نفلی اعمال میں اعتدال اور دوام کی اہمیت

بَابٌ فِي الْمُحَافَظَةِ عَلَى الْأَعْمَالِ، درس نمبر: 225، اشاعتِ اول: 6 مارچ، 2023 بمطابق 13 شعبان، 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. نفلی اعمال میں میانہ روی اور ہمیشگی اختیار کرنا اللہ تعالیٰ کی رضا کا باعث اور شریعت کا بنیادی مطلوب ہے۔
  2. کسی نیک عمل یا مجاہدے کو شروع کر کے اسے مکمل طور پر ترک کر دینے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پناہ مانگی ہے۔
  3. اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب عمل وہ ہے جو پابندی اور ہمیشگی کے ساتھ کیا جائے، خواہ وہ مقدار میں تھوڑا ہی ہو۔
  4. تمام اعمال کا بنیادی مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہے جس کے معتدل طریقے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائے ہیں۔
  5. دوام اور میانہ روی کا یہ اصول صرف نفلی اعمال کے لیے ہے، جبکہ فرض اور واجب اعمال کو ہر حال میں ادا کرنا لازمی ہے۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو آپ ﷺ کی نصیحت

(154) وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَبْدَ اللَّهِ، لَا تَكُنْ مِثْلَ فُلَانٍ، كَانَ يَقُومُ اللَّيْلَ فَتَرَكَ قِيَامَ اللَّيْلِ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

ترجمہ: ”حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے عبداللہ فلاں انسان کی مثل نہ بن جانا جو رات کو قیام کیا کرتا تھا پھر اس نے قیام کرنا چھوڑ دیا۔“

تشریح: محدثین نے اس حدیث کے دو مطلب بیان کئے ہیں: پہلا مطلب: آپ ﷺ نے عمل، مجاہدہ، اور ریاضت کرنے میں میانہ روی کی تعلیم و ترغیب دی ہے کہ اے عبداللہ تم اس طرح نہ بن جانا کہ جو پہلے تو پوری رات جاگتا تھا بعد میں تہجد کو بالکل ترک کر دیا۔ ایک دوسری روایت میں فرمایا گیا: ”أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللهِ أَدْوَمُهَا وَ إِنْ قَلَّ“ ”اللہ کو سب سے زیادہ محبوب عمل وہ ہے جو ہمیشگی کے ساتھ ہو اگرچہ تھوڑا ہی سا کیوں نہ ہو۔“ دوسرا مطلب: یہ ہے کہ نیک عمل کے اختیار کرنے کے بعد اس کو چھوڑ دے ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا گیا کہ تارک الورد ملعون خود آپ ﷺ نے اس سے پناہ مانگی ہے۔

اللہ جل شانہ ہم سب کو ان ہدایات کے سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

کیونکہ اصل بات یہ ہے کہ ہم سارے اعمال جو کرتے ہیں وہ اللہ جل شانہ کی رضا کے لیے کرتے ہیں۔ بنیادی بات یہی ہے۔ اگر اللہ پاک اس سے راضی ہو گیا تو ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے، اور اللہ پاک اس سے ناراض ہوا تو ہم اپنے مقصد میں ناکام ہو گئے۔ اور اللہ پاک کی رضا اور ناراضی کو جاننا سب سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تھا۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی سب سے زیادہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالی کس چیز سے راضی ہوتے ہیں، کس چیز سے ناراض ہوتے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ان چیزوں کی خبر دی ہے کہ اس طرح کرنا چاہیے اور اس طرح نہیں کرنا چاہیے۔ یہ وہ اعمال ہیں جو نفلی اعمال ہیں۔ باقی جو فرض اعمال ہیں، واجب اعمال ہیں، اس میں تو ترک کا سوال ہی نہیں پیدا ہو سکتا، وہ تو مطلب ظاہر ہے، وہ تو حکم ہے اللہ تعالی کا۔ تو وہ اس میں کوئی دوسری بات ہو نہیں سکتی۔ لیکن یہ جو بات ہے کہ جو نفلی اعمال ہیں، اس کے اندر بھی دوام مطلوب ہے، یعنی اتنا کرو جس پر دوام کر سکو۔ جیسے فرمایا: "اَحَبُّ الْاَعْمَالِ اِلَى اللّٰهِ اَدْوَمُهَا وَاِنْ قَلَّ"، یعنی تھوڑا بھی ہو لیکن اس پر دوام ہو۔ یہ اس سے بہتر ہے کہ زیادہ ہو اور کبھی ہو، کبھی نہ ہو۔ نہیں، یہ والی بات نہیں ہے۔ تو نفلی اعمال کو بھی ہم میانہ روی کے ساتھ لے لیں، اور مطلب یہ ہے کہ جو مناسب طریقہ ہے اعتدال والا، اس طریقے کو اس میں اختیار کر لیں۔ اللہ تعالی ہم سب کو نصیب فرما دے۔

وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔

نفلی اعمال میں اعتدال اور دوام کی اہمیت - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور