خواتین کی ایمانی و اخلاقی تربیت اور اچھے ماحول کی ضرورت
خواتین کے لیے اصلاحی بیان
- دنیا کی بے ثباتی اور ترجیحِ آخرت
- ہمہ وقت استحضارِ الٰہی (خدا کی نگرانی کا احساس) اور محاسبۂ نفس
- خواتین کی نفسیاتی کیفیت اور دینی ماحول کی ناگزیریت
- شادی بیاہ کی تقریبات میں اسراف، دکھاوا اور شیطانی دھوکے
- صحبتِ صالحین اور نیک مجالس کی برکات
- علم کے ساتھ عملی تربیت اور اصلاحِ احوال کی ضرورت
الحمد لله رب العالمين۔ الصلاة والسلام على خاتم النبيين أما بعد۔ أعوذ بالله من الشيطان الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم۔
بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا، وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ۔
وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: وَاللّٰهِ مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ فَلْيَنْظُرْ بِمَ يَرْجِعُ۔ وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ۔ وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: لَوْ كَانَتِ الدُّنْيَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللَّهِ جَنَاحَ بَعُوضَةٍ مَا سَقَى كَافِرًا مِنْهَا شَرْبَةً۔ وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: مَنْ أَحَبَّ دُنْيَاهُ أَضَرَّ بِآخِرَتِهِ، وَمَنْ أَحَبَّ آخِرَتَهُ أَضَرَّ بِدُنْيَاهُ، فَآثِرُوا مَا يَبْقَى عَلَى مَا يَفْنَى۔ وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: مَا لِي وَلِلدُّنْيَا، وَمَا أَنَا وَالدُّنْيَا إِلَّا كَرَاكِبٍ اسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ ثُمَّ رَاحَ وَتَرَكَهَا۔
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
معزز خواتین و حضرات، اس وقت ہم جن حالات سے گزر رہے ہیں جو کچھ ہمارے ساتھ ہو رہا ہے۔ اس میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ اور بعد میں جو ہوگا جو آنے والی دنیا ہے اس میں ہمیں کیا چاہنا چاہیے؟ انسان دنیا میں اگر دیکھے، تو مستقبل کی راحت کے لیے اپنے حال کی تکلیف کو گوارا کر لیتے ہیں۔ یہ ہماری دنیا کا قانون ہے۔ اگر کوئی اس پر عمل کرتا ہے تو اس کے بہتر نتائج کی وہ توقع رکھتے ہیں۔ اور اس بات سے ڈرتا ہے کہ اگر میں نے سستی کر لی تو اس کا نتیجہ بھیانک ہو سکتا ہے۔ مثلا طالب علم، وہ اس لیے پڑھتا ہے کہ آگے جا کر امتحان آ رہا ہے۔ امتحان میں ناکام ہو سکتا ہے۔ ملازم پیشہ لوگ ACR اچھا کرنے کے لیے روز و شب باتیں بھی سہتے ہیں، محنت بھی کرتے ہیں۔ دکاندار لوگ صبح سویرے اٹھ کے سودا سامان لانے کی تیاری کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کو پتہ ہوتا ہے کہ بعد میں میرے پاس جو وقت ہے، وہ تو کمائی کا ہے۔ اس وقت اگر میں نے محنت نہیں کی تو پھر اس وقت سے مجھے نکالنا پڑے گا۔ یہ ساری چیزیں مستقبل کی منصوبہ بندیاں ہیں۔ اور ہر شخص ہی کرتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ایک ہے انسان کی مشاہدے کی نظر سے آنے والے حالات کہ مجھے کیا ملنا چاہیے اور کس چیز کو میں چاہتا ہوں مشاہدے کی بنیاد پر۔ ایک شخص کے پاس کار ہے، کوٹھی ہے، اچھے کھانے پینے کا سامان ہے۔ بچوں کے لیے بہتر زندگی کی آسائشیں ہیں۔ دوسرا اس کو دیکھ کے للچاتا ہے کہ میرے پاس بھی ایسا ہونا چاہیے۔ بالخصوص خواتین کا تو کام یہ ہوتا ہے کہ اپنے خاوندوں کو مسلسل کہتی رہتی ہیں یہ چیز نہیں ہے یہ چیز نہیں ہے یہ چیز نہیں۔ اور پھر وہ دوڑتا رہتا ہے۔ دوڑ میں لگا ہوتا ہے کبھی جائز کبھی ناجائز۔ لیکن ظاہر ہے بیوی بچوں کے شوق پورا کرنے میں لگے ہوتے ہیں۔ یہ ہم روزمرہ کی زندگی میں دیکھتے ہیں۔ تو اب یہی ہے کہ ایک ہے ایمانی لحاظ سے ہمارے مستقبل کی حالت، کیسے ہونا چاہیے؟ ایمان کے لحاظ سے ہم لوگ کس چیز کو اچھا کہتے ہیں کس چیز کو برا کہتے ہیں کس چیز کو صحیح کہتے ہیں کس چیز کو غلط کہتے ہیں۔ مثلا جنت ہے، یہ آسائشوں کی جگہ ہے اور آسانیوں کی جگہ ہے عیش و عشرت کی جگہ ہے۔ دو لفظوں میں قرآن پاک نے اس کو واضح کیا ہے کہ کون سی جگہ ہے۔
ولكم فيها ما تشتهي أنفسكم ولكم فيها ما تدعون۔
تمہارے لیے اس میں ہر وہ چیز ہو گی جو تمہارا جی چاہے گا۔ اور ہر وہ چیز تمہیں ملے گی جو تم منہ سے مانگو گے۔ اب منہ مانگی اور من چاہی چیزیں، یہ ہر ایک کا خواب ہوتا ہے۔ ہر ایک چاہتا ہے کہ میں جو چاہوں وہ مجھے مل جائے، اور میں جو مانگوں وہ مجھے دیا جائے۔ تو جنت میں اس کا انتظام ہے۔ اور یہ پھر صرف دو دن، چار دن، سال، دس سال، ہزار سال کے لیے نہیں، ہمیشہ کے لیے ہو گا۔ ایک دفعہ جنت میں کوئی چلا گیا پھر وہ واپس ادھر سے نہیں جائے گا۔ بس پھر وہ جنتی ہے، ہمیشہ کے لیے۔ تو اب یہ جو بات ہے یہ کیسے ہمیں حاصل ہو، اللہ کرے ہمیں حاصل ہو۔ تو اس کے لیے بھی محنت ہے۔ حضرت خواجہ مجذوب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے،
؏ دیکھ جنت اس قدر سستی نہیں
مطلب یہ ہے کہ یہ بھی ایسا نہیں کہ بس صرف تصور سے ہم لے لیں کہ بس ٹھیک ہے جی جنت اچھی جگہ ہے اور بس ہمیں ملنی چاہیے، نہیں بھئی۔ اللہ جل شانہ کے ہاں بڑا انصاف ہے۔ تو جنت کمانے کے لیے الگ محنت ہے۔ دوزخ سے بچنا بہت بڑی چیز ہے۔ جنت تو بہت بڑی چیز ہے، دوزخ سے بچنا بہت بڑی چیز ہے۔ قرآن پاک میں ہے کہ جو آگ سے بچ گیا اس نے عظیم کامیابی حاصل کر لی۔ تو دوزخ سے بچنا اور جنت حاصل کرنا یہ بہت بڑی بات ہے۔ اب یوں سمجھ لیجیے جو چیز بھی ہمارے سامنے ہے دنیا کے لحاظ سے، اس کی دو قیمتیں ہیں۔ ایک قیمت یہ ہے کہ میں دنیا میں اس کے اوپر کیا خرچ کر رہا ہوں اس چیز کو حاصل کرنے کے لیے۔
اور دوسرا یہ کہ میں آخرت کی کون سی چیز اس کے لیے قربان کر رہا ہوں۔ یہ دو قیمتیں انسان کو دینی پڑتی ہیں۔ لہذا جیسے کہ ہم لوگ دنیا میں ذرا دیکھتے ہیں کہ ہمارے حالات اچھے رہیں تو چیزوں کو کم کم خرچ کرتے ہیں۔ تاکہ ذرا زیادہ دیر تک ہمیں وہ فائدہ پہنچائیں۔ تو اس طرح جو دیندار لوگ ہوتے ہیں، وہ دنیا کی جائز چیزوں کو بھی ذرا طریقے سے استعمال کرتے ہیں، کہ ہمیں وہاں اس کی قیمت زیادہ نہ چکانی پڑے۔ کیونکہ اس وقت وہ بہت سارے نیک کام بھی کر سکتا ہے۔ مثال میں دیتا ہوں۔ ایک بزرگ تھے، وہ کھانا نہیں کھاتے تھے، ستو پھانکتے تھے، عمر بھر۔ تو لوگوں نے پوچھا ان سے کہ حضرت یہ کیوں آپ ستو کھا رہے ہیں، کیوں آپ کا پیٹ خراب ہے؟ فرمایا نہیں، میں نے حساب لگایا کہ ایک نوالہ بنانے چبانے میں، میں ستر مرتبہ سبحان اللہ پڑھ سکتا ہوں۔ تو مجھے یہ سمجھ نہیں آتا کہ میں اتنی قربانی کیسے کروں کھانے کے لیے۔ یہ وقت میں کیسے اس کے لیے استعمال کروں۔ یہ ایک باقاعدہ planning ہے، management ہے۔ یہ لوگ بڑے ہوشیار ہوتے ہیں۔ تو اب جب یہ والی بات ہے تو سمجھ میں آ رہی ہے کہ بعض لوگ جائز چیزوں کو بھی بعض دفعہ استعمال جو نہیں کرتے، اس کی بھی کوئی وجہ ہوتی ہے۔
لیکن یہ الگ بات ہے کہ وہ ناجائز چونکہ نہیں ہوتا، اگر کوئی کر رہا ہے تو اس کو ملامت نہیں کرنا چاہیے۔ مثلا اگر کوئی کھانا کھا رہا ہے ملامت نہ کرو۔
کسی کو اچھا جائز چیز مل رہی ہے تو کوئی اس پہ ملامت نہ کرو۔ لیکن جو اس کی بھی قربانی دیتے ہیں آخرت کی زندگی کے لیے، تو اس کی بات تو الگ ہے۔ ان کو بھی تو ہم غلط نہیں کہہ سکتے ہیں۔ آج کل تو یہ دور آ گیا ہے کہ خود کرتے نہیں، دوسروں پر اعتراض کرتے ہیں، کہتے ہیں یہ رہبانیت ہے۔ رہبانیت تو اس وقت ہو گی جب اس کو دوسروں کے لیے ناجائز سمجھا جائے گا۔ اور اس کو مقصود سمجھا جائے گا۔ وہ تو اس کو مقصود تو نہیں سمجھ رہے، وہ صرف اپنا time بچا رہے ہیں۔
صحابہ کرام میں اس کی مثالیں ملتی ہیں۔ اور صحابہ کرام چونکہ راہب نہیں تھے۔ اب دیکھیں علی کرم اللہ وجہہ یہودی کے ہاں مزدوری کر رہے ہیں۔ اور ایک ڈول، ایک کھجور، اس پر معاہدہ ہوا تھا۔ چند کھجوریں حاصل کر لیں، پھر کام چھوڑ دیا۔ یہودی نے کہا، کام تو باقی ہے آپ کیوں نہیں کرتے؟ انہوں نے کہا، بس مجھے اتنے چاہیے تھا میں بس جا رہا ہوں۔ بہرحال وہ جتنا ضرورت تھی اتنا کر لیا اور بس آگے چل دیے آگے کا اللہ مالک۔ اب یہ والی باتیں جو ہیں یہ بڑی باتیں ہیں۔ یہ ہم لوگوں کی، عام لوگوں کی باتیں نہیں ہیں۔ لیکن ہم لوگ، چلو یہ تو نہیں کر سکتے، ہم ہمارے لیے گنجائش۔۔۔ ہم یہ چیز نہ کریں لیکن دنیا کے پیچھے ایسے مر تو نہ رہے ہوں نا کہ اس کے لیے ناجائز بھی اختیار کرنا شروع کر لیں۔ یہ تو کم از کم نہیں ہونا چاہیے نا۔ ناجائز سے تو کم از کم بچنا چاہیے۔ تو اللہ پاک نے ہمیں قرآن پاک میں اس کے بارے میں ارشاد فرمایا بل تؤثرون الحياة الدنيا والآخرة خير وأبقى بلکہ تم جو دنیا کی زندگانی ہے اس کو ترجیح دیتے ہو اور آخرت اچھی بھی ہے اور باقی رہنے والی بھی ہے۔ تو یہاں پر ہمیں گویا کہ یہی نصیحت کی جا رہی ہے کہ تم وہ جو اچھی چیز ہے اور باقی رہنے والی چیز اس کے لیے کم اس کے لیے زیادہ فکر کرو۔ اور یہ جو ہے یہاں پر گزارا کرو۔ یہ ہمیں نصیحت کی جا رہی ہے۔ اللہ کا شکر ہے بعض لوگوں کو دین کی فکر ہوتی ہے۔ وہ دین پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور مسئلے مسائل بھی پوچھتے رہتے ہیں۔ لیکن ہمارا نفس یہ ایسی چیز ہے کہ جس سے ایک لمحہ کے لیے بھی کوئی غافل ہو جائے نا تو یہ ڈنک مار دیتا ہے۔ کوئی نہ کوئی چکر چلا دیتا ہے۔ اس وجہ سے اس نفس سے باخبر رہنا چاہیے ہر وقت۔ ایک دعا ہے حدیث شریف میں آتا ہے سنت دعا ہے۔ فرمایا دعا میں:
يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث أصلح لي شأني كله ولا تكلني إلى نفسي طرفة عين
يا حي يا قيوم تو ہم جانتے ہیں اللہ کے نام ہیں۔ برحمتك أستغيث تیری رحمت کے واسطے سے تیری رحمت کے طفیل میں تجھ سے مدد چاہتا ہوں۔ میں تجھ سے مدد چاہتا ہوں۔ وأصلح لي شأني اور میری ہر حال کو درست کر لے۔ ولا تكلني إلى نفسي طرفة عين اور مجھے میرے نفس کے ایک لمحے کے لیے بھی حوالے نہ فرما۔ یہ یہ ہے۔ اس وجہ سے ایک لمحہ بھی بعض دفعہ اگر انسان غیر محتاط رہے تو انسان اپنا بہت نقصان کر سکتا ہے۔ اور بعض دفعہ یہ لمحہ بڑا قیمتی ہوتا ہے۔ مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
؏ یک لحظہ زدن غافل ازاں شاہ نباشی
شاید کہ نگاہے کند و آگاہ نباشی
ایک لحظہ کے لیے بھی ایک لمحے کے لیے بھی اللہ جل شانہ سے غافل نہ ہو جانا عین ممکن ہے اسی وقت تیری طرف نظر کرم ہو اور تو دوسری طرف متوجہ ہو اور کام تمہارا خراب ہو جائے۔ ہو سکتا ہے۔ اس وجہ سے انسان کو ہر لمحے اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ کہیں میرا سارا کچھ خراب نہ ہو جائے۔ ایک دفعہ میں اپنے ایک دوست جس کی فیکٹری تھی اس کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ دین دار آدمی تھے۔ اس کے سامنے چھوٹا سا screen لگا ہوا تھا۔ جیسے TV کا screen ہوتا ہے اس طرح چھوٹا سا screen لگا ہوا تھا۔ میں نے کہا امجد صاحب آپ بھی TV دیکھتے ہیں۔ ویسے میں نے گپ شپ میں بات کی۔ میں نے کہا کیا آپ بھی TV دیکھتے ہیں؟ کہتے ہیں نہیں یہ TV نہیں ہے۔ میں نے کہا کیا ہے؟ کہتے ہیں یہ ورکشاپوں میں میں نے کیمرے فٹ کیے ہوئے ہیں۔ اور یہاں میں جس ورکشاپ کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں کہ وہاں لوگ کیا کر رہے ہیں اس کا چینل لگا دیتا ہوں اور مجھے وہ نظر آ رہا ہوتا ہے کہ اس وقت لوگ کیا کر رہے ہیں۔ اور اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اگر میں سو بھی رہا ہوتا ہوں تو ان کو یہ خیال ہوتا ہے کہ عین ممکن ہے اسی وقت دیکھ رہے ہوں۔ عین ممکن ہے اسی وقت دیکھ رہے ہوں۔ لہذا وہ اپنے طور پر الرٹ رہتے ہیں۔ کوئی ایسا کام نہیں کرتے جس سے ان کو نقصان ہوتا ہو۔ تو میں نے کہا بھئی آپ نے تو مجھے بہت بڑا سبق دے دیا۔ اگر ذرا غور فرما لیں امجد صاحب کی اتنی capacity نہیں تھی کہ وہ ہر کیمرے کو دیکھ سکے۔ اس کی capacity نہیں تھی۔ ایک کیمرے کو بھی مسلسل دیکھنا اس کے لیے ممکن نہیں تھا۔ آخر کبھی نماز کے لیے جانا کبھی باتھ روم جانا کبھی چائے پینا کبھی کسی اور ضرورت سے آگے پیچھے ہونا یہ ہر انسان کے ساتھ لگی ہوتی ہیں۔ لیکن ایک ہستی ایسی ہے جو ہر وقت، ہر وقت جو چاہتی ہے وہ کر لیتی ہے۔ اس کے لیے کوئی مشکل نہیں۔ وہ ہر وقت کسی کو بھی دیکھنا چاہے تو دیکھ سکتی ہے، اللہ تعالیٰ کی ذات۔ اور اللہ پاک ہر وقت ہم ان کے سامنے ہوتے ہیں۔ لہٰذا اگر کوئی خدانخواستہ ایسی حالت ہماری ہو جو اللہ کو پسند نہیں ہے، تو کس قدر خطرے کی بات ہے؟ بہت بڑی بات ہے۔ ہم لوگ کسی اللہ والے کے ساتھ اگر تعلق رکھتے ہوں یا کوئی اچھا استاد ہمارا ہو، جن کے ساتھ ہم محبت کرتے ہوں اور ہم چاہتے ہوں کہ ہم سے ناراض نہ ہوں ہماری یہ حالت ہو۔ ذرہ برابر بھی اگر کسی وقت ہمیں پتہ چل جائے کہ ہماری بات ان کی مجلس میں آئی تھی، انہوں نے ہمارا پوچھا تھا اور اس کے بارے میں یہ بتا دیا گیا کوئی کمزور بات، تو ہمیں بڑی فکر ہو جاتی ہے کہ افوہ یہ کیا ہو گیا، پریشانی ہو جاتی ہے۔ اور اللہ جل شانہ خود براہ راست ہر چیز کو دیکھ رہے ہیں، حی و قیوم ہیں۔ اور پھر یہ بات ہے کہ رپورٹ بھی باقاعدہ جاتی رہتی ہے۔ فرشتے رپورٹ بناتے رہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی جاتی ہیں ہماری رپورٹس، پیر کے دن اور جمعرات کے دن۔ اب یہ صورت حال جب ہماری ہے تو کیا ہمیں فکر نہیں ہونی چاہیے کہ ہماری رپورٹ کیسے جا رہی ہے؟ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ، وہ پیر سیدھے نہیں کر سکتے تھے۔ اکثر ان کے پیر تھوڑے سے curve کے ساتھ ہوتے تھے۔ کسی بے تکلف صاحب نے ان سے پوچھا کہ حضرت آپ پیر کیوں نہیں سیدھے کرتے ہیں تھوڑا سا سیدھے کر لیا کریں، فرمایا اللہ میاں سے حیا آتی ہے۔ دیکھ لیں۔ صحابہ کرام، ان کی یہ حالت تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، یا رسول اللہ حمام میں ہم کیسے ننگے ہو جائیں ہمیں اللہ پاک سے حیا آتی ہے۔ یہ اصل میں یہ بات تب انسان کو احساس ہوتا ہے جب یہ تعلق ہو جائے۔ تو بہرحال میں یہ عرض کر رہا تھا کہ ہمیں ہر وقت اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ اللہ ہمیں دیکھ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دیکھ رہا ہے۔ ہمارے ایک بزرگ تھے سید منیر حسن شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ، ان کی خانقاہ ہری پور میں تھی، کبھی کبھی حاضری ہو جاتی تھی بہت محبت کرنے والے بزرگ تھے۔ ان کی خانقاہ بالکل سادہ، پرانے دور کی طرح مٹی سے لیپی ہوئی اس طرح خانقاہ تھی، بہت سادہ بنی ہوئی تھی۔ حالانکہ ڈائریکٹر جنرل ٹیلی فون ڈیپارٹمنٹ کے ریٹائر ہوئے تھے۔ تو جب ان کی خانقاہ میں آتے تو اس کے اندر ایک عجیب روحانیت کا احساس ہوتا تھا۔ پہلے گیا میں اندر تو سامنے لکھا ہوا تھا چھوٹا سا بورڈ، وہ دیکھ رہا ہے۔ صرف یہ لکھا ہوا تھا، وہ دیکھ رہا ہے۔ بھائی بات بالکل یقینی بات ہے۔
دوسری طرف دیکھا، جو کرنا ہے آج کر کل کا کیا پتہ! اس طرح چھوٹے چھوٹے بورڈ انہوں نے بنائے ہوئے تھے جس میں ایک فکر کی دعوت ہوتی تھی۔ تو یہ باتیں ہمیں واقعتاً ازبر ہونی چاہئیں۔ ہمیں معلوم ہونی چاہیے کہ یہ چیزیں کوئی ادبی باتیں نہیں ہیں۔ یہ کوئی ایسی باتیں نہیں ہیں کہ شاعری ہے۔ یہ حقیقت کی باتیں ہیں اور اللہ پاک بھی اس بات کی دعوت دیتا رہتا ہے مسلسل، اس بات کا قرآن پاک میں بھی۔ مسلسل اس بات کی دعوت ہو رہی ہے۔ اس وجہ سے میں اکثر کہا کرتا ہوں کہ ہمیں ہر وقت اپنا محاسبہ کرتے رہنا چاہیے۔ ہر وقت اپنا محاسبہ کرتے رہنا چاہیے۔ فرماتے ہیں موتوا قبل ان تموتوا مر جاؤ اس سے پہلے کہ تم مر جاؤ۔ کیونکہ انسان موت کے بعد جن حالات سے گزرے گا وہ یقینی بات ہے وہ کوئی قصے کہانیاں تو نہیں ہیں افسانے تو نہیں ہیں، یہ پکی باتیں ہیں۔ اب جن حالات سے انسان گزرے گا ان حالات کو ایمان کے زور سے جانے۔ اور پھر ان حالات میں جو حالات چاہتا ہے وہ اس کے لحاظ سے تیار کرے۔ خواتین کو اللہ جل شانہ نے کچھ خوبیاں دی ہیں اور کچھ مسائل کی شکار ہیں۔ کیونکہ اللہ جل شانہ کے ہاں تو انصاف ہے نا۔ یہ تو نہیں کہ ساری خوبیاں ایک کو دے دے اور ساری خامیاں ایک کو دے دے، نہیں یہ تو نہیں ہو سکتا۔ خواتین کی مثال ایسی ہے جیسے لوہا جلدی گرم ہوتا ہے جلدی ٹھنڈا ہوتا ہے۔ ان کی مثال ایسی ہے۔ لہٰذا یہ پل بھر میں اچھی ہو جائیں گی پل بھر میں بری ہو جائیں گی۔ اچھا ماحول مل گیا بس-سبحان اللہ-ایسا اثر ہو جائے گا کہ بالکل سارا کچھ دھل جائے گا۔ ایسا اثر ہو جائے گا۔ اور اگر خدانخواستہ کسی غلط ماحول میں چلی گئی، بس۔ یعنی ایک خاتون جو کہیں دیہات میں رہتی ہو، پردے دار ہو، مطلب اس نے کبھی گھر سے قدم باہر نہ نکالا ہو، اگر وہ کبھی ڈاکٹر کے پاس بھی جانا چاہے ضرورتاً، تو اس کا جو قدم ہے وہ من من بھاری ہوتا ہے، روتی ہے، میں نے نہیں جانا۔ بڑے ان کو مجبور کرتے ہیں کہ مجبوری ہے، شریعت اس کی اجازت دیتی ہے، کوئی بات نہیں اس طرح اس طرح، یہ بھی ایک خاتون ہوتی ہے۔
لیکن وہی خاتون جب شہری ماحول میں آتی ہے، اور کچھ باہر آگے پیچھے ادھر ادھر چلی جاتی ہے، پھر اس کو باہر جانے کا ایسا چسکا لگ جاتا ہے کہ اس کو گھر بٹھانا مشکل ہو جاتا ہے۔
یہ حالت ہم دیکھتے ہیں شادیوں میں اس طرح ہوتا ہے۔ اچھے گھرانے کی کوئی بچی شادی ہو جائے کسی آزاد ماحول میں۔ تھوڑے دنوں میں ایسے بدل جائے گی حیران ہو جاتا ہے آدمی کہ یہ کیا ہے؟ کیا یہ وہی تھی؟ احساس بھی نہیں ہوتا کہ کیا یہ وہی تھی؟ تو یہ چیزیں لگی ہیں عورتوں کے ساتھ۔ جتنے اصلاحی کام ہیں اس میں ایک بنیادی اصول ہے، بنیادی اصول ہے کہ اصلاح تب ہوتی ہے جب انسان کے بارے میں یہ پتہ ہو کہ اس کے اندر کون کون سی صلاحیتیں ہیں، کون کون سی مشکلات ہیں، کون کون سے مسائل اس کو ہیں۔ یہ معلوم ہونا چاہیے پھر جو ہے نا اصلاح ہو سکتی ہے۔ تو اس لیے خواتین کے بارے میں چونکہ یہ چیز ہمیں معلوم ہے، تو ان سے میں اکثر کہا کرتا ہوں، کہ آپ کو اچھے ماحولوں کے ساتھ جڑ کے رہنا چاہیے۔ جڑ کے رہنا چاہیے۔ ذرہ بھر سستی کی، برسوں کی محنت تباہ ہو جاتی ہے۔ اس وجہ سے سستی نہیں کرنی چاہیے، اگر اللہ پاک نے کچھ اچھے ماحول کے اثرات بنائے ہوئے ہیں، اور ان کے ساتھ دل لگا ہوا ہے، اس کو ضائع نہیں کرنا۔ اس کے ساتھ جڑ کے رہنا چاہیے، تاکہ وہ چیز ختم نہ ہو جائے۔ شیطان ہمارے پیچھے لگا ہوا ہے، اور وہ مسلسل محنت کر رہا ہوتا ہے کہ ان کو اپنے اپنے ماحولوں سے کاٹ دے اچھے ماحولوں سے کاٹ دے۔ کبھی کیا مسئلہ کبھی کیا مسئلہ۔ لیکن مختلف طریقوں سے ان کو کاٹنا چاہتے ہیں۔ نتیجتاً جب کاٹ دیتے ہیں پھر آہستہ آہستہ ان پہ محنت شروع کر لیتے ہیں۔ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جماعت کے ساتھ رہو، اکیلی بکری کو بھیڑیا کھا جاتا ہے۔ تو اس میں یہی بات ہے کہ ایک انسان واقعی اگر اچھی جماعت کے ساتھ ہے، تو اس کے ساتھ رہنے میں اس کا یہ فائدہ تو ہے کہ وہ اس کی برکت سے محفوظ ہوتا ہے۔ لیکن جیسے جیسے اس جماعت سے کسی طریقے سے شیطان کاٹ دے، پھر اس کے اوپر پوری محنت کر کے آگے چونکہ وہ آزاد ہوتا ہے لہذا اس کو بہت جلدی تمام غلط چیزوں کی طرف لے آتے ہیں۔ یہ شادی بیاہ کے جو حالات ہوتے ہیں، اسلام نے بہت سادہ طریقے بتائے ہیں۔ جس میں ہر جانب میں خیر ہوتا ہے۔ مردوں کے لیے بھی خیر ہوتا ہے، عورتوں کے لیے بھی خیر ہوتا ہے، لڑکی والوں کے لیے بھی خیر ہوتا ہے، اور لڑکوں والوں کے لیے بھی خیر ہوتے ہیں۔ آسانیاں ہوتی ہیں۔ لیکن شیطان اس لائن پہ بہت زیادہ محنت کرتا ہے، اور جب کبھی کوئی شادی کا موقع آتا ہے، تو عورتیں اس کے لیے ایسے تیاریاں کرتی ہیں، ایسے ارمان پورا کرنا چاہتی ہیں، کہ جیسے بعد میں تو ان کو اور کچھ نہیں کرنا۔ بس یہی موقع ہے۔ نتیجتا بڑے لمبے منصوبے بنا لیتی ہیں کہ میں نے یہ جوڑا پہننا ہوگا، یہ کرنا ہوگا، اس کے لیے یہ کرنا ہوگا، اور فلاں سیٹ ہے، اور فلاں میچنگ ہے، اور فلاں چیزیں، یہ سارے انتظامات اس پہ لگ جائیں گی۔ اس وقت ان کو اس بات کا خیال نہیں ہوگا کہ میں کون سا کام جائز کر رہی ہوں کون سا کام ناجائز کر رہی ہوں۔ اس کو اس بات کا خیال نہیں ہوگا۔
پھر اس کے بعد شادی کے ماحول میں جا کر اب شیطان تو اس کے لیے تیار بیٹھا ہے نا کہ وہ کسی نہ کسی بہانے سے آپ کی قیمتی چیزوں کو لے اڑے۔ وہ تو اس کے لیے تیار بیٹھا ہوا ہے۔ تو وہاں بہت آسانی سے کسی کے ذہن میں ڈال لیتے ہیں کہ یہاں پر عمل نہیں ہو سکتا اب کی شادی ہے نا پھر کیا بعد میں کریں گے۔
نتیجتاً اس وقت وہ جو پردے کے احکامات ہوتے ہیں اور دوسرے تمام جو چیزیں ہوتی ہیں جن کو جن کا خیال رکھنا ہوتا ہے نمازوں کے خیال رکھنا ہوتا ہے اور چیزوں کا خیال رکھنا ہوتا ہے ان کو ایک طرف کر لیتے ہیں۔ پھر چونکہ خود بڑی محنت کی ہوتی ہے کپڑوں کے اوپر تو اس وجہ سے بڑی تنقیدی نظروں سے باقی لوگوں کو دیکھتی ہے۔ اور خود اپنی تعریف کروانا چاہتی ہے۔
اپنی چیزوں کو مختلف بہانوں سے ظاہر کر کے اپنی تعریف کروانا چاہتی ہے۔ اور دوسروں پہ تنقید، دیکھو اس نے کیا کیا اور یہ اس نے کیا کیا اور یہ کیسا برا لگ رہا ہے اور یہ فلاں کیا اور یہ ساری چیزیں تبصرے وغیرہ یہ ہو رہے ہوتے ہیں۔ تو بہت سارے گناہ جن کو یہ گھر میں گناہ سمجھتی ہوتی ہے وہاں شادی کے ماحول میں وہ گناہ تھوک کے حساب سے ہو رہے ہوتے ہیں اور کوئی پرواہ اس کی نہیں ہوتی۔ پھر شادی کے موقع پر بعض دفعہ انسان اپنے جس کو خوشی کے جذبات ہیں اس میں اتنا آپے سے بھر جاتا ہے کہ وہ اچھے برے کی بھی تمیز اٹھ جاتی ہے۔ اپنے فائدے نقصان کی بھی تمیز اٹھ جاتی ہے دوسروں کے حقوق کی بھی تمیز اٹھ جاتی ہے۔ اور اچھے بھلے شرفاء لوگ جو ہوتے ہیں وہ بھی ایسا کام کرتے ہیں کہ اگر ان کو بعد میں دکھایا جائے کہ تم یہ کر رہے تھے تو بڑی حیرت ہوتی ہے۔ یہ صرف اور صرف وہ وقتی جوش وقتی ہیجان جو شیطان اس کو لے آتا ہے اس کے ذریعے سے وہ یہ کام کروا دیتے ہیں۔ ہم جا رہے تھے پشاور، راستے میں ایک گاڑی جو ہے وہ اس طرح اس طرح ہو رہی تھی مطلب جیسے ناچ رہی ہو۔ اور اس کے اوپر وہ شادی وغیرہ کے بنے ہوئے تھے وہ چیزیں پھول وغیرہ لگے ہوئے تھے۔ آگے پولیس والوں نے دیکھ لیا۔ انہوں نے ہاتھ دے دیا۔ میں نے کہا چلو اپنا انتظام کر دیا۔
اب دیکھ لو بھئی تم راستے جا رہے تھے نا اگر شادی ہے تو کیا مطلب ہے کہ اب تم خوامخواہ اپنے آپ کو خطرے میں ڈالو دوسرے لوگوں کو خطرے میں ڈالو motorway ہے۔ کوئی مطلب اس کی طرف وہ نہیں خیال۔ اور اس طریقے سے جو عورتیں ہوتی ہیں وہ بھی پرواہ نہیں کرتیں۔ وہ بھی کبھی ایک طرف جھانکا کبھی دوسری طرف جھانکا۔ آوازیں کسنا یہ بس یہ ساری چیزیں ہو رہی ہوتی ہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ ہنسی مذاق۔ ہنسی مذاق میں باقاعدہ دوسرے لوگوں کو نیچے دکھانا باقاعدہ مقابلے کی صورتیں پھر بعض دفعہ اللہ بچائے اللہ بچائے ناچ میں بھی باقاعدہ مقابلے ہوتے ہیں کہ فلاں بڑی اچھا ناچتی ہے دوسری اس کی تعریفیں کرتی ہیں۔ بڑی شریف خواتین بھی گانے گانا شروع کر لیتی ہیں۔ جس کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ یہ بھی کبھی اس طرح کر سکتی ہے۔ اور اس طرح ہونے لگتا ہے۔ کیونکہ وہاں ایک pressure بنا ہوتا ہے۔ pressure بنا ہوتا ہے کہ جو لوگ نہ کریں وہ اجڈ نظر آئیں۔ ان کی کوئی سنائی نہ دیتی ہو۔ ہاں اور باقی لوگ جو ہے وہ ذرا up to date نظر آئیں۔ یہ pressure کی وجہ سے بہت سارے لوگ غلط کام کرنے لگتے ہیں۔ تو یاد رکھنا چاہیے خوشی دل کی خوشی جس کو کہتے ہیں۔ وقتی خوشی ہیجانی خوشی کوئی خوشی نہیں ہوتی۔ جس کے بعد میں انسان کو افسوس ہوتا ہو۔ جس کے بعد میں انسان۔۔۔ دیکھیں نا دنیاوی خوشی میں یہ بات ہوتی ہے کہ وقتی طور پر تو خوشی ہوتی ہے۔ اس کے فوراً بعد ہی دل بجھ سا جاتا ہے۔ اور انسان کی خوشی ساری کرکری ہو جاتی ہے۔ اور دین کے کام میں یہ ہوتا ہے کہ پہلے مجاہدہ ہوتا ہے۔ پہلے تکلیف ہوتی ہے، جیسے روزے میں۔ پورا دن انسان مجاہدہ کر لیتا ہے اور ظاہر ہے تکلیف اٹھاتا ہے۔ افطار کے وقت اللہ تعالی اتنی خوشی دے دیتا ہے کہ سب کا انتظام ہو جاتا ہے۔ اس لیے افطار کی خوشی بہت ضرب المثل خوشی ہوتی ہے۔ اس وجہ سے فرمایا کہ روزے دار کو اللہ پاک دو خوشیاں دیتا ہے۔ ایک افطار کے وقت اور ایک اللہ پاک کے ساتھ ملاقات کے وقت۔ یہ دو خوشیاں روزہ دار کو ملتی ہیں۔ تو جو دینی کام ہوتے ہیں اس میں تکلیف ابتداء میں ہوتی ہے، خوشی انتہاء میں ہوتی ہے۔ اور جتنے بھی دنیاوی کام ہیں، شیطانی کام ہیں اس میں وقتی طور پر ہیجانی یہ ظاہری خوشی ہوتی ہے اور بعد میں اس وقت بھی انسان کے روح کے اوپر آرے چل رہے ہوتے ہیں۔ روحانی طور پر تکلیف ہوتی ہے اور بعد میں تکلیف بہت واضح ہو جاتی ہے۔ ہم نے دیکھا ہے ایسے لوگوں کو جن کے پاس کھلا پیسہ، کھلا ماحول ہر چیز کی جیسے کہ ان کو اجازت ہوتی ہے۔ ان لوگوں کو آخر میں خودکشی کرتے ہوئے دیکھا ہے، suicide۔ آپ ذرا تھوڑا سا دیکھ لیں، میرا خیال میں انٹرنیٹ پر آج کل ڈیٹا لینے میں کوئی مشکل نہیں ہوتا۔ دیکھ لیں سب سے زیادہ خودکشیاں کہاں پر ہوتی ہیں؟ آپ حیران ہوں گے کہ جو غریب ممالک ہیں، جہاں قحط ہیں، جہاں پر مطلب پریشانیاں ہیں، وہاں اتنی خودکشیاں نہیں ہو رہیں۔ جو بہت زیادہ خوشحال ممالک ہیں، وہاں پر خودکشیاں زیادہ ہیں۔ وجہ کیا ہے؟ scandinavia، دنیا کے اندر بہت خوشحال ممالک ہیں۔ norway, sweden, denmark، سب سے زیادہ خودکشیاں وہاں پر ہیں۔ japan میں۔ ایسے ممالک میں جہاں پر بظاہر مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ روحانی ہے۔ روحانی کچوکے جو انسان کھاتا ہے کسی وقت۔۔۔ سہتا ہے سہتا ہے سہتا ہے بعد میں سہنے سے باہر ہو جاتے ہیں۔ آپ پتا نہیں -واللہ اعلم- اس چیزوں کو دیکھیں گے یا نہیں، میں تو اخبارات کو جب پڑھتا ہوں یا انٹرنیٹ پہ سرچ کرتا ہوں تو ان چیزوں کا میں بغور دیکھتا ہوں کہ کون سی چیزیں انسان کے اوپر کیا اثر کرتی ہیں۔ یہ بہت مشکل دور ہے۔ یعنی آپ اندازہ کر لیں کہ ایسے لوگ بھی ہیں جن کو satanic کہتے ہیں۔ satanic، شیطانی اپنے آپ کو کہتے ہیں۔ ان کا قانون ہے کہ کسی کو پچیس سال سے زیادہ زندہ نہیں رہنا چاہیے۔ لہذا اگر وہ خود اپنے آپ کو نہ ماریں تو دوسرے ان کو مار دیتے ہیں، ان کا جو گینگ ہوتا ہے۔ قانون کس نے بنایا، کیا بنایا۔ یعنی انہوں نے بالکل اپنا کوئی مقصد نہیں رکھا زندگی کا۔ بس یوں کہہ سکتے ہیں کہ جیسے انسان پھٹ جائے، ریزہ ریزہ ہو جائے بس اس قسم کے تصورات ہیں ان کے۔ تو اس وجہ سے ایسے لوگوں کے پیچھے جانے میں پھر یہ نتیجے نکلتے ہیں۔ شیطان جو ہے نا شیطان انسان کو اس حالت تک لے جاتا ہے۔ چاہے وہ خوشی کی حالت ہو، چاہے غم کی حالت ہو۔ غم میں بھی صبر نہیں ہونے دیتا اور بے صبری کی وجہ سے مار دیتے ہیں۔ اور خوشی میں جو ہے نا وہ تحمل نہیں ہونے دیتا اور ہیجان میں مار دیتے ہیں۔ ہر دو صورتوں میں۔ تو لہذا اللہ جل شانہ نے جو ہمارے لیے دین بنایا ہوا ہے اس کے اندر پناہ لینا چاہیے۔ چاہے آج ہو چاہے کل ہو۔ ایک بڑے عالم کے بیٹے تھے، کھاتے پیتے گھرانے کے تھے۔ اس نے خود ایک واقعہ بیان کیا کہ دنیا کا شاید کوئی گناہ ایسا نہ ہو جو میں نے نہیں کیا ہو۔ لیکن ہوا یہ کہ طبیعت پر مسلسل بوجھ بڑھتا گیا، بڑھتا گیا، بڑھتا گیا۔ حتی کہتا ہے کہ میں نے suicide کا ارادہ کر لیا، خودکشی کا۔ خودکشی کا ارادہ بھی خطرناک کیا، خطرناک طریقے سے کہ شراب میں جو خواب آور گولیاں ہیں یہ ڈال لوں گا۔ اور میں پی لوں گا اور بس اللہ غفور رحیم ہے۔ شیطان نے کیسے چکر دے دیا۔ اب اس کی خوش قسمتی کہ اس کے چچا بہت بڑے عالم دین تھے، بزرگ بھی تھے۔ اس نے کہا چلو مرنا تو ہے تو چلو ان سے ان کی زیارت کر لیتا ہوں۔ ان کے پاس گئے، ان کو اپنا سنا دیا کہ میں نے اس طرح ارادہ کیا ہوا ہے۔ وہ بزرگ کافی بڑے آدمی تھے، انہوں نے اس کو اتنا کہہ دیا۔ جاؤ جاؤ نماز پڑھو، باتیں بنا رہے ہو۔ کوئی ان کے ساتھ اور بات نہیں کی۔ اس نے کہا چلو چاچا کا حکم ہے، آخری بات ہے تو پڑھ لیتا ہوں۔ تو جا کے جو ہے نا وہ نہا لیا ہے، کپڑے بدل لیے مسجد چلے گئے۔ ظاہر ہے نماز کا وقت تو وہ تھا نہیں ہے۔ تو عام نفل نماز۔
بس وہ نماز جو پڑھنا شروع کیا وہ بس سجدے میں جو پڑ گئے تو بس اللہ کی مدد آ گئی۔ اللہ کی ایسی مدد آ گئی کہ رونا شروع کر لیا بس روتے رہے روتے رہے روتے رہے سجدے میں پڑے پڑے۔ سارا کچھ دھل گیا۔ اس کے بعد جب اس سے اٹھے تو بالکل ایک نئے آدمی بن چکے تھے۔ سب چیزوں سے توبہ کر لی۔ ہمارے ایک بزرگ سے بیعت ہو گئے۔ اب بھی الحمدللہ زندہ ہیں۔ بوڑھے ہیں کافی۔ لیکن اب بھی اگر ان کے پاس جاؤ تو ایک چیز آپ دیکھیں گے ان کے پاس کہ ان کے سامنے آپ غیبت نہیں کر سکتے۔ غیبت کریں گے آپ کو کچھ نہیں روکیں گے بس آرام سے اٹھ کے دوسری جگہ چلے جائیں گے۔
اور ذکر کرتے رہیں گے بس۔ ذکر کرتے رہیں گے ان کی زبان ہر وقت ذکر سے تر رہتی ہے تسبیح ہاتھ میں ہوتی ہے بس ان کا یہ کام ہوتا ہے۔ اور اگر کسی کے پاس بیٹھیں گے تو کوئی نیک بات ان سے کر لیں گے بھئی ایسا کرنا چاہیے ایسا کرنا چاہیے۔ اگر وہ سنتا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ کسی اور کے پاس چلے جائیں گے اور کے پاس بیٹھ جائیں گے۔ بہت ملائم مزاج ہے ان کا۔ اور ماشاءاللہ اللہ پاک نے بدل دیا۔ کامیابی اسی میں ہے۔ اس میں کہاں کامیابی ہے کہ اس حد تک انسان پہنچ جائے۔ لہذا کبھی بھی برائی میں مقابلہ نہیں کرنا چاہیے کہ میں اس سے آگے بڑھ جاؤں۔ اگر کوئی بہت اچھا گانا گاتا ہے تو آپ کے دل میں یہ آ جائے کہ میں بھی اس سے زیادہ اچھا گانا گاؤں تو تجھ پر جو ہے نا کیا کہوں میں اب تیری حماقت پر کیا تبصرہ کروں۔ یہ بھی کوئی چیز ہے مقابلے کی۔ کوئی ناچ میں بڑا اچھا ہے تو کیا یہ بھی کوئی مقابلے کی چیز ہے کہ میں اس سے زیادہ بہتر ناچوں۔
کوئی اسراف کر رہا ہے تو کیا یہ بھی مقابلے کی چیز ہے کہ میں اس سے زیادہ اسراف کر لوں۔ ایک چوہدری صاحب تھے۔ اس کے خاندان میں مقابلہ چل رہا تھا اس قسم کی چیزوں کا۔ تو اس نے ایک اور ساتھی سے کہا یہ میرا کیا مقابلہ کر سکتا ہے ہمارے گھر سے تو ستر ہزار ڈوم لے چکے ہیں۔ ڈوم نہیں ہوتے ڈوم شادی میں۔ ستر ہزار تو ڈوم لے چکے ہیں یہ میرا کیا مقابلہ کرے گا۔ چلو جی بڑے بہادر آ گئے۔ ڈوم نے اس کو لوٹ لیا اور کہتے ہیں مجھ سے بڑا بیوقوف کون ہے۔ یہ مجھ سے بڑا بیوقوف ہو سکتا ہے۔ تو یہ بیوقوفی کے مقابلے ہیں نا۔ اصلی تے وڈا بیوقوف۔ کیا کہیں گے۔ ایسی چیزوں میں بھی مقابلے ہیں۔ تو ایک چیز تو یہ ذہن میں یاد رکھو کہ کبھی برائی میں وہ جو ہے نا مقابلہ نہ کرو۔ مقابلہ کرنا ہے اچھائی میں کرو۔ ایک شخص ہے سبحان اللہ وہ تہجد پڑھتا ہے میں تہجد نہیں پڑھتا مجھے بھی پڑھنا چاہیے۔ مجھے بھی پڑھنا چاہیے۔ دعا کرنا چاہیے اللہ پاک سے بلکہ اسی سے دعا کرواؤ جو پڑھتا ہے جو آپ کو اچھا لگتا ہے۔ کہتے ہیں اللہ پاک نے آپ کو یہ توفیق دی ہے میرے لیے بھی تہجد میں دعا کرو کہ میں بھی تہجد پڑھوں۔ اچھا ہے اللہ پاک کو وسارعوا الى مغفرة مطلب یہ ہے اچھا ہے مطلب مغفرت کی طرف جو ہے نا بھاگنا چاہیے۔ اور وفي ذلك فليتنافس المتنافسون۔ یہی چیز ہے کہ جس میں مقابلہ کرنے والا مقابلہ کرے۔ اچھی باتوں میں انسان مقابلہ کرے۔ کوئی آدمی لوگوں کے ساتھ خیر خواہی کرتا ہے، میں نے بھی کرنی ہے۔ میں نے بھی کرنی ہے۔ اگر کوئی آدمی ظاہر ہے مطلب کارِ خیر کا کوئی کام کر رہا ہے میں بھی اس طرح کار خیر کا کام کروں۔ یہ مقابلے کی چیزیں ہیں یہ اچھی باتیں ہیں۔ پرانے دور میں خواتین آپس میں مقابلے کرتی تھی تلاوت میں، ذکر اذکار میں۔ ربیع الاول میں درود شریف میں، مقابلے ہوتے تھے۔ یہ کوئی زیادہ دور کی بات نہیں ہے۔ قریب قریب کی بات ہے۔ یہ مقابلے ہوتے تھے۔ رمضان شریف میں تلاوت میں مقابلے ہوتے تھے کہ میں زیادہ پڑھوں۔ وہ اتنا پڑھتا ہے میں اس سے زیادہ پڑھوں۔ اور ربیع الاول میں درود شریف میں مقابلے ہوتے تھے اور باقی دنوں میں ذکر اذکار میں مقابلے ہوتے تھے۔ یہ اچھی باتیں ہیں۔ تو اچھی باتوں میں مقابلے کرنے چاہیے بری باتوں میں مقابلے نہیں کرنے چاہیے۔ اچھے حالات پہ انسان کو رشک کرنا چاہیے۔ اور اللہ تعالی سے اس کو مانگنا چاہیے۔ تو اس کے لیے میں یہ عرض کروں گا کہ اچھے لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا کرو۔ اچھے لوگ نظر آئیں گے تو اچھائیاں نظر آئیں گی۔ جب اچھائیاں نظر آئیں گی تو اچھائیوں کی توفیق ہو گی۔ اچھائیوں کو حاصل کرنے کا جذبہ ہو گا۔ یہ چیزیں بڑی ہی خوش نصیبی کی باتیں ہوتی ہیں۔ صرف نیک لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا جو ہوتا ہے نا یہ بھی کام کرتا ہے۔ حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ ان کے ساتھ ایک پنڈت کی دوستی ہو گئی۔ ایک پنڈت کی۔ اب وہ کبھی ان کے ساتھ کھانا کھا رہے ہیں، کبھی ان کے ساتھ سیر پہ جا رہے ہیں، کبھی کیا بات کر رہے ہیں۔ وہ جو حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھی تھے انہوں نے کہا، "حضرت کو کیا ہو گیا ہے، خواہ مخواہ ایک پنڈت کے ساتھ جو ہے نا وقت لگا رہے ہیں اور یہ اور وہ۔"
اب ان کے لوگوں کے پیمانے الگ ہوتے ہیں، حضرت کا الگ تھا۔ خدا کی شان کچھ وقت آ گیا۔ تو حضرت نے ان سے کہا، "بھائی ہم تو دوست ہیں نا؟" کہتے ہیں، " بالکل دوست ہیں۔" تو اب دیکھ لیں یہ ہم لوگ جو مختلف مختلف ہیں یہ ٹھیک نہیں لگتا، یا پھر مجھے تم اپنا جیسا بنا دو، یا تم مجھ جیسا بن جاؤ یہ کیا ہے مطلب علیحدہ علیحدہ کہ آپ کچھ کرتے ہیں، میں کچھ کرتا ہوں۔ تو چلو ایک جیسے ہو جاتے ہیں، اب بناؤ مجھے اپنی طرح۔ وہ پنڈت رو پڑا، کہتے ہیں، "مولوی جی آپ صحیح ہو، میں مجھے اپنے جیسا بنا لو۔" انہوں نے کہا، "ٹھیک ہے۔" کلمہ پڑھوا دیا، سبحان الله اور بس۔ مسلمان ہو گئے اور چند دنوں کے بعد فوت ہو گئے۔ ایسے خوش قسمت۔ ایسے لوگوں کے ساتھ دوستی بناؤ۔ ان کے ذریعے سے بچ جاؤ گے۔
میں آپ کو بتاؤں، ایک artist، آج کل artist کہتے ہیں نا، میں نے مجبوراً artist کہا، ورنہ ڈوم۔ وہ جب فوت ہوتا ہے۔ تو ان کے لیے پھر جمگھٹے ہوتے ہیں نا۔ اور references ہوتے ہیں اور ان کی یاد میں لوگ جمع ہوتے ہیں۔ تو یاد میں پھر جمع ہوتے ہیں تو کیا کرتے ہیں؟ وہ جو ان کے artist ہوتے ہیں نا مطلب یہ ہے کہ کوئی گانے والا ہے، تو ان کے بہترین گانے جو ان کے خیال میں ہوتے ہیں وہ گائے جاتے ہیں۔ ان کی یاد میں۔ ایسا ہوتا ہے یا نہیں ہوتا؟
کوئی اور مطلب کسی اور چیز میں ہو تو ان کے لیے پھر یہ کیا جاتا ہے۔ اب کتنی بدقسمتی کی بات ہے۔ ایک عالم جب فوت ہوتا ہے تو علماء جمع ہوتے ہیں۔ اور ان کی علمی باتوں کی یاد کر کے ان کے لیے ایصال ثواب کرتے ہیں ان کے لیے مغفرت مانگتے ہیں۔
ان کے کاموں کو، مشن کو آگے بڑھانے کے وعدے ہوتے ہیں، عہد ہوتے ہیں۔ اولیاء الله جب فوت ہوتے ہیں۔ تو ان کے لیے پھر ایسے لوگ جمع ہوتے ہیں۔ اور مطلب ظاہر ہے ان کو یاد کرتے ہیں، ان کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں۔ ہاں، تو اب مجھے بتائیں کہ مجھے کس طریقے سے یاد کرتے رہنا چاہیے بعد میں؟ میں ذرا اپنے لیے کچھ نہ کچھ تو ذہن میں رکھوں نا، کہ آخر مجھےکن لوگوں میں شمار کیا جائے؟ اگر مجھے یہ خیال ہو، تو پھر میں ظاہر ہے ایسے لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا شروع کر لوں، میرا طریقہ پھر ایسے لوگوں کے ساتھ بن جائے۔ تو پھر ان شاء الله العزيز۔ ان کی باتیں مجھ میں آہستہ آہستہ آئیں گی۔ کہتے ہیں: ہر انسان دوسرے سے چوری کرتا ہے۔ یعنی چوری چوری ان کی عادتیں اپناتا ہے۔ حتیٰ کہ دشمن سے بھی اپناتے ہیں۔ تو اگر اچھے لوگوں کے ساتھ ہم ہوں گے۔ تو اچھے لوگوں کی عادتیں ہم میں خود بخود آہستہ آہستہ آتی جائیں گی۔
قرآن پاک میں ہے۔ صبغة الله، ومن أحسن من الله صبغة کہ اللہ کا رنگ، اور اللہ کے رنگ سے بہتر رنگ اور کیا ہو گا؟ اللہ کا رنگ چڑھ جانا کسی کے اوپر۔ تو اللہ کا رنگ اللہ والوں کے ہاں ملے گا۔ اللہ والوں کے ہاں ملے گا۔ ان اللہ والوں کے ساتھ رہو گے تو اللہ کا رنگ آہستہ آہستہ چڑھتا رہے گا۔ بیشک آپ کو نظر نہیں آئے گا، یہ بھی بتا دوں۔ کیونکہ جیسے جتنے جتنے لوگ اللہ والوں کے ساتھ ہوتے جاتے ہیں، ان کو یہ رنگ نظر نہیں آئے گا خود، لیکن باقی لوگوں کو نظر آئے گا۔ باقی لوگ کہیں گے، بھئی یہ تو پہلے ایسا تھا، اب ایسا ہے۔ ان کو نظر آنا شروع ہو جاتا ہے۔ اللہ والوں کو تو نظر آنا شروع ہو ہی جاتا ہے۔ لیکن جو باقی لوگ ہوتے ہیں، ان کو بھی اس چیز کا اندازہ ہونے لگتا ہے کہ یہ تو فلاں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے والا ہے۔ فلاں کا رنگ ان پہ چڑھا ہوا ہے۔ ابھی بھی اگر حضرت مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے جو حضرات ہوتے ہیں، دور سے پہچانے جاتے ہیں کہ ان کا رنگ لیے ہوتے ہیں۔ جو حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ جو حضرات تھے، ان کا رنگ بھی پہچانا جاتا ہے، معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ ان میں سے ہیں۔ اس طریقے سے جو دوسرے حضرت مولانا لاہوری رحمۃ اللہ علیہ جن کا ان کے ساتھ تعلق ہوتا ہے ان کی بھی پہچان ہو جاتی ہے کہ یہ تو ان کا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا، کہ یہی اصل رنگ ہے۔ ان رنگوں کو اپنانا چاہیے، اللہ والوں کے پاس جانا چاہیے، اللہ والوں کے ساتھ رابطہ کرنا چاہیے۔ ان کی کتابیں پڑھنی چاہیے۔ ان کی سوانح پڑھنی چاہیے۔ ان کی سوانح پڑھنے میں، ان کی کتابیں پڑھنے میں بھی یہ اثر ہوتا ہے۔ تو ہم لوگوں کو اپنے مستقبل کو بنانے کے لیے اچھے لوگوں کو۔ اچھے لوگوں کے ساتھ رہنا ہوگا، اپنے بچوں کو بھی اچھے لوگوں کے ساتھ ملانا ہوگا۔ گھروں کے اندر بھی اچھے لوگوں کے تذکرے کرنے ہوں گے۔ اگر ہم اچھا بننا چاہتے ہیں۔ تو آہستہ آہستہ یہ نعمتیں ہمیں نصیب ہو جائے گی۔ باقی جو برائی کی محفلیں ہیں۔ تو مکمل کوشش ہونی چاہیے کہ برائی کی محفلوں سے انسان بچ جائے۔ اور اگر خدانخواستہ پھنس جائے کسی وجہ سے، اپنی کمزوری کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے پھنس جائے، تو پھر يا هادي يا نور لا حول ولا قوة الا بالله العلي العظيم یہ زبان سے نہ ہٹائیں۔ مسلسل پڑھتے رہیں۔ يا هادي يا نور لا حول ولا قوة الا بالله العلي العظيم۔ کیونکہ جو بری جگہوں کے شیاطین ہوتے ہیں، وہ انسان کو پڑ جاتے ہیں۔ ہمارے شیخ رحمۃ اللہ علیہ نے ہمیں طریقہ سکھایا تھا کہ کبھی اگر تم ایسی جگہوں پہ پھنس جاؤ، جو بری جگہیں ہوتی ہیں مثلا ہندوؤں کے جو مندر ہوتے ہیں، بازار ہوتے ہیں، سینما گھر ہوتے ہیں، کوئی musical concerts ہوتے ہیں، ان جگہوں کے سامنے سے جاؤ، تو يا هادي يا نور لا حول ولا قوة الا بالله العلي العظيم پڑھتے رہو، ورنہ وہاں کے شیاطین پڑ جائیں گے۔ تو اس وجہ سے اچھے ماحولوں میں جانا چاہیے، اچھے لوگوں کے پاس۔ دیکھیں، حدیث شریف میں ایک عجیب پیارے الفاظ ہیں اللہ میاں کے، حدیث قدسی ہے۔ اس میں فرماتے ہیں جو ذکر کی مجلس ہوتی ہے۔ تو باقاعدہ فرشتے جمع ہوتے رہتے ہیں کیونکہ یہ ذکر فرشتوں کی خوراک ہے۔ تو فرشتے پھر ادھر جمع ہوتے رہتے ہیں۔ اور یہ music وغیرہ یہ شیطان کی خوراک ہے۔ تو یہاں پر شیاطین جمع ہوتے ہیں۔ تو اب یہ ہے کہ، اب ذکر کے لیے فرشتے جمع ہو رہے ہوتے ہیں، تو پھر جمع ہوتے رہتے ہیں، بہت اوپر تک چلے جاتے ہیں۔ پھر اس کے بعد اللہ میاں کے ہاں ان کی حاضری ہوتی ہے۔ اللہ پاک ان سے پوچھتے ہیں کہاں سے آئے ہو؟ حالانکہ سب کچھ پتا ہوتا ہے۔ لیکن اللہ پاک اعزاز کرتے ہیں۔ کہاں سے آئے ہو؟ تو بتاتے ہیں، یا اللہ ہم تو ذکر کی مجلس سے آئے تھے۔ اچھا، تو کیا کر رہے تھے وہ؟
تجھے یاد کر رہے تھے۔ تو کیا انہوں نے مجھے دیکھا تھا؟ دیکھا تو نہیں تھا۔ اگر دیکھ لیتے تو پھر؟ پھر تو یا اللہ بہت یاد کرتے۔ اس طرح جنت کے بارے میں، دوزخ کے بارے میں بات ہو جاتی ہے، پھر اللہ پاک فرماتے ہیں، میرے فرشتو گواہ رہنا، میں نے ان لوگوں کو بخش دیا۔
فرشتے ان میں سے کچھ کہتے ہیں یا اللہ ان میں سے کچھ لوگ ایسے تھے جو ذکر کے لیے نہیں آئے ہوئے تھے، وہ کسی کے ساتھ ملنے کے لیے آئے ہوئے تھے، ان کے ساتھ بیٹھ گئے دیکھنے کہ کیا کر رہے ہیں۔ بیٹھ گئے ان کے ساتھ۔ تو یہ وہ پیار بھرا لفظ ہے اللہ پاک کی طرف سے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے ساتھ بیٹھنے والے محروم نہیں ہوا کرتے، میں نے ان کو بھی بخش دیا۔ اس سے پتا چلا کہ نیک لوگوں کے ساتھ بیٹھنے والے محروم نہیں ہوا کرتے۔ اللہ پاک خیال رکھتے ہیں ان کا۔
تو اگر ہم لوگ خود کچھ اچھے اعمال نہیں کر سکتے، مثال کے طور پر کمزوریاں ہیں، تو چلو پھر اس کی تلافی یہی ہے نا کہ اچھے لوگوں کے ساتھ بیٹھنا شروع کر لیں، کم از کم ان کے ساتھ ہی ہمارا۔۔۔ یہ جماعت کی نماز کے بارے میں جو کہتے ہیں کہ کبھی کبھی کسی ایک آدمی کی نماز قبول ہو جائے جماعت میں، اس کی برکت سے ساری جماعت کی نمازیں قبول ہو جاتی ہیں۔ اب کتنی بڑی facility ہے۔ اب اکیلے نماز پڑھنا ٹھیک ہے، ہو جائے گی نماز ہو جائے گی، لیکن یہ facility تو نہیں آئے گی۔ ایک دفعہ ایک شخص سے جماعت کی نماز رہ گئی تھی۔ تو اس نے وہ نماز پچیس مرتبہ پڑھی، کیونکہ پچیس مرتبہ اجر ہوتا ہے نا اس کا، پچیس گنا اجر ہوتا ہے۔ پچیس مرتبہ پڑھی۔ تو رات کو خواب میں دیکھ کے ایک فرشتہ ان سے کہہ رہا ہے۔ تو نے پچیس مرتبہ تو یہ نماز پڑھی، لیکن وہ فرشتوں کی آمین کہاں سے لاؤ گے؟ کیونکہ جو ولا الضالين کہتے ہیں فرشتے بھی ساتھ آمین کہتے ہیں، جن کا آمین ان کے ساتھ مل جاتا ہے تو ان کی آمین قبول ہو جاتا ہے۔ وہ آمین کہاں سے لاؤ گے؟ یہ تو خیر خواب کی بات ہے، اب میں ذرا جاگتے کی بات بتاتا ہوں کہ یہ جو نماز پچیس گنا ہے، یہ فرض نماز کا پچیس گنا ہے۔ سمجھ میں آ رہی ہے نا؟ یعنی ان کو پچیس فرض نمازیں مل رہی ہیں جماعت کے ساتھ۔ اور اگر آپ نے اس کو پچیس دفعہ پڑھ لیا، تو وہ تو نفل نماز ہے، وہ تو فرض نہیں ہو سکتا۔ تو پچیس دفعہ اگر تو نے نفل نماز پڑھ لی، تو پچیس نفلیں اور ایک فرض پچیس فرضوں کے برابر تو نہیں ہو سکتے نا۔ یہ تو کبھی بھی نہیں ہو سکتا۔
تو لہذا ان چیزوں کو انسان miss نہ کرے۔ جماعت میں اللہ جل شأنه نے بہت کچھ رکھا ہے۔ اچھے لوگوں کی جماعت کے ساتھ ہو جاؤ، كونوا مع الصادقين۔ صادقین کے ساتھ ہو جاؤ، قرآن پاک کا حکم ہے۔ نیک لوگوں کے ساتھ، صادقین کے ساتھ ہو جاؤ۔ اور یہ بھی عرض کرتا ہوں کہ صادقین قیامت تک ملتے رہیں گے۔ کیونکہ اللہ جل شانہ نے یہ جو حکم دے دیا، تو چونکہ قرآن پاک پڑھا جائے گا قیامت تک۔ تو اللہ پاک کبھی بھی ایسا حکم نہیں دیتا ہے جس پر عمل نہ ہو سکتا ہو۔ اور چونکہ اس پر عمل تب ہو سکتا ہے کہ صادقین ہوں۔ تو صادقین کو پیدا کرنا اللہ کا کام ہے، ہمارا ان کے ساتھ ہو جانا ہمارا کام ہے۔ ہمیں اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ ہمیں ڈھونڈنا چاہیے۔ اکثر میں نشانیاں بتاتا رہتا ہوں۔ ان نشانیوں کو ذرا دیکھا کریں۔ اور پھر ان شاء اللہ جب بھی موقع ملے، صحبتِ صالحین کی نیت سے کبھی مطلب چانس کو miss نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو اپنا تعلق نصیب فرما دے۔ یہ دیکھ لیں، خواتین کے لیے جو ہم نے انتظام شروع کیا ہے نا، اس کو ذرا تھوڑا سا محسوس فرما لیں۔ یہ بہت بڑی ضرورت ہے آج کل کے دور کی۔ خواتین کے لیے کچھ انتظام ایسا کہ جس میں شریعت کی پابندیاں ہوں۔ یعنی ان کے جمع ہونے میں شریعت کا احترام ہو، پردے کا اہتمام ہو۔ اس طریقے سے جب یہ انتظام ہوتا ہے، اس میں اللہ پاک بہت خیر ڈالتا ہے۔ عورتوں کے بہت سارے پروگرام ہیں، لیکن ان میں شریعت کا احترام بہت کم ہوتا ہے، خیال بہت کم ہوتا ہے۔ نتیجتاً فائدے کی جگہ نقصان زیادہ ہو جاتا ہے۔ ! تو جہاں پر اس قسم کی ہو تو یہ اللہ پاک کی بڑی نعمت ہوتی ہے۔ اور ہم نے یہ اس لیے سلسلہ شروع کیا خواتین کے لیے خاص، کہ خواتین کو زیادہ ضرورت ہے مسلسل in contact رہنے کی۔ یعنی، جیسے میں نے پہلے عرض کر لیا۔ تو یہ تو گیارہ سے لے کے بارہ بجے تک تو ہمارا پروگرام ہوتا ہے، ہر ہفتے، اتوار کے دن، خواتین کے لیے ایک گھنٹہ کا پروگرام ہے۔ لیکن ہر مہینے تین گھنٹے کا پروگرام ہم نے رکھا ہوتا ہے۔ تاکہ اس میں خواتین کی تربیت کے لیے جو ضروری چیزیں ہیں، وہ خواتین بتاتی ہیں۔ وہ ان کے لیے ہم انتظام کرتے ہیں۔ تو اپنی خواتین کو لایا بھی کریں۔ جو یہاں پر آئی ہیں، وہ اپنی سہیلیوں کو، اپنے پڑوسیوں کو بھی بتایا کریں کہ اس قسم کا انتظام ہے۔ ان کو اپنے ساتھ لایا کریں۔ بعض دفعہ میں آپ سے ایک بات عرض کروں کہ اتنے بعض لوگ ایسے سلیم الطبع لوگ ہوتے ہیں کہ ان کو صرف بتانے کی دیر ہوتی ہے۔ وہ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ میں دفتر میں چھٹی کے دن گیا تھا کام کر رہا تھا۔ تو ایک چوکیدار بھی کھڑے تھے۔ تو میں نے کہا چلو اکیلے چائے پیتا ہوں تو ان کو بھی پلا دیتا ہوں۔ تو چائے میں نے منگوا لی، اس کو بھی بلا لیا۔ تو چائے پی رہے تھے اس دوران ان سے میں نے پوچھا، میں نے کہا بھئی آپ کیا کام کرتے ہیں؟ آپ کا کام کیا ہوتا ہے؟ اس نے کہا اور کیا ہوتا ہے ادھر ادھر دیکھتا رہتا ہوں، یہ میری duty ہے۔ تو میں نے کہا آپ کے جسم کے کون سے حصے کام میں مشغول ہوتے ہیں؟ کہتے ہیں آنکھیں، ہاتھ پاؤں کبھی کبھی، اور کبھی کبھی زبان بھی ہو جاتا ہے، ذہن تو ہر وقت ہوتا ہے۔ میں نے کہا زبان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ کہتے ہیں اکثر فارغ رہتی ہے۔ میں نے کہا اس کے لیے کوئی کام بتاؤں؟ کہتے ہیں بتائیں۔ میں نے کہا اس پر ذکر کریں۔ کہتے ہیں کیا ذکر کروں؟ میں نے کہا وصلی اللہ علی النبی الامی، درود شریف ہے۔ یہ آپ جو ہے نا اس پر پڑھتے رہیں۔ اس نے کہا ٹھیک ہے۔ وہ چلا گیا۔ چند دن کے بعد اس سے ملاقات ہو گئی۔ میں نے کہا حضرت کیا حال ہے؟ کہتے ہیں الحمدللہ مسلسل پڑھ رہا ہوں اور میں نے بیوی کو بھی سکھا دیا وہ بھی پڑھ رہی ہے۔ آپ دیکھ لو ایک کی جگہ دو فائدے۔ مقصد یہ ہے کہ اب دیکھیں وہ اتنا سلیم الطبع آدمی تھا کہ اس کو صرف ایک دفعہ بتانے کی دیر تھی۔ اب یہ عمر بھر پڑھے گا ان شاءاللہ فائدہ مجھے ہو گا۔ جتنا وہ پڑھے گا الحمدللہ مطلب مجھے اس کا ثواب ملے گا ساتھ ساتھ، اس کو بھی ملے گا مجھے بھی ملے گا۔ تو اب ایسے لوگوں کو اگر آپ اطلاع دے دیں کہ یہاں پر پروگرام ہے۔ یہاں پر خواتین کے لیے انتظام ہے۔ وہ آئے اور اس کی زندگی بدل جائے۔ تو آپ کا تو فائدہ ہو گیا نا عمر بھر کا۔ آپ کا تو کام ہو گیا۔ لہذا ایسے سلیم الطبع لوگوں کو پہنچانے میں پہل کرنا چاہیے۔ تاکہ آپ کے لیے مستقل ایک صدقہ جاریہ کا بندوبست ہو جائے۔
اور ما شاء اللہ اس میں کوشش کر لیں کہ آپ جتنے بھی یہاں پر پروگرام ہیں، ان سارے پروگراموں میں شریک ہو سکیں۔ کیونکہ یہ مستقل ہماری ایک ضرورت ہے۔ مستقل ہماری ضرورت ہے: طلب العلم فريضة على كل مسلم و مسلمة۔ علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت کے اوپر فرض ہے۔ ایک تو یہ بات، اور دوسری علم کے ساتھ تربیت۔ تربیت کے بغیر علم انسان کے اوپر حجت بن جاتا ہے۔ اور تربیت کے ساتھ جو علم ہے، وہ استعمال ہو جاتا ہے۔
تو لہٰذا یہاں پر علم کا بھی انتظام ہے، اللہ کا شکر ہے کہ تربیت کا بھی انتظام ہے۔ بس ہمیں کام شروع کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نیک اعمال کی توفیقات عطا فرما دے۔ وما علینا الا البلاغ۔