اعمال کی محافظت: دین میں اعتدال اور شیخ کی رہنمائی کی اہمیت

بَابٌ فِي الْمُحَافَظَةِ عَلَى الْأَعْمَالِ، درس نمبر: 220، اشاعتِ اول: 1 مارچ، 2023 بمطابق 8 شعبان، 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. انسان کو اعمال کی محافظت کے لیے ازخود ایسی سختیاں مقرر نہیں کرنی چاہئیں جنہیں وہ بعد میں نبھا نہ سکے۔
  2. حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریین کی یہ صفت تھی کہ ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے شفقت اور مہربانی تھی۔
  3. امتِ محمدیہ آپس میں مہربان ہونے کے ساتھ کفار پر سخت ہونے کی صفت بھی رکھتی ہے جو حواریین میں نہیں تھی۔
  4. شریعتِ محمدی میں رہبانیت کی کوئی گنجائش نہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ امت کے لیے آسانیاں تلاش کی ہیں۔
  5. اپنی تربیت خود کرنے اور سخت ٹائم ٹیبل بنانے کے بجائے کسی نگران شیخ سے وابستہ ہونا چاہیے جو مزاج کے مطابق اعمال بتاتے ہیں۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

بَابٌ فِي الْمُحَافَظَةِ عَلَى الْأَعْمَالِ،

اعمال کی محافظت کرنے کا بیان۔

وَقَالَ تَعَالَى: ﴿وَقَفَّيْنَا بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَآتَيْنَاهُ الْإِنجِيلَ وَجَعَلْنَا فِي قُلُوبِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ رَأْفَةً وَّ رَحْمَةً وَّ رَهْبَانِيَّةَ ۨ ابْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَيْهِمْ اِلَّا ابْتِغَآءَ رِضْوَانِ اللّٰهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا﴾ (حدید: 28)

ترجمہ: نیز فرمایا: ”اور ان کے پیچھے مریم علیہ السلام کے بیٹے عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجا اور ان کو انجیل عنایت کی اور جن لوگوں نے ان کی پیروی کی ان کے دل میں شفقت اور مہربانی ڈال دی اور لذت سے کنارہ کشی کی تو انہوں نے خود ایک نئی بات نکال لی، ہم نے ان کو اس کا حکم نہیں دیا تھا مگر (انہوں نے اپنے خیال میں) خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے آپ ہی ایسا کر لیا تھا، پھر جیسا اس کو نباہنا چاہئے تھا نباہ بھی نہ سکے۔“

تشریح: ”وَاٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ“: حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان پر نازل ہونے والی کتاب انجیل کا ذکر فرمایا: رَاْفَةً وَّ رَحْمَةً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حوارین کی صفت یہ تھی ان کے دل میں شفقت و مہربانی تھی ایک دوسرے کے لئے۔ رَاْفَةً وَّ رَحْمَةً: دونوں کا ترجمہ ایک ہی ہے شفقت۔ بعض نے فرمایا کہ رحمت کے معنی شفقت اور رافۃ شدت شفقت ہے اس میں شفقت میں مبالغہ ہے۔ نیز بعض کی رائے یہ ہے مصیبت کو دور کر دیا تو اس کو رافۃ کہیں گے اور اگر فائدہ پہنچا تو اس کو رحمت کہیں گے۔ امت محمدیہ ﷺ کی صفت میں بھی یہ ہے رحماء بینہم آپس میں مہربانی ہے مگر اس کے ساتھ یہ صفت بھی ہے کہ اشداء علی الکفار کہ کفار پر سخت ہیں، مگر عیسیٰ علیہ السلام کے حوارین میں یہ دوسری صفت نہیں تھی کیونکہ ان پر جہاد نہیں تھا۔ وَرَهْبَانِيَّةً: بعض حوارین نے رہبانیت اختیار کی کہ جب دین کے اعتبار سے ان پر حالات آئے تو یہ جنگلوں میں چلے گئے اور وہاں عبادت میں مشغول ہو گئے۔ یہ رہبانیت ان پر ابتداء میں لازم نہیں تھی مگر جب انہوں نے اس کو اپنے اوپر لازم کیا تو اللہ کی طرف سے ان پر یہ لازم ہو گئی مگر پھر ان کے اکثر لوگوں نے اس کو نبھایا نہیں۔ مگر شریعت محمدیہ ﷺ میں فرمایا گیا لاَ رَهْبَانِيَّةَ فِی الْاِسْلَامِ اسلام میں رہبانیت کی کوئی گنجائش نہیں۔

اصل میں جس وقت وحی اترتی ہے نا، تو اس وقت تکوینی طور پر تشریعی حالات آتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جس قسم کے حالات ہوتے ہیں اس کے مطابق آتے ہیں۔ اس وجہ سے موسیٰ علیہ السلام کے جو مطلب زمانہ وقت میں جو لوگ تھے۔ تو انہوں نے وہ گائے والا جو واقعہ کیا تھا مطلب ہے کہ گائے تو اس میں ابتدا میں تو صرف یہ کہا گیا تھا کہ گائے کو ذبح کرو۔ اب اگر وہ کوئی بھی گائے ذبح کر لیتے تو ان کا کام ہو جاتا وہ کام ہو جاتا۔ لیکن انہوں نے سوال کیا کہ کس قسم کی گائے ہے تو اللہ پاک کی طرف سے ایک شرط اس میں ڈال دی گئی۔ پھر بھی اگر وہ فوراً اس پر عمل کر لیتے تو مزید کچھ مسئلہ نہ ہوتا، تو انہوں نے پھر کچھ اور کہا کہ اس کا مطلب اس کا کیا رنگ ہے۔ تو پھر ایک اور شرط ڈالی گئی، پھر تیسری دفعہ، اس کے بعد پھر ان کی زبان سے نکلا کہ إِنْ شَاءَ اللهُ ہم اس پر عمل کر لیں گے۔ تو اس إِنْ شَاءَ اللَّهُ کی برکت سے انہوں نے عمل کیا اور فرمایا کہ اللہ پاک نے فرمایا، ویسے عمل تو کرنے والے نہیں تھے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جب کبھی صحابہ کرام زیادہ سوال کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ اتنا زیادہ نہ کیا کرو کہیں دین تم پر سخت نہ ہو جائے۔ بلکہ یہاں تک کہ تراویح جو چھوڑی تھی جماعت کے ساتھ اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ کہیں یہ لازم نہ ہو جائے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے لیے آسانیاں تلاش کیں۔ اب experience ہو گیا تھا موسیٰ علیہ السلام کو۔ تو پھر معراج شریف کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے موسیٰ علیہ السلام نے کہا تھا۔ کہ جب پچاس نمازیں فرض ہوئی تھیں تو موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ میری قوم تین نمازیں نہیں پڑھ سکی تو آپ کم کروا دیں۔ نمازیں کم ہوتے ہوتے ہوتے جب پانچ رہ گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا مجھے حیا آتی ہے مطلب اس سے زیادہ میں نہیں کہہ سکتا۔ تو پانچ فرض ہو گئیں اور پھر ساتھ فرمایا کہ اس کا ثواب پچاس کا ملے گا۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ چیز ہوتی ہے۔ تو اب اور مطلب جو حواریین تھے انہوں نے رہبانیت اختیار کی۔ تو ان پر لازم تو نہیں تھی لیکن انہوں نے جب اختیار کر لی تو۔ ایسے ویسے ہی ہوا تھا نا بنی اسرائیل کے ساتھ جو ہوا تھا۔ کہ انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں اجازت دے مطلب جہاد کی۔ تو ظاہر ہے مطلب ہے کہ پہلے ان کو نہیں لیکن جس وقت ان پہ جہاد فرض ہو گیا تو پھر وہ بیٹھ گئے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ان پر یہ رہبانیت لازم نہیں تھی لیکن جب انہوں نے اپنے اوپر لازم کر لی تو پھر اللہ پاک نے بھی لازم کر دی۔ فرمایا کہ پھر وہ پورا بھی نہیں کر سکے۔ تو اس طرح اس میں ہمارے لیے ایک میسج ہے۔ کہ ہم بہت سارے لوگ ہیں جب شیخ کی نگرانی میں نہیں ہوتے۔ اور وہ اپنی تربیت خود کرنا چاہتے ہیں۔ تو اپنے لیے بڑا سخت ٹائم ٹیبل بنا لیتے ہیں۔ یہ کریں گے، یہ کریں گے، یہ کریں گے، یہ کریں گے۔ پھر بعد میں بالکل ہی چھوڑ دیتے ہیں، نہیں کر سکتے۔ پھر بعد میں ایسے نتیجہ نکال لیتے ہیں کہ ہو نہیں سکتا۔ ہو نہیں سکتا تو بالکل چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ وہ اخیار والی بات ہے کہ اخیار والی بات میں یہ چیز ہوا کرتی ہے۔ جبکہ جو شیخ کی نگرانی میں ہوتا ہے تو شیخ ان کو اتنا بتاتے ہیں جتنا وہ کر سکتے ہیں۔ Experience اس کو ہوتا ہے۔ نتیجتاً وہ ہولے ہولے اوپر چڑھتا رہتا ہے اور اس کے ساتھ وہ مسئلہ نہیں ہوتا۔ جیسے میں حضرت سے عرض کرتا تھا کہ حضرت ذکر، تیرے پاس ٹائم ہے؟ وہ مجھے ڈانٹتے تھے، میں جا کے پھر میں چپ ہو جاتا۔ تو اس کا مطلب ہے کہ یعنی گویا کہ شیخ ہر شخص کا مزاج جانتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کے اندر جذب کا ہو، خاصیت ہو، اور تھوڑے سے ہی اکھڑ جائے۔ تو پھر کیا ہو گا؟ تو شیخ موقع شناسی ہوتے ہے، حالات کا پتہ ہوتا ہے۔ لہٰذا وہ اتنا دیتے ہیں جتنا کہ وہ برداشت کر سکتا ہے۔ اور اس کے ساتھ وہ انسان پھر جب چلتا ہے تو پھر فائدہ ہوتا ہے۔ تو یہاں پر بھی یہ ہے کہ اپنے لیے انسان خود کوئی چیز طے نہ کرے۔ بلکہ کسی کو اپنے اوپر نگران بنا دے، اس طریقے سے انسان چلے گا تو زیادہ فائدہ ہو گا إِنْ شَاءَ اللهُ۔

اعمال کی محافظت: دین میں اعتدال اور شیخ کی رہنمائی کی اہمیت - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور