انبیاء کا حقیقی منصب، علمائے کرام کا معاشرتی مقام اور ہماری غلط فہمیاں

درس نمبر 257، سورۃ الانعام، آیات: 46 تا 50، اشاعتِ اول: 12 اگست، 2022، بمطابق 13 محرم الحرام، 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. پیغمبروں کی ذمہ داری صرف خوشخبری سنانا اور ڈرانا ہے، وہ نہ تو اللہ کے خزانوں کے مالک ہیں اور نہ ہی غیب کا علم رکھتے ہیں۔
  2. آج کل لوگوں کا پیروں سے غیب کے علم اور فوری دنیاوی فوائد کے حصول کی توقع رکھنا سراسر جہالت ہے۔
  3. یہ معاشرتی تضاد ہے کہ مذہبی پیشواؤں سے خدائی اختیارات کی توقع تو رکھی جاتی ہے مگر ان کا سماجی رتبہ کمیوں جیسا سمجھا جاتا ہے۔
  4. اللہ کے ساتھ صحیح تعلق قائم کرنے کی خاطر علماء سے علم اور مشائخ سے اخلاص کے ساتھ عمل کی تربیت حاصل کرنی چاہیے۔
  5. چونکہ تمام صفات صرف اللہ کی ہیں، اس لیے "اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِينُ" کے مصداق ہر قسم کی مدد اسی سے مانگنی چاہیے۔
  6. معجزات اور کرامات اللہ کی مرضی سے مخصوص حالات میں ظاہر ہوتے ہیں، یہ انسان کے اختیار میں اور ہر وقت نہیں ہوتے۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَخَذَ اللّٰهُ سَمْعَكُمْ وَ اَبْصَارَكُمْ وَ خَتَمَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ مَّنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِهٖؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ هُمْ یَصْدِفُوْنَ(46) قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ بَغْتَةً اَوْ جَهْرَةً هَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَ(47) وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَۚ فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(48) وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا یَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ(49) قُلْ لَّاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآىٕنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ اِنِّیْ مَلَكٌۚ اِنْ اَتَّبِـعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُؕ اَفَلَا تَتَفَكَّرُوْنَ۠ (50)

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: (اے پیغمبر! ان سے) کہو: ”ذرا مجھے بتاؤ کہ اگر اللہ تمہاری سننے کی طاقت اور تمہاری آنکھیں تم سے چھین لے اور تمہارے دلوں پر مہر لگادے، تو اللہ کے سوا کونسا معبود ہے جو یہ چیزیں تمہیں لا کر دیدے؟“ دیکھو، ہم کیسے کیسے مختلف طریقوں سے دلائل بیان کرتے ہیں، پھر بھی یہ لوگ منہ پھیر لیتے ہیں ﴿46﴾ کہو: ”ذرا یہ بتاؤ کہ اگر اللہ کا عذاب تمہارے پاس اچانک آئے یا اعلان کر کے، دونوں صورتوں میں کیا ظالموں کے سوا کسی اور کو ہلاک کیا جائے گا؟“ ﴿47﴾

حاشیہ: کفارِ مکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی کہتے تھے کہ اللہ کے جس عذاب سے آپ ہمیں ڈراتے ہیں، تو وہ عذاب ابھی کیوں نہیں آجاتا؟ شاید وہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر عذاب آیا تو مؤمن کافر سبھی ہلاک ہوجائیں گے۔ اس کے جواب میں فرمایا جا رہا ہے کہ ہلاک تو وہ ہوں گے جنہوں نے شرک اور ظلم کا ارتکاب کیا ہے۔

ترجمہ: ہم پیغمبروں کو اسی لئے تو بھیجتے ہیں کہ وہ (نیکیوں پر) خوشخبری سنائیں، اور (نافرمانی پر اللہ کے عذاب سے) ڈرائیں۔ چنانچہ جو لوگ ایمان لے آئے اور اپنی اصلاح کرلی، ان کو نہ کوئی خوف ہوگا، اور نہ وہ غمگین ہوں گے ﴿48﴾ اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا، ان کو عذاب پہنچ کر رہے گا، کیونکہ وہ نافرمانی کے عادی تھے ﴿49﴾ (اے پیغمبر!) ان سے کہو: ”میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں، اور نہ میں غیب کا (پورا) علم رکھتا ہوں، اور نہ میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ۔

حاشیہ: یہ ان طالبات کا جواب ہے جو کفار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا کرتے تھے کہ اگر تم پیغمبر ہو تو دولت کے خزانے تمہارے پاس ہونے چاہئیں، لہٰذا فلاں فلاں معجزات دکھاؤ۔ جواب میں فرمایا گیا ہے کہ پیغمبر ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ خدائی کے اختیارات مجھے حاصل ہوگئے ہیں، یا مجھے مکمل علم غیب حاصل ہے یا میں فرشتہ ہوں۔ پیغمبر ہونے کا مطلب صرف یہ ہے کہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آتی ہے اور میں اسی کا اتباع کرتا ہوں۔

ترجمہ: میں تو صرف اُس وحی کی اتباع کرتا ہوں جو مجھ پر نازل کی جاتی ہے۔“ کہو کہ: ”کیا ایک اندھا اور دوسرا بینائی رکھنے والا دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ پھر کیا تم غور نہیں کرتے؟“ ﴿50﴾

یہاں پر ایک ہمارے لیے ایک بات ہے، آج کل کے دور کے لحاظ سے۔ وہ یہ ہے کہ آج کل ظاہر ہے جو لوگ پیر کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ تو ان کے خیال میں بھی ان کے پاس ایسی چیزیں ہونی چاہئیں۔ مطلب آج کل مطلب یعنی ایک تو یہ والی بات ہے کہ وہ بتا دیا کرے وقت پر کہ آپ کے ساتھ کیا ہو گا تو ظاہر ہے غیب کے علم والی بات ہو گئی تو غیب کا علم تو اگر پیغمبر کے پاس نہیں ہے تو پیر کے پاس کدھر ہو گا؟ اور دوسری بات یہ ہے کہ یعنی جو دنیا کے جو فوائد ہیں وہ مطلب ہے کہ ہمیں حاصل ہو جائیں، مطلب نوکری صحیح وقت پر مل جائے، دکان ہماری ٹھیک ٹھاک چل پڑے اور کاروبار ہمارا ٹھیک ٹھاک ہو، گھروں میں کوئی مسئلہ نہ ہو۔ ظاہر ہے مطلب یعنی بلکہ میں آپ کو بتا دوں، اللہ پاک ہمیں معاف کرے۔ اس وقت صورتحال کیا ہے؟ اس وقت صورتحال یہ ہے، میں یہاں کی بات نہیں کرتا ہوں یہ تو کچھ مہذب علاقے ہیں۔ یعنی لیکن وہ جیسے سنٹرل پنجاب میں، جنوبی پنجاب میں، سندھ میں، ہندوستان کے بعض علاقوں میں اتنی جہالت ہے۔ کہ عالم کو، یعنی مولوی صاحب کو جو مسجد میں امام ہوتا ہے۔ اور پیر کو ایک کمی کے برابر سمجھا جاتا ہے۔ بالکل تقریبا جیسے مطلب یہ کہ ان کو ہمارے پشتو میں اس کو اڑہ کہتے ہیں اڑہ یعنی مطلب وہ جو کیا ہوتے ہیں جو سال میں دیتے ہیں، کوئی گندم دیتے ہیں یا کیا چیز دیتے ہیں، تو اڑہ کہتے ہیں۔ تو وہ اڑہ دیتے ہیں۔ تو اڑہ بس دے دیا تو بس اب ان کا غلام ہو گیا۔ اب ہر چیز کا یہ ہے کہ وہ دم، درود، تعویذ مطلب اس قسم کی یہ ساری چیزیں مطلب ان کے ذمے ہیں۔ یعنی وہ اس کا انکار نہیں کر سکتا۔ ہاں وہ پورے سال کے لیے اس نے ذمہ داری لے لی۔ ہاں بالکل مطلب ہے اس طرح ہے یا نہیں ہے؟ تو بس یہی سب سلسلہ مطلب یہ چل رہا ہے۔ تو ایک طرف تو یہ بات ہے کہ ان کو عالم غیب بناتے ہیں۔ جو خدائی صفت ہے۔ اور ان کو ہر قسم کے تمام کاموں کے لیے مطلب گویا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ بس وہ یہ ہر کام کریں اور دوسری طرف سٹیٹس ان کو کیا دیا ہے؟ سٹیٹس ان کو ایک کمی کا دیا ہے، جیسے مطلب ہے کہ وہ کمہاروں کو دیتے ہیں، جس طرح مطلب ہے کہ وہ نائیوں کو دیتے ہیں جس طرح مطلب وڈیروں کو بھی دیتے ہیں بادشاہ جس طرح مطلب وہ تو وہ سارا معاملہ بالکل ان کے ساتھ بھی ایسے کرتے ہیں۔ تو ظاہر ہے اس میں قصور دونوں طرف کا ہے۔ یعنی وہ لوگ جو کہ اس معاملے میں اپنے آپ کو اس پر مطمئن کر لیتے ہیں اور یہی مطلب اس پہ رہتے ہیں تو ان کا بھی قصور ہے کہ انہوں نے اپنا سٹیٹس بہت گرا دیا۔ اور دوسری طرف جو عوام ہے وہ بھی اپنے اخلاق سے اور اپنی عقل سے اتنے گرے ہوئے ہیں۔ تو وہ یعنی وہ بھی اس قسم کی حرکتیں کرتے ہیں۔ تو ہم لوگوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ایک تو یہ بات ہے کہ ساری صفات اللہ کی ہیں۔ تو اللہ کے ساتھ تعلق جوڑنا چاہیے۔ پہلی بات۔ دوسری بات یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ تعلق جوڑنے کے لیے دو ذریعے ہیں۔ ایک تو علم حاصل کرنا ہے دوسرا عمل کرنا ہے اخلاص کے ساتھ۔ علم حاصل کرنے کے لیے علماء کے ساتھ تعلق ہے۔ اور تربیت حاصل کرنے کے لیے عمل کرنے کے لیے مشائخ کے ساتھ تعلق ہے۔ تو علماء اور مشائخ کے ساتھ تعلق اس چیز کے لیے ہو کہ ہم اللہ کے ساتھ تعلق اپنا صحیح بنائیں۔ اور مانگیں اللہ تعالی سے۔ اور اس کا اللہ پاک نے قرآن پاک میں بالکل واضح طور پر سورہ فاتحہ میں یہ بتایا ہے کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِينُ۔ ہم تیری عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں۔ تو جب یہ بات کھل کے اور بار بار ہم ہر رکعت میں کہہ رہے ہیں۔ تو اس کا ہمارے اوپر اثر ہونا چاہیے نا کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِينُ۔ اچھا کمال کی بات یہ ہے کہ قرآن پاک کی جب آیت کہتے ہیں نا یعنی جو قولی دلیل ہے وہ اس سے زیادہ مطلب مضبوط ہوتی ہے نا کیونکہ اس میں کوئی دوسری بات ہو نہیں سکتی۔ تو یہ بات ہے بالکل قرآن پاک میں آیا ہے واضح الفاظ میں اور اس کے علاوہ اگر بعض دفعہ کچھ واقعات آئے ہیں کہ کسی بزرگ کے ہاتھ پر اللہ نے کرامت دکھا دی پیغمبر کے ہاتھ پہ معجزہ ہے۔ یہ وہ واقعات ظاہر ہے مطلب ایک selected ہوتے ہیں اب مرضی کے مطابق نہیں ہوتے ہیں جب اللہ چاہتے ہیں تو ہوتے ہیں ورنہ اس کے علاوہ چاہے بے شک آدمی الٹا لٹک جائے تو بھی نہیں ہوتے ہیں۔ تو یہ ساری باتیں اگر ہم دیکھیں کہ دیکھو یہ مسلسل ہے اور ہر وقت ہے اور یہ کبھی کبھی ہے اور selected ہے اور ہر جگہ ہے نہیں اور ہر ایک کے لیے ہے نہیں۔ تو پھر ہم اس کے لیے مطلب ان تمام اس چیز کو کیسے بھول جائیں؟ تو دیکھیں نا قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْاَعْمٰى وَالْبَصِيرُ یہاں پر اس آیت کی ضرورت ہے۔ کہ کیا اندھا اور دوسرا بینائی رکھنے والا دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ یعنی جو اس چیز کو جانتا ہے نظر جس کو آتا ہے صحیح مطلب وہ سمجھتا ہے کیونکہ بصیرت بھی ہوتی ہے نا بصارت کے ساتھ تو مطلب یہ ہے کہ کیا جس کو بصیرت حاصل ہے وہ بصیرت نہ رکھنے والے آدمی اس کی طرح ہو سکتا ہے مطلب ظاہر ہے وہ نہیں ہو سکتا۔ تو اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ ہم لوگوں کو اس چیز کا یعنی خیال رکھنا چاہیے کہ ہم لوگ ذرا تھوڑا سا سوچیں غور کریں کہ ہم کر کیا رہے ہیں

اَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ۔

ترجمہ: پھر کیا تم غور نہیں کرتے؟“ ﴿50﴾

اس پر ہمیں غور کرنا چاہیے اللہ جل شانہ ہم سب کو سمجھ عطا فرما دے

وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔