کائنات کا کامل نظام، لوحِ محفوظ کا ریکارڈ اور انسانی فطرت کا اصل رخ
درس نمبر 255، سورۃ الانعام، آیات: 38 تا 41، اشاعتِ اول: 10 اگست، 2022، بمطابق 11 محرم الحرام، 1444 ہجری
- قیامت کے دن انسانوں کے ساتھ تمام جانوروں کو بھی دوبارہ زندہ کر کے میدانِ حشر میں اٹھایا جائے گا۔
- حشر میں مظلوم جانوروں کو ظالم سے بدلہ دلوانے کے بعد ان پر دوبارہ موت طاری کر دی جائے گی کیونکہ وہ حقوق اللہ کے مکلف نہیں ہیں۔
- انسانی جسم کے کامل نظاموں اور لوحِ محفوظ میں درج مکمل ریکارڈ کے باعث، بکھرے ہوئے اجزا کو دوبارہ جمع کرنا اللہ کے لیے بالکل مشکل نہیں۔
- ہٹ دھرمی سے گمراہی اپنانے والے حق سننے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں، جبکہ سچے دل سے ہدایت طلب کرنے والوں کو اللہ سیدھی راہ دکھاتا ہے۔
- شدید مصیبت کے وقت منکرین اپنے باطل دلائل اور شرکاء کو بھول کر صرف اللہ کو پکارتے ہیں، جو ان کے انکار کے محض نفسانی ہونے کی دلیل ہے۔
اَلْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ أَمَّا بَعْدُ
فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ.
وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا طٰٓىٕرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْهِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْؕ مَا فَرَّطْنَا فِی الْكِتٰبِ مِنْ شَیْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ یُحْشَرُوْنَ (38) وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا صُمٌّ وَّ بُكْمٌ فِی الظُّلُمٰتِؕ مَنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یُضْلِلْهُؕ وَ مَنْ یَّشَاْ یَجْعَلْهُ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (39) قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ اَوْ اَتَتْكُمُ السَّاعَةُ اَغَیْرَ اللّٰهِ تَدْعُوْنَۚ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (40) بَلْ اِیَّاهُ تَدْعُوْنَ فَیَكْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَیْهِ اِنْ شَآءَ وَ تَنْسَوْنَ مَا تُشْرِكُوْنَ۠ (41)
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ.
ترجمہ: اور زمین میں جتنے جانور چلتے ہیں، اور جتنے پرندے اپنے پروں سے اُڑتے ہیں، وہ سب مخلوقات کی تم جیسی ہی اصناف ہیں۔ ہم نے کتاب (یعنی لوحِ محفوظ) میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ پھر ان سب کو جمع کر کے ان کے پروردگار کی طرف لے جایا جائے گا۔ ﴿38﴾
حاشیہ: اس آیت نے یہ بتایا ہے کہ مرنے کے بعد دوسری زندگی صرف انسانوں کے ساتھ مخصوص نہیں ہے، بلکہ تمام جانوروں کو بھی قیامت کے بعد حشر کے دن زندہ کر کے اُٹھایا جائے گا۔ ”تم جیسی ہی اصناف ہیں“ کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح تمہیں دوسری زندگی دی جائے گی، اسی طرح ان کو بھی دوسری زندگی ملے گی۔ ایک حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہے کہ جانوروں نے دُنیا میں ایک دوسرے پر جو ظلم کئے ہوں گے، میدانِ حشر میں مظلوم جانور کو حق دیا جائے گا کہ وہ ظالم سے بدلہ لے۔ اس کے بعد چونکہ وہ حقوق اللہ کے مکلف نہیں ہیں، اس لئے ان پر دوبارہ موت طاری کر دی جائے گی۔ یہاں اس حقیقت کو بیان فرمانے کا مقصد بظاہر یہ ہے کہ کفارِ عرب مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کو ناممکن قرار دیتے تھے اور کہتے تھے کہ سارے کے سارے انسان جو مر کر مٹی ہو چکے ہوں گے ان کو دوبارہ کیسے جمع کیا جاسکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا ہے کہ صرف انسانوں ہی کو نہیں، جانوروں کو بھی زندہ کیا جائے گا، حالانکہ جانوروں کی تعداد انسانوں سے کہیں زیادہ ہے۔ رہا یہ معاملہ کہ دُنیا کی ابتدا سے انتہا تک کے بے شمار انسانوں اور جانوروں کے گلے سڑے اجزاء کا کیسے پتہ لگایا جائے گا؟ تو اس کا جواب اگلے جملے میں یہ دیا گیا ہے کہ لوحِ محفوظ میں ہر بات درج ہے، اور یہ ایسا ریکارڈ ہے جس میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی ہے، لہٰذا نہ انسانوں کو جمع کرنا اللہ تعالیٰ کے لئے کچھ مشکل ہے، نہ جانوروں کا۔
یہ اصل میں ہم لوگ جب کوئی مطلب engineering کا کام کرتے ہیں۔ تو مثال کے طور پر کوئی بلڈنگ بنتی ہے، اس کے اندر ایک نقشہ بنتا ہے، ایک ہوتا ہے باہر کا نقشہ، ایک ہوتا ہے اندر کا نقشہ۔ اندر کا نقشہ ایسا ہوتا ہے کہ جیسے اس کے نیچے پائپس لگے ہوتے ہیں۔ Sewerage pipes یا اس طرح اور pipes، اور اس طرح مطلب بجلی کے connections ہوتے ہیں، مختلف تاروں کے۔ تو ہمارے ہاں تو ذرا معاملہ تھوڑا سا کمزور ہے، مطلب اتنا زیادہ حساب نہیں رکھا جاتا۔ لیکن باہر ملکوں میں جب بلڈنگز بنتی ہیں، تو ان کے پورے دونوں قسم کے نقشے بنتے ہیں۔ یعنی اوپر کا نقشہ بھی بنتا ہے ظاہری اور اس کا جو اصل اندر کا نقشہ ہے، وہ بھی بنتا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس کو جب کبھی کوئی fault آ جاتا ہے، تو ان کو ہر تار کا معلوم ہوتا ہے کہ کہاں سے گزرا ہے، ہر pipe کا معلوم ہوتا ہے کہ کہاں سے گزرا ہے۔ لہٰذا صرف اسی جگہ کو ہی وہ trace کرتے ہیں اور اس کے ذریعے سے معلوم کرتے ہیں کہ پرابلم کیا ہے۔ ایسی engineering کو complete engineering کہتے ہیں۔
تو اللہ جل شانہٗ کو ان چیزوں کی ضرورت نہیں ہے لیکن اللہ پاک، اسباب ایک ہوتا ہے اللہ کے اسباب کی دنیا اور ایک ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کے امر کی دنیا۔ تو امر کی دنیا میں بھی سب کچھ ہو سکتا ہے مطلب ظاہر ہے اس کے لیے کوئی مشکل نہیں، جس وقت كُنْ کہہ دے تو فَيَكُونُ وہ ہو جاتا ہے۔ مطلب اس میں یعنی کوئی مسئلہ نہیں ہوتا اور مطلب یہ ہے کہ جو کچھ اللہ پاک نے کرنا ہوتا ہے اس کے لیے کوئی مشکل نہیں ہوتا۔
دوسری طرف یہ ہے کہ اللہ پاک نے اسباب کی دنیا میں جو چیزیں بنائی ہیں تو اسباب کی چیزیں بالکل perfect ہیں۔ ہم اپنے مطلب اپنے جسم کی ان تمام چیزوں کو دیکھ لیں کہ کیسے ہر چیز ایک مکمل سسٹم ہے۔ یعنی ہم لوگ یہ موبائل وغیرہ کو دیکھتے ہیں نا اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ اس موبائل کا جو اندر جو circuit ہے کتنا complete ہے اور باریک circuit ہے اور تھوڑی سی جگہ میں اتنا سارا کچھ آ جاتا ہے۔ یہ واقعتاً انسان کے لحاظ سے تو کمال کی بات ہے۔
لیکن اللہ جل شانہٗ کا نظام دیکھیں دماغ، دماغ، اس کے اندر کیا نظام ہے؟ کیوں ڈاکٹر صاحب! کیا ہوتا ہے دماغ کے اندر؟ اتنی باریک رگیں اور اتنے باریک نظام اور اتنا memory ریکارڈ اور پتہ نہیں کیا کیا چیزیں، اس دماغ کے اندر ہیں۔ اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ جو اعصابی نظام ہے، وہ کتنا perfect ہے۔ ایک ایک جگہ کو وہ information کا ذریعے کا، ملا ہوا ہے، اور سب دماغ سے ملے ہوئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ گویا کہ جیسے تار ہوتے ہیں نا، دو تار ہوتے ہیں۔ یعنی ایک تار ہوتا ہے جانے کا، ایک ہوتا ہے آنے کا وہ۔ تو اسی طریقے سے مطلب یہ ہے کہ وہاں پر بھی اس طرح پورا نظام ہے۔ خون کا نظام ہے، شریانوں کا، پھر وریدوں کا، وہ پورا نظام ہے۔ Liver کا ایک زبردست نظام ہے، اس کی laboratory کا آدمی حیران ہو جاتا ہے۔ مطلب آپ نے، آپ کبھی ذرا دیکھیں، دیکھیں نا کارخانوں میں جائیں، وہ جو صفائی کے جو نظام ہوتے ہیں سسٹم کے، وہ کتنے بڑے بڑے سسٹم ہوتے ہیں اور وہ صفائی کرتے ہیں۔ اب liver کو آپ کسی جانور کا کاٹ کر دیکھیں نا، اس میں آپ کو کیا فیکٹری نظر آتی ہے؟ لیکن ہے فیکٹری۔ باقاعدہ اس میں cleaning نظام ہے، مطلب سارا سسٹم وہ ہے کہ وہ اس میں ہوتا ہے۔ گردے کو دیکھیں، تھوڑی سی جگہ میں کیسے cleaning نظام ہے؟ تو یہ میں اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ اللہ پاک نے جو اسباب کی دنیا بنائی ہوئی ہے، وہ ساری کی ساری مکمل ہے۔
تو اللہ پاک نے لوحِ محفوظ میں سب کا ریکارڈ رکھا ہوا ہے، اللہ پاک نے۔ لوحِ محفوظ کے اندر سارا ریکارڈ رکھا ہوا ہے کہ کون سی چیز کہاں سے ہلے گی اور کہاں جڑے گی، کہاں یہ کرے گی، کہاں وہ، ساری چیزیں موجود ہیں۔ Future کی تمام چیزیں موجود ہیں۔ تو اب یہ ہے کہ ظاہر ہے مطلب اس کے لیے، یعنی اب دیکھیں، ذرا تھوڑا سا غور کریں، ہم، ہم کو random نظر آتا ہے، randomness نظر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں randomness نہیں ہے۔ مثال کے طور پر ایک جسم مر گیا، اس کی کون کون سی چیز کہاں جائے گی وہ لوحِ محفوظ میں موجود ہے۔ مطلب یہ نہیں کہ وہ randomly جا رہا ہے بس ہوا نے اڑا لیا تو پتہ نہیں ہے کہ کس طرف اڑا لیا، نہیں، یہ والی بات نہیں۔ وہاں پہلے سے لکھا ہوا ہے کہ ہوا کس طرف سے آئے گی اور وہ اس کو کس طرف لے جائے گی اور وہ یہ کیا کرے گی اور زمین کیا کرے گی اور فلاں چیز کیا کرے گی اور فلاں چیز، یہ ساری چیزیں پہلے سے موجود ہیں۔ تو اس کو reverse engineering جس کو ہم کہتے ہیں، جو ہمارے انسانوں میں بھی آج کل موجود ہے reverse engineering، کہ دوبارہ سے ایک نئے سرے سے وہ پورا وہ set up کرنا، وہ مطلب اس کے لیے کون سا مشکل کام ہے؟ تو یہ ساری باتیں یہ ہیں۔ یہ تو میں نے ایک مثالیں اس لیے دیں حالانکہ اللہ کے کاموں کے لیے کوئی مثال نہیں ہوتی، لیکن یہ مثالیں انسانی زندگی کی میں نے اس لیے دیں کہ اگر انسان اتنے perfection تک جا سکتا ہے اپنی capacity میں، تو اللہ تعالیٰ نے اس انسان کو بھی تو بنایا ہے نا جو اس perfection تک جا سکتا ہے۔ تو ظاہر ہے مطلب اللہ پاک کا نظام کتنا وسیع اور عریض ہے اور کتنا مکمل ہے۔
ترجمہ: اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے وہ اندھیروں میں بھٹکتے بہرے اور گونگے ہو چکے ہیں۔
حاشیہ: یعنی اپنے اختیار سے گمراہی کو اپنا کر انہوں نے حق سننے اور کہنے کی صلاحیت ہی ختم کر لی ہے۔ یادر ہے کہ یہ ترجمہ ”فی الظلمٰت“ کو ”صمّ وبکم“ سے حال قرار دینے پر مبنی ہے جسے علامہ آلوسی رحمہ اللہ نے راجح قرار دیا ہے۔
یعنی وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا صُمٌّ وَبُكْمٌ فِي الظُّلُمَاتِ. گونگے، بہرے، اندھیروں میں۔ وہ اندھیروں میں، مطلب اس کا مطلب اندھیروں میں بھٹکتے بھٹکتے گونگے اور بہرے ہو چکے ہیں۔
ترجمہ: اللہ جسے چاہتا ہے، (اس کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے) گمراہی میں ڈال دیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے، سیدھی راہ پر لگا دیتا ہے ﴿39﴾
دیکھیں ہم کہتے ہیں نا اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ. صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ہم باقاعدہ کہتے ہیں اور اللہ پاک ہم سے بلواتے ہیں۔ تو اب ظاہر ہے جو چاہتا ہے اور واقعی دل سے چاہتا ہو، سورۂ فاتحہ پڑھ کے دل سے چاہتا ہو کہ یا اللہ مجھے ہدایت دے، تو اللہ پاک پھر ہدایت دیتے ہیں۔ اور جو نہیں چاہتا، جو یہاں کے نفس کی خواہشیں پوری کرنا چاہتا ہے، یہ چیزیں نہیں چاہتا تو پھر ان کی ہٹ دھرمی سے اللہ پاک ان کو اسی طرف ڈال دیتا ہے۔ اور جسے چاہتا ہے سیدھی راہ پر لگاتا ہے۔
ترجمہ: (ان کافروں) سے کہو: ”اگر تم سچے ہو تو ذرا یہ بتاؤ کہ اگر تم پر اللہ کا عذاب آجائے، یا تم پر قیامت ٹوٹ پڑے تو کیا اللہ کے سوا کسی اور کو پکارو گے؟﴿40﴾ بلکہ اُسی کو پکارو گے،
ابھی کرونا آیا تھا نا، تو ابتدا ابتدا میں جو کرونا آیا تھا تو باقاعدہ یورپ میں جلوس نکلے تھے لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ کے جلوس نکلے تھے۔ تو پتہ چل گیا کہ جس وقت پریشانی آ جاتی ہے بالکل پھر سیدھے ہو جاتے ہیں۔ لیکن جس وقت پریشانی ہٹ جاتی ہے پھر اس کے بعد ویسے کے ویسے ہو جاتے ہیں۔ یہ کہتے ہیں کتے کی جو دم ہے نا وہ ویسی کی ویسی ہی رہتی ہے، مطلب اس کو بے شک سو سال نلکی میں رکھو تو پھر بھی نکالو گے تو ویسے کا ویسا مطلب ہو جائے گا۔ تو جس وقت پریشر آتا ہے اس وقت بالکل سیدھے ہو جاتے ہیں لیکن جس وقت پریشر ہٹ جاتا ہے پھر بالکل ویسے کے ویسے رہ جاتے ہیں۔
ترجمہ: اگر وہ چاہے گا تو اُسے دُور کر دے گا، اور جن (دیوتاؤں) کو تم اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہو (اُس وقت) ان کو بھول جاؤ گے۔ ﴿41﴾
وَتَنسَوْنَ مَا تُشْرِكُونَ.
حاشیہ: عرب کے مشرکین یہ مانتے تھے کہ اس کائنات کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے، لیکن ساتھ ہی ان کا عقیدہ یہ تھا کہ اس کی خدائی میں دوسرے بہت سے دیوتا اس طرح شریک ہیں کہ خدائی کے بہت سے اختیارات ان کو حاصل ہیں۔ اب ہوتا یہ تھا کہ وہ ان دیوتاؤں کو خوش رکھنے کی نیت سے ان کی پرستش کرتے رہتے تھے، مگر جب کوئی ناگہانی آفت آپڑتی تھی، مثلاً سمندر میں سفر کرتے ہوئے پہاڑ جیسی موجوں میں گھر جاتے تھے تو اپنے گھڑے ہوئے دیوتاؤں کے بجائے اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے تھے۔ یہاں ان کی اس عادت کے حوالے سے یہ سوال کیا جارہا ہے کہ جب دُنیا کی ان مصیبتوں میں تم اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہو تو اگر کوئی بڑا عذاب آجائے، یا قیامت ہی آکھڑی ہو تو یقیناً اللہ تعالیٰ ہی کو پکارو گے۔
اب سوال یہ ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ مشرکین جو ہیں، جس وقت تکلیفوں میں آ جاتے ہیں، مشکلات میں آ جاتے ہیں، پھنس جاتے ہیں، اور جب ان کو پتہ چلتا ہے کہ بھئی یہ تو ایسی بات ہے کہ اب بغیر اللہ کی مدد کے نہیں، اس وقت یہ اللہ کو پکارتے ہیں۔ پھر ان کے یہ سوالات کہاں چلے جاتے ہیں؟ جو addressable ہے، جب یہ عام حالت میں کہتے ہیں کہ اللہ نظر نہیں آتا، اس وقت کیا اللہ نظر آ جاتا ہے؟ مطلب اس وقت بھی تو اللہ نظر نہیں آتا، لیکن اللہ پاک سے مانگتے ہیں نا؟ پھر اللہ پاک ہی کو پکارتے ہیں۔ تو اس وقت ان کی لاجیک کہاں چلی جاتی ہے؟ کہ اللہ ہمیں نظر نہیں آتا لہٰذا اللہ نہیں ہے۔ اس وقت، مطلب ظاہر ہے، بھی تو یہ صورتحال ہوتی ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ صرف نفس کی شرارت کی وجہ سے ہے۔ اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہے۔ اور اپنے جو نفس کی خواہشات کو ماننے کی وجہ سے، یہ جو ہٹ دھرم ہو چکے ہیں، اس کی وجہ سے انکار کرتے ہیں۔ ورنہ، ورنہ ٹیسٹ تو ہو جاتا ہے نا۔ ٹیسٹ تو ہو جاتا ہے جس وقت ان کے اوپر مشکلات آجاتی ہیں اس وقت اسی ایک اللہ کو پکارتے ہیں۔ تو کیا اس وقت اللہ کو دیکھ رہے ہوتے ہیں؟ تو یہ اصل بات ہے تو قرآن نے بالکل کھول کھول کے یہ ساری چیزیں بتائی ہیں۔
اللہ جل شانہٗ ہم سب کو۔ سمجھ عطا فرمائے، صحیح عقیدوں کے ساتھ۔ اور صحیح اعمال کے ساتھ۔ اور اخلاص کے ساتھ، تقویٰ کے ساتھ، بصیرت کے ساتھ۔ اور اللہ پاک ہم سب کو، یعنی اس کے لیے قبول فرما دے۔ اور ایسا قبول فرمائے کہ پھر کبھی رد نہ ہو۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ. رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ. وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ بِرَحْمَتِكَ.