محبتِ رسول ﷺ کا حقیقی معیار: اتباعِ سنت اور اصلاحِ نفس

الاحزاب: 21، آل عمران: 31، الانبیاء: 107، الاحزاب: آیات: 56

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. ربیع الاول یا دیگر مخصوص ایام اہل سنت والجماعت کے ہاں محض وقتی اعمال کے بجائے پورے سال کی عملی زندگی کے لیے یاد دہانی کا ذریعہ ہیں۔
  2. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کا حقیقی اظہار سال بھر ان کی سنتوں، نسبتوں اور پسند کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے میں ہے۔
  3. اللہ جل شانہٗ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک سیرت کو مسلمانوں کی عملی زندگی کے لیے بہترین نمونہ قرار دیا ہے۔
  4. اللہ جل شانہٗ کی محبت کا حصول صرف اور صرف اتباعِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر منحصر ہے۔
  5. صحابہ کرام نے محض زبانی دعووں کے بجائے عملی طور پر مشکل ترین حالات میں بھی سنتِ رسول کو مضبوطی سے تھام کر دکھایا۔
  6. انسان کو سنتوں پر چلنے اور نیکی سے روکنے والی بنیادی رکاوٹ اس کا نفسِ امارہ ہے جو خود بخود برائی کی طرف مائل کرتا ہے۔
  7. نفس کو قابو کر کے رذائل سے پاک کرنے کے لیے انسان خود بخود اصلاح نہیں کر سکتا بلکہ اسے کسی صحیح رہبر کے پاس جانا پڑتا ہے۔
  8. نفس کی باقاعدہ اصلاح کے بعد انسان نفسانیت سے نکل کر عبدیت اور طریقۂ صحابہ پر آ جاتا ہے جس سے اسے مقامِ تقویٰ نصیب ہوتا ہے۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ اَلصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ۔ أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللّٰهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ۔ وَقَالَ اللّٰهُ تَعَالَى: قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ۔ وَقَالَ اللّٰهُ تَعَالَى: وَمَا أَرْسَلْنٰكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِينَ۔ وَقَالَ اللّٰهُ تَعَالَى: إِنَّ اللّٰهَ وَمَلٰئِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَايُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا۔ وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ: أَنَا رَحْمَةٌ مُّهْدَاةٌ۔

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ۔ اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ۔

معزز خواتین و حضرات! ربیع الاول کا مہینہ شروع ہے۔ اور ربیع الاول کے مہینے کے لحاظ سے جو مضامین ہیں وہ بیان کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اور یہ بات میں بارہا عرض کر چکا ہوں کہ ربیع الاول کے مہینے کے ساتھ یہ خاص نہیں ہے۔ اہل سنت والجماعت کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ بس کچھ خاص دنوں کے اندر کچھ کام کیا جائے اور پھر بعد میں چھٹی۔ ایسی بات ہمارے ہاں نہیں ہے۔ اگر کسی میں ہے تو یہ ان کی دوسروں کی نقل ہے۔ جو چند دنوں میں کچھ باتیں لیے بیٹھتے ہیں اور پھر بعد میں اپنی من مانی کرتے ہیں۔

ہمارے ہاں طریقہ یہ ہے کہ ہم اعمال کو تو تمام سال کے لیے لیتے ہیں۔ البتہ اس کی فطری یاد دہانی کے لیے ہم بعض اوقات کو استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت، اللہ جل شانہٗ کے لیے قربانی، اللہ جل شانہٗ کے تعلق کے لیے دنیا سے بیزاری، یہ پورے سال میں ہے لیکن حج کے ایام میں یقیناً اس کا مظاہرہ ہو جاتا ہے اور حج ہے ہی اس لیے کہ یاد دہانی کی جائے اور پورے سال پر اس کا اثر ہو۔ اسی طرح رمضان شریف کے مہینے میں صرف تقویٰ کی بات نہیں ہوتی۔ ہاں البتہ رمضان شریف میں تقویٰ حاصل کرنے کی خصوصی ٹریننگ ضرور ہوتی ہے۔ کیونکہ اللہ پاک نے روزے کو تقویٰ کے لیے ذریعہ بنایا ہوا ہے۔

يَايُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ۔

تو اگر رمضان شریف میں کوئی تقویٰ حاصل کر لے اور پورے سال میں اس پر عمل کرے، سبحان اللہ بالکل یہ صحیح بات ہے۔ لیکن رمضان شریف میں صرف روزے رکھے اور پھر بعد میں اپنے نفس کی من مانی کرے تو یہ تو طریقہ نہیں ہے۔ یہ تو طریقہ نہیں ہے۔

بعینہٖ ربیع الاول میں ہم درود شریف پڑھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کا اظہار کر لیں اور پھر پورے سال اپنے نفس کی من مانی کر لیں، یہ نہیں، یہ نہیں، یہ ہمارا طریقہ نہیں ہے۔ البتہ ربیع الاول کے مہینے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا اظہار یہ بذات خود ایک وقت کا تقاضا ہے تاکہ پورا سال اس سے استفادہ کیا جا سکے۔ یہ ایک باریک فرق ہے ہمارے اندر اور باقی لوگوں کے درمیان۔ اسی حکمت کو بعض لوگ نہیں سمجھتے لہٰذا ہم پر بھی اعتراض کرتے ہیں کہ دیکھو تم بھی تو یہ کرتے ہو۔ یعنی خاص ان ایام میں باتیں کرتے ہو، نہیں ہماری باتیں تو الحمد للّٰہ پورے سال یہ چلتی رہتی ہیں۔ البتہ اس کا خصوصی اظہار اس لیے کیا جاتا ہے کہ اس کا موقع ہے۔ ہم لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

تو بہرحال اللہ جل شانہٗ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو محبت کے لیے پیدا فرمایا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کی جائے۔ اور اس محبت کا اظہار سارے اعمال میں ہونا چاہیے۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا اظہار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کے ساتھ محبت کے اظہار میں ہونا چاہیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبتوں کے ساتھ محبت میں اظہار ہونا چاہیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پسند کے ساتھ مطلب ظاہر ہے اس کا اظہار ہونا چاہیے کہ ہمیں بھی وہ پسند ہو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند ہے۔ یہ بات ہے۔

ایک جرمن نو مسلم سے میری ملاقات ہوئی۔ میں نے اس سے پوچھا کہ آپ کیسے مسلمان ہوئے؟ کہتے ہیں کہ یہ سوال مجھ سے بہت پوچھا گیا ہے۔ اور میں سب کو بتاتا ہوں کہ میرے پاس کوئی خاص سٹوری نہیں ہے اس کے لیے کہ کسی نے مجھے دعوت دی ہو یا میں نے کوئی کتاب پڑھی ہو، نہیں ایسی بات نہیں ہے۔ چند واقعات ہوئے جن سے میں متاثر ہوا اور مجھے اسلام کے مطالعہ کا موقع مل گیا اور پھر اس کے بعد میں متاثر ہوا تو میں اسلام لے آیا۔ اسلام قبول کیا۔ میں نے کہا اوکے کون سے واقعات تھے؟

ان میں سے اس نے ایک واقعہ یہ بتایا کہ یہاں پر جرمنی میں ترک لوگ ہوتے ہیں۔ ایک ترک بوڑھے تھے۔ اس کو کسی نے عطر تحفہ کے طور پہ دیا۔ تو اس نے کہا میں کیوں قبول نہیں کروں گا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم تین چیزوں کو رد نہیں فرماتے تھے۔ دودھ کو، تکیہ کو اور عطر کو اگر دیا جاتا۔ اور رونا شروع کر دیا۔ میں نے کہا کمال کی بات ہے کون سی ہستی ہے جن کا نام آ کر لوگ رو پڑتے ہیں۔ یہ کون سی بات ہے؟ یہ مجھے متاثر کیا اس نے۔

اس طرح میں انڈیا سے آ رہا تھا وہاں architect تھے وہ۔ تو by car آ رہا تھا جرمنی۔ تو راستے میں عراق کے صحراؤں سے گزر رہے تھے۔ تو کہتے ہیں ایک صحرا میں ایک آدمی کھڑے ہیں روڈ پر اور مجھے بار بار ہاتھ ہلا رہا ہے کہ رک جاؤ رک جاؤ رک جاؤ۔ تو میں حیران تھا میں نے کہا کہ پتہ نہیں اس کو کوئی بہت مسئلہ ہوگا۔ تبھی مجھ سے پوچھ رہا ہے، مدد مانگ رہا ہے۔ تو میں نے گاڑی کھڑی کی۔ زبان تو ہم نہیں جانتے تھے ایک دوسرے کی تو اس نے ڈگی کی طرف اشارہ کیا اس کو کھولو۔ میں نے کھولا تو اس کے ساتھ بہت سارا فروٹ تھا اور وہ اس میں ڈال دیا۔ میں نے اشارے سے کہا یہ کیا ہے؟ کہتے ہیں میں انتظار کر رہا تھا کہ کوئی مسافر ملے تاکہ میں اس کو دوں۔ میں اپنے مال کی زکوٰۃ دینا چاہتا ہوں۔ تو بڑا شکریہ ادا کر رہے تھے۔ میں نے کہا کمال ہے دے مجھے رہے ہیں اور شکریہ بھی ادا کر رہے ہیں۔ اس نے بھی مجھے بہت متاثر کیا۔

اس طرح پھر میں نے قرآن پاک کو دیکھا تو قرآن پاک سے میں متاثر ہوا۔ تو اب دیکھ لیں، یہ کیا چیز ہے؟ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے اثرات ہیں۔ اس بوڑھے آدمی کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت تھی نا۔ نتیجتاً وہ جب عطر کو پیش کیا گیا تو رو پڑے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کے ساتھ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبتوں کے ساتھ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پسند ناپسند کے ساتھ یہ ساری باتیں یہ اگر ہم ربیع الاول میں سیکھ لیں اور پورے سال استعمال کر لیں تو اچھی بات نہیں ہے؟ ضرور اچھی بات ہے۔

باقی مہینوں میں کیوں نہیں کرتے ہم اس طرح؟ مطلب یعنی بیان اس طرح کیوں نہیں کرتے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ پورے دین کو لینا ہے، پورے دین کو۔ ظاہر ہے باقی دین کو بھی تو بیان کرنا ہے۔ تو ظاہر ہے مطلب باقی ایام میں دوسری چیزیں بیان ہو جاتی ہیں۔ جس طرح رمضان شریف میں روزے کے بارے میں بیان ہوتا ہے۔ اور شعبان میں شعبان کا ہوتا ہے۔ اس طرح مطلب رجب میں پھر رجب کے لحاظ سے گویا کہ ہر چیز کے لیے اپنا اپنا جو وقت ہے جس میں انسان inspire ہو سکتا ہے تو اس کے ذریعے سے ہم لوگ کوشش کرتے ہیں کہ پورے دین پر آئیں۔ اس وجہ سے ہم پر اگر کوئی اعتراض کرتا ہے تو ان کا اعتراض فضول ہے۔ لیکن جو لوگ صرف چند مہینے یا چند چند دن کوئی چیز منا لیں اور پھر بھول جائیں وہ طریقہ ٹھیک نہیں ہے وہ ہمارا۔ بلکہ ہم تو یاد رکھنے کے لیے بولتے ہیں۔ یاد رکھنے کے لیے یہ باتیں کرتے ہیں۔

تو ابھی میں نے تین قرآنی آیات، بلکہ چار پڑھی ہیں۔ چار آیتیں پڑھی ہیں۔

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللّٰهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ۔

اللہ جل شانہٗ فرماتے ہیں۔ بے شک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں، سیرت میں آپ لوگوں کے لیے بہترین نمونہ موجود ہے۔ یعنی اگر میں کسی سے پوچھوں کہ یہ کام میں کیسے کروں گا کہ آپ اس کو پسند کریں گے؟ تو وہ جو بتانے والا ہے وہ مجھے کہتا ہے فلاں کی طرح کر لو تو بس ٹھیک ہے مجھے پسند ہوگا۔ یعنی گویا کہ ایک معیار مجھے بتا دیا۔ ایک معیار بتا دیا۔

یہ اصل میں صحیح طریقہ ہوتا ہے۔ ہم درزی کے پاس کپڑے بھیجتے ہیں سلوانے کے لیے۔ تو اس کے ساتھ یا تو وہ ہماری پیمائش خود لے لیتا ہے۔ اور بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ہم پرانے کپڑے جو ہماری پیمائش کے ہوں ان کو ساتھ بھیج دیتے ہیں کہ ان کی طرح بنا لو۔ پھر اس کے اوپر لازم ہوتا ہے کہ بالکل اسی طرح بنا لے۔ وہ اپنی پھر سوچ کو دخل نہ دے۔ کہ یہ تو یہ بازو چھوٹا ہے اس کو تھوڑا سا لمبا ہونا چاہیے۔ یا مطلب یہ ہے کہ یہ سینے کی پیمائش یہ کم لی گئی ہے، یہ اس کو بڑھنا چاہیے یا کم ہونا چاہیے، نہیں۔ کرے گا تو جرم کرے گا۔ زیادہ کرے گا تب بھی جرم کرے گا، کم کرے گا پھر بھی جرم کیونکہ ہم نے نمونہ بھیج دیا ہے۔

تو اسی طریقے سے اسلام پہ عمل کرنا جو ہے وہ کیا ہے؟ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اعمال کو دیکھ دیکھ کر اعمال کرنا ہے۔ یہی اصل میں صحابہ کرام کا طریقہ تھا۔ صحابہ کرام بڑی محبت کے ساتھ باقاعدہ اس چیز کے دھیان کے ساتھ کہ کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے اور اس پہ عمل کرتے تھے۔

ایک دفعہ ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر پہ تھے۔ کھانے کا وقت تھا، نوالہ گر گیا تو اٹھا کے سنت طریقے کے مطابق اس کو صاف کر کے کھانا چاہتے تھے۔ کسی وہاں کے جاننے والے نے کہا کہ یہاں کے لوگ اس کو معیوب سمجھتے ہیں یعنی اگر آپ ایسا کریں گے تو اس کو اچھا نہیں سمجھیں گے۔ تو وہ ویسے تو normally تو اس کو عام طریقے سے اٹھا کے کھانا چاہتے تھے صاف کر کے سنت کے مطابق۔ لیکن جب ان کو یہ پتہ چل گیا تو انہوں نے اس کو اس طرح لہرا کے سب کو دکھا کے، ان بے وقوفوں کے لیے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو چھوڑوں گا؟ اور اس طریقے سے اس کو کھا لیا صاف کر کے۔ یہ بڑی بات ہوتی ہے، ہمت کی بات ہوتی ہے۔

اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ جو ہیں بعض دفعہ وہ اعمال جو کہ لازم نہیں ہوتے مطلب لازمی سنت کے طور پہ نہیں تھے لیکن محبت کی وجہ سے کرتے تھے۔ مثلاً: حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک دفعہ جا رہے ہیں، راستے میں رفع حاجت کے لیے بیٹھ گئے لیکن استعمال نہیں ہوئی وہ جگہ۔ جب چل پڑے تو کسی نے کہا کہ حضرت آپ کو ضرورت نہیں تھی۔ انہوں نے کہا نہیں۔ انہوں نے کہا پھر آپ کیوں بیٹھ گئے؟ فرمایا: ضرورت تو نہیں تھی لیکن یہاں جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک دفعہ جا رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں اس مقصد کے لیے تشریف فرما ہوئے تھے۔ تو میرے دل نے گوارا نہیں کیا کہ یہاں سے گزروں اور وہ کام نہ کروں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے۔ لہٰذا میں اس لیے بیٹھ گیا۔ اب دیکھیں یہ کوئی لازم بات تو نہیں تھی۔ یہ بھی بات نہیں تھی کہ ان کو کوئی گناہ ہو جاتا یا کوئی ثواب میں کمی آ جاتی، نہیں اس قسم کی کوئی بات نہیں، یہاں تو ثواب کے لیے بھی نہیں کیا۔ یہاں صرف ایک جذبے کے طور پہ کیا اور وہ جذبہ کیا ہے؟ محبت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت۔

عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک دفعہ حجرِ اسود کو چومنا چاہتے تھے۔ چونکہ صحابہ پر توحید کا بھی غلبہ تھا بہت زیادہ۔ تو اس وقت مخاطب ہو کے کہا، اے کالے پتھر! مجھے پتہ ہے نہ تو کسی کو کچھ دے سکتا ہے نہ تو کسی سے کچھ لے سکتا ہے۔ میں تجھے نہ چومتا اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے چومتے ہوئے نہ دیکھتا۔ لہٰذا میں اب اس لیے چوم رہا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو چوما ہے۔ دیکھ لیں۔ کیا بات ہے۔

اب یہ جو بات ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ہر چیز میں، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ ایسی حالت میں کہ بڑی ہی مشکل حالت تھی۔ ارد گرد کے دشمن تیار بیٹھے تھے مسلمانوں پہ حملہ کرنے کے لیے۔ اور لشکر اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سرکردگی میں روانہ فرما رہے ہیں۔ اس وقت بڑے بڑے صحابہ نے کہا کہ حضور آپ یہ کر رہے ہیں۔ لیکن اس وقت مسلمان بڑی مشکل میں ہیں اگر بعد میں حملہ ہوا اور ہم لوگ باہر تھے ہوتے تو مدینہ منورہ تو تاراج ہو جائے گا۔ تو اس وقت لشکر کو بھیجنا مناسب نہیں ہے۔ اور اگر بھیجنا ہو تو پھر یہ ذرا تھوڑا سا جو تجربہ کار کوئی ہو صحابی تو ان کے حوالے کیا جائے کیونکہ یہ تو لڑکے ہیں۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دو جواب تھے۔ انہوں نے کہا: جو کام آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے میں کیسے اس کو چھوڑوں؟ دوسرا کام کیسے کروں؟ لشکر جائے گا، چاہے مدینہ منورہ کی گلیوں میں امہات المومنین کو کتے گھسیٹیں۔ تب بھی لشکر جائے گا۔ یہ اس حد تک determination۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ جن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر کیا ہے میں اس کو کیسے معزول کروں؟ لشکر کی سربراہی یہی کریں گے۔

اور وہی ہوا، وہی ہوا۔ اس کا اتنا رعب بیٹھ گیا غیر مسلموں پر کہ اس حالت میں بھی لشکر روانہ کر رہے ہیں۔ اس حالت میں بھی پرواہ نہیں کر رہے تو ان کے پاس کوئی بڑی قوت ہے۔ تو انہوں نے میدان چھوڑ دیا۔ یہی بات ہوتی ہے۔ اس وجہ سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ اللہ ابوبکر پر رحم فرمائے ہمارے ایمانوں کے بچانے کا ذریعہ بن گئے۔ یعنی گویا کہ وہ جس کو کہتے ہیں نا وہ surrender آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں جتنی چاہیے تھی وہ اگر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بات نہ مانی جاتی تو شاید پھر وہ اس طرح نہ ہوتی۔ اس طرح زکوٰۃ، منکرینِ زکوٰۃ کے بارے میں۔ صحابہ نے کہا کہ ذرا اس وقت تھوڑی سی نرمی اختیار کرنی چاہیے، فرمایا نہیں، جو نماز اور زکوٰۃ میں فرق کرے گا میں ان کے خلاف جہاد کروں گا۔ اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں اگر اونٹ کی نکیل بھی دے رہا تھا زکوٰۃ میں، میں اس کو جب تک بیت المال میں داخل نہ کروں اس وقت تک میں ان کو نہیں چھوڑوں گا۔ دیکھ لیں۔

تو اس کا مطلب یہ ہے کہ صحابہ کرام جو تھے جس محبت سے سرشار تھے عملی محبت سے، وہ ہمارے اندر آنی چاہیے۔ وہ ہمارے اندر آنی چاہیے۔ باقی باتیں بہت ہیں۔ باقی باتیں تو نہیں ہیں۔ یہ باتیں تو نہیں ہیں۔ باتیں تو بہت کی جا سکتی ہیں لیکن باتوں کی جگہ عمل ہو۔ کیونکہ باتوں سے بات بنا کرتی ہے اور کام سے کام ہوتا ہے۔ لہٰذا ہمیں یہ determination کرنی چاہیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے ساتھ ہم لوگ ایسے چمٹیں گے جیسے جبڑوں کے ساتھ کسی چیز کو پکڑا جاتا ہے، کسی حالت میں نہیں چھوڑا جاتا۔

تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کا اتباع جو ہے اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہمیں فرمایا:

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللّٰهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ۔ البتہ بتحقیق تمہارے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت میں بہترین نمونہ موجود ہے۔

اور اس کے علاوہ یہ ارشاد فرمایا:

قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ۔ اے میرے حبیب اپنی امت سے کہہ دیں، اگر تم اللہ کے ساتھ محبت کرنا چاہتے ہو، تو میری اتباع کر لو اللہ تم سے محبت کرنے لگیں گے۔

گویا کہ اتباعِ رسول پر اللہ جل شانہٗ کی محبت کو منحصر کر دیا گیا۔

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

مقصد یہ ہے کہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہو گیا وہ اللہ کا ہو گیا۔ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہو گیا، وہ اللہ کا ہو گیا۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر چلنے کا ہم لوگ ایسے عہد کر لیں کہ کسی حالت میں ہم سے چھوٹے نہیں۔ ہماری خوشی ہو تب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ، ہماری غمی ہو تب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ، ہمارے رشتہ دار کے ساتھ معاملہ ہو تب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ، کسی غیر کے ساتھ ہے تب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ، باہر ہو گھر سے پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ، اندر ہو گھر میں پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ، یعنی گویا کہ ہماری پوری زندگی جو ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر آ جائے۔

لیکن کیسے آئے گا؟ مطلب ظاہر ہے یہ بھی تو بات ہے نا۔ اگر میں طریقہ نہیں بتاؤں گا کہ کیسے آئے گا تو پھر تو ایسے محض باتیں رہ جائیں گی، صرف جذبات ہوں گے اس کے لیے کوئی بنیاد ہونی چاہیے، راستہ ہونا چاہیے۔ مثلاً میں بازار جانا چاہتا ہوں اور بازار جانے کے لیے جو وسائل ہیں میں مہیا نہ کروں تو ویسے ہی محض سوچ ہے۔ محض ایک سوچ ہے، بس بات ہے بس اب بات ختم ہو جائے گی۔ حج پہ جانا چاہتا ہوں پاسپورٹ نہ بناؤں، اور ویزے کے لیے apply نہ کروں، پیسے مہیا نہ کروں، صرف سوچ ہے۔ بہت سارے لوگ ہیں جی بلاوا آئے گا تو پھر ہم جائیں گے۔ بلاوا تو ایک ہی آتا ہے پورا یہاں سے رخصت ہونے کا، پھر کیسے جاؤ گے؟ اصل بلاوا تو آ چکا ہے اس کا۔ اور وہ بلاوا کیا ہے جب حج کے لیے اللہ پاک نے قرآن پاک میں فرمایا تو بلاوا نہیں ہے؟ قرآن پاک کے علاوہ آپ کو کون سا یقینی بلاوا چاہیے؟ تو اس وجہ سے ہم لوگوں کو ہر وقت۔۔۔ اگر یہی بات ہے تو پھر تو ہم کیا کریں، نماز کے لیے بھی کہیں کہ آسمان سے آواز آئے گی ہمارے لیے تو پھر نماز پڑھیں گے، یہ اذان بلاوا ہے، اذان ہو گئی تو بس ٹھیک ہے بھئی نماز کے لیے جانا ہے۔ تو اس طریقے سے ہم لوگوں کو اس بات کو سمجھنا ہوگا کہ طریقہ کون سا اختیار کر لیں جس سے ہمارے اندر یہ چیز آ جائے، مثلاً سنتوں پہ چلنا شروع ہو جائیں، ہماری پوری زندگی سنتوں پہ آ جائے، وہ کس طریقے سے ہوگا؟

اچھا کسی پائپ سے پانی نہیں آ رہا، لیکن پیچھے سے پانی آ رہا ہے تو اگر پلمبر آئے گا تو کیا کرے گا؟ اس کے ساتھ کیا کرے گا؟ پیچھے سے دیکھ لے کہ پانی تو آ رہا ہے لیکن ادھر جہاں سے جہاں ہمارے پاس آنا چاہیے ادھر نہیں آ رہا تو اس کا مطلب کیا ہے؟ کوئی رکاوٹ ہے کوئی اندر کوئی چیز پڑی ہوئی ہے جس کی وجہ سے وہ نہیں آنے دے رہا۔ تو پلمبر کیا کرے گا؟ یہی کرے گا کہ کھولے گا۔ اس obstacle کو دور کرے گا۔ یا rodding کرے گا، rodding سے نہیں ہوا تو پھر کھولے گا۔ کھولے گا تو اس سے نکالے گا۔ وہ ساری چیزیں نکالے گا تو اس کے بعد پھر پانی آنا شروع ہو جائے گا۔ تو اسی طریقے سے سب سے پہلے ہم دیکھیں کہ اگر اعمال پہ ہم نہیں آ رہے، سنتوں پہ نہیں آ رہے، صحابہ کرام کے طریقے پہ نہیں آ رہے، تو کوئی مسئلہ ہے۔ کوئی مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنا پڑے گا۔

اچھا تو مسئلے کو حل کرنے کا کیا طریقہ ہو سکتا ہے؟ وہ یہ ہے کہ یا تو ہم لوگ خود سوچیں کہ اچھا، اس میں اب کیا رکاوٹ ہے؟ یا پھر جو اللہ پاک نے خود ہمیں بتایا ہے کہ یہ رکاوٹ ہے، تو پھر ہمیں کسی اور چیز کی طرف جانا ہے؟ پھر تو ظاہر ہے ہمیں کسی اور چیز کی طرف نہیں جانا۔ تو وہ رکاوٹ کیا ہے؟ وہ ہمارا نفس ہے۔

وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّي۔ میں اپنے نفس سے اپنے آپ کو بری نہیں سمجھتا۔ بے شک نفسِ امارہ تو برائی کی طرف ہی مائل کرتا ہے۔ ہاں مگر اللہ جس کو بچائے، جس پہ رحم کرے۔

اب یہ ذرا پتہ چل گیا کہ نفس یہ بات ہے۔ یہ ہمیں دوسری طرف لے جا رہا ہے۔

سنتوں پہ نہیں جانے دے رہا، بہت آسان سی بات ہے سمجھنا۔ رات کے وقت ہم بیٹھے ہیں۔ گپ شپ لگا رہے ہیں، television کوئی دیکھ رہا ہے، کوئی موبائل سے کھیل رہا ہے۔ کوئی ایک دوسرے پہ جگت بازی کر رہا ہے۔ تین گھنٹے گزر گئے، چار گھنٹے گزر گئے، پتہ ہی نہیں چلا۔ اوہ یہ تو بڑی رات گزر گئی۔ لیکن اگر دینی مجلس میں بیٹھے ہیں تو پندرہ منٹ کے بعد گھڑی دیکھنا شروع کر لیتے ہیں بھئی یہ کیا ہو گیا مطلب ٹائم بڑا ہو گیا، یہ فلاں کام ہے فلاں کام ہے۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہی۔ مطلب جو برائی کی چیز ہے جو نفس کو پسند ہے، اس کے لیے تو ٹائم کی پیمائش ہی نہیں۔ اور جو اچھا کام ہے جو اللہ پاک کو پسند ہے اس کے لیے پھر فکر ہو جاتی ہے اس کو۔ تو نفس کا کام کیا ہے؟ جو خیر کی چیز ہے اس سے روکنا۔ اور جو برائی کی چیز ہے اس کو اس کے در پے ہونا۔ یہ اس کا کام ہے کیوں؟ أَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ ہے نا؟ تو سوء دونوں طرف ہو سکتا ہے۔ یعنی یہ مطلب ہے کہ خیر سے روکنا یہ بھی سوء ہے۔ اور برائی کو اختیار کرنا یہ بھی سوء ہے۔ تو لہٰذا نفس کا کام کیا ہے؟ ہاں سوء کو اختیار کرنا یعنی خیر سے روکنا اور برائی کی طرف چل پڑنا یہ نفس کا کام ہے۔

پھر اللہ پاک نے اس پر پوری سورۃ بیان فرمائی ہے۔ جس میں سات قسمیں کھا کر فرمایا کہ نفس کے اندر دو چیزیں میں نے رکھی ہیں۔ ایک اس کا ہے اس کا فجور ہے اور دوسرا اس کا تقویٰ ہے۔ اب دونوں چیزیں اللہ نے رکھی ہیں لیکن اختیار آپ کو دیا ہے کہ آپ کون سا لینا چاہتے ہیں؟ اس میں تقویٰ لیتے ہو یا فجور لیتے ہو؟ اگر کوئی تقویٰ لیتا ہے، اب اس میں اللہ پاک نے اس کو ایسا رکھا ہے کہ فجور کی طرف خود بخود جیسے أَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ ہے۔ مطلب دوسری قرآن پاک کی دوسری آیت سے استدلال ہم کر سکتے ہیں۔ کہ قرآن میں چونکہ بتایا گیا ہے کہ أَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ ہے، نفسِ امارہ۔ تو اگر آپ محنت نہ کریں۔ تو خود بخود برائی کی طرف مائل ہوگا نفس۔ تقویٰ کی طرف نہیں ہوگا، اور تقویٰ کی طرف لانا ہوگا؟ تو پھر بزور لانا پڑے گا۔ محنت کر کے لانا پڑے گا، اس کو ٹھیک کرنا پڑے گا۔

تو اب یہ جو چیز ہے یہ ہماری سمجھ میں آ گئی۔ کہ چونکہ اس میں دونوں چیزیں ہیں لیکن برائی خود بخود۔ اور اچھائی کے لیے محنت ہے۔ تقویٰ کے لیے محنت ہے تو اللہ پاک نے پھر اس پر فیصلہ فرمایا:

قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكّٰهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰهَا۔ یقیناً کامیاب ہو گیا وہ شخص جس نے اپنے نفس کو پاک کر لیا رذائل سے۔

دوسرے لفظوں میں قابو کر لیا، حدیث شریف میں قابو کے لفظ ہیں۔ عقلمند وہ ہے جس نے اپنے نفس کو قابو کر لیا۔ اور بیوقوف وہ ہے جس نے اپنے نفس کو کھلی چھٹی دے دی، جو کرنا چاہتا تھا کر لیا اور کرتا رہا۔ اور یہ ہے کہ پھر محض تمناؤں پہ جیتا رہا۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر ہم نفس کو کھلا چھوڑیں گے تو نتیجہ یہ ہوگا۔ اور اگر اچھا کام کرنا چاہے تو نفس کو باندھنا پڑے گا۔

اب نفس کو باندھنا جس کو قابو کرنا بھی کہتے ہیں، صاف کرنا بھی کہتے ہیں۔ یہ ساری باتیں تب ہوں گی جب ہم اس کی اصلاح کریں گے۔ اب اصلاح کا اپنا ایک پورا ایک نظام ہے۔ یہ میں نہیں کہتا کہ دو لفظوں میں بیان کر لوں کہ اصلاح اس طرح ہوگی۔ اشارے موجود ہیں، قرآن میں بھی موجود ہیں، حدیث میں بھی موجود ہیں۔ لیکن man to man، person to person vary کرتا ہے۔ اس کے مختلف combinations۔ تو لہٰذا وہ تو ایک پوری لمبی تفصیل ہے۔ اس کے بارے میں تو میں فی الحال بات نہیں کر سکتا۔ لیکن بہرحال اصلاح کے نظام ہیں۔ اس کے لیے ہم یہ بات سوچ سکتے ہیں کہ دیکھو ہم سب کے اندر نفس ہے۔ اب ہماری آنکھیں۔ ہمارے کان، ہماری زبان، ہمارا دماغ، ہمارے ہاتھ پاؤں سب نفس کے ساتھ چل رہے ہیں۔ تو اگر نفس کی اصلاح نہ ہو چکی ہو تو کیا ہمیں صحیح reading دے گا وہ؟ کہ ہم میں کوئی کمزوری ہے، reading دے گا؟ نہیں دے گا reading۔ کیوں reading دے ہی نہیں سکتا، اور اگر ہو گیا تو قابلِ اعتماد نہیں ہوگا۔ اس کے لیے کسی صحیح meter والے کے پاس جانا پڑے گا۔ کوئی صحیح reading لینے والے کے پاس جانا پڑے گا۔ تبھی مطلب آپ کو پتہ چلے گا۔ اس وجہ سے اصلاح خود بخود نہیں ہو سکتی، خود انسان اپنی اصلاح نہیں کر سکتا۔ کرے گا تو ناکافی ہوگی۔ تو اس کے لیے ظاہر ہے کسی کے پاس جانا پڑتا ہے۔ اب یہ جو جانا پڑتا ہے، یہ ایک پورا نظام ہے۔ اس کے لیے پھر نشانیاں ہیں، پھر معلومات ہیں، کس کے پاس جانا چاہیے، کس کے پاس نہیں جانا چاہیے، کیا کرنا چاہیے، کیا نہیں کرنا چاہیے۔ یہ سارا پورا نظام ہے۔ لیکن بہرحال اشارہ موجود ہے کہ ہمیں یہ کرنا پڑے گا۔

جب ہم یہ کریں گے ان شاء اللّٰہ تو پھر کیا ہوگا؟ اس کا نتیجہ، اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہم لوگ عبدیت پہ آ جائیں گے، عبدیت پر۔ نفسانیت سے نکل کر عبدیت پر آ جائیں گے۔ نفس کے ماننے سے اللہ کے ماننے پہ آ جائیں گے۔ قرآن پاک میں ہے نا کہ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ جس نے اپنے نفس کو الٰہ اپنا الٰہ بنایا ہوا ہے؟ اس کا مطلب کیا ہے؟ یعنی عام طور پر ایسے نفسوں کی بات مانی جاتی ہے جیسے اللہ کی بات مانتے ہیں۔ تو ایسی بات نہیں ہے، اللہ کی بات ماننا لازم ہے اور نفس کی بات نہ ماننا لازم ہے۔ تو بہرحال یہ ہے کہ یہاں پر یہ والی بات ہے کہ ہم اس سے نکل کر نفسانیت سے نکل کر عبدیت میں آ جائیں گے۔

اس کے لیے اللہ پاک نے پھر فرمایا: يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ، ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً، فَادْخُلِي فِي عِبَادِي، وَادْخُلِي جَنَّتِي۔ تو یہ بات ہے کہ جب مقامِ رضا پہ انسان جاتا ہے، یعنی اللہ پاک سے انسان راضی ہو جاتا ہے اس وقت اس کا نفس مطمئنہ ہو جاتا ہے۔ اور پھر اللہ پاک اس کو اپنے بندوں میں شامل فرماتے ہیں۔ اور پھر اس کی جگہ جنت ہوتی ہے۔ تو اس وجہ سے ہم لوگوں کو یہ کام کرنا پڑے گا، اور یہ جس وقت انسان عبدیت پہ آ جاتا ہے تو پھر ٹھیک ایک بات ہو جاتی ہے اور وہ کیا؟ کہ انسان صحابہ کے طریقے پہ آ جاتا ہے۔ کیونکہ صحابہ نے جس طرح زندگی گزاری تھی اس طرح پھر یہ بھی گزار سکے گا کیونکہ وہ رکاوٹ ختم ہو جائے گی۔ وہ رکاوٹ ختم ہو جائے گی۔

اب یہ طریقۂ صحابہ جو ہے اس کو ہم نے حاصل کرنا ہے۔ تو جیسے صحابہ نے رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل کر لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کو اختیار کیا۔ اسی طریقے سے یہ اصلاح یافتہ شخص جو ہوتا ہے، یہ تربیت یافتہ شخص جو ہوتا ہے، یہ بھی صحابہ کے طریقے پر چل پڑتا ہے۔ ٹھیک ہے، میں نہیں کہتا ہوں کہ بالکل صحابہ کے طریقے پر آج کل ہوگا۔ کیونکہ ہر صفائی کا اپنا اپنا معیار ہوتا ہے۔ صحابہ کی صفائی کا معیار اور تھا، ہماری صفائی کا معیار اور ہے، ہم لوگ بہت پیچھے ہیں۔ لیکن direction تو وہی ہے نا۔ یعنی اللہ تک تو کوئی پہنچ تو نہیں سکتا، لیکن اس راستے کو کہتے ہیں سیر الی اللّٰہ۔ یعنی اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا جو راستہ ہے، وہ جو ہے اسے سیر الی اللّٰہ۔ تو اسی طریقے سے مطلب یہ ہے کہ صحابہ کی طرح کوئی نہیں ہو سکتا لیکن صحابہ کے طرز پر ہو سکتا ہے۔ صحابہ کے طرز پر ہو سکتا ہے، طرح اور طرز میں فرق ہے۔ تو مطلب یہ ہے کہ صحابہ کے طرز پر پھر ہم شروع ہو جائیں گے۔

نتیجتاً جتنا کسی کو تقویٰ حاصل ہو چکا ہوگا اس نفس کی مخالفت کی وجہ سے، اتنے تقویٰ کے مقام پر وہ ہوگا۔ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ أَتْقَاكُمْ۔ یعنی جو بھی، جتنے مقام پر، تقویٰ کے مقام پر پہنچا ہوگا، اتنے مقام پر ولایت کے مقام پر پہنچ چکا ہوگا۔ اللہ جل شانہٗ ہمیں بھی نصیب فرما دے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ، سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔

محبتِ رسول ﷺ کا حقیقی معیار: اتباعِ سنت اور اصلاحِ نفس - جمعہ بیان - اشاعت دوم