اسلامی تعلیمات اور مالیات: زکوٰۃ، ایثار اور روحانی کمال کا راستہ
سیرت النبی ﷺ، جلد 5، زکوۃ، اشاعت اول: 22 اکتوبر 2020 بمطابق: 5 ربیع الاول 1442 ہجری
- بخل کی مذمت اور اس کے انفرادی و اجتماعی نقصانات
- مال کی حقیقی ملکیت اور انسان کی حیثیت بطورِ امین
- شریعتِ محمدی ﷺ میں قانونی اور اخلاقی خیرات کا اعتدال
- انفاق فی سبیل اللہ میں صحابہ کرامؓ کے بلند درجات اور اسوہ
- سرمایہ دارانہ نظام کی خامیاں اور اسلامی معاشی اصول
- معاشرتی توازن کے قیام میں زکوٰۃ اور صدقات کی اہمیت
الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی خاتم النبیین اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
آج جمعہ کی رات ہے اور جمعہ کی رات ہمارے ہاں آج کل حضرت سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ حضرت کے شہرہ آفاق سیرت النبی کے موضوع پر لکھی ہوئی کتاب سے تعلیم ہوتی ہے۔ اور زکوٰۃ کے بارے میں بات چل رہی تھی۔
اس کے بعد اس سلسلہ میں دولت مندی کی سب سے بڑی بیماری بخل کو دنیا میں انسانیت کا بدترین مظہر اور آخرت میں بڑی سے بڑی سزا کا مستوجب قرار دیا اور جو اس گناہ سے پاک ہو اسی کو کامیابی کی بشارت دی، فرمایا:
﴿ وَمَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ﴾ (حشر: ۹)
بخل کا مبتلا دوسروں کے ساتھ بخل نہیں کرتا بلکہ درحقیقت وہ خود اپنے ساتھ بخل کرتا ہے وہ اس کی بدولت اس دنیا میں اپنے آپ کو ہر دلعزیزی اور نیک نامی بلکہ جائز آرام و راحت تک سے اور آخرت میں ثواب کی نعمت سے محروم رکھتا ہے، فرمایا:
﴿ وَمَنْ يَّبْخَلْ فَاِنَّمَا يَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖ ؕ وَاللّٰهُ الْغَنِىُّ وَاَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ ﴾ (محمد: 38) اور جو بخل کرتا ہے وہ اپنے آپ ہی سے بخل کرتا ہے، اللہ تو غنی ہے اور تم ہی محتاج ہو۔
اس آیت پاک میں درپردہ یہ بھی واضح کردیا کہ جس دولت کو تم اپنی سمجھتے ہو وہ درحقیقت تمہاری نہیں، اصل مالک خدا ہے اور تم خود اس کے محتاج ہو پھر جو شخص مال کا اصلی مالک نہ ہو بلکہ محض امین ہو وہ اصلی مالک کے حکم کے مطابق اس کو صرف نہ کرے اور یہ سمجھے کہ یہ خود اس کی ملکیت ہے اور اس کو اپنی ملکیت میں سے کسی کو کچھ دینے نہ دینے کا اختیار ہے، خائن اور بے ایمان نہ کہا جائے گا؟ درحقیقت یہی تصور کہ یہ مال میرا ہے اور میری شخصیت اور انانیت کی طرف اس کی نسبت ہے دنیا کی تمام برائیوں اور بدیوں کی جڑ ہے۔ اس آیت پاک کی یہ تعلیم اسی جڑ کو کھودتی اور بیخ و بن سے اکھاڑ کر پھینک دیتی ہے۔ پھر دولت کے ان مجازی مالکوں اور امینوں کو یہ بتا دیا گیا کہ ان کو خدا کی عدالت میں اپنی دولت کے ایک ایک ذرہ کا حساب دینا پڑے گا۔ ﴿ ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ يَوْمَىِٕذٍ عَنِ النَّعِيْمِ ﴾ (تکاثر: 8) پھر اس دن تم سے تمہاری نعمت کا حساب پوچھا جائے گا۔
اس لئے ان کو خوب سمجھ لینا چاہئے کہ وہ اپنی دولت کو کہاں اور کس طرح صرف کرتے ہیں۔ ان لوگوں کو جو اپنے روپے کی تھیلیوں کو اپنی نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں تنبیہ کی: ﴿ وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ ۙ الَّذِىْ جَمَعَ مَالًا وَّعَدَّدَهٗ ۙ يَحْسَبُ اَنَّ مَالَهٗٓ اَخْلَدَهٗ ؕ كَلَّا... ﴾ (ہمزہ: 1) برائی ہو اس کی جو طعنہ دیتا اور عیب چنتا ہو جو مال کو سمیٹ کر رکھتا ہو اور اس کو گن گن کر وہ خیال کرتا ہے کہ اس کا مال اس کے ساتھ سدا رہے گا، ہرگز نہیں۔
فرمایا رشک کرنا صرف دو آدمیوں پر جائز ہے ایک تو اس پر جس کو خدا نے علم دیا ہے اور وہ اس کے مطابق شب و روز عمل کرتا ہے اور دوسرے اس پر جس کو خدا نے دولت دی ہے اور وہ اس کو دن رات خدا کی راہ میں خرچ کرتا ہے. جو لوگ سونے چاندی کو زمین میں گاڑ کر رکھتے ہوں اور کارِ خیر میں خرچ نہ کرتے ہوں ان کو خطاب کیا: ﴿ وَالَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُوْنَهَا فِىْ سَبِيْلِ اللّٰهِۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ ۙ ﴾ (توبہ: ۳۴) وہ لوگ جو سونا اور چاندی گاڑ کر رکھتے ہیں اور اس کو خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ان کو دردناک عذاب کی بشارت دے دو۔
اس آیت پاک نے صحابہ میں دو فریق پیدا کر دیئے ایک کہتا تھا کہ جو کچھ ملے سب خدا کی راہ میں خرچ کر دینا چاہئے کل کے لئے کچھ نہ رکھنا چاہئے ورنہ جو شخص ایسا نہ کرے گا وہ اس آیت کے تحت میں عذاب کا مستحق ہوگا۔ دوسرا کہتا تھا خدا نے ہماری دولت میں جو حق واجب ٹھہرایا ہے (یعنی زکوٰۃ) اس کے ادا کرنے کے بعد سرمایہ جمع کرنا عذاب کا مستوجب نہیں۔ لیکن اہل راز صحابہ اور علمائے امت نے اپنے قول و عمل سے اس مشکل کی پوری گرہ کھول دی۔
حضرت موسیٰؑ کی توراۃ میں مقررہ زکوٰۃ ادا کرنے کے سوا مال کی خیرات کی کوئی تعلیم نہیں اور حضرت عیسیٰؑ کی انجیل میں آسمانی بادشاہی کی کنجیاں اسی کے حوالہ کی گئی ہیں، جو سب کچھ خدا کی راہ میں لٹا دے۔ یہ دونوں تعلیمات اپنی اپنی جگہ پر صحیح و درست ہیں لیکن جس طرح پہلی تعلیم بعض بلند ہمت حوصلہ مندوں کے حوصلہ سے کم ہے اسی طرح دوسری تعلیم جو یقیناً ایک بلند روحانی تخیل ہے مگر وہ عملاً عام انسانوں کے حوصلہ سے بہت زیادہ ہے۔ اسی لئے کہا جاسکتا ہے کہ وہ ایک گونہ انسانی فطرت کے دائرہ سے باہر ہے اور اسی لئے بہت کم لوگ اس پر عمل کر سکے۔ محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیم موسوی اور عیسوی دونوں شریعتوں کی جامع ہے۔ اسلام نے خیرات کے درجے مقرر کر دیئے ایک قانونی اور دوسری اخلاقی، قانونی خیرات کی وہی مقدار باقی رکھی جو موسوی شریعت میں ملحوظ تھی یعنی نصف مثقال نقد میں اور عشر پیداوار میں یہ وہ کم سے کم خیرات ہے جس کا سالانہ ادا کرنا ہر مستطیع اور صاحب نصاب پر واجب ہے اور اس کا وصول اور خرچ کرنا جماعت کا فرض ہے اور اخلاقی خیرات جس کو ہر انسان کی مرضی اور خوشی پر منحصر رکھا ہے اس کو حضرت عیسیٰؑ کی تعلیم کی طرح بلند سے بلند روحانی تخیل کے مطابق قرار دیا اور بلند ہمت انسانوں کو اس پر عمل کرنے کی ترغیب دی۔
صحابہؓ میں دونوں قسم کے لوگ تھے۔ وہ بھی تھے جو کل کے لئے آج اٹھا کر رکھنا حرام سمجھتے تھے جیسے حضرت ابوذرؓ اور وہ بھی تھے جو وقت پر اپنی تمام دولت اسلام کے قدموں پر لا کر ڈال دیتے تھے جیسے حضرت ابوبکرؓ اور ایسے بھی تھے جو اپنی تجارت کا تمام سرمایہ خدا کی راہ میں بیک وقت لٹا دیتے تھے جیسے حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ اور وہ بھی تھے جو خود بھوکے رہ کر دوسروں کو کھلا دیتے تھے اور خود تکلیف اٹھا کر دوسروں کو آرام پہنچاتے تھے جیسے حضرت علی مرتضیٰؓ اور بعض انصار کرامؓ خدا نے ان کی مدح فرمائی۔
﴿ وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّيَتِيْمًا وَّاَسِيْرًا ﴾ (دہر: 8) اور وہ اپنی ذاتی حاجت کے باوجود اپنا کھانا مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھلا دیتے ہیں۔
﴿ وَيُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓى اَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ﴾ (حشر: 9) اور وہ اپنے آپ پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ وہ خود حاجت مند ہوں۔
غرض محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیم مختلف انسانی طبیعتوں کے موافق اور فطرت سلیمہ کے مطابق ہے اور ہر ایک کے لئے اس کی استعداد اور اہلیت کے مطابق نجات کا دروازہ کھولتی ہے۔ اس نے وہ طریقہ سکھایا ہے جس سے اہل حاجت اور نیک کاموں کے لئے عملاً ہر وقت امداد مل سکے اور ساتھ ہی اہل دل اور اہل استعداد کے مرتبہ کمال کے لئے بلند سے بلند روحانی معیار کی دعوت اور ترغیب بھی پیش کر دی ہے اور اس کی خوبیاں اور بڑائیاں بھی بیان کر دی ہیں تا کہ امت کے باحوصلہ افراد ہمت کے شہپروں سے اڑ کر اس سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچنے کی کوشش کریں۔
حضرت شیخ شرف الدین یحییٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ اپنے مکتوبات میں اسلام کے اس آخری مرتبہ کمال کی تشریح ان الفاظ میں فرماتے ہیں:۔
"وایں طائفہ جان و مال در باختہ اند و ہیچ کس ماسوا اللہ نہ پرداختہ اند گفتہ ایشاں است الفقیر ماہم مباح و دمہ حد ر یعنی درویش صادق آں بود کہ بخون و مال او را دعویٰ نبود... اگر مالش برند خوش گردد گوید الحمدللہ کہ حجابے از پیش من برداشتند نا گفتہ اند زکوٰۃ نعمت دنیا نزدیک ایں طائفہ محمود نباشد از انکہ بخل ناستودہ است و نقلی تمام باید تا دویست درم را در بند کند و یکسال محبوس دارد آنگاہ پنج درم از اں بدہد"
اس فرقہ نے اپنی جان اور مال کو ہار دیا ہے اور خدا کے سوا کسی سے دل نہیں لگایا۔ اس کا مقولہ ہے کہ درویش وہ ہے جس کا مال وقف اور جس کا خون معاف ہو۔ اس کو اپنی جان و مال پر کوئی دعویٰ نہ ہو.. اگر لوگ اس کا مال اٹھا لے جائیں تو خوش ہو کہ الحمد للہ اس کے اور خدا کے درمیان جو ایک پردہ پڑا تھا وہ اٹھ گیا۔ یہاں تک کہ ان کا کہنا یہ ہے کہ دنیا کی دولت کو جمع کر کے زکوٰۃ دینا کچھ اچھا نہیں ہے کیوں کہ بخالت تعریف کے قابل نہیں اور اس کے لئے کہ سال میں دو سو درہم جمع ہوں اور پھر وہ ایک سال تک بند پڑے رہیں، تب جا کر ایک سال کے بعد پانچ درہم ان میں سے خدا کی راہ میں دئے، بڑی بخالت کی حالت ہے۔
اس کے بعد حضرت شبلیؒ کا ایک فتویٰ نقل کیا ہے۔ کسی نے حضرت شبلیؒ سے امتحاناً پوچھا کہ زکوٰۃ کتنے پر ہوتی ہے، فرمایا فقہاء کے مسلک پر جواب چاہئے یا فقراء کے؟ کہا دونوں کے، فرمایا فقہاء کے مذہب کے مطابق ایک سال گزرنے پر دوسو درم میں سے پانچ درم اور فقراء کے مسلک پر فوراً پورے کے پورے دوسو اور اس نذرانہ کی خوشی میں اپنی جان بھی سر پر رکھ کر پیش کرنی چاہئے۔ فقیہ نے کہا ہم نے یہ مذہب آئمہ دین سے حاصل کیا ہے، فرمایا ہم نے یہ مسلک صدیق اکبرؓ سے حاصل کیا ہے کہ جو کچھ تھا وہ سب سرور عالم ﷺ کے سامنے رکھ دیا اور اپنی جگر گوشہ (حضرت عائشہ صدیقہؓ) کو شکرانہ میں دیا۔
محمد رسول اللہ ﷺ کی ذاتی مثال اسی دوسرے فریق کے مطابق تھی۔ آپ کے پاس عمر بھر کبھی اتنا جمع نہ ہوا کہ زکوٰۃ کی نوبت آئے جو کچھ ہوتا وہ اسی دن اہل استحقاق میں تقسیم ہو جاتا۔ اگر گھر میں رات کو سونے چاندی کے چند خزف ریزے بھی پڑے رہتے، تو گھر میں آرام نہ فرماتے۔ مگر عام امت کے لئے اپنے مسلک کو فرض نہیں قرار دیا بلکہ اتنا ہی ان کے لئے مقرر کیا گیا جو ان کی قوتِ استطاعت اور ہمت کے مطابق ہو، تا کہ نجات کا دروازہ غریبوں اور دولت مندوں کے ہر طبقہ کے لئے یکساں کھلا رہے اور اس لئے تا کہ بے قیدی و عدم پابندی لوگوں کی سستی اور عدم عمل کا باعث نہ ہو۔ مقدار معین کے مالک پر ایک رقم قانوناً فرض کی گئی تا کہ جماعت کے مجبور و معذور افراد کی لازمی طور سے دستگیری ہوتی رہے۔
سبحان اللہ، سبحان اللہ، سبحان اللہ، سبحان اللہ۔ یہ اصل میں حضرت نے ایک بہت ہی زیادہ اہم مضمون کو گویا کہ سمندر کو کوزے میں بند کر دیا ہے۔ یعنی گویا کہ capitalism جس کو ہم کہتے ہیں۔ دولت، مطلب یہ کہ جو جمع کرتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کا پورا ایک نقشہ کھینچا ہے کہ کیسے اس کا علاج کرنا چاہیے۔
در حقیقت مالکِ ارض و سما خداست
ایں امانت چند روزہ نزدِ ماست
یعنی اصل میں تو ہر چیز کا مالک خدا ہے، اور یہ امانت چند روز کے لیے ہمارے پاس ہے، مطلب یہ بنیاد ہے۔ پھر حضرت نے بڑے خوبصورت انداز میں یہ نقشہ کھینچا ہے کہ چونکہ اسلام تدریجی طور پر آیا ہے۔ تدریجی طور پر آیا ہے، تدریجی طور پر نافذ ہوا ہے۔ تدریجی طور پر اس طرح آیا ہے کہ آدم علیہ السلام سے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک جتنے پیغمبر آئے، اپنی اپنی قوم کے لیے اللہ کی طرف سے ایک پیغام لے کر آئے۔ اس میں مسلسل ترقی ہوتی رہی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب جو دو بڑے پیغمبر آئے ہیں، موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام۔ تو موسیٰ علیہ السلام نے ایک رخ لیا ہے، تو عیسیٰ علیہ السلام نے دوسرا رخ لیا ہے۔ تقریبا ہر چیز میں۔ تو ہمارے مذہب میں ان دونوں کو جمع کر دیا گیا ہے۔ جیسے کہ اس مال کے حصے میں موسیٰ علیہ السلام کا عدم استقلال وہ یہ کہ جو خیرات تھا، لازمی تھا۔ اور باقی نہیں تھا۔ اور عیسیٰ علیہ السلام کے ہاں پورے کا پورا دے دینا چاہیے تھا۔ تو boundary condition دونوں کی طے ہو گئی تھی۔ اسلام کے اندر ان دونوں کو اس طرح وہ adjust کیا گیا کہ کم سے کم موسیٰ علیہ السلام والا طریقہ، اور عالی ہمت لوگوں کے لیے عیسیٰ علیہ السلام کا طریقہ۔ یعنی جو عالی ہمت ہے، جو کر سکتے ہیں وہ عیسیٰ علیہ السلام والے طریقے پر عمل کر لیں، یعنی اپنے طور پر خود کچھ نہ رکھیں۔ جو ملے وہ اللہ کے راستے میں خرچ کریں۔ یہ بات کی۔ جن میں ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مسلک ہے اور اس طریقے سے مطلب ہے کہ کچھ حضرات تھے جو کہ زکوۃ دیتے تھے اور بوقتِ ضرورت مال خرچ کرتے تھے، جیسے عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس طرح کے۔
تو یہ دونوں طریقے اسلام کے اندر گویا کہ آ گئے۔ اب اس میں جو اسلام پر عمل کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے، ہر حوصلے والے آدمی کے لیے گنجائش ہے۔ جن کا حوصلہ کم ہے وہ اس کم سے کم پر عمل کر لیں، یعنی فرض و واجب پر عمل کر لیں۔ باقی اس کے لیے معاف ہے۔ نفلی درجے میں ہے۔ اور جو عالی ہمت ہے وہ نفلی بھی وہ کر لے۔
اب دیکھیں، عشاء کی نماز پڑھ لو اور فجر کی نماز پڑھ لو، درمیان میں آپ سے کچھ نہیں پوچھا جائے گا آپ سو جائیں۔ لیکن اگر پوری رات اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا رہے اور عشاء کی نماز بھی پڑھ لے اور فجر کی بھی پڑھ لے تو کیا دونوں برابر ہیں؟ اس کا درجہ یقیناً اونچا ہے۔ لیکن سب کے اوپر نہیں ہے۔ تہجد کی نماز بہت اونچی نماز ہے لیکن سب کے لیے نہیں ہے۔ نفل بنا دیا گیا۔ اگر کوئی مطلب پڑھنا چاہے تو اس کی بہت بڑی فضیلت بتائی گئی۔ لیکن اگر کوئی نہ پڑھ سکے تو اس پر لازم نہیں ہے۔ بلکہ یہاں تک کہ کوئی آدمی تہجد پڑھ رہا ہو اور دوسرا آدمی تہجد نہیں پڑھ رہا، تو اس کو یہ حق نہیں کہ تہجد نہ پڑھنے والے کو کم سمجھے۔ یا اس کو ملامت کرے۔ تو اس طریقے سے جو اپنا پورا مال خرچ نہیں کر رہا اور دوسرا پورا مال خرچ کر رہا ہے۔ اور دوسرا آدمی پورا مال تو خرچ نہیں کر رہا لیکن زکوۃ دے رہا ہے تو اس کو اس کی ملامت کا حق نہیں ہے۔ ہاں اس کا مقام اونچا ضرور ہے۔ اس کا مقام اونچا ضرور ہے لیکن اس کو ملامت کرنے کا حق نہیں ہے۔ تو اس وجہ سے گویا کہ بہترین طریقے سے یہ ماشاءاللہ یہ adjustment ہو گئی۔
تو سرمایہ دارانہ نظام جو ہے، سرمایہ دارانہ نظام، اس کا جو بنیاد ہے وہ ہے دولت کی مشین کے ذریعے سے مزید دولت کو لوگوں سے کھینچنا۔ زیادہ دولت کے ذریعے سے کم دولت کو اپنی طرف کھینچنا یہ سرمایہ دارانہ نظام ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کیا ہے؟ کہ اپنی بڑی زیادہ دولت کی بنیاد پر آپ کم دولت مند شخص کی جو تھوڑی دولت ہے وہ بھی اپنی طرف کھینچ لو۔ اس کو money pump کہتے ہیں۔ تو جو money pump ہے اس کے ذریعے، جیسے سود ہے۔ سود کے ذریعے سے لوگ پیسوں کی بنیاد پر پیسے کھینچتے ہیں۔
ایک صاحب سے کسی نے کہا کہ پیسہ پیسے کو کھینچتا ہے۔ وہ ذرا سادہ آدمی تھے۔ اس نے ایک روپیہ لے لیا اور ایک دکاندار کے جو گلے ہیں اس کے سامنے کھڑا ہو گیا اور انتظار کر رہا ہے کہ اب پیسے اس کی طرف آئیں گے۔ تو آخر کافی دیر کھڑا رہا، غصے میں اس نے پھینک دیا گلے میں پھینک دیا اس کو۔ تو دکاندار نے کہا "کیا بات ہے بھئی کیا ہو گیا؟" کہتا ہے "مجھے کسی نے کہا پیسہ پیسے کو کھینچتا ہے، تو یہ تو کھینچ نہیں رہا تھا تو غصے میں میں نے پھینک دیا۔" انہوں نے کہا "بات تو ٹھیک تھی نا، زیادہ پیسوں نے تھوڑے کو کھینچ لیا۔" زیادہ پیسوں نے تھوڑے کو کھینچ لیا۔
تو یہ money pump اس کے ذریعے سے جو مالدار لوگ ہوتے ہیں وہ جب غریب ہوتا ہے اس پر قابل رحم ہوتا ہے۔ لیکن اس کے دل میں رحم کا کوئی معنی نہیں ہوتا۔ وہ اسی دولت کی بنیاد پر ہی غریبوں سے، جو کہ مستحق تھے امداد کے، وہ ان کی جیب سے وہ کچھ چھین لیتے ہیں جو کہ اس کے پاس بیچارے کے پاس ہوتا۔ تو یہ سرمایہ دارانہ نظام کی پوری theory ہے۔ تو اسلام نے اس سرمایہ دارانہ نظام کی بالکل بیخ کنی کی ہے، اس انداز میں کہ جو غریب ہیں ان کا حق بنایا مالدار لوگوں کے مال میں، کم سے کم زکوۃ کی صورت میں۔ اور انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب کی صورت میں۔ اور بہت سارے مصارف اس طرح قائم کر دیئے جس کے ذریعے سے ان غریب لوگوں کی دلجوئی ہو سکے۔ مثلاً کفارہ، غریبوں کو کھانا کھلانا۔ اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ یہ جو نذر نیاز اور یہ تمام چیزیں، وہ سب اس میں شامل ہیں کہ مطلب غریبوں کو پہنچائیں۔ یا ہمارے حج کے موقع پر جو دم ہے۔ ہاں یہ بھی سارے مطلب ہے کہ اس قسم کی ایک چیز ہے کہ وہ غریبوں کو کھلانا ہوتا ہے۔ تو اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ اسلام نے ایک انتہائی بہترین طریقے سے معاشرے کو balance کرنے کی صورت پیدا فرمائی ہے۔ اللہ جل شانہ ہمیں اس کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔