نہیں رہ سکتا۔


(صفحہ 275)

النساء ۴ | ۲۷۵ | والمحصنٰت ۵

عربی متن: وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَاِلَى الرَّسُوْلِ رَاَيْتَ الْمُنٰفِقِيْنَ يَصُدُّوْنَ عَنْكَ صُدُوْدًا ۚ﴿۶۱﴾ فَكَيْفَ اِذَآ اَصَابَتْهُمْ مُّصِيْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْهِمْ ثُمَّ جَآءُوْكَ يَحْلِفُوْنَ ۖ بِاللّٰهِ اِنْ اَرَدْنَآ اِلَّآ اِحْسَانًا وَّتَوْفِيْقًا ﴿۶۲﴾ اُولٰٓئِكَ الَّذِيْنَ يَعْلَمُ اللّٰهُ مَا فِيْ قُلُوْبِهِمْ ۗ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ وَقُلْ لَّهُمْ فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ قَوْلًۢا بَلِيْغًا ﴿۶۳﴾ وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِيُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِ ؕ وَلَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْٓا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِيْمًا ﴿۶۴﴾

اردو ترجمہ: اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اس حکم کی طرف جو اللہ نے اتارا ہے اور آؤ رسول کی طرف، تو تم ان منافقوں کو دیکھو گے کہ وہ تم سے پوری طرح منہ موڑ بیٹھتے ہیں ﴿۶۱﴾ پھر اُس وقت ان کا کیا حال بنتا ہے جب خود اپنے ہاتھوں کے کرتوت کی وجہ سے ان پر کوئی مصیبت آپڑتی ہے؟ اُس وقت یہ آپ کے پاس اللہ کی قسمیں کھاتے ہوئے آتے ہیں کہ ہمارا مقصد بھلائی کرنے اور ملاپ کرادینے کے سوا کچھ نہ تھا۔ (۴۳) ﴿۶۲﴾ یہ وہ ہیں کہ اللہ ان کے دلوں کی ساری باتیں خوب جانتا ہے۔ لہٰذا تم انہیں نظرانداز کردو، انہیں نصیحت کرو، اور ان سے خود ان کے بارے میں ایسی بات کہتے رہو جو دل میں اتر جانے والی ہو۔ ﴿۶۳﴾ اور ہم نے کوئی رسول اس کے سوا کسی اور مقصد کے لئے نہیں بھیجا کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے۔ اور جب ان لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا، اگر یہ اُس وقت تمہارے پاس آکر اللہ سے مغفرت مانگتے اور رسول بھی ان کے لئے مغفرت کی دعا کرتے تو یہ اللہ کو بہت معاف کرنے والا، بڑا مہربان پاتے۔ ﴿۶۴﴾

حاشیہ: (۴۳) یعنی جب ان کا یہ معاملہ تمام لوگوں پر کھل جاتا ہے کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے بجائے یا...


(صفحہ 276)

النساء ۴ | ۲۷۶ | والمحصنٰت ۵

عربی متن: فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا ﴿۶۵﴾ وَلَوْ اَنَّا كَتَبْنَا عَلَيْهِمْ اَنِ اقْتُلُوْٓا اَنْفُسَكُمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِيَارِكُمْ مَّا فَعَلُوْهُ اِلَّا قَلِيْلٌ مِّنْهُمْ ؕ وَلَوْ اَنَّهُمْ فَعَلُوْا مَا يُوْعَظُوْنَ بِهٖ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَاَشَدَّ تَثْبِيْتًا ۙ﴿۶۶﴾

اردو ترجمہ: نہیں، (اے پیغمبر!) تمہارے پروردگار کی قسم! یہ لوگ اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتے جب تک یہ اپنے باہمی جھگڑوں میں تمہیں فیصل نہ بنا لیں، پھر تم جو کچھ فیصلہ کرواس کے بارے میں اپنے دلوں میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں، اور اس کے آگے مکمل طور پر سرتسلیم خم کردیں ﴿۶۵﴾ اور اگر ہم ان کے لئے یہ فرض قرار دے دیتے کہ تم اپنے آپ کو قتل کردو یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ تو ان میں سے تھوڑے سے لوگوں کے سوا کوئی اس پر عمل نہ کرتا۔ اور جس بات کی انہیں نصیحت کی جارہی ہے اگر یہ لوگ اس پر عمل کر لیتے تو ان کے حق میں کہیں بہتر ہوتا، اور ان میں خوب ثابت قدمی پیدا کردیتا (۴۴) ﴿۶۶﴾

حاشیہ: اس کے خلاف کسی اور کو اپنا فیصل بنارہے ہیں، اور اس کے نتیجے میں انہیں ملامت یا کسی سزا کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو یہ جھوٹی تاویل کرتے ہیں کہ ہم اس شخص کے پاس عدالتی فیصلہ کرانے نہیں گئے تھے، بلکہ مصالحت کا کوئی راستہ نکالنا چاہتے تھے جس سے جھگڑے کے بجائے میل ملاپ کی کوئی صورت پیدا ہو جائے۔ (۴۴) مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو تو بڑے سخت قسم کے احکام دیئے گئے تھے جن میں توبہ کے طور پر ایک دوسرے کو قتل کرنا بھی شامل تھا جس کا ذکر سورۂ بقرہ (آیت ۵۴) میں آیا ہے۔ اب اگر کوئی ایسا سخت حکم دیا جاتا تو ان میں سے کوئی بھی عمل نہ کرتا۔ اب تو اس سے بہت آسان حکم یہ دیا جارہا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کو دل و جان سے تسلیم کرلو، لہذا عافیت کا راستہ یہی ہے کہ وہ آپ کے صحیح معنی میں فرماں بردار بن جائیں۔ بعض روایات میں ہے کہ کچھ یہودیوں نے یہ شیخی بھی بگھاری تھی کہ ہم تو ایسی فرماں بردار قوم ہیں کہ جب ہمارے آباء واجداد کو یہ حکم ہوا کہ وہ ایک دوسرے کو قتل کریں تو انہوں نے اس جیسے سخت حکم پر عمل کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ یہ آیت ان کی اس بات کی طرف بھی اشارہ کر رہی ہے۔


(صفحہ 277)

النساء ۴ | ۲۷۷ | والمحصنٰت ۵

عربی متن: وَاِذًا لَّاٰتَيْنٰهُمْ مِّنْ لَّدُنَّآ اَجْرًا عَظِيْمًا ۙ﴿۶۷﴾ وَلَهَدَيْنٰهُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِيْمًا ﴿۶۸﴾ وَمَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّهَدَآءِ وَالصّٰلِحِيْنَ ۚ وَحَسُنَ اُولٰٓئِكَ رَفِيْقًا ﴿۶۹﴾ ذٰلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللّٰهِ ؕ وَكَفٰى بِاللّٰهِ عَلِيْمًا ﴿۷۰﴾ يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا خُذُوْا حِذْرَكُمْ فَانْفِرُوْا ثُبَاتٍ اَوِ انْفِرُوْا جَمِيْعًا ﴿۷۱﴾ وَاِنَّ مِنْكُمْ لَمَنْ لَّيُبَطِّئَنَّ ۚ فَاِنْ اَصَابَتْكُمْ مُّصِيْبَةٌ قَالَ قَدْ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيَّ اِذْ لَمْ اَكُنْ مَّعَهُمْ شَهِيْدًا ﴿۷۲﴾

اردو ترجمہ: اور اس صورت میں ہم انہیں خود اپنے پاس سے یقیناً اجر عظیم عطا کرتے ﴿۶۷﴾ اور انہیں ضرور بالضرور سیدھے راستے تک پہنچا دیتے ﴿۶۸﴾ اور جو لوگ اللہ اور رسول کی اطاعت کریں گے تو وہ اُن کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے، یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین۔ اور وہ کتنے اچھے ساتھی ہیں! ﴿۶۹﴾ یہ فضیلت اللہ کی طرف سے ملتی ہے، اور (لوگوں کے حالات سے) پوری طرح باخبر ہونے کے لئے اللہ کافی ہے۔ (۴۵) ﴿۷۰﴾ اے ایمان والو! (دشمن سے مقابلے کے وقت) اپنے بچاؤ کا سامان ساتھ رکھو، پھر الگ الگ دستوں کی شکل میں (جہاد کے لئے) نکلو، یا سب لوگ اکٹھے ہوکر نکل جاؤ ﴿۷۱﴾ اور یقیناً تم میں کوئی ایسا بھی ضرور ہوگا جو (جہاد میں جانے سے) سستی دکھائے گا، پھر اگر (جہاد کے دوران) تم پر کوئی مصیبت آجائے تو وہ کہے گا کہ اللہ نے مجھ پر بڑا انعام کیا کہ میں ان لوگوں کے ساتھ موجود نہیں تھا ﴿۷۲﴾

حاشیہ: (۴۵) یعنی وہ کسی کو یہ فضیلت معاذ اللہ بے خبری کے ساتھ نہیں دیتا بلکہ ہر شخص کے عملی حالات سے باخبر ہوکر دیتا ہے۔


(صفحہ 278)

النساء ۴ | ۲۷۸ | والمحصنٰت ۵

عربی متن: وَلَئِنْ اَصَابَكُمْ فَضْلٌ مِّنَ اللّٰهِ لَيَقُوْلَنَّ كَاَنْ لَّمْ تَكُنْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهٗ مَوَدَّةٌ يّٰلَيْتَنِيْ كُنْتُ مَعَهُمْ فَاَفُوْزَ فَوْزًا عَظِيْمًا ﴿۷۳﴾ فَلْيُقَاتِلْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ الَّذِيْنَ يَشْرُوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا بِالْاٰخِرَةِ ؕ وَمَنْ يُّقَاتِلْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَيُقْتَلْ اَوْ يَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِيْهِ اَجْرًا عَظِيْمًا ﴿۷۴﴾ وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَالْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْ هٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ اَهْلُهَا ۚ وَاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِيًّا ۚ وَاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِيْرًا ﴿۷۵﴾

اردو ترجمہ: اور اگر اللہ کی طرف سے کوئی فضل (یعنی فتح اور مال غنیمت) تمہارے ہاتھ آئے تو وہ کہے گا ۔۔۔۔۔ گویا تمہارے اور اس کے درمیان کبھی کوئی دوستی تھی ہی نہیں (۴۶) ۔۔۔۔۔ کہ ”کاش میں بھی ان لوگوں کے ساتھ ہوتا تو بہت کچھ میرے بھی ہاتھ لگ جاتا!“ ﴿۷۳﴾ لہٰذا اللہ کے راستے میں وہ لوگ لڑیں جو دنیوی زندگی کو آخرت کے بدلے بیچ دیں۔ اور جو اللہ کے راستے میں لڑے گا، پھر چاہے قتل ہو جائے یا غالب آجائے، (ہر صورت میں) ہم اس کو زبردست ثواب عطا کریں گے۔ ﴿۷۴﴾ اور (اے مسلمانو!) تمہارے پاس کیا جواز ہے کہ اللہ کے راستے میں اور اُن بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑوجو یہ دعا کر رہے ہیں کہ ”اے ہمارے پروردگار! ہمیں اس بستی سے نکال لایئے جس کے باشندے ظلم توڑ رہے ہیں، اور ہمارے لئے اپنی طرف سے کوئی حامی پیدا کردیجئے، اور ہمارے لئے اپنی طرف سے کوئی مددگار کھڑا کردیجئے“ ﴿۷۵﴾

حاشیہ: (۴۶) مطلب یہ ہے کہ یوں تو وہ زبان سے مسلمانوں سے دوستی کا دم بھرتے ہیں، لیکن جنگ میں شرکت سے متعلق ان کے خیالات تمام تر خود غرضی پر مبنی ہوتے ہیں۔ خود تو جنگ میں شریک ہوتے نہیں، اور جب مسلمانوں کو جنگ میں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ان کو افسوس نہیں ہوتا بلکہ وہ خوش ہوتے ہیں کہ ہم اس تکلیف سے بچ گئے، اور اگر مسلمانوں کو فتح ہوتی ہے، اور مال غنیمت حاصل ہوتا ہے تو یہ خوش ہونے کے بجائے حسرت کرتے ہیں کہ ہم اس مال غنیمت سے محروم رہ گئے۔


اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۚ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِيْلِ الطَّاغُوْتِ فَقَاتِلُوْۤا اَوْلِيَآءَ الشَّيْطٰنِ ۚ اِنَّ كَيْدَ الشَّيْطٰنِ كَانَ ضَعِيْفًا۠ (76) اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ قِيْلَ لَهُمْ كُفُّوْۤا اَيْدِيَكُمْ وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ ۚ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ اِذَا فَرِيْقٌ مِّنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللّٰهِ اَوْ اَشَدَّ خَشْيَةً ۚ وَقَالُوْا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَيْنَا الْقِتَالَ ۚ لَوْلَاۤ اَخَّرْتَنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِيْبٍ ؕ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيْلٌ ۚ وَالْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى ۗ وَلَا تُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا (77)

اردو ترجمہ:

جو لوگ ایمان لائے ہوئے ہیں وہ اللہ کے راستے میں لڑتے ہیں، اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے وہ طاغوت کے راستے میں لڑتے ہیں۔ لہٰذا (اے مسلمانو!) تم شیطان کے دوستوں سے لڑو۔ (یاد رکھو کہ) شیطان کی چالیں درحقیقت کمزور ہیں ﴿۷۶﴾ کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن سے (مکی زندگی میں) کہا جاتا تھا کہ اپنے ہاتھ روک کر رکھو، اور نماز قائم کئے جاؤ اور زکوٰۃ دیتے رہو۔ پھر جب ان پر جنگ فرض کی گئی تو ان میں سے ایک جماعت (دشمن) لوگوں سے ایسی ڈرنے لگی جیسے اللہ سے ڈرا جاتا ہے، یا اس سے بھی زیادہ ڈرنے لگی، اور ایسے لوگ کہنے لگے کہ ’’اے ہمارے پروردگار! آپ نے ہم پر جنگ کیوں فرض کردی، تھوڑی مدت تک ہمیں مہلت کیوں نہیں دی؟‘‘ کہہ دو کہ دُنیا کا فائدہ تو تھوڑا سا ہے، اور جو شخص تقویٰ اختیار کرے اس کے لئے آخرت کہیں زیادہ بہتر ہے، اور تم پر ایک تاگے کے برابر بھی ظلم نہیں ہوگا ﴿۷۷﴾

(۴۷) حاشیہ:

مکہ مکرمہ میں جب مسلمان کفار کے سخت ظلم و ستم کا سامنا کر رہے تھے، اس وقت بہت سے حضرات کے دل میں یہ جذبہ پیدا ہوتا تھا کہ وہ ان کافروں سے انتقام لینے کے لئے جنگ کریں، لیکن اُس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے جہاد کا حکم نہیں آیا تھا، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کی مصلحت اس میں تھی کہ وہ صبر و ضبط کی بھٹی سے گزر کر اعلیٰ اخلاق سے آراستہ ہوں، اور پھر جہاد کریں تو وہ محض ذاتی انتقام کے جذبے سے نہ ہو بلکہ اللہ

صفحہ نمبر ۲۸۰ (سورۃ النساء)

عربی آیات:

اَيْنَمَا تَكُوْنُوْا يُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنْتُمْ فِيْ بُرُوْجٍ مُّشَيَّدَةٍ ؕ وَاِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ۚ وَاِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِكَ ؕ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ ؕ فَمَالِ هٰۤؤُلَآءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُوْنَ يَفْقَهُوْنَ حَدِيْثًا (78) مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ۫ وَمَاۤ اَصَابَكَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ ؕ

اردو ترجمہ:

تم جہاں بھی ہوگے (ایک نہ ایک دن) موت تمہیں جا پکڑے گی، چاہے تم مضبوط قلعوں میں کیوں نہ رہ رہے ہو۔ اور اگر ان (منافقوں) کو کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، اور اگر ان کو کوئی برا واقعہ پیش آجاتا ہے تو (اے پیغمبر!) وہ (تم سے) کہتے ہیں کہ یہ برا واقعہ آپ کی وجہ سے ہوا ہے۔ کہہ دو کہ ہر واقعہ اللہ ہی کی طرف سے ہوتا ہے۔ ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ کوئی بات سمجھنے کے نزدیک تک نہیں آتے؟ ﴿۷۸﴾ تمہیں جو کوئی اچھائی پہنچتی ہے تو وہ محض اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، اور جو کوئی بُرائی پہنچتی ہے، وہ تو تمہارے اپنے سبب سے ہوتی ہے،۔

حاشیہ (جاری ہے):

کی رضا کی خاطر ہو۔ لہٰذا اس وقت جب کچھ مسلمان جہاد کی تمنا کرتے تو ان سے یہی کہا جاتا تھا کہ ابھی اپنے ہاتھ روک کر رکھو، اور جہاد کے بجائے نماز اور زکوٰۃ وغیرہ کے احکام پر عمل کرتے رہو۔ بعد میں جب یہ حضرات ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئے تو جہاد فرض ہوا۔ اُس وقت چونکہ ان کی پرانی تمنا پوری ہوگئی تھی، اس لئے انہیں خوش ہونا چاہئے تھا، لیکن ان میں سے بعض حضرات کے دل میں یہ خیال آیا کہ تقریباً تیرہ سال کی صبر آزما تکلیفوں کے بعد اب ذرا سکون اور عافیت کی زندگی میسر آئی ہے، اس لئے جہاد کا حکم کچھ مزید مؤخر ہو جاتا تو اچھا تھا۔ ان کی یہ خواہش اللہ تعالیٰ کے حکم پر کوئی اعتراض نہیں تھا، بلکہ بشریت کا ایک تقاضا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس پر تنبیہ فرمائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے برگزیدہ صحابہ کا مقام اس بات سے بلند ہونا چاہئے کہ وہ کسی وقت دُنیاوی راحت و آرام کو اتنی اہمیت دیں کہ اس کی خاطر آخرت کے فوائد کو کچھ عرصے کے لئے ہی سہی مؤخر کرنے کی آرزو کرنے لگیں۔

صفحہ نمبر ۲۸۱ (سورۃ النساء)

عربی آیات:

وَاَرْسَلْنٰكَ لِلنَّاسِ رَسُوْلًا ؕ وَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًا (79)

اردو ترجمہ:

اور (اے پیغمبر!) ہم نے تمہیں لوگوں کے پاس رسول بنا کر بھیجا ہے، اور اللہ (اس بات کی) گواہی دینے کے لئے کافی ہے۔ ﴿۷۹﴾

(۴۸) حاشیہ:

ان آیتوں میں دو حقیقتیں بیان فرمائی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ اس کائنات میں جو کچھ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کے حکم ہی سے ہوتا ہے۔ کسی کو کوئی فائدہ پہنچے تو وہ بھی اللہ کے حکم سے پہنچتا ہے، اور نقصان پہنچے تو وہ بھی اسی کے حکم سے ہوتا ہے۔ دوسری حقیقت یہ بیان کی گئی ہے کہ کسی کو فائدہ یا نقصان پہنچانے کا حکم اللہ تعالیٰ کب اور کس بنا پر دیتے ہیں۔ اس کے بارے میں آیت ۷۹ نے یہ بتایا ہے کہ جہاں تک کسی کو فائدہ پہنچنے کا تعلق ہے اس کا حقیقی سبب صرف اللہ تعالیٰ کا فضل ہوتا ہے، کیونکہ کسی بھی مخلوق کا اللہ تعالیٰ پر کوئی اجارہ نہیں آتا کہ وہ اسے ضرور فائدہ پہنچائے، اور اگر اس فائدے کا کوئی ظاہری سبب اس شخص کا کوئی عمل نظر آتا بھی ہو تو اس عمل کی توفیق اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوتی ہے، اس لئے وہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہی فضل ہے، اور اس شخص کا کوئی ذاتی استحقاق نہیں ہے۔ دوسری طرف اگر انسان کو کوئی نقصان پہنچے تو اگرچہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کے حکم ہی سے ہوتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ یہ حکم اسی وقت فرماتے ہیں جب اس شخص نے اپنے اختیاری عمل سے کوئی غلطی کی ہو۔ اب منافقین کا معاملہ یہ تھا کہ جب انہیں کوئی فائدہ پہنچتا تو اس کو تو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے، لیکن کوئی نقصان ہو جاتا تو اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے لگا دیتے تھے۔ اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ جو نقصان کی ذمہ داری آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر عائد کر رہے ہیں، اگر اس سے مراد یہ ہے کہ یہ نقصان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ہوا ہے، تو یہ بات بالکل غلط ہے کیونکہ اس کائنات میں تمام کام اللہ ہی کے حکم سے ہوتے ہیں، کسی اور کے حکم سے نہیں، اور اگر ان کا مطلب یہ ہے کہ (معاذ اللہ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی غلطی اس کا سبب بنی ہے تو یہ بات بھی غلط ہے، ہر انسان کو خود اس کے اپنے کسی عمل کی وجہ سے نقصان پہنچتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے، لہٰذا نہ تو کائنات میں واقع ہونے والے کسی تکوینی واقعے کی ذمہ داری آپ پر عائد ہوتی ہے، اور نہ آپ فرائض رسالت میں کسی کوتاہی کے مرتکب ہو سکتے ہیں جس کا خمیازہ آپ کی اُمت کو بھگتنا پڑے۔

صفحہ نمبر ۲۸۲ (سورۃ النساء)

عربی آیات:

مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ ۚ وَمَنْ تَوَلّٰى فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيْظًا (80) وَيَقُوْلُوْنَ طَاعَةٌ ۖ فَاِذَا بَرَزُوْا مِنْ عِنْدِكَ بَيَّتَ طَآئِفَةٌ مِّنْهُمْ غَيْرَ الَّذِيْ تَقُوْلُ ؕ وَاللّٰهُ يَكْتُبُ مَا يُبَيِّتُوْنَ ۚ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ ؕ وَكَفٰى بِاللّٰهِ وَكِيْلًا (81) اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ ؕ وَلوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيْرًا (82)

اردو ترجمہ:

جو رسول کی اطاعت کرے، اس نے اللہ کی اطاعت کی، اور جو (اطاعت سے) منہ پھیر لے تو (اے پیغمبر!) ہم نے تمہیں ان پر نگراں بنا کر نہیں بھیجا (کہ تمہیں ان کے عمل کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے) ﴿۸۰﴾ اور یہ (منافق لوگ سامنے تو) اطاعت کا نام لیتے ہیں، مگر یہ تمہارے پاس سے باہر جاتے ہیں تو ان میں سے ایک گروہ رات کے وقت تمہاری باتوں کے خلاف مشورے کرتا ہے، اور یہ رات کے وقت جو مشورے کرتے ہیں، اللہ وہ سب لکھ رہا ہے۔ لہٰذا تم ان کی پروا مت کرو، اور اللہ پر بھروسہ رکھو۔ اور اللہ تمہاری حمایت کے لئے بالکل کافی ہے ﴿۸۱﴾ کیا یہ لوگ قرآن میں غور و فکر سے کام نہیں لیتے؟ اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بکثرت اختلافات پاتے۔ ﴿۸۲﴾

(۴۹) حاشیہ:

یوں تو انسان کی کوئی کاوش کمزوریوں سے پاک نہیں ہوتی، لہٰذا انسان کی کتابوں میں تضاد اور اختلافات پائے جاتے ہیں، لیکن اگر کوئی شخص اپنی کسی کتاب کے بارے میں یہ جھوٹا دعویٰ کرے کہ یہ اللہ کی کتاب ہے تو اس میں یقیناً تضادات اور اختلافات ہوں گے۔ جن لوگوں نے پچھلے انبیائے کرام کی کتابوں میں تحریفات کی ہیں، ان کی وجہ سے ان کتابوں میں جو تضادات پیدا ہوئے ہیں، وہ اس بات کی واضح دلیل ہیں۔ ان کی تفصیل دیکھنی ہو تو حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ کی کتاب ’’اظہار الحق‘‘ کا مطالعہ کیا جائے۔ اس کا اُردو ترجمہ ’’بائبل سے قرآن تک‘‘ کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔

صفحہ نمبر ۲۸۳ (سورۃ النساء)

عربی آیات:

وَاِذَا جَآءَهُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِهٖ ؕ وَلَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَاِلٰۤى اُولِی الْاَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِيْنَ يَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗ مِنْهُمْ ؕ وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّيْطٰنَ اِلَّا قَلِيْلًا (83) فَقَاتِلْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَفْسَكَ وَحَرِّضِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۚ عَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّكُفَّ بَاْسَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ؕ وَاللّٰهُ اَشَدُّ بَاْسًا وَّاَشَدُّ تَنْكِيْلًا (84) مَنْ يَّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَّكُنْ لَّهٗ نَصِيْبٌ مِّنْهَا ۚ وَمَنْ يَّشْفَعْ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَّكُنْ لَّهٗ كِفْلٌ مِّنْهَا ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ مُّقِيْتًا (85)

اردو ترجمہ:

اور جب ان کو کوئی بھی خبر پہنچتی ہے، چاہے وہ امن کی ہو یا خوف پیدا کرنے والی، تو یہ لوگ اسے (تحقیق کے بغیر) پھیلانا شروع کر دیتے ہیں۔ اور اگر یہ اس (خبر) کو رسول کے پاس یا اصحاب اختیار کے پاس لے جاتے تو ان میں سے جو لوگ اس کی کھوج نکالنے والے ہیں وہ اس کی حقیقت معلوم کر لیتے۔ اور (مسلمانو!) اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو تھوڑے سے لوگوں کو چھوڑ کر باقی سب شیطان کے پیچھے لگ جاتے ﴿۸۳﴾ لہٰذا (اے پیغمبر!) تم اللہ کے راستے میں جنگ کرو۔ تم پر اپنے سوا کسی اور کی ذمہ داری نہیں ہے۔ ہاں مومنوں کو ترغیب دیتے رہو۔ کچھ بعید نہیں کہ اللہ کافروں کی جنگ کا زور توڑ دے۔ اور اللہ کا زور سب سے زیادہ زبردست ہے اور اس کی سزا بڑی سخت ﴿۸۴﴾ جو شخص کوئی اچھی سفارش کرتا ہے، اس کو اس میں سے حصہ ملتا ہے، اور جو کوئی بری سفارش کرتا ہے اسے اس برائی میں سے حصہ ملتا ہے۔ اور اللہ ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہے۔ ﴿۸۵﴾

(۵۰) حاشیہ:

بعض لوگ مدینہ منورہ میں بلا تحقیق افواہیں پھیلا دیا کرتے تھے جس سے معاشرے میں بڑا نقصان ہوتا تھا۔ یہ آیت ایسی بے تحقیق افواہوں پر یقین کر لینے اور اسے دوسروں تک پہنچانے کی ممانعت کر رہی ہے۔

(۵۱) حاشیہ:

پچھلی آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو حکم دیا گیا تھا کہ آپ مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دیں، اس


آپ کی فرمائش کے مطابق فراہم کردہ صفحات کی من و عن ٹائپنگ درج ذیل ہے:

صفحہ ۲۸۳

والحصنت ۵ - ۲۸۳ - النسآء ۴

وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ حَسِيبًا ﴿٨٦﴾ اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ لَيَجْمَعَنَّكُمْ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا رَيْبَ فِيهِ ۗ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ حَدِيثًا ﴿٨٧﴾ ۞ فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ وَاللَّهُ أَرْكَسَهُم بِمَا كَسَبُوا ۚ

اور جب تمہیں کوئی شخص سلام کرے تو تم اسے اس سے بھی بہتر طریقے پر سلام کرو، یا (کم از کم) انہی الفاظ میں اس کا جواب دے دو۔ بیشک اللہ ہر چیز کا حساب رکھنے والا ہے ﴿۸۶﴾ اللہ وہ ہے کہ اس کے سوا کوئی خدا نہیں۔ وہ تمہیں ضرور بالضرور قیامت کے دن اکٹھا کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ہے۔ اور کون ہے جو اللہ سے زیادہ بات کا سچا ہو؟ ﴿۸۷﴾

پھر تمہیں کیا ہو گیا کہ منافقین کے بارے میں تم دو گروہ بن گئے؟، حالانکہ انہوں نے جیسے کام کئے ہیں ان کی بنا پر اللہ نے ان کو اوندھا کر دیا ہے۔

کے بعد یہ آیت لا کر اشارہ کر دیا گیا کہ آپ کی ترغیب کے نتیجے میں جو لوگ جہاد کریں گے، ان کے ثواب میں آپ بھی شریک ہوں گے۔ کیونکہ جب کوئی شخص اچھی سفارش کے نتیجے میں کوئی نیک کام کرے تو جو ثواب کام کرنے والے کو ملتا ہے، اس میں سفارش کرنے والے کو بھی حصہ ملتا ہے۔ اسی طرح اگر بری سفارش کے نتیجے میں کوئی غلط کام ہو جائے تو جتنا گناہ غلط کام کرنے والے کو ملے گا، بری سفارش کرنے والا بھی اس کے گناہ میں شریک ہوگا۔

(۵۲) سلام بھی چونکہ اللہ تعالیٰ کے حضور ایک سفارش ہے، اس لئے سفارش کا حکم بیان کرنے کے ساتھ سلام کا حکم بھی بیان فرما دیا گیا ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ پسندیدہ بات تو یہ ہے کہ جن الفاظ میں کسی شخص نے سلام کیا ہے اس سے بہتر الفاظ میں اس کا جواب دیا جائے، مثلاً اگر اس نے صرف "السلام علیکم" کہا ہے تو جواب میں "وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ" کہا جائے، اور اگر اس نے "السلام علیکم ورحمۃ اللہ" کہا ہے تو جواب میں "وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ" کہا جائے، لیکن اگر بعینہ اسی کے الفاظ میں جواب دے دیا جائے تو یہ بھی جائز ہے، البتہ کسی مسلمان کے سلام کا بالکل جواب نہ دینا گناہ ہے۔

(۵۳) ان آیتوں میں چار قسم کے منافقین کا تذکرہ ہے، اور ان میں سے ہر قسم کا حکم الگ بیان کیا گیا ہے۔ اس

صفحہ ۲۸۵

والحصنت ۵ - ۲۸۵ - النسآء ۴

أَتُرِيدُونَ أَن تَهْدُوا مَنْ أَضَلَّ اللَّهُ ۖ وَمَن يُضْلِلِ اللَّه فَلَن تَجِدَ لَهُ سَبِيلًا ﴿٨٨﴾ وَدُّوا لَوْ تَكْفُرُونَ كَمَا كَفَرُوا فَتَكُونُونَ سَوَاءً ۖ فَلَا تَتَّخِذُوا مِنْهُمْ أَوْلِيَاءَ حَتَّىٰ يُهَاجِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۚ فَإِن تَوَلَّوْا فَخُذُوهُمْ وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ ۖ وَلَا تَتَّخِذُوا مِنْهُمْ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا ﴿٨٩﴾

کیا تم یہ چاہتے ہو کہ ایسے شخص کو ہدایت پر لاؤ جسے اللہ (اس کی خواہش کے مطابق) گمراہی میں مبتلا کر چکا؟ اور جسے اللہ گمراہی میں مبتلا کر دے، اس کے لئے تم ہرگز کبھی کوئی بھلائی کا راستہ نہیں پا سکتے ﴿۸۸﴾ یہ لوگ چاہتے یہ ہیں کہ جس طرح انہوں نے کفر کو اپنا لیا ہے، اسی طرح تم بھی کافر بن کر سب برابر ہو جاؤ۔ لہذا (اے مسلمانو!) تم ان میں سے کسی کو اس وقت تک دوست نہ بناؤ جب تک وہ اللہ کے راستے میں ہجرت نہ کر لے۔ چنانچہ اگر وہ (ہجرت سے) اعراض کریں تو ان کو پکڑو، اور جہاں بھی انہیں پاؤ، انہیں قتل کر دو، اور ان میں سے کسی کو نہ اپنا دوست بناؤ، نہ مددگار۔ ﴿۸۹﴾

آیت (نمبر ۸۸) میں منافقین کی پہلی قسم کا ذکر ہے۔ یہ مکہ مکرمہ کے کچھ لوگ تھے جو مدینہ منورہ آئے اور ظاہری طور پر مسلمان ہو گئے، اور مسلمانوں کی ہمدردی حاصل کر لی۔ کچھ عرصے بعد انہوں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے تجارت کے بہانے مکہ مکرمہ جانے کی اجازت لی، اور واپس چلے گئے۔ ان کے بارے میں بعض مسلمانوں کی رائے یہ تھی کہ یہ سچے مسلمان تھے، اور بعض انہیں منافق سمجھتے تھے۔ لیکن جب وہ مکہ مکرمہ جا کر واپس نہ لوٹے تو ان کا کفر ظاہر ہو گیا، کیونکہ اس وقت مکہ مکرمہ سے ہجرت کرنا ایمان کا لازمی حصہ تھا، اور جو شخص قدرت کے باوجود ہجرت نہ کرے، اسے مسلمان قرار نہیں دیا جا سکتا تھا۔ لہذا اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اب جبکہ ان کا نفاق ظاہر ہو چکا ہے، تو ان کے بارے میں میں کسی اختلاف رائے کی گنجائش باقی نہیں رہی۔

صفحہ ۲۸۶

والحصنت ۵ - ۲۸۶ - النسآء ۴

إِلَّا الَّذِينَ يَصِلُونَ إِلَىٰ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُم مِّيثَاقٌ أَوْ جَاءُوكُمْ حَصِرَتْ صُدُورُهُمْ أَن يُقَاتِلُوكُمْ أَوْ يُقَاتِلُوا قَوْمَهُمْ ۚ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَيْكُمْ فَلَقَاتَلُوكُمْ ۚ فَإِنِ اعْتَزَلُوكُمْ فَلَمْ يُقَاتِلُوكُمْ وَأَلْقَوْا إِلَيْكُمُ السَّلَمَ فَمَا جَعَلَ اللَّهُ لَكُمْ عَلَيْهِمْ سَبِيلًا ﴿٩٠﴾ سَتَجِدُونَ آخَرِينَ يُرِيدُونَ أَن يَأْمَنُوكُمْ وَيَأْمَنُوا قَوْمَهُمْ كُلَّ مَا رُدُّوا إِلَى الْفِتْنَةِ أُرْكِسُوا فِيهَا ۚ

ہاں وہ لوگ اس حکم سے مستثنیٰ ہیں جو کسی ایسی قوم سے جا ملیں جن کے اور تمہارے درمیان کوئی (صلح کا) معاہدہ ہے، یا وہ لوگ جو تمہارے پاس اس طرح آئیں کہ ان کے دل تمہارے خلاف جنگ کرنے سے بھی بیزار ہوں، اور اپنی قوم کے خلاف جنگ کرنے سے بھی (۵۴)۔ اور اگر اللہ چاہتا تو انہیں تم پر مسلط کر دیتا، تو وہ تم سے ضرور جنگ کرتے۔ چنانچہ اگر وہ تم سے کنارہ کشی کرتے ہوئے تم سے جنگ نہ کریں، اور تم کو امن کی پیشکش کر دیں تو اللہ نے تم کو ان کے خلاف کسی کارروائی کا کوئی حق نہیں دیا ﴿۹۰﴾ (منافقین میں) کچھ دوسرے لوگ تمہیں ایسے ملیں گے جو یہ چاہتے ہیں کہ وہ تم سے بھی محفوظ رہیں اور اپنی قوم سے بھی۔ (مگر) جب کبھی ان کو فتنے کی طرف واپس بلایا جائے، وہ اس میں اوندھے منہ جا گرتے ہیں۔ (۵۵)

(۵۴) پچھلی آیت میں ایسے منافقین سے جنگ کرنے اور انہیں قتل کرنے کا حکم دیا گیا تھا جن کا کفر ظاہر ہو چکا ہو، البتہ اس حکم سے دو قسم کے لوگ مستثنیٰ کئے گئے ہیں، ایک وہ لوگ جو کسی ایسی غیر مسلم قوم کے ساتھ جا ملے ہوں جن سے مسلمانوں نے جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کر رکھا ہو، اور دوسرے وہ لوگ جو جنگ سے بالکل بیزار ہوں، نہ مسلمانوں سے لڑنا چاہتے ہوں، نہ اپنی قوم سے، اور چونکہ ان کو یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ اگر وہ مسلمانوں سے نہیں لڑیں گے تو خود ان کی قوم ان سے لڑے گی، اس لئے وہ مسلمانوں کے پاس آ جاتے ہیں۔ ان کے بارے میں بھی مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کریں۔ یہاں تک منافقین کی تین قسمیں ہو گئیں۔

(۵۵) اوپر کی آیت میں تیسری قسم کے لوگوں کا ذکر تھا جو واقعتہ جنگ سے بیزار تھے، اور مسلمانوں سے لڑنا نہیں

صفحہ ۲۸۷

والحصنت ۵ - ۲۸۷ - النسآء ۴

فَإِن لَّمْ يَعْتَزِلُوكُمْ وَيُلْقُوا إِلَيْكُمُ السَّلَمَ وَيَكُفُّوا أَيْدِيَهُمْ فَخُذُوهُمْ وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ ۚ وَأُولَٰئِكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَيْهِمْ سُلْطَانًا مُّبِينًا ﴿٩١﴾ وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَن يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلَّا خَطَأً ۚ وَمَن قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰ أَهْلِهِ إِلَّا أَن يَصَّدَّقُوا ۚ

چنانچہ اگر یہ لوگ تم سے (جنگ کرنے سے) علیحدگی اختیار نہ کریں، اور نہ تمہیں امن کی پیشکش کریں، اور نہ اپنے ہاتھ روکیں، تو ان کو بھی پکڑو، اور جہاں کہیں انہیں پاؤ، انہیں قتل کرو۔ ایسے لوگوں کے خلاف اللہ نے تم کو کھلا کھلا اختیار دے دیا ہے ﴿۹۱﴾ کسی مسلمان کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے مسلمان کو قتل کرے، الّا یہ کہ غلطی سے ایسا ہو جائے۔ اور جو شخص کسی مسلمان کو غلطی سے قتل کر بیٹھے تو اس پر فرض ہے کہ وہ ایک مسلمان غلام آزاد کرے اور دیت (یعنی خون بہا) مقتول کے وارثوں کو پہنچائے، الّا یہ کہ وہ معاف کر دیں۔

چاہتے تھے۔ اس آیت میں منافقین کی چوتھی قسم کا ذکر ہے جو جنگ سے بیزار ہونے کے معاملے میں بھی منافقت سے کام لیتے تھے۔ ظاہر تو یہ کرتے تھے کہ ہم مسلمانوں سے جنگ نہیں چاہتے، لیکن یہ جھوٹا اعلان صرف اس لئے تھا تاکہ مسلمان انہیں قتل کرنے سے باز رہیں۔ چنانچہ جب دوسرے کفار انہیں مسلمانوں کے خلاف کسی سازش کی دعوت دیتے تو یہ اس سازش میں بے دھڑک شریک ہو جاتے تھے۔

(۵۶) غلطی سے قتل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کسی انسان کو قتل کرنا مقصود نہیں تھا، بلکہ یا تو بے خیالی میں گولی چل گئی، یا مارنا تو کسی جانور کو تھا، مگر نشانہ خطا ہونے کی وجہ سے کوئی انسان مر گیا۔ اس کو اصطلاح میں "قتل خطا" کہتے ہیں۔ اس کا حکم آیت نے بتایا ہے کہ ایک تو قاتل پر کفارہ واجب ہوتا ہے، اور ایک دیت۔ کفارہ یہ ہے کہ ایک مسلمان غلام آزاد کیا جائے۔ اور اگر غلام میسر نہ ہو تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے جائیں۔ اور دیت کی مقدار احادیث میں سو اونٹ یا دس ہزار درہم یا ایک ہزار دینار مقرر کی گئی ہے۔

صفحہ ۲۸۸

والحصنت ۵ - ۲۸۸ - النسآء ۴

فَإِن كَانَ مِن قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ ۖ وَإِن كَانَ مِن قَوْمٍ بَيْنَكُم وَبَيْنَهُم مِّيثَاقٌ فَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰ أَهْلِهِ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ ۖ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ تَوْبَةً مِّنَ اللَّهِ ۗ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا ﴿٩٢﴾ وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا ﴿٩٣﴾

اور اگر مقتول کسی ایسی قوم سے تعلق رکھتا ہو جو تمہاری دشمن ہے، مگر وہ خود مسلمان ہو، تو بس ایک مسلمان غلام کو آزاد کرنا فرض ہے، (خوں بہا دینا واجب نہیں (۵۷))۔ اور اگر مقتول ان لوگوں میں سے ہو جو (مسلمان نہیں، مگر) ان کے اور تمہارے درمیان کوئی معاہدہ ہے، تو بھی یہ فرض ہے کہ خوں بہا اس کے وارثوں تک پہنچایا جائے، اور ایک مسلمان غلام کو آزاد کیا جائے۔ ہاں اگر کسی کے پاس غلام نہ ہو تو اس پر فرض ہے کہ دو مہینے تک مسلسل روزے رکھے۔ یہ توبہ کا طریقہ ہے جو اللہ نے مقرر کیا ہے، اور اللہ علیم و حکیم ہے ﴿۹۲﴾ اور جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اللہ اس پر غضب نازل کرے گا اور لعنت بھیجے گا، اور اللہ نے اس کے لئے زبردست عذاب تیار کر رکھا ہے ﴿۹۳﴾

(۵۷) اس سے مراد وہ مسلمان ہے جو دارالحرب میں رہتا ہو۔ اگر اسے غلطی سے قتل کر دیا جائے تو صرف کفارہ واجب ہے، دیت واجب نہیں ہے۔

(۵۸) مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی ایسا غیر مسلم غلطی سے قتل ہو جائے جو مسلم ریاست کا شہری بن کر امن سے رہتا ہو (جسے اصطلاح میں "ذمی" کہتے ہیں) تو اس میں بھی دیت اور کفارہ اسی طرح واجب ہیں جیسے کسی مسلمان کو قتل کرنے پر واجب ہوتے ہیں۔

صفحہ نمبر 289

عربی متن:

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَتَبَيَّنُوْا وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰۤى اِلَيْكُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًاۚ تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا٘ فَعِنْدَ اللّٰهِ مَغَانِمُ كَثِيْرَةٌؕ كَذٰلِكَ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ فَتَبَيَّنُوْاؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرًا ۝۹۴

اردو ترجمہ:

اے ایمان والو! جب تم اللہ کے راستے میں سفر کرو تو تحقیق سے کام لیا کرو، اور جو شخص تم کو سلام کرے تو دنیوی زندگی کا سامان حاصل کرنے کی خواہش میں اس کو یہ نہ کہو کہ ”تم مؤمن نہیں ہو“ (۵۹) کیونکہ اللہ کے پاس مالِ غنیمت کے بڑے ذخیرے ہیں۔ تم بھی تو پہلے ایسے ہی تھے۔ پھر اللہ نے تم پر فضل کیا۔ (۶۰) لہٰذا تحقیق سے کام لو۔ بیشک جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔ ﴿۹۴﴾

تفسیر و حواشی:

(۵۹) اللہ کے راستے میں سفر کرنے سے مراد جہاد کے لئے سفر کرنا ہے۔ ایک واقعہ ایسا پیش آیا تھا کہ ایک جہاد کے دوران کچھ غیر مسلموں نے اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرنے کے لئے صحابہ کرام کو سلام کیا۔ وہ صحابہ یہ سمجھے کہ ان لوگوں نے صرف اپنی جان بچانے کے لئے سلام کیا ہے، اور حقیقت میں وہ مسلمان نہیں ہوئے، چنانچہ انہوں نے ایسے لوگوں کو قتل کر دیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں یہ اصول بیان کر دیا گیا کہ اگر کوئی شخص ہمارے سامنے اسلام لائے اور اسلام کے تمام ضروری عقائد کا اقرار کر لے تو ہم اسے مسلمان ہی سمجھیں گے، اور اس کے دل کا حال اللہ پر چھوڑیں گے۔ لیکن یہ سمجھ لینا چاہئے کہ آیت کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ اگر کوئی شخص کھلے کھلے کفریہ عقائد رکھتا ہو، تو صرف ”السلام علیکم“ کہہ دینے کی بنا پر اسے مسلمان سمجھا جائے گا۔

(۶۰) یعنی شروع میں تم بھی غیر مسلم ہی تھے، اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور تم مسلمان ہوئے، مگر تمہارے زبانی اقرار کے سوا تمہارے سچا مسلمان ہونے کی کوئی اور دلیل نہیں تھی، تمہارے ظاہری اقرار ہی کی بنا پر تمہیں مسلمان مانا گیا۔

صفحہ نمبر 290

عربی متن:

لَا يَسْتَوِي الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ غَيْرُ اُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجٰهِدُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْؕ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِيْنَ بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقٰعِدِيْنَ دَرَجَةًؕ وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ وَفَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِيْنَ عَلَى الْقٰعِدِيْنَ اَجْرًا عَظِيْمًاۙ ۝۹۵ دَرَجٰتٍ مِّنْهُ وَمَغْفِرَةً وَّرَحْمَةًؕ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا۠ ۝۹۶ اِنَّ الَّذِيْنَ تَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰۤىِكَةُ ظَالِمِيْۤ اَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِيْمَ كُنْتُمْؕ

اردو ترجمہ:

جن مسلمانوں کو کوئی معذوری لاحق نہ ہو اور وہ (جہاد میں جانے کے بجائے گھر میں) بیٹھ رہیں وہ اللہ کے راستے میں اپنے مال و جان سے جہاد کرنے والوں کے برابر نہیں۔ جو لوگ اپنے مال و جان سے جہاد کرتے ہیں ان کو اللہ نے بیٹھ رہنے والوں پر درجے میں فضیلت دی ہے۔ اور اللہ نے سب سے اچھائی کا وعدہ کر رکھا ہے۔ (۶۱) اور اللہ نے مجاہدین کو بیٹھ رہنے والوں پر بڑی فضیلت دے کر بڑا ثواب بخشا ہے ﴿۹۵﴾ یعنی خاص اپنے پاس سے بڑے درجے اور مغفرت اور رحمت! اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے ﴿۹۶﴾ (۶۲) جن لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا، اور اسی حالت میں فرشتے ان کی روح قبض کرنے آئے تو بولے ”تم کس حالت میں تھے؟“

تفسیر و حواشی:

(۶۱) یہ اس حالت کا ذکر ہے جب جہاد ہر شخص کے ذمے فرض عین نہ ہو۔ ایسے میں جو لوگ جہاد میں جانے کے بجائے گھر میں بیٹھ گئے، اگرچہ ان پر کوئی گناہ نہیں ہے اور ان کے ایمان اور دوسرے نیک کاموں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان سے جنت کا وعدہ کیا ہوا ہے، لیکن جو لوگ جہاد میں گئے ہیں ان کا درجہ گھر بیٹھنے والوں سے بہت زیادہ ہے۔ البتہ جہاں جہاد فرض عین ہو جائے، یعنی جب مسلمانوں کا امیر تمام مسلمانوں کو جہاد کا حکم دے دے یا جب کوئی دشمن مسلمانوں پر چڑھ آئے، تو پھر گھر بیٹھنا حرام ہے۔

(۶۲) ”اپنی جان پر ظلم کرنا“ قرآن کریم کی ایک اصطلاح ہے جس کا مطلب کسی گناہ کا ارتکاب کرنا ہوتا ہے، کیونکہ گناہ کر کے انسان اپنی جان ہی کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اس آیت میں اپنی جانوں پر ظلم کرنے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے قدرت کے باوجود مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت نہیں کی تھی۔ جب

صفحہ نمبر 291

عربی متن:

قَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِيْنَ فِي الْاَرْضِؕ قَالُوْا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوْا فِيْهَاؕ فَاُولٰۤىِكَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُؕ وَسَآءَتْ مَصِيْرًاۙ ۝۹۷ اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآءِ وَالْوِلْدَانِ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ حِيْلَةً وَّلَا يَهْتَدُوْنَ سَبِيْلًاۙ ۝۹۸ فَاُولٰۤىِكَ عَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّعْفُوَ عَنْهُمْؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَفُوًّا غَفُوْرًا ۝۹۹ وَمَنْ يُّهَاجِرْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ يَجِدْ فِي الْاَرْضِ مُرٰغَمًا كَثِيْرًا وَّسَعَةًؕ وَمَنْ يَّخْرُجْ مِنْۢ بَيْتِهٖ مُهَاجِرًا اِلَى اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ اَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِؕ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا۠ ۝۱۰۰

اردو ترجمہ:

وہ کہنے لگے کہ ”ہم تو زمین میں بے بس بنا دیئے گئے تھے۔“ فرشتوں نے کہا ”کیا اللہ کی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے؟“ لہٰذا ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے، اور وہ نہایت برا انجام ہے ﴿۹۷﴾ البتہ وہ بے بس مرد، عورتیں اور بچے (اس انجام سے مستثنیٰ ہیں) جو (ہجرت کی) کوئی تدبیر نہیں کر سکتے اور نہ (نکلنے کا) کوئی راستہ پاتے ہیں ﴿۹۸﴾ چنانچہ پوری امید ہے کہ اللہ ان کو معاف فرما دے۔ اللہ بڑا معاف کرنے والا بہت بخشنے والا ہے ﴿۹۹﴾ اور جو شخص اللہ کے راستے میں ہجرت کرے گا وہ زمین میں بہت جگہ اور بڑی گنجائش پائے گا۔ اور جو شخص اپنے گھر سے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرنے کے لئے نکلے، پھر اسے موت آ پکڑلے، تب بھی اس کا ثواب اللہ کے پاس طے ہو چکا، اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے ﴿۱۰۰﴾

تفسیر و حواشی:

مسلمانوں کے لئے ہجرت کا حکم آگیا تھا تو مکہ میں رہنے والے ہر مسلمان پر شرعاً فرض تھا کہ وہ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرے، بلکہ اس کو ایمان کا لازمی تقاضا قرار دیا گیا تھا، اور اگر کوئی شخص قدرت کے باوجود ہجرت نہ کرتا تو اسے مسلمان قرار نہیں دیا جاتا تھا۔ اس آیت میں ایسے ہی بعض لوگوں کا ذکر ہے کہ جب فرشتے ان کے پاس ان کی روح قبض کرنے آئے تو ان کے ساتھ کیا مکالمہ ہوا۔ چونکہ یہ لوگ ہجرت کے حکم کی نافرمانی کرنے کی وجہ سے مسلمان نہیں رہے تھے، اس لئے ان کے بارے میں دوزخی ہونے کا اعلان کیا گیا ہے۔ البتہ جو لوگ کسی مجبوری کی بنا پر ہجرت سے قاصر رہے تھے، ساتھ ہی ان کا استثناء بھی کر دیا گیا ہے کہ معذوری کی وجہ سے وہ قابل معافی ہیں۔

صفحہ نمبر 292

عربی متن:

وَاِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْاَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوةِ اِنْ خِفْتُمْ اَنْ يَّفْتِنَكُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْاؕ اِنَّ الْكٰفِرِيْنَ كَانُوْا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِيْنًا ۝۱۰۱ وَاِذَا كُنْتَ فِيْهِمْ فَاَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلٰوةَ فَلْتَقُمْ طَاۤىِفَةٌ مِّنْهُمْ مَّعَكَ وَلْيَاْخُذُوْا اَسْلِحَتَهُمْ٘ فَاِذَا سَجَدُوْا فَلْيَكُوْنُوْا مِنْ وَّرَاۤىِكُمْ٘ وَلْتَاْتِ طَاۤىِفَةٌ اُخْرٰى لَمْ يُصَلُّوْا فَلْيُصَلُّوْا مَعَكَ وَلْيَاْخُذُوْا حِذْرَهُمْ وَاَسْلِحَتَهُمْۚ

اردو ترجمہ:

اور جب تم زمین میں سفر کرو اور تمہیں اس بات کا خوف ہو کہ کافر لوگ تمہیں پریشان کریں گے، تو تم پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم نماز میں قصر کر لو۔ (۶۳) یقیناً کافر لوگ تمہارے کھلے دشمن ہیں ﴿۱۰۱﴾ اور (اے پیغمبر!) جب تم ان کے درمیان موجود ہو اور انہیں نماز پڑھاؤ تو (دشمن سے مقابلے کے وقت اس کا طریقہ یہ ہے کہ) مسلمانوں کا ایک گروہ تمہارے ساتھ کھڑا ہو جائے، اور اپنے ہتھیار ساتھ لے لے۔ پھر جب یہ لوگ سجدہ کر چکیں تو تمہارے پیچھے ہو جائیں، اور دوسرا گروہ جس نے ابھی تک نماز نہ پڑھی ہو آگے آ جائے، اور وہ تمہارے ساتھ نماز پڑھے، اور وہ اپنے ساتھ اپنے بچاؤ کا سامان اور اپنے ہتھیار لے لے۔

تفسیر و حواشی:

(۶۳) اللہ تعالیٰ نے سفر کی حالت میں ظہر، عصر اور عشاء کی نماز آدھی کر دی ہے۔ اسے ”قصر“ کہا جاتا ہے۔ عام سفروں میں قصر ہر حالت میں واجب ہے، چاہے دشمن کا خوف ہو یا نہ ہو، لیکن یہاں ایک خاص قسم کے قصر کا ذکر مقصود ہے جو دشمن کے مقابلے کے وقت ہی ہو سکتا ہے، اس میں یہ چھوٹ بھی ہوتی ہے کہ مسلمانوں کا لشکر دو حصوں میں تقسیم ہو کر ایک ہی امام کے پیچھے باری باری ایک ایک رکعت پڑھے، اور دوسری رکعت بعد میں تنہا پوری کرے جس کا طریقہ اگلی آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ چونکہ یہ خاص قسم کا قصر، جسے ”صلاة الخوف“ کہتے ہیں، دشمن کے مقابلے کی حالت ہی میں ہو سکتا ہے، اس لئے یہاں قصر کے ساتھ یہ شرط لگائی گئی ہے کہ ”اگر تمہیں اس بات کا خوف ہو کہ کافر لوگ تمہیں پریشان کریں گے“ (ابن جریر) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ ذات الرقاع کے موقع پر ”صلاة الخوف“ پڑھی ہے۔ اس کا مفصل طریقہ احادیث اور فقہ کی کتابوں میں موجود ہے۔

صفحہ نمبر 292

الْمُحْصَنَتُ ۵ — ۲۹۳ — النِّسَاء ۴

وَدَّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ تَغْفُلُونَ عَنْ أَسْلِحَتِكُمْ وَأَمْتِعَتِكُمْ فَيَمِيلُونَ عَلَيْكُم مَّيْلَةً وَاحِدَةً ۚ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِن كَانَ بِكُمْ أَذًى مِّن مَّطَرٍ أَوْ كُنتُم مَّرْضَىٰ أَن تَضَعُوا أَسْلِحَتَكُمْ ۖ وَخُذُوا حِذْرَكُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا مُّهِينًا ﴿۱۰۲﴾ فَإِذَا قَضَيْتُمُ الصَّلَاةَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِكُمْ ۚ فَإِذَا اطْمَأْنَنتُمْ فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ ۚ إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا ﴿۱۰۳﴾ وَلَا تَهِنُوا فِي ابْتِغَاءِ الْقَوْمِ ۖ إِن تَكُونُوا تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ ۖ وَتَرْجُونَ مِنَ اللَّهِ مَا لَا يَرْجُونَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا ﴿۱۰۴﴾

اردو ترجمہ:

کافر لوگ یہ چاہتے ہیں کہ تم اپنے ہتھیاروں اور اپنے سامان سے غافل ہو جاؤ تو وہ ایک دم تم پر ٹوٹ پڑیں۔ اور اگر تمہیں بارش کی وجہ سے تکلیف ہو یا تم بیمار ہو تو اس میں بھی تم پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم اپنے ہتھیار اتار کر رکھ دو، ہاں اپنے بچاؤ کا سامان ساتھ لے لو۔ بیشک اللہ نے کافروں کے لئے ذلت والا عذاب تیار کر رکھا ہے ﴿۱۰۲﴾ پھر جب تم نماز پوری کر چکوتو اللہ کو (ہر حالت میں) یاد کرتے رہو، کھڑے بھی بیٹھے بھی، اور لیٹے ہوئے بھی ⁽⁶⁴⁾۔ پھر جب تمہیں (دشمن کی طرف سے) اطمینان حاصل ہو جائے تو نماز قاعدے کے مطابق پڑھو۔ بیشک نماز مسلمانوں کے ذمے ایک ایسا فریضہ ہے جو وقت کا پابند ہے ﴿۱۰۳﴾ اور تم ان لوگوں (یعنی کافر دشمن) کا پیچھا کرنے میں کمزوری نہ دکھاؤ، اگر تمہیں تکلیف پہنچی ہے تو ان کو بھی اسی طرح تکلیف پہنچی ہے جیسے تمہیں پہنچی ہے⁽⁶⁵⁾، اور تم اللہ سے اس بات کے اُمیدوار ہو جس کے وہ اُمیدوار نہیں۔ اور اللہ علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک ﴿۱۰۴﴾

(۶۴) یعنی سفر یا خوف کی حالت میں نماز میں تو قصر ہو سکتا ہے، لیکن اللہ کا ذکر ہر حالت میں جاری رہنا چاہئے، کیونکہ اس کا نہ کوئی خاص وقت مقرر ہے، نہ کوئی خاص ہیئت۔ وہ کھڑے بیٹھے لیٹے ہر حالت میں ہو سکتا ہے۔

(۶۵) جنگ کے اختتام پر لوگ تھکے ہوئے ہوتے ہیں، اور اس وقت دشمن کا تعاقب بھاری معلوم ہوتا ہے، لیکن

صفحہ ۲۹۴

الْمُحْصَنَتُ ۵ — ۲۹۴ — النِّسَاء ۴

إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ اللَّهُ ۚ وَلَا تَكُن لِّلْخَائِنِينَ خَصِيمًا ﴿۱۰۵﴾ وَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا ﴿۱۰۶﴾ وَلَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِينَ يَخْتَانُونَ أَنفُسَهُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ خَوَّانًا أَثِيمًا ﴿۱۰۷﴾ يَسْتَخْفُونَ مِنَ النَّاسِ وَلَا يَسْتَخْفُونَ مِنَ اللَّهِ وَهُوَ مَعَهُمْ إِذْ يُبَيِّتُونَ مَا لَا يَرْضَىٰ مِنَ الْقَوْلِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطًا ﴿۱۰۸﴾

اردو ترجمہ:

بیشک ہم نے حق پر مشتمل کتاب تم پر اس لئے اتاری ہے تاکہ تم لوگوں کے درمیان اس طریقے کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ نے تم کو سمجھا دیا ہے، اور تم خیانت کرنے والوں کے طرف دار نہ بنو ⁽⁶⁶⁾ ﴿۱۰۵﴾ اور اللہ سے مغفرت طلب کرو، بیشک اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے ﴿۱۰۶﴾ اور کسی تنازعے میں ان لوگوں کی وکالت نہ کرنا جو خود اپنی جانوں سے خیانت کرتے ہیں۔ اللہ کسی بھی خیانت کرنے والے گنہگار کو پسند نہیں کرتا ﴿۱۰۷﴾ یہ لوگوں سے تو شرماتے ہیں، اور اللہ سے نہیں شرماتے، حالانکہ وہ اس وقت بھی ان کے پاس ہوتا ہے جب وہ راتوں کو ایسی باتیں کرتے ہیں جو اللہ کو پسند نہیں۔ اور جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ نے اس سب کا احاطہ کر رکھا ہے ﴿۱۰۸﴾

اگر جنگی مصلحت ہو اور امیر حکم دے تو تعاقب واجب ہے۔ ایسے میں یہ سوچنے کی ترغیب دی گئی ہے کہ جس طرح ہم تھکے ہوئے ہیں، دشمن بھی تو تھکا ہوا ہے، اور مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد اور ثواب کی جو اُمید ہے وہ دشمن کو حاصل نہیں ہے۔

(۶۶) یہ آیتیں اگرچہ عام ہدایتوں پر مشتمل ہیں، مگر ایک خاص واقعے میں نازل ہوئی ہیں۔ خاندان بنو ابیرق کے ایک شخص بشر نے جو ظاہری طور پر مسلمان تھا، ایک صحابی حضرت رفاعہؓ کے گھر میں نقب لگا کر کچھ غلہ اور کچھ ہتھیار چرا لئے، اور لے جاتے وقت ہوشیاری یہ کی کہ غلے کی بوری کا منہ اس طرح کھولا کہ تھوڑا تھوڑا غلہ راستے میں گرتا جائے، یہاں تک کہ ایک یہودی کے گھر کے دروازے پر پہنچ کر بوری کا منہ بند کر دیا، اور بعد میں چوری کئے ہوئے ہتھیار اسی یہودی کے پاس رکھوا دیئے۔ جب چوری کی تفتیش شروع ہوئی تو ایک طرف غلے کے

صفحہ ۲۹۵

الْمُحْصَنَتُ ۵ — ۲۹۵ — النِّسَاء ۴

هَا أَنتُمْ هَؤُلَاءِ جَادَلْتُمْ عَنْهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَمَن يُجَادِلُ اللَّهَ عَنْهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَم مَّن يَكُونُ عَلَيْهِمْ وَكِيلًا ﴿۱۰۹﴾ وَمَن يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَّحِيمًا ﴿۱۱۰﴾ وَمَن يَكْسِبْ إِثْمًا فَإِنَّمَا يَكْسِبُهُ عَلَىٰ نَفْسِهِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا ﴿۱۱۱﴾

اردو ترجمہ:

ارے تمہاری بساط یہی تو ہے کہ تم نے دُنیوی زندگی میں لوگوں سے جھگڑ کر ان (خیانت کرنے والوں) کی حمایت کرلی! بھلا اس کے بعد قیامت کے دن اللہ سے جھگڑ کر کون ان کی حمایت کرے گا، یا کون ان کا وکیل بنے گا؟ ﴿۱۰۹﴾ اور جو شخص کوئی برا کام کر گذرے یا اپنی جان پر ظلم کر بیٹھے، پھر اللہ سے معافی مانگ لے تو وہ اللہ کو بہت بخشنے والا، بڑا مہربان پائے گا ﴿۱۱۰﴾ اور جو شخص کوئی گناہ کمائے، تو وہ اس کمائی سے خود اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اور اللہ پورا علم بھی رکھتا ہے، حکمت کا بھی مالک ہے ﴿۱۱۱﴾

نشانات یہودی کے گھر تک پائے گئے تھے، اور دوسری طرف ہتھیار اسی کے پاس سے برآمد ہوئے، اس لئے شروع میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال یہ ہونے لگا کہ یہ چوری اسی یہودی نے کی ہے، یہودی سے پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ ہتھیار تو میرے پاس بشر نامی شخص نے رکھوائے تھے، مگر چونکہ وہ اس پر کوئی گواہ پیش نہ کرسکا تھا، اس لئے آپ کا رجحان اس طرف ہونے لگا کہ وہ جان بچانے کے لئے بشر کا نام لے رہا ہے، دوسری طرف بشر کے خاندان بنو ابیرق کے لوگ بھی بشر کی وکالت کرتے ہوئے اس بات پر زور لگا رہے تھے کہ سزا بشر کے بجائے یہودی کو دی جائے۔ ابھی یہ معاملہ چل ہی رہا تھا کہ یہ آیات کریمہ نازل ہوگئیں اور ان کے ذریعے بشر کی دھوکا بازی کا پردہ چاک کردیا گیا، اور یہودی کو بے گناہ قرار دے کر بری کردیا گیا۔ بشر کو جب راز فاش ہونے کا پتہ لگا تو وہ فرار ہوکر کفارِ مکہ سے جاملا اور وہاں کفر کی حالت میں بڑی طرح اس کی موت واقع ہوئی۔ ان آیات کے ذریعے ایک طرف تو معاملے کی اصل حقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کھول دی گئی، اس کے علاوہ مقدمات کے فیصلے کرنے کے لئے اہم اُصول بتادیئے گئے ہیں۔ پہلا اُصول یہ کہ تمام فیصلے کتاب اللہ کے احکام

صفحہ ۲۹۶

الْمُحْصَنَتُ ۵ — ۲۹۶ — النِّسَاء ۴

وَمَن يَكْسِبْ خَطِيئَةً أَوْ إِثْمًا ثُمَّ يَرْمِ بِهِ بَرِيئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا ﴿۱۱۲﴾ وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ وَرَحْمَتُهُ لَهَمَّت طَّائِفَةٌ مِّنْهُمْ أَن يُضِلُّوكَ وَمَا يُضِلُّونَ إِلَّا أَنفُسَهُمْ ۖ وَمَا يَضُرُّونَكَ مِن شَيْءٍ ۚ وَأَنزَلَ اللَّهُ عَلَيْكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُن تَعْلَمُ ۚ وَكَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا ﴿۱۱۳﴾

اردو ترجمہ:

اور اگر کوئی شخص کسی غلطی یا گناہ کا مرتکب ہو، پھر اس کا الزام کسی بے گناہ کے ذمے لگا دے، تو وہ بڑا بھاری بہتان اور کھلا گناہ اپنے اوپر لاد لیتا ہے۔ ﴿۱۱۲﴾ اور (اے پیغمبر!) اگر اللہ کا فضل اور رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی تو ان میں سے ایک گروہ نے تو تم کو سیدھی راہ سے بھٹکانے کا ارادہ کر ہی لیا تھا۔ ⁽⁶⁷⁾ اور (در حقیقت) یہ اپنے سوا کسی کو نہیں بھٹکا رہے ہیں، اور یہ تم کو ذرا بھی نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ اللہ نے تم پر کتاب اور حکمت نازل کی ہے اور تم کو ان باتوں کا علم دیا ہے جو تم نہیں جانتے تھے، اور تم پر اللہ کا فضل ہمیشہ بہت زیادہ رہا ہے ﴿۱۱۳﴾

کے تابع ہونے چاہئیں، دوسرا اُصول یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت سے ایسے اُمور کھولتے رہتے ہیں جو صراحۃً قرآن میں مذکور نہیں ہیں، فیصلے ان کی روشنی میں ہونے چاہئیں۔ آیت کے الفاظ "اس طریقے کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ نے تمہیں سمجھا دیا ہے" اسی طرف اشارہ کررہے ہیں، اور ان سے قرآن کریم کے علاوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی حجیت کا بھی ثبوت ملتا ہے۔ تیسرا اُصول یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ جس کسی شخص کے بارے میں یہ معلوم ہو کہ وہ کسی مقدمے میں غلطی پر ہے اس کی وکالت کرنا جائز نہیں ہے۔ بنو ابیرق جو بشر کی وکالت کررہے تھے ان کو تنبیہ کی گئی ہے کہ اول تو یہ وکالت جائز نہیں ہے، دوسرے اس کا فائدہ ملزم کو زیادہ سے زیادہ دُنیا میں پہنچ سکتا ہے، آخرت میں تمہاری وکالت اس کو اللہ کے عذاب سے نہیں بچاسکتی۔

(۶۷) اس سے بشر اور اس کے حمایتی مراد ہیں جو یہ چاہتے تھے کہ یہودی کو بے گناہ سزا دلوادیں۔

صفحہ نمبر ۲۹۷

لَا خَيْرَ فِي كَثِيرٍ مِنْ نَجْوَاهُمْ إِلَّا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلَاحٍ بَيْنَ النَّاسِ ؕ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا ﴿١١٤﴾ وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ ؕ وَسَاءَتْ مَصِيرًا ﴿١١٥﴾ إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ ؕ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا ﴿١١٦﴾

لوگوں کی بہت سی خفیہ سرگوشیوں میں کوئی خیر نہیں ہوتی، الا یہ کہ کوئی شخص صدقے یا کسی نیکی کا یا لوگوں کے درمیان اصلاح کا حکم دے۔ اور جو شخص اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ایسا کرے گا، ہم اس کو زبردست ثواب عطا کریں گے ﴿۱۱۴﴾ اور جو شخص اپنے سامنے ہدایت واضح ہونے کے بعد بھی رسول کی مخالفت کرے، اور مومنوں کے راستے کے سوا کسی اور راستے کی پیروی کرے، اس کو ہم اسی راہ کے حوالے کردیں گے جو اس نے خود اپنائی ہے، اور اسے دوزخ میں جھونکیں گے، اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔ (۶۸) ﴿۱۱۵﴾ بیشک اللہ اس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے، اور اس سے کمتر ہر گناہ کی جس کے لئے چاہتا ہے بخشش کردیتا ہے۔ اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے، وہ راہ راست سے بھٹک کر بہت دور جا گرتا ہے ﴿۱۱۶﴾ (۶۹)

(۶۸) اس آیت سے علمائے کرام، بالخصوص امام شافعیؒ نے اجماع کی حجیت پر استدلال کیا ہے، یعنی جس مسئلے پر پوری امتِ مسلمہ متفق رہی ہو وہ یقینی طور پر برحق ہوتا ہے اور اس کی مخالفت جائز نہیں۔

(۶۹) یعنی شرک سے کم کسی گناہ کو اللہ تعالیٰ جب چاہے توبہ کے بغیر بھی محض اپنے فضل سے معاف کر سکتا ہے، لیکن شرک کی معافی اس کے بغیر ممکن نہیں کہ مشرک اپنے شرک سے سچی توبہ کر کے موت سے پہلے پہلے اسلام قبول کرے اور توحید پر ایمان لے آئے۔ یہی مضمون پیچھے آیت نمبر ۴۸ میں بھی گزر چکا ہے۔

صفحہ نمبر ۲۹۸

إِنْ يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ إِلَّا إِنَاثًا ۚ وَإِنْ يَدْعُونَ إِلَّا شَيْطَانًا مَرِيدًا ﴿١١٧﴾ لَعَنَهُ اللَّهُ ۘ وَقَالَ لَأَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِيبًا مَفْرُوضًا ﴿١١٨﴾ وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ آذَانَ الْأَنْعَامِ وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَّهِ ؕ وَمَنْ يَتَّخِذِ الشَّيْطَانَ وَلِيًّا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُبِينًا ﴿١١٩﴾

اللہ کو چھوڑ کر جن سے یہ دعائیں مانگ رہے ہیں وہ صرف چند زنانیاں ہیں (۷۰)، اور جس کو یہ پکار رہے ہیں وہ اس سرکش شیطان کے سوا کوئی نہیں ﴿۱۱۷﴾ جس پر اللہ نے پھٹکار ڈال رکھی ہے، اور اس نے (اللہ سے) یہ کہہ رکھا ہے کہ "میں تیرے بندوں سے ایک طے شدہ حصہ لے کر رہوں گا (۷۱) ﴿۱۱۸﴾ اور میں انہیں راہ راست سے بھٹکا کر رہوں گا، اور انہیں خوب آرزوئیں دلاؤں گا، اور انہیں حکم دوں گا تو وہ چوپایوں کے کان چیر ڈالیں گے (۷۲)، اور انہیں حکم دوں گا تو وہ اللہ کی تخلیق میں تبدیلی پیدا کریں گے"۔ اور جو شخص اللہ کے بجائے شیطان کو دوست بنائے اس نے کھلے کھلے خسارے کا سودا کیا۔ ﴿۱۱۹﴾

(۷۰) کفار مکہ جن من گھڑت دیویوں کو پوجتے تھے ان سب کو مؤنث سمجھتے تھے، لات، منات، عزّٰی سب کو مؤنث سمجھا جاتا تھا، نیز فرشتوں کو بھی وہ خدا کی بیٹیاں کہا کرتے تھے۔ آیت میں اشارہ یہ ہے کہ ایک طرف تو کفار مکہ عورتوں کو کمتر مخلوق سمجھتے ہیں، اور دوسری طرف جن کو اپنا خدا بنا رکھا ہے وہ ان کے خیال کے مطابق سب مؤنث ہیں۔

(۷۱) یعنی بہت سے بندوں کو گمراہ کر کے انہیں اپنا بنا لوں گا، اور بہت سوں سے اپنی مرضی کے کام کرواؤں گا۔

(۷۲) کفار عرب بعض چوپایوں کے کان چیر کر بتوں کے نام پر وقف کر دیتے تھے، اور ایسے جانور سے کوئی فائدہ اٹھانے کو جائز نہیں سمجھتے تھے۔ اس باطل رسم کی طرف اشارہ ہے کہ اس پر شیطان عمل کرا رہا ہے۔ اور اللہ کی تخلیق میں تبدیلی سے مراد خود یہی عمل بھی ہو سکتا ہے کہ جانور کے کان خواہ مخواہ چیر دیئے جائیں، اس کے علاوہ ایک حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض ان کاموں کو بھی "تخلیق میں تبدیلی" قرار دے کر منع فرمایا ہے جو عورتیں اپنے حسن میں اضافہ کرنے کی غرض سے کیا کرتی تھیں، مثلاً جسم کے کسی حصے کو سوئیوں وغیرہ سے گود کر نشانات بنوانا، چہرے کے قدرتی روؤں کو (جو عیب کی حد تک بڑھا ہوا نہ ہو) صاف کرنا اور دانتوں کے درمیان مصنوعی فاصلہ کروانا۔ (تفصیل کے لئے اس آیت کے تحت "معارف القرآن" کی طرف رجوع فرمائیے)۔

صفحہ نمبر ۲۹۹

يَعِدُهُمْ وَيُمَنِّيهِمْ ؕ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَانُ إِلَّا غُرُورًا ﴿١٢٠﴾ أُولَئِكَ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَلَا يَجِدُونَ عَنْهَا مَحِيصًا ﴿١٢١﴾ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ؕ وَعْدَ اللَّهِ حَقًّا ؕ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا ﴿١٢٢﴾ لَيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلَا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ ؕ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ ۙ وَلَا يَجِدْ لَهُ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا ﴿١٢٣﴾ وَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُونَ نَقِيرًا ﴿١٢٤﴾ وَمَنْ أَحْسَنُ دِينًا مِمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ وَاتَّبَعَ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا ؕ وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا ﴿١٢٥﴾

وہ تو ان سے وعدے کرتا ہے اور انہیں آرزوؤں میں مبتلا کرتا ہے، جبکہ (حقیقت یہ ہے کہ) شیطان ان سے جو بھی وعدے کرتا ہے، وہ دھوکے کے سوا کچھ نہیں۔ ﴿۱۲۰﴾ ان سب کا ٹھکانا جہنم ہے، اور ان کو اس سے بچنے کے لئے کوئی راہ فرار نہیں ملے گی۔ ﴿۱۲۱﴾ اور جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کئے ہیں ہم ان کو ایسے باغات میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، یہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے، اور اللہ سے زیادہ بات کا سچا کون ہو سکتا ہے؟ ﴿۱۲۲﴾ نہ تمہاری تمنائیں (جنت میں جانے کے لئے) کافی ہیں، نہ اہل کتاب کی آرزوئیں۔ جو بھی بُرا عمل کرے گا، اس کی سزا پائے گا، اور اللہ کے سوا اسے اپنا کوئی یار و مددگار نہیں ملے گا۔ ﴿۱۲۳﴾ اور جو شخص نیک کام کرے گا، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ مؤمن ہو، تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے، اور کھجور کی گٹھلی کے شگاف برابر بھی ان پر ظلم نہیں ہوگا۔ ﴿۱۲۴﴾ اور اس سے بہتر کس کا دین ہوگا جس نے اپنے چہرے (سمیت سارے وجود) کو اللہ کے آگے جھکا دیا ہو، جبکہ وہ نیکی کا خوگر بھی ہو، اور جس نے سیدھے سچے ابراہیم کے دین کی پیروی کی ہو۔ اور (یہ معلوم ہی ہے کہ) اللہ نے ابراہیم کو اپنا خاص دوست بنا لیا تھا۔ ﴿۱۲۵﴾

صفحہ نمبر ۳۰۰

وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ؕ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ مُحِيطًا ﴿١٢٦﴾ وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ ؕ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ ۙ وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْوِلْدَانِ ۙ وَأَنْ تَقُومُوا لِلْيَتَامَى بِالْقِسْطِ ؕ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِهِ عَلِيمًا ﴿١٢٧﴾

اور آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے، اور اللہ نے ہر چیز کو (اپنی قدرت کے) احاطے میں لیا ہوا ہے۔ ﴿۱۲۶﴾ اور (اے پیغمبر!) لوگ تم سے عورتوں کے بارے میں شریعت کا حکم پوچھتے ہیں (۷۴)۔ کہہ دو کہ اللہ تم کو ان کے بارے میں حکم بتاتا ہے، اور اس کتاب (یعنی قرآن) کی جو آیتیں جو تم کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں وہ بھی ان یتیم عورتوں کے بارے میں (شرعی حکم بتاتی ہیں) جن کو تم ان کا مقرر شدہ حق نہیں دیتے، اور ان سے نکاح کرنا بھی چاہتے ہو (۷۵)، نیز کمزور بچوں کے بارے میں بھی (حکم بتاتی ہیں) اور یہ تاکید کرتی ہیں کہ تم یتیموں کی خاطر انصاف قائم کرو۔ اور تم جو بھلائی کا کام کرو گے، اللہ کو اس کا پورا پورا علم ہے۔ ﴿۱۲۷﴾

(۷۴) اسلام سے پہلے عورتوں کو معاشرے میں ایک کمتر مخلوق سمجھا جاتا تھا، اور ان کے معاشرتی اور معاشی حقوق نہ ہونے کے برابر تھے۔ جب اسلام نے عورتوں کے حقوق ادا کرنے کی تاکید کی اور عورتوں کو بھی میراث میں حصہ دار قرار دیا تو یہ بات عربوں کے معاشرے میں اتنی اجنبی تھی کہ بعض لوگ یہ سمجھتے رہے کہ عورتوں کو جو حقوق دیئے گئے ہیں وہ شاید عارضی نوعیت کے ہیں، اور کسی وقت منسوخ ہو جائیں گے۔ جب ان کی منسوخی کا حکم نہیں آیا تو ایسے حضرات نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں یہ واضح کر دیا گیا کہ یہ احکام عارضی نہیں، ہمیشہ کے لئے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کا حکم دیا ہے، اور قرآن کریم کی جو آیات پہلے نازل ہوئی ہیں ان میں بہت سے ایسے احکام آچکے ہیں۔ اس کے ساتھ مرد و عورت کے باہمی تعلقات کے بارے میں کچھ مزید احکام بھی بیان فرمائے گئے ہیں۔

(۷۵) یہ اس ہدایت کی طرف اشارہ ہے جو سورۂ نساء کی آیت نمبر ۳ میں گزری ہے۔ صحیح بخاری کی ایک حدیث