اصلاحِ قلب و نفس اور بے لوث محبتِ خداوندی

کتاب: پیغام محبت، درس 18، اشاعت اول: 22 اکتوبر 2013 بمطابق 17 ذو الحجہ، 1434 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. دنیا کی محبتوں کے غلبے کی وجہ سے محض علم رائیگاں جاتا ہے، جس کے لیے دل کی اصلاح اور اللہ کی محبت کو غالب کرنا ضروری ہے۔
  2. انسان کی پیدائش کا اصل مقصد عبادت ہے اور سچا انسان وہی ہے جو نعمت پر شکر اور مصیبت پر صبر کرے۔
  3. دل کو مال، لذات اور جاہ کی محبت سے پاک کر کے صرف اللہ کی محبت پر کامل بھروسہ کرنا چاہیے۔
  4. تن آسانی اور سستی انسان کو شرعی احکامات سے دور کر دیتی ہے، اس لیے نفس کو اس پر مائل نہیں ہونے دینا چاہیے۔
  5. غرض اور مفاد پر مبنی دوستیاں ناقابلِ بھروسہ ہیں، جب کہ اللہ تعالیٰ سے بے لوث دوستی ہی اصل نفع کا سودا ہے۔
  6. شیخِ کامل کی طرف اپنا دل متوجہ کرنے سے انسان کی شیطانی وساوس سے حفاظت ہوتی ہے اور تمام کام درست ہو جاتے ہیں۔
  7. عجب سے بچ کر اپنے آپ کو مٹانے اور مکمل عاجزی اختیار کرنے میں ہی انسان کی حقیقی روحانی سنوار ہے۔
  8. آنکھ، کان، زبان اور دماغ اللہ کی امانت ہیں جن کا استعمال صرف شریعت کی حدود اور جائز کاموں تک محدود ہونا چاہیے۔
  9. اسباب کا استعمال اللہ کا حکم سمجھ کر کرنا چاہیے، مگر دل کا بھروسہ اور نگاہ صرف مسبب الاسباب پر ہی ہونی چاہیے۔
  10. دین کا ظاہری خول دل کے باطنی معاملات کی حفاظت کرتا ہے، لہٰذا ظاہر اور باطن دونوں کی درستگی ناگزیر ہے۔
  11. ذکر سے دل کی زمین تیار ہوتی ہے، مگر باطنی اور نفسانی خرابیوں کی اصل درستگی اہلِ دل اور صالحین کی صحبت سے ہی ممکن ہے۔

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

آج منگل کا دن ہے اور منگل کے دن ہمارے ہاں طریقِ جذب کے لیے کچھ اشعار پڑھے جاتے ہیں اور ان کی تشریح کی جاتی ہے۔ دنیا کی محبتیں آج کل اتنی غالب ہیں کہ انسان ساری چیزوں کو جانتا بھی ہے کہ یہ اللہ کی ناپسندیدہ ہیں اور میرے لیے نقصان دہ ہیں، لیکن چونکہ دل اور نفس کی اصلاح نہیں ہو چکی ہوتی، لہٰذا وہ ساری باتیں، جو سارا علم ہے وہ رائیگاں چلا جاتا ہے، اور اس پر عمل کرنے کی توفیق نہیں ہوتی۔ اس وجہ سے اب اللہ تعالیٰ کی محبت کو غالب کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت اتنی غالب ہو جائے کہ ہم خود بخود اللہ تعالیٰ کی بات ماننے کو اور دینِ اسلام کے احکامات کو اولیت دیں اور شریعت کو اپنے رواج پر ترجیح دیں۔ تو اس وجہ سے ایسی محافل کی، ایسی مجالس کی ضرورت اب زیادہ ہو گئی ہے۔ پہلے دور میں ان چیزوں کا رواج تھا، ایسی مجالس ہوا کرتی تھیں، بزرگوں کے ہاں اشعار پڑھے جاتے تھے اور اس میں دلچسپی لی جاتی تھی اور لوگوں کو بھی بہت سارے اشعار یاد ہوتے تھے اور ذوق ہوتا تھا۔ لیکن اب اوّل تو ہے نہیں، اور اگر ہے تو وہ زیادہ تر مجازی شاعری ہے جو فسق و فجور پر مبنی ہوتی ہے۔ تو اس وجہ سے اس شاعری سے لوگ واقف نہیں ہیں، اس کا ذوق بھی نہیں ہے، اس کا شوق بھی نہیں ہے، اس سے واقفیت بھی نہیں ہے۔ تو جس چیز کا ذوق اور شوق نہ ہو، واقفیت نہ ہو تو اس چیز کو شروع کرنا آسان نہیں ہوتا۔ وہ تو ایسے ہے جیسے کھڈوں میں گاڑی چلانا۔ لیکن جب کبھی منزل پہ پہنچنا ہوتا ہے تو کھڈوں میں بھی گاڑی چلانی پڑ جاتی ہے، اور نتیجے کو خدا کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ تو اللہ پاک کامیاب بھی فرما دیتے ہیں۔ اسی امید پر ہم نے یہ مجلس شروع کی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو ہمارے لیے بھی بہت مفید بنا دے اور جو لوگ سن رہے ہیں، جو اس میں شامل ہیں ان کے لیے بھی مفید بنا دے اور باقی حضرات کو بھی، باقی لوگوں کو بھی اس کا ذوق نصیب فرمائے۔

ہم کو بس تیری محبت کا سہارا کافی

کیا وہ انسان ہے جو مشغول عبادت پہ نہ ہو
شکر نعمت پہ نہ ہو صبر مصیبت پہ نہ ہو

عافیت مانگتے یا رب ہیں کہ کمزور ہیں ہم
پر کہیں داغ خدایا یہ محبت پہ نہ ہو

کیا وہ انساں ہے جو مشغول عبادت پہ نہ ہو
شکر نعمت پہ نہ ہو، صبرِ مصیبت پہ نہ ہو

اس میں شاعر یہ کہتا ہے کہ وہ کیسا انسان ہے جو عبادت پہ مشغول نہ ہو۔ کیوں کہا یہ؟ یہ اس لیے کہا کہ اللہ جل شانہٗ ارشاد فرماتے ہیں ﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ﴾ ”نہیں پیدا کیا میں نے انسان اور جن کو مگر اپنی عبادت کے لیے۔“ تو یہ بات اگر معلوم ہے کہ انسان عبادت کے لیے پیدا ہے، تو اگر وہ اپنی Duty پوری نہیں کرتا تو پھر کیسا انسان ہے؟

کیا وہ انسان ہے جو مشغول عبادت پہ نہ ہو
شکر نعمت پہ نہ ہو صبر مصیبت پہ نہ ہو
  کیونکہ اللہ کی نعمت پر شکر کرنے سے اللہ پاک نعمت کو اور بڑھا دیتے ہیں اور صبر کرنے سے اللہ ساتھ ہو جاتے ہیں، مصیبت کو کم کر دیتے ہیں اور ظاہر ہے بہت اجر اس کا ملتا ہے۔ تو دونوں صورتوں میں فائدہ ہی فائدہ ہے۔ تو انسان کے اندر شعور ہوتا ہے اور شعور انسان کو اچھے اور برے کی تمیز سکھاتا ہے۔ تو جس انسان میں یہ شعور نہ ہو، جو اپنا فائدہ نہیں جانتا، تو اس کو ہم کیسا انسان کہیں گے؟

کیا وہ انسان ہے جو مشغول عبادت پہ نہ ہو
شکر نعمت پہ نہ ہو صبر مصیبت پہ نہ ہو

عافیت مانگتے یا رب ہیں کہ کمزور ہیں ہم

اللہ پاک نے عافیت مانگنے کو پسند فرمایا ہے کیونکہ اس میں عجز کا اعتراف ہے، عاجزی کا، اور عاجزی اللہ کو، اللہ کو پسند ہے۔

پر کہیں داغ خدایا یہ محبت پہ نہ ہو

لیکن شاعر اس میں خطرہ دیکھ رہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ محبت کے جذبے کے خلاف نہ ہو جائے۔ عافیت مانگنا تو ہے عاجزی کے لیے لیکن یہ محبت کے خلاف والی بات نہیں ہونی چاہیے، محبت کا جذبہ جواں رہنا چاہیے۔

مجھ کو بس تیری محبت کا سہارا کافی
دل میرا تجھ پہ رہے، مال پہ، لذت پہ نہ ہو

یعنی مجھ کو صرف تیری محبت کا سہارا کافی ہے، مجھے باقی چیزوں کی ضرورت نہیں ہے، اور میرا دل تیرے ساتھ وابستہ ہونا چاہیے، مال اور لذت کا طالب نہ ہو۔ یہ دو جذبوں کا رد ہو گیا کیونکہ حبِ دنیا میں تین جذبے ہوتے ہیں: مال کی محبت، لذات کی محبت اور جاہ کی محبت۔ تو دو جذبوں کے بارے میں یہاں پر آ گیا کہ میرا دل ان چیزوں میں مشغول نہیں ہونا چاہیے۔

ہم تو دیوانے ہیں تیرے اور یہی چاہتے ہیں
دل کا گوشہ کوئی مرکوز وجاہت پہ نہ ہو
  تو یہ تیسرے جذبے کا رد ہو گیا، کہ ہم تو تیرے دیوانے ہیں، تیرے عاشق ہیں، اور یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے دل کا کوئی گوشہ عزت اور جاہ کے طلب میں نہ رہے۔ تو گویا کہ ہم ان تین جذبوں سے اپنے آپ کو بچائیں: جاہ کی محبت، باہ کی محبت اور مال کی محبت۔

یہ جہاں تیرا ہے، ہم تیرے ہیں، سب تیرا ہے

یقیناً

یہ جہاں تیرا ہے، ہم تیرے ہیں، سب تیرا ہے
دل کہیں میرا یہ سرشار ملکیت پہ نہ ہو

کہ میں یہ سوچنے لگوں کہ اوہ! یہ تو میری فلاں چیز ہے اور میری فلاں چیز ہے، میرا فلاں چیز ہے، میرا فلاں چیز ہے۔ سب اللہ کا ہے، اللہ کا مال ہے۔ اللہ جب تک ہمارے پاس امانت رکھے گا تو ہے اور جب تک نہیں رہے گا اٹھا لے گا، مطلب ظاہر ہے۔ اس وجہ سے ہمارے ان چیزوں کے اندر دل کو نہیں گھسنا چاہیے اور دل کے اندر ان کو نہیں گھسنا چاہیے۔

تن آسانی پہ میرا نفس نہ مائل ہو کبھی
نفس شرمندہ کبھی میرا مشقت پہ نہ ہو

مطلب یہ ہے کہ تن آسانی پہ میرا نفس مائل نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ تن آسانی سے بہت سارے شریعت کے کام رہ جاتے ہیں پیچھے، جیسے نماز ہی کو لے لیں۔ اب فجر کی نماز کے لیے اٹھنا ہے اور تن آسانی ہے، اور اٹھنا مشکل ہو گیا تو چلو کام خراب ہو گیا، شریعت کا حکم پورا نہیں ہوا۔ جہاد کا حکم ہے، تن آسانی کی وجہ سے رہ گیا۔ اللہ کے راستے میں نکلنے کا ہے، تن آسانی کی وجہ سے رہ گیا۔ تو مطلب یہ ہے کہ تن آسانی کی وجہ سے کہیں میرے دینی اعمال پر اثر نہ پڑ جائے۔

قبول میرے خدایا مرے ہوں قلب و نظر
ذہن تاریک نہ ہو قلب بھی ظلمت پہ نہ ہو

یہ ایک اور چیز بتائی کہ میرا جو قلب و نظر ہے، دل اور نظر جس کو ہم کہتے ہیں سوچ، یہ دونوں قبول ہو جائیں۔ اس وجہ سے میرا ذہن تاریک نہ بنے اور میرے دل میں بھی ظلمت نہ ہو۔

سامنے تیرے رہوں دل سے ترا بندہ بنوں
دل ہو احسان پہ کسی اور کیفیت پہ نہ ہو

یعنی دل میں کیفیتِ احسان پیدا ہو جائے اور کسی اور کیفیت کی طلب مجھے نہ ہو۔

دلِ شبیرؔ کو اپنی یاد سے کر لے روشن
تو اسے یاد رہے، اِس سے یہ غفلت پہ نہ ہو

کیا وہ انساں ہے جو مشغول عبادت پہ نہ ہو
شکر نعمت پہ نہ ہو، صبر مصیبت پہ نہ ہو

بے لوث دوستی

غرض جن کو ہے ان کی دوستی، دوستی غرض کی ہے
بھروسہ ان پہ کرنے میں تو پھر مشکل بہت ہی ہے

مگر بے لوث دوستی میں تو یوں خطرے نہیں ہوتے
یہ کیوں کرتے نہیں اُس سے کہ جس کی ایسی دوستی ہے

جس کو غرض ہے، یعنی محتاج ہے، تو ان کی دوستی تو بے لوث نہیں ہو سکتی، وہ ضرور آپ سے کچھ چاہے گا۔ تو اس وجہ سے اس پر بھروسا نہیں ہو سکتا۔ لیکن جس کی دوستی بے لوث دوستی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی، کہ اللہ تعالیٰ تو ہم سے کچھ بھی نہیں چاہتے، اللہ کو کس چیز کی ضرورت ہے ہم سے؟ تو لہٰذا اس کی ہم سے بے لوث محبت ہے۔ لہٰذا ہم اگر اس کے ساتھ دوستی کریں گے تو یہ دوستی نفع کی ہے، باقی دوستیاں خسارے کی ہیں۔

یہ اب شاعر کے جذبات ہیں کہ زندہ رہوں تو کیسے رہوں:

کاش میں ایسا رہوں، اس کے لیے زندہ رہوں

کاش میں ایسا رہوں اس کے لئے زندہ رہوں
موت ہو اس کے لئے اس پر بھی شرمندہ رہوں

دل مرا اس کے لئے ہو اور دماغ اس کے لئے
ہو زبان پر ذکر اس کا اس کا نام لیتا رہوں

کاش میں ایسا رہوں، اس کے لیے زندہ رہوں

دوستی اُس کے لئے ہو دشمنی اُس کے لئے
مجھ سے چاہے جیسے کرنا اس طرح کرتا رہوں

کاش میں ایسا رہوں، اس کے لیے زندہ رہوں

بولنا اس کے لئے ہو، چپ رہوں اس کے لئے
خوش رہوں اس کے لئے، اس کے لئے روتا رہوں

کاش میں ایسا رہوں، اس کے لیے زندہ رہوں

دل میں بس اک وہ سمائے دوسرا کوئی نہ ہو
دل سے الا اللہ کا نعرہ میں لگاتا رہوں

کاش میں ایسا رہوں، اس کے لیے زندہ رہوں

اس سے مانگوں، اس سے لوں، بس اس کے در پر سر رہے
اس کے در پر سر کو ہر دم، بار بار رکھتا رہوں

کاش میں ایسا رہوں، اس کے لیے زندہ رہوں

اب تو بس اس کی محبت کا ہی آسرا ہے شبیرؔ
اس سے جو غافل کرے، میں اس کو بھول جاتا رہوں

کاش میں ایسا رہوں، اس کے لیے زندہ رہوں

میرے خیال میں یہ تو Self-explanatory ہے۔ اس میں کسی تشریح کی ضرورت نہیں ہوگی، سب چیزیں بالکل واضح ہیں۔

سیدھی سی بات

سیدھی سی بات ہے ہم اس کے ہیں

یہ اس غزل کی تشریح ہو گئی

سیدھی سی بات ہے ہم اس کے ہیں
اس کے اگر نہیں تو کس کے ہیں
اس کے بن جائیں تو پھر سب کچھ ٹھیک
کام جیسے بھی اور جس کے ہیں

مطلب یہ ہے اللہ ہی کے بن جائیں تو بس کام بن گیا: مَنْ كَانَ لِلّٰهِ كَانَ اللّٰهُ لَهُ۔

اللہ ہی اللہ

جب کوئی کام تم نے کرنا ہو اُس میں اُس سے ہمیشہ ڈرنا ہو بس شریعت کے مطابق ہو کام اور صرف اُس کا ہی دم بھرنا ہو

مطلب یہ ہے کہ موٹی موٹی باتیں ہیں، سیدھی سی باتیں ہیں لیکن یہ زبان سے دل میں اتر جائیں پھر بڑی بات ہے۔ جب تک زبان پر ہے تو چلو ایک استحضار کا ذریعہ بن جائے گا، لیکن اصل بات اس وقت بنے گی جب یہ دل میں اتر جائیں گی۔

تجھ کو کیا معلوم

اشارہ جو "ھو" کا ہوا ہے تجھ کو کیا معلوم
دل مرا کس سے آشنا ہے تجھ کو کیا معلوم

جھک کیوں جاتی ہے گردن مری محفل میں اب
کون اس وقت بلاتا ہے تجھ کو کیا معلوم

کیسے غافل رہوں اس سے کہ ہر طرف ہے وہی
اپنی آغوش میں چھپاتا ہے تجھ کو کیا معلوم؟

اشارہ جو "ھو" کا ہوا ہے تجھ کو کیا معلوم

ہر وقت اس کی نظر اپنی نظر پر محسوس
عرش سے کیا برس رہا ہے تجھ کو کیا معلوم

اشارہ جو "ھو" کا ہوا ہے تجھ کو کیا معلوم

بھلا دیا ہے جس نے مجھ سے ہر اک کام میرا
لگا ہوں جس میں کام اس کا ہے تجھ کو کیا معلوم

اشارہ جو "ھو" کا ہوا ہے تجھ کو کیا معلوم

نہیں پیا ہے تو نے عشق کا جب جام ابھی
جو اس نے مجھ کو پلایا ہے تجھ کو کیا معلوم

اشارہ جو "ھو" کا ہوا ہے تجھ کو کیا معلوم

رات دعاؤں کے رستے میری ملاقات ان سے
ملن کا وقت وہ کیسا ہے تجھ کو کیا معلوم

اشارہ جو "ھو" کا ہوا ہے تجھ کو کیا معلوم

کہا جب اس نے کہ تم میرے ہو تو ہاں اس وقت
دل کا کیا حال پھر ہوتا ہے تجھ کو کیا معلوم

اشارہ جو "ھو" کا ہوا ہے تجھ کو کیا معلوم

بہا بہا کے جو آنسو میں دل کو دھو ڈالوں
پھر مرے دل میں کون آتا ہے تجھ کو کیا معلوم

اشارہ ھو کا جو ہوا ہےتجھ کو کیا معلوم
دل میرا کس سے آشنا ہے تجھ کو کیا معلوم

کیسے گم سم خاموش میں نہ رہوں شبیر کہ
دھیان حاصل کس کا ہوا ہے، تجھ کو کیا معلوم

اشارہ جو "ھو" کا ہوا ہے تجھ کو کیا معلوم

یہ ایک عاشق اپنی کیفیات بتا رہا ہے کہ انسان جب اللہ کا بن جاتا ہے تو اس کی کیفیت کیا بنتی ہے۔

دل میں دو راستے

دل میں الہامِ الٰہی کا انتظام بھی ہے
اور شیطاں کے وساوس کا تیزگام بھی ہے
اپنا دل کھول ذرا شیخِ کامل کی جانب
تاکہ سب درست رہیں کام، سو یہ کام بھی ہے

ہم بہت سارے کاموں کو کام سمجھتے ہیں۔ لیکن سارے کاموں کو ٹھیک کر لیں اور یہ صحیح بن جائے اور مفید بن جائے تو یہ کیا کام نہیں ہوگا؟ مثال کے طور پر یہ سارے پنکھے بھی لگا دوں اور Refrigerator بھی لے آؤں، اور AC بھی لگوا دوں، اور یہ بھی ہو جائے، وہ بھی ہو جائے اور Connection بجلی کا نہ دوں۔ چلو، کیا کہیں گے مجھے لوگ؟ بھئی کیا ہو گیا؟ شوشا کے لیے پنکھے لٹکا دیے۔ ہاں جی، بلب لٹکا دیے، فرج لگا دیا، اے سی لگا دیا، لیکن Current نہیں دیا۔ تو سارے کے سارے کھڑے کے کھڑے، صرف Showpieces ہوں گے۔ لیکن اگر اس کو کرنٹ دے دیا تو چلنے پڑ جائیں گے۔ تو اصل یہی بات ہے کہ یہ جو کام ہے کہ سارے کام درست ہو جائیں۔

اب سنیں دوبارہ:

دل میں الہامِ الٰہی کا انتظام بھی ہے
اور شیطاں کے وساوس کا تیزگام بھی ہے
اپنا دل کھول ذرا شیخِ کامل کی جانب
تاکہ سب درست رہیں کام، سو یہ کام بھی ہے

دل سے دیکھا اسے

دل میں میں یاد اس کو کرتا رہوں
اور ہر دم اُس کا دم بھرتا رہوں

ذرہ ذرہ میرا اس کا جو ہے
دے کے اس کو اس پہ میں ڈرتا رہوں

دل میں میں یاد اس کو کرتا رہوں

یعنی میں دل میں ہر وقت ذکر کروں اور ہر وقت اس کی محبت میں مگن رہوں اور میرا جو ذرہ ذرہ مطلب ہے، وہ سب میں اس کو دوں لیکن پھر بھی اس پہ ڈرتا رہوں کہ کہیں کمی تو نہیں ہوئی۔   ذرہ ذرہ مرا اس کا جو ہے

میرا ذرہ ذرہ اس کا ہے۔

ذرہ ذرہ مرا اس کا جو ہے
دے کے اس کو اس پہ میں ڈرتا رہوں

دل میں میں یاد اس کو کرتا رہوں

مٹتے مٹتے میرا مٹنا بھی مٹے

یعنی مٹنے کا جو احساس ہے وہ مٹ جائے

مٹتے مٹتے مرا مٹنا بھی مٹے
اس طرح روز میں سنورتا رہوں

دل میں میں یاد اس کو کرتا رہوں

بگڑنا کیا ہے؟ بگڑنا کہتے ہیں انسان عجب میں مبتلا ہو جائے، اپنے آپ کو سمجھنے لگے اور اللہ سے کٹنے لگے گا۔ تو یہ بگڑنا ہے۔ اور انسان جس وقت مٹنا شروع ہو جائے، عاجزی اختیار کرنا شروع ہو جائے تو یہ کیا ہے؟ یہ بننا ہے، سنورنا ہے۔ کیونکہ اللہ کو عاجزی پسند ہے۔ جتنا جتنا یہ عاجز بنتا جائے گا اتنا اتنا اللہ کو پسند ہو گا۔ تو اس طرح:

مٹتے مٹتے میرا مٹنا بھی مٹے
اس طرح روز میں سنورتا رہوں

کیونکہ اگر مٹنے کا احساس باقی ہو تو مٹے کیسے؟ کیونکہ پھر عجب ہو جائے گا کہ میں تو بڑا عاجز ہوں۔ کیونکہ عاجزی اچھی صفت ہے نا؟ مانو گے نا کہ اچھی صفت ہے۔ اور میں کہوں اپنے آپ کو عاجز، تو کیا ہو گا یہ؟ میں کہہ دوں ”آج تو میں نے بڑی عاجزی کے ساتھ نماز پڑھی“، یہ کیا چیز ہے؟ ہیں؟ اچھا، ٹھیک ہے نا؟ تو یہ احساس بھی ختم ہونا چاہیے نا؟ تو اصل میں یہی ہے:

مٹتے مٹتے مرا مٹنا بھی مٹے
اس طرح روز میں سنورتا رہوں

دل پہ اس کی ہو نظر پیار کی اک
ذکر سے اس طرح نکھرتا رہوں

﴿فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ﴾ تو میں جب ذکر کروں گا تو اس سے میں نکھرتا رہوں گا کیونکہ اس سے میرے دل کے اوپر اس کی رحمت کی نظر ہو گی۔

دل پہ اس کی ہو نظر پیار کی ایک
ذکر سے اس طرح نکھرتا رہوں

دورِ اغیار میرے دل سے اب
سامنے باغ ہے، میں چرتا رہوں

یہ حدیث شریف کی طرف اشارہ ہے کہ جب جنت کے باغوں میں پہنچو، چراگاہوں میں، تو اس میں خوب چرو۔

دورِ اغیار میرے دل سے اب
سامنے باغ ہے میں چرتا رہوں

دل سے دیکھا اسے ہے جب سے شبیر
اس پہ ہر روز اب تو مرتا رہوں

دل میں میں یاد اس کو کرتا رہوں
اور ہر دم اس کا دم بھرتا رہوں

اب ذرا تھوڑا سا اس کا ایک اور رنگ ہے۔

دنیا کی محبت کا سرا کیا یہاں ملے

دنیا کی محبت کا سرا کیا یہاں ملے
پھر حبِ الہی کی انتہاء کہاں ملے

دنیا کی محبت کا سرا کیا یہاں ملے

دنیا کی محبت کا سرا جب نہیں ہے تو پھر حبِ الٰہی کی انتہا کیسے معلوم ہو سکتی ہے؟ دنیا تو محدود ہے تو اس کی محبت بھی محدود ہو گی، اور اللہ کی ذات وہ تو غیر محدود ہے تو اس کی محبت بھی غیر محدود ہو گی۔ تو اس کی انتہا کیسے ملے گی؟

جب اس کی نظر سے کوئی کیسے ہی گر گیا
اس کو کیا ملے اگر سارا جہاں ملے

دنیا کی محبت کا سرا کیا یہاں ملے

جب اس کی نظر سے کوئی گر جائے تو وہ تو ختم ہو گیا! اس کو سارا جہان بھی مل گیا تو کیا مل گیا؟

دنیا کی محبت کا سرا کیا یہاں ملے
پھر حبِ الہی کی انتہاء کہاں ملے

دنیا کی محبت کا سرا کیا یہاں ملے

کیا حد ہے تباہی کی اسے چھوڑدیا گر
کتنی ہی اس کو یاں پہ دعوتِ بتاں ملے

دنیا کی محبت کا سرا کیا یہاں ملے

یعنی یہاں پر مجازی محبوبوں کی طرف سے کتنی دعوت ملے، اگر اس نے ان کے لیے اس کو چھوڑ دیا تو تباہی ہو گئی۔ ختم ہو گی

دنیا کی لذتوں سے وہ لذات ہوں محسوس
اور ان کی پھر طلب ہو تو سرِ نہاں ملے

دنیا کی محبت کا سرا کیا یہاں ملے

دنیا کی جو لذت ہے وہ اس لیے ہے تاکہ وہاں کی لذت محسوس ہو، جو ادھر ملیں گی، اور پھر جب اس کی طلب پیدا ہو جائے تو پھر اس کا مقصد پورا ہو جائے گا۔

اس زیست کے اک کام کا طالب بنوں شبیرؔ
بس اس کا ہی ہونے کا جو جذبہ جواں ملے

دنیا کی محبت کا سرا کیا یہاں ملے

اب ایک ہے

اللہ اللہ کریں

، یعنی ہمارا کام کیا ہو؟ اللہ اللہ کرنا۔

صراطِ مستقیم پر اب ہم چلا کریں
دل سے بھی اور زبان سے اللہ اللہ کریں

ہیں قیدِ شریعت میں کان دونوں اپنے بند
جائز اگر نہ ہو تو اسے کیوں سنا کریں

صراطِ مستقیم پر اب ہم چلا کریں

مطلب یہ ہے کہ میرے جو کان ہیں پابند ہیں، شریعت کے قوانین کے۔ ہم آزاد نہیں کہ ہر چیز سنیں۔ گانے سنیں، غلط باتیں سنیں، کانا پھوسی کریں، یہ کام ہمارے نہیں ہیں کیونکہ پابند ہیں۔ ہمارے کان پابند ہیں، تو جب پابند ہیں تو اب ہم وہی سنیں جس کی اجازت ہے۔

بیشک ہماری آنکھیں بھی ہیں اس کی امانت
غیر محرم دیکھنے سے نہ مجرم بنا کریں

صراطِ مستقیم پر اب ہم چلا کریں

ہماری جو آنکھیں ہیں یہ بھی اس کی امانت ہے، اس کو ہم اس کی مرضی کے خلاف نہ استعمال کریں۔ لہٰذا ہم کہیں غیر محرم کو دیکھ کر اس کا مجرم نہ بن جائیں۔   اک گوشت کا لوتھڑا ہے زباں میرے منہ میں بند
جائز نہ ہو جو بول اس سے کیوں ادا کریں

صراطِ مستقیم پر اب ہم چلا کریں

یعنی ایک گوشت کا لوتھڑا ہے زبان، اور اگر ہم لوگ اس کو ایسے بولوں پہ چلائیں جو ناجائز ہوں، تو وہ تو اس کی مرضی کے خلاف کام ہو جائے گا۔

اس سر میں جو دماغ ہے کنٹرول پہ مامور
تو اس کا استعمال غلط کیوں کیا کریں
  صراطِ مستقیم پر اب ہم چلا کریں

یہ دل بھی امانت ہے مرے رب کی جب شبیرؔ
تو اس کے علاوہ نہ کسی کو دیا کریں
  صراطِ مستقیم پر اب ہم چلا کریں