مقصدِ بندگی اور اتباعِ سنت: ربیع الاول کے آئینے میں ایک جامع رہنمائی

خواتین کے لیے اصلاحی بیان

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا عملی اظہار صحابہ کرام کی طرح آپ کی سنتوں کی مکمل پیروی میں ہے۔
  2. درود شریف اور سنتوں پر عمل صرف ربیع الاول تک محدود رکھنے کے بجائے اسے زندگی بھر کا معمول بنانا ضروری ہے۔
  3. نماز کی درستگی کے لیے اس کی شرائط اور ارکان، خصوصاً نیت اور قرأت کے مخارج کا صحیح ہونا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
  4. نماز میں قومہ اور جلسہ واجب ہیں جن کی غلطی سے عدم ادائیگی پر سجدہ سہو لازم آتا ہے۔
  5. دعا عبادت کا مغز ہے جسے محض رٹے ہوئے الفاظ کے بجائے دل کی پوری توجہ اور حضوری کے ساتھ مانگنا چاہیے۔
  6. عورتوں کی نماز میں حیا اور پردے کا زیادہ لحاظ رکھا گیا ہے جس کے لیے صحابیات کا طریقہ بہترین نمونہ ہے۔
  7. عبادات اور مسائل میں خود ساختہ آراء کے بجائے کسی مستند امام کی تقلید کرنا انتشار سے بچنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔
  8. زندگی کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی بندگی ہے جبکہ کھانا، پینا اور سونا جیسی ضروریات صحت برقرار رکھنے کا ذریعہ ہیں۔
  9. زیر کفالت افراد کی ضروریات پوری کرنے کے لیے حلال طریقے سے روزی کمانا اللہ تعالیٰ کے ہاں انتہائی پسندیدہ عمل ہے۔
  10. دنیاوی مصروفیات اور ضروریاتِ زندگی کے حصول میں اس قدر مگن ہونا کہ نماز قضا ہو جائے، قطعی طور پر ناجائز ہے۔
  11. بندگی اور عبادات میں اپنی مرضی کے بجائے صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ طریقوں کی پابندی لازم ہے۔
  12. مشائخ کی رہنمائی میں پابندی کے ساتھ ذکر کرنے سے نفس پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے اور دل میں اللہ کی محبت پروان چڑھتی ہے۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ اَمَّا بَعْدُ۔ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ۔ وَقَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ۔ وَقَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُوْمِنِيْنَ كِتَابًا مَّوْقُوْتًا۔ وَقَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ۔

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ۔

معزز خواتین و حضرات! ربیع الاول کا مہینہ تقریباً اختتام پذیر ہے۔ اور اس کی جو تکوینی مناسبت ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وہ بھی بالکل واضح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری اس دنیا میں ربیع الاول میں پیر کے دن ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ربیع الاول میں پیر کے دن رحلت فرما گئے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت بھی پیر کے دن ربیع الاول میں شروع کی اور پورا اختتام تک بھی ربیع الاول کے پیر کے دن ہوئی۔ اب یہ تین بڑے تکوینی واقعات ہیں جو سب کے سب ربیع الاول میں ہوئے ہیں اور پیر کے دن ہوئے ہیں۔ اس وجہ سے پیر کے دن کو ایک عزت ملی ہے، ہماری زبان میں پیر اس کو کہتے ہیں یعنی باقی دنوں کا پیر۔ اور ہماری پشتو میں اس کو گل کہتے ہیں یعنی پھول۔ اور ربیع الاول کا مہینہ، سبحان اللہ، یعنی بہت مبارک مہینہ ہے کہ جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری ہوئی ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے محبت موجزن ہونا دل میں، یہ تو فطری بات ہے۔ کیونکہ جیسے مدینہ منورہ کوئی جائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ان کی محبت دل میں موجزن ہونا جیسے فطری بات ہے، اس طرح ربیع الاول کے مہینے میں بھی ایسا ہی ہے کیونکہ وہ مکانی نسبت ہے اور یہ زمانی نسبت ہے۔ لیکن اس محبت کا اظہار کیسے کیا جائے؟ اور اس میں کیا کیا جائے؟ یہ البتہ سوالیہ نشان ہے۔

تو صرف یہ نہیں، سارے کاموں میں ہم مکلف ہیں صحابہ کرام کی پیروی کے۔ مَا اَنَا عَلَيْهِ وَاَصْحَابِيْ۔ دین جو لائے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم۔ تو اس کے اولین مخاطب صحابہ کرام تھے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت یافتہ جماعت صحابہ کرام کی تھی۔ انہوں نے اس پر عمل کر لیا۔ اور سبحان اللہ، اب باقی لوگوں کو یہ حکم ہے کہ وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی صحابہ کرام کی طرح کریں۔ لہٰذا ربیع الاول کا مہینہ آیا تھا کئی بار صحابہ کرام کے دور میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں، خلفائے راشدین کے دور میں۔ اس وقت جو ہوا تھا اب ہمیں بھی اس کے ساتھ وہی کرنا چاہیے، اپنے طور سے نہیں۔ کیونکہ کوئی بھی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے ہم کو زیادہ محبت ہے۔ یعنی مطلب یہ ہے کہ صحابہ کو جتنی محبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھی اس سے زیادہ ہم کو ہے، یہ تو کوئی بھی نہیں کہہ سکتا، جرأت ہی نہیں کر سکتا۔ تو جب ایسی بات ہے تو پھر انہوں نے اس محبت کا اظہار کیسے کیا؟ انہوں نے اس محبت کا اظہار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں کیا۔

سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کسی اجنبی جگہ پہ تھے، عجمی۔ کھانے کا وقت تھا، کھانا کھا رہے تھے، لقمہ گر گیا، سنت ہے کہ اس کو اٹھا کر صاف کر کے کھا لیا جائے۔ اس طرح کرنا چاہتے تھے تو کسی نے کان میں کہا کہ حضرت یہ عجمی لوگ اس کو برا مانتے ہیں۔ تو حضرت نے لہرا کے اس کو صاف کر کے منہ میں ڈال لیا کہ ان بے وقوفوں کے لیے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو چھوڑوں گا۔ یہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا اظہار۔

حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے ماموں ابن ابی ہالہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کرتے ہیں، حضرت آپ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے، ہم تو چھوٹے تھے۔ ذرا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ بیان کریں کہ میں اس کو اپنے دل پہ نقش کروں۔ انہوں نے بڑی تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا، انہی کو شمائل کہتے ہیں۔

اس طرح عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سبحان اللہ، ایک ایک چیز۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر اگر کوئی آگے پیچھے کرتے ہیں تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوراً پوچھتے کیا ساری اچھائیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جمع نہیں ہوئی تھیں تم جو درمیان سے کوئی اور چیز بھی شامل کرتے ہو؟ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو فقیہ ہیں صحابہ میں اور صحابہ ان سے مسئلے پوچھتے تھے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین۔ وہ فرماتے ہیں: کہ امام مقتدیوں کی طرف نماز کے بعد دائیں طرف سے پھر کر بھی مطلب اپنا رخ تبدیل کر سکتا ہے اور بائیں طرف سے بھی۔ فرمایا جس نے اپنے لیے دائیں طرف کا پھرنا لازم کر لیا اس نے اپنی نماز میں شیطان کا حصہ بنا دیا۔ کیونکہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بائیں طرف پھرتے بھی دیکھا ہے۔ تو پتا چلا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں صحابہ کرام نے اپنی محبت کا اظہار کیا۔

تو اس لحاظ سے ربیع الاول کا پیغام جو ہمارے لیے ہے وہ تو یہی ہے کہ اتنی بڑی روشنی اس کائنات میں وجود میں آئی۔ اب اس روشنی سے اپنی اپنی محفلوں کو، اپنے اپنے کاموں کو، اپنے اپنے تعلقات کو منور کرنا چاہیے۔ اور اس کو بھولنا نہیں چاہیے۔ درود شریف پڑھتے ہیں اس میں، الحمدللہ ہم بھی پڑھتے ہیں۔ لیکن صرف ربیع الاول میں نہیں؛ کیونکہ درود شریف کا جو حکم ہے وہ عام ہے۔

اِنَّ اللّٰهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ يَا اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا۔

اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَعَلٰى اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰى اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ۔ اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَعَلٰى اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰى اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰى اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ۔

لہٰذا درود پاک بھی پڑھتے رہنا چاہیے۔ سنتوں پر چلتے رہنا چاہیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب کو حاصل کرتے رہنا چاہیے۔ یہ صرف ربیع الاول کے ساتھ خاص نہیں۔ ہاں، اگر کسی کو ربیع الاول میں شروع کرنے کا موقع مل گیا، شکر کرے اور اس کو چلائے۔ باقی مہینوں میں بھی چلائے۔ یہ ہے پیغام۔ کیونکہ ہم ہر چیز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر چلنے کے مکلف ہیں۔ ہر چیز میں۔

اور درود شریف، یہ تو اللہ چاہتے ہیں۔ اور جب اللہ چاہتے ہیں تو اس پر اللہ پاک نوازتے بھی ہیں۔ ایک دفعہ درود شریف پڑھو تو دس رحمتیں آپ کے اوپر نازل ہو جائیں۔ ہمارے شیخ مولانا محمد اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ، انہوں نے ایک دفعہ فرمایا اچانک کہ میں تمہیں اللہ کی رحمت کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا طریقہ سکھاؤں؟ سب نے کہا، جی بالکل۔ حضرت نے درود شریف پڑھ لیا، فرمایا اللہ کی رحمت ہماری طرف متوجہ ہو گئی اور میں اس پر قسم کھا سکتا ہوں۔ میں اس پر قسم کھا سکتا ہوں۔ تو یہ بات ہے کہ یہی ہمارے پاس بڑے وسائل ہیں، بڑے ذرائع ہیں۔

دیکھو نا، کوئی شخص جاتا ہے مدینہ منورہ، کیا آپ کا دل نہیں چاہے گا کہ آپ کا سلام پہنچا دے؟ چاہے گا نا۔ تو اللہ پاک نے اس کے لیے زبردست hotline کا بندوبست کیا ہے۔ فرشتے مقرر کیے ہوئے ہیں، پھرتے رہتے ہیں۔ درود شریف جہاں پڑھا جا رہا ہو، اس درود شریف کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوتے ہیں اور پڑھنے والے کے نام اور ان کے والد کے نام کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ کہ یہ انہوں نے بھیجا ہے۔ اس طرح ایک بہت بڑا فرشتہ ہے۔ جس کو طاقت دی گئی ہے کہ وہ سارے لوگوں کی بات سنتا ہے۔ تو وہ بھی سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہ پیش کر لیتے ہیں۔ تو ایک ذریعہ نہیں ہوا، کیا ہو گیا؟ دو ذریعے ہو گئے۔ اس کے علاوہ بھی ذریعے ہو سکتے ہیں۔ مثلاً کوئی شخص جا رہا ہے تو اس کو بھی آپ کہہ سکتے ہیں، وہ اس پر بھی پابندی نہیں ہے۔ وہ ذریعہ بھی ہو سکتا ہے۔

تو مقصد یہ ہے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت میں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصولوں کی پیروی کریں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں کی پیروی کر لیں، اور یہ روشنی پورے عالم کے اندر پھیلائیں۔ یہ مطلب یہ ہے کہ ہم اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چاہنے والے ہیں تو پھر اس چاہت کا اظہار ہونا چاہیے۔ جو چیز جس کو پسند ہے وہ دوسرے کو بھی بتاتا ہے کہ یہ تو ایسا ہے۔ تو آپ کو اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب پسند ہے تو دوسروں کے لیے بھی پسند فرما دیں، ان تک بھی بات پہنچائیں۔

نماز، یہ بہت عظیم رکن ہے اسلام کا۔ اَلصَّلَاةُ عِمَادُ الدِّيْنِ۔ نماز دین کا ستون ہے۔ اس وجہ سے اس ستون کو مضبوط رکھنا چاہیے، سیدھا رکھنا چاہیے۔ اس میں کوئی ٹیڑھ نہیں آنی چاہیے۔ تو ایک تو اس کے مسائل سیکھنے چاہئیں۔ تو ظاہر ہے فرائض میں ارکان بھی ہیں، شرائط بھی ہیں۔ تو ان کو پورا کرنا، شرائط کو پورا کرنا چاہیے، ارکان صحیح ادا کرنے چاہئیں۔ بغیر شرط کے کوئی چیز قائم نہیں ہوتی جو مشروط ہوتی ہے۔ تو چونکہ نماز کے لیے بھی شرائط ہیں، مثلاً جگہ کا پاک ہونا، وقت کا داخل ہونا، اور ظاہر ہے نیت کا ہونا۔ ویسے اگر آپ کھڑے ہو کر سارے ارکان اس کے کر لیں لیکن آپ کی نیت نماز کی نہ ہو، تو نماز نہیں ہو گی۔ یا اس میں جو قرأت کر رہے ہیں آپ، اس میں آپ کے ہونٹ نہ ہلیں، کیونکہ الفاظ کی ادائیگی کے ساتھ زبان اور ہونٹوں کا تعلق ہے، مخارج ہیں چونکہ۔ اگر اس طرح آپ نے قرأت نہیں کی تو آپ کی قرأت ادا نہیں ہوئی، جب قرأت ادا نہیں ہوئی تو قرأت چونکہ فرض ہے، تو آپ کی نماز نہیں ہوئی۔

اس طرح رکوع ہے، سجدہ ہے، قعدہ ہے آخری۔ ان سب کو صحیح طریقے سے اطمینان کے ساتھ ادا کرنا چاہیے۔ اس میں قومہ اور جلسہ، اس میں لوگ بڑی گڑبڑ کر لیتے ہیں۔ بہت گڑبڑ کر لیتے ہیں اور اپنی نمازوں کو ضائع کر دیتے ہیں۔ قومہ کا مطلب یہ ہے کہ رکوع سے پورا کھڑا ہو جائے، جب کپڑے اپنی جگہ پہ آ جائیں جیسے کھڑے ہونے کے ہوتے ہیں حالت میں، تو پھر اس کے بعد سجدے میں جائے۔ اگر ابھی پوری طرح سیدھے نہیں ہوئے، درمیان سے چلے گئے، قومہ نہیں ہوا صحیح، واجب پورا نہیں ہوا۔ اس طرح جلسہ کی بات ہے۔ یعنی آپ ایک سجدے سے سر اٹھاتے ہیں تو پورا بیٹھ جائیں، پھر آپ دوسرے سجدے میں جائیں۔ اگر ایسا نہیں کیا، جلسہ پورا نہیں ہوا، واجب ادا نہیں ہوا۔ اور جب واجب ادا نہیں ہوتا تو پھر کیا کرنا ہوتا ہے؟ اگر غلطی سے ہو جائے قصداً تو نہیں۔ غلطی سے ہو جائے تو سجدہ سہو ہوتا ہے۔ اور سجدہ سہو نہیں کیا تو پھر؟ سلام پھیر لیا تو پھر کر سکتے ہو دوبارہ؟ چانس مس ہو گیا۔ دوبارہ پڑھنی پڑے گی۔ تو بہرحال یہ ہے کہ اتنے سارے لوگوں کی نمازیں ضائع ہو رہی ہیں لیکن خیال ہی نہیں ہے۔ تصور کر لیں مردوں کے لیے تو یہ ہے کہ جماعت میں نماز ہو رہی ہو مسجد میں، تو تھوڑے سے ایک کونے میں کھڑے ہو کر ذرا مشاہدہ کر لیں کہ لوگ کیسے نماز پڑھ رہے ہیں۔ کتنے لوگ ہیں جو کہ قومہ صحیح کرتے ہیں اور جلسہ صحیح کرتے ہیں اور کتنے لوگ ہیں جو نہیں کرتے۔

یا دعا کے بارے میں، دعا کے ساتھ کتنا بڑا مذاق ہوتا ہے۔ یعنی دعائیں آموختہ ہوتی ہیں، یاد کی ہوتی ہیں، رٹا لگایا ہوتا ہے، اس کے ساتھ دل کا کوئی connection نہیں ہوتا۔ کوئی connection نہیں ہوتا۔ کیونکہ دل کے connection ہونے کی علامت ہوتی ہے۔ علامات نہیں پائی جاتیں۔ اور اس طرح بس۔ اس طرح کر کے دعا کر لیتے ہیں۔ حالانکہ دعا بڑا جز ہے۔ اَلدُّعَاءُ مُخُّ الْعِبَادَةِ، اَلدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ۔ اتنا بڑا مقام ضائع کرتے ہیں۔ تو اپنی نمازوں کو درست کرنا چاہیے۔

ایک چھوٹی سی کتاب ہے۔ حضرت مولانا تقی عثمانی صاحب کی۔ نماز سنت کے مطابق پڑھیے۔ پچیس چھبیس صفحات کی ہوگی کتنی۔ پچیس چھبیس صفحات کی کتاب ہوگی۔ میرے خیال میں گھنٹے میں پڑھی جا سکتی ہے۔ آسانی کے ساتھ۔ اب وہ کتاب جو ہے اگر آپ لیں اور انٹرنیٹ پر بھی available ہے۔ اور اس کو پڑھ لیں۔ تو آپ کی بہت ساری غلطیاں درست ہو جائیں گی۔

بعض لوگ سجدے میں جاتے ہیں تو ان کے دونوں پیر اٹھ جاتے ہیں۔ اور جب تک سجدے میں ہوتے ہیں تو اس وقت تک پیر اٹھے ہوتے ہیں۔ تو پورے سجدے کے دوران اگر کسی کے پیر ایک دفعہ بھی نہیں لگے۔ تو اس کا سجدہ نہیں ہوا۔ اس کا سجدہ نہیں ہوا۔ پھر نماز ہو جائے گی؟ یہ حضرت مولانا تقی عثمانی صاحب نے لکھا ہے اس میں۔ اسی کتاب میں لکھا ہے۔ تو مطلب یہ ہے کہ بہت ساری غلطیاں ہماری ایسی ہیں جن کو درست کرنے کا کوئی مشکل نہیں ہے۔ صرف جاننے کی بات ہے بس۔ جاننے کی اور ماننے کی۔ تو بس ٹھیک ہو جائے گا اس میں کوئی زیادہ مشقت بھی نہیں ہے مثال کے طور پر: اگر آپ پیروں کی انگلیاں زمین کے اوپر لگا لیں تو اس میں کتنی مشقت ہے؟ مشقت تو کوئی نہیں، سوائے غفلت کے اور کوئی وجہ نہیں ہے اس کی۔ تو غفلت نہیں ہونی چاہیے۔ تو نماز سنت کے مطابق پڑھیے۔ یہ کتاب ان شاء اللہ اگر آپ پڑھ لیں، تو آپ کو اپنی بہت ساری غلطیوں کا پتا چل جائے گا۔

ایک مسئلہ اور بھی ہے۔ چونکہ نماز کی بات آ ہی گئی ہے تو پھر مسئلہ بیان کروں کچھ۔ ہے بھی خواتین کے لیے بیان۔ بہت سارے جاہل آج کل یہ کہہ رہے ہیں لوگوں کو۔ کہ عورتیں بھی مردوں کی طرح نماز پڑھیں۔ عورتیں بھی مردوں کی طرح نماز پڑھیں۔ وہ دلیل دیتے ہیں، اور وہ یہ ہے کہ صَلُّوْا كَمَا رَأَيْتُمُوْنِيْ أُصَلِّيْ۔ نماز پڑھو اس طرح جس طرح مجھے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ تین قسم کی احادیث شریف ہوتی ہیں۔ 1۔ قولی 2۔ فعلی 3۔ تقریری۔ تو قولی احادیث شریف جو ہیں اس میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ بیان فرمایا ہوتا ہے۔ فعلی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کیا ہوتا ہے وہی آتا ہے۔ اور تقریری میں یہ کہ کسی نے کچھ کیا اس کو یا روک دیا یا کرنے دیا۔ وہ بھی حدیث شریف بن جاتی ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات بھی فرمائی کہ جس طرح میں نماز پڑھتا ہوں اس طرح نماز پڑھو۔ لیکن خواتین کو کیا فرمایا؟ وہ بھی تو حدیث شریف ہے نا۔ خواتین کو خواتین والی نماز سکھائی۔ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی طرح نماز پڑھو۔ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کی طرح نماز پڑھو۔ یہ تمہارے لیے وہ نماز ہے۔ کیونکہ أَصْحَابِيْ كَالنُّجُوْمِ بِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ میرے صحابہ ستاروں کے مانند ہیں جس کے پیچھے جاؤ گے تو ہدایت پاؤ گے۔ تو اس میں مرد بھی، صحابہ بھی آ گئے، عورتیں صحابیات بھی آ گئیں۔ تو ہر ایک کے لیے ان کا رہنما موجود ہے۔ مثلاً شہریوں کے لیے جو شہری صحابہ ہیں وہ نمونہ ہیں، دیہاتیوں کے لیے دیہاتی صحابہ نمونہ ہیں، مردوں کے لیے مرد صحابہ نمونہ ہیں، عورتوں کے لیے عورتیں صحابیات نمونہ ہیں۔ تو اس طریقے سے ہر ایک اپنا اپنا وہ کر سکتا ہے۔

تو مردوں کی نماز اور عورتوں کی نماز میں بڑا فرق وہ یہ ہے کہ عورتوں کی نماز میں زیادہ پردہ، اس کا خیال رکھا گیا ہے۔ یعنی بے پردگی نہیں ہونی چاہیے۔ اس وجہ سے ان کو جو سجدہ ہے۔ وہ بھی چپک کر سجدہ کرنا ہوتا ہے زمین کے ساتھ۔ اور اس طرح بیٹھنا جو ان کا ہے وہ بھی دایاں پیر نکال کے۔ مرد بھی آج کل دایاں پیر نکال لیتے ہیں۔ میں نے دیکھا ہے۔ اس میں بڑا مسئلہ کیا ہوتا ہے؟ بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ دایاں پیر جب نکل گیا تو یہ آپ کے جتنا آپ ہیں اس کی رینج سے باہر نکل آیا ہے۔ اب کوئی جائے گا تو اس پر پیر پڑ سکتا ہے۔ وہ باہر ہے نا، اس کو تو خیال یہ ہے جیسے نہیں ہوتا یہ جو ٹریکٹر کی ٹرالی ہوتی ہے، ٹریکٹر چھوٹا ہوتا ہے، ٹرالی ذرا، تو اس کے نیچے آدمی آ سکتا ہے۔ تو اس طریقے سے اگر جو پیر دائیں طرف نکلا ہوا ہے، تو اس کے اوپر پیر آپ کا آ سکتا ہے، اور آیا ہے، میرا کئی بار آیا ہے۔ بیچارے کو تکلیف بھی ہو جاتی ہے۔ کیا کریں؟ تو ہمیں تو خیال ہی نہیں ہوتا اس کا۔ تو مطلب یہ ہے کہ یہ ہو سکتا ہے اور خواتین کے اوپر تو جماعت کی نماز لازم ہی نہیں ہے ان کے لیے مسئلہ نہیں ہے۔ وہ دایاں پیر نکالتی ہیں اس لیے نکالتی ہیں کہ ان کا پردہ اور حیا اس میں زیادہ ہے۔ کھڑا نہیں کرنا پیر۔ کیونکہ پیر کھڑا کرنے سے جسم کا کچھ حصہ نظر آنے لگتا ہے۔ تو عورتوں کی نماز زیادہ حیا کی نماز ہوتی ہے۔ عورتوں کی سب سے بڑی چیز کیا ہے؟ وہ حیا ہے، عصمت ہے۔ تو اس کا اس میں خیال رکھا گیا ہے۔ تو اگر مردوں کی طرح ہی پڑھنی ہے تو مجھے بتاؤ مرد تو ہر وقت نماز پڑھتے ہیں، پانچوں وقت، کیا عورتیں پورے مہینے نماز پڑھتی ہیں؟ پھر کیا کریں گی؟ یہاں پر ہی مسئلہ مختلف ہو جائے گا۔ تو مطلب یہ ہے کہ کن کو دیکھنا چاہیے؟ صحابیات کو دیکھنا چاہیے۔ ان کو صحابیات کی طرح نماز پڑھنی چاہیے۔ یہ بات ہے۔

آج کل یہ جہالت بہت زیادہ ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنے اماموں پر، اپنے بڑوں پر اعتماد نہیں رہا۔ پہلے یہ مسئلے ہی نہیں تھے۔ سب لوگ اپنے اپنے اماموں کے پیچھے جو کام ہوتا تھا، وہ کرتے تھے۔ اب ہر ایک امام بنا ہوا ہے۔ امریکہ میں گیا تھا تو وہاں پر ایک صاحب نماز پڑھا رہے تھے، عرب تھے۔ تو میں بالکل پیچھے کھڑا تھا جیسے تکبیر کہنے والا ہوتا ہے نا، وہ اس طرح میں پیچھے کھڑا تھا۔ وہ بار بار پیچھے دیکھتا ہے۔ پیر کھولو۔ میں نے کہا آپ نماز پڑھائیں۔ اچھا پھر پیچھے دیکھتا ہے، پیر کھولو۔ میں نے کہا آپ نماز پڑھائیں۔ جب دو تین دفعہ کہا میں نے کہا بھئی پہلے نماز پڑھائیں، اگر آپ نے بحث کرنی ہے تو میں فلاں کمرے میں جاؤں گا وہاں بحث کر لیں گے۔ ادھر بحث کی ضرورت نہیں ہے، ادھر نماز پڑھاؤ۔ لوگوں نے بھی اس کو کہا تو اس نے نماز پڑھانا شروع کر دی۔ تو جس کمرے میں تھا وہ ہمارے ایک دوست تھے ڈاکٹر مشتاق صاحب۔ تو ان کے ہاں میں نے جانا تھا تو میں چلا گیا تو یہ بھی پیچھے آ گئے یعنی پورا مسلح کہ خواہ مخواہ اب بحث تو کرنی ہے۔ خیر وہ دلائل دینے، میں بھی اپنے طور پہ بات کرنے لگا تو لمبی ہو گئی بات۔ تو ڈاکٹر مشتاق صاحب نے فیصلہ کر دیا۔ ان سے کہا, four imams are sufficient, I think you should not become the fifth one. کہتے ہیں چار امام کافی ہیں، آپ پانچویں امام نہ بنیں۔ بس پھر سب خاموش ہو گئے۔ تو مطلب یہ ہے کہ خواہ مخواہ لوگوں کو، بھئی ہر امام صحیح ہے۔ میں نے آپ کو غلط کہا ہے؟ جب میں نے آپ کو غلط نہیں کہا تو آپ مجھے غلط کیوں کہتے ہو؟ میں نے آپ کے امام کو کچھ بھی نہیں کہا۔ آپ فاتحہ خلف الامام پڑھتے ہیں، پڑھو۔ آپ کے امام کی بات ہے ضرور، میں نہیں پڑھوں گا کیونکہ میرے امام نے یہ نہیں کہا۔ تحقیقات ہیں، اجتہادات ہیں۔ اس میں بڑی تفصیلات ہیں۔ آپ کس کس کو اب تفصیلات بتائیں گے؟ تو پہلے معاملہ حفاظت کا تھا، سب لوگ اپنے اپنے امام کے پیچھے ہوتے تھے۔ اور کوئی مسئلہ نہیں تھا۔

جرمنی میں ایک دفعہ میں نے اس پہ بات کی تھی بیس منٹ کے لگ بھگ۔ یہ عرب حضرات اس میں تھے یعنی مجلس میں۔ اس میں میں نے دو بیان کیے تھے۔ ایک بیان تصوف پہ کیا تھا اور ایک بیان تقلید پہ کیا تھا۔ تصوف کے بیان کا تو یہ الحمدللہ اثر ہوا کہ سب نے کہا اگر یہ تصوف ہے تو ہم صوفی ہیں۔ میں نے کہا سبحان اللہ ٹھیک ہے الحمدللہ۔ جو تقلید والا بیان میں نے کیا اس پر اس وقت تو کوئی بات نہیں ہوئی۔ لیکن چند دن کے بعد صبح سویرے انٹرکام پہ سگنل آیا۔ میں نے کہا اس وقت کون آ سکتا ہے ملنے کے لیے، فجر کی نماز کا وقت تھا۔ میں نے کہا اس وقت کون آ سکتا ہے؟ خیر میں نے انٹرکام پہ پوچھا کون؟ کہتے ہیں میں سمیرا مودی ہوں۔ میں آپ کے ساتھ نماز پڑھنا چاہتا ہوں۔ سمیرا مودی صدر جلسہ تھے ان کے، عرب۔ تو میں نے کہا جی بالکل تشریف لائیے۔ دروازہ میں نے کھلوا دیا اور تشریف لے آئے وہ اوپر اور نماز ہم نے پڑھ لی۔ نماز پڑھنے کے بعد وہ مجھے کہتے ہیں، شیخ میں آپ کے بیان سے متاثر ہوا تھا۔ اب میں بھی ایک امام معین کے پیچھے ہونا چاہتا ہوں یعنی تقلید کرنا چاہتا ہوں۔ تو کس امام کے پیچھے رہوں مطلب کس کی تقلید کروں؟ لیکن حنفی نہیں بن سکتا کیونکہ ہمارے پاس احناف علماء بھی نہیں ہیں اور احناف کی کتابیں بھی نہیں ہیں۔ میں نے کہا میں نے بیان میں کہا تھا کہ سارے حنفی ہو جاؤ؟ کہتے ہیں نہیں۔ میں نے کہا اب بھی نہیں کہتا۔ اگر آپ مجھ سے مشورے لینا چاہتے ہیں تو مشورہ میں دوں گا کہ آپ شافعی مسلک اختیار کر لیں۔ کیوں کہ آپ کے پاس شوافع کی کتابیں بھی ہیں اور شوافع کے علماء بھی ہیں۔ لہٰذا آپ کے لیے یہ بات بہت اچھی ہے تو اس کے بعد پھر انہوں نے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا مسلک اختیار کر لیا۔ اب کم از کم پوری دنیا میں اگر کسی کو یہ واقعہ معلوم ہے تو مجھے متعصب نہیں کہہ سکتا۔ کیوں کہ میں اپنے امام کی بجائے کسی اور امام کی پیروی کسی کو کروا چکا ہوں۔ کیوں ضرورت اس کو اسی کی تھی۔ کیوں کہ ہمارا امام کے ساتھ تعلق نہیں ہے، ہمارا تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے۔ ہم اللہ کے لیے امام صاحب کی تقلید کر رہے ہیں۔ تو امام صاحب کو خوش کرنے کے لیے نہیں کر رہے ہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لیے کر رہے ہیں۔ تو بس یہ والی بات ہے اگر کسی کو سمجھ آ جائے تو میرے خیال میں بہت آسانی کے ساتھ سارے مرحلے طے کر سکتا ہے آدمی۔

تیسری چیز جو بہت اہم ہے وہ ہے مقصد زندگی اور ضروریات زندگی۔ ہماری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ تو میں نہ تو philosopher ہوں، نہ psychiatrist ہوں، نہ leader ہوں، میں اللہ کا بندہ ہوں۔ تو اللہ نے جو اس کے بارے میں فرمایا ہے، میں وہی بات کر سکتا ہوں۔ اور وہ کیا ہے؟ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ۔ نہیں پیدا کیا میں نے جنات کو اور انسانوں کو مگر اپنی عبادت کے لیے۔ لہٰذا ہم تو اللہ کے بندے ہیں، اللہ کی عبادت کریں گے، اللہ کی بندگی اختیار کریں گے۔ یہی ہماری زندگی کا اصل ہے۔ باقی زندگی گزارنی تو ہے نا بھئی، جب تک ہم زندہ نہیں ہوں گے تو عبادت کیسے کریں گے؟ عبادت تو تب ہے جب زندہ ہوں گے۔ اور صحیح عبادت تب کر سکیں گے جب ہم صحت مند بھی ہوں گے۔ اور ویسے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چونکہ ارشاد فرمایا ہے کہ جو قوی مومن ہے ضعیف مومن سے زیادہ اللہ کو محبوب ہے۔ تو جب یہ والی بات ہے تو پھر یعنی صحت کا خیال بھی رکھنا پڑے گا۔

تو پس جو زندگی کے لیے ضروری ہے، یعنی زندگی قائم رکھنے کے لیے اور صحت کو اچھا رکھنے کے لیے جن جن چیزوں کی ضرورت ہے، وہ ہماری ضروریات ہیں۔ وہ کیا ہے؟ وہ ہماری ضروریات ہیں۔ یہ گویا یوں کہہ سکتے ہیں کہ بامر مجبوری ہے۔ کیوں کہ اس کے بغیر زندگی باقی نہیں رہتی تو عمل نہیں ہو سکتا، اور اس کے بغیر صحت باقی نہیں رہتی تو عمل اچھی طرح نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا یہ دونوں چیزیں لازم ہیں۔ زندگی اور صحت۔ اس چیز کو برقرار رکھنے کے لیے ہماری تمام ضروریات کا سرکل ہے۔ وہ ہم جان سکتے ہیں۔ تجربے سے بھی معلوم ہوتے ہیں۔ یعنی ایک انسان ہے، کھاتا ہے، پیتا ہے، سوتا ہے۔ یہ سونا بھی ضرورت ہے۔ سونا بھی ضرورت ہے۔ تو سوتا ہے، شادی کرتا ہے، یہ بھی ضرورت ہے نسل کو آگے بڑھانے کے لیے۔ شادی کرتا ہے۔ پھر وہ محفوظ رہنا چاہتا ہے کیونکہ محفوظ نہیں رہے گا، اب کسی ground میں سوئے گا تو کیا حالت ہوگی اس کی؟ تو سر چھپانے کے لیے جگہ بھی ہونی چاہیے۔ یہ سب ضروریات ہیں۔ اور اگر آنکھوں نے کام کرنا چھوڑ دیا تو عینک بھی ضرورت بن جاتی ہے نا، پھر عینک بھی لگا لیں۔ مطلب ویسے میں پوچھ رہا ہوں، مطلب بتا رہا ہوں کہ یہ ضروریات بن جاتی ہیں بندے کی۔ اور اگر پیروں نے کام چھوڑ دیا تو پھر بیساکھی، اس کی بھی ضرورت پڑ جائے گی۔ مطلب ہر چیز جس کی آپ کی زندگی میں ضرورت ہے تو پھر وہ حاصل کر لیں، اس پر کوئی آپ پر گرفت نہیں ہے۔ لیکن حاصل کریں ایک حلال طریقے سے۔ حرام طریقے سے نہیں۔ مثلاً کسی سے چوری کر لیا، نہیں۔ کسی سے سوال کر لیا، نہیں۔ پھر کیا کرو گے؟ پھر کمانا چاہیے۔ تو کمانا بھی ایک ضرورت ہو گیا۔ کمانا بھی ایک ضرورت ہو گیا۔ نہ صرف خود استعمال کرنا اس کمائی کو بلکہ اپنے جو آپ کے اوپر dependents ہیں، نان نفقہ جن کا آپ کے اوپر واجب ہے، ان کے لیے بھی۔ اس وجہ سے جو عیال دار ہو، اور نان نفقے کے لیے اس کو محنت کرنی پڑ رہی ہو، تو یہ بھی سبحان اللہ، اللہ پاک کے ہاں پسندیدہ عمل ہے۔ اکثر لوگ تو اس کو دنیا سمجھتے ہیں نا، بھئی دنیا ہے، اس میں کوئی شک نہیں، لیکن پسندیدہ دنیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کسی کے کام آ رہے ہیں۔ ظاہر ان میں بچے بھی ہوتے ہیں، عورتیں ہوتی ہیں۔ تو آپ ان کی خدمت کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ اس پر خوش ہوتے ہیں، اللہ اس پر راضی ہوتے ہیں۔

ابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ علیہ بہت بڑے ولی اللہ گزرے ہیں جنہوں نے بادشاہت چھوڑی تھی۔ تو اس کا اندازہ کر لیں کہ وہ کیسا بزرگ ہوگا۔ تو کسی نے ان کو خواب میں دیکھا فوت ہونے کے بعد، پوچھا حضرت آپ کے ساتھ کیا ہوا؟ فرمایا اللہ نے بہت نوازا، بہت دیا، بہت دیا۔ لیکن میرا پڑوسی مجھ سے آگے چلا گیا۔ میں نے کہا آپ کا پڑوسی کیا کر رہا تھا؟ انہوں نے کہا پڑوسی اصل میں عیال دار تھا، تو اکثر اپنے عیال کے نان نفقہ کے لیے مصروف رہتا تھا، اور مجھے دیکھ دیکھ کر حسرت کرتا تھا کہ افوہ اگر میں عیال دار نہ ہوتا تو میں ابراہیم بن ادہم کی طرح عبادت کرتا۔ بس اس کی اس حسرت نے اس کو یہاں تک پہنچا دیا۔ اس کی اس حسرت نے ان کو یہاں تک پہنچا دیا۔ اب ذرا دیکھیں نا، یہی تو چیز ہے۔ کہ بعض لوگوں کو حسی طور پر ملتا ہے، بعض لوگوں کو نفسیاتی طور پر ملتا ہے۔ بعض لوگوں کو حسرت کے طور پہ ملتا ہے۔ یہ مختلف دائرے ہیں۔ تو اگر کوئی ان چیزوں کو سمجھتا ہو تو ماشاءاللہ جس طریقے سے ان کو اللہ دے رہا ہے تو بس خوشی ہوگی۔ تو اس وجہ سے ضروریاتِ زندگی کو حاصل کرنے میں کوئی قباحت نہیں بشرطیکہ وہ حلال طریقے سے ہوں۔ حرام طریقے سے نہ ہوں، نمبر ایک۔ نمبر دو: اس سے جو اصل مقصد زندگی ہے فوت نہ ہوتا ہو۔ مثلاً: عبادت۔

اب کچھ لوگ تین تین چار چار کام کرتے ہیں، پارٹ ٹائم کرتے ہیں۔ اور اس میں اتنے زیادہ involve ہو جاتے ہیں کہ نمازیں ان کی چلی جاتی ہیں۔ کیونکہ نماز نہیں جانی چاہیے۔ نماز نہیں جانی چاہیے، نماز ہر حالت میں پڑھنی چاہیے۔ مجھے کچھ ڈاکٹر لوگ کہنے لگے اگر آپریشن ہمارا ہو رہا ہو تو کیا ہم نماز چھوڑ سکتے ہیں؟ میں نے کہا کھانا چھوڑ کے دکھاؤ پھر نماز چھوڑو۔ کھانا چھوڑیں گے؟ اس کے لیے ٹائم نکالتے ہو یا نہیں نکالتے ہو؟ arrangement اس طرح کر لو، ہاں accidental کوئی اس قسم کی بات ہو جائے تو پھر اللہ کو پتا ہے وہ پھر اللہ پاک پوچھنے والا ہے۔ اس میں ہم کچھ نہیں کہتے۔ لیکن management جہاں تک کر سکتے ہو تو management ایسا کرو کہ درمیان میں اگر کھانے کے لیے وقت نکال سکتے ہو تو نماز کے لیے بھی وقت نکالو۔ یہ کیا بات ہے؟ یہ اکثر یہ ڈاکٹر حضرات اس قسم کی باتیں پوچھتے ہیں۔

تو خیر بہرحال ایک دفعہ مجھ سے پوچھا ایک میرے ٹیچر نے، reactor analysis کے ٹیچر تھے۔ اب تو فوت ہو گئے، اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔ مجھے کہتے ہیں: شبیر اگر آپ کی reactor پر ڈیوٹی ہو اور نماز کا وقت آ جائے۔ پھر کیا کرو گے؟ میں نے کہا نماز پڑھوں گا۔ کہتے reactor کو چھوڑ دو گے؟ تو میں نے کہا کہ reactor پر صرف میری ڈیوٹی ہو گی، کوئی اور نہیں ہو گا؟ اور اگر میرے پیٹ میں درد ہو گیا پھر کیا کروں گا؟ اس وقت reactor کا کیا ہو گا؟ بھئی اگر ٹرک کے لیے دو ڈرائیور رکھے جاتے ہیں چلانے کے لیے تو reactor کو ایک آدمی پر چھوڑ دو گے؟ اس کے لیے arrangement ہو گا یا نہیں ہو گا؟ میری زبان سے نکلوانا چاہتے تھے کہ reactor پہ رہوں گا۔ تو یہ تو خطرناک فقرہ تھا۔ اگر میں کہتا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟ اس لیے کہتے ہیں آج کل ایمان اس طرح جاتا ہے۔ باتوں باتوں میں جاتا ہے۔ بہت خیال رکھنا چاہیے۔ بہت خیال رکھنا چاہیے مطلب alert رہنا چاہیے۔ کبھی کوئی ایسی بات زبان سے نہیں نکالنی چاہیے جس سے ایمان چلا جائے۔ بھئی ایسی نوکری پہ تو ہم لات مارتے ہیں جس میں نماز چلی جاتی ہو۔ ایسی نوکری کو ہم کیا کریں گے؟ اس کے بغیر ہم مر جائیں گے کیا؟ دنیا میں کہیں اور کوئی چیز نہیں ملے گی؟ تو بس یہی بات ہے۔ اگر ہم دیکھیں تو بس یہی اندازہ لگائیں۔ اَلصَّلَاةُ عِمَادُ الدِّيْنِ۔ نماز کیا ہے، دین کا ستون ہے۔ اور دین کا ستون اگر گر گیا پھر آپ کے پاس کیا رہ گیا؟

تو بہرحال مقصد زندگی اور ضروریاتِ زندگی میں اس میں یہی بات ہے بنیادی کہ مقصد تو ہمارا بندگی ہے، اللہ تعالیٰ کی بندگی ہے۔ ہاں اس کے جو بندگی کے طریقے ہیں وہ ہماری اپنی مرضی سے نہیں ہیں وہ بھی اللہ پاک نے مقرر کیے ہیں۔ پیغمبروں کے ذریعے سے ہم تک باتیں پہنچی ہیں۔ تو اس میں سب سے پہلے کیا ہے وہ نماز ہے۔ یعنی اپنی جو ہم نماز ہے نا نماز۔ اس کو وہ کریں کیونکہ ظاہر ہے یہ بندگی کا پہلا طریقہ ہے۔ اور پھر یہ ہے کہ روزہ، زکوٰۃ، حج، جتنی بھی عبادات ہیں سب بندگی کے ذرائع ہیں۔ مطلب ٹھیک ہے اس میں ہم لوگ یہی بات دیکھیں گے اس کو صحیح کریں۔ بہت ساری چیزوں میں۔۔۔ اب دیکھیں نا وہ روزہ ہے۔ جس وقت آپ کا روزہ آپ نے رکھ لیا -سبحان اللہ- آپ کا روزہ ہے۔ لیکن جیسے ہی وقت پورا ہو گیا افطار کا وقت ہو گیا کیا اس میں اب تاخیر کی جا سکتی ہے؟ بھئی بظاہر تو لگتا ہے کہ اگر آپ تاخیر کر لیں تو آپ کا روزہ زیادہ مضبوط ہونا چاہیے۔ نہیں۔ بندگی پھر نہیں ہو گی۔ آپ کا روزہ بے شک لمبا ہو جائے لیکن بندگی نہیں ہو گی کیونکہ آپ نے اللہ کی بات تو نہیں مانی۔ تو بات یہ ہے کہ ہم لوگوں کو ہر چیز کو اس طرح کرنا چاہیے جس طرح اللہ نے بتایا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے فرمایا ہے۔ ہر کام کو حج میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ یقین کیجیے اگر حج کوئی اس طرح کر لے کہ جس طرح کہا گیا ہے تو بہت آسان ہے۔ لیکن اگر درمیان میں آپ نے کوئی آگے پیچھے کر لیا نا تو بعض دفعہ اتنی مشکلات پڑ جائیں گی کہ پھر کرتے رہو۔ پھر مفتیوں سے پوچھتے رہو صحیح بات ہے بہت مشکلات آ جاتی ہیں۔ کیونکہ آپ نے ذرا اپنی بات کر لی تو اب پتا نہیں کہ وہ کس طرح اس کا نتیجہ ہو گا۔ کیا ہو گا کیا نہیں ہو گا کس طرح پھر پورا ہو گا۔ تو اس وجہ سے بس بندگی کا طریقہ یہی ہے جس طرح کہا گیا ہے۔

میں آپ کو اس پر لطیفہ سناؤں۔ practical لطیفہ ہے۔ ہم ایک جگہ پہ posted تھے army کا ماحول تھا۔ اس میں لیفٹیننٹ کرنل جو تھے وہ ہمارے direct boss تھے اور full کرنل جو تھے وہ ان کے boss تھے۔ تو line authority ہوتی ہے نا تو کچھ زیادہ ہی خوشامد میں آ جاتے ہیں۔ تو خیر ایسا ہوا کہ کوئی meeting تھی بڑی meeting ہو رہی تھی۔ committee ایک بننی تھی۔ اس committee میں ان کا جو boss تھا یعنی full کرنل اس کا نام کسی نے propose کیا۔ کہ کرنل خواجہ۔ تو یہ جو ہمارے لیفٹیننٹ کرنل صاحب تھے اتنی جلدی اس نے I second کہا نا کہ کوئی مجھ سے پہلے نہ ہو جائے، I second! فوراً! بہت زیادہ۔ حتیٰ کہ وہ خواجہ صاحب بھی مسکرائے۔ کہ مطلب اتنی وہ بھی نہیں ہونی چاہیے۔ تو انسانی چیزوں میں ہم اتنے زیادہ alert ہیں۔ لیکن اللہ کی خوشنودی کے لیے اتنا سوچتے ہیں؟ نہیں۔ اس میں بھی ایسی بات ہے کہ بالکل سیدھا جب اللہ کا حکم ہے تو اور کوئی بات نہیں۔

مجھے آپ بتائیں ایک عجیب extreme ہے کہ بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم ہے۔ اور وہ بھی خواب کے ذریعے سے۔ اور ابراہیم علیہ السلام تیار ہو گئے۔ نہ صرف ابراہیم علیہ السلام تیار ہو گئے بلکہ اسماعیل علیہ السلام بچہ تھا۔ وہ بھی تیار ہو گئے اور فرمایا کہ آپ مجھے صابرین میں سے پائیں گے۔ پوچھا نا کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں تو تو کیا کہتا ہے اس میں؟ تو اسماعیل علیہ السلام اگرچہ بچے تھے اور بچے سے کیا مطلب وہ تعبیر... لیکن پیغمبر بننے والے تھے۔ تو انہوں نے کہا کہ آپ وہ کر گزریں ابا جان يَا اَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ آپ ہمیں صابرین میں سے پائیں گے۔ یہ بات ہے۔ پھر باقاعدہ وصیت کی کہ آپ اپنی آنکھوں پہ پٹی باندھ لیں۔ مجھے اوندھا لٹائیں۔ تیز چھری سے مجھے ذبح کر دیں تاکہ اللہ کے حکم میں دیر نہ ہو جائے۔ سبحان اللہ۔ یہ بات ہے۔

اس پر ایک کلام بھی ہے میرے خیال میں شاید اس میں آخری شعر اسی کا ہے۔ وہ جو ہے... یہ لوگ اس کو ویسے الفاظ کی دنیا سمجھتے ہیں لیکن حقیقت کی دنیا کی description ہے۔ الفاظ کی دنیا نہیں ہے۔

عشق کی دنیا اور ہے۔

یہ عشق کی دنیا اور ہی ہے یہ پیار کی دنیا اور ہی ہے
یہ نفس کی چاہت اور قلبِ بیدار کی دنیا اور ہی ہے

محبوب پہ فدا ہونا ہے عشق اور اس میں کھو جانا ہے عشق
محبوب کے واسطے اس دل کے سنگھار کی دنیا اور ہی ہے

دیکھیں اس میں ایک پیغام ہے اس شعر میں کہ اس دل کا سنگھار محبوب کے لیے ہو تو پھر یہ اور ہی بات ہے۔ اگر لوگ اپنے مزے کے لیے وہ کر رہے ہوں نا مطلب کہ ہمیں مزہ آئے اور ہم لوگ ذرا یعنی اس طرح خوش ہو جائیں، نہیں بھئی وہ تو دنیاوی چیز ہے۔ آپ یہ بھی ذکر بھی کریں تو کس لیے کریں؟ کہ اللہ کی محبت حاصل ہو جائے اور اللہ پاک خوش ہو جائے۔ یہ والی بات ہے۔ یعنی دل صاف کرنا ہے تو کس کے لیے؟ اللہ کے لیے۔

یہ عشق کی دنیا اور ہی ہے یہ پیار کی دنیا اور ہی ہے

نفس کی چاہت پرزور تو ہے، اس کا چار عالم شور تو ہے
جب اس کی یاد میں ہو تو اس بیمار کی دنیا اور ہی ہے

ایوب علیہ السلام بھی بیمار تھے نا تو ظاہر ہے ان کی بات ہو رہی ہے۔ مطلب باقی تو کتنے صحت مند لوگ دنیا میں ہوں گے۔ لیکن اب ایوب علیہ السلام کی بیماری کے سامنے کیا حیثیت ہے؟ ہمارے شیخ بیمار تھے مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ۔

جو بند ہو نفس کی چاہت میں وہ آزادی کو کیا جانے
جو اس سے ہو آزاد اس کی رفتار کی دنیا اور ہی ہے

یہ صاف بات ہے کہ جب رکاوٹیں ہوں تو رفتار کم ہو جائے گی۔ جب رکاوٹوں سے انسان جتنا جتنا نکلے گا، تو رفتار بڑھتی جائے گی۔ مطلب یہ ہے کہ نفس سے جتنا انسان آزاد ہوتا جائے گا اتنی اتنی اللہ کی بندگی اس میں تیزی سے آئے گی۔

یہ عشق کی دنیا اور ہی ہے یہ پیار کی دنیا اور ہی ہے

جو عقل نفسانی کا باغی ہو کر دیوانہ بنے

یہ آج آپ نے سن لیا نا عقل ایمانی اور عقل نفسانی۔ تو جو عقل نفسانی کا دیوانہ ہو گیا ہے مطلب اس کے یعنی مخالف ہو جائے۔

جو عقل نفسانی کا باغی ہو کر دیوانہ بنے
دیوانگی کے اس ہوش میں یہ اظہار کی دنیا اور ہی ہے

یہ عشق کی دنیا اور ہی ہے یہ پیار کی دنیا اور ہی ہے

آخری والے شعر میں حضرت والا فرماتے ہیں:

کیا کوئی اسماعیل کے گفت کے زور کو پائے گا شبیر
جو اس کے پیار میں ہو نصیب، اس دار کی دنیا اور ہی ہے

یہ عشق کی دنیا اور ہی ہے یہ پیار کی دنیا اور ہی ہے

حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ اور اس طرح اور حضرات مولانا عزیر گل صاحب رحمۃ اللہ علیہ یہ سب حضرات، ان کو انگریز نے گرفتار کیا تھا اور مالٹا میں قید کر لیا تھا، اسیرِ مالٹا ان کو کہتے ہیں۔ تو ایک دفعہ مطلب ان کو اطلاع ملی اگرچہ وہ اطلاع غلط تھی، کہ ان سب کے لیے پھانسی کا حکم ہوا ہے، ان کو پھانسی پر چڑھائیں گے۔ تو مدنی رحمۃ اللہ علیہ اور یہ حضرات جو تھے نا، وہ بڑے خوش تھے اس دن۔ ماشاءاللہ، اللہ تعالیٰ کے لیے جان قربان کرنے کا وقت آ گیا، اور بڑے خوش تھے۔ تو یہ بات ہے۔ اصل میں یہی چیز ہے، لوگوں کے دلوں میں اگر کوئی گھس جائے نا بات تو پھر بات ہوتی ہے۔

یہ شاہ اسحاق صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے غالباً بھائی تھے شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ، یہ سبق پڑھ رہے تھے اس وقت، بچے تھے۔ تو ایک دن یہ بڑے خوش خوش آپس میں جیسے زندہ دلی کے ساتھ مذاق کر رہے تھے اور آپس میں۔ استاد نے ان کو بلایا کہ بھئی کوئی خاص واقعہ ہوا ہے کہ آپ لوگ اتنے زیادہ excited ہیں، کیا مسئلہ ہے؟ تو انہوں نے کہا جی حضرت خط آیا ہے۔ کہ ہماری ایک جگہ پر جائیداد تھی، اس پر حکومت نے قبضہ کر لیا ہے۔ تو انہوں نے کہا اس میں خوشی کی کیا بات ہے، کیا مسئلہ ہے آپ کو؟ اس میں خوشی کی کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا پہلے ہمارا خیال تھا کہ شاید اس سے کمائیں گے تو کام بنے گا، اب صرف اللہ پر نظر ہو گی۔ جن کا بچپن میں یہ حال ہو گا تو بڑے ہو کر کیا حال ہو گا ان کا۔ تو یہ بات ہے، یہ اگر کسی کے دل میں گھس جائے نا، اللہ کی محبت، اللہ کے ساتھ تعلق۔ پھر ان کے تمام جسم سے جو اعمال نکلتے ہیں وہ الگ رخ کے ہوتے ہیں۔ یہ الگ رخ کے ہوتے ہیں۔

تو بہرحال یہ ہے کہ ہمارے جو مشائخ جو اس پہ محنت کرتے ہیں، جو ذکر کراتے ہیں۔ یہ اس لیے کراتے ہیں تاکہ اللہ کی محبت حاصل ہو جائے۔ لوگ بے شک وہ مزے کے لیے کرتے ہوں، مزہ کرنا اس میں مقصود نہیں ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی محبت مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت۔۔۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک دفعہ فرمایا، لوگ کہتے ہیں ذکر سے فائدہ نہیں ہوتا، کیسے فائدہ ہوگا جب ذکر کی نیت نہیں کرتے؟ تو لوگوں نے پوچھا حضرت ذکر کی نیت کیسے ہوتی ہے؟ فرمایا: اللہ کی محبت کو حاصل کرنے کی نیت۔ ذکر کی نیت کیا ہے؟ اللہ کی محبت کو حاصل کرنے کی نیت۔ اور واقعتاً اللہ کی محبت اس سے حاصل ہو جاتی ہے۔ اگر کوئی واقعتاً ذکر کر رہا ہو خالص اللہ کے لیے تو پھر اس کا اثر ہو جاتا ہے۔ بعض لوگ اس کو سمجھتے نہیں ہیں۔

ہمارے ایک ساتھی تھے۔ ڈاکٹر منشا۔ وہ بتا رہے تھے کہ ان کا بیٹا تھا نا وہ پڑھتا نہیں تھا۔ آوارہ بچہ تھا۔ تو ان کو اس کے علاج کے لیے وہ اپنے سائیکاٹرسٹ کے پاس لے گئے ڈاکٹر کے پاس۔ تو ڈاکٹر نے اس کی پوری ہسٹری لی تو دوائی بھی خیر دے دی لیکن ساتھ اسے ایک فقرہ بتایا۔ بیٹا یہ فقرہ یاد رکھو۔ بے ہنر سے باہنر اچھا ہوتا ہے۔ بے ہنر سے باہنر اچھا ہوتا ہے۔ فرمایا کہ بے شک آپ کو سمجھ آئے نہ آئے لیکن اس کو روزانہ گیارہ دفعہ پڑھنا ہے۔ بے ہنر سے باہنر اچھا ہوتا ہے۔ اچھا اب دیکھیں۔ یہ کوئی مولوی کا بتانا نہیں تھا یہ ڈاکٹر کا بتانا تھا۔ تو کیا مطلب ہے؟ یعنی بار بار جب پڑھے گا تو اس کو اس کا خیال آئے گا۔ اس کا خیال آئے گا۔ جب خیال آئے گا تو عمل کی توفیق بھی ہو جائے گی۔ آہستہ آہستہ مطلب سمجھ میں آ جائے گی بات۔

تو یہ بات ہے کہ اسی طرح جس وقت ہم اللہ اللہ کرتے ہیں آپ یقین کریں یہ میں بہت ساری مثالیں ہیں۔ آپ یہ روڈ کے اوپر جائیں نا تو یہ بڑے بڑے بورڈ لگے ہوں گے۔ Coca Cola, Coca Cola, Coca Cola, Coca Cola, Coca Cola مسلسل۔ تو بھئی ٹھیک ہے ایک دو دفعہ بورڈ پہ لکھا ہوا کافی نہیں ہے؟ یہ بار بار کیوں؟ مسلسل، اتنے خرچ ہوتے ہیں اس پر ویسے تو نہیں ہوتا۔ تو یہ کیوں اتنے زیادہ لگائے ہوئے ہیں؟ تو ایک ساتھی نے ہمارے ساتھی تھے ان کے جو تھے sales department والے سے یہ بات پوچھی۔ کہ آپ لوگ اس پہ اتنا خرچ کیوں کرتے ہیں؟ مطلب ٹھیک ہے بس ایک بورڈ ایک جگہ پر لگا دو تو اس سے لوگ دیکھیں گے۔ کیونکہ جو لوگ جا رہے ہیں تو آخر اس کو دیکھیں گے ہی نا۔ انہوں نے کہا یہ ہم نے تجربہ کیا ہے۔ جب ہم اس کو نہیں کرتے ہماری sale وہ مہینے میں ten percent پہ آ جاتی ہے۔ اتنی کم ہو جاتی ہے۔ تو یہ ہمارا تجربہ ہے کہ اس پر پیسے لگانا اس کو promote کرنا ضروری ہے۔

تو اب اگر ایسی بات ہے تو آپ جب اللہ اللہ کریں گے اور نیت صحیح ہو گی، اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ نیت تو direction ہے نا۔ تو نیت اگر آپ کی اللہ کی محبت حاصل کرنا ہے اور ساتھ آپ اللہ اللہ کر رہے ہیں تو یہ کام کرے گا۔ کام کرے گا۔ بالکل کرے گا۔

یہ ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرما رہے تھے کہ شاہ عبدالعزیز دعاجو رحمۃ اللہ علیہ جو حضرت کے دوسرے شیخ تھے جب حضرت فوت ہوئے تھے سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ۔ تبلیغی جماعت کے بزرگ تھے۔ بڑے صاحب ذوق بزرگ تھے۔ گپ شپ میں بہت کچھ سمجھاتے تھے۔ تو فرمایا: اشرف ذرا باہر جا کر دیکھو کچھ ہو رہا ہے کچھ خاص بات ہو رہی ہے۔ باہر چلا گیا میں۔ دیکھا کچھ سمجھ نہیں آیا اندر آیا میں نے کہا حضرت کچھ پتا نہیں چلا۔ نہیں نہیں نہیں باہر جا کر کچھ خاص بات ہو رہی ہے اچھی طرح دیکھو۔ پھر میں گیا کچھ پتا نہیں چلا۔ آخر دو تین بار چکر لگوائے نا۔ تو یکدم میں نے دیکھا کہ ایک جگہ سے پانی ٹپک رہا ہے۔ اس کے نیچے پتھر ہے بڑا پتھر پڑا ہوا ہے۔ اس میں سوراخ ہوا ہے اس پانی ٹپکنے سے۔ میں نے کہا شاید یہ فرما رہے ہوں۔ تو میں اندر گیا میں نے کہا حضرت یہ چیز ہے۔ ہاں تو پھر کیا سمجھے؟ تو میں نے کہا حضرت آپ ہی بتائیں۔ چونکہ میں۔۔۔ کہتے مجھے سمجھ آ گئی کچھ بتانا چاہتے ہیں۔ فرمایا دیکھو اگر یہ پانی جتنا اتنے عرصے میں اس پر گرا ہے نا اگر یہ ایک وقت میں گرتا تو اس پتھر کو کچھ نہیں ہونا تھا۔ بس پھسل جاتا پانی گر جاتا چلا جاتا۔ لیکن اس ایک ایک قطرے نے اس میں سوراخ کر دیا۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جو ہم معمولات کرتے ہیں اور روزانہ باقاعدگی کے ساتھ کرتے ہوں۔ بے شک وہ تھوڑے بھی ہوں وہ اثر کر جاتے ہیں۔ اثر کر جاتے ہیں۔ تو یہی بات ہے کہ اگر ہم باقاعدگی کے ساتھ یہ اپنے معمولات کریں تو فائدہ ہوتا ہے۔ دیر سویر کا معاملہ ہر ایک کا اپنا اپنا ہے۔ لیکن فائدہ ہوتا ہے۔

یہ جتنے بھی اللہ والے بزرگ بنے ہیں نا تو اس طرح تو نہیں بنے، اسی طریقے سے بنے ہیں۔ اور تو چھوڑیں فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ ڈاکو تھے۔ اور ڈاکے سے توبہ کر لی اور پھر گئے اللہ والے کے پاس اور ماشاءاللہ اولیاء اللہ کے سردار بن گئے۔ اولیاء اللہ کے سردار بن گئے۔ چشتیہ سلسلے کے سرخیل ہیں۔ حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ۔ تو جب یہ والی بات ہے تو اب دیکھو۔

ہم لوگ جو بھی ذکر ہمیں بزرگ بتاتے ہیں ویسے نہیں بتاتے، تجربے کی باتیں ہیں۔ ہر سلسلے کا اپنا experience ہے اس میں کوئی شک نہیں۔ کوئی خفی ذکر کراتے ہیں کوئی جہری کراتے ہیں۔ کوئی ایک قسم کا ذکر کوئی دوسری قسم کا کراتے ہیں اس سے ہمیں کوئی غرض نہیں ہے۔ وہ طریقہ کار ہے۔ homeopathy بھی ہے allopathy بھی ہے اور اس طرح acupuncture بھی ہے۔ اور بھی طریقے ہیں مطلب علاج کے۔ حکیمی علاج بھی ہے۔ لیکن ہے، علاج ہے۔ اس سے فائدہ ہو جاتا ہے۔ اس طریقے سے سارے سلسلے اگرچہ اصول ان کے اپنے اپنے ہیں لیکن مقاصد ایک ہیں۔ لہٰذا اگر کوئی اس کو عمل میں لائے، ایک تو نیت صحیح ہو۔ اور دوسرا یہ ہے کہ وہی کرے جو شیخ بتائے۔ اپنی طرف سے آگے پیچھے نہ کرے۔ وہی کرے جو شیخ بتائے۔ یہاں تک کہ حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ عام ذکر سے درود شریف افضل ہے کیونکہ اس میں ذکر بھی ہے دعا بھی ہے اور درود شریف بھی ہے۔ لیکن یہ کہ جو شیخ ذکر بتائے وہ اس سے بھی زیادہ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ فرض عین کا ذریعہ ہے۔ اور یہ درود شریف مستحب ہے۔

تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم لوگ اس چیز کو جان لیں کہ جو مشائخ ہمیں بتاتے ہیں یہ ویسے نہیں بتاتے ان کا link بہت اوپر ہے۔ بہت اوپر جاتا ہے۔ ساری باتیں اوپر کھلتی ہیں۔ فَمَنْ اَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّيْ اَحَبَّهُمْ وَمَنْ اَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِيْ اَبْغَضَهُمْ۔ جیسے صحابہ کے لیے فرمایا نا۔ اس طرح جتنے جو سلسلے کے لوگ ہیں نا، تو ان کے ساتھ جو بات ہوتی ہے وہ اوپر والوں سے متعلق ہوتی ہے۔ اچھائی بھی، یعنی مطلب کوئی ایسی چیز اور ساتھ کوئی مشکل یہ بھی اس طرح۔ مطلب وہ وہاں پر جاتی ہے بات۔ لہٰذا کبھی بھی ان چیزوں کی ناقدری نہیں کرنی چاہیے۔ جیسے بتایا جائے اس طرح کرنا چاہیے۔ ایک نہ ایک دن ان شاء اللہ ہو جائے گا کام۔ اور وہ کام کیا ہے؟ اللہ کی بندگی۔ اللہ کی بندگی بطریقۂ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نصیب فرما دے۔

وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔

مقصدِ بندگی اور اتباعِ سنت: ربیع الاول کے آئینے میں ایک جامع رہنمائی - خواتین کے لیے اصلاحی بیان - اشاعت دوم