محبتِ رسول ﷺ کے ذرائع، نعت خوانی کے آداب اور عصر کے بعد کے وقت کی فضیلت

کتاب: فضائل درود شریف، اشاعت اول:، 11 ستمبر 2020 بمطابق 23 محرم الحرام 1442 ھ

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • درود شریف: مال نہ ہونے کی صورت میں بہترین صدقہ اور زکوٰۃ
  • مومن کی پہچان: نیکیوں اور اعمالِ خیر کی طلب میں کبھی سیر نہ ہونا
  • روحانی علاج: کثرتِ درود اور مطالعہ سیرت کی برکت سے وبائی امراض کا خاتمہ
  • تکمیلِ ایمان کی شرط: اپنی جان اور تمام رشتوں سے بڑھ کر رسول اللہ ﷺ سے محبت
  • نعت خوانی کے آداب: گانے اور موسیقی کی طرز پر نعت پڑھنے کی ممانعت
  • جامع دعا و نعت: اتباعِ سنت، فہمِ قرآن اور راہِ خدا میں جان و مال کی قربانی کا جذبہ

الحمد للہ رب العالمین، والصلوٰۃ والسلام علیٰ خاتم النبیین، اما بعد۔ فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم، بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا۔

ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو محبت ہے یہ بڑھانی چاہیے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو بڑھانے کے لیے جو ذرائع ہیں ان کو اختیار کرنا چاہیے۔ وہ کون سے ذرائع ہیں؟ پہلی بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو پڑھیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت شریف جو صحیح لوگوں نے لکھی ہو، جس میں شرک وغیرہ نہ ہو، اور اچھی آواز سے پڑھی گئی ہو، اس سے محبت بڑھتی ہے۔ الحمد للہ اس سے محبت بڑھتی ہے۔ یہ باقاعدہ ہمارے صحابہ کرام کی سنت ہے، صحابہ کرام نے باقاعدہ نعتیں لکھی ہیں، انہوں نے نعتیں پڑھی ہیں، نعتیں سنی ہیں۔ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نعت سنی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نعت سنی ہے۔ بلکہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی نعت بھی محفوظ ہے عبرانی میں۔

تو یہ کیا چیز ہے؟ یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے۔ ہاں البتہ ایک بات میں ضرور عرض کروں گا: ہر چیز کا اپنا طریقہ ہوتا ہے۔ اب قرآن پڑھنا بہت بڑی بات ہے، الحمد للہ، اللہ پاک اس پر بہت خوش ہوتے ہیں، لیکن اگر کوئی اس کو ناچتے ناچتے پڑھے گا، کیا بات ہو گی؟ جائز تو نہیں ہو گا نا، بلکہ قرآن کی بے ادبی ہو گی نا، تو اس کو روکا جائے گا۔ تو کوئی یہ نہیں کہتا کہ یہ قرآن سے روکتے ہیں، وہ ناچتے ناچتے قرآن پڑھنے سے روکتے ہیں۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ ادب کے ساتھ پڑھنا۔ تو اسی طریقے سے نعت شریف جو ہے بہت اونچی چیز ہے، بہت اونچی چیز ہے، لیکن کوئی اس کو گانے کے طرز پر پڑھے گا تو اس کو روکا جائے گا، وہ نعت شریف کی بے ادبی ہے۔ اس وقت بہت ساری نعتیں جو ہیں گانوں کے طرز پر ہیں۔

ایک دفعہ ایسا ہوا، یہی مسجدِ سید اکبر میں نعت خوانی کی محفل تھی، اور مجھے اس کا وہ بنایا گیا تھا کہ نعت خوانوں کا اکرام میں نے کرنا ہے، ٹھیک ہے صحیح ہے، کوئی ایسی بات نہیں، وہ تو اچھی بات ہے۔ تو میرے ساتھ یہ بات ہے کہ گانے کے طرز پر میں نعت سن نہیں سکتا، میرے سر میں درد ہو جاتا ہے۔ اب وہاں پر بیٹھا تھا تو ساری نعتیں گانے کے طرز پہ ہو رہی تھیں۔ تو میرے لیے تو بہت مشکل تھا، سر میں درد ہو رہا تھا، میں نے کہا یا اللہ میں کیسے اٹھوں؟ کیونکہ اٹھتا ہوں تو پھر وہ وہی ذمہ داری ہے، اور نہیں اٹھتا تو طبیعت پہ اتنا بڑا بوجھ ہے۔

خیر، نعت خوانی کی محفل ختم ہو گئی تو نعت خوانوں کو میں اپنے گھر لے گیا کھانا کھلانے کے لیے۔ کھانا کھاتے کھاتے میں نے ان سے درخواست کی، میں نے کہا: ما شاء اللہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں، نعت شریف کی خدمت نا یہ تو بڑی اونچی بات ہے، بڑے بڑے اولیاء اللہ ذمہ دار یہ کام کیا کرتے تھے، تو آپ لوگ جو کر رہے ہیں، بس صرف اس کو گانے کے طرز پہ نہ پڑھیں، یہ بہت گندی حرکت ہے۔ تو دونوں نعت خوانوں کی زبان سے بیک وقت یہ بات نکلی کہ اب تو یہی نعتیں ہیں، اب تو یہی چلیں گی، اب تو لوگ یہی چاہتے ہیں، اس کے علاوہ کوئی نعتیں ہیں ہی نہیں۔ میں نے کہا: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔

اس کے بعد میں نے تہیہ کیا کہ میں ان شاء اللہ صحیح نعتیں جمع کروں گا جو گانے کے طرز پہ نہیں ہوں گی، جمع کروں گا اور تقسیم بھی کروں گا لوگوں کو تاکہ لوگوں کا ذوق بڑھے کہ صحیح نعتیں سنیں۔ جب صحیح چیز نہیں ہو گی تو غلط چیز کو شہرت ہو گی، صحیح چیز موجود ہو گی تو پھر جو لوگ صحیح چیز لینا چاہیں گے تو ظاہر ہے ان کے پاس موجود ہو گی۔ اللہ کا شکر ہے کہ الحمد للہ آج میں کہہ سکتا ہوں کہ میرے پاس ہزاروں اس قسم کی نعتیں ہیں، ہزاروں الحمد للہ کی تعداد میں، وہ میں نے جمع کی ہیں، ان کی سی ڈیز بنائی ہیں، تقسیم بھی کی ہیں ساتھیوں کے ساتھ، وہ ما شاء اللہ اس کو سنتے بھی ہیں۔

تو یہ جو نعتیں ہیں، نعت شریف جو صحیح طریقے سے ہو، گانے کے طرز پر نہ ہو، عمدہ الفاظ ہوں، شرک و بدعت سے بَری ہوں، اور اچھی آواز کے ساتھ پڑھی گئی ہوں، تو الحمد للہ یہ بہت بڑی بات ہے یہ ہمارا اصل میں بزرگوں کا طریقہ ہے، ہمارے عصر کے بعد، مطلب ہم اسی میں اپنا وقت گزارتے ہیں۔ ہمارے بزرگوں کا طریقہ تھا کہ عصر کے بعد وہ دنیاوی چیزوں میں مصروف نہیں رہتے تھے۔ کیونکہ بہت قیمتی وقت ہے، حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کا ارشاد مبارک ہے کہ اگر میں کسی اور کام میں مصروف بھی ہوں لیکن جب یہ وقت آ جائے تو مجھے بتا دینا، تاکہ میں کٹ کٹا کے اللہ کی طرف متوجہ ہو جاؤں۔ اس وجہ سے ہمارے جتنے بھی اکابر تھے وہ ما شاء اللہ اس وقت میں کسی اور کام میں مشغول نہیں ہوتے تھے، اللہ تعالی کو یاد کرنے میں، درود شریف پڑھنے میں، قرآن پاک کی تلاوت میں، دعاؤں میں لگے رہتے تھے۔ یہ قبولیت کے اوقات ہیں، اللہ تعالی ہمیں نصیب فرما دے۔

محبتِ رسول ﷺ کے ذرائع، نعت خوانی کے آداب اور عصر کے بعد کے وقت کی فضیلت - فضائل درود شریف