تا حیات بندگی اور توکلِ الٰہی

بَابٌ فِي الْمُحَافَظَةِ عَلَى الْأَعْمَالِ، درس نمبر: 222، اشاعتِ اول: 3 مارچ، 2023 بمطابق 10 شعبان، 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. موت کا وقت آنے تک انسان کو مسلسل اپنے پروردگار کی عبادت میں مشغول رہنا چاہیے۔
  2. تا حیات عبادت کا یہ قرآنی حکم بظاہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے، مگر اس میں پوری امت کے لیے ترغیب ہے۔
  3. مرتے دم تک ذکر و عبادت میں مشغول رہنے سے آخرت کے اجر کے علاوہ دنیا کے رنج و غم بھی ہلکے ہو جاتے ہیں۔
  4. اللہ تعالیٰ نے مال جمع کرنے اور تاجر بننے کے بجائے اپنی تسبیح، حمد اور سجدہ بجا لانے کا حکم دیا ہے۔
  5. خواہ مخواہ کی پریشانیوں سے بچنے کے لیے اپنی محنت کے صلے کا کامل یقین اللہ پر رکھ کر فیصلہ اسی پر چھوڑ دینا چاہیے۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

وَقَالَ تَعَالَى: ﴿وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ﴾ (الحجر: 99)

ترجمہ: نیز فرمایا: ”اور اپنے پروردگار کی عبادت کئے جاؤ یہاں تک کہ تمہاری موت کا وقت آجائے۔“

اب دیکھو نا یہاں پر بھی وہی آیت آ گئی ہے۔ Until end of the time. یعنی جو آپ کا وقت ہے۔

تشریح: آیت شریفہ میں اگرچہ خطاب آپ ﷺ کو ہے مگر پوری اُمت کو ترغیب ہے! مطلب آیت کریمہ کا یہ ہے کہ مرتے دم تک ذکر وعبادت میں مشغول رہو کیونکہ ذکر و عبادت میں آخرت کے اجر وثواب کے علاوہ یہ خاصیت بھی ہے کہ دنیا میں جب انسان اس میں لگ جاتا ہے تو دنیا کے رنج و غم اور تکلیف بھی اس کی ہلکی ہو جاتی ہے۔

خدا کی یاد میں بیٹھے جو سب سے بے غرض ہو کر
تو اپنا بوریا بھی پھر ہمیں تخت سلیمان تھا

اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی اللہ تعالیٰ نے حکم دیا۔”اَوْصَانِیْ بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ مَا دُمْتُ حَیًّا“ اسی طرح ایک روایت میں آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ نے مجھے مال جمع کرنے اور تاجر بن جانے کا حکم نہیں دیا بلکہ مجھ پر یہ وحی بھیجی کہ:

”فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ كُنْ مِّنَ السَّاجِدِيْنَ وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ“

ترجمہ: اللہ کی تسبیح اور حمد کرتے رہو اور سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہو جاؤ اور اپنے پروردگار کی عبادت کئے جاؤ یہاں تک کہ تمہاری موت کا وقت آجائے۔

ماشاء اللہ یہ سورہ یوسف کا جو اینڈ رزلٹ ہے وہ بالکل یہاں پر اس قرآن پاک کی آیت سے بھی وہ بالکل واضح ہے کہ موت تک کام کیے جاؤ، کام کیے جاؤ۔ بھئی دیکھو جزا اللہ، دیکھو نا مثال کے طور پر ہم آفس میں کام کرتے ہیں، ہمیں تنخواہ ملتی ہے۔ ہمیں پتہ ہوتا ہے تنخواہ اپنے وقت پر مل جائے گی۔ تو اس کی ٹینشن میں نہیں ہوتے۔ تو بھئی جتنا تنخواہ دینے والے پر یقین ہے، اس سے تو کم از کم زیادہ اللہ پر یقین ہونا چاہیے کہ وہ ہماری محنت کو رائیگاں تو نہیں جانے دے گا۔ تو جب یہ بات ہے تو پھر درمیان میں کیوں پریشانی؟ درمیان میں کیوں خواہ مخواہ disturbance؟ بس اللہ پر یقین کر لو۔ فیصلہ اللہ پر چھوڑو۔ اور تم وہی کیے جاؤ جو کہا گیا ہے۔ وہ تجھ سے زیادہ تجھے جانتا ہے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔

تا حیات بندگی اور توکلِ الٰہی - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور