حفاظتِ اعمال: ایک قرآنی مثال کے آئینے میں
بَابٌ فِي الْمُحَافَظَةِ عَلَى الْأَعْمَالِ، درس نمبر: 221، اشاعتِ اول: 2 مارچ، 2023 بمطابق 9 شعبان، 1444 ہجری
- انسان کو اپنے اعمال کی حفاظت کرنی چاہیے اور انہیں خود اپنے ہاتھوں سے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
- قرآن و حدیث میں اعمال برباد کرنے کی تشبیہ اس عورت سے دی گئی ہے جو محنت سے سوت کات کر اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دے۔
- مکہ کی ایک مجنون عورت کے سوت کات کر روزانہ نوچ ڈالنے کے واقعے پر یہ متعلقہ آیت نازل ہوئی۔
- مشقت کے بعد اپنے ہی عمل کو ریزہ ریزہ کر ڈالنا ایک پاگل پن ہے جس سے بچنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
- انسان کو اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہیے کہ وہ اس کے اعمال کو ضائع ہونے سے محفوظ رکھے۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
وَقَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَا تَكُونُوا كَالَّتِي نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِن بَعْدِ قُوَّةٍ أَنكَاثًا﴾ (نحل: 92)
ترجمہ: نیز فرمایا: ”اور اس عورت کی طرح نہ ہونا جس نے محنت سے سوت کاتا پھر اس کو توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔“
شانِ نزول:
مکہ میں ایک عورت جس کا نام سعیدہ اسدیہ تھا وہ پاگل سی تھی یا اس کا نام ریطہ بنت عمرو بن سعد بن کعب اور بقول ابن کثیر خرقاء نام تھا۔ وہ دن بھر سوت کاتتی اور اپنی باندیوں سے بھی کتواتی تھی، صبح سے دوپہر تک یہ کام کرتی! جب دوپہر ہوتی تو وہ ریزہ ریزہ کر کے نوچ ڈالتی، یہی اس کا روزانہ کا معمول تھا اس پر یہ آیت بالا نازل ہوئی۔ اس آیت شریفہ میں ترغیب ہے کہ تم بھی اس پاگل عورت کی طرح مت ہو جانا کہ وہ محنت کر کے اپنے عمل کو خود ہی ضائع کرتی تھی تم اپنے اعمال کی حفاظت کرنا ضائع مت کرنا۔
اللہ جل شانہ ہم سب کو اپنے اعمال کو ضائع کرنے سے بچائے۔ آمین۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔