نعمتوں کی حقیقت، باطل کا کر و فر اور عبرت ناک انجام

درس نمبر 279، سورہ الاعراف آیات 32 تا 37، اشاعتِ اول: 16 اور 17 ستمبر، 2022، بمطابق 19 اور 20 مصفرالمظفر، 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

اللہ تعالیٰ نے پاکیزہ رزق اور زینت حلال فرمائی ہے۔

دنیاوی نعمتیں اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی دلیل نہیں ہیں۔

اللہ اور رسول پر جھوٹ باندھنا سنگین جرم ہے۔

ہر قوم کے لیے مقررہ وقت بالکل اٹل ہے۔

کافروں کی دنیاوی خوشحالی دیکھ کر احساس کمتری سے بچیں۔

ایمان پر ثابت قدمی اور اچھے انجام کی دعا کریں۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَ اللّٰهِ الَّتِیْۤ اَخْرَ جَ لِعِبَادِهٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ ؕ قُلْ هِیَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ (32) قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ وَ الْاِثْمَ وَ الْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ اَنْ تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ (33) وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ (34)

صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: کہو کہ: ”آخر کون ہے جس نے زینت کے اُس سامان کو حرام قرار دیا ہو جو اللہ نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کیا ہے، اور (اسی طرح) پاکیزہ رزق کی چیزوں کو؟

بات پرانی جو چل رہی ہے کہ

حاشیہ: عرب قبائل نے طواف کے وقت کپڑے پہننے کو حرام سمجھا ہوا تھا، اسی طرح جاہلیت کے لوگوں نے بہت سی غذاؤں کو بلاوجہ حرام قرار دیا ہوا تھا جس کا مفصل تذکرہ سورۂ انعام میں گزرا ہے۔ نیز ”حُمس“ کے قبائل نے گوشت کی بعض قسموں کو اپنی امتیازی حیثیت ظاہر کرنے کے لئے اپنے اُوپر حرام کر لیا تھا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا کوئی حکم نہیں آیا تھا۔

ترجمہ: کہو کہ: ”جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اُن کو یہ نعمتیں جو دُنیوی زندگی میں ملی ہوئی ہیں، قیامت کے دن خالص انہی کے لئے ہوں گی۔“

حاشیہ: یہ دراصل کفارِ مکہ کی ایک بات کا جواب ہے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو ہمارا موجودہ طریقہ پسند نہیں ہنہیں ہے تو وہ ہمیں رزق کیوں دے رہا ہے؟ جواب یہ دیا گیا ہے کہ اس دُنیا میں تو اللہ تعالیٰ کے رزق کا دسترخوان ہر شخص کے لئے بچھا ہوا ہے، چاہے وہ مؤمن ہو یا کافر۔ لیکن آخرت میں یہ نعمتیں صرف مؤمنوں کے لئے خاص ہیں۔ اس لئے یہ سمجھنا غلط ہے کہ اگر دُنیا میں کسی کو خوشحالی میسر ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی دلیل ہے، اور اسے آخرت میں بھی خوشحالی ضرور میسر آئے گی۔

یہ اصل میں انسان اپنے نفس کی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے نت نئے بہانے بناتے رہتے ہیں اور اپنے آپ کو طفل تسلیاں دیتے رہتے ہیں۔ تو ان میں یہ بھی بات ہے کہ جن لوگوں کے اوپر یعنی ڈھیل کے طور پر نعمتوں کو کھول دیا گیا ہے تو وہ سمجھتے ہیں کہ شاید ہم لوگ منتخب لوگ ہیں اور ہم لوگوں کے کوئی جرم کو جرم نہیں سمجھا جا رہا۔ لہٰذا وہ اور زیادہ ڈھیٹ ہو جاتے ہیں اور اور زیادہ آگے بڑھتے ہیں جس کی وجہ سے ان کو نقصان پر نقصان ہو رہا ہوتا ہے۔ ظاہر ہے شیطان اس بات کو مزید بڑھاتا ہے، اصل بات تو چونکہ یعنی نفس کی ہوتی ہے لیکن شیطان اس کے ذریعے ان کے اعمال کو ان کے لیے بہت زیادہ مزین کر لیتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ شاید یہ ہماری باتیں جو ہیں مطلب زیادہ پسندیدہ ہیں اللہ تعالیٰ کے ہاں۔

ترجمہ: اسی طرح ہم تمام آیتیں اُن لوگوں کے لئے تفصیل سے بیان کرتے ہیں جو علم سے کام لیں ﴿32﴾

یعنی نشانیاں تو اللہ تعالیٰ نے بہت ساری رکھی ہیں لیکن جو ان کا علم رکھتا ہو اور پھر اس سے وہ کام لینا چاہتے ہوں تو ان کو بہت ساری چیزوں کا پتہ چلتا رہتا ہے۔

ترجمہ: کہو کہ: ”میرے پروردگار نے تو بے حیائی کے کاموں کو حرام قرار دیا ہے، چاہے وہ بے حیائی کھلی ہوئی ہو، یا چھپی ہوئی۔ نیز ہر قسم کے گناہ کو اور ناحق کسی سے زیادتی کرنے کو، اور اس بات کو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک مانو جس کے بارے میں اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی ہے، نیز اس بات کو کہ تم اللہ کے ذمے وہ باتیں لگاؤ جن کی حقیقت کا تمہیں ذرا بھی علم نہیں ہے۔ ﴿33﴾

حاشیہ: یوں تو کسی بھی شخص کی طرف کوئی غلط بات منسوب کرنا ہر اعتبار سے ایک ناجائز اور غیر اخلاقی فعل ہے، لیکن اگر یہ جرم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا جائے تو اس کی سنگینی انسان کو کفر تک لے جاتی ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی بات منسوب کرتے وقت انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے، اور جب تک انسان کو یقینی علم حاصل نہ ہو، ایسی نسبت کا اقدام ہرگز نہیں کرنا چاہئے۔ عرب کے بت پرستوں نے اپنی طرف سے باتیں گھڑ گھڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر رکھی تھیں جن کی بنیاد کسی علم پر نہیں تھی، بلکہ اپنے بے بنیاد اندازوں پر تھی، جن کی حقیقت کا خود انہیں بھی علم حاصل نہیں تھا۔

ہوتا یوں ہے کہ انسان خود اپنی مرضی سے جن چیزوں کو اچھا سمجھتے ہیں تو پھر کہتے ہیں اچھی بات تو اللہ کی طرف سے اگر ہو تو کوئی بری بات تو نہیں ہے۔ تو وہ اپنی طرف سے اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہہ دیتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے حالانکہ یہ کوئی صحیح طریقہ نہیں ہے۔ بہت سارے ایسے لوگ بھی گزرے ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جھوٹی حدیث اس وجہ سے گھڑ لیتے تھے کہ ان کو اچھا سمجھتے کہ یہ تو اچھا کام ہے۔ مثلاً لوگوں کے اندر صلح کرنا یہ تو اچھا کام ہے۔ اب اس کے لیے اگر کوئی حدیث گھڑ لے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ ایسے کرو ایسا کرو ایسا کرو۔ اب وہ بات صحیح ہے لیکن یہ بات غلط ہے کہ اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا جائے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے نہ ہو۔ تو جس طریقے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ جرم ہے اور بہت بڑا جرم ہے، تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کو منسوب کرنا تو اور بھی بڑا جرم ہے۔ تو اس وجہ سے مطلب ایسی چیزوں سے اپنے آپ کو بچانا چاہیے یہ شیطان ان چیزوں میں انسان کو لگا لیتا ہے۔ شیطان کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ آپ کون سا غلط کام کرتے ہیں، یہ کرتے ہیں یا وہ کرتے ہیں۔ اس کو اس سے غرض نہیں بس آپ کو وہ اللہ تعالیٰ سے دور کرنا چاہتا ہے۔ جس چیز سے اللہ تعالیٰ ناراض ہو بس اس چیز میں لانا چاہتے ہیں اللہ پاک ہم سب کو ظالم کے شر سے محفوظ فرمائے۔ اللهُ اَكْبَرُ۔

ترجمہ: اور ہر قوم کے لئے ایک میعاد مقرر ہے۔ چنانچہ جب ان کی مقررہ میعاد آجاتی ہے تو وہ گھڑی بھر بھی اُس سے آگے پیچھے نہیں ہو سکتے ﴿34﴾

یہ اصل میں اللہ پاک نے قانون بنایا ہوا ہے، ایک وقت متعین کیا ہوتا ہے ہر چیز کے لیے۔ تو اس قانون کے مطابق جو ہوتا ہے تو اس کا نتیجہ بھی اس کے مطابق ہوتا ہے۔ تو لیکن یہ ہے کہ اس کے لیے جو وقت مقرر ہوتا ہے اس وقت سے پہلے نہیں ہوتا۔ اور اس وقت کو گزرنے بھی نہیں دیا جاتا۔ جو وقت آ جاتا ہے اس کا اس پر وہ کام ہو جاتا ہے۔ چاہے وہ کسی کی موت ہو، چاہے کوئی ایکسیڈنٹ ہو، چاہے کوئی سیلاب ہو، چاہے کوئی اور مسئلہ ہو۔ جو بھی ہو جس چیز کا وقت جو مقرر ہے اس وقت پر وہ آ جاتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں پر قادر ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو ان اعمال کی توفیق عطا فرمائے جس سے اللہ پاک راضی ہوتے ہیں، ان اعمال سے محفوظ فرما دے جس سے اللہ پاک ناراض ہوتے ہیں۔

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ ۙ فَمَنِ اتَّقٰى وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ (35) وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَاۤ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ (36) فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ ؕ اُولٰٓىٕكَ یَنَالُهُمْ نَصِیْبُهُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوْنَهُمْ ۙ قَالُوْۤا اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ (37)

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: (اور اللہ نے انسان کو پیدا کرتے وقت ہی یہ تنبیہ کر دی تھی کہ:) ”اے آدم کے بیٹو اور بیٹیو! اگر تمہارے پاس تم ہی میں سے کچھ پیغمبر آئیں جو تمہیں میری آیتیں پڑھ کر سنائیں، تو جو لوگ تقویٰ اختیار کریں گے اور اپنی اصلاح کر لیں گے، اُن پر نہ کوئی خوف طاری ہوگا، اور نہ وہ غمگین ہوں گے، ﴿35﴾ اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے، اور تکبر کے ساتھ اُن سے منہ موڑا ہے، وہ لوگ دوزخ کے باسی ہیں۔ وہ اُس میں ہمیشہ رہیں گے۔“ ﴿36﴾ اب بتاؤ کہ اُس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے، یا اُس کی آیتوں کو جھٹلائے؟ ایسے لوگوں کے مقدر میں (رزق کا) جتنا حصہ لکھا ہوا ہے، وہ اُنہیں (دُنیا کی زندگی میں) پہنچتا رہے گا،

یہاں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے

حاشیہ: کہ دُنیا میں رزق دینے کے لئے اللہ تعالیٰ نے مؤمن اور کافر میں تفریق نہیں فرمائی ہے، بلکہ ہر ایک کے لئے رزق کا ایک حصہ مقرر فرما دیا ہے جو اسے ہر حال میں پہنچتا رہے گا، چاہے وہ کتنا بڑا کافر کیوں نہ ہو۔ لہٰذا اگر کسی کو دُنیا میں رزق کی فراوانی حاصل ہے، تو اُسے یہ نہ سمجھ بیٹھنا چاہئے کہ اُس کا طریقہ اللہ تعالیٰ کو پسند ہے، جیسا کہ یہ کفار مکہ سمجھ رہے ہیں۔ ان کو اصل حقیقت کا پتہ اُس وقت چلے گا جب موت کا منظر ان کے سامنے آجائے گا۔

یہ کچھ لوگ اپنے آپ کو، جیسے کل بھی میں نے عرض کیا تھا، طفل تسلی دیتے ہیں کہ اگر ہم غلط راستے پر ہیں تو پھر اللہ پاک ہمارے ساتھ دنیا میں کیوں مہربانی فرما رہے ہیں؟ یہ باقاعدہ اس کا کہتے بھی ہیں اور سمجھتے بھی ہیں۔ تو یہ بات بار بار قرآن میں آتی ہے کہ یہ کوئی معیار نہیں ہے حق اور باطل ہونے کا۔ بلکہ جو کافر ہیں ان کو چونکہ آخرت میں کچھ نہیں ملے گا، نقصان ہی ملے گا، اس وجہ سے ان کے اگر کوئی اچھے کام ہیں ان کا بدلہ ان کو دنیا میں مل جاتا ہے۔ لہٰذا دنیا میں ان کی حالت نسبتاً مسلمانوں سے شاید بہتر ہی ہو۔ یعنی ایسی صورت میں کیونکہ ان کو اس کا بدلہ تو مسلمان کو تو اخیر میں ملے گا نا، اور یہاں پر بھی مل جاتا ہے۔ حدیث قدسی ہے، اللہ پاک فرماتے ہیں اگر یہ بات نہ ہوتی کہ مسلمان اس کا ایمان خطرے میں پڑ جائے، تو میں کافروں کے گھر کو سونے اور چاندی کا بنوا دیتا۔ مطلب یہ ہے کہ ان کو چونکہ آخرت میں کچھ نہیں ملنا تو اس وجہ سے جو یہاں ان کو ملے گا بس وہی ہے۔ تو جو لوگ اچھے کام کرتے ہیں ان کا بدلہ ان کو یہاں مل جاتا ہے۔ تو اب یہ صورتحال ہے کہ اگر ان کو اتنی اعلیٰ کر و فر والی زندگی زیادہ مل جاتی، تو پھر جیسے اب مسلمان ڈپریسڈ ہیں اور سمجھتے ہیں کہ شاید وہ اچھے لوگ ہیں۔ تو ایسی صورت میں اب دیکھیے مثال کے طور پر میں آپ کو کیا بتاؤں، احساس کمتری بہت خطرناک چیز ہے۔ آج کل آپ نیٹ پر جب دیکھتے ہیں اور خبریں جب پڑھتے ہیں تو اس میں بہت سارا حصہ کوئین الزبتھ کا جو اور پھر بادشاہ چارلس کا اور پھر اس کے خاندان کا اور یہ ساری چیزیں آ رہی ہیں۔ اب دیکھیے کوئی مطلب کیا بات ہے؟ بس ٹھیک ہے نا جی۔ بس وہ فوت ہو گئی، دوسرا بادشاہ آ گیا، بس بات ختم۔ اب ان کے اتنے قصے لمبا کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے تو لمبا کیا، ان کا تو کلچر ہے۔ ہمیں کیا ضرورت ہے کہ مطلب اس کے پیچھے پڑ جائیں؟ تو ان کے کر و فر کو دیکھ کر بعض مسلمانوں کی طبیعت خراب ہو جاتی ہے۔ اور وہ سمجھتے ہیں کہ شاید وہ اور احساس کمتری میں تو انسان پھر گدھا بن جاتا ہے، مطلب یہ کہ انسان کو کچھ سمجھ نہیں آتی کہ میں کیا کر رہا ہوں۔ اور ایسی ایسی حرکتیں کرتا ہے جو اس کو بعد میں اگر کوئی اور اس کو بتائے کہ تو نے یہ کی، تو شاید وہ حیران ہو جائے کہ میں نے کیا کیا ہے؟ تو احساس کمتری جو ہے بہت خطرناک چیز ہے۔ اور اس کے لیے پھر یہی بات ہے کہ اللہ پاک نے اس حد تک، ان کو نہیں دیا جتنا کہ دینا چاہتے تھے۔ تو جو ابھی بھی ہے اس پر ہم کیوں وہ کریں؟

ترجمہ: یہاں تک کہ جب اُن کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اُن کی روح قبض کرنے کے لئے آ پہنچیں گے تو وہ کہیں گے کہ: ”کہاں ہیں وہ (تمہارے معبود) جنہیں تم اللہ کے بجائے پکارا کرتے تھے؟“ یہ جواب دیں گے کہ: ”وہ سب ہم سے گم ہوچکے ہیں۔“ اور وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے ﴿38﴾

تو مطلب یہ ہے کہ یہ بہت یعنی گویا کہ عبرت کا مقام ہے کہ انسان کا آخری انجام خراب ہو جائے۔ آخری انجام بہت یعنی اہم بات ہے اور یہ ایسا انجام جس کے بعد کوئی ریٹرن نہیں ہے، کوئی مسئلہ نہیں، کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ ایسا انجام ایسی خطرناک بات ہے، اللہ پاک ہماری حفاظت فرمائے اور ہمیں اپنے عقائد پر، اپنے ایمان پر ثابت قدمی کے ساتھ رہنا چاہیے، اسی کے لیے دعا کرنی چاہیے۔ کبھی بھی ہمیں کسی اور کی دنیاوی اچھی حالت کو دیکھ کر اس انجام کو، ان کے اس انجام کو بھلانا نہیں چاہیے۔ ہاں ان کے لیے دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ان کو بھی ہدایت دے اور وہ بھی مطلب محفوظ طریقے سے ان کا انجام ہو۔ اللہ پاک ہم سے راضی ہو جائے۔

سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، بِرَحْمَتِكَ يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔

نعمتوں کی حقیقت، باطل کا کر و فر اور عبرت ناک انجام - درسِ قرآن - دوسرا دور