قیامت کے مناظر: اہلِ جنت، دوزخ اور اصحابِ اعراف کے احوال
ددرس نمبر 282، سورہ الاعراف آیات 43 تا 53، اشاعتِ اول: 20 اور 21 ستمبر، 2022، بمطابق 23 اور 24 مصفرالمظفر، 1444 ہجری
جنتیوں کے دلوں سے باہمی رنجشیں نکالی جائیں گی۔
اصحابِ اعراف دونوں گروہوں کو علامتوں سے پہچانیں گے۔
کافروں کا تکبر اور دیوتا کام نہ آئیں گے۔
دوزخیوں پر جنت کا پانی اور رزق حرام ہے۔
آخرت میں کافروں کے لیے کوئی سفارشی نہیں ہوگا۔
انسان کو دنیا میں اپنے حالات درست کرنے چاہئیں
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ ۚ وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ هَدٰىنَا لِهٰذَا وَ مَا كُنَّا لِنَهْتَدِیَ لَوْ لَاۤ اَنْ هَدٰىنَا اللّٰهُ ۚ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ ؕ وَ نُوْدُوْۤا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (43) وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ؕ قَالُوْا نَعَمْ ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَیْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَ ۙ (44) الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا ۚ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ كٰفِرُوْنَ (45) وَ بَیْنَهُمَا حِجَابٌ ۚ وَ عَلَى الْاَعْرَافِ رِجَالٌ یَّعْرِفُوْنَ كُلًّۢا بِسِیْمٰىهُمْ ۚ وَ نَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ لَمْ یَدْخُلُوْهَا وَ هُمْ یَطْمَعُوْنَ (46) وَ اِذَا صُرِفَتْ اَبْصَارُهُمْ تِلْقَآءَ اَصْحٰبِ النَّارِ ۙ قَالُوْا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ (47)
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
ترجمہ: اور اُن کے سینوں میں (ایک دوسرے سے دُنیا میں) جو کوئی رنجش رہی ہوگی، اُسے ہم نکال باہر کریں گے۔
یہاں پر ایک خاص قسم کی بات ہے کہ چونکہ جنت میں ہر قسم کی تکلیف نہیں ہوگی اس لیے وہاں جو کسی میں کسی وجہ سے باہمی عداوت، کینے اور کدورت کا کوئی رہا ہوگا دنیا میں وہ یہیں نکال دیا جائے گا۔ تو یہ ہے کہ پھر
حاشیہ: اور تمام جنتی محبت، دوستی اور بھائی چارے کے ماحول میں رہیں گے۔
اصل میں ہوتا ہے مطلب دیکھیں ہوتا کیا ہے؟ فیصلہ اللہ تعالی کا مجموعی اعمال پر ہے۔ مجموعی اعمال سے مراد یہ ہے کہ ظاہر ہے غلطیاں بھی ہوتی ہیں، ٹھیک کام بھی ہوتے ہیں، گناہ بھی ہوتا ہے، ثواب بھی ہوتا ہے۔ تو اس کا جو اوور آل رزلٹ پلس مائنس کا ملا کے اگر پلس آتا ہے تو وہ جنتی ہوتے ہیں۔ اور اگر مائنس آتا ہے تو جہنمی ہوتے ہیں لیکن مسلمان کے ساتھ جو معاملہ ہے وہ یہ ہے کہ اگر وہ جہنمی بھی ہے لیکن اس کی سزا جب وہ بھگت رہا ہوگا جب وہ پوری ہو جائے گی تو وہ پھر زیرو پہ آ جائے گا پھر اس کے بعد پلس پہ آ جائے گا۔ اور اس کے بعد پھر جنت میں پہنچا دیا جائے گا دوزخ سے نکال دیا جائے گا۔ اب یہ مطلب ہے کہ گویا کہ یوں سمجھ لیں کافر کے لیے تو ہمیشہ کے لیے جہنم ہے مسلمان کے لیے وقتی طور پہ جہنم ہے۔ تو جس وقت وہ پہنچ جائے گا تو اس کے وہ جی مثال کے طور پر کسی کے ساتھ بغض عداوت رہی ہے رنجش رہی ہے دنیا میں۔ تو وہ تو پلس مائنس کی وجہ سے بیلنس ہو کے جنت تو آ گیا لیکن وہ چیز تو موجود ہے مثلاً تو وہ اللہ تعالی ادھر سے نکال دیں گے۔ اور اللہ پاک ان کے آپس میں الفت و محبت پیدا کر لیں گے وہ چیزیں ختم ہو جائیں گی۔ ٹھیک ہے یہی بات ہے۔
ترجمہ: اُن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی، اور وہ کہیں گے: ”تمام تر شکر اللہ کا ہے، جس نے ہمیں اس منزل تک پہنچایا۔ اگر اللہ ہمیں نہ پہنچاتا تو ہم کبھی منزل تک نہ پہنچتے۔ ہمارے پروردگار کے پیغمبر واقعی ہمارے پاس بالکل سچی بات لے کر آئے تھے۔“ اور اُن سے پکار کر کہا جائے گا کہ: ”لوگو! یہ ہے جنت! تم جو عمل کرتے رہے ہو، اُن کی بنا پر تمہیں اس کا وارث بنا دیا گیا ہے۔“ ﴿43﴾ اور جنت کے لوگ دوزخ والوں سے پکار کر کہیں گے کہ: ”ہمارے پروردگار نے ہم سے جو وعدہ کیا تھا، ہم نے اُسے بالکل سچا پایا ہے۔ اب تم بتاؤ کہ تمہارے پروردگار نے جو وعدہ کیا تھا، کیا تم نے بھی اُسے سچا پایا؟“ وہ جواب میں کہیں گے: ”ہاں!“ اتنے میں ایک منادی اُن کے درمیان پکارے گا کہ: ”اللہ کی لعنت ہے اُن ظالموں پر ﴿44﴾ جو اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکتے تھے، اور اُس میں ٹیڑھ نکالنا چاہتے تھے، اور جو آخرت کا بالکل انکار کیا کرتے تھے۔“ ﴿45﴾ اور ان دونوں گروہوں (یعنی جنتیوں اور دوزخیوں) کے درمیان ایک آڑ ہوگی، اور اعراف پر (یعنی اُس آڑ کی بلندیوں پر) کچھ لوگ ہوں گے جو ہر گروہ کے لوگوں کو اُن کی علامتوں سے پہچانتے ہوں گے۔
حاشیہ: یوں تو اعراف والے جنت اور جہنم دونوں کا خود نظارہ کر رہے ہوں گے، اس لئے اُنہیں جنتیوں اور دوزخیوں کو پہچاننے کے لئے کسی علامت کی ضرورت نہیں ہوگی، لیکن یہاں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ یہ لوگ جنت اور دوزخ والوں کو دُنیا میں بھی ان کی علامتوں سے پہچانتے تھے، اور چونکہ یہ لوگ صاحب ایمان تھے، اس لئے انہیں دُنیا میں بھی اللہ تعالیٰ نے اتنی حس عطا فرمادی تھی کہ یہ متقی پرہیزگار لوگوں کے چہروں سے پہچان لیتے تھے کہ یہ نیک لوگ ہیں، اور کافروں کے چہروں سے پہچان لیتے تھے کہ یہ کافر ہیں (تفسیر کبیر امام رازی)۔
مطلب یہ اعراف چونکہ درمیانی جگہ ہے جہاں پر وہ جنت اور دوزخ کے درمیان بالکل ہوں گے۔ تو ایسی صورت میں وہ جب نظر ڈالیں گے تو دونوں طرف کے لوگوں کو پہچانیں گے ان کی نشانیوں سے۔
ترجمہ: اور وہ جنت والوں کو آواز دے کر کہیں گے: ”سلام ہو تم پر!“ وہ (اعراف والے) خود تو اُس میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے، البتہ اشتیاق کے ساتھ اُمید لگائے ہوئے ہوں گے ﴿46﴾ اور جب اُن کی نگاہیں کو دوزخ والوں کی سمت موڑا جائے گا تو وہ کہیں گے: ”اے ہمارے پروردگار! ہمیں ان ظالم لوگوں کے ساتھ نہ رکھنا۔“ ﴿47﴾ اور اعراف والے اُن لوگوں کو آواز دیں گے جن کو وہ اُن کی علامتوں سے پہچانتے ہوں گے۔
اللہ جل شانہ ہم سب کو ہر قسم کے امتحان سے بچائے اور ایمان پر قائم رکھے اور نیک اعمال کی توفیق عطا فرمائے برے اعمال سے محفوظ فرمائے۔ اور اللہ تعالی ہمارے تمام گناہوں کو معاف فرما دے۔
وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ رِجَالًا یَّعْرِفُوْنَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ قَالُوْا مَاۤ اَغْنٰى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ (48) اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا یَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحْمَةٍ ؕ اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ (49) وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ النَّارِ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ اَفِیْضُوْا عَلَیْنَا مِنَ الْمَآءِ اَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ ؕ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكٰفِرِیْنَ ۙ (50) الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَهْوًا وَّ لَعِبًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا ۚ فَالْیَوْمَ نَنْسٰىهُمْ كَمَا نَسُوْا لِقَآءَ یَوْمِهِمْ هٰذَا ۙ وَ مَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ (51) وَ لَقَدْ جِئْنٰهُمْ بِكِتٰبٍ فَصَّلْنٰهُ عَلٰى عِلْمٍ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ (52) هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِیْلَهٗ ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ تَاْوِیْلُهٗ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ نَسُوْهُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ ۚ فَهَلْ لَّنَا مِنْ شُفَعَآءَ فَیَشْفَعُوْا لَنَاۤ اَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ ؕ قَدْ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ (53)
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ
ترجمہ: اور اعراف والے اُن لوگوں کو آواز دیں گے جن کو وہ اُن کی علامتوں سے پہچانتے ہوں گے۔کہیں گے کہ: ”نہ تمہاری جمع پونجی تمہارے کچھ کام آئی، اور نہ وہ جنہیں تم بڑا سمجھے بیٹھے تھے۔“ (48)
حاشیہ: اس سے اشارہ ان دیوتاؤں کی طرف ہے جن کو انہوں نے خدائی میں اللہ تعالیٰ کا شریک مانا ہوا تھا، نیز ان سرداروں اور پیشواؤں کی طرف جنہیں بڑا مان کر انہوں نے بے سوچے سمجھے ان کی پیروی کی، اور یہ سمجھ بیٹھے کہ یہ لوگ انہیں اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچا لیں گے۔
ترجمہ: (پھر جنتیوں کی طرف اشارہ کر کے کہیں گے کہ:) ”کیا یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں تم نے قسمیں کھائی تھیں کہ اللہ ان کو اپنی رحمت کا کوئی حصہ نہیں دے گا؟ (ان سے تو کہہ دیا گیا ہے کہ:) جنت میں داخل ہو جاؤ، نہ تم کو کسی چیز کا ڈر ہوگا، اور نہ تمہیں کبھی کوئی غم پیش آئے گا۔“ (49) اور دوزخ والے جنت والوں سے کہیں گے کہ: ”ہم پر تھوڑا سا پانی ہی ڈال دو، یا اللہ نے تمہیں جو نعمتیں دی ہیں، ان کا کوئی حصہ (ہم تک بھی پہنچا دو)“ وہ جواب دیں گے کہ: ”اللہ نے یہ دونوں چیزیں ان کافروں پر حرام کر دی ہیں (50) جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا رکھا تھا، اور جن کو دُنیوی زندگی نے دھوکے میں ڈال دیا تھا۔“ چنانچہ آج ہم بھی اُن کو اسی طرح بھلا دیں گے جیسے وہ اس بات کو بھلائے بیٹھے تھے کہ انہیں اِس دن کا سامنا کرنا ہے، اور جیسے وہ ہماری آیتوں کا کھلم کھلا انکار کیا کرتے تھے (51) اور حقیقت یہ ہے کہ ہم ان کے پاس ایک ایسی کتاب لے آئے ہیں جس میں ہم نے اپنے علم کی بنیاد پر ہر چیز کی تفصیل بتا دی ہے، اور جو لوگ ایمان لائیں اُن کے لئے وہ ہدایت اور رحمت ہے (52) (اب) یہ (کافر) اُس آخری انجام کے سوا کس بات کے منتظر ہیں جو اس کتاب میں مذکور ہے؟
حاشیہ: اس آخری انجام سے مراد قیامت ہے۔ یعنی کیا یہ لوگ ایمان لانے کے لئے قیامت کا انتظار کر رہے ہیں، حالانکہ اُس وقت ایمان قبول ہی نہیں ہوگا، اور جب وہ آجائے گی تو ان کو حسرت کرنے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
ترجمہ: (حالانکہ) جس دن وہ آخری انجام آگیا جو اِس کتاب نے بتایا ہے، اُس دن یہ لوگ جو اُس انجام کو پہلے بھلا چکے تھے، یہ کہیں گے کہ: ”ہمارے پروردگار کے پیغمبر واقعی سچی خبر لائے تھے۔ اب کیا ہمیں کچھ سفارشی میسر آ سکتے ہیں جو ہماری سفارش کریں، یا کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ ہمیں دوبارہ وہیں (دنیا میں) بھیج دیا جائے، تاکہ ہم جو (برے) کام پہلے کرتے رہے ہیں، اُن کے برخلاف دوسرے (نیک) عمل کریں؟“ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی جانوں کے لئے سخت گھاٹے کا سودا کر چکے ہیں، اور جو (دیوتا) انہوں نے گھڑ رکھے ہیں، انہیں (اُس دن) اُن کا کہیں سراغ نہیں ملے گا (53)
اللہ جل شانہ ہم سب کو سمجھ عطا فرما دے۔ اصل میں یہ ایک، جیسے میں کئی بار عرض کر چکا ہوں مختلف بیانوں میں کہ قرآن پاک میں اللہ پاک مستقبل کی جو منظر کشیاں ہیں وہ آج بتاتے ہیں کیونکہ اللہ کے سامنے حال اور ماضی اور مستقبل ایک جیسا ہوتا ہے۔ تو قرآن پاک میں وہ چیزیں اس طرح بیان کی جا رہی ہیں جیسے کہ بالکل ابھی ہو رہی ہیں۔ اور وہاں پر بھی اعمال نامہ جب دکھایا جائے گا تو اس میں بھی ایسا ہو گا جیسے وہ چیزیں ابھی ہو رہی ہیں۔ تو بہرحال بات یہ ہے کہ اس میں جو لوگ مسلمان ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے، وہ تو جنت میں جائیں گے۔ اور جو لوگ کافر ہیں اور جنہوں نے انکار کر لیا ہے، تو وہ دوزخ میں جائیں گے۔ تو وہاں پر پھر ان کی منظر کشی مطلب دکھائی گئی ہے کہ جو اہلِ جنت ہیں، وہ تو بڑے مزوں میں ہوں گے۔ اور جو گنہگار ہیں، دوزخی ہیں، کافر ہیں، وہ بڑے پریشان ہوں گے۔ تو وہ پہچانیں گے، مطلب ظاہر ہے ان لوگوں کو یعنی ان کو دکھا دیا جائے گا۔ تو وہ کہیں گے کہ ہم پر بھی کچھ پانی ڈال دو یا کچھ مطلب جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دیا ہے تو ہمیں بھی ان میں سے دو لیکن وہ فرما دیں گے جیسے کہ وہاں پر تو سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ہو گا۔ تو وہ فرمائیں گے کہ اللہ پاک نے ان چیزوں کو کافروں پر حرام کر رکھا ہے۔ تو یہ بات ہے کہ اب دیکھیں جیسے آج کل ہمیں پتہ چلتا ہے، یہ جو جیسے ویڈیو کال ہوتی ہے تو وہ بالکل ایسے ہی محسوس ہوتا ہے جیسے کہ وہ اس کے پاس ہی ہیں اور باتیں لوگ کرتے ہیں۔ تو وہاں تو مطلب ظاہر ہے اللہ پاک کی قدرت سے وہ ساری چیزیں جیسے جنت میں مختلف قسم کی نعمتیں ہیں، اللہ پاک لوگوں کی خواہش کے مطابق پیدا کر دیں گے تو اسی طریقے سے اللہ جل شانہ ان کو عذاب دینے کے لیے، حسرت میں ڈالنے کے لیے، ایسے اسباب پیدا کر لیں گے کہ وہ اہلِ جنت کو دیکھ سکیں گے۔ اور جنتی دوزخیوں کو دیکھ سکیں گے اور ان کو پہچان بھی لیں گے۔ تو یہ ساری باتیں جو ہیں، یہ وہاں پر ہوں گی تو اس کے لیے بس ہمیں اس لیے بتایا جا رہا ہے تاکہ ہم یہاں سوچیں اس کا۔ اس کی وجہ جیسے کہ فرمایا گیا ہے کہ بعد میں اگر کوئی ایمان لے بھی آیا قیامت کے وقت یا موت کے بعد، تو پھر اس وقت تو کچھ بھی فائدہ نہیں دے گا۔ پھر تو صرف حسرت ہی ہو گی اور کوئی سفارشی ان کی سفارش نہیں کر سکے گا، کوئی بھی مطلب ان کو مدد نہیں پہنچا سکے گا۔ اور وہ کہہ اٹھیں گے کہ کاش ہمیں کوئی سفارشی مل جائے، اور کوئی یا دنیا میں واپس ہمیں جانے کی اجازت ہو جائے اور پھر ہم نیک اعمال کریں۔ لیکن ایسا پھر نہیں ہو گا۔ لہٰذا جو کچھ کرنا ہے یہیں کرنا ہے، یہیں پر ہی اپنے بارے میں سوچنا ہے اب مستقبل کے بارے میں اور اپنے حالات کو درست کرنا ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو وہ زندگی عطا فرما دے جو اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے والی ہو۔ اور وہ موت بھی جو اللہ پاک کو راضی کرنے والی ہو بہترین طریقے سے۔ اور اللہ پاک ہم سب کو آسانیاں نصیب فرمائے، مشکلات سے بچا دے، عافیتِ دارین نصیب فرمائے۔
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ۔ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ۔ وَالْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔