کھانے کے نبوی آداب: گرے ہوئے لقمے کی قدر، برکت اور عاجزی

باب فی الامر بالمحافظۃ علی السنۃ وآدابھا، درس نمبر: 245، اشاعتِ اول: 29 مارچ، 2023 بمطابق 7 رمضان المبارک، 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

انگلیاں اور برتن صاف کرنا: کھانے میں برکت پانے کا نبوی طریقہ گرے ہوئے لقمے کا حکم: صفائی کر کے کھانا اور شیطان کو محروم کرنا رزق کی قدردانی اور عاجزی: تکبر اور ناشکری سے بچاؤ دسترخوان کے آداب اور متروک سنتوں کو زندہ کرنے کا عظیم اجر

حَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعـلَمِيْنَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ
اَمَّا بَعْدُ! فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

لقمہ گر جائے تو صاف کر کے کھالینا چاہیے (164) ﴿التَّاسِعُ: عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ أَمَرَ بِلَعْقِ الْأَصَابِعِ، وَالصَّحْفَةِ وَقَالَ: ”إِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ فِيْ أَيِّهَا الْبَرَكَةُ.“ (رَوَاهُ مُسْلِمٌ) وَفِيْ رِوَايَةٍ لَّهُ: ”إِذَا وَقَعَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيَأْخُذْهَا فَلْيُمِطْ مَا كَانَ بِهَا مِنْ أَذًى وَلْيَأْكُلْهَا وَ لَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ، وَ لَا يَمْسَحْ يَدَهُ بِالْمِنْدِيلِ حَتّٰى يَلْعَقَ أَصَابِعَهُ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِيْ فِيْ أَيِّ طَعَامِهِ الْبَرَكَةُ“۔ وَفِيْ رِوَايَةٍ لَّهُ: ”إِنَّ الشَّيْطَانَ يَحْضُرُ أَحَدَكُمْ عِنْدَ كُلِّ شَيْءٍ مِنْ شَأْنِهِ حَتّٰى يَحْضُرَهُ عِنْدَ طَعَامِهِ فَإِذَا سَقَطَتْ مِنْ أَحَدِكُمُ اللُّقْمَةُ فَلْيُمِطْ مَا كَانَ بِهَا مِنْ أَذًى فَلْيَأْكُلْهَا وَ لَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ“﴾ ”حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیوں اور کھانے کے برتنوں کو چاٹنے کا حکم دیا اور فرمایا تم نہیں جانتے کہ کس حصے میں برکت ہے۔ اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ جب تم میں سے کسی کا لقمہ (ہاتھ سے) گر جائے تو اس کو اٹھالے اور جو مٹی وغیرہ اسے لگ گئی ہو اسے دور کر کے کھالے، شیطان کے لئے اس کو نہ چھوڑے اور نہ اپنے ہاتھ کو رومال سے صاف کرے جب تک کہ اپنی نگلیوں کو چاٹ نہ لے، اسے کیا معلوم کہ کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔ اور اسی کی ایک روایت میں ہے کہ شیطان تمہارے ہر کام میں ہر چیز میں حاضر ہوتا ہے یہاں تک کہ کھانا کھانے کے وقت بھی حاضر ہوتا ہے پس جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو اس سے مٹی وغیرہ دور کر کے کھالے اور اس کو شیطان کے لئے نہ چھوڑے۔

تشریح: انگلیوں کو چاٹنے کے فوائد : ”أَمَرَ بِلَعْقِ الْأَصَابِعِ“ انگلیوں کو چاٹنے کا حکم دیا۔ اور دوسری روایت میں فرمایا: ”إِذَا وَقَعَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيَأْخُذْهَا فَلْيُمِطْ“ لقمہ گر جائے تو اس کو اٹھا کر کھالے۔ علامہ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں انگلیوں کو چاٹنے کا حکم دینا، گرے ہوئے لقمہ کو اٹھا کر کھانے کا حکم یہ اس لئے ہے کہ کہیں اس میں برکت نہ ہو اور یہ شخص اس سے محروم نہ ہوجائے۔ اس طرح کرنے میں تواضع اور عاجزی کا اظہار بھی ہے۔ اس طرح کرنے میں متکبرین ومترفین کے عمل سے اجتناب بھی ہے، اللہ کی نعمت کی قدر دانی ہوتی ہے۔ اس عمل سے شیطان بہت ذلیل ہوتا ہے۔ ”فَلْيَأْخُذْهَا فَلْيُمِطْ مَا كَانَ بِهَامِنْ أَذًى“ جو لقمہ گر جائے اس کو اٹھالے اور اس کی مٹی وغیرہ کو صاف کر کے کھالے کہ اس پر غبار یا مٹی وغیرہ لگ جائے تو اس کو صاف کر کے کھالے اور اگر گندگی ایسی لگ جائے کہ دھو کر بھی کھایا نہ جاسکے تو اب اس کو جانور وغیرہ کو کھلا دے۔ اصل میں اللہ کی نعمتیں بے حساب ہیں، اور اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے سے اللہ جل شانہ اپنی نعمتوں کو بڑھاتے ہیں۔ اور شکر کرنا یہ ہوتا ہے کہ ناشکری نہ کرے۔ مطلب ناشکری نہ کرنے سے مراد یہ ہے کہ جیسے کسی سے لقمہ گر گیا، تو اب ظاہر ہے اس سے اگر اپنے آپ کو مستغنی سمجھا تو یہ ناشکری ہے۔ پس اگر کوئی اس سے اپنے آپ کو مستغنی نہیں سمجھتا اور اس کو اپنے آپ کو محتاج سمجھتا ہے کہ ممکن ہے اسی میں میرے لیے اللہ نے برکت رکھی ہو، تو ایسی صورت میں اللہ جل شانہ اس کو برکت عطا فرماتے ہیں۔ جس میں فرماتے ہیں: «لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ» اگر تم میری نعمتوں کا شکر ادا کرو گے تو اللہ نعمتوں کو بڑھا دے گا۔ اس وجہ سے اس میں سستی نہیں کرنا چاہیے، لقمہ اگر گر جائے تو اگر ایسی گندی جگہ نہ ہو، مطلب گندگی نہ ہو لیکن مٹی وغیرہ ہو تو اس سے مٹی وغیرہ دور کر لے اور اس کو کھا لے، لیکن اگر ایسی گندگی ہو جس کو انسان کھا نہ سکے، کھائے بیمار ہو جائے اور اس سے وہ دور نہ کیا جا سکے، تو پھر کسی جانور وغیرہ کو کھلا دے کیونکہ یہ بھی مطلب اس کا ایک صحیح مصرف ہے۔ باقی بہرحال یہ ہے کہ اس میں عاجزی کا اظہار تو یقیناً ہے کیونکہ جو شخص متکبر ہو گا وہ کھانے کو ضائع کر دیتا ہے، وہ کھانے سے اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہے، تو لہٰذا وہ متکبرانہ طور پر کھانے کو ضائع کر دیتا ہے۔ لیکن جو متکبر نہیں ہوتا، جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برتنوں کو جب واپس کرتے تھے تو یہ بھی ساتھ بعض دفعہ ارشاد فرماتے تھے: اے اللہ! ہم اس سے مستغنی نہیں ہیں، آئندہ بھی اس کی ضرورت ہو گی۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم لوگ، بلکہ کھانے کے آداب میں یہ بھی ہے کہ پہلے انسان بیٹھے پھر کھانا آئے اور جب کھانا کھا چکیں تو پہلے برتن اٹھائے جائیں پھر لوگ اٹھیں۔ آج کل ہمارے ہاں اس چیز پر عمل بالکل نہیں ہے۔ تو ہم لوگوں کو سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سمجھنا چاہیے اور اگر کسی علاقے میں اس پر بالکل عمل نہ ہو تو اس وقت جو بھی اس پر عمل شروع کرے گا تو ممکن ہے اس کو سو شہیدوں کا اجر مل جائے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو ان اجروں کو حاصل کرنے والا بنا دے۔ وما علینا الا البلاغ،

ربنا تقبل منا إنك أنت السميع العليم، وتب علينا إنك أنت التواب الرحيم، سبحان ربك رب العزة عما يصفون، وسلام على المرسلين، والحمد لله رب العلمين۔

کھانے کے نبوی آداب: گرے ہوئے لقمے کی قدر، برکت اور عاجزی - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور