اقتدارِ الٰہی، انسانی رویہ اور ہر کام کا وقتِ مقرر
درس نمبر 260، سورۃ الانعام، آیات: 61تا 67، اشاعتِ اول: 15 اگست، 2022، بمطابق 16 محرم الحرام، 1444 ہجری
- اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر مکمل اقتدار رکھتا ہے اور موت کا مقررہ وقت آنے تک فرشتوں کے ذریعے ان کی حفاظت فرماتا ہے۔
- موت کا وقت آنے پر فرشتے روح قبض کرنے میں کوتاہی نہیں کرتے اور سب کو حساب کے لیے اللہ کی طرف لوٹایا جاتا ہے۔
- انسان مصیبت کے وقت گڑگڑا کر صرف اللہ کو پکارتا ہے، لیکن نجات ملنے کے بعد دوبارہ شرک کرنے لگتا ہے۔
- اللہ تعالیٰ نافرمانوں پر اوپر یا نیچے سے عذاب بھیجنے اور انہیں مختلف ٹولیوں میں بانٹ کر آپس میں بھڑانے پر قادر ہے۔
- پیغمبر منکرین کے مطالبات پورے کرنے کے پابند نہیں ہیں کیونکہ عذاب سمیت ہر کام کا ایک وقت مقرر ہے جسے جلدی نہیں کیا جا سکتا۔
- عقلمندوں کا کام یہ ہے کہ وہ اللہ کی نشانیوں پر غور کر کے رب کو پہچانیں اور اس کی اطاعت کریں۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ وَ یُرْسِلُ عَلَیْكُمْ حَفَظَةًؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَ هُمْ لَا یُفَرِّطُوْنَ(61) ثُمَّ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّؕ اَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَ هُوَ اَسْرَ عُ الْحٰسِبِیْنَ(62) قُلْ مَنْ یُّنَجِّیْكُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ تَدْعُوْنَهٗ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةًۚ لَىٕنْ اَنْجٰىنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ(63) قُلِ اللّٰهُ یُنَجِّیْكُمْ مِّنْهَا وَ مِنْ كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِكُوْنَ(64) قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰۤى اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ یَلْبِسَكُمْ شِیَعًا وَّ یُذِیْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَفْقَهُوْنَ(65) وَ كَذَّبَ بِهٖ قَوْمُكَ وَ هُوَ الْحَقُّؕ قُلْ لَّسْتُ عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍ (66) لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّ٘ وَّ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ(67)
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
ترجمہ: وہی اپنے بندوں پر مکمل اقتدار رکھتا ہے، اور تمہارے لئے نگہبان (فرشتے) بھیجتا ہے، <<<<<<< HEAD
=======
f7497e9 (save all changes) یہ پہلے بھی بات ہو چکی، مطلب یہ آیت، وہ گزر چکی ہے۔ جس میں مطلب فرمایا گیا ہے کہ اللہ جل شانہ نے نگہبان فرشتے انسانوں کے لیے رکھے ہوئے ہیں۔ اگر یہ حفاظت کے لیے نہ ہوں تو پھر یہ جن وغیرہ ان کو چیر پھاڑ لیں۔ تو جب تک یہ حفاظت اللہ پاک نے رکھی ہوتی ہے، تو اسے مطلب ظاہر ہے یہ ہوتے ہیں۔ اور جب وہ حفاظت اٹھانا چاہتے ہیں، یعنی کسی کے مقدر میں کوئی بات لکھی ہوتی ہے، تو پھر حفاظت کو اٹھا دیا جاتا ہے۔
<<<<<<< HEAD
ترجمہ: یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجاتا ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اس کو پورا پورا وصول کر لیتے ہیں، اور وہ ذرا بھی کوتاہی نہیں کرتے ﴿61﴾ پھر ان سب کو اللہ کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے جو ان کا مولائے برحق ہے۔ یاد رکھو! حکم اسی کا چلتا ہے، اور وہ سب سے زیادہ جلدی حساب لینے والا ہے ﴿62﴾ کہو: ”خشکی اور سمندر کی تاریکیوں سے اُس وقت کون تمہیں نجات دیتا ہے جب تم اسے گڑگڑا کر اور چپکے چپکے پکارتے ہو، (اور یہ کہتے ہو کہ) اگر اُس نے ہمیں اِس مصیبت سے بچا لیا تو ہم ضرور بالضرور شکر گزار بندوں میں شامل ہو جائیں گے؟“ ﴿63﴾ کہو: ”اللہ ہی تمہیں اس مصیبت سے بھی بچاتا ہے، اور ہر دوسری تکلیف سے بھی، پھر بھی تم شرک کرتے ہو“ ﴿64﴾ کہو کہ: ”وہ اس بات پر پوری طرح قدرت رکھتا ہے کہ تم پر کوئی عذاب تمہارے اوپر سے بھیج دے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے (نکال دے) یا تمہیں مختلف ٹولیوں میں بانٹ کر ایک دوسرے سے بھڑا دے، اور ایک دوسرے کی طاقت کا مزہ چکھا دے۔ دیکھو! ہم کس طرح مختلف طریقوں سے اپنی نشانیاں واضح کر رہے ہیں، تاکہ یہ کچھ سمجھ سے کام لے لیں ﴿65﴾ اور (اے پیغمبر!) تمہاری قوم نے اس (قرآن) کو جھٹلایا ہے، حالانکہ وہ بالکل حق ہے۔ تم کہہ دو کہ: ”مجھ کو تمہاری ذمہ داری نہیں سونپی گئی ہے ۔ ﴿66﴾ ======= ترجمہ: یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجاتا ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اس کو پورا پورا وصول کر لیتے ہیں، اور وہ ذرا بھی کوتاہی نہیں کرتے ﴿61﴾ پھر ان سب کو اللہ کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے جو ان کا مولائے برحق ہے۔ یاد رکھو! حکم اسی کا چلتا ہے، اور وہ سب سے زیادہ جلدی حساب لینے والا ہے ﴿62﴾ کہو: ”خشکی اور سمندر کی تاریکیوں سے اُس وقت کون تمہیں نجات دیتا ہے جب تم اسے گڑگڑا کر اور چپکے چپکے پکارتے ہو، (اور یہ کہتے ہو کہ) اگر اُس نے ہمیں اِس مصیبت سے بچا لیا تو ہم ضرور بالضرور شکر گزار بندوں میں شامل ہو جائیں گے؟“ ﴿63﴾ کہو: ”اللہ ہی تمہیں اس مصیبت سے بھی بچاتا ہے، اور ہر دوسری تکلیف سے بھی، پھر بھی تم شرک کرتے ہو“ ﴿64﴾ کہو کہ: ”وہ اس بات پر پوری طرح قدرت رکھتا ہے کہ تم پر کوئی عذاب تمہارے اوپر سے بھیج دے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے (نکال دے) یا تمہیں مختلف ٹولیوں میں بانٹ کر ایک دوسرے سے بھڑا دے، اور ایک دوسرے کی طاقت کا مزہ چکھا دے۔ دیکھو! ہم کس طرح مختلف طریقوں سے اپنی نشانیاں واضح کر رہے ہیں، تاکہ یہ کچھ سمجھ سے کام لے لیں ﴿65﴾ اور (اے پیغمبر!) تمہاری قوم نے اس (قرآن) کو جھٹلایا ہے، حالانکہ وہ بالکل حق ہے۔ تم کہہ دو کہ: ”مجھ کو تمہاری ذمہ داری نہیں سونپی گئی ہے ۔
f7497e9 (save all changes)
حاشیہ: یعنی یہ میری ذمہ داری نہیں ہے کہ تمہارا ہر مطالبہ پورا کروں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر کام کا ایک وقت مقرر ہے، جس میں تم لوگوں کو عذاب دینا بھی داخل ہے، اور جب وہ وقت آئے گا، تو تمہیں خود پتہ لگ جائے گا۔
مطلب یہ ہے کہ کوئی جلدی کرنا چاہے تو جلدی اس کی نہیں مانی جاتی۔ اللہ پاک نے ہر چیز کے لیے اپنا وقت مقرر کیا ہے، مثال کے طور پر، میں کھانا پکانا چاہتا ہوں۔ اور جلدی پکانا چاہتا ہوں۔ تو جو ٹائم اس کا لگتا ہے، آگ وغیرہ سے اور تمام چیزوں سے اس کو ہم کم نہیں کر سکتے۔ کم کریں گے تو نقصان ہو جاتا ہے، چیز جل جاتی ہے۔ تو اس طرح مطلب یہ ہے کہ یعنی ہر چیز کا ایک وقت، حساب مطلب اس کے لیے تکوینی طور پر مقرر ہے۔ تو یہ تو میں نے صرف مثال دی۔ تو ہر چیز کے لیے اللہ پاک نے وقت لکھا ہوا ہے۔ تو اس سے پہلے وہ چیز نہیں ہو سکتی، بس وہ اللہ پاک جب چاہے گا تو کرے گا۔ تو اس وجہ سے اس کی جلدی مطلب یعنی کہ اس کے لیے کہنے کی اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہاں، البتہ نشانیاں اللہ پاک نے بہت ساری رکھی ہیں۔ ان نشانیوں کو دیکھ کر عقل مندوں کا کام ہوتا ہے کہ وہ اس میں غور کر کے صحیح بات کو سمجھ لیں۔ اور پھر اپنے رب کو پہچان کر اس کی بات مان لیں۔ یہی طریقہ ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو اس طرح کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ <<<<<<< HEAD
=======
f7497e9 (save all changes) وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔