مکائد شیطان (حصہ اول)
مکائد شیطان: اشاعت اول: 10 نومبر، 2007، بمطابق: 29 شوال، 1428 ھ
- شیطان کا اصل مقصد انسان کو اللہ تعالیٰ کی ہدایت سے دور کر کے گمراہی اور آخرت کے نقصان میں مبتلا کرنا ہے۔
- شیطان نفسانی خواہشات کو استعمال کر کے ہدایت کی روشنی میں رکاوٹ ڈالتا ہے جس سے انسان کا دل مکمل طور پر تاریک ہو جاتا ہے۔
- شیطان کا زور محض وسوسہ ڈالنے تک محدود ہے، جس کی کامیابی کے لیے وہ انسان کی نفسانی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتا ہے۔
- شیطانی وار سے محفوظ رہنے کے لیے قلب اور نفس دونوں کی اصلاح کرنا لازمی ہے۔
- قلب کی اصلاح سے مراد دل کو امراض اور تعصب کی میل سے پاک کرنا ہے تاکہ انسان حق اور ہدایت کو پہچان سکے۔
- نفس کی اصلاح مجاہدے کی متقاضی ہے، جس میں نفس کی مخالفت کر کے اسے مشقت اور نیک کاموں کا خوگر بنایا جاتا ہے۔
- روحانی بیماریوں کو دور کرنے کے لیے عام معمول سے بڑھ کر علاجی مجاہدہ اختیار کرنا پڑتا ہے تاکہ بگڑا ہوا نفس سیدھا ہو سکے۔
- باطنی اصلاح کے آغاز کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ انسان کو اپنی پوشیدہ روحانی بیماریوں کا احساس اور اعتراف ہو۔
- معافی مانگنے سے گناہ معاف ہو جاتا ہے، لیکن نفس کی اصلاح کے لیے معالج کی تجویز کردہ عملی ترتیب اور مجاہدہ لازمی ہے۔
- شیخ سے روحانی علاج کرواتے وقت مرید پر لازم ہے کہ وہ اپنی خوبیاں گنوانے کے بجائے صرف اپنے اصل مسائل اور خامیاں بیان کرے۔
- شیطان کا بنیادی ہدف انسان کا عقیدہ بگاڑنا ہے، چنانچہ وہ توحید یا ادب کے نام پر اسے شرک اور بے ادبی میں الجھاتا ہے۔
- نفسانی گناہوں میں کافر اور مسلمان یکساں شریک ہوتے ہیں، لیکن شیطانی گناہوں کا خاص ہدف مسلمان کے ایمان کو تباہ کرنا ہوتا ہے۔
الحمد للہ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ وَٱلصَّلَاةُ وَٱلسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ ٱلنَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِٱللَّهِ مِنَ ٱلشَّيْطَانِ ٱلرَّجِيمِ، بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ۔
﴿يَا أَيُّهَا ٱلَّذِينَ آمَنُواْ ٱدْخُلُواْ فِي ٱلسِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ ٱلشَّيْطَانِ إِنَّهُۥ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ﴾۔ وَقَالَ عليه الصلاة والسلام: حُبُّ الدُّنْيَا رَأْسُ كُلِّ خَطِيئَةٍ۔ وَقَالَ ٱللَّهُ تَعَالَىٰ: ﴿بَلْ تُؤْثِرُونَ ٱلْحَيَاةَ ٱلدُّنْيَا وَٱلْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ﴾۔
صَدَقَ ٱللَّهُ ٱلْعَلِيُّ ٱلْعَظِيمُ۔
بزرگو اور دوستو! اللہ جل شانہ ہمارے اوپر بہت مہربان ہے۔ اللہ جل شانہ چاہتے ہیں کہ ہمیں نفع پہنچے۔ قرآن شریف دے دیں۔ قرآن شریف۔ یہ ذرا ابھی جو آیت پڑھی وہ دے دیں۔
اللہ جل شانہ چاہتے ہیں کہ ہمیں نفع ہو۔ اور شیطان کا کام یہ ہے کہ وہ ہمیں نقصان میں ڈالنا چاہتا ہے۔ وہ ہمارا پکا دشمن ہے۔ اللہ جل شانہ نے ہمارے اوپر مہربانی فرما کر شیطان کے جو مکائد ہیں وہ قرآن پاک میں مختلف جگہوں پہ بیان فرمائے ہیں۔ اور یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ جل شانہ تو چاہتا ہے کہ لوگ روشنی کی طرف چلیں، یعنی ہدایت کی طرف چلیں۔ اپنے فائدے کی طرف چلیں۔ اور شیطان ان کو اغوا کرتا ہے، وہ ان کو ایسی چیزوں میں پھنساتا ہے جس سے ان کو نقصان ہو، بالخصوص آخرت کا نقصان ہو۔ جیسے کہ اللہ جل شانہ ارشاد فرماتے ہیں: ﴿ٱللَّهُ وَلِيُّ ٱلَّذِينَ آمَنُواْ يُخْرِجُهُم مِّنَ ٱلظُّلُمَاتِ إِلَى ٱلنُّورِ وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ أَوْلِيَاؤُهُمُ ٱلطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ ٱلنُّورِ إِلَى ٱلظُّلُمَاتِ أُوْلَٰئِكَ أَصْحَابُ ٱلنَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ﴾۔ کہ اللہ جل شانہ مومنین کا دوست ہے۔ اور ان کو اللہ پاک نکالتا ہے اندھیروں سے روشنی کی طرف، یعنی گمراہی سے ہدایت کی طرف لے جانا چاہتا ہے۔ اور جو کفار ہیں وہ شیطان کے دوست ہیں۔ اور شیطان ان کے ساتھ کیا کرتا ہے، ان کو ہدایت سے نکال کے گمراہیوں کی طرف لے جاتا ہے۔ بے شک یہی لوگ ہیں جو کہ آگ والے ہیں، یعنی دوزخ میں ان کو ڈالا جائے گا اور ہمیشہ کے لیے اس میں رہیں گے۔ تو ہمیں جو محدود زندگی ملی ہے اس محدود زندگی کے اندر اللہ پاک نے ہمیں اپنے اپنے وسائل اور حالات کے اندر اللہ پاک کی بات ماننی ہے اور کامیاب ہونا ہے۔ اور شیطان ہمارا وقت ضائع کرے گا، کم از کم اس کی کوشش یہ ہوگی کہ اس کو ضائع کر دے اور ہم اس نتیجے تک نہ پہنچ سکیں۔ لہٰذا وہ مختلف حیلوں بہانوں کے ذریعے سے ہمیں اپنے مقصد سے ہٹائے گا اور ہم لوگوں کو ہدایت سے محروم کروانا چاہے گا۔
دیکھ لیں، سورج جس وقت آسمان میں موجود ہو، تو ہر وہ چیز جس کے لیے سورج سے پردہ نہیں ہے، تو اس کے اوپر سورج کی روشنی پڑتی ہے اور وہ روشن ہوتا ہے۔ لیکن اگر کوئی چیز سورج اور اس چیز کے درمیان آ جائے، پردہ حائل ہو جائے، تو اگر وہ صرف ایک سمت سے پردہ ہے تو ظاہر ہے سورج کی روشنی تو اس کے اوپر نہیں پڑے گی لیکن ارد گرد کی جو روشنی منعکس ہو رہی ہے وہ اس کو پہنچے گی۔ تو مکمل اندھیرے میں تو نہیں ہوگا لیکن سورج کی براہ راست روشنی اس کے اوپر نہیں پڑے گی۔
تو شیطان یہ کرتا ہے کہ سب سے پہلے تو وہ درمیان میں آتا ہے، وہ ہمارے نفس کی جو خواہشات ہیں ان کو درمیان میں لاتا ہے۔ جس کی وجہ سے انسان حقیقت شناس نہیں ہوتا۔ اور اپنے خیر اور اپنے نفع کو نہیں پہچانتا، لہٰذا گمراہ ہو جاتا ہے۔ لیکن شیطان اس پہ بس نہیں کرتا، وہ ارد گرد کی جو روشنی انعکاسی طور پہ آتی ہے نا، اس سے بھی پھر شیطان محروم کرنا شروع کرتا ہے۔ تو آہستہ آہستہ اس کو بالکل ایسے، یعنی جس کو کہتے ہیں نا جیسے کہ بالکل ملفوف کر لیتا ہے کہ ہر طرف سے کوئی روشنی اس کو نہ پہنچے۔ اس وقت پھر انسان بالکل ہدایت سے محروم ہو جاتا ہے۔ کیونکہ کسی طرف سے بھی روشنی اس کو پھر نہیں پہنچ رہی۔ ایسی حالت کو کہتے ہیں: ﴿خَتَمَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَعَلَىٰ سَمْعِهِمْ وَعَلَىٰ أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ﴾۔ یعنی پھر انسان ہدایت کے کسی بھی نظام سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ کیونکہ ہر طرف سے اس کو محروم کر دیا گیا۔
تو شیطان کی ہمیشہ یہی کوشش رہے گی کہ ہمیں اللہ جل شانہ سے کاٹ دے۔ اور ہمیں اپنے نفس کی خواہشات کے اندر الجھائے کہ اس کی خواہش پوری ہو۔ اس کے لیے وہ ہر قسم کا طریقہ اخ تیار کرے گا۔ تو ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم شیطان کی چالوں کو سمجھیں۔ اور کسی طریقے سے بھی اس کی چال میں نہ آئیں۔ اور اپنے آپ کو بچائیں۔ تو یہ کیسے ہوگا؟ آج میں اس پر ان شاء اللہ بات کرنا چاہتا ہوں۔ یہ بہت ضروری چیز ہے۔ کیونکہ یہ game ہمارے ساتھ مسلسل ہو رہی ہے۔ وہ کسی کو بھی فارغ نہیں رکھتا۔
اللہ جل شانہ نے ہمیں دل دیا ہے۔ اور اللہ پاک نے ہمیں نفس بھی دیا ہے۔ دل ب کے دو راستے ہیں۔ ایک راستہ اللہ کی طرف کھلتا ہے القائے رحمانی کے لیے۔ جس سے مسلسل اللہ کی طرف سے ہدایت آتی رہتی ہے۔ یعنی روشنی اللہ کی طرف س ے آتی رہتی ہے۔ اور دوسری طرف سے القائے شیطانی ہے۔ جو مسلسل گمراہی کے راستے پہ ہمیں لے جاتا ہے۔ اور وہ ہماری چھپی ہوئی خواہشات کو بنیاد بنا کر ہمیں اللہ پاک سے ہٹانا چاہتا ہے۔
اب شیطان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ اللہ جل شانہ کی جو ہدایت آ رہی ہے اس کے لیے کوئی چیز حجاب بنا دے۔ کوئی چیز اس کے سامنے رکھ دے۔ اور اللہ جل شانہ مسلسل شیطان سے بچاتا ہے۔ یعنی جو القائے رحمانی آ رہا ہے اس کے ذریعے سے شیطان سے مسلسل ہمیں آگاہ کیا جا رہا ہوتا ہے۔ لہٰذا ابتداء میں اگر کوئی گناہ کرتا ہے نا تو اس کو جھٹکا لگتا ہے۔ اس کو احساس ہوتا ہے کہ میں نے کچھ غلط کیا۔ یہ اللہ کی طرف سے ہدایت کا نظام ہے۔ اگر اس آواز پہ لبیک نہیں کہا گیا تو پھر وہ حجاب درمیان میں آ جاتا ہے۔ اب وہ تو مستقل ہو گیا، اس کے بعد پھر وہ اور کوشش کرتا ہے۔ اگر پھر وہ کچھ آگاہ ہو گیا تو بچ سکتا ہے۔ ورنہ پھر ایک اور حجاب آ جائے گا۔ جیسے آپ حضرات نے حدیث شریف کو سنا ہوگا کہ جب کوئی انسان گناہ کرتا ہے تو ایک سیاہ نقطہ دل کے اوپر لگ جاتا ہے۔ اگر کوئی توبہ کر لیتا ہے تو وہ نقطہ دور ہو جاتا ہے، دھل جاتا ہے۔ اور اگر ایسا نہیں کرتا تو وہ نقطہ قائم رہتا ہے، پھر کوئی اور گناہ کرنے سے دوسرا نقطہ لگ جاتا ہے۔ اور اگر اس سے بھی توبہ نہیں کی تو پھر کسی اور گناہ سے تیسرا نقطہ لگ جائے گا اور اس طرح نقطے لگتے لگتے وہ دل بالکل سیاہ ہو جائے گا۔ اس سے اندازہ ہو جائے گا کہ وہ جو چاروں طرف سے بند کرنے والا جو نظام ہے وہ شروع ہو جاتا ہے۔
تو ہمارے پاس اللہ پاک نے بچنے کا نظام تو رکھا ہے لیکن اگر بچنے کے نظام کی طرف ہم توجہ کریں تو پھر بنے۔ مثال کے طور پر آگ لگنے کا نظام ہے۔ آگ لگے لیکن آپ کے پاس آگ بجھانے کا جو نظام بھی موجود ہے۔ اب آپ کو پتہ چل گیا کہ آگ لگ گئی۔ لیکن آگ بجھانے کا نظام آپ کے ساتھ ہوتے ہوئے باوجود آپ اس سے فائدہ نہیں اٹھائیں تو ظاہر ہے قصور کس کا ہے؟ آپ اس سے آگ کو بجھا سکتے تھے نا، لیکن جب نہیں بجھایا تو ٹھیک ہے جی، وہ تو تیز ہو رہی ہے۔ پھر ایک ایسی حالت آ جاتی ہے کہ وہ آگ قابو سے باہر ہو جاتی ہے۔ لہٰذا پھر یہ ہے کہ وہ اس کو انسان قابو کرنا بھی چاہے تو پھر نہیں کر سکتا۔ وہ اتنی زیادہ ہو جاتی ہے۔
تو یہی بات ہے کہ شیطان کا ہمارے ساتھ ایک game چل رہا ہے۔ جس وقت اللہ جل شانہ نے شیطان کو راندۂ درگاہ کر دیا۔ نکال دیا اس کو۔ اس کو کہہ دیا نکل جاؤ۔ تو اس نے کہا کہ اے اللہ! مجھے مہلت دیں۔ اللہ پاک نے اس کو مہلت ایک معلوم مدت تک دے دی۔ قرآن پاک میں اس کی تفصیل موجود ہے۔ اس وقت شیطان کو جب یہ تسلی ہو گئی کہ مجھے مہلت دی گئی ہے۔ اس وقت پھر وہ اس نے بات کھل کے کی۔ کہ اے اللہ! میں تیری عزت و جلال کی قسم کھاتا ہوں۔ کہ جس کی وجہ سے میرا یہ حال ہو چکا ہے۔ میں اس کی اولاد کے راستے میں بیٹھ جاؤں گا۔ دائیں طرف سے آؤں گا، بائیں طرف سے آؤں گا، آگے سے آؤں گا، پیچھے سے آؤں گا۔ اور ان کو تجھ تک نہیں پہنچنے دوں گا۔ اور تو ان میں سے بہت کم کو شکر گزار پائے گا۔ اللہ پاک نے فرمایا ہو گئی بات۔ جو میرے ہیں ان کے اوپر تیرا داؤ نہیں چلے گا۔ شیطان نے بھی کہا تھا ﴿اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِيْنَ﴾۔ یعنی تیرے چنے ہوئے بندوں پہ میرا داؤ نہیں چلے گا۔ تو اللہ پاک نے فرمایا جو میرے ہیں ان کے اوپر تیرا بس نہیں چلے گا۔ اور جو تیری بات مانیں گے تو میں تجھ سے اور تیرے متبعین سے جہنم کو بھر دوں گا۔
تو اب یہ نظام موجود ہے۔ وہ ہر کوشش کر رہا ہے۔ تو اب ہم لوگوں کو شیطان کی چالوں کو سمجھنا ہے کہ شیطان کس کس طریقے سے ہمیں خراب کر سکتا ہے۔
ایک جگہ پہ ارشاد ہے: ﴿إِنَّ كَيْدَ ٱلشَّيْطَانِ كَانَ ضَعِيفًا﴾۔ اس سے پہلے ذق ﴿ٱلَّذِينَ آمَنُواْ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ ٱلطَّاغُوتِ فَقَاتِلُواْ أَوْلِيَاءَ ٱلشَّيْطَانِ إِنَّ كَيْدَ ٱلشَّيْطَانِ كَانَ ضَعِيفًا﴾۔ تو یہاں پر دیکھیں وہ وہی والی بات ہے۔ کہ مومنین جو ہیں نا وہ اللہ تعالیٰ کے لیے وہ قتال کرتے ہیں اور جو کفار ہیں وہ شیطان کے راستے پہ چل رہے ہوتے ہیں۔ تو ان کو قتل کر لو، شیطان کا جو کید ہے وہ کافی ضعیف ہے۔
اچھا اب یہاں پر ذرا ایک بات آ جاتی ہے کہ شیطان کا کید ضعیف کیسے ہے؟ حالانکہ شیطان سے تو ہمیشہ ہمیں ڈرایا جاتا ہے۔ جیسے اب جو ہم نے آیت کریمہ گزری: ﴿يَا أَيُّهَا ٱلَّذِينَ آمَنُواْ ٱدْخُلُواْ فِي ٱلسِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ ٱلشَّيْطَانِ إِنَّهُۥ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ﴾۔ بہت اہتمام کے ساتھ ہمیں خبردار کیا گیا۔ اور شیطان کے کید کو ضعیف بھی کہا گیا تو یہ کیا ہے؟ اس میں ایک عملی بات ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ شیطان خود کچھ نہیں کر سکتا۔ شیطان کے بس میں یہ نہیں کہ کسی کو زبردستی غلطی کروائے۔ یہ بس میں نہیں ہے اس کے۔ وہ کروائے گا تو آپ سے کروائے گا۔ یعنی تو اگر اس کی بات نہ مانے تو شیطان کچھ نہیں کر سکتا۔ تو شیطان کے جو کام کرنے کا جو طریقہ ہے وہ یہ ہے کہ وہ وسوسہ ڈالنے میں ماہر ہے۔ اس کا کام صرف وسوسے تک محدود ہے۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا الحمد للہ کہ اللہ پاک نے اس کے اس اثر کو وسوسے تک محدود کر دیا۔ تو شیطان کر کچھ نہیں سکتا ہمارے ساتھ۔ لہٰذا اگر ایک انسان شیطان کے وسوسے پہ وہ نہ کرے، یقین نہ کرے اور اس کو نہ مانے تو شیطان کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ تو وسوسہ کیا ہے، محض ایک خیال ہی ہے نا۔ تو خیال تو پانی کے اوپر جو عکس آتا ہے، اس سے بھی زیادہ ضعیف ہے۔ ٹھیک ہے نا۔ تو اس لحاظ سے شیطان کا کید تو بڑا ضعیف ہے۔ لیکن اگر اس سے کسی نے اثر لے لیا اور خود اس کا ساتھ دینا شروع کر لیا۔ تو پھر یہ انسان اپنے آپ کو نقصان دیتا جاتا ہے۔
لہٰذا ان دو باتوں کو اپنے اپنے طور پہ سمجھ کر لائحہ عمل اختیار کرنا پڑے گا کہ کیسے شیطان کی چالوں کو سمجھ لیا جائے۔ شیطان چونکہ ہمارے نفس کا مَحرم ہوتا ہے۔ وہ ہمارے نفس کو اچھی طرح جانتا ہے۔ ہماری خواہشات کو اچھی طرح جانتا ہے۔ لہٰذا جس کے اندر جو کمزوری ہوتی ہے اس کو استعمال کیا جاتا ہے۔
میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں۔ Foreign لوگ جاتے ہیں۔ مثلاً یہاں کا پاکستان کا کوئی آدمی جائے سرکاری طور پر ان کے ساتھ کوئی deal کرنے یورپ کے کسی ملک کے ساتھ۔ تو کیا کرتے ہیں؟ وہ شخص کی کمزوری ڈھونڈتے ہیں کہ اس کے اندر کیا کمزوری ہے۔ اگر اس کے اندر مال کی کمزوری ہے تو اس کو رشوت پیش کرتے ہیں۔ اگر اس کے اندر عورتوں کی کمزوری ہو تو عورتیں پیش کرتے ہیں۔ اگر اس کے اندر کوئی اور عہدے کا لالچ ہو تو اس کو عہدے کا لالچ دیتے ہیں کہ ہم آپ کے لیے یہ انتظام کر لیں گے، آپ یہ ہو جائیں گے، آپ وہ ہو جائیں گے۔ یعنی اس وقت وہ شیطان کے نمائندے بنے ہوتے ہیں۔ لہٰذا اگر کسی کے اندر کوئی کمزوری نہ ہو تو وہ کیا کریں گے؟ کچھ بھی نہیں۔ اس کو ٹھکرا دے گا نا۔
ہمارے ایک بزرگ گزرے ہیں ڈاکٹر بشیر ریاض مرحوم۔ حضرت صوفی اقبال صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ تھے۔ یہ بڑے ماڈرن آدمی تھے، ڈاکٹر تھے۔ سعودی عرب میں سعودی گورنمنٹ کی طرف سے دوائیوں کے purchase کو کنٹرول کرنے پہ مقرر تھے۔ اس سلسلے میں یورپ کے دورے وغیرہ کرتے تھے۔ ایک دورے پہ گئے تھے تو انہوں نے ایک لڑکی پیچھے لگا دی۔ اب وہ ظاہر ہے مطلب کبھی ٹائپسٹ کی صورت میں، کبھی پرسنل سیکریٹری کی صورت میں، کبھی کسی اور صورت میں، مطلب طریقے تو ان کو آتے ہیں۔ کسی طریقے میں ان کے ساتھ اٹیچ کر دیا۔ کبھی گائیڈ کی صورت میں، وہ کر لیتے ہیں۔ تو جو ان کا فرض منصبی تھا وہ تو اس کو ماننے پہ مجبور تھا۔ مثال کے طور پہ اس کی پرسنل سیکرٹری لگا دے تو اس کو نکال تو نہیں سکتا تھا نا۔ وہ تو اس کی مجبوری تھی۔ لیکن وہ اس لڑکی کو جو اسائنمنٹ دیا گیا تھا وہ تو اور تھا۔ تو وہ اس کے قریب آنا چاہتی تھی۔ تو جب اس نے ایک limit کو کراس کیا تو اللہ پاک نے اس کو غیرت دلائی اور اس نے غیرت کی وجہ سے اس کو ایک تھپڑ مار دیا اور گرا دیا۔ کہا: تو مجھے خراب کرنا چاہتی ہے! اب ظاہر ہے ہو گئی بات۔ اب وہ کچھ کر بھی نہیں سکتے تھے اس کے ساتھ۔ مطلب ظاہر ہے وہ سارا کیس ان کا وہ ہو جاتا۔ تو لہٰذا وہ تو مطلب مجبور تھے، انہوں نے کچھ نہیں کیا، اس کو ہٹا دیا، excuse کیا، اور سارا کچھ ہو گیا۔ یہ عمل اس کا قبول ہو گیا۔ الحمد للہ
تو یہ ایک خواب دیکھتا ہے، خواب میں یہ دیکھتا ہے کہ فرشتے ہیں دو، تلواریں انہوں نے اس طرح کراس کی ہوئی ہیں اور جنت کے دروازے پہ کھڑے ہیں۔ تو یہ جنت جانا چاہتا ہے تو قریب آ کر کھڑا ہو جاتا ہے کہ کوئی موقع لگے تو میں جنت میں داخل ہو جاؤں، حالانکہ وہ پہرہ لگا ہوا ہے اب ظاہر ہے وہاں اندر تو جا نہیں سکتے۔ تو ان فرشتوں نے جب ان کو دیکھا تو انہوں نے آنکھوں آنکھوں میں ایک دوسرے کو اشارہ کیا اور انہوں نے تلواریں اس طرح کر دیں۔ اب جب تلواریں اس طرح کیں تو اس نے موقع دیکھا تو اس کے اندر چھلانگ لگا کے اندر جنت کے اندر بھاگ گیا۔ اور اس کی آنکھ کھل گئی۔ گویا کہ اس کا اشارہ ہوا کہ اللہ پاک اب اس کو موقع دے دے گا اور یہ ہدایت کی طرف آ جائے گا۔ یہی ہوا ان کی پھر صوفی اقبال صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ ملاقات ہو گئی۔ الحمد للہ اللہ پاک نے اس کو ہدایت نصیب فرما دی اور ما شاء اللہ پھر ترقی کرتے کرتے خلیفہ ہو گئے حضرت کے، اور اب ما شاء اللہ پھر شہید ہو گئے۔ کیونکہ وہ دینی تحریکوں کے بہت کام کرتے تھے نا، وہ مالی حمایت کرتے تھے اور مالی سپورٹ کرتے تھے تو جو لوگ ان کے مخالف تھے ان کے پیچھے لگ گئے، ان کو شہید کر دیا۔ خود شہید ہو گئے لیکن اپنے بیٹے کو مفتی بنایا اور الحمد للہ وہ بھی حضرت صوفی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ ہو گئے اور اب ما شاء اللہ وہاں پر مدرسہ چلا رہے ہیں۔
دیکھیں اللہ پاک نے ان سے کام لے لیا۔ اب دیکھ لیں چونکہ اس کے اندر وہ کمزوری نہیں تھی۔ اور یہ بھی یاد رکھیے کہ امتحان کبھی کبھی آتا ہے۔ اور جب امتحان میں انسان کامیاب ہوتا ہے تو اس کے اوپر گریڈ بھی ملتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہاں پر تو امتحان باقاعدہ ہوتا ہے، اس کے لیے اپلائی کرنا پڑتا ہے اور اس کا ایک پروسیجر ہوتا ہے۔ تو اس کے بعد پھر اگر وہ کامیاب ہو جائے تو پروموشن ملتی ہے۔ اللہ جل شانہ کے تکوینی نظام میں خود اس کا اپنا ہے کہ کس کو کس وقت آزمائے اور کس طریقے سے آزمائے۔ تو جس کو بھی آزما لیا جاتا ہے اور وہ کامیاب ہو جاتا ہے تو پھر اس کو پروموشن ملتی ہے۔ پھر اس کو اللہ تعالیٰ نوازتے ہیں۔ تو اس طرح مواقع سب کو ملتے رہتے ہیں۔ ب میں عرض کر رہا تھا کہ کمزوری اگر انسان کے اندر خود نہ ہو تو شیطان کچھ نہیں کر سکتا۔ کچھ نہیں کر سکتا۔ اب یہ کمزوری انسان کے اندر کیسے نہیں ہوگی؟ اس کمزوری سے انسان اپنے آپ کو کیسے بچائے گا؟ تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ انسان اپنے نفس کو کنٹرول کر لے۔ نفس کی تربیت کر لے۔ اور نفس کو خیر پر راضی کر دے۔ اور اس کے لیے اگر کوئی مشقت ہے تو اس مشقت کو اٹھانے پر راضی کر دے۔ جب یہ صورت حال ہو جائے گی تو ظاہر ہے پھر شیطان کچھ نہیں کر سکے گا کیونکہ شیطان تو نفس کے ذریعے سے کام کرتا ہے۔ اس وجہ سے کبھی بھی قرآن پاک میں یا حدیث شریف میں یہ آپ نہیں دیکھیں گے کہ شیطان کی اصلاح کر دو یا شیطان کی تربیت کر دو کہیں پر بھی نہیں ہے۔ یہ نہیں ملے گا۔ یہ ملے گا کہ نفس کی تربیت کر لو، نفس کی اصلاح کر دو۔
اصلاح نفس کے اوپر مطلب وہ ہیں جیسے "وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا"۔ نفس کی قسم اللہ پاک نے کھائی پھر اس کے بعد فرمایا "قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا"۔ یقیناً کامیاب ہو گیا وہ شخص جس نے اپنے نفس کی اصلاح کی اور یعنی اس کا تزکیہ کیا اور یقینا تباہ و برباد ہو گیا جس نے ایسا نہیں کیا یعنی اپنے نفس کی اصلاح سے غافل رہا اس کو میلا چھوڑ دیا۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر نفس کو کسی نے میلا چھوڑ دیا تو شیطان کے لیے کھلا چھوڑ دیا نا۔ اب تو شیطان اس کو کسی بھی وقت خراب کر سکتا ہے۔ اس کا ایمان بھی ضائع کروا سکتا ہ ے اور اس کا وہ دین ختم کر سکتا ہے، اس سے بڑے بڑے گناہ کروا سکتا ہے۔ اس سے بڑے بڑے ظلم کروا سکتا ہے۔ تو یہ صرف یعنی اس کی اصلاح نہ کرنے کی وجہ سے آپ نے اتنا نقصان اٹھایا۔
مثال کے طور پر میں اگر کہہ دوں کسی کو کہ بھئی اپنے بچوں کی تربیت کر لو جس نے اپنے بچے کی تربیت کی وہ کامیاب ہو گیا اور جس نے اپنے بچوں کی تربیت نہیں کی وہ تباہ و برباد ہو گیا یہ بات ٹھیک ہو گی یا نہیں ہو گی؟ ظاہر ہے اگر کوئی نہیں کرے گا تو نقصان تو ہو گا نا، وہ بچہ اس کے لیے کیا کیا مصیبتیں پیدا کرے گا کہیں کسی کے ساتھ لڑائی کرے گا کہیں کسی کی چوری کرے گا کہیں کسی کو گالی دے گا کہیں کسی کو۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ مختلف قسم کے مسائل اس کے لیے وہ پیدا کرے گا وہ بے شک کتنے شریف کیوں نہ ہوں۔
میرے خیال میں اب ایک اچھی بات ذہن میں آ گئی الحمد للہ، اللہ کا شکر ہے۔ جو دل کے اوپر محنت کرتا ہے۔ جو دل کے اوپر محنت کرتا ہے وہ کیسے ہے، اور جو نفس کے اوپر محنت کرتا ہے وہ کیسے ہے، وہ میں عرض کرنا چاہتا ہوں تاکہ یہ بات سمجھ میں آ جائے۔
دل کے اوپر جو محنت ہے وہ کیسے ہے؟ وہ ایسے ہے جیسے مثال کے طور پر یہ میری عینک ہے۔ اب یہ عینک ہے اگر سرخ ہے تو مجھے ساری چیزیں سرخ نظر آئیں گی۔ اگر یہ سبز ہے تو مجھے ساری چیزیں سبز نظر آئیں گی۔ اگر یہ زرد ہے تو مجھے ساری چیزیں زرد نظر آئیں گی۔ اور اگر اس کے اوپر میل جمع ہوا ہے۔ dust یا جو کوئی چیز مطلب اس کے اوپر اتنا جمع ہوا ہے کہ میں اس کے اندر دیکھنا چاہوں تو مجھے نظر نہیں آتا۔ اب یہ شیشہ موجود تو ہے اور اس کے اندر وہ صلاحیت بھی موجود ہے۔ سب کچھ اس کے اندر ہے لیکن اگر اس کو صاف نہ کیا جائے تو اس سے آپ کو کیا فائدہ؟ اس کی جو opacity ہے وہ آپ کے وہ جو ہے وہ عینک اس سے کوئی فائدہ آپ کو نہیں اٹھانے دے گی۔
اب یہ جو دل کی محنت ہے وہ کیا ہے؟ اس رنگ کو ہٹانا جو بھی رنگ ہے۔ جو بھی رنگ ہے اس رنگ کو ہٹانا، رنگ کو میں تعصب کہوں گا۔ ایک آدمی biased ہوتا ہے نا کسی چیز کے لیے biased ہو جائے۔ تو اس کو حق نظر نہیں آئے گا۔ ٹھیک ہے نا جو بھی کسی چیز کے لیے biased ہو گیا تو اس biasness کو بھئی ہٹانا ہے یہ محنت ہے دل کے اوپر ہاں اور دوسری بات یہ ہے کہ اس کی جو میل ہے اس کو بھی ہٹانا ہے۔ اس میل کو ہٹانے کی وجہ یہ ہے کہ اگر آپ میل نہیں ہٹائیں گے آپ کو کوئی چیز نظر نہیں آئے گی، اب حق موجود ہے لیکن آپ کو نظر نہیں آ رہا۔ حق موجود ہے مثلاً قرآن آپ کے پاس موجود ہے۔ احادیث شریف آپ کے پاس موجود ہیں، فقہاء کے اقوال موجود ہیں، بزرگان دین کے اقوال موجود ہیں۔ صحبت صالحین بھی موجود ہے۔ لیکن دل اندھا ہے۔ بصیرت نہیں ہے۔ نتیجتاً ہم اس سے کیا فائدہ اٹھا سکیں گے؟ ہم اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔
اس کے لیے اللہ پاک نے قرآن پاک میں فرمایا: ﴿إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَذِكْرَىٰ لِمَن كَانَ لَهُۥ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَى ٱلسَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ﴾۔ بے شک اس قرآن میں نصیحت ہے ان لوگوں کے لیے جن کا دل ہو۔ یا وہ کان لگا کر بات ہی سنتے ہوں۔ اب اگر اس قلب سے مراد یہ گوشت پوست کا دل ہے تو یہ تو سب کا ہے۔ تو پھر کیا تخصیص ہے؟ پھر تو قرآن و سنت سے سب کو فائدہ اٹھانا چاہیے مطلب اس کے اندر تو پھر کوئی رکاوٹ نہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ اللہ پاک کوئی پیغام دینا چاہتے ہیں اس میں تو وہ دل سے مراد وہ روحانی قلب ہے۔
یعنی انسان کا دل اگر ٹھیک ہے امراض سے پاک ہے۔ وہ صحیح دل ہے۔ تو جب یہ امراض سے پاک دل ہوگا، تو یہ کیا ہوگا؟ یہ قرآن کو دیکھے گا تو نصیحت پکڑے گا۔ رکاوٹ نہیں ہوگی۔ سنت کو دیکھے گا تو نصیحت پکڑے گا، نیک بزرگوں کے اقوال سنے گا، نیک لوگوں کے، اس سے نصیحت پکڑے گا۔ دنیا میں کہیں پر ایک خیر بھی ہو نا، تو اس خیر کو لے لے گا۔ اس کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔ اور اگر دل نہیں بنا ہوا نا، -نَعُوذُ بِٱللَّهِ مِنْ ذَٰلِكَ- پیغمبر بھی آ جائے نا تو اس کی اصلاح نہیں ہوگی۔ مثلاً ہمارے مطلب ظاہر ہے وہ پیغمبر کا بھی مخالف ہو جائے گا۔ ابو جہل کے ساتھ کیا ہوا تھا؟ پیغمبر کا بھی مخالف ہو جائے گا۔ تو مطلب یہ ہوا کہ دل کو درست کرنا چاہیے، ہدایت کے نظام کی جو پہلی سیڑھی ہے، وہ قلب کی اصلاح ہے۔ قلب کی اصلاح ضروری ہے، اس کے بغیر انسان کو ہدایت نہیں نظر آئے گی۔
تو اب اگر کسی نے دل کی محنت کی، تو یہ ایسا ہوا جیسے شریف باپ۔ نیک صالح مرد۔ لیکن اس نے اپنے نفس کی محنت نہیں کی، تو ایسا ہے جیسے کہ اس کا بچہ بگڑا ہوا ہے۔ اب خود تو شریف ہے۔ وہ نہیں چاہتا، وہ کیا چاہتا ہے کہ مطلب میرا بچہ غلط کاموں میں مصروف نہ ہو، دوسری چیزیں نہ کرے، سارا، وہ اس کی کوشش کرے گا، لیکن کیا ہوگا؟ اس کے بچے کی تربیت تو نہیں ہوئی۔ نتیجتاً وہ اس کے لیے مصیبت بناتا جائے گا۔ یہ حل کرتا جائے گا اور وہ مسائل بناتا جائے گا۔
تو نفس کی تربیت جو ہے یہ بذات خود الگ مقصود ہے۔ لہٰذا قرآن پاک میں نفس اور قلب، اور دونوں کے علیحدہ علیحدہ ذکر ہیں۔ یہ ایک نہیں ہیں۔
تو قلب کے لیے تو یہ فرمایا ﴿إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَذِكْرَىٰ لِمَن كَانَ لَهُۥ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَى ٱلسَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ﴾۔ یا یہ فرمایا ﴿يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ إِلَّا مَنْ أَتَى ٱللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ﴾۔ اس طریقے سے قلوب کے بارے میں اور ما شاء اللہ بہت زیادہ قرآن پاک موجود ہے اور احادیث شریفہ بھی موجود ہیں، بالکل واضح واضح۔ لیکن ساتھ ساتھ نفس کا علیحدہ ذکر ہے۔ تو یہی بات ہے کہ نفس کی بھی تربیت کرنی چاہیے، نفس کو خوگر بنانا صحیح کاموں کا، مجاہدے کے ذریعے سے۔
اب مثال کے طور پر ایک شخص ہے۔ وہ فجر کی نماز پڑھنے کا عادی نہیں ہے۔ فجر کی نماز پڑھنے کا عادی نہیں۔ اب اس کو فجر کی نماز کے لیے اگر ہم کہتے ہیں، تو نہیں اٹھ سکتا، وہ کہتا ہے میں کیا کروں جی میں الارم لگاتا ہوں لیکن اٹھ ہی نہیں سکتا۔ اور یہ ہو جاتا ہے، وہ ہو جاتا ہے۔ تو میں نہیں اٹھ سکتا۔ بے شک اس کا دل چاہے بھی لیکن نہیں اٹھ سکتا۔ اب آپ اس کو کسی طریقے سے اٹھا دیں ایک دفعہ، منت سماجت کے ذریعے سے، کسی بھی طریقے سے آپ اس کو اٹھا دیں۔ تو اب اگر دوسرے دن اٹھنا ہوگا تو اس اٹھنے کے لیے جتنی کوشش کی ضرورت تھی، اتنی نہیں ہوگی، تھوڑی سی کم ہو جائے گی۔ اور دو دن اگر کر لے گا تو تیسرے دن اس سے بھی کم ہو جائے گی۔ تین دن کر لے گا تو چوتھے دن اس سے بھی کم ہو جائے گی۔ چوتھے دن کر لے گا تو پانچویں دن اس سے بھی کم ہو جائے گی۔ اور تجربہ یہ ہوا ہے کہ چالیس دن تک اگر کر لے گا تو یہ نمازی ہو جائے گا۔ اس کے بعد پھر نماز چھوڑنا اس کے لیے مشکل ہو گا۔ تو اب انسان تو وہی ہے۔ لیکن پہلے ایک کام مشکل تھا اب مشکل اب آسان ہو گیا۔ تو اس کا مطلب ہے کہ نفس کو مجاہدے سے tame کیا جا سکتا ہے۔ یعنی وہ چیز جو کہ اس کے لیے بڑی مشکل تھی۔ وہ اب آسان ہو گئی۔
تو نفس کی اصلاح ہے اس کی مخالفت میں۔ اس کی نہ ماننے میں۔ اگر اس کی بات کوئی مانے گا تو وہ مزید وہ شیر ہوتا جائے گا۔ مزید یہ ہے کہ وہ وہ آگے بڑھتا جائے گا۔ تو ایسی صورت میں نفس کی تربیت کے لیے مجاہدہ ضروری ہے۔
اور مجاہدے کی مثال ایسی ہے کہ جیسے یہ کاغذ ہے۔ اگر یہ کاغذ، ہم اس طرح فولڈ کر لیں۔ اس طرح فولڈ کر لیں۔ اب فولڈ ہو گیا، اب یہ ہے کہ، مکمل سیدھا نہیں ہو سکتا۔ ہم نے کھول دیا، لیکن مکمل سیدھا نہیں، پھر اس کو دوسری سمت میں اس کو فولڈ کرنا پڑتا ہے، پھر یہ سیدھا ہو سکے گا۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ، نفس کو ٹھیک کرنے کے لیے صرف اتنا مجاہدہ کافی نہیں ہے جو اس کام کرنے کے لیے ضروری ہے۔ بلکہ اس سے زیادہ کی ضرورت ہے۔ اور اصل میں کہتے اسی کو مجاہدہ ہے۔ جس کو تصوف میں مجاہدہ کہتے ہیں وہ یہی چیز ہے۔ یعنی اس level سے زیادہ کا مجاہدہ۔
مثلاً آپ کو چاہیے کہ جھوٹ نہ بولیں، غیبت نہ کریں۔ غیبت بولنے کی خواہش کو دبانا، جھوٹ بولنے کی خواہش کو دبانا، یہ آپ سے مقصود ہے۔ لیکن اگر آپ خاموش رہنا نہیں سیکھیں گے نا، بالکل خاموش رہنا، تو اس پہ قادر نہیں ہو سکیں گے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ روانی میں انسان جھوٹ بھی بول لیتا ہے، انسان غیبت بھی کر لیتا ہے۔ لیکن اگر یہ کچھ عرصے تک خاموش رہنا سیکھ لے گا، تو اس پراپرٹی کو پھر وہ استعمال کرے گا جب جھوٹ بولنے کی بات آئے گی اور اس وقت خاموش ہو جائے گا۔ وہ سیکھ تو چکا ہے، خاموش تو رہ سکتا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ یعنی نفس کو ٹھیک کرنے کے لیے اس سے زیادہ کے مجاہدے کی ضرورت ہے۔ جو مطلوب چیز ہے اس سے زیادہ کی۔
یہ وہ چیز ہے جو عام لوگوں کو سمجھ میں نہیں آتی۔ اور صوفیاء کو سمجھ میں آتی ہے۔ کیونکہ صوفیاء عملی لوگ ہیں۔ عام لوگ کہتے ہیں بس ٹھیک ہے نا نماز پڑھو نا تمہیں کس نے روکا ہے؟ تو ہم بھی کہتے ہیں نا پڑھو نا تمہیں کس نے روکا ہے پڑھ لو، پڑھ کے دکھا دو۔ ہم آپ سے کچھ بھی نہیں کہیں گے۔ مطلب جو problem ہے وہ تو پریکٹیکل ہے نا۔ سارے لوگ علمی طور پر جانتے ہیں کہ جھوٹ بولنا برا ہے، غیبت کرنا برا ہے۔ بد نظری کرنا برا ہے، ملاوٹ کرنا برا ہے۔ دھوکہ کرنا برا ہے، کسی کا ناحق مال کھانا برا ہے۔ یہ سب لوگ جانتے ہیں علما، علمی طور پر کسی کو اشکال نہیں۔ لیکن کثیر خلق اس کے اندر مبتلا ہے اور وہ اس کو جانتا ہے۔ تو اگر ہم کہہ دیں نہیں بس ٹھیک ہو جاؤ۔ تو پھر ہو جاؤ۔ اگر ایسی بات ممکن ہے تو ہو جاؤ۔
عملی جواب اس کا دوسرا ہے۔ عملی جواب یہ ہے کہ ہمارے پاس تو ایسے لوگ آتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں حضرت ہم تو پوری کوشش کر رہے ہیں لیکن نہیں ہو رہا کیا کریں؟ کیا کریں؟ تو کیا ہم کہیں کہ ہم رونا شروع کر لیں، ہم بھی ساتھ ہی رونا شروع کر لیں۔ کوئی طریقہ تو بتانا پڑے گا نا۔ تو وہ طریقہ مجاہدے کا ہے۔ بغیر مجاہدے کے انسان کا نفس سیدھا نہیں ہوتا۔
مسنون مجاہدے بھی ہیں۔ مسنون مجاہدے بھی ہیں۔ لیکن ایک ہوتے ہیں کچھ لوگ جو کہتے ہیں بس اتنا تک ہے۔ اور دوسرے جو عملی لوگ ہیں وہ کہتے ہیں اس سے ہمیں پتہ چل گیا کہ ایک طریقہ ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟ مسنون مجاہدوں میں کیا ہے؟ مثلاً روزہ مسنون مجاہدہ ہے۔ ﴿يَا أَيُّهَا ٱلَّذِينَ آمَنُواْ كُتِبَ عَلَيْكُمُ ٱلصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾۔ اللہ پاک علت بیان کر رہے ہیں۔ حالانکہ علت بیان کرنا اللہ پاک کی ذمہ داری تو نہیں۔ اللہ پاک اس میں علت، اب علت جو بیان کی ہے تو اس میں کوئی حکمت ہے نا کہ لوگ سمجھ جائیں۔ اے ایمان والو تمہارے اوپر رمضان شریف کے روزے فرض کیے گئے جیسے تم سے پہلوں کے اوپر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ حاصل کر لو۔ اب تقویٰ حاصل کرنا تو ہے، کیونکہ ﴿أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ ٱللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ٱلَّذِينَ آمَنُواْ وَكَانُواْ يَتَّقُونَ﴾۔ ﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ ٱللَّهِ أَتْقَاكُمْ﴾۔ اور اس طرح اور بھی تقویٰ کے بارے میں بہت زیادہ آیات مبارکہ ہیں۔ اب تقویٰ کو حاصل کرنا تو ہے لیکن کیسے حاصل کریں؟ تو ایک طریقہ اللہ پاک نے روزے کا بتا دیا۔ روزے کا طریقہ بتا دیا۔ اب روزہ مجاہدہ ہے۔ اور مجاہدہ عمل کرنے کے لیے جتنی ضرورت ہے اس سے زیادہ کا ہے۔ مثلاً آپ ٹھیک ہے جائز چیز ہے مطلب کھانا پینا، وہ ساری چیزیں جو جائز ہیں۔ وہ روک دی گئی ہیں وہاں صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک، روک دی گئیں۔ نہیں کرنا۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس سے انڈیکیشن ہو گئی کہ مجاہدہ جو ہے یہ کیا جا سکتا ہے اور مجاہدہ کرنا چاہیے۔ مجاہدہ کرنا چاہیے۔
تو مشائخ کرام جو مجاہدات کرواتے ہیں وہ اسی ببنیاد پر کرواتے ہیں کہ جس وقت یہ اس مجاہدے کی وجہ سے ان کا نفس ماننا سیکھ لے گا۔ تو پھر اس سے مجاہدہ ہٹا دیا جائے گا۔ وہ جو مطلوب مجاہدہ ہے وہ رہ جائے گا اور جو علاجاً مجاہدہ ہے اس کو ہٹا دیا جائے گا۔
مثلاً ایک شخص ہے، اس کی food poisoning ہو گئی ہے۔ تو اس کو ڈاکٹر صاحب کیا کہیں گے؟ کچھ تو دوائی دے گا کچھ ساتھ کچھ کیا کہے گا؟ ڈاکٹر اس کو پرہیزی علاج رکھے گا جب تک واپس normal نہ آ جائے۔
SPEAKER جب تک normal نہ آ جائے، پرہیزی علاج کرے گا۔ ٹھیک ہے نا؟ Normal روٹی نہیں کھا سکتا۔ حالانکہ کون سی medical کتاب میں لکھا ہے کہ بھئی normal روٹی نہیں کھاؤ؟ وہ تو ضرورتاً ہے۔ جب تک وہ ٹھیک نہیں ہے تو اس وقت تک normal روٹی نہیں کھا سکتا۔ جب ٹھیک ہو جائے گا تو پھر normal روٹی کھانا شروع کر دے گا۔ تو اس وقت بھی ایک مجاہدہ تو برقرار ہو گا نا کہ خراب چیز نہ کھاؤ۔ وہ مجاہدہ تو ہو گا نا۔ اب سخت بھوک لگی ہوئی ہے۔ اوہو۔ سخت بھوک لگی ہوئی ہے۔ لیکن مجھے پتا ہے کہ میں جو چاول کھا رہا ہوں اس کے اندر ایسی چیز شامل ہے جو کہ میری صحت کے لیے مضر ہے۔ میرے لیے تو خیر یہ آسان ہے سمجھنا، پتا نہیں آپ لوگوں کے لیے سمجھنا آسان ہے یا نہیں۔ مثلاً مرچ اس میں پڑی ہوئی ہے کہ میں تو نہیں کھاؤں گا۔ میرے لیے تو اس وقت مجاہدہ کرنا زیادہ بہتر ہے نا کہ میں نہ کھاؤں اس کو۔ کیوں کھاؤں گا تو ایک ہفتے کے لیے میرا مسئلہ شروع ہو جائے گا۔ تو اب یہ بات ہے کہ ظاہر ہے مجھ، میرے لیے اس وقت وہ مجاہدہ آسان ہے نا۔ کہ میں اس کو نہ کھاؤں۔ کیوں؟ کھاؤں گا تو پھر مجھے زیادہ کرنا پڑے گا۔ تو یہ جو بات ہے کہ یہ جو مجاہدہ ہے۔ ضرورت کا مجاہدہ تو ہر وقت ہے کہ اپنے آپ کو مضر چیزوں سے بچاؤ۔ مثلاً غیر محرم آ رہا ہے، نہیں دیکھنا، یہ مجاہدہ لازم ہے۔ اتنا مجاہدہ تو ہر ایک کے لیے ضروری ہے پھر بھی۔ ٹھیک بھی ہو جائے۔ ہاں کہ وہ پھر ایسے کام نہ کرے جس سے وہ۔ لیکن اگر غلطی ہو جائے اور پھر اس کی وجہ سے بیمار ہو جائے تو پھر وہ۔ علاجی مجاہدہ پھر شروع ہو جائے گا۔ اور علاجی مجاہدہ اس کو اس وقت تک کرنا پڑے گا جب تک وہ ٹھیک نہ ہو جائے۔
تو ایک علاجی مجاہدہ ہے اور ایک ہے working مجاہدہ۔ یعنی عملی مجاہدہ جو عام انسان کو پیش آتا ہے۔ تو وہ تو ٹھیک ہے لیکن جو علاجی مجاہدہ ہے یہ اس وقت ہو گا جب اس کی ضرورت ہو گی۔ اب کمال کی بات یہ ہے یہاں پر ایک مشکل چیز ہے۔ یہاں پر مشکل چیز یہ ہے کہ یہاں تو بیماری نظر آ جاتی ہے۔ میرا پیٹ خراب ہے۔ ٹھیک ہے نا، لہٰذا ڈاکٹر کے پاس جاؤں گا۔ لیکن کوئی ایسی بیماری ہو جس کو مریض بیماری نہ جانتا ہو۔ اور اس کا معالج جانتا ہو۔ کہ یہ تو بہت سخت بیماری ہے اس کے تو آگے یہ یہ مسائل ہوں گے۔ تو ایسی صورت میں کیا کرنا پڑے گا؟ کیا کرنا پڑے گا ڈاکٹر صاحب؟ پہلے convince کرنا پڑے گا۔ پہلے convince کرنا پڑے گا کہ تم بیمار ہو۔ تم بیمار ہو۔ Schizophrenia کا مریض جو ہوتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو مریض سمجھتا ہے؟ وہ کہتا ہے سارے بیمار ہیں۔ وہ سب کو بیمار سمجھتا ہے۔ اپنے آپ کو صحت مند سمجھتا ہے۔
تو اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ ہماری جو روحانی بیماریاں ہیں اس قسم کی ہوتی ہیں۔ اگر دل تھوڑا سا صحیح ہو نا، تھوڑا سا صحیح ہو۔ تو اس کو تو اپنی بیماری کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر بالکل ہی بگڑا ہوا ہو تو اس کو بیماری بیماری ہی نظر نہیں آئے گی۔ اس لیے کہتے ہیں کہ جس کا full hundred percent تکبر ہو نا وہ کبھی بھی اپنے آپ کو متکبر نہیں سمجھے گا۔ بلکہ ان تمام چیزوں کو اپنے rights سمجھے گا۔ اور اسے حیرانی ہو گی کہ لوگ مانتے کیوں نہیں۔ کہ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، دیکھیں میرے ساتھ سیدھی سادی بات ان کو سمجھ نہیں آ رہی۔ کہ ان کو ایسا کرنا چاہیے۔ حالانکہ اگر وہ تھوڑی دیر کے لیے عقلاً بھی سوچ لے کہ بھئی باقی بھی تو انسان ہیں۔ تم کیا کوئی آسمان سے اتری ہوئی مخلوق ہو؟ جیسے تمہارے rights ہیں اس طرح دوسروں کے بھی rights ہیں۔ مثال کے طور پر ایک آدمی ہے، کمی ہے۔ کمی سے مراد یہ ہے کہ وہ بیچارے کا معاشرے کے اندر کوئی value نہیں ہے۔ اب ایک چوہدری صاحب یا خان صاحب۔ کوئی وڈیرہ۔ کوئی بڑے post والا آدمی۔ ہاں وہ گزر رہا ہو اور وہ کمی گزر رہا ہو اس کو کہے گا اوئے فلانے ادھر آ جاؤ۔ اچھا وہ دوڑا دوڑا آ جائے گا، یہ کام، یہ لے لو، فلاں اس کو پہنچا دو۔ نہ پیسے طے کیے کہ میں آپ کو اس کے پیسے دوں گا۔ نہ اس کا شکریہ ادا کیا۔ بلکہ اس کو دھمکایا۔ اور اگر وہ بات نہیں مانتا تو اس کا مخالف ہو جاتا ہے، مجھے بتاو اس وقت اس کی مخالفت کی گنجائش ہو۔ اس نے اس کا کون سا حق توڑا ہے۔ اس کا اس پر کوئی حق تو نہیں۔ بالکل یہ جیسے پولیس والے لوگ کرتے ہیں۔ مطلب جو officials ہوتے ہیں مطلب جن کا public dealing میں چلتی ہے بات، تو وہ اس طرح کرتے ہیں، بیگار میں لوگوں کو پکڑتے ہیں۔ یہ گاڑیاں نہیں پکڑتے؟ اور جو بھاگتے ہیں تو ان کو بس سزا دیتے ہیں۔ بھئی تمہارا کیا قصور تھا، اپنی گاڑی بچائے نا۔ لیکن نہیں وہ بات نہیں مانے گا وہ کہے گا جی دیکھیں نا اس نے میری بات نہیں مانی۔ تو وہ وہی والی بات، میرے سامنے کئی واقعات اس طرح ہوئے ہیں اس وجہ سے میں بات کرتا ہوں۔ یہ پولیس والے جس طرح کرتے کرتے ہیں۔ ایک چنگے بھلے آدمی کو پکڑ کر اس کو تھپڑ لگا دیں گے اور اگر اس نے جواب دیا، کہتے ہیں مقابلہ پولیس۔ اس کے اوپر دفعہ لگا دیں گے مقابلہ پولیس کا۔ تو یہ سارے تکبر کی وجہ سے ہے نشے کی وجہ سے ہے۔ جیسے ہوتا ہے نا شراب کا نشہ، اس طرح طاقت کا بھی نشہ ہوتا ہے۔ مال کا بھی نشہ ہوتا ہے۔ اور اس نشے کی حالت میں وہ normal نہیں ہوتا کہ اس کو بات سمجھ آئے کہ میں کر کیا رہا ہوں۔ وہ اپنے آپ کو justified سمجھے گا۔
تو یہی بات ہے کہ انسان بعض دفعہ ایسا بیمار ہو جاتا ہے کہ اس کو اپنی بیماری نظر نہیں آتی۔ اس وقت سب سے بڑا کام یہ ہوتا ہے کہ اس کو یہ سمجھائے کہ تم بیمار ہو۔