تزکیہ نفس اور محبتِ الٰہی کے تقاضے

کتاب: پیغام محبت، درس 15، اشاعت اول: 1 اکتوبر 2013 بمطابق 24 ذو القعدہ 1434 ہجری، حصہ اول

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. علم کے باوجود انسان گناہوں سے تب تک نہیں بچ سکتا جب تک دل اور نفس کا تزکیہ نہ ہو جائے۔
  2. اللہ تعالیٰ کی محبت غالب ہونے سے ہی انسان دین کے احکامات اور شریعت کو اپنے رواج پر ترجیح دیتا ہے۔
  3. انسان کی تخلیق کا بنیادی مقصد اللہ کی عبادت ہے اور اس سے غفلت عقل و شعور کے منافی ہے۔
  4. حبِ دنیا مال، لذات اور جاہ کی محبت پر مبنی ہے جن سے دل کو پاک کرنا لازم ہے۔
  5. تن آسانی انسان کے اندر شریعت کے احکامات اور دینی اعمال کی ادائیگی میں رکاوٹ بنتی ہے۔
  6. حقیقی اور بے لوث دوستی صرف اللہ تعالیٰ کی ذات سے ممکن ہے کیونکہ اسے بندے سے کوئی غرض نہیں۔
  7. دل میں شیطانی وساوس کے مقابلے میں الہامِ الٰہی کو بیدار کرنے کے لیے شیخِ کامل سے وابستگی ضروری ہے۔
  8. حقیقی روحانی ترقی ذات کی نفی میں ہے، یہاں تک کہ انسان کے اندر سے اپنی عاجزی کا احساس بھی مٹ جائے۔
  9. آنکھ، کان، زبان اور دل اللہ کی امانتیں ہیں جنہیں صرف شریعت کے جائز دائرے میں استعمال کرنا واجب ہے۔
  10. دنیاوی اسباب کو اللہ کا حکم سمجھ کر اختیار کرنا چاہیے لیکن دل کا بھروسہ صرف مسبب الاسباب پر ہونا چاہیے۔
  11. ظاہری شریعت دین کا وہ لازمی خول ہے جو دل کے باطنی اور روحانی مقام کی حفاظت کرتا ہے۔
  12. اللہ تعالیٰ کی معرفت تک پہنچنے کے لیے اللہ والوں کی صحبت اور ان کے دلوں سے فیض لینا پڑتا ہے۔
  13. ذکر سے دل کی زمین تیار ہوتی ہے لیکن نفس کی باطنی خرابیوں کا علاج صحبتِ صالحین کے بغیر ممکن نہیں۔
  14. عشقِ الٰہی کے غلبے اور روحانی کیفیات کے دوران بھی شریعت کی حدود کی سختی سے پابندی کرنا لازم ہے۔
  15. روحانیت کی انتہا یہ ہے کہ انسان اپنا سب کچھ اللہ کی رضا پر قربان کر کے مکمل طور پر اسی کا بن جائے۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ۔ أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ۔ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔

آج منگل کا دن ہے اور منگل کے دن ہمارے ہاں تزکیہ نفس کے لیے کچھ اشعار پڑھے جاتے ہیں اور ان کی تشریح کی جاتی ہے۔ دنیا کی محبتیں آج کل اتنی غالب ہیں کہ انسان ساری چیزوں کو جانتا بھی ہے کہ یہ اللہ کی ناپسندیدہ ہیں اور میرے لیے نقصان دہ ہیں لیکن چونکہ دل اور نفس کی اصلاح نہیں ہو چکی ہوتی لہذا وہ ساری باتیں جو سارا علم ہے وہ رائیگاں چلا جاتا ہے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق نہیں ہوتی۔ اس وجہ سے اب اللہ تعالیٰ کی محبت کو غالب کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت اتنی غالب ہو جائے کہ ہم خود بخود اللہ تعالیٰ کی بات ماننے کو اور دین اسلام کے احکامات کو اولیت دیں اور شریعت کو اپنے رواج پر ترجیح دیں۔

تو اس وجہ سے ایسی محافل کی، ایسی مجالس کی ضرورت اب زیادہ ہو گئی ہے۔ پہلے دور میں ان چیزوں کا رواج تھا، ایسی مجالس ہوا کرتی تھیں، بزرگوں کے ہاں اشعار پڑھے جاتے تھے اور اس میں دلچسپی لی جاتی تھی۔ اور لوگوں کو بھی بہت سارے اشعار یاد ہوتے تھے اور ذوق ہوتا تھا۔ لیکن اب اول تو ہے نہیں اور اگر ہے تو وہ زیادہ تر مجازی شاعری ہے جو فسق و فجور پر مبنی ہوتی ہے۔ تو اس وجہ سے اس شاعری سے لوگ واقف نہیں ہیں، اس کا ذوق بھی نہیں ہے، اس کا شوق بھی نہیں ہے، اس سے واقفیت بھی نہیں ہے۔ تو جس چیز کا ذوق اور شوق نہ ہو، واقفیت نہ ہو تو اس چیز کو شروع کرنا آسان نہیں ہوتا۔ وہ تو ایسا ہے جیسے کھڈوں میں گاڑی چلانا۔ لیکن جب کبھی منزل پہ پہنچنا ہوتا ہے تو کھڈوں میں بھی گاڑی چلانی پڑ جاتی ہے اور نتیجے کو خدا کے حوالے کر دیا جاتا ہے تو اللہ پاک کامیاب بھی فرما دیتا ہے۔

اسی امید پر ہم نے مجلس شروع کی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو ہمارے لیے بھی بہت مفید بنا دے اور جو لوگ سن رہے ہیں، جو اس میں شامل ہیں، ان کے لیے بھی مفید بنا دے اور باقی حضرات کو بھی، باقی لوگوں کو بھی اس کا ذوق نصیب فرما دے۔

ہم کو بس تیری محبت کا سہارا کافی

یہ غزل ہے آج کے لیے۔

کیا وہ انساں ہے جو مشغول عبادت پہ نہ ہو
شکر نعمت پہ نہ ہو صبر مصیبت پہ نہ ہو

عافیت مانگتے یا رب ہیں کہ کمزور ہیں ہم
پر کہیں داغ خدایا یہ محبت پہ نہ ہو

کیا وہ انساں ہے جو مشغول عبادت پہ نہ ہو
شکر نعمت پہ نہ ہو صبر مصیبت پہ نہ ہو

اس میں شاعر یہ کہتا ہے کہ وہ کیسا انسان ہے جو عبادت پہ مشغول نہ ہو، کیوں کہا یہ؟ یہ اس لیے کہا کہ اللہ جل شانہ ارشاد فرماتے ہیں: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ۔ نہیں پیدا کیا میں نے انسان اور جن کو مگر اپنی عبادت کے لیے۔ تو یہ بات اگر معلوم ہے کہ انسان عبادت کے لیے پیدا ہے تو اگر وہ اپنی ڈیوٹی پوری نہیں کرتا تو کیسا انسان ہے؟

کیا وہ انساں ہے جو مشغول عبادت پہ نہ ہو
شکر نعمت پہ نہ ہو صبر مصیبت پہ نہ ہو

کیونکہ اللہ کی نعمت پر شکر کرنے سے اللہ پاک نعمت کو اور بڑھا دیتے ہیں اور صبر کرنے سے اللہ ساتھ ہو جاتے ہیں، مصیبت کو کم کر دیتے ہیں اور ظاہر ہے بہت اجر اس کا ملتا ہے۔ تو دونوں صورتوں میں فائدہ ہی فائدہ ہے۔ تو انسان کے اندر شعور ہوتا ہے اور شعور انسان کو اچھے اور برے کی تمیز سکھاتا ہے۔ تو جس انسان میں یہ شعور نہ ہو، جو اپنا فائدہ نہیں جانتا تو اس کو ہم کیسا انسان کہیں گے؟

کیا وہ انساں ہے جو مشغول عبادت پہ نہ ہو
شکر نعمت پہ نہ ہو صبر مصیبت پہ نہ ہو

عافیت مانگتے یا رب ہیں کہ کمزور ہیں ہم

اللہ پاک نے عافیت مانگنے کو پسند فرمایا ہے۔ کیونکہ اس میں عجز کا اعتراف ہے، عاجزی کا اور عاجزی اللہ کو پسند ہے۔

پر کہیں داغ خدایا یہ محبت پہ نہ ہو

لیکن شاعر اس میں خطرہ دیکھ رہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ محبت کے جذبے کے خلاف نہ ہو جائے۔ عافیت مانگنا تو ہے عاجزی کے لیے، لیکن یہ محبت کے خلاف والی بات نہیں ہونی چاہیے۔ محبت کا جذبہ جواں رہنا چاہیے۔

مجھ کو بس تیری محبت کا سہارا کافی
دل مرا تجھ پہ رہے مال پہ لذت پہ نہ ہو

یعنی مجھ کو صرف تیری محبت کا سہارا کافی ہے، مجھے باقی چیزوں کی ضرورت نہیں ہے۔ اور میرا دل تیرے ساتھ وابستہ ہونا چاہیے۔ مال اور لذت کا طالب نہ ہو۔ یہ ایک جذبہ۔ یہ دو جذبوں کا رد ہو گیا۔ کیونکہ حبِ دنیا میں تین جذبے ہوتے ہیں۔ مال کی محبت، لذات کی محبت، اور جاہ کی محبت۔ تو دو جذبوں کے بارے میں یہاں پر آ گیا کہ میرا دل ان چیزوں میں مشغول نہیں ہونا چاہیے۔

ہم تو دیوانے ہیں تیرے اور یہی چاہتے ہیں
دل کا گوشہ کوئی مرکوز وجاہت پہ نہ ہو

تو یہ تیسرے جذبے کا رد ہو گیا کہ ہم تو تیرے دیوانے ہیں، تیرے عاشق ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے دل کا کوئی گوشہ عزت اور جاہ کی طلب میں نہ رہے۔ تو گویا کہ ہم ان تین جذبوں سے اپنے آپ کو بچائیں۔ جاہ کی محبت، باہ کی محبت اور مال کی محبت۔

یہ جہاں تیرا ہے ہم تیرے ہیں سب تیرا ہے

یقیناً۔

یہ جہاں تیرا ہے ہم تیرے ہیں سب تیرا ہے
دل کہیں میرا یہ سرشار ملکیت پہ نہ ہو

کہ میں یہ سوچنے لگوں کہ اوہو یہ تو میری فلاں چیز ہے اور میری فلاں چیز ہے اور میری فلاں چیز ہے اور میری فلاں چیز ہے۔ سب اللہ کا ہے۔ اللہ کا مال ہے۔ اللہ جب تک ہمارے پاس ہاتھ رکھے گا تو ہے اور جب تک نہیں رکھے گا تو اٹھا لے گا۔ مطلب ظاہر ہے۔ اس وجہ سے ہمارے ان چیزوں کے اندر دل کو نہیں گھسنا چاہیے اور دل کے اندر ان کو نہیں گھسنا چاہیے۔

تن آسانی پہ میرا نفس نہ مائل ہو کبھی
نفس شرمندہ کبھی بھی میرا مشقت پہ نہ ہو

مطلب یہ ہے کہ تن آسانی پہ میرا نفس مائل نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ تن آسانی سے بہت سارے شریعت کے کام رہ جاتے ہیں پیچھے۔ مثلاً نماز ہی کو لے لیں۔ اب فجر کی نماز کے لیے اٹھنا ہے اور تن آسانی ہے اور اٹھنا مشکل ہو گیا تو چلو کام خراب ہو گیا۔ شریعت کا حکم پورا نہیں ہوا۔ جہاد کا حکم ہے۔ تن آسانی کی وجہ سے رہ گیا۔ اللہ کے راستے میں نکلنے کا ہے۔ تن آسانی کی وجہ سے رہ گیا۔ تو مطلب یہ ہے کہ تن آسانی کی وجہ سے کہیں میرا میرے دینی اعمال پہ اثر نہ پڑ جائے۔

قبول میرے خدایا مرے ہوں قلب و نظر
ذہن تاریک نہ ہو قلب بھی ظلمت پہ نہ ہو

یہ ایک اور چیز بتائی کہ میرا جو قلب و نظر ہیں، دل اور نظر جس کو ہم کہتے ہیں سوچ، یہ دونوں قبول ہو جائیں اس وجہ سے میرا ذہن تاریک نہ بنے اور میرے دل میں بھی ظلمت نہ ہو۔

سامنے تیرے رہوں دل سے ترا بندہ بنوں
دل ہو احسان پہ کسی اور کیفیت پہ نہ ہو

یعنی دل میں کیفیت احسان پیدا ہو جائے اور کسی اور کیفیت کی طلب مجھے نہ ہو۔

دلِ شبیر کو اپنی یاد سے کرلے روشن
تو اسے یاد رہے اِس سے یہ غفلت پہ نہ ہو

کیا وہ انساں ہے جو مشغول عبادت پہ نہ ہو
شکر نعمت پہ نہ ہو صبر مصیبت پہ نہ ہو

بے لوث دوستی

غرض جن کو ہے ان کی دوستی، دوستی غرض کی ہے
بھروسہ ان پہ کرنے میں، تو پھر مشکل بہت ہی ہے
مگر بے لوث دوستی میں تو یوں خطرے نہیں ہوتے
یہ کیوں کرتے نہیں اس سے کہ جس کی ایسی دوستی ہے

جس کو غرض ہے یعنی محتاج ہے تو ان کی دوستی تو بے لوث نہیں ہو سکتی وہ ضرور آپ سے کچھ چاہے گا۔ تو اس وجہ سے اس پر بھروسہ نہیں ہو سکتا۔ لیکن جس کی دوستی بے لوث دوستی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی کہ اللہ تعالیٰ تو ہم سے کچھ بھی نہیں۔۔۔ اللہ کو کس چیز کی ضرورت ہے ہم سے؟ تو لہذا اس کی ہم سے بے لوث محبت ہے۔ لہذا ہم اگر اس کے ساتھ دوستی کریں گے تو یہ دوستی نفع کی ہے باقی دوستیاں خسارے کی ہیں۔

یہ اب شاعر کے جذبات ہیں کہ زندہ رہوں تو کیسے رہوں۔

کاش میں ایسا رہوں اس کے لیے زندہ رہوں

کاش میں ایسا رہوں اس کے لیے زندہ رہوں
موت ہو اس کے لیے اس پر بھی شرمندہ رہوں

دل مرا اس کے لیے ہو اور دماغ اس کے لیے
ہو زبان پر ذکر اس کا، اس کا نام لیتا رہوں

کاش میں ایسا رہوں اس کے لیے زندہ رہوں

دوستی اس کے لیے ہو دشمنی اس کے لیے
مجھ سے چاہے جیسے کرنا اس طرح کرتا رہوں

کاش میں ایسا رہوں اس کے لیے زندہ رہوں

بولنا اس کے لیے ہو چپ رہوں اس کے لیے
خوش رہوں اس کے لیے اس کے لیے روتا رہوں

کاش میں ایسا رہوں اس کے لیے زندہ رہوں

دل میں بس اک وہ سمائے دوسرا کوئی نہ ہو
دل سے الا اللہ کا نعرہ میں لگاتا رہوں

کاش میں ایسا رہوں اس کے لیے زندہ رہوں

اس سے مانگوں اس سے لوں بس اس کے در پر سر رہے
اس کے در پر سر کو ہر دم بار بار رکھتا رہوں

کاش میں ایسا رہوں اس کے لیے زندہ رہوں

اب تو بس اس کی محبت کا ہی آسرا ہے شبیر
اس سے جو غافل کرے میں اس کو بھول جاتا رہوں

کاش میں ایسا رہوں اس کے لیے زندہ رہوں

میرے خیال میں یہ تو self-explanatory ہے، اس میں کسی تشریح کی ضرورت نہیں ہوگی۔ سب چیزیں بالکل واضح ہیں۔

ایک سیدھی بات

سیدھی سی بات ہے ہم اس کے ہیں۔ یہ اس غزل کی تشریح ہو گئی۔

سیدھی سی بات ہے ہم اس کے ہیں
اس کے اگر نہیں تو کس کے ہیں
اس کے بن جائیں تو پھر سب کچھ ٹھیک
کام جیسے بھی اور جس کے ہیں

مطلب یہ ہے کہ اللہ ہی کے بن جائیں تو بس کام بن جائے گا۔ مَنْ كَانَ لِلّٰهِ كَانَ اللّٰهُ لَهُ۔

اللہ ہی اللہ

جب کوئی کام تم نے کرنا ہو
اس میں اس سے ہمیشہ ڈرنا ہو
بس شریعت کے مطابق ہو کام
اور صرف اس کا ہی دم بھرنا ہو

مطلب یہ ہے کہ موٹی موٹی باتیں ہیں، سیدھی سی باتیں ہیں۔ لیکن یہ زبان سے دل میں اتر جائے پھر بڑی بات ہے۔ جب تک زبان پر ہے تو چلو ایک استحضار کا ذریعہ بن جائے گا، لیکن اصل وقت اصل بات اس وقت بنے گی جب یہ دل میں اتر جائے گی۔

تجھ کو کیا معلوم؟

اشارہ "ھو" جو کا ہوا ہے تجھ کو کیا معلوم دل مرا کس سے آشنا ہے تجھ کو کیا معلوم؟

جھک کیوں جاتی ہے گردن مری محفل میں اب
کون اس وقت بلاتا ہے تجھ کو کیا معلوم؟

کیسے غافل رہوں اس سے کہ ہر طرف ہے وہی
اپنی آغوش میں چھپاتا ہے تجھ کو کیا معلوم؟

اشارہ "ھو" جو کا ہوا ہے تجھ کو کیا معلوم

ہر وقت اس کی نظر اپنی نظر پر محسوس
عرش سے کیا برس رہا ہے تجھ کو کیا معلوم؟

اشارہ "ھو" جو کا ہوا ہے تجھ کو کیا معلوم

بھلا دیا ہے جس نے مجھ سے ہر اک کام میرا
لگا ہوں جس میں کام اس کا ہے تجھ کو کیا معلوم؟

اشارہ "ھو" جو کا ہوا ہے تجھ کو کیا معلوم

نہیں پیا ہے تو نے عشق کا جب جام ابھی
جو اس نے مجھ کو پلایا ہے تجھ کو کیا معلوم؟

اشارہ "ھو" جو کا ہوا ہے تجھ کو کیا معلوم

رات دعاؤں کے رستے میری ملاقات ان سے
ملن کا وقت وہ کیسا ہے تجھ کو کیا معلوم؟

اشارہ "ھو" جو کا ہوا ہے تجھ کو کیا معلوم

کہا جب اس نے کہ تم میرے ہو تو ہاں اس وقت
دل کا کیا حال پھر ہوتا ہے تجھ کو کیا معلوم؟

اشارہ "ھو" جو کا ہوا ہے تجھ کو کیا معلوم

بہا بہا کے جو آنسو میں دل کو دھو ڈالوں
پھر مرے دل میں کون آتا ہے تجھ کو کیا معلوم؟

اشارہ جو "ھو" کا ہوا ہے تجھ کو کیا معلوم
دل مرا کس سے آشنا ہے تجھ کو کیا معلوم؟

کیسے گم سم خموش میں نہ رہوں شبیر کہ
دھیان حاصل کس کا ہوا ہے تجھ کو کیا معلوم؟

اشارہ "ھو" جو کا ہوا ہے تجھ کو کیا معلوم

یہ ایک عاشق اپنی کیفیات بتا رہا ہے کہ انسان جب اللہ کا بن جاتا ہے تو اس کی کیفیت کیا بنتی ہے۔

دل میں دو راستے ہیں

دل میں الہامِ الٰہی کا انتظام بھی ہے
اور شیطاں کے وساوس کا تیز گام بھی ہے
اپنا دل کھول ذرا شیخِ کامل کی جانب
تاکہ سب درست رہیں کام سو یہ کام بھی ہے

ہم بہت سارے کاموں کو کام سمجھتے ہیں۔ لیکن سارے کاموں کو ٹھیک کر لیں اور یہ صحیح بن جائے اور مفید بن جائے تو یہ کیا کام نہیں ہو گا؟ مثال کے طور پر یہ سارے پنکھے بھی لگا دوں اور ریفریجریٹر بھی لے آؤں اور اے سی بھی لگوا دوں اور یہ بھی ہو جائے، وہ بھی ہو جائے اور کنکشن بجلی کا نہ دوں۔ کیا کہیں گے مجھے لوگ؟ بھئی کیا ہو گیا؟ میں نے شو شا کے لیے پنکھے لٹکا دیے۔ بلب لٹکا دیے، فریج لگا دیا، اے سی لگا دیا، لیکن کرنٹ نہیں دیا۔ تو سارے کے سارے کھڑے کے کھڑے صرف showpieces ہوں گے۔ لیکن اگر اس کو کرنٹ دے دیا تو چلنے پڑ جائیں گے۔ تو اصل یہی بات ہے کہ یہ جو کام ہے کہ سارے کام درست ہو جائیں۔ اب سنیں دوبارہ۔

دل میں الہامِ الٰہی کا انتظام بھی ہے
اور شیطاں کے وساوس کا تیز گام بھی ہے
اپنا دل کھول ذرا شیخِِ کامل کی جانب

یعنی اپنے دل کے کان شیخ کی طرف لگا دو۔

اپنا دل کھول ذرا شیخ کامل کی جانب
تاکہ سب درست رہیں کام سو یہ کام بھی ہے

دل سے دیکھا اسے

دل میں میں یاد اس کو کرتا رہوں
اور ہر دم اس کا دم بھرتا رہوں
ذرہ ذرہ مرا اس کا جو ہے
دے کے اس کو اس پہ میں ڈرتا رہوں

یعنی میں دل میں ہر وقت ذکر کروں اور ہر وقت اس کی محبت میں مگن رہوں۔ اور میرا جو ذرہ ذرہ مطلب ہے وہ سب میں اس کو دوں لیکن پھر بھی اس پہ ڈرتا رہوں کہ کہیں کمی تو نہیں ہوئی۔

ذرہ ذرہ مرا اس کا جو ہے

میرا ذرہ ذرہ اس کا ہے۔

ذرہ ذرہ مرا اس کا جو ہے دے کے اس کو اس پہ میں ڈرتا رہوں

دل میں میں یاد اس کو کرتا رہوں

مٹتے مٹتے مرا مٹنا بھی مٹے

یعنی مٹنے کا جو احساس ہے وہ مٹ جائے

مٹتے مٹتے مرا مٹنا بھی مٹے
اس طرح روز میں سنورتا رہوں

دل میں میں یاد اس کو کرتا رہوں

بگڑنا کیا ہے؟ بگڑنا کہتے ہیں انسان عجب میں مبتلا ہو جائے، اپنے آپ کو کچھ سمجھنے لگے۔ اللہ سے کٹنے لگے گا۔ تو یہ بگڑنا ہے۔ اور انسان جس وقت مٹنا شروع ہو جائے، عاجزی اختیار کرنا شروع ہو جائے تو یہ کیا ہے؟ یہ بننا ہے، سنورنا ہے۔ کیونکہ اللہ کو عاجزی پسند ہے۔ تو جتنا جتنا یہ عاجز بنتا جائے گا اتنا اتنا اللہ کو پسند ہو گا۔

مٹتے مٹتے مرا مٹنا بھی مٹے
اس طرح روز میں سنورتا رہوں

کیونکہ اگر مٹنے کا احساس باقی ہو تو مٹے کیسے؟ کیونکہ پھر عجب ہو جائے گا کہ میں تو بڑا عاجز ہوں۔ کیونکہ عاجزی اچھی صفت ہے نا؟ میں مانوں گا نا کہ اچھی صفت ہے۔ اور میں کہوں اپنے آپ کو عاجز، تو کیا ہو گا یہ؟ میں کہہ دوں آج تو میں بڑی عاجزی کے ساتھ نماز پڑھی۔ تو یہ کیا چیز ہے؟ عجب، تو یہ احساس بھی ختم ہونا چاہیے نا۔ تو اصل میں یہی ہے۔

مٹتے مٹتے مرا مٹنا بھی مٹے
اس طرح روز میں سنورتا رہوں

دل پہ اس کی ہو نظر پیار کی اک
ذکر سے اس طرح نکھرتا رہوں

فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ۔ تو میں جب ذکر کروں گا، تو اس سے میں نکھرتا رہوں گا، کیونکہ اس سے میرے دل کے اوپر اس کی رحمت کی نظر ہو گی۔

دل پہ اس کی ہو نظر پیار کی اک
ذکر سے اس طرح نکھرتا رہوں

دور اغیار مرے دل سے اب
سامنے باغ ہے میں چرتا رہوں

یہ حدیث شریف کی طرف اشارہ ہے کہ جب جنت کے باغوں میں پہنچو، چراگاہوں میں، تو اس میں خوب چرو۔

دور اغیار مرے دل سے اب
سامنے باغ ہے میں چرتا رہوں

دل سے دیکھا اسے ہے جب سے شبیر
اس پہ ہر روز اب تو مرتا رہوں

دل میں میں یاد اس کو کرتا رہوں
اور ہر دم اس کا دم بھرتا رہوں

اب ذرا تھوڑا سا اس کا ایک اور رنگ ہے۔

کیا حد ہے تباہی کی اسے چھوڑ دیا گر

دنیا کی محبت کا سرا کیا یہاں ملے
پھر حبِ الہی کی انتہاء کہاں ملے

دنیا کی محبت کا سرا کب مل سکتا ہے؟ یعنی دنیا کی اس محبت کا سرا جب نہیں ہے تو پھر حب الٰہی کی انتہا کیسے معلوم ہو سکتی ہے؟ دنیا تو محدود ہے تو اس کی محبت بھی محدود ہو گی۔ اور اللہ کی ذات وہ تو غیر محدود ہے۔ تو اس کی محبت بھی غیر محدود ہو گی۔ تو اس کی انتہا کیسے ملے گی؟

جب اس کی نظر سے کوئی کیسے ہی گر گیا
اس کو کیا ملے اگر سارا جہاں ملے

دنیا کی محبت کا سرا کیا یہاں ملے

جب اس کی نظر سے کوئی گر جائے تو وہ تو ختم ہو گیا اس کو سارا جہان بھی مل گیا تو کیا مل گیا؟

جو اس کے پاس بھیج دیا وہ ہی ہے محفوظ
کتنا یہاں سے بڑھ کے وہ سارا وہاں ملے

دنیا کی محبت کا سرا کیا یہاں ملے

کیا حد ہے تباہی کی اسے چھوڑ دیا گر
کتنی ہی اس کو یاں پہ دعوتِ بُتاں ملے

دنیا کی محبت کا سرا کیا یہاں ملے

یعنی یہاں پر مجازی محبوبوں کی طرف سے کتنی دعوت ملے، اگر اس نے ان کے لیے اس کو چھوڑ دیا تو تباہی ہو گئی۔ ختم ہو گیا۔

دنیا کی لذتوں سے وہ لذات ہوں محسوس
اور ان کی پھر طلب ہو تو سرِ نہاں ملے

دنیا کی محبت کا سرا کیا یہاں ملے

یعنی دنیا کی جو لذتیں ہیں وہ اس لیے ہیں تاکہ وہاں کی لذت محسوس ہو جو ادھر ملیں گی۔ اور پھر جب اس کی طلب پیدا ہو جائے گی تو پھر اس کا مقصد پورا ہو جائے گا۔

اس زیست کے اک کام کا طالب بنوں شبیرؔ
بس اس کا ہی ہونے کا جو جذبہ جواں ملے

دنیا کی محبت کا سرا کیا یہاں ملے

تزکیہ نفس اور محبتِ الٰہی کے تقاضے - عارفانہ کلام مجلس - اشاعت دوم