مکتوباتِ امام ربانیؒ کی روشنی میں جذب و سلوک کی حقیقت اور اصلاحِ نفس و عقل
اشاعتِ اول: 21 مارچ، 2018 بمطابق 4 رجب 1439 ہجری،
مکتوب نمبر 287: جذب اور سلوک کے درمیان غلط فہمیوں کا ازالہ
زیارتِ کعبہ کی تمثیل: علماً محروم، عملاً محروم اور اصل واصل
طریقہ نقشبندیہ میں تقدیمِ جذب اور دس مقاماتِ سلوک کا طے کرنا
روح اور نفس کی کشمکش، مجاہدہ اور ملاءِ اعلیٰ تک رسائی
دنیاوی عقل بمقابلہ ملاءِ اعلیٰ: سود، صدقات، برکت اور علومِ انبیاء
ذکر، فکر، اصلاحِ نفس اور سلاسلِ تصوف میں سطحیت کا تدارک
معزز علمائے کرام، اساتذہ کرام اور عزیز ساتھیو! آج بدھ کا دن ہے اور بدھ کے دن ہمارے ہاں الحمد للہ حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوبات شریف کا درس ہوتا ہے۔ آپ حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ سے واقف ہوں گے، لیکن تعارفاً میں کچھ عرض کر لوں، کیونکہ جب میں نے مکتوبات شریف کا درس شروع کیا تھا تو اس وقت حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت ہمارے ایک ساتھی کو ہو گئی اور حضرت نے فرمایا کہ پہلے حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی کے حالات پڑھ لو، تاکہ آپ کو پتہ چل جائے کہ حضرت نے یہ مکتوبات شریف کس دور میں اور کن حالات میں لکھے ہیں۔ کیونکہ واقعتاً بعض باتیں ذرا سخت نظر آئیں گی، لیکن اس دور کے حالات کے مطابق یہ باتیں تھیں، تو اس وجہ سے اس قسم کی باتیں سو آئیں گی۔
آج بھی ما شاء اللہ ایک ہمارے ایک مفتی صاحب، انہوں نے یہ ارشاد فرمایا کہ وحدۃ الشہود اور وحدۃ الوجود ظاہر ہے ہم اس کو نہیں جانتے، ہمیں تو سادہ دین چاہیے۔ بات بھی بالکل یہی ہے۔ لیکن اگر لوگوں نے سادہ دین کو بہت ساری غلط باتوں کے ساتھ خلط ملط کر کے بگاڑ دیا ہو، تو جن چیزوں کے ذریعے سے بگاڑ دیا ہو تو ان چیزوں کے بارے میں اگر پتہ نہ ہو تو کیسے صاف کیا جائے گا؟ تو پھر پہلے بتانا پڑتا ہے نا کہ اصل چیز کیا ہے اور غلط چیز کیا ہے، تو اصل چیز سمجھانے کے لیے وہ تمام چیزیں سمجھانی پڑتی ہیں۔ تو یہ میں اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ یہ ساری باتیں پہلے تھیں، اب الحمد للہ نہیں ہیں، اللہ کا شکر ہے، لیکن اب بھی بعض چیزوں میں ضرورت پڑ رہی ہے۔ اب چونکہ یہ معلوم نہیں ہے کہ کون سی چیز کی ضرورت پڑ رہی ہے، کون سی چیز کی ضرورت نہیں پڑ رہی تو ساری چیزیں بتانی پڑتی ہیں، تاکہ ان سے ہم استفادہ کر لیں۔
حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ چونکہ نقشبندی سلسلے کے بڑے حضرات میں ہیں، بڑے حضرات میں ہیں۔ یعنی آپ حضرات جانتے ہوں گے کہ حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے نقشبندی سلسلے کا اپنا ایک تعارف ہے، یعنی اکثر کہتے ہیں نقشبندیہ مجددیہ۔ تو نقشبندیہ مجددیہ کا مطلب یہ ہے کہ مجدد الف ثانی نے جو نقشبندی سلسلے کا تعارف کیا ہے، وہ ہے، مطلب ظاہر ہے ہم اس کے طریقے پہ چلیں، تو نقشبندیہ مجددیہ، یہ بھی ایک عام۔۔۔
تو حضرت کو اپنے دور میں ایک بات معلوم ہو گئی۔ حضرت نے اپنے بھائی میاں غلام محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو خط لکھا، یہ مکتوب نمبر 287 ہے۔ تو مکتوب نمبر 287 میں حضرت نے جو شروع کیا ہے، فارسی زبان میں ہے اور تقریباً 29 صفحات کا خط ہے، بڑا تفصیلی خط ہے۔ تو حضرت نے اس میں ارشاد فرمایا ہے کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ آج کل لوگ جذب اور سلوک کے درمیان کچھ غلط فہمیوں میں مبتلا ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ ان باتوں کی صفائی کر دوں اور اس میں حق کو بالکل واضح کر دوں، یعنی حق کو باطل سے جدا کر دوں۔
تو حضرت نے ان الفاظ سے شروع فرمایا اور ساتھ ہی یہ ایک مثال دی، مثال سمجھانے کے لیے، اور بڑی زبردست مثال ہے۔ حضرت نے فرمایا کہ ایک شخص ہے جا رہا ہے خانہ کعبہ کا طواف کرنے کے لیے یا خانہ کعبہ کی زیارت کرنے کے لیے جا رہا ہے۔ راستے میں اس نے کوئی مکان دیکھا جو خانہ کعبہ جیسا تھا، اور اس کو خانہ کعبہ مان لیا اور وہیں پہ بیٹھ کر اعتکاف کرنے لگا۔ تو یہ جو شخص ہے، یہ علماً بھی محروم ہے اور عملاً بھی محروم ہے۔ علماً تو اس لیے محروم ہے کہ اس کو خانہ کعبہ کا پتہ نہیں، اور عملاً اس لیے محروم ہے کہ ابھی خانہ کعبہ پہنچا نہیں تھا اور خانہ کعبہ سمجھ بیٹھا کسی اور جگہ کو، تو عملاً بھی محروم ہے۔
دوسرا شخص ہے جو کہ ابھی گیا ہی نہیں ہے۔ یعنی یوں سمجھ لیجیے کہ پتہ تو اس کو ہے کہ خانہ کعبہ کیسا ہے اور اس کی کیا نشانیاں ہیں، لیکن وہ اپنی جگہ سے ہلا ہی نہیں۔ تو ایسی صورت میں یہ شخص علماً محروم نہیں ہے، عملاً محروم ہے۔ تیسرا شخص ہے جو کہ چل پڑا ہے اور خانہ کعبہ کو جانتا بھی ہے کہ خانہ کعبہ کیسا ہے، لیکن پہنچا ابھی تک نہیں ہے۔ تو یہ علماً محروم نہیں ہے، عملاً بھی محروم نہیں ہے، البتہ ابھی تک واصل نہیں ہوا، یعنی پورا نہیں پہنچا۔
چوتھا شخص ہے جو پہنچ گیا، اور خانہ کعبہ ہی پہنچ گیا صحیح، تو اصل واصل تو یہی ہے جو آخری ہے۔ جو تیسرے نمبر پہ ہے وہ اس کے بعد ہے، یعنی واصل ہو جائے گا ان شاء اللہ۔ دوسرے نمبر والا واصل نہیں ہے لیکن علم اس کا ٹھیک ہے۔ اور پہلے نمبر پر نہ اس کا علم ٹھیک ہے نہ اس کا عمل ٹھیک ہے۔ اب اس تمہید کے ساتھ اب حضرت کیا بات فرما رہے ہیں؟ فرما رہے ہیں کہ ہمارے حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ نے بضرورت جذب کو پہلے کر دیا، مقدم کر دیا، سلوک کو بعد میں کر لیا، کیونکہ لوگ سلوک پہ چلنے کے لیے تیار نہیں۔ میں ذرا تعریف کے طور پہ عرض کر لوں: سلوک اصل میں ایک ایک نقطے کے ساتھ ٹھیک کرنے کا نام ہے، جیسے ایک ایک چیز کو ٹھیک کیا جاتا ہے، وہ سلوک ہے۔ اور جذب اس کو کہتے ہیں کہ انتہائی محبت کی وجہ سے انسان ایک جست میں بہت ساری چیزیں حاصل کر لے تو اس کو جذب کہتے ہیں۔
تو حضرت نے فرمایا کہ پہلے طریقوں میں یہ ہوتا تھا کہ سلوک پہلے ہوتا تھا، نفس کا علاج پہلے ہوتا تھا، یعنی نفس کے تمام رذائل کو دور کیا جاتا تھا، پھر اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے جذب ان کو عطا ہو جاتا تھا جس کو جذبِ وہبی کہتے تھے۔ آپ حضرات جانتے ہوں گے حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ، ان کا ارشاد مبارک ہے کہ ہمارے ہاں تکمیل بذریعہ جذب ہوتی ہے، مطلب یہ ہے کہ جذب سے تکمیل ہو جاتی ہے، سلوک مکمل ہو جاتا ہے۔ تو ٹھیک ہے، مطلب پہلے قادریہ سلسلہ ہے یا سہروردی سلسلہ ہے یا چشتیہ سلسلہ ہے یا شاذلی سلسلہ ہے یا کبروی سلسلہ، ان تمام سلاسل کے اندر سلوک پہلے اور جذب پھر بعد میں ہوتا تھا۔ فرمایا ہمارے شیخ خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو بضرورت پہلے کر دیا، مقدم کر لیا، کیونکہ لوگ سلوک کے لیے تیار ہی نہیں تھے، سلوک پہ محنت کے لیے تیار ہی نہیں تھے، ریاضت کے لیے تیار ہی نہیں تھے، تو ان کو مقدم کر لیا، یہ ہو گئی بات۔
فرمایا کہ اب جذب اب کسی طریقے سے بھی حاصل ہو جائے، یہ باتیں میں اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ آپ سب حضرات کو پتہ ہو، یہ مکتوب شریف چھپا ہوا ہے، آپ اس کو خود بھی مطالعہ کر سکتے ہیں۔ تو حضرت نے فرمایا کہ کسی طریقے سے بھی جذب کسی نے حاصل کر لیا ہو، اس کو فوراً چاہیے کہ سلوک طے کر لے، کیونکہ سلوک طے کرنے کے لیے جذب حاصل کیا جاتا ہے، اس نے چونکہ جذب حاصل کیا تو اب سلوک کو طے کرنا چاہیے، اور اس کے لیے دس مقاماتِ سلوک لازماً طے کرنے ہوں گے۔ دس مقاماتِ سلوک لازماً طے کرنے ہوں گے پہلے: 1۔مقامِ توبہ 2۔مقامِ انابت 3۔ مقامِ ریاضت 4۔ مقامِ قناعت 5۔ مقامِ تقویٰ 6۔ مقامِ زہد 7۔ مقامِ صبر 8۔ مقام ِتوکل 9۔ مقامِ تسلیم 10۔ مقامِ رضا۔
یہ سارے مقامات ان کو، دس مقامات تفصیل کے ساتھ طے کرنے ہوں گے، ورنہ وہ پہنچا ہوا نہیں ہو گا۔ گویا کہ اس کی مثال ایسی ہو گی جیسے تیسرا والا۔ اور اگر کسی نے سلوک بالکل طے ہی نہیں کیا، سلوک ہی شروع ہی نہیں کیا تو حضرت نے فرمایا اس کی مثال مجذوبِ متمکن کی ہے۔ یعنی اس نے اپنے جذب کو کافی سمجھا اور اب اسی کو ہی استعمال کر رہا ہے، اسی کو۔ فرمایا :”نہ یہ شخص خود پہنچا ہے نہ دوسروں کو پہنچا سکتا ہے“، یہ حضرت کے الفاظ ہیں: نہ یہ شخص خود پہنچا ہے، نہ دوسروں کو پہنچا سکتا ہے۔ اس کو چاہیے کہ وہ سلوک طے کر کے منتہی مرجوع ہو جائے، نہیں، تو پھر راستے میں ڈاکو نہ بنے، کسی کو بیعت نہ کرے، بلکہ اپنی تکمیل کر لے۔ یہ حضرت نے اس پہ تفصیل سے، مطلب یہ تو میں نے ذرا مختصر الفاظ کے ساتھ وہ کر لیا نا۔ پھر اس کے بعد حضرت نے ما شاء اللہ سلوک کی تفصیلات بتا دیں۔ اب دیکھ لیں سلوک کے لیے کیا کرنا ہوتا ہے؟ جذب کے لیے کیا کرنا ہوتا ہے؟
جذب کے لیے حضرت نے فرمایا کہ ہماری روح جو تھی، روح، یہ اللہ پاک کی پہلے بھی عاشق تھی، کیونکہ یومِ الست میں اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا: ﴿أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ﴾، تو جواب کیا ملا؟ ﴿قَالُوا بَلٰى﴾۔ مطلب یہ ہے کہ پہلے سے عاشق تھی، مان لیا تھا اس وقت۔ لیکن جس وقت ہماری یہ روح، جس وقت یہ نفس میں آ جاتی ہے، نفس کے درمیان آ جاتی ہے، تو نفس جیسے، مطلب یہ ہے کہ جیسے جن کسی پہ چڑھ جاتا ہے نا، تو آپ حضرات جانتے ہیں کہ جن بولتا بھی اسی کی زبان سے ہے، دیکھتا بھی اسی کی آنکھوں سے ہے، وہ تمام محسوسات جن جتنے بھی ہیں وہ اس انسان کے ذریعے سے کرتا ہے۔ تو فرمایا جو ہماری روح ہے، یہ پھر نفس میں قید ہو گئی۔ لہٰذا نفس کی خواہشات ہماری روح کی خواہشات بھی ہو گئیں، ہماری روح کی خواہشات بھی ہو گئیں، اب اس کے جال میں گرفتار ہو گئی۔
تو ایسی صورت میں حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ نے ایسا طریقہ دریافت کر لیا کہ اس کے ذریعے سے روح کو یاد دلایا جائے کہ تم تو اللہ کے عاشق تھے، تم تو نفس کے عاشق نہیں تھے۔ تو اس میں ذکر بھی آتا ہے، اس میں مراقبہ بھی آتا ہے، اس میں شغل بھی آتا ہے، اس میں تمام چیزیں آتی ہیں، جس کے ذریعے سے روح کو گویا کہ یاد دلایا جاتا ہے کہ تم اللہ کے عاشق ہو، تم نفس کے نہیں ہو۔ اب جس وقت اس کو پتہ چل جاتا ہے تو یہ جذب ہے کہ میں تو اللہ کا عاشق ہوں، اس کو پتہ، تو یہ جذب حاصل ہو گیا۔ اس وقت حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مقامِ قلب میں آ جاتے ہیں۔ مقامِ قلب سے مراد یہ ہے کہ اب اس کے درمیان روح اور نفس کی جو کشتی ہے وہ سامنے آ گئی۔ روح اڑنا چاہتی ہے، اس کے چنگل سے بچنا چاہتی ہے، اور نفس اس کو پکڑ کے چھوڑتا نہیں ہے۔ تو اس نفس سے اس کو زبردستی چھڑایا جاتا ہے، اسی کو مجاہدہ کہتے ہیں۔ ظاہر ہے نفس کے خلاف جو بھی کام ہو گا وہ مجاہدہ ہو گا نا۔ مجاہدے کی تعریف ہی یہی ہے کہ نفس کے خلاف کیا جائے۔ اب نفس نہیں چھوڑنا چاہتا اور آپ اس کو زبردستی چھڑاتے ہیں، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مجاہدہ کہتے ہیں۔ تو یہ مجاہدہ اور ریاضت کے ذریعے سے، قناعت اور صبر کے ذریعے سے، یہ تمام جو مقامات ہیں اس کے ذریعے سے یہ روح کو نفس سے چھڑا دیا جاتا ہے۔
جب روح نفس سے چھوٹ جاتی ہے، تو جیسا کہ انسان گرفتار ہو تو جب گرفتاری سے بچے گا اور گرفتاری سے چھوٹے گا تو کہاں جائے گا؟ اپنے گھر جائے گا۔ تو یہ اپنے گھر ملاءِ اعلیٰ پہنچ جاتی ہے، ملاءِ اعلیٰ پہنچ جاتی ہے۔ اب یہ روح ملاءِ اعلیٰ میں ہے اور قلب اس کے ساتھ متعلق ہے۔ آپ سب حضرات جانتے ہیں کہ ہمارے جو لطائف ہیں، ان کی اصل عرش سے اوپر ہے، ویسے یہاں پر مطلب اس کے سرے ہیں، اس کے ذریعے سے ہم اس کو touch کر رہے ہیں۔ تو اب یہ جو قلب ہے، اس کے ذریعے سے اس کے ساتھ تعلق ہے، تو اب یہ جو روح وہاں ملاءِ اعلیٰ میں ہے، تو ملاءِ اعلیٰ میں جو کچھ ہو رہا ہوتا ہے وہ سارے کا سارا روح کو پتہ چل رہا ہوتا ہے اور اس کے ذریعے سے قلب کو بھی پتہ چل رہا ہوتا ہے۔ لہٰذا اس شخص کے دل کی آنکھیں بیدار ہو گئیں۔ دل کی آنکھیں کھل گئیں۔ اب اس کا دل وہاں کے حالات جان سکتا ہے، اور سمجھ سکتا ہے۔ آپ حضرات ایک حدیث شریف سے استدلال کر سکتے ہیں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ جل شانہ کا ہاتھ میرے سینے پہ آ گیا اور میں نے ٹھنڈک بہت دور تک محسوس کی اور پھر پوچھا کہ ملاءِ اعلیٰ میں کیا ہو رہا ہے؟ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ تو میں نے بتا دیا کہ یہ یہ چیزیں ہو رہی ہیں، مطلب فرشتے اس میں جھگڑ رہے ہیں۔
تو اب یہ والی جو ملاءِ اعلیٰ کے ساتھ تعلق ہو جاتا ہے، تو اس کے بعد پھر کیا ہوتا ہے؟ اس کے بعد پھر یہ قلب روح کی صورت اختیار کر لیتا ہے، اس کے ذریعے سے وہ ملاءِ اعلیٰ کو دیکھتا ہے۔ اس کے بعد جو ہماری عقل ہے، یہ ہماری جو عقل ہے، یہ حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق ہے، حضرت فرماتے ہیں کہ یہ جو ہماری عقل ہے، یہ جب تک دنیا میں گرفتار ہے یعنی دنیا کی محبت میں گرفتار ہے اور اس کا تعلق دنیا کے ساتھ ہو، تو پھر یہ دنیاوی فائدے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر: اللہ پاک فرماتے ہیں: ﴿يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ﴾ ” اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے“
لیکن ہماری عقل کیا کہتی ہے؟ ہماری عقل یہ کہتی ہے کہ سود سے پیسہ بڑھتا ہے، اور صدقات سے پیسہ کم ہوتا ہے۔ لہٰذا جو لوگ دنیاوی عقل پہ کام کرتے ہیں تو وہ ظاہر ہے بینکوں میں پیسے رکھ لیتے ہیں، یہ Fixed deposit اپنے پیسے رکھتے ہیں، کہتے ہیں کہ ہمارا پیسہ بڑھ جائے گا، حالانکہ پیسہ کم ہوتا ہے، میں ثابت کر سکتا ہوں، لکھ کے دے سکتا ہوں کہ پیسہ کم ہو جاتا ہے۔ اس پر لوگ بڑے حیران ہوتے ہیں کہ میں کیسے جرأت کے ساتھ بات کر رہا ہوں، لیکن چلو میں آپ کو ایک واقعہ سنا دوں تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ پیسہ کم ہوتا ہے۔ یہ غالباً 1982 کی بات ہے، ہمارے ایک استاد صاحب نے اسلام آباد G-9 میں مکان بنایا، پانچ لاکھ روپے کا۔ مکان جب بن گیا تو اس نے ہماری دعوت کی، کھانے پہ۔ ہم کھانے کی دعوت جب ہم نے کھا لی، تو کسی نے اس سے پوچھا کہ آپ نے ما شاء اللہ مکان بنا لیا، آپ نے کیسے محسوس کیا؟ اس نے کہا: اچھا نہیں کیا۔ تو بڑے حیران ہو گئے، کمال ہے! لوگ تو خوش ہوتے ہیں مکان بناتے ہیں، مکان بنانا تو لوگوں کا ایک خواب ہوتا ہے اور وہ بھی اسلام آباد میں! تو آپ خوش نہیں ہیں، کیا وجہ ہے؟ کہتے ہیں: نہ بناتا تو اچھا تھا۔ میں نے کہا: بھئی! مسئلہ کیا ہے؟ کہا: مسئلہ یہ ہے کہ اگر یہ پیسے پانچ لاکھ روپے میں بینک میں رکھتا، Fixed deposit، تو مجھے چھ ہزار روپے مہینہ ملتا، اور اب مجھے بارہ سو روپے کرایہ مل رہا ہے۔ ان دنوں بارہ سو روپے کرایہ ملتا تھا اس مکان کا نا؟ بارہ سو روپے کرایہ مل رہا ہے، تو مجھے فائدہ ہو رہا ہے یا نقصان؟ یہ اس کی بات اب گزشتہ آپ ریکارڈ کر لیں۔ اب میں آپ کو موجودہ صورتحال میں: اس مکان کی جو اسلام آباد کے G-9 میں ہے، اس وقت کیا قیمت ہو گی؟ (کروڑ سے اوپر) کروڑ سے اوپر کیا، تین چار کروڑ! تین چار کروڑ مکان اس کی قیمت ہو گی۔ اب دیکھو پانچ لاکھ اس سے منفی کر لو تو کتنا کما لیا! ایک تو یہ بات۔ دوسری بات ہے کہ اس وقت اس کا کرایہ کتنا ہو گا؟ تقریباً ستر اسی ہزار روپے، (پچاس) پچاس ہزار ہی سمجھ لیں، پچاس ہزار اور بارہ سو روپے کا Average نکالو، اوسط، تو تقریباً پچیس چھبیس ہزار روپے ہو گیا؟ یعنی پچیس ہزار روپے اس میں، مطلب بارہ سو منفی کر کے تقریباً گویا چوبیس ہزار اس میں، اور وہ آپ اس کو Convert کر لیں، تقریباً ایک لاکھ اس سے بنے گا۔ تو سوا لاکھ روپیہ نقصان پہ جاتا اگر یہ پیسے Deposit میں رکھتا، اور عقل کیا کہہ رہی ہے؟ عام عقل؟ کہ بڑھتا ہے۔ بس یہ والی بات ہے۔ اب دیکھو یہ اللہ تعالیٰ کا۔۔۔ اللہ پاک کا کلام سچا ہے، اللہ پاک نے فرمایا: ﴿يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ﴾۔
صدقات کی بات میں آپ کو بتا دوں، دنیا کے اندر ایک ایسی چیز، ایک ایسا نام ہے جس کو سب لوگ جانتے ہیں، سب لوگ مانتے ہیں، لیکن اس کی پیمائش کوئی نہیں کر سکتا، وہ کیا چیز ہے؟ برکت ہے! اگر اللہ تعالیٰ کسی کے مال میں برکت دے تو تھوڑے سے اس کا بڑا کام ہو جاتا ہے، اور نہ دے تو زیادہ سے بھی نہیں ہوتا، زیادہ سے بھی نہیں ہوتا۔ تو اب یہ جو چیز ہے کہ صدقات کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ برکت دیتے ہیں، زکوٰۃ کوئی ادا کرتا ہے اس کے ذریعے سے اپنی برکت ہے، ویسے صدقات کوئی دیتا ہے تو اس کی اپنی برکت ہے، تو بظاہر تو لگتا ہے، بظاہر ظاہری عقل یہ کہتی ہے کہ صدقات سے پیسے کم ہوتے ہیں، ظاہری یہ ہے کہ جو آدمی اپنی عزت کی پروا نہیں کرے گا تو اس کی عزت کم ہو جائے گی، اللہ پاک فرماتے ہیں: «مَنْ تَوَاضَعَ لِلَّهِ رَفَعَهُ اللَّهُ»، مطلب جس نے تواضع اختیار کی اس کو اللہ تعالیٰ عزت بڑھا دیتے ہیں۔ تو مجھے بتائیں، جن لوگوں نے اپنے آپ کو گرایا ہے، ان کی عزت بڑھی ہے یا نہیں بڑھی؟ اولیاء اللہ کیا کرتے ہیں؟ اپنے آپ کو کچھ نہیں سمجھتے، لیکن ان کی عزت پھر کیا ہوتی ہے؟ ظاہری آنکھ کہتی ہے کہ جو مر گیا تو مر گیا، لیکن اللہ پاک فرماتے ہیں کہ نہیں، جس نے اللہ کے لیے جان دی وہ ہمیشہ کے لیے زندہ ہو گیا: ﴿وَلَا تَقُولُوا لِمَن يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ﴾۔ تو ظاہری عقل اور چیز ہے، اور جو بات جو اصل ہے وہ بات اور چیز ہے۔ تو ملاءِ اعلیٰ کسی کی روح جب پہنچتی ہے، اس کے اوپر اصل باتیں کھل جاتی ہیں۔ اصل باتیں کھل جاتی ہیں، وہ جو اصل باتیں ہیں اس کے ذریعے سے پھر بات کرتے ہیں، ایسے لوگوں کے بارے میں حضرت مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
بینی اندر خود علومِ انبیا بے کتاب و بے معید و اوستاد اپنے اندر علومِ انبیاء دیکھو گے بغیر کسی کتاب کے، بغیر کسی استاد کے۔ ایسا ہوتا ہے۔ جن کی زبان پہ اللہ تعالیٰ علوم کو جاری فرماتے ہیں تو آدمی حیران ہو جاتا ہے۔ زیارت کاکا صاحب میں ایک صاحب تھے، دوستار استاد ان کا نام تھا۔ آپ ہمارے گاؤں میں پوچھ سکتے ہیں ان کے بارے میں۔ جس وقت وہ بات۔۔۔ وہ بالکل ان پڑھ آدمی تھے، لیکن جس وقت وہ قرآن کے بارے میں بات کرتے تو اس انداز سے کرتے کہ دیوبند کے اساتذہ، تھے نا مولانا عبدالحق نافع صاحب اور یہ حضرات، آپ جانتے ہوں گے، وہ ان کو سن کر حیران ہو رہے تھے کہ یہ کہاں سے کہہ رہا ہے؟ یہ کہاں سے کہہ رہا ہے؟ بس اللہ تعالیٰ جس کی زبان پہ جاری فرما دے تو آدمی حیران ہو جاتا ہے۔ تو یہ والی بات میں اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ یہ نظام ہے موجود، اللہ جل شانہ کے ہاں یہ نظام موجود ہے، ہاں یہ الگ بات ہے کہ اس کا Test ہے، اور Test کیا ہے؟ کہ اس کو واقعی ظاہری شریعت کے ساتھ آپ مقابلہ کریں گے، اگر ظاہری شریعت کے مطابق صحیح کہہ رہا ہے تو پھر اس کی بات ٹھیک ہے اور اگر نہیں ہے تو پھر نہیں ہے۔ لیکن اب دیکھو میں یہ کتاب پڑھ رہا ہوں، مجھے اس کتاب سے مل گیا علم، اب یہ علم مجھے جو مل گیا صرف اتنا مل گیا جتنا میں نے کسب کر لیا، لیکن مجھے اتنا ملا کہ میں نے جتنا کسب کیا اس سے دس گنا مل گیا، تو باقی نو حصے مجھے کہاں سے مل گئے؟ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے۔ حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں ارشاد ہے، کہ مولانا یعقوب نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ سے کسی نے پوچھا کہ حضرت! یہ مولانا قاسم نانوتوی صاحب نے کہاں سے پڑھا ہے؟ ان کو کہتے تھے نا قاسم العلوم والخیرات، یہ انہوں نے کہاں سے پڑھا ہے، اتنا زیادہ علم ان کے پاس کیسے آ گیا؟ حضرت نے فرمایا: پڑھا تو ادھر ہی سے ہے جہاں سے ہم نے پڑھا ہے، لیکن کیا کریں؟ کسی کے لیے سوئی کی نوک کے برابر کھول دیتے ہیں اور کسی کے لیے سمندر کے برابر۔ تو جس کو اللہ تعالیٰ پھر دینا چاہے تو پھر ظاہر ہے اس کے لیے پھر راستے نہیں ہیں؟ وہ تو پھر جتنا بھی اللہ تعالیٰ دے دے۔ تو میں اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ یہ جس وقت انسان حاصل کرتا ہے، مطلب ان چیزوں کو جو نفس کی اصلاح کے ذریعے سے جب ہو جاتا ہے، یعنی تقویٰ حاصل ہو جاتا ہے، اس کے ذریعے سے پھر جو اللہ پاک راستے دیتے ہیں، اس کا آدمی حساب نہیں کر سکتا۔
تو میں اس لیے عرض کر رہا تھا کہ حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا، حضرت نے ارشاد فرمایا: کہ جس وقت انسان کی روح ملاءِ اعلیٰ پہنچ گئی تو اس کے دل کی آنکھیں بیدار ہو جاتی ہیں۔ حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں پھر اس دل سے اثر لے کر اس کی جو عقل ہے وہ ترقی کر کے سر بن جاتی ہے، نتیجتاً پھر اس کے بعد اس کی جو عقل ہے وہ یہاں کی بنیاد پہ فیصلہ نہیں کرتی، وہ ملاءِ اعلیٰ کے احوال کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہے، لہٰذا وہ چیزیں ایسی ہوتی ہیں۔
تو بہرحال میں عرض کر رہا ہوں کہ حضرت نے جب یہ ارشاد فرمایا، مطلب مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے، اس کے بارے میں اب آج کل کے حالات کیا ہیں؟ وہ ذرا عرض کرتا ہوں، کیونکہ میں نے جس وقت وہ مکتوب شریف پڑھا، تو میں نے کہا سبحان اللہ! آج کل کے حالات تو اس میں ہیں۔ اب دیکھو اس وقت صورتحال کیا ہے: جتنے بھی سلاسل ہیں، جتنے بھی سلاسل ہیں، چاہے نقشبندی، چاہے چشتی، چاہے سہروردی، چاہے قادری، تو سطحیت کی طرف ہم بڑھ رہے ہیں، سطحیت کی طرف۔ یعنی سطحی باتیں آ جاتی ہیں۔ مثلاً سلوک کا طے کرنا ہے، تو یہ سارے سلسلوں کی بنیاد ہے کہ اس میں سلوک کو طے کرنا پڑے گا۔ تو بہرحال میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ یہ سطحیت پہ چل رہی ہے۔
اب یہ جو مراقبات ہیں، یہ جو ذکر و اذکار ہیں، یہ جذب کو حاصل کرنے کے ذرائع ہیں۔ صرف جذب اس سے حاصل ہوتا ہے، اس سے سلوک طے نہیں ہوتا۔ سلوک اس سے طے نہیں ہوتا، ذکر سے سلوک طے نہیں ہوتا۔ کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث شریف ہے کہ ہر چیز کے لیے صفائی کا آلہ ہوتا ہے، دلوں کے لیے صفائی کا آلہ کیا ہے؟ ”ذکر اللہ“ ہے۔ تو گویا کہ دل کی اصلاح کس چیز سے ہوتی ہے؟ ذکر سے ہوتی ہے۔ اس طرح عقل کے لیے اللہ پاک نے فرمایا ہے: فکر کے ذریعے، ذکر اور فکر۔ یعنی: ﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلٰى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ اس میں اللہ جل شانہ نے ذکر اور فکر دونوں فرمایا ہے، عقلمندوں کی نشانیوں کے جاننے کے لیے، عقلمندوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ اب ذرا تھوڑا سا غور فرمائیں یہ دونوں جو فرمایا ذکر اور فکر، اگر صرف فکر ہو پھر بھی کافی نہیں۔ صرف ذکر ہو تو پھر بھی عقل کے لیے کافی نہیں ہے، دل کے لیے کافی ہے، عقل کے لیے کافی نہیں ہے۔ ان کے ساتھ فکر کی ضرورت ہے۔ صرف فکر کرے گا تو ذہنی عیاشی ہو جائے گی، اگر صرف فکر کریں گے وہ ذہنی عیاشی ہو جائے گی اور اگر ذکر کے ساتھ فکر کریں گے تو چونکہ اللہ یاد ہو گا، اس کی فکر اللہ کے لیے ہو جائے گی۔ جب اللہ کے لیے ہو جائے گی تو پھر یہ ما شاء اللہ یہ عقل سر کی طرف پہنچ جائے گی۔ نتیجتاً سبحان اللہ اس کا بھی، اور نفس کا علاج مجاہدے سے بتاتے ہیں۔ نفس کا علاج مجاہدے سے ہے، اور جس کو کہتے ہیں قناعت کے ساتھ اور ریاضت کے ساتھ اور ان چیزوں کے ساتھ، صبر کے ساتھ، ان سے نفس کا علاج ہے۔
اب یہ جو بات ہے کہ ہم نے اگر صرف دل کی اصلاح کر دی، تو مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ان کی مثال ایسی ہے کہ جیسے کسی کی آنکھیں کھل جائیں تو سامنے جو اس کا ہو گا اسی سے اثر لے گا، تو سامنے اس کا نفس ہے، اگر اس کی اصلاح نہیں ہے تو ساری باتیں نفس کی مانے گا۔ اس کو نفس کی باتیں نظر آئیں گی۔ لہٰذا اس کو نفس کی اصلاح فوراً کرنی چاہیے اس سے پہلے کہ اس کا نفس پھر اس کے دل کو خراب کر لے، اس کو فوراً اپنے نفس کی اصلاح کرنی چاہیے، سلوک کے ذریعے سے، سلوک کو طے کرنے کے ذریعے سے۔ اب آج کل یہ چیزیں کم ہو رہی ہیں۔
تو الحمد للہ یہ جو باتیں میں آپ کو بتا رہا ہوں یہ میں ویسے آپ کو نہیں بتا رہا۔ انگلینڈ میں ایک ساتھی کو ہمارے شیخ کی خواب میں زیارت ہوئی، اور اس نے مجھے کہا: میں ابھی ابھی اٹھا ہوں اور میں نے ابھی ابھی خواب میں حضرت کی زیارت کی اور انہوں نے آپ کے لیے پیغام دیا ہے۔ تو پیغام یہ دیا ہے کہ یہ جو آپ کو اللہ پاک نے دیا ہے اب علماء اور مشائخ تک اس کو پہنچا دیں۔ علماء اور مشائخ تک اس کو پہنچا دیں۔ اس وجہ سے اب میں جہاں بھی جاتا ہوں تو باقی باتیں بعد میں کرتا ہوں، پہلے یہ باتیں کرتا ہوں تاکہ کم از کم یہ جو ذمہ داری ہے وہ پوری ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ