مقامِ مصطفیٰ ﷺ اور عقیدے میں افراط و تفریط

درس نمبر 259، سورۃ الانعام، آیات: 55 تا 60، اشاعتِ اول: 14 اگست، 2022، بمطابق 15 محرم الحرام، 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. اللہ تعالیٰ ہی تمام اختیارات کا مالک اور غیب کا جاننے والا ہے جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم افضل ترین مخلوق ہیں۔
  2. انبیاء کرام کے معاملے میں افراط و تفریط سے بچنا ضروری ہے تاکہ نہ ان کی شان گھٹے اور نہ انہیں الوہیت میں شریک سمجھا جائے۔
  3. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں انتہائی احتیاط اور balance کی ضرورت ہے تاکہ خالق اور مخلوق کی صفات میں واضح فرق رہے۔
  4. خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام صرف اللہ جانتا ہے، لہٰذا اس حوالے سے عقیدے کی بنیاد قرآن اور صحابہ کے بیانات پر ہونی چاہیے۔
  5. کائنات کا تکوینی اور تشریعی نظام اللہ کے تابع ہے جو انسانوں کی حفاظت اور اعمال کی نگرانی کے لیے فرشتے مقرر فرماتا ہے۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ (55) قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِؕ قُلْ لَّاۤ اَتَّبِـعُ اَهْوَآءَكُمْۙ قَدْ ضَلَلْتُ اِذًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ(56) قُلْ اِنِّیْ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ كَذَّبْتُمْ بِهٖ مَا عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِؕ یَقُصُّ الْحَقَّ وَ هُوَ خَیْرُ الْفٰصِلِیْنَ(57) قُلْ لَّوْ اَنَّ عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ لَقُضِیَ الْاَمْرُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِالظّٰلِمِیْنَ(58) وَ عِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُهَاۤ اِلَّا هُوَؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِؕ وَ مَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا یَعْلَمُهَا وَ لَا حَبَّةٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ(59) وَ هُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّیْلِ وَ یَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ یَبْعَثُكُمْ فِیْهِ لِیُقْضٰۤى اَجَلٌ مُّسَمًّىۚ ثُمَّ اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ یُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ (60)

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ۔

ترجمہ: اور ہم اسی طرح نشانیاں تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں، (تاکہ سیدھا راستہ بھی واضح ہو جائے) اور تاکہ مجرموں کا راستہ بھی کھل کر سامنے آجائے ﴿55﴾ (اے پیغمبر! ان سے) کہو کہ: ”تم اللہ کے سوا جن (جھوٹے خداؤں) کو پکارتے ہو مجھے ان کی عبادت کرنے سے منع کیا گیا ہے۔“ کہو کہ: ”میں تمہاری خواہشات کے پیچھے نہیں چل سکتا۔ اگر میں ایسا کروں گا تو گمراہ ہوں گا، اور میرا شمار ہدایت یافتہ لوگوں میں نہیں ہوگا“ ﴿56﴾ کہو کہ: ”مجھے اپنے پروردگار کی طرف سے ایک روشن دلیل مل چکی ہے جس پر میں قائم ہوں، اور تم نے اسے جھٹلا دیا ہے۔ جس چیز کے جلدی آنے کا تم مطالبہ کر رہے ہو وہ میرے پاس موجود نہیں ہے ۔

حاشیہ: یہ آیات کفار کے اس مطالبے کے جواب میں نازل ہوئی ہیں کہ جس عذاب سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ڈرا رہے ہیں وہ ہم پر فوراً کیوں نازل نہیں ہوتا؟ جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ عذاب نازل کرنے اور اس کا صحیح وقت اور مناسب طریقہ طے کرنے کا مکمل اختیار اللہ تعالیٰ کو ہے، جس کا فیصلہ وہ اپنی حکمت سے کرتا ہے۔

اس طرح بیان کرنے سے قرآن پاک میں جو فرمایا گیا ہے۔ اس سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مخلوقات میں جو مقام ہے وہ بہت اونچا ہے۔ اور اللہ جل شانہ سے لینے کا اولین اور آخرین ذریعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔ لیکن اللہ، اللہ ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مخلوق ہیں اور اللہ جل شانہ خالق ہیں۔ تو اس میں یہ جو بات فرمائی گئی ہے انسان اس سے تھرا اٹھتا ہے لیکن قرآن ہے ظاہر ہے یہی پڑھنا پڑے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہی مطلب نازل ہوا ہے۔ جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا ہے کہ آپ یہ بات ان تک پہنچا دیں کیونکہ اگر میں ایسا کروں گا تو گمراہ ہوں گا۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تو گمراہی کی نسبت کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہو سکتا کہ کر سکے۔ لیکن یہ اللہ جل شانہ کی اس بے نیازی کا اور اللہ جل شانہ کی ظاہر ہے کہ خالقیت کا اور اللہ جل شانہ کے تمام فیصلے کرنے کا یہ بہت بڑی نشانی ہے کہ اللہ پاک نے اس انداز میں فرمایا ہے۔ ظاہر ہے ایسی چیزیں ہوتی نہیں ہیں لیکن ان سے بہت ساری چیزیں سمجھ میں آ جاتی ہیں۔ ایساہوتا تو نہیں ہے۔ اب یہ بات ہے کہ افراط تفریط سے معاملہ نقصان میں چلا جاتا ہے۔ تفریط یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو بھی نہ پہچانا جائے یا پیغمبر، کسی پیغمبر کا مقام نہ پہچانا جائے، ان کے ساتھ عام جیسے لوگوں کا معاملہ ہو۔ تو عام جیسے لوگ تو نہیں ہیں یہ اللہ پاک کے چنے ہوئے بندے ہیں اور بہت اونچا مقام ہے اس کا۔ یعنی جو لوگ یعنی ان کے مقام کو کم سمجھتے ہیں تو ان کے ساتھ اللہ پاک کا معاملہ بہت سخت ہوتا ہے جیسے یہود نے کیا ہے۔ اس طرح اور لوگوں نے کیا ہے۔ تو ظاہر ہے جو بھی ان کا مقام کم سمجھے گا جو اللہ نے بنایا ہے ان کا مقام تو ان کا معاملہ بھی بہت سخت ہے۔ دوسری طرف جن لوگوں نے اللہ جل شانہ کے ان برگزیدہ بندوں کو یعنی الوہیت میں وہ گنا ہے اور ان کے ان کے ساتھ اللہ کی صفات یعنی اللہ الٰہی صفات کو سمجھتے ہیں تو وہ بھی بہت سخت گمراہ ہیں۔ جیسے کہ نصاریٰ ہیں۔ اور انہوں نے مطلب یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو یعنی پیغمبری کے مقام سے اونچا کر کے اللہ پاک کی صفات میں شریک کر لیا۔ تو اس چیز سے بچانے کے لیے ظاہر ہے مطلب ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تو یہ بات زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام تو سب سے اونچا ہے۔ تو اس امت کو بچانے کے لیے یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ تاکہ یہ امت اس طریقے سے گمراہ نہ ہو۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ باتیں کہلوائی گئیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود بھی ان آیات کو پڑھتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام بھی ان آیات کو پڑھتے تھے۔ تو اس سے پتا چلا کہ اس امت پر اللہ پاک کی یہ نہایت شفقت ہے اور کرم ہے یعنی کہ اللہ پاک نے اس امت کے جو یعنی گمراہی کا ہر دروازہ ہے اس کو بند فرمایا ہے۔ تو اس کو اس وجہ سے اس طرح اللہ پاک نے بیان فرمایا ہے تاکہ جو پیغمبروں کا جو مقام ہے یعنی کہ مخلوق ہیں خالق نہیں ہیں اور خالق کی صفات میں شریک نہیں ہیں اس چیز کو بیان کیا گیا ہے۔ اب میں آپ کو کیا بتاؤں یہ میرے ساتھ ہوا تھا۔ ایک جگہ پر میں گیا تھا پنجاب کا علاقہ ہے نام اس کا نہیں لیتا اس کی وجہ سے کچھ بعض ساتھی جان لیں گے۔ تو ہمارے ایک ساتھی ہیں ان کے والد صاحب بڑے سادہ آدمی تھے۔ تو مجھ سے کہا کہ شاہ صاحب اللہ اور رسول ایک ہیں یا دو ہیں؟ اب اندازہ کریں۔ اللہ اور رسول ایک ہیں یا دو ہیں یعنی یہ آج کل کی بات بتا رہا ہوں مطلب یہ کوئی پرانی بات نہیں بتا رہا کہ اللہ اور رسول ایک ہیں یا دو ہیں۔ اب وہ اتنے سادہ تھے کہ میں اس کے ساتھ بحث تو نہیں کر سکتا تھا نہ اس کو تفصیل بتا سکتا تھا۔ میں نے اس سے کہا نہیں اللہ اللہ ہے اور رسول رسول ہے یہ دو ہیں۔ بس صرف میں نے اتنا بتا دیا کیونکہ ظاہر ہے اس کے لیے اتنی بات کافی تھی۔ انہوں نے کہا اچھا اچھا اچھا بس ٹھیک ہے۔ چونکہ اس کو اعتماد تھا لہذا بس بات کافی ہو گئی اس سے زیادہ بات کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ تو یہ مطلب اس قسم کی باتیں پھر ہو سکتی ہیں۔ اگر ان عقائد کی اصلاح نہ ہو تو پھر یہ باتیں تو انسان خوش فہمی میں بہت آگے چلا جاتا ہے۔ بہت آگے چلا جاتا ہے۔ اور بعض دفعہ بعض علماء بھی جو غیر محتاط ہوتے ہیں تو اس قسم کی بات کر لیتے ہیں جس سے دوسرے لوگوں کو نقصان ہوتا ہے۔ تو اس وجہ سے اس قسم کی باتیں بیان کریں مثلاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام آپ بیان کریں تو اس میں بہت زیادہ خیال رکھنا چاہیے۔ ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ وہ ایک دن فرمانے لگے کہ نعت کہنا بہت مشکل کام ہے۔ نعت کہنا بہت مشکل کام ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام اتنا اونچا ہے کہ اس کو ذرا بھی بڑھاؤ گے تو الٰہی صفات میں شریک کر لو گے یہ تباہی ہے۔ اور اگر کم کرتے ہو تو یہ بھی تباہی ہے۔ تو ایسے balance کلام کہنا یہ ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے۔ اور آج کل ہر آدمی اس پر طبع آزمائی کرتا ہے اور اس میں ذرہ برابر بھی نہیں سوچتا کہ یہ کیا ہے۔ وہ ایک دفعہ میرے ساتھ ہوا کہ میں دفتر جا رہا تھا گاڑی میں تو دفتر کے ایک ساتھی تھے میرے ساتھ اس نے مجھے کہا شبیر صاحب آپ حمد تو کہتے ہیں نعت نہیں کہتے کیا وجہ ہے؟ آپ حمد تو کہتے ہیں نعت نہیں کہتے۔ میں نے اس کو یہ وجہ بتائی میں نے کہا ہمارے شیخ نے فرمایا تھا تو یہ بات مطلب ظاہر ہے مشکل ہے اس وجہ سے میں نہیں کہتا۔ بس اتنی بات اللہ کے فضل و کرم سے میری زبان سے نکل گئی پھر اللہ پاک کا فیصلہ تھا۔ تو اللہ پاک کا فیصلہ یہ ہوا کہ اس کے فوراً بعد وہ نعت کا جو پہلے الفاظ تھے وہ اللہ تعالیٰ لے آئے میں نے لکھ دیا اس کے ساتھ پوری نعت شریف ہو گئی۔ تو اس کے پہلے الفاظ۔

اپنے آقا کی تعریف کیسے کروں
اس کے کرنے کا میری زباں ہی نہیں

جس کے سینے میں اس کی محبت نہ ہو
وہ پتھر ہے اس میں جاں ہی نہیں

تو مطلب یہ ہے کہ دیکھیں نا پہلا فقرہ اس کا کیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف نہیں کی جا سکتی مطلب ظاہر ہے انسان کیا ہے۔ حضرت مولانا صاحب رحمۃ اللہ فرماتے تھے کہ ولی را ولی می شناسد نبی را نبی می شناسد۔ ولی کو ولی جانتا ہے اور نبی کو نبی جانتا ہے۔ فرمایا خاتم النبیین را خدا می شناسد۔ خاتم النبیین کو خدا ہی جانتا ہے۔ اور یہ واقعی بات ہے کہ خاتم النبیین کو اللہ ہی جانتا ہے ہم لوگ نہیں جان سکتے۔ لیکن بس یہ عقیدہ ہے کہ اللہ نے جو ان کے بارے میں فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے جو ان کے بارے میں فرمایا ہے ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ بھئی اپنی طرف سے ہم کیوں مطلب وہ کر لیں۔ اس میں جب ہم جانتے نہیں تو پھر کیسے کریں بات۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی شان جو بیان فرمائی ہے قرآن میں سبحان اللہ۔ پھر صحابہ کرام نے جو بیان فرمایا ہے وہ کافی ہے۔ تو اس سے انسان محتاط مطلب ہو جاتا ہے اور اتنی بات ہو جاتی ہے جو کہ مفید ہے۔ اللہ اکبر۔

ترجمہ: حکم اللہ کے سوا کسی کا نہیں چلتا۔حکم اللہ کے سوا کسی کا نہیں چلتا۔ وہ حق بات بیان کر دیتا ہے، اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔“ ﴿57﴾ کہو کہ: ”جس چیز کی تم جلدی مچا رہے ہو، اگر وہ میرے پاس ہوتی تو میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ ہو چکا ہوتا۔ اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔“ ﴿58﴾ اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں

دیکھیں نا ساری باتیں جو علم غیب مانتے ہیں بعض لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تو یہ دیکھیے اللہ پاک خود کہلوا رہا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ اسی، اسی کے پاس، اسی کے پاس، اس کے پاس نہیں ہے۔ جیسے ہم کہتے ہیں نا إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ۔ تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔ تو فرمایا

ترجمہ: اور اسی کے پاس غیب کی چابیاں ہیں جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہلوایا جا رہا ہے۔

ترجمہ: اور خشکی اور سمندر میں جو کچھ ہے وہ اس سے واقف ہے۔ کسی درخت کا کوئی پتہ نہیں گرتا جس کا اسے علم نہ ہو، اور زمین کی اندھیریوں میں کوئی دانہ یا کوئی خشک یا تر چیز ایسی نہیں ہے جو ایک کھلی کتاب میں درج نہ ہو ﴿59﴾ اور وہی ہے جو رات کے وقت (نیند میں) تمہاری روح (ایک حد تک) قبض کر لیتا ہے، اور دن بھر میں تم نے جو کچھ کیا ہوتا ہے، اسے خوب جانتا ہے، پھر اس (نئے دن) میں تمہیں نئی زندگی دیتا ہے، تاکہ (تمہاری عمر کی) مقررہ مدت پوری ہو جائے۔

یہ جتنی سانسیں کوئی لے کے آیا ہوتا ہے نا اتنی سانسیں وہ پوری کرے گا۔ اتنی سانسیں وہ پوری کرے گا۔

ترجمہ: پھر اسی کے پاس تم کو لوٹ کر جانا ہے۔ اُس وقت وہ تمہیں بتائے گا کہ تم کیا کیا کرتے تھے ﴿60﴾ وہی اپنے بندوں پر مکمل اقتدار رکھتا ہے، اور تمہارے لئے نگہبان (فرشتے) بھیجتا ہے،

حاشیہ: نگہبان فرشتوں سے مراد وہ فرشتے بھی ہو سکتے ہیں جو انسان کے اعمال لکھتے ہیں، اور وہ بھی جو ہر انسان کی جسمانی حفاظت پر مقرر ہیں، اور جن کا ذکر سورۃ رعد (11:13) میں آیا ہے۔

ایک ہوتا ہے تشریعی نظام، ایک ہوتا ہے تکوینی نظام۔ تشریعی نظام جو ہوتا ہے وہ صرف مکلف مخلوقات کے لیے ہوتا ہے یعنی انسان اور جنات کے لیے کہ کیا کرنا چاہیے کیا نہیں کرنا چاہیے۔ یہ تشریعی نظام ہے اس کے لیے انبیاء کرام تشریف لاتے ہیں۔ اور ایک ہوتا ہے تکوینی نظام۔ جو اللہ پاک یعنی جس طرح چاہتا ہے اس طرح وہ کرتا ہے سارے نظام مطلب اس کے وہ جیسے ہوائیں چلانا بارش برسانا زمین میں فصل اگانا۔ اس طریقے سے گرمی لانا سردی لانا۔ ہاں اور یہ بھی فرماتے ہیں کہ ہر انسان کے ساتھ نگہبان فرشتے موجود ہوتے ہیں حفاظت کے لیے۔ اگر یہ حفاظت کے فرشتے کچھ لمحے کے لیے بھی ہٹ جائیں تو یہ جنات وغیرہ ان کو چیر پھاڑ دیں۔ ان کی بڑی طاقت ہوتی ہے۔ ہاں اللہ جل شانہ حکیم ہیں۔ تو اگر کوئی شخص کچھ ایسی غلطیاں کر لیتا ہے جس سے یہ حفاظت اتر جائے یا اللہ پاک کی حکمت مقتضی ہو جائے کہ اللہ پاک اس کی حفاظت کو اتار دے پھر اس کے بعد وہ اتار دیتے ہیں تو پھر یہ لوگ جو حملہ کرنا چاہتے ہیں کر لیتے ہیں اور وہ مؤثر بھی ہو جاتا ہے۔ اس وجہ سے اگر اللہ نہیں چاہتا کسی کو نقصان دلوانا ان سے تو یہ نہیں دے سکتے نقصان۔ ابھی ہم المنزل الجدید جو ہم پڑھتے ہیں۔ تو یہ اسی چیز کے لیے تو ہے نا کہ مطلب اللہ تعالیٰ کے فضل کو اور رحمت کو گویا کہ دعوت دے کہ وہ جو نظام ہے وہ قائم رہے۔ اور مطلب یہ کہ ان کا ہمارے اوپر کوئی مطلب وہ نہ ہو۔ کوئی شر اگر ہماری طرف کوئی لا رہا ہو تو اس سے بچت ہو جائے۔ تو اگر کسی کو ان چیزوں پر اعتماد اور ایمان ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ان کے اوپر اس کے پورے اثرات ہوتے ہیں۔

وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔


حصہ دوم: تشریحی نوٹس

علم کی حد وہی ہے جو اللہ پاک نے بتائی

ہم دین کے بارے میں صرف اتنا ہی جان سکتے ہیں جتنا اللہ پاک نے قرآن مجید میں نازل فرمایا اور اپنے حبیب ﷺ کے واسطے سے ہم تک پہنچایا۔ آپ ﷺ نے بھی کبھی خود سے کوئی بات نہیں فرمائی، اگر کسی معاملے میں وحی نہیں آتی تھی تو آپ ﷺ خاموش رہتے تھے یہاں تک کہ اللہ کی طرف سے حکم آ جائے۔ کلمہ شہادت میں بھی "عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ" کے الفاظ سے پہلے آپ ﷺ کی بندگی اور پھر رسالت کا اقرار کروایا گیا ہے۔ لہٰذا ہمیں بھی دین میں اپنی طرف سے باتیں بنانے کے بجائے صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات کی پیروی کرنی چاہیے۔

یہود کی تفریط اور نصاریٰ کا افراط

یہود نے یہ کیا کہ انبیائے کرام کے مقام کو نہیں پہچانا اور انہیں اپنے جیسے عام انسانوں جیسا سمجھ کر گستاخی کی اور سخت نقصان اٹھایا — یعنی وہ تفریط میں مبتلا ہو گئے۔ اور اس کے مقابلے میں نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدائی (الٰہی) صفات میں شریک سمجھ لیا اور افراط کا شکار ہو کر گمراہ ہوگئے۔

اس امت کو ان دونوں گمراہیوں سے بچانے کے لیے قرآن نے بالکل صاف احکامات دیے ہیں کہ نہ تو انبیاء کے مقام کو کم سمجھو اور نہ ہی انہیں اللہ کی صفات میں شریک کرو۔

مدح میں احتیاط اور اعتدال

لیکن قرآنِ پاک نے بالکل صاف حکم دیا ہے کہ نہ تو انبیائے کرام کے مقام کو کم سمجھو اور نہ انہیں الٰہی صفات میں شریک جانو۔ وجہ یہ ہے کہ خالق اور مخلوق میں فرق ہے۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں انتہائی احتیاط اور اعتدال کی ضرورت ہے۔

حضرت مولانا اشرف سلیمانی رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان ہے کہ

"نعت کہنا بہت مشکل کام ہے، کیونکہ اگر ذرا سا بھی مقام بڑھاؤ گے تو الٰہی صفات میں شریک کر لو گے جو کہ تباہی ہے، اور اگر مقام کم کرو گے تو وہ بھی تباہی ہے۔"

اور فرمایا:

"ولی کو ولی پہچانتا ہے، نبی کو نبی جانتا ہے، اور خاتم النبیین ﷺ کو صرف خدا جانتا ہے۔

عقیدے کی بنیاد: قرآن اور صحابہ کرام کے بیانات

چونکہ ہم آپ ﷺ کا اصل مقام جان ہی نہیں سکتے، اس لیے عقیدے کی بنیاد وہی ہونی چاہیے جو اللہ نے قرآن میں بتائی اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بیان کی۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام کو اپنے ساتھ شامل فرمایا ہے: ”مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي“۔ گویا ہر چیز کو اپنی اپنی جگہ پر رکھنا چاہیے۔

تکوینی و تشریعی نظام اور ہماری ذمہ داری

اللہ تعالیٰ نے کائنات چلانے کے لیے دو نظام بنائے ہیں: تشریعی نظام: یہ نظام انسانوں اور جنات کے لیے ہے، جس میں شریعت کے احکامات دیے گئے ہیں کہ کیا کرنا ہے اور کن چیزوں سے بچنا ہے۔ اس نظام کو سمجھانے کے لیے انبیاء کرام تشریف لائے۔ ہمارا کام یہ ہے کہ ہم اس شریعت پر من و عن عمل کریں۔

تکوینی نظام: یہ کائنات کا وہ نظام ہے جسے اللہ تعالیٰ خود اپنی حکمت سے چلاتا ہے (جیسے ہوائیں چلانا، بارش برسانا، اور فرشتوں کے ذریعے انسانوں کی حفاظت کرنا وغیرہ)۔

بعض اوقات جب انسان غلطیاں کرتا ہے تو تکوینی طور پر اس کی حفاظت کا پہرہ ہٹ جاتا ہے اور شیاطین یا جنات اثر انداز ہو جاتے ہیں۔ ان سے بچنے کے لیے دعاؤں (جیسے منزل وغیرہ) کا اہتمام کرنا چاہیے تاکہ اللہ کی رحمت اور فضل متوجہ رہے۔

کائنات کا تکوینی اور تشریعی نظام اللہ ہی کے تابع ہے۔ ہمارا کام یہ ہے کہ ہم اللہ پاک کی بھیجی ہوئی شریعت کے حکموں پر من و عن عمل کریں۔ اور تکوینی علوم ہر ایک کے لیے نہیں ہیں؛ اگر اللہ پاک کسی کے ذمے کوئی کام لگا دیں، تو اسے بھی صرف اتنا ہی علم دیا جاتا ہے۔

اپنے کام سے کام

حضرت نے اپنا واقعہ سنایا کہ میں جب اٹامک انرجی میں تھا تو وہاں کئی ڈیپارٹمنٹ تھے۔ بس ہم اپنے کام سے کام رکھتے تھے؛ کوئی اور کیا کر رہا ہے، ہمیں اس سے غرض نہیں ہوتی تھی، جو ہمارے ذمے تھا ہم وہ کرتے تھے۔ جس طرح "اٹامک انرجی کمیشن" جیسے حساس ادارے میں ہر شخص صرف اپنے ڈپارٹمنٹ اور اپنے ذمے لگائے گئے کام پر توجہ دیتا ہے اور دوسروں کے کاموں میں مداخلت یا تجسس نہیں کرتا، بالکل اسی طرح شریعت اور تصوف کا بھی یہی تقاضا ہے۔

انسان کو صرف اپنی اصلاح اور اعمال پر توجہ دینی چاہیے۔ غیر ضروری تجسس میں پڑنا چاہیے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ جیسے بعض لوگوں کو اعتکاف کے دوران کافی تجسس ہوتا تھا اور وہ اس بات کی سن گن لے رہے ہوتے تھے کہ اس بار دیکھیں کون خلیفہ بنے گا۔ اس طرح اور بھی بہت سی مثالیں ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

مقامِ مصطفیٰ ﷺ اور عقیدے میں افراط و تفریط - درسِ قرآن - دوسرا دور