مجرم قوموں کے ساتھ اللہ کا معاملہ: مہلت، استدراج (نعمتوں کی ڈھیل) اور اچانک پکڑ
درس نمبر 256، سورۃ الانعام، آیات: 42 تا 45، اشاعتِ اول: 11 اگست، 2022، بمطابق 12 محرم الحرام، 1444 ہجری
- اللہ تعالیٰ مجرم قوموں کو متنبہ کرنے کے لیے پہلے ان پر دنیاوی تکالیف اور سزائیں بھیجتا ہے۔
- سمجھدار لوگ ان سختیوں پر الرٹ ہو کر توبہ کر لیتے ہیں، جبکہ ڈھیٹ لوگوں کے دل مزید سخت ہو جاتے ہیں۔
- ضد پر قائم رہنے والوں پر بطورِ سخت سزا دنیاوی نعمتیں کھول دی جاتی ہیں تاکہ وہ مکمل غافل ہو جائیں۔
- موجودہ دور کے گمراہ لوگ بھی خود کو chosen سمجھ کر دنیاوی فخر اور مستیوں میں گم ہیں۔
- مکمل غفلت کے بعد ان پر اچانک عذاب آتا ہے جس میں سوچنے اور سنبھلنے کی مہلت نہیں ملتی۔
- گمراہ قوموں کے انجام سے عبرت لیتے ہوئے نافرمانی سے رکنا اور فوراً استغفار کرنا ضروری ہے۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَخَذْنٰهُمْ بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَتَضَرَّعُوْنَ (42) فَلَوْ لَاۤ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَ لٰـكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (43) فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَیْءٍؕ حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوْا بِمَاۤ اُوْتُوْۤا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ(44) فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْاؕ وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (45)
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
ترجمہ: ﴿41﴾ اور (اے پیغمبر!) تم سے پہلے ہم نے بہت سی قوموں کے پاس پیغمبر بھیجے، پھر ہم نے (ان کی نافرمانی کی بنا پر) انہیں سختیوں اور تکلیفوں میں گرفتار کیا، تاکہ وہ عجز و نیاز کا شیوہ اپنائیں۔ ﴿42﴾ پھر ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب ان کے پاس ہماری طرف سے سختی آئی تھی، اس وقت وہ عاجزی کا رویہ اختیار کرتے؟ بلکہ ان کے دل تو اور سخت ہوگئے، اور جو کچھ وہ کر رہے تھے، شیطان نے انہیں یہ سجھایا کہ وہی بڑے شاندار کام ہیں ﴿43﴾ پھر انہیں جو نصیحت کی گئی تھی، جب وہ اسے بھلا بیٹھے تو ہم نے ان پر ہر نعمت کے دروازے کھول دیئے، یہاں تک کہ جو نعمتیں انہیں دی گئی تھیں، جب وہ اُن پر اترانے لگے تو ہم نے اچانک ان کو آ پکڑا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ بالکل مایوس ہو کر رہ گئے ﴿44﴾ اس طرح جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی، اور تمام تعریفیں اللہ کی ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ﴿45﴾
اللہ جل شانہ کا جو مجرم قوموں کے ساتھ جو معاملہ ہوتا ہے، وہ دو قسم کا یعنی بتایا گیا اس میں۔ پہلے یہ پہلے ذرا نرم طریقہ ہوتا ہے، نرم طریقہ سے مراد یہ ہے کہ اس دنیا کے لحاظ سے ہوتا ہے۔ اس دنیا کے لحاظ سے ان پر سختی آ جاتی ہے، مشکل آ جاتی ہے، اس کی سزائیں آ جاتی ہیں۔ تو جو سمجھدار لوگ ہوتے ہیں، وہ سمجھ جاتے ہیں کہ ہم غلط کر رہے ہیں۔ الرٹ ہو جاتے ہیں، توبہ کر لیتے ہیں، بچ جاتے ہیں۔ ایسا ان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو سمجھدار ہوتے ہیں۔ لیکن جو لوگ ڈھیٹ ہوتے ہیں تو شیطان ان کو ضد میں لاتے ہیں۔ تمہارے ساتھ یہ ہو گیا اور یہ ہو گیا، وہ ہو گیا۔ تو پھر وہ مطلب اور سخت ہو جاتے ہیں، ان کے دل سخت ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں پھر اللہ جل شانہ ان کے ساتھ یہ معاملہ کرتے ہیں کہ ان پر اپنے جو انعامات ہیں، وہ کھول دیتے ہیں دنیاوی۔ کیونکہ دنیا کی کوئی حیثیت تو ہے نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کے نزدیک۔ وہ تو ایک حدیث شریف میں ہے نا کہ اگر زمین کے اوپر، آسمان کے نیچے جو کچھ ہے، اگر اللہ کے نزدیک ایک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتا تو اللہ تعالیٰ کافر کو ایک گھونٹ پانی بھی نہ پینے دیتا۔ لیکن اس کی حیثیت کچھ بھی نہیں۔ لہٰذا اللہ پاک ان پر نعمتیں کھول دیتے ہیں اور یہ سخت سزا ہے۔ کیونکہ اس سے کیا ہو جاتا ہے، وہ اپنی مستیوں میں، اپنے مزوں میں گم ہو جاتے ہیں۔ اور مکمل غافل ہو جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں پھر اللہ پاک ان کو دفعتاً پکڑتے ہیں۔ اور پھر ان کو مزید ڈھیل نہیں دی جاتی، بس پھر معاملہ ختم ہو جاتا ہے۔ تو یہ بات مطلب ظاہر ہے، ہمیں دیکھنا چاہیے کہ آج کل صورتحال کیا ہے۔ یہ جو گمراہ لوگ ہیں، وہ اپنی مستیوں میں گم ہیں۔ ان کو کسی چیز کا ہوش نہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ ہم لوگ chosen لوگ ہیں۔ دیکھو نا ہم یہ کر رہے ہیں، ہم یہ کر رہے ہیں، ہم یہ کر رہے ہیں۔ وہ اپنے اس میں فخر کر رہے ہیں ایک دوسرے کے ساتھ کہ دیکھو کہ ہم نے دنیا کے ساتھ یہ کر دیا، ہم نے یہ کر دیا، ہم نے یہ کر دیا۔ کوئی ہمارے سامنے پر بھی نہیں مار سکتا۔ یہ مطلب، وہ انہی چیزوں میں مست۔ اور پھر جب اللہ کا عذاب آتا ہے، وہ یکدم آتا ہے۔ پھر ایسا آتا ہے جیسے زلزلے وغیرہ یا کوئی اس قسم کی چیزیں۔ مطلب اس میں پھر ٹائم تو نہیں ہوتا نا۔ کہ اس وقت آدمی پھر سوچے اور پھر یہ کرے، وہ کرے، نہیں، وہ والی بات تو نہیں ہوتی۔ بس پھر تو تھوک کے حساب سے وہ معاملہ پہنچا دیا جاتا ہے اپنی جگہ پہ۔ تو اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھ عطا فرمائے، یہ اصل میں ہمارے لیے ہے عبرت۔ کہ ہم لوگ اس سے عبرت سیکھیں۔ اور معاملے کو اس حد تک نہ جانے دیں۔ بلکہ سب سے اچھا طریقہ تو یہ ہے کہ ہم قرآن اور حدیث پر دل سے یقین کر لیں اور مزید کسی چیز کی ضرورت نہ ہو۔ دوسری چیز یہ ہے کہ گمراہ قوموں کے واقعات سے عبرت لے لیں۔ اور ان چیزوں سے رک جائیں جو کہ اللہ کو پسند نہیں۔ تیسری چیز یہ ہے کہ اگر اللہ جل شانہ بعض دفعہ سزا کے طور پر کوئی چیز بھیج دے، تو فوراً استغفار کرنا چاہیے، توبہ کرنا چاہیے، رجوع کرنا چاہیے۔ یہ صحیح بات ہے۔ تاکہ اس تک معاملہ نہ پہنچے۔ کہ دفعتاً پکڑا جائے اور پھر انسان سب کچھ بھول چکا ہو۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔