اللہ کا محبوب ترین عمل: نیک اعمال میں مداومت اور استقامت
بَابٌ فِي الْمُحَافَظَةِ عَلَى الْأَعْمَالِ، درس نمبر: 223، اشاعتِ اول: 4 مارچ، 2023 بمطابق 11 شعبان، 1444 ہجری
- اللہ تعالیٰ کو وہ تھوڑا عمل زیادہ پسند ہے جس پر موت تک مداومت ہو، بہ نسبت اس زیادہ عمل کے جسے جلد چھوڑ دیا جائے۔
- علمائے عارفین کے نزدیک دین پر استقامت اختیار کرنا ہزار کرامتوں سے بڑھ کر ہے۔
- عبادات کے علاوہ دنیاوی معاملات، جیسے exercise، میں بھی عارضی کی بجائے ہمیشہ کیا جانے والا کام ہی فائدہ مند ہوتا ہے۔
- قرآن مجید میں ان لوگوں کی فضیلت بیان کی گئی ہے جو اللہ کو اپنا رب ماننے کے بعد استقامت اختیار کرتے ہیں۔
- نیک اعمال پر استقامت ایک بہت بڑی نعمت ہے جس کے حصول کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہیے۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
اللہ کو محبوب ترین عمل ہمیشگی والا ہے
وَ أَمَّا الْأَحَادِيثُ فَمِنْهَا حَدِيثُ عَائِشَةَ "وَكَانَ أَحَبُّ الدِّينِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ صَاحِبُهُ عَلَيْهِ" وَقَدْ سَبَقَ فِي الْبَابِ قَبْلَهُ
ترجمہ: ”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پسند فرماتے تھے وہ کام جس پر مداومت ہو۔“
تشریح: اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ آدمی جب بھی کسی نیک کام کو شروع کرے تو موت تک اس کو کرتے رہنا چاہئے، درمیان میں چھوڑے نہیں اگرچہ عمل مقدار میں تھوڑا ہی سا کیوں نہ ہومگر وہ ہمیشگی کی صفت کے ساتھ مزین ہو تو وہ بہت زیادہ عمل سے زیادہ اللہ کو پسندیدہ ہے کہ چند دن کرنے کے بعد چھوڑ دیا جائے۔ اسی وجہ سے علماء عارفین کا مقولہ ہے "اَلْاِسْتِقَامَةُ فَوْقَ الْكَرَامَةِ" ”استقامت ہزار کرامتوں سے بڑھ کر ہے۔“
یہ اصل میں دیکھیں جیسے exercise ہے۔ کوئی بہت سارا exercise یعنی کر لے ایک دن اور پھر اس کے بعد نہ کرے۔ یا ہفتے کے لیے کر لے، پھر نہ کرے تو اس کا کیا فائدہ؟ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ تھوڑا تھوڑا اگر کرتا ہے لیکن اس کو ہمیشہ کے لیے کرتا ہے تو اس کا اس کو فائدہ ملتا ہے۔ تو یہ ہے کہ دوام والی بات ہے۔ اس طریقے سے زندگی کی ہر چیز کو لے لیں، اگر دوام کے ساتھ کوئی کرے تو اس کا فائدہ ہوتا ہے۔ ورنہ پھر یہ ہوتا ہے کہ کبھی کرے کبھی نہ کرے، اس طرح پھر یہ کہ مطلب وہ چیز نہیں ہوتی۔ تو ہمیں نیک اعمال بھی دوام کے طور پر کرنے چاہئیں، بلکہ اللہ پاک نے فرمایا: "اِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا"، بے شک وہ لوگ جنہوں نے کہا رب ہمارا اللہ ہے اور پھر اس پہ قائم رہے، استقامت اختیار کی۔ تو استقامت بہت بڑی نعمت ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی نصیب فرمائے۔