تزکیہ نفس، اصلاحِ احوال اور معمولاتِ ذکر
سوال جواب مجلس پیر، 20 نومبر 2023 ، بمطابق 12 جمادی الاول 1445 ہجری، مجلس نمبر: 648
- شریعت اور احادیث کے عین مطابق کشف اور سچے خواب اعمالِ صالحہ کی توفیق اور دلی فرحت کا سبب بنتے ہیں۔
- خالق کی نافرمانی پر مبنی کام میں مخلوق کی اطاعت ناجائز ہے، اس لیے رشتوں کو نبھاتے ہوئے ناجائز مطالبات سے حکمت کے ساتھ بچنا چاہیے۔
- غیر مسلم معاشرے میں مال کمانے کے بجائے اپنے ملک میں رہ کر کم رزق پر قناعت کرنا اور نسلوں کے ایمان کی حفاظت کرنا بہتر ہے۔
- مراقبے میں بلاوجہ ناغہ نہیں کرنا چاہیے، اور اگر کسی مجبوری سے سلسلہ ٹوٹ جائے تو صرف بقیہ وقت پورا کر لینا کافی ہے۔
- روحانی رہنمائی باطنی امراض کی اصلاح کے لیے ہے، لہٰذا شیخ سے جسمانی بیماریوں یا تعویذات کے بجائے اعمال کی درستی طلب کرنی چاہیے۔
- مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لیے استطاعت کے مطابق معاونت کرنا اور دشمن کی معیشت کا بائیکاٹ کرنا امت کی ذمہ داری ہے۔
- صفاتِ سلبیہ کے مراقبے کا بنیادی مقصد اللہ تعالیٰ کو ان تمام خامیوں سے پاک ماننے کے عقیدے کو مستحضر کرنا ہے جو انسانوں میں پائی جاتی ہیں۔
- دینی علوم کی فراغت کے بعد عملی تربیت اور نفس کی پاکیزگی کے لیے کسی کامل شیخ کی صحبت اور رہنمائی میں رہنا ضروری ہے۔
الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی خاتم النبیین اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ معزز خواتین و حضرات! آج پیر کا دن ہے اور پیر کے دن ہمارے ہاں سوالوں کے جوابات دیے جاتے ہیں اور جو سالکین و سالکات ہیں ان کے احوال کے بارے میں تحقیق بھی بتائی جاتی ہے۔
گزشتہ سے پیوستہ
سوال نمبر 13: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اقدس پر پچھلے مہینے کا جو درود شریف پیش کیا ہے تو کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت سلام کا جواب دیا یا ان صاحب کو خواب میں آیا جن نے درود شریف پیش کیا؟ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)
جواب: خواب میں نہیں ہے، یہ کشف ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اقدس پر خود پیش فرمایا ہے۔ اور کشف کا تو ہم انکار نہیں کرتے ہیں۔ باقی یہ الگ بات ہے کہ اگر کسی کو اس پر اعتماد نہیں ہے تو حدیث شریف پر تو اعتماد ہونا چاہیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سلام کا جواب دیتے ہیں۔ مطلب حدیث شریف میں تو ہے۔ تو اگر اس کا کشف حدیث شریف کے مطابق ہے تو اس میں کیا غلطی ہے؟ وہ تو مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی فرماتے ہیں کہ میرا جو کشف ہے وہ قرآن اور حدیث میں جو ہے وہ اس کے مطابق وہ آتا ہے۔ تو یہ بھی اس کے مطابق ہی ہے۔ تو لہذا اس پر کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟ ہاں البتہ ٹھیک ہے حدیث پر کسی کو اعتماد اور یقین ہے تو اس کے لیے اس چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ درود شریف پڑھے گا تو اس کو یقین ہوگا کہ وہ چلیں۔
لیکن یہ بھی بات ہے کہ جو دیکھو نا ایک ہوتی ہے عقل اور ایک ہوتی ہے طبیعت۔ تو شریعت میں طبیعت کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔ صرف عقل کا نہیں، طبیعت کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔ تو یہ خیال ہے کہ دیکھو ماشاءاللہ یعنی اگر کوئی خواب دیکھتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھتا ہے اور وہی چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم بتائیں جو حدیث شریف میں پہلے سے موجود ہے۔ تو کیا خیال ہے جس نے خواب نہیں دیکھا اور حدیث شریف سنی ہے اور جس نے خواب دیکھا اور حدیث شریف سنی ہے دونوں برابر ہوں گے؟ طبعی طور پر پوچھ رہا ہوں، طبیعت کے طور پر۔ کون زیادہ خوش ہوگا؟ اب دیکھنے والا زیادہ خوش ہوگا حالانکہ فرق کوئی نہیں ہے۔ حدیث شریف میں پہلے سے ایک بات موجود ہے مطلب اس کے لیے دونوں اس میں برابر ہیں۔ لیکن ایک نے خواب دیکھا ایک نے نہیں دیکھا۔ تو جو دیکھنے والا ہے اس کی خوشی کا بہت ماشاءاللہ وہ ہوگا۔ یہ انسان کی فطرت ہے، طبیعت ہے۔ تبھی تو مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے جو فضائل درود شریف کتاب لکھی ہے اس میں خواب بھی لکھے ہیں۔ بعض لوگ اس پر بڑے اعتراض کرتے ہیں کہ یہ خواب کیوں لکھے ہیں؟ بھئی یہ طبیعت کی بات ہے۔ اگر کسی کو اس سے فرحت ملتی ہے اور عمل کی زیادہ توفیق ہوتی ہے تو آپ کو کیا اعتراض کرنے کا حق ہے؟
تو اس لیے میں کہتا ہوں یہ مشائخ جو ہوتے ہیں نا صوفیاء، یہ -سبحان اللہ- ان دونوں چیزوں کا خیال رکھتے ہیں۔ علماء آپ کو صرف ایک چیز بتائیں گے۔ صوفیا آپ کو دونوں چیزیں بتائیں گے۔ اور اسی میں فائدہ ہے۔ مطلب ظاہر ہے آپ کو توفیق ہو جاتی ہے عمل کی۔ یہی اصل میں سب سے بڑی بات ہے کہ توفیق ہو جاتی ہے۔
تو الحمد للہ، دیکھو، میں آپ کو بتاؤں، یہ تسبیح ہے نا، تسبیح۔ آسان بات عرض کرتا ہوں۔ میرے ہاتھ میں تسبیح ہو۔ اور میں نے نیت نہ بھی کی ہو کہ ذکر کروں گا۔ کچھ نہ کچھ ذکر نصیب ہو جائے گا۔ تسبیح کی وجہ سے۔ اور میرے ہاتھ میں تسبیح نہ ہو، اور میں نے ذکر کی نیت کی ہو۔ پھر بھی بہت مشکل ہو گا ذکر کرنا۔ ان دونوں باتوں میں فرق؟ کیا بات ہے اس میں؟ تسبیح کے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟ تسبیح آپ سے زبردستی تو نہیں کر سکتی۔ لیکن ایک reminding ہے۔ ایک مسلسل آپ کو ریمائنڈ کر رہا ہے۔ اس لئے اس کو مسبحہ کہتے ہیں۔ تو یہ، مطلب یہ ہے کہ یہ، یہ جو چیزیں ہوتی ہیں، یہ پریکٹیکل ہیں۔ اور تصوف پریکٹیکل چیز ہے۔ تو لہذا ہم لوگ صرف پریکٹیکل چیزوں کو دیکھتے ہیں، ہم لوگ تھیوری کو زیادہ نہیں دیکھتے۔ تھیوری کو اتنا دیکھتے ہیں کہ ہمارا پریکٹیکل غلط نہ ہو۔ اتنا دیکھتے ہیں۔ باقی یہ ہے کہ پریکٹیکل پہ زیادہ زور دیتے ہیں تاکہ چیزیں ہماری ٹھیک ہو جائیں۔ اور ہم عملی طور پر نصیب ہو جائیں۔
سوال نمبر 14:السلام علیکم حضرت۔ بڑے عرصے سے فجر کی نماز قضا ہو رہی ہے، تقریباً سب طریقے آزما لئے۔ روزے رکھنا، وقت پر سونا، ابھی تو راتیں بھی لمبی ہو گئی ہیں۔ لیکن اب بھی قضا ہو رہی ہے نمازیں۔ پہلے سے دوائی بھی کم ہو گئی ہے۔ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)
جواب: اصل بات یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس کوئی قریب ایسا ہے جو آپ کو اٹھا سکتا ہے۔ تو آپ اس کی منت سماجت کر کے ان سے کہہ دیں کہ مجھے اٹھایا کریں۔ چاہے وہ آپ کا چپڑاسی ہو، چاہے آپ کا نوکر ہو، چاہے آپ کا دوست ہو، چاہے آپ کا گھر والے ہوں۔ جو بھی ہوں، لیکن جو نمازی ہوں، صبح اٹھتے ہوں۔ آپ ان کی منت کریں۔ میرے ساتھ یہ گزرا ہے۔ آپ تو دوائیوں کی وجہ سے اس طرح کر رہے ہیں نا، میری تو دوائیوں والی بات نہیں تھی۔ میری تو نیند اتنی سخت تھی یعنی جب میں سٹوڈنٹ تھا۔ کہ صبح اٹھنا، توبہ توبہ۔ لوگ مجھے اٹھا دیتے میں بیٹھے بیٹھے سو جاتا۔ حتیٰ کہ یہاں تک کہ لوگ میرے ہاتھ میں لوٹا دے جاتے، اس کے ساتھ سو جاتا۔ تو اب وہ حیران ہو گئے بھئی ان کے ساتھ میں کیا کروں۔ ڈاکٹر حمید اللہ صاحب، اس وقت تو ظاہر ہے میڈیکل سٹوڈنٹ تھے۔ تو ان سے میری روز میری لڑائی ہوتی تھی۔ کہ آپ نے مجھے نہیں اٹھایا، وہ کہتے تھے میں نے آپ کو اٹھایا، آپ کے ہاتھ میں لوٹا دیا، یہ کیا، وہ کیا۔ لڑائی میری روز ہوتی ان کے ساتھ۔ side roommate تھے میرے ساتھ۔ اخیر میں اس کو طریقہ سمجھ میں آ گیا۔ اس نے یہ طریقہ دریافت کیا کہ اس کے ساتھ میں جب بات چیت کروں گا نا تو ان کا ذہن جاگ جائے گا۔ تو روز کوئی نئی بات لیتا، او شبیر صاحب آپ کو پتہ ہے یہ ہو گیا ہے۔ اچھا مجھے کوئی انفارمیشن دیتا، میں پھر جب اس کو سنتا، اس سے اس پر بات کر لیتا، میری آنکھ کھل جاتی۔ اب ہر ایک کے لیے کوئی چابی ہوتی ہے نا، تو میرے لیے چابی یہ تھی۔ تو آپ بھی اپنی چابی دریافت کر لیں۔ تو امید ہے کہ ان شاء اللہ، اللہ پاک مسئلہ حل فرمائے گا۔
سوال نمبر 15: السلام علیکم حضرت۔ میرے گھر والے میرے بچوں کی تصویریں مانگتے ہیں کہ ہمیں بھیج دیں۔ میں انکار کر دیتی ہوں، تو ناراض ہو جاتے ہیں۔ چونکہ تصویر آج کے دور کا بڑا فتنہ ہے۔ لیکن جو شیخ کی تربیت میں نہیں ہوتے، اصلاح کے راستے میں نہیں ہیں، تو ان کو اس بات کا اندازہ نہیں ہوتا۔ وہ تو بتاتے ہیں تو پھر جب انکار کر دیں تو ہم سے خفا ہو جاتے ہیں۔ تو ان کو کس حکمت عملی سے سمجھایا جائے تاکہ رشتوں میں دراڑ بھی نہ آئے اور ہمارا مقصد بھی پورا ہو جائے۔ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)
جواب: سبحان اللہ، سبحان اللہ۔ میں تو صرف آپ کو حدیث شریف ہی سنا سکتا ہوں۔ اور وہ یہ ہے، لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق۔ مخلوق کی ایسی اطاعت جو خالق کی نافرمانی کی طرف لے جائے، وہ جائز نہیں ہے۔ اب عقل اور فکر آپ کے پاس خود موجود ہو گا۔ ان کے ساتھ اس انداز میں بات کرنا کہ وہ Flare بھی نہ کریں۔ اور آپ ان کو صحیح بات بھی بتائیں۔ بات تو یہی بتانی ہے کہ شریعت میں ناجائز ہے۔ تو آپ ویڈیو کال کر دیں ان کو۔ ویڈیو کال کی اجازت ہے۔ ان کو دکھا دیں کہ بچے ایسے ہیں۔ لیکن ان سے آپ قسم لے لیں کہ اس کے آپ نے فوٹو نہیں لینا۔ کیونکہ ویڈیو کال سے بھی لی جا سکتی ہے نا۔ تو آپ اپنی نیت یہ رکھیں تو وہ اس طرح بات ہو جائے گی ان شاء اللہ۔ تو اللہ پاک ہمیں خیر کی طرف لے جائے، شر سے بچائے۔
سوال نمبر 16: سوال میں پڑھ رہا ہوں، اور پاکستان آیا، یہاں پر ثواب اور دینداری مگر رزق نہیں، اور وہاں پر پیسہ ہے مگر دینداری کمزور۔ تو اب کیا کروں؟ وہاں پر غیر مسلموں کی خدمت کر کے ان کے نظام کو سپورٹ کر کے پیسہ ہے۔ اور یہاں پاکستان میں کچھ ملتا ہی نہیں، ایک مسلمان انجینئر جو کہ بغیر غیر مسلموں کی خدمت کیے پیسہ لے ہی نہ سکے۔۔۔ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)
جواب: مجھے نہیں معلوم کہ آپ کی بات کس حد تک درست ہے۔ والله اعلم بالصواب ہم بھی انجینئر تھے اور یہیں پاکستان میں رہے اور ہم نے ساری نوکری پاکستان میں کی ہے۔ اللہ پاک نے رزق دیا ہے۔ مطلب میں تو جرمنی میں تو مجھے پروفیسر چھوڑ نہیں رہے تھے واپس آنے کے لیے۔ اس کو dodge دے کر میں آیا ہوں۔ dodge کر کے میں آیا ہوں۔ اور آپ کو پتا ہے جرمنی آسٹریلیا سے کچھ ranking میں اوپر ہی ہے۔ تو اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو بعض لوگوں کے نزدیک تو میں نے chance miss کیا ہے۔ لیکن الحمد للہ اللہ، پاک نے بڑا اچھا رکھا ہے۔ شکر ہے اللہ کا۔ یہ نہیں کہ یہاں پیسہ نہیں۔ یہ بات یہ ہے کہ میں پیسے کی definition کیا کروں۔ اس پہ انسان کو جس کو کہتے ہیں نا کوئی end نہیں ہے کتنا چاہیے آدمی کو۔ میں کہتا ہوں کہ اگر آپ کو دو وقت کا کھانا ملتا ہے اور آپ کا ایمان بچ جائے۔ تو یہ اس سے بہت بہتر ہے کہ آپ کو باہر ساری دنیا مل جائے لیکن آپ کا ایمان یا آپ کے بچوں کا ایمان خطرے میں پڑ جائے۔ تو میں وہاں سوچتا تھا کہ جو لوگ وہاں پر ہیں بے شک وہ خود ٹھیک رہیں ان کی تربیت ہو چکی ہو یا کوئی۔۔ اپنی اولاد کی ان کو کوئی surety نہیں ہے کہ وہ بچیں گے یا نہیں بچیں گے۔ کیونکہ طریقہ تعلیم ہی ایسا ہے۔ کہ اس میں بچے آپ کے نہیں رہتے۔ تو بچوں کو تو قربان کر لیا جاتا ہے۔ تو اولاد والی بات تو وہاں بڑا مشکل ہے۔ یہ ابھی گزرا ہے وہ uk کا وزیراعظم۔ جو پہلے تھا۔ یہ چوتھی پشت میں اس کا جو تھا پردادا یہ مسلمان تھا ترکی کا۔ اور یہ ایک متعصب عیسائی ہے۔ غالبا وہ دوسری پشت سے معاملہ خراب ہونا شروع ہو گیا تھا۔ اور اخیر میں یہاں تک صورتِ حال پہنچ گئی۔ تو کیا خیال ہے؟ بہرحال میں آپ کو نہیں کہتا کہ آپ نہ جائیں۔ لیکن آپ نے سوال ہی ایسا کیا ہے کہ مجھے جواب دینا تھا۔ یہ blowing question تھا تو اس کو blowing جواب سمجھ لیں۔
سوال نمبر 17: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حضرت جی میں فلاں جگہ سے فلاں ہوں۔ اللہ کے فضل سے میرا ذکر مکمل ہے دو سو مرتبہ لا الہ الا اللہ چار سو مرتبہ الا اللہ چھ سو مرتبہ اللہ حق اور ساڑھے پانچ ہزار مرتبہ اللہ۔ ان کے ساتھ پانچوں لطائف پر دس دس منٹ اور پندرہ منٹ مراقبہ دعائیہ۔ احوال: اس دفعہ میں نے زبان کان اور آنکھ کو کنٹرول کرنے کا سبق لیا تھا اور اس میں کوشش جاری رہی لیکن ابھی کافی کمی ہے خاص طور پر زبان اور کان۔ آپ سے مزید رہنمائی کی درخواست ہے۔ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)
جواب: یہ آپ جاری رکھیں یہ جو زبان اور کان والی بات ہے۔ یہ تو بہت بڑا source ہیں برائی کے۔ تو اس کو جاری رکھیں۔ ان شاء اللہ العزیز فائدہ ہو گا اور باقی وہ ذکر وہی رکھیں۔
سوال نمبر 18: السلام علیکم محترم مرشدی دامت برکاتہم امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے حضرت جی سارے اذکار پورے ہو گئے ہیں اس مہینے کے لیے دو، چار، چھ، چار ہزار۔ تمام لطائف پر دس دس منٹ مراقبہ لا اله الا انت سبحانك اني كنت من الظالمين کا مفہوم پندرہ منٹ۔ اس مراقبہ کے بعد مجھے وقوف قلبی بھی بہت آسانی سے ہو جاتا ہے سبحان اللہ۔ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)
جواب: یہ قرآن پاک کی ایک آیت ہے وہو معکم اینما کنتم اس کا جو مفہوم ہے ذہن میں رکھ کر آپ پندرہ منٹ اس کا مراقبہ کریں۔
سوال نمبر 19: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ حضرت جی امید ہے کہ آپ خیر و عافیت سے ہوں گے۔ میرا مراقبہ بیس منٹ ذکر قلبی کا ہے۔ اللہ اللہ ہوتا ہوا محسوس نہیں ہوتا۔ اکثر جب مہینہ پورا ہونے والا ہوتا ہے تو ناغہ ہو جاتا ہے۔ تو میرا سوال یہ تھا کہ کیا مراقبہ پھر نئے سرے سے شروع کرنا ہے یا ناغے نکال کر مہینہ پورا کرنا ہے۔ حضرت جی اگر مراقبہ کرتے ہوئے درمیان میں بولنا پڑ گیا یا اٹھنا پڑا کسی مجبوری کی وجہ سے مثلا بچہ رونا شروع کر لے تو کیا مراقبہ دوبارہ سے کرنا ہو گا یا جو منٹ باقی رہ گئے ہیں وہ پورے کرنے ہوں گے۔ مزید رہنمائی فرما دیں۔ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)
جواب: نہیں اس کو پورا کر لیں وہ کافی ہے۔
سوال نمبر 20: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ i pray you are well dear حضرت جی۔ may allah ta'ala prolong your shade over us all and grant me tawfiq to be a true murid۔ i just wanted to ask one question۔ as we will be asked by allah subhanahu wa ta'ala on qiyamah about what we did for the oppressed muslims across the world۔ what's the that every ummah and me especially should be doing for them۔ "Question and Answer Session November 20, 2023, Session Number 648"
جواب: یہ بات تو ہم مسلسل کرتے رہے ہیں، یہ اصل میں depend کرتا ہے chance پر، will پر، نیت پر۔ یہ تین چیزیں ہیں۔ تو نیت یہ رکھنی چاہیے کہ اس سے اللہ پاک راضی ہو جائے اور امت مسلمہ کی خدمت ہو جائے۔ will یہ بات ہے کہ جب اللہ پاک راستہ دے تو اس میں پھر سستی نہ کرے۔ اور chance، مطلب ظاہر ہے چونکہ اس میں ہر چیز انسان کے بس میں نہیں ہوتی۔ مثلا: اور کچھ نہیں، مثلا passport ہی لے لو، visa لے لو، یعنی یہ سارے مسائل ہیں۔ لیکن بہرحال where there is a will there is a way۔ مطلب ظاہر ہے کچھ راستے تو بنتے ہیں۔ تو اگر chance ملتا ہو تو اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
اب ایک chance ہے جو ساری امت کو میسر ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پہلی جو جماعت بھیجی تھی جہاد کے لیے، وہ کفار مکہ کے اس قافلے کو trap کرنے کے لیے جو کہ کفار مکہ کی طرف سے تجارت کر کے واپس آ رہا تھا ابو سفیان کی سرکردگی میں۔ اور چونکہ اس مال سے پھر وہ مسلمانوں کے خلاف ہتھیار خریدتے اور وہ۔ تو اس کو trap کرنا، تو اس کا مطلب ہے کہ یہ طریقہ آج کل بھی میسر ہے کہ جو ان کی معیشت ہے اس پر پیر رکھو۔ boycott کر لو ان کا ان چیزوں سے۔ ان چیزوں سے بے شک اس سے low level کی چیزیں لیکن ہماری ضرورت پوری ہوتی ہو تو یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ ان کی چیزیں high level کی ہیں۔ قوت لا یموت والی بات ہے، وہ بھی اگر ہو تو ظاہر ہے مطلب ہے ہمیں اس میں پیش قدمی کرنی چاہیے۔ تو ان کی boycott proper طریقے سے کرنی چاہیے جتنا ہم سے ہو سکے۔ اور دوسروں کو بھی اس کا کہنا چاہیے۔ اور دامے، درمے، قدمے، سخنے یہ جتنا انسان سے ہو سکتا ہے، ان کی مدد کرنا چاہیے، جتنا موقع ہو، اللہ نصیب فرمائے۔
سوال نمبر 21: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ حضرت جی، اللہ پاک سے آپ کی صحت و تندرستی کے لیے دعا گو ہوں۔ حضرت جی میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں قساوۃ قلبی کا شکار ہوں، اکثر کچھ لوگ مالی مدد مانگتے ہیں لیکن میں ان کی بات پر توجہ نہیں کرتا اور یہی گمان کرتا ہوں کہ جھوٹے ہیں اور fraud ہیں۔ بعد میں اپنے رویے پر افسوس بھی ہوتا ہے لیکن عین وقت پر کچھ گومگو کی سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ لوگوں کے عذر کو بھی تسلیم نہیں کرتا اور دل میں ان کو غلط سمجھتا ہوں۔ برائے مہربانی اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔ اللہ پاک آپ کے درجات کو بلند فرمائے اور آپ کو اجر عظیم عطا فرمائے۔ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)
جواب: دیکھیں بات سمجھ لیں۔ یہ بات غلط نہیں ہے جو آپ کر رہے ہیں۔ لیکن اس کا test اس وقت ہوتا ہے جب آپ کو صحیح لوگ مل جائیں، اس وقت بھی آپ نہ کریں۔ آپ اس کے لیے checks علمائے کرام سے، مشائخ سے سیکھ لیں کہ کون سی چیز کو check کرنا ہے، مطلب یہ ہے کہ مستحق ہے یا نہیں۔ تو اگر پھر مستحق آپ کو نظر آئے تو پھر آپ ان کی ضرور خدمت کریں، اور جتنا ہو سکتا ہے۔ اور پھر اگر نہیں ہوا تو پھر علیحدہ بات ہو گی۔ لیکن اس صورت میں اگر آپ اس کو احتیاطا نہیں کر رہے تو یہ جرم نہیں ہے۔ یہی تو management ہے۔ لہٰذا management ہونا چاہیے۔ اور یہ مطلب یہ ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
سوال نمبر 22: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
نمبر ایک: تمام لطائف پر پانچ منٹ ذکر اور مراقبہ، مراقبہ شہود ذاتی پندرہ منٹ محسوس نہیں ہوتا. (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)
جواب: اس کو جاری رکھیں۔
نمبر دو: لطیفہ قلب دس منٹ، لطیفہ روح دس منٹ، لطیفہ سر دس منٹ، لطیفہ خفی دس منٹ، ذکر میں کبھی کمزوری محسوس ہوتی ہے خاص کر جب ناغہ ہو جائے۔ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)
جواب: ناغہ بالکل نہ کریں۔ اور یہ اگر محسوس ہو رہا ہے تو پھر سارے دس دس منٹ کر لیں اور جو مراقبہ احدیت ہے ان کو دے دیں۔
نمبر تین: تمام لطائف پر پانچ منٹ ذکر اور مراقبہ معیت اور دعائیہ پندرہ منٹ۔ اللہ تعالی کی معیت محسوس ہوتی ہے اور تکلیف میں یہ احساس بہت بڑھ جاتا ہے، اور یقین ہوتا ہے کہ یہ تکلیف اللہ تعالی کی طرف سے ہے، یہ تکلیف ہمارے گناہوں کے کفارے کا سبب بنے گی۔ اللہ تعالی ہماری تکالیف کو ضائع نہیں فرمائے گا۔ اور کثرت سے دعائیں مانگتی ہوں، اکثر دل میں ایسی دعائیں آتی ہیں جو بالکل نئی ہوتی ہیں۔ اور جب وقت کی کمی یا جسمانی تکلیف کی وجہ سے کوئی اور عبادت نہیں کر سکتی تو دعا کرتی رہتی ہوں، فضول وقت ضائع نہیں کرتی بلکہ دل ہی دل میں غیر اختیاری دعا شروع ہو جاتی ہے۔ دعا میں یہ توجہ نصیب ہوتی ہے۔ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)
جواب: ٹھیک ہے ماشاءاللہ بہت اچھا فیض ہے۔ اور اب یہ بات ہے کہ اس یعنی پانچ منٹ یہ کر لیں جو ابھی ہے اور دس منٹ اس پر شکر کی کیفیت کے ساتھ وہ متوجہ رہیں۔
نمبر چار: لطیفہ قلب دس منٹ، لطیفہ روح دس منٹ، لطیفہ سر دس منٹ، لطیفہ خفی پندرہ منٹ، خفی پر تھوڑا تھوڑا محسوس ہوتا ہے باقی پر صحیح محسوس ہوتا ہے۔ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)
جواب: تو فی الحال اس کو جاری رکھیں۔
نمبر پانچ: ابتدائی وظیفہ بلا ناغہ پورا کر لیا۔ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)
جواب: سبحان اللہ ماشاءاللہ۔ اب ان کو پہلا والا دے دیں، دس منٹ کا ذکر۔
نمبر چھ: تمام لطائف پر پانچ منٹ ذکر اور مراقبہ صفات ثبوتیہ پندرہ منٹ۔ اللہ تعالی کی صفات پر پختہ یقین حاصل ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ درود شریف کی کثرت، نوافل اور تلاوت قرآن کی توفیق نصیب ہوئی۔ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)
جواب: ماشاءاللہ، بڑی اچھی بات ہے۔ اب مراقبہ شیونات ذاتیہ، ان کو دے دیں۔
نمبر سات: لطیفہ قلب دس منٹ، لطیفہ روح دس منٹ، لطیفہ سر پندرہ منٹ۔ تمام لطائف پر ذکر محسوس ہوا ہے الحمدللہ۔ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)
جواب: اب اس کو لطیفہ خفی دے دیں پندرہ منٹ اور باقی دس دس منٹ۔
نمبر آٹھ: تمام لطائف پر دس منٹ ذکر اور مراقبہ شیونات ذاتیہ پندرہ منٹ۔ اس بات کا ادراک ہو کہ اللہ تعالی کی شان مختلف ہوتی ہے، ایک شان میں نہیں ہوتے۔ یعنی شان بدلتی رہتی ہے۔ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)
جواب: تو یہ ماشاءاللہ، یہ اب اس کو مراقبہ جو تنزیہ ہے، وہ دے دیں۔
نمبر نو: لطیفہ قلب دس منٹ محسوس ہوتا ہے، الحمدللہ۔ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)
جواب: اب اس کو لطیفہ قلب دس منٹ کی جگہ پندرہ منٹ کر لیں۔
نمبر دس: تمام لطائف پر پانچ منٹ ذکر اور مراقبہ آیت الکرسی کا مفہوم پندرہ منٹ۔ آیت الکرسی میں اللہ تعالی کی جو صفات بیان کی، وہ دل و دماغ میں پختہ ہو گئے ہیں، ان کا استحضار نصیب ہوا ہے۔ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)
جواب: اب ان کو جو آیت کریمہ ہے، اس کا مفہوم بتا دیں نا کہ وہ اس کا مراقبہ کریں۔
نمبر گیارہ: لطیفہ قلب دس منٹ، لطیفہ روح پندرہ منٹ، محسوس ہوتا ہے، الحمدللہ۔ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)
جواب: تو اب ان کو دونوں لطیفے دس منٹ اور تیسرا لطیفہ ان کو پندرہ منٹ کا بتا دیں۔
نمبر بارہ: تمام لطائف پر پانچ منٹ ذکر اور مراقبہ حقیقت کعبہ پندرہ منٹ، محسوس نہیں ہوتا۔ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)
جواب: اس کو جاری رکھیں۔
نمبر تیرہ: تمام لطائف پر پانچ منٹ ذکر اور مراقبہ معیت و دعائیت پندرہ منٹ، محسوس نہیں ہوتا (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)
جواب: اس کو جاری رکھیں۔
سوال نمبر 23: آدھا کھانے کا مجاہدہ جاری ہے، لیکن اس ہفتے نفس کا غلبہ زیادہ رہا ہے۔ surbex z tablets اب لینا شروع کی ہیں جس کی وجہ سے بھوک زیادہ لگی ہے۔ بھوک لگتی ہے تو کھانا کھا لیتی ہوں لیکن سیر ہو کر نہیں کھاتی بلکہ بھوک رکھ کر کھا لیتی ہوں۔ لیکن کھانے کی مجموعی مقدار بڑھ جاتی ہے، اس ہفتے کنٹرول کرنے کی کوشش کروں گی ان شاءاللہ۔ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)
جواب: کنٹرول کرنے کی کوشش کر لیں۔ یاد رکھیں کہ جتنا demand ہے، آپ کو کھانے کی اس کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ انسان کا اپنا ہوتا ہے۔ باقی انسان جب موٹا ہوتا ہے، چربی ہوتی ہے، وہ چربی کام آتی ہے۔ جب انسان کو بھوک لگتی ہے، تو سمجھ لو کہ اس وقت چربی نکلنا شروع کر لیا۔ تو آپ اس وقت اگر آپ کھا لیں گے تو وہ چیز تو ان کو باہر سے چیز مل گئی تو اندر سے کیوں کھائیں گے؟ لہذا اس بات کو اپنے خیال میں رکھ کر اپنی چربی کے ذریعے سے زندہ رہنا سیکھ لیں۔
سوال نمبر 24: السلام علیکم حضرت۔ آج کل عمل کی بہت کمی ہے۔ مدرسوں میں زیادہ زور علم پر ہے، تربیت تقریبا نہ ہونے کے برابر ہے۔ حالانکہ پہلے زمانے میں طلبہ باقاعدہ تربیت کے لیے خاص طور پر جاتے تھے۔ کیا آج کے دور میں بھی علم سے فراغت کے بعد اپنی تربیت کے لیے اپنے شیخ کے پاس اصلاحِ نفس ہونے تک خاص طور پر جایا جا سکتا ہے؟ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)
جواب: کیوں نہیں جایا جا سکتا؟ یہ تو ہے۔ علم حاصل کرنے کے بعد تو لازمی ہے۔ البتہ آج کل کے حالات کے مطابق، بقول تحقیق حضرت مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے، کہ بعد میں پھر توفیق کم ہی ملتی ہے۔ لہذا اپنی طالبعلمی کے دوران ہی اپنے شیخ سے تعلق رکھنا چاہیے تاکہ یہ چیز اس وقت تک اتنی develop ہو چکا ہو کہ جب عالم ہو جائے تو اس کو جاری رکھ سکے اور ماشاءاللہ اس کے فوائد حاصل کر سکے۔
many thanks hazrat i will listen and make notes on this some good information to try and understand jazakallah khair (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)
ماشاءاللہ ماشاءاللہ۔
کسی سائل نے آڈیو بھیجی جس پر حضرت والا نے یہ جواب دیا۔
کون سا ذکر؟ اصل میں، میں آپ کی آواز کو سامنے نہیں لانا چاہتا ہوں۔ آپ یہ بات، مطلب آپ نے پھر آڈیو بھیج دی نا اور صرف لکھا کہ یہ والا ذکر۔ تو وہ جو ذکر آپ کریں گے تو لوگ آپ کو پہچانیں گے نہیں؟ تو اپنا حال تو شیخ کے علاوہ تو نہیں ظاہر کرنا چاہیے نا۔ تو جو آپ کو پہچانیں گے، تو آپ کی آواز سے آپ کو پہچان لیں، تو آپ کا حال ظاہر ہو گیا۔ لہذا یہی وجہ ہے کہ ہم اس پہ اس کا اہتمام کرتے ہیں کہ کوئی آواز والی چیز نہ ہو۔
سوال نمبر 24: حضرت یہ تجلیات صفات سلبیہ کا جو مراقبہ ہے۔ اس میں کیا نیت کرنی چاہیے، حالانکہ یہ تو سلبی ایک کیفیت کیا ہے؟ (سوال جواب مجلس 20 نومبر، 2023، مجلس نمبر 648)
جواب: دیکھیں، حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کو اللہ تعالی بہت بلند درجات نصیب فرمائے۔ یہ اصل میں انہوں نے ہمارے عقائد کو مستحضر کرنے کے لیے مراقبات بنائے ہیں۔ یہ سب ہمارے عقائد ہیں۔ تجلیات افعالیہ، یہ عقیدہ ہے ہمارا۔ اور جو صفات ثبوتیہ، یہ ہمارا عقیدہ ہے۔ شیونات ذاتیہ ہمارا عقیدہ، كل يوم هو في شان، وہ مطلب وہ ہمارا عقیدہ ہے۔ اسی طرح قل هو الله احد الله الصمد لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا احد۔ یہ سلبیہ ہے۔ احد سلبیہ نہیں ہے، لیکن باقی تو سلبیہ ہیں۔ تو اس کا مطلب ہے کہ وہ چیزیں مستحضر رکھیں ہم کہ اللہ ایسا نہیں ہے۔ اللہ ایسا نہیں ہے۔ یہ جو ہمارے خیال ہیں اللہ کے بارے میں وہ تو ایسا نہیں ہے کہ اللہ پاک نہ سوتے ہیں، نہ اللہ پاک فوت ہوتے ہیں، نہ اللہ جل شانہ کھاتے ہیں، نہ پیتے ہیں، نہ اس کی اولاد ہے، نہ وہ کسی کی اولاد ہے، نہ اس کی بیوی ہے۔ یہ اس کے صرف جو انسانوں کے صفات ہو سکتے ہیں، اللہ پاک کے نہیں۔ تو اس کو مستحضر کرنے کے لیے صفات سلبیہ کا مراقبہ ہے۔ اور اس کو اس طریقے سے اس کو اپنے ذہن میں لا کر اس کا ایک فیض ہے، اور فیض کیا ہے؟ یہی انسان کا عقیدہ درست ہونا۔ وہ آ رہا ہے اللہ تعالی کی طرف سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف یہ عقیدہ آیا ہے نا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شیخ کی طرف، تو ابھی شیخ ہی بتا رہا ہے۔ اور شیخ سے ہماری طرف۔ تو یہ بات ہے۔
حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو اللہ پاک نے یہ سبحان اللہ فکر عطا فرمائی تھی کہ یہ چیزیں انسان کی درست ہو جائیں۔ کیونکہ اس وقت بگاڑ انہی چیزوں میں تھا۔ بہت زیادہ بگاڑ تھا۔ وحدت الوجود کا جو عقیدہ تھا وہ بگڑا ہوا تھا۔ اس طرح یعنی صفات میں لوگ شریک کر لیتے تھے اللہ تعالی کے ساتھ شرک۔ تو وہ ظاہر ہے مطلب ہے کہ اس کے بارے میں تھا۔ اللہ کی صفات کے بارے میں گڑبڑ تھی لوگوں کی سمجھ میں۔ حتیٰ کہ لوگ اللہ پاک کے دیدار کا دعویٰ کر لیتے تھے کوئی کیا کیا دعوے اس کے ساتھ۔ تو اب لن ترانی یہ بھی تو وہی والی بات ہے نا۔ سلبیہ والی بات ہے۔ کہ اللہ کو کوئی دیکھ نہیں سکتا۔ تو اس پر بھی حضرت نے زور دیا ہے۔
البتہ چونکہ نقشبندی سلسلے میں مراقبات ہوتے ہیں، تو مراقبات کا ایک سائیڈ افیکٹ بعض کے لیے کشف بھی ہے۔ تو وہ کشف جب لوگوں کو ہونے لگتا ہے تو اگر اس کی اصلاح نہ ہوئی ہو نا تو شیطان کو راستہ مل جاتا ہے۔ وہ ان کو پھر detract کرتا ہے۔ اس میں مختلف قسم کی چیزیں وہ شامل کر لیتا ہے۔ یعنی اگر وہ قرآن کے اندر کوشش کر سکتا تھا try کر رہا تھا، جس کے لئے اللہ پاک نے پورا ایک نظام بنایا۔ تو ایک انسان کی کیا حیثیت ہے کہ وہ اس کے اس کشف میں شامل نہیں ہو سکتا۔ ظاہر ہے وہ تو ہر چیز میں کوشش کرتا ہے۔ وہ خواب میں کر سکتا ہے۔ کشف میں کر سکتا ہے۔ بہت ساری چیزوں میں وہ کر سکتا ہے۔ تو وہ ان چیزوں کا استعمال کرتا ہے۔
بلکہ یہ بھی ایک کشف ہی ہے جو نہ مانے وہ بالکل نہ مانے ان کے اوپر لازم نہیں ہے۔ جو مجھ تک پہنچی ہے کہ مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ آج کل کے دور میں حقیقت محمدی اور حقیقت احمدی اور یہ مراقبات لوگ نہ کریں تو اچھا ہے۔ اس سے کشف ہوتا ہے۔ اور کشف آج کل خطرناک ہے۔ اب بتائیں۔ وہ دوسرے زیادہ اچھے ہیں، حقیقت کعبہ، حقیقت قرآن۔ کیونکہ عبادات کے ساتھ تعلق ہے نا اس کا۔ اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے فیض کو لوگوں نے mis understand کیا ہے۔ مس انڈرسٹینڈ کیا ہے۔ جتنی چیزوں سے حضرت بچانا چاہتے ہیں اسی میں لوگ پڑ رہے ہیں۔
نحمدك يا خير مامول واكرم مسؤول على ما علمتنا من مناجاة المقبولين من قربات. ان لله وصلاة الرسول. فصل على مختلف الدبور والقبول وانشعبت الفروع من الاصول. ثم نسالك بما سالك كل من السؤال ومنك القبول. اللهم اجعلني صبورا واجعلني شكورا واجعلني في عيني صغيرا وفي اعين الناس كبيرا. اللهم اضعف في ارضنا بركتها وزينتها وسكنها ولا تحرمني بركة ما اعطيتني ولا تفتني فيما حرمتني. اللهم احسنت خلقي فاحسن خلقي واذهب غيظ قلبي واجرني من مضلات الفتن ما احييتنا. اللهم لقني حجة الايمان عند الممات. رب اسالك خير ما في هذا اليوم وخير ما بعده. اللهم اني اسالك خير هذا اليوم فتحه ونصره ونوره وبركته وهداه. اللهم اني اسالك العفو والعافية في ديني ودنياي واهلي ومالي. اللهم استر عورتي وامن روعتي. اللهم احفظني من بين يدي ومن خلفي وعن يميني وعن شمالي ومن فوقي واعوذ بعظمتك ان اغتال من تحتي. يا حي يا قيوم برحمتك استغيث اصلح لي شاني كله ولا تكلني الى نفسي طرفة عين. اسالك بنور وجهك الذي اشرقت له السماوات والارض وبكل حق هو لك وبحق السائلين عليك ان تقيلني وان تجيرني من النار بقدرتك. اللهم اجعل اول هذا النهار صلاحا واوسطه فلاحا واخره نجاحا. اسالك خيري الدنيا والاخرة يا ارحم الراحمين. اللهم اغفر لي ذنبي واخسئ شيطاني وفك رهاني وثقل ميزاني واجعلني في الندي الاعلى. اللهم قني عذابك يوم تبعث عبادك. اللهم رب السماوات السبع وما اظلت ورب الارضين وما اقلت ورب الشياطين وما اضلت كن لي جارا من شر خلقك كلهم اجمعين ان يفرط علي احد منهم او ان يطغى عز جارك وتبارك اسمك. لا اله الا انت لك شيء لا شريك لك سبحانك. اللهم اني استغفرك لذنبي واسالك رحمتك. اللهم اغفر لي ذنبي ووسع لي في داري وبارك لي في رزقي. اللهم اجعلني من التوابين واجعلني من المتطهرين. اللهم اغفر لي واهدني وارزقني وعافني واهدني لمختلف فيه من الحق باذنك. اللهم اجعل في قلبي نورا وفي بصري نورا وفي سمعي نورا وعن يميني نورا وعن شمالي نورا وخلفي نورا ومن امامي نورا واجعل لي نورا وفي عصبي نورا وفي لحمي نورا وفي دمي نورا وفي شعري نورا وفي بشري نورا وفي لساني نورا واجعل في نفسي نورا واعظم لي نورا واجعلني نورا واجعل من فوقي نورا ومن تحتي نورا اللهم اعطني نورا. اللهم افتح لنا ابواب رحمتك وسهل لنا ابواب رزقك. اللهم اعصمني من الشيطان. اللهم اني اسالك من فضلك. اللهم اغفر لي خطاياي وذنوبي كلها. اللهم انعشني واجبرني وارزقني واهدني لصالح الاعمال والاخلاق انه لا يهدي لصالحها ولا يصرف سيئها الا انت. اللهم اني اسالك رزقا طيبا وعلما نافعا وعملا متقبلا. اللهم اني اعوذ بك من علم لا ينفع وقلب لا يخشع ودعاء لا يسمع ونفس لا تشبع ومن الجوع فانه بئس الضجيع ومن الخيانة فانها بئست البطانة ومن الكسل والبخل والجبن والهرم وان ارد الى ارذل العمر ومن فتنة الدجال وعذاب القبر ومن فتنة المحيا والممات. اللهم اني اسالك بكل اسم هو لك سميت به نفسك او انزلته في كتابك او علمته احدا من خلقك او استاثرت به في علم الغيب عندك ان تجعل القران العظيم ربيع قلبي ونور بصري وجلاء حزني وذهاب همي. اللهم الى جبريل وميكائيل واسرافيل والى ابراهيم واسماعيل واسحاق عافني ولا تسلطن احدا من خلقك علي بشيء لا طاقة لي به. اللهم اكفني بحلالك عن حرامك واغنني بفضلك عمن سواك. اللهم انك تسمع كلامي وترى مكاني وتعلم سري وعلانيتي لا يخفى عليك شيء من امري وانا البائس الفقير المستغيث المستجير الوجل المشفق المقر المعترف بذنبي اسالك مسالة المسكين وابتهل اليك ابتهال المذنب الذليل وادعوك دعاء الخائف الضرير دعاء من خضعت لك رقبته وفاضت لك عبرته وذل لك جسمه ورغم لك انفه. اللهم لا تجعلني بدعائك شقيا وكن بي رؤوفا رحيما يا خير المسؤولين ويا خير المعطين. اللهم اليك اشكو ضعف قوتي وقلة حيلتي وهواني على الناس يا ارحم الراحمين. يا ارحم الراحمين الى من تكلني الى عدو يتجهمني ام الى قريب ملكته امري ان لم تكن ساخطا علي فلا ابالي غير ان عافيتك اوسع لي. اللهم انا نسالك قلوبا اواهة مخبتة منيبة في سبيلك. اللهم اني اسالك ايمانا يباشر قلبي ويقينا صادقا حتى اعلم انه لا يصيبني الا ما كتبت لي ورضا من المعيشة بما قسمت لي. اللهم لك الحمد كالذي تقول وخيرا مما نقول. اللهم اني اعوذ بك من منكرات الاخلاق والاعمال والاهواء والادواء ونعوذ بك من شر ما استعاذ منه نبيك محمد صلى الله عليه وسلم ومن جار السوء في دار المقامة فان جار البادية يتحول وشماتة الاعداء من الجوع فانه بئس الضجيع ومن الخيانة فانها بئست البطانة وعجب المرء بنفسه ونفخنا في ديننا ومن فتن ما ظهر منها وما بطن ومن يوم السوء ومن ليلة السوء ومن ساعة السوء ومن صاحب السوء. وتقبل دعواتنا في اخينا محمد اشرف علي وكاكا صاحب وجميع متعلقينا وفي حق ابائنا وامهاتنا وجميع المؤمنين والمؤمنات وصلى الله تعالى على سيد الكائنات واكرم المخلوقات صلاة تسبق الغايات. ربنا تقبل منا انك انت السميع العليم وتب علينا انك انت التواب الرحيم سبحان ربك رب العزة عما يصفون وسلام على المرسلين والحمد لله رب العالمين.