نظامِ اسباب، صدائے 'کُن فَیَکُون' اور عقیدۂ آخرت
درس نمبر 261، سورۃ الانعام، آیات: 68تا 73، اشاعتِ اول: 16 اور 17 اگست، 2022، بمطابق 17 اور 18 محرم الحرام، 1444 ہجری
- اللہ کی آیتوں کو برا بھلا کہنے والوں سے اس وقت تک الگ رہنا چاہیے جب تک وہ کسی اور بات میں مشغول نہ ہو جائیں۔
- اگر کبھی شیطان کے بھلانے سے ایسی محفل میں بیٹھ جائیں تو یاد آنے کے بعد ظالم لوگوں کے ساتھ نہیں بیٹھنا چاہیے۔
- پرہیزگاروں پر ان لوگوں کے اعمال کی کوئی ذمہ داری نہیں، البتہ ان کا کام نصیحت کرنا ہے تاکہ وہ بھی پرہیز کرنے لگیں۔
- دین کو کھیل تماشا بنانے سے مراد اسلام کا مذاق اڑانا یا بے بنیاد رسموں پر مبنی کوئی دیگر دین اختیار کرنا ہے۔
- کفر اپنا کر اپنے اعمال کے سبب گرفتار ہونے والوں کی رہائی کے لیے نہ کوئی فدیہ قبول ہوگا اور نہ کوئی سفارشی ہوگا۔
- اللہ کے لیے ماضی، حال اور مستقبل ایک جیسے ہیں، اس لیے مستقبل کے عذاب کی جو بات فرمائی گئی ہے وہ بالکل موجود کی طرح ہے۔
- اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو ایک برحق مقصد سے پیدا کیا ہے جس کی تکمیل آخرت کی جزا اور سزا کے بغیر ناممکن ہے۔
- انسان کے لیے حقیقی ہدایت صرف اللہ کی ہے اور اسی رب العالمین کے آگے جھکنے اور اس کی نافرمانی سے ڈرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
- اللہ مسبب الاسباب ہے جو تکوینی امور کو محض اپنے ایک حکم سے بغیر اسباب کے بھی انجام دے سکتا ہے اور اسباب کے ذریعے بھی۔
- چونکہ اللہ کے پاس کائنات کا سارا ڈیٹا اور ڈیزائن موجود ہے، اس لیے انسانی سوچ کے مطابق بھی اسے دوبارہ پیدا کرنا کوئی مشکل نہیں۔
- روزِ قیامت صرف اللہ کی بادشاہی ہوگی جو غائب اور حاضر کا علم رکھنے والا اور بڑی حکمت والا ہے۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
وَ اِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖؕ وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ(68) وَ مَا عَلَى الَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ لٰـكِنْ ذِكْرٰى لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ(69) وَ ذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَعِبًا وَّ لَهْوًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ ذَكِّرْ بِهٖۤ اَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌۢ بِمَا كَسَبَتْ لَیْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌۚ وَ اِنْ تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لَّا یُؤْخَذْ مِنْهَاؕ اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ اُبْسِلُوْا بِمَا كَسَبُوْاۚ لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ (70)
صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ.
ترجمہ: اور جب تم اُن لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیتوں کو برا بھلا کہنے میں لگے ہوئے ہیں تو اُن سے اُس وقت تک کے لئے الگ ہو جاؤ جب تک وہ کسی اور بات میں مشغول نہ ہو جائیں۔ اور اگر کبھی شیطان تمہیں یہ بات بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ظالم لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو۔ ﴿68﴾ ان کے کھاتے میں جو اعمال ہیں ان کی کوئی ذمہ داری پرہیزگاروں پر عائد نہیں ہوتی۔ البتہ نصیحت کر دینا اُن کا کام ہے، شاید وہ بھی (ایسی باتوں سے) پرہیز کرنے لگیں ﴿69﴾ اور چھوڑ دو اُن لوگوں کو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا رکھا ہے،
حاشیہ: اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جس دین کو انہیں اپنا نا چاہئے تھا، (یعنی اسلام) اُس کو قبول کرنے کے بجائے وہ اُس کا مذاق بناتے ہیں۔ اور یہ مطلب بھی ممکن ہے کہ جو دین انہوں نے اختیار کر رکھا ہے، وہ کھیل تماشے جیسی بے بنیاد رسموں پر مشتمل ہے۔ اور دونوں صورتوں میں ان لوگوں کو چھوڑنے کا جو حکم دیا گیا ہے اس کامطلب وہی ہے کہ اُن کی اس قسم کی گفتگو میں اُن کے ساتھ مت بیٹھو جس میں وہ اللہ کی آیات کو استہزاء کا نشانہ بناتے ہوں۔
ترجمہ: اور جن کو دُنیوی زندگی نے دھوکے میں ڈال دیا ہے، اور اس (قرآن) کے ذریعے (لوگوں کو) نصیحت کرتے رہو، تاکہ ایسا نہ ہو کہ کوئی شخص اپنے اعمال کے سبب اس طرح گرفتار ہو جائے کہ اللہ (کے عذاب) سے بچانے کے لئے اللہ کو چھوڑ کر نہ کوئی اُس کا یار و مددگار بن سکے نہ سفارشی، اور اگر وہ (اپنی رہائی کے لئے) ہر طرح کا فدیہ بھی پیش کرنا چاہے تو اُس سے وہ قبول نہ کیا جائے۔ (چنانچہ) یہی (دین کو کھیل تماشا بنانے والے) وہ لوگ ہیں جو اپنے کئے کی بدولت گرفتار ہو گئے ہیں۔ چونکہ انہوں نے کفر اپنا رکھا تھا، اس لئے اُن کے لئے کھولتے ہوئے پانی کا مشروب اور ایک دُکھ دینے والا عذاب (تیار) ہے۔ ﴿70﴾
اللہ جل شانہ کے لیے ماضی، حال، مستقبل، یہ ایک جیسے ہوتے ہیں۔ یعنی جو مستقبل کی بات اللہ پاک فرماتے ہیں تو اس کے لیے ایسے ہے جیسے موجود۔ تو اس لیے جو یعنی بات فرمائی ہے، یہ
ترجمہ: (چنانچہ) یہی (دین کو کھیل تماشا بنانے والے) وہ لوگ ہیں جو اپنے کئے کی بدولت گرفتار ہو گئے ہیں۔ چونکہ انہوں نے کفر اپنا رکھا تھا، اس لئے اُن کے لئے کھولتے ہوئے پانی کا مشروب اور ایک دُکھ دینے والا عذاب (تیار) ہے۔﴿70﴾
قُلْ اَنَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُنَا وَ لَا یَضُرُّنَا وَ نُرَدُّ عَلٰۤى اَعْقَابِنَا بَعْدَ اِذْ هَدٰىنَا اللّٰهُ كَالَّذِی اسْتَهْوَتْهُ الشَّیٰطِیْنُ فِی الْاَرْضِ حَیْرَانَ۪ لَهٗۤ اَصْحٰبٌ یَّدْعُوْنَهٗۤ اِلَى الْهُدَى ائْتِنَاؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰىؕ وَ اُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ(71) وَ اَنْ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّقُوْهُؕ وَ هُوَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ(72) وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّؕ وَ یَوْمَ یَقُوْلُ كُنْ فَیَكُوْنُ قَوْلُهُ الْحَقُّؕ وَ لَهُ الْمُلْكُ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِؕ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ(73)
صَدَقَ ٱللهُ ٱلْعَلِيُّ ٱلْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ ٱلنَّبِيُّ ٱلْكَرِيمُ۔
ترجمہ: (اے پیغمبر!) ان سے کہو: ”کیا ہم اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کو پکاریں جو ہمیں نہ کوئی فائدہ پہنچا سکتی ہیں، نہ نقصان، اور جب اللہ ہمیں ہدایت دے چکا ہے تو کیا اس کے بعد بھی ہم الٹے پاؤں پھر جائیں؟ (اور) اُس شخص کی طرح (ہو جائیں) جسے شیطان بہکا کر صحرا میں لے گئے ہوں، اور وہ حیرانی کے عالم میں بھٹکتا پھرتا ہو، اُس کے کچھ ساتھی ہوں جو اُسے ٹھیک راستے کی طرف بلا رہے ہوں کہ ہمارے پاس آجاؤ؟“ کہو کہ: ”اللہ کی دی ہوئی ہدایت ہی صحیح معنی میں ہدایت ہے، اور ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم رب العالمین کے آگے جھک جائیں۔“ ﴿71﴾ اور یہ (حکم دیا گیا ہے) کہ: ”نماز قائم کرو، اور اُس (کی نافرمانی) سے ڈرتے رہو۔ اور وہی ہے جس کی طرف تم سب کو اکٹھا کر کے لے جایا جائے گا۔“ ﴿72﴾ اور وہی ذات ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے،
اس میں یہ فرمایا گیا ہے کہ
حاشیہ: اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو ایک برحق مقصد سے پیدا کیا ہے، اور وہ مقصد یہ ہے کہ جو لوگ یہاں اچھے کام کریں، انہیں انعام سے نوازا جائے، اور جو لوگ بدکار اور ظالم ہوں، انہیں سزا دی جائے۔ یہ مقصد اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب دُنیوی زندگی کے بعد ایک اور زندگی ہو جس میں جزا اور سزا کا یہ مقصد پورا ہو۔ اور آگے یہ بیان فرمایا ہے کہ اس مقصد کے لئے قیامت میں لوگوں کو دوبارہ زندگی دینا اللہ تعالیٰ کے لئے کچھ مشکل نہیں ہے۔ جب وہ چاہے گا تو قیامت کو وجود میں آنے کا حکم دے گا، اور وہ وجود میں آجائے گی۔ اور چونکہ وہ غائب و حاضر ہر چیز کو پوری طرح جانتا ہے، اس لئے لوگوں کو مرنے کے بعد اکٹھا کرنا بھی اس کے لئے کوئی مشکل نہیں۔ البتہ چونکہ وہ حکمت والا ہے، اس لئے وہ اسی وقت قیامت قائم فرمائے گا جب اس کی حکمت کا تقاضا ہوگا۔
اصل میں اللہ جل شانہ کی طرف سے دو قسم کے وہ آتے ہیں۔ تکوینی امور۔ ایک امر کے ذریعے سے۔ بس کہہ دے کہ ہو جا اور ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اللہ پاک کو کسی سبب کی ضرورت نہیں ہے، مسبب الاسباب ہے، خود اسباب پیدا کرتا ہے۔ دوسرا یہ کہ اللہ پاک نے اسباب کا ایک وسیع اور عریض ذریعہ بنایا ہوتا ہے۔ ہر چیز کے پیچھے ایک چیز ہوتی ہے۔ Cause and effect جس کو ہم کہتے ہیں۔ اچھا ہم لوگوں کو وہ cause and effect کی چیزیں نظر آتی ہیں۔ اور اس کے اسباب کی analysis اور ان کی تحقیقات اور researches اور ان ساری چیزوں میں لگے رہتے ہیں۔ تو ان چیزوں پر لوگوں کا اتنا پکا یقین آ جاتا ہے کہ اس کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ مطلب یہی چیز ہے۔ حالانکہ اللہ جل شانہ نے ہی اسباب کو پیدا کیا ہے۔ اگر اللہ پاک اسباب کو پیدا نہ کرتا تو یہ بھی نہ ہوتے۔ تو اسی نے اسباب کو پیدا کیا ہے۔ اس لیے اگر وہ بغیر اسباب کے پیدا کر لے، وہ بھی اس کا ایک سبب ہوگا۔ مطلب یعنی اس کے لیے وہ کوئی مشکل مشکل نہیں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ سب سے بڑی بات جو کہ اہم ہے سمجھنے کے لیے اور جس پہ atheist لوگ مار کھا جاتے ہیں۔ وہ یہ ہے کہ۔ جب اللہ پاک نے جو چیزیں بالکل نہیں تھیں ان کو پیدا کیا۔ جب چیزیں بالکل نہیں تھیں ان کو پیدا کیا۔ تو جب پیدا ہو چکی ہیں تو پھر اس کو دوبارہ پیدا کرنا اس سے زیادہ مشکل ہے یا کم؟ ظاہر ہے R and D جو ہوتا ہے نا اس کے اوپر بہت زیادہ خرچ ہوتا ہے۔ مطلب ابتداء میں جو چیز پیدا کی جاتی ہے۔ لیکن ایک دفعہ R and D ہو جائے یہ ہمارے اسباب والی بات ہے، اس میں مطلب اس کے لیے میں بات کر رہا ہوں۔ تو پھر اس کے بعد دوبارہ reproduce کرنا مشکل نہیں ہوتا۔ پھر تو کاپی پیسٹ کاپی پیسٹ والی بات ہوتی ہے۔ تو R and D اصل میں زیادہ مشکل۔ تو اللہ پاک نے جب پہلے سے ایک چیز کو پیدا کیا ہے۔ اس کا ایک ڈیزائن بنا ہوا ہے، ڈیٹا سارا موجود ہے۔ پھر اس کو دوبارہ recreate کرنا یہ تو کوئی مشکل نہیں۔ اس کے لیے مطلب اس سے تو کم از کم آسان ہے یعنی انسانی بنیاد پہ۔ اللہ تعالیٰ کے لیے تو یہ سوچنا بھی فضول ہے۔ کیونکہ اللہ پاک ساری چیزوں کو اپنے ارادے کے ساتھ آناً فاناً بغیر اسباب کے پیدا کر سکتا ہے۔ لیکن یہ میں ان لوگوں کی بات کرتا ہوں جو کہ ان چیزوں کو نہیں جانتے اور مانتے ان کے لیے، کہ تم اپنی انسانی سوچ کے لحاظ سے اگر دیکھو، تو انسانی سوچ کے مطابق R&D مشکل ہوتا ہے پھر اس کے بعد reproduction مشکل نہیں ہوتا۔ تو جب اللہ پاک نے ایک چیز کو پہلے سے پیدا کیا ہے تو پھر دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے؟ تو بس اصل میں یہی بنیادی بات ہے۔
یہ آگے آیت آ رہی ہے نا
وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّؕ۔
بالکل اس کے بعد یہی آیت ہے کہ
ترجمہ: اور وہی ذات ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے،
وَيَوْمَ يَقُولُ كُن فَيَكُونُ۔
ترجمہ: اور جس دن وہ (روزِ قیامت سے) کہے گا کہ: ”تو ہو جا“ تو وہ ہو جائے گا۔
قَوْلُهُ الْحَقُّ۔
ترجمہ: اُس کا قول برحق ہے۔
وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنفَخُ فِي الصُّورِ ۚ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۚ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ ﴿73﴾
ترجمہ: اور جس دن صور پھونکا جائے گا، اُس دن بادشاہی اُسی کی ہوگی۔
بادشاہی اب بھی اسی کی ہے لیکن اس وقت کسی اور کی بادشاہی کا تصور ختم ہو جائے گا۔
ترجمہ: وہ غائب و حاضر ہر چیز کو جاننے والا ہے، اور وہی بڑی حکمت والا، پوری طرح باخبر ہے۔ ﴿73﴾
اب انسان اگر سوچے اپنی عقل سے تو یہ تو سمجھ میں آ سکتا ہے کہ ساری چیزیں تباہ ہو جائیں آواز سے۔ یعنی آواز کی جو intensity اتنی زیادہ ہو کہ اس سے ساری چیزیں تباہ ہو جائیں وہ تو possible ہے یعنی بظاہر ہماری عقل میں۔ لیکن اس سے دوبارہ پیدا ہو جائیں آواز سے، یہ چیز انسان کے بس کی بات نہیں کہ انسان سوچے۔ تو اس لیے فرمایا
وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّؕ۔
یعنی پہلے سے فرمایا کہ
ترجمہ: اور وہی ذات ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے،
تو پہلے یہ بات مان لو۔
وَيَوْمَ يَقُولُ كُن فَيَكُونُ۔
ترجمہ: اور جس دن وہ (روزِ قیامت سے) کہے گا کہ: ”تو ہو جا“ تو وہ ہو جائے گا۔
قَوْلُهُ الْحَقُّ۔
ترجمہ: اُس کا قول برحق ہے۔
پھر اس کے بعد
وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنفَخُ فِي الصُّورِ
ترجمہ: اور جس دن صور پھونکا جائے گا، اُس دن بادشاہی اُسی کی ہوگی۔
عَالِمُ ٱلْغَيْبِ وَٱلشَّهَادَةِ۔
ترجمہ: وہ غائب و حاضر ہر چیز کو جاننے والا ہے،
وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ ﴿73﴾
ترجمہ: اور وہی بڑی حکمت والا، پوری طرح باخبر ہے۔ ﴿73﴾
اللہ پاک ہم سب کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔