تزکیہ نفس، اصلاحِ احوال اور معمولاتِ ذکر

اشاعت اول: پیر، 9 جنوری، 2012، بمطابق: 15 صفر، 1433 ھ، حصہ اول

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

ادب اور خدمت کا باہمی تعلق اور فضیلت

دل جاری ہونے" کی حقیقت اور مفہوم

دنیاوی کاموں کو ذکرِ الٰہی بنانے کا طریقہ

بزرگوں کے احترام میں قیام کا شرعی حکم و شرائط

خلافت کا حقیقی مفہوم اور سالک کی اہلیت

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔

سوال 7: مرید کی ادب سے ترقی زیادہ ہو گی یا خدمت سے؟

سوال جواب مجلس نمبر: 1، 9 جنوری، 2012

جواب: یہ دونوں چیزیں جمع بھی تو ہو سکتی ہیں۔ بیک وقت ادب اور بیک وقت خدمت بھی کی جا سکتی ہے۔ کیونکہ خدمت کرنے کے لیے بے ادبی تو ضروری نہیں ہے۔ اور ادب کے لیے خدمت چھوڑنا تو ضروری نہیں ہے۔ لہٰذا دونوں ہو سکتی ہیں۔ اور دونوں سے فائدہ ہوتا ہے۔

سائل: individually اگر کوئی شخص صرف ادب ...

مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اس کی عقل کہاں چرنے گئی ہے کہ وہ اس طرح کہ میں ادب تو نہیں کروں گا لیکن خدمت کروں گا۔ یا خدمت نہیں کروں گا اور ادب کروں گا۔ تو مجھے تو اس میں کوئی تفاوت نظر نہیں آتا۔ جو ادب کرتا ہے وہ خدمت بھی کرتا ہے۔ اور جو خدمت کرتا ہے وہ ادب بھی کرتا ہے، مطلب یہ دونوں چیزیں ہوتی ہیں، اکٹھی ہوتی ہیں۔

سائل: اس میں اگر خدمت کی جو عام سطح سمجھی جاتی ہے کہ اپنے شیخ کے لیے کوئی چیزیں لے کے آئے یا ان کے جوتے اٹھائے یا جو نارمل حالات میں کوئی کسی اور کے لیے نہیں کرتا، اور وہ شخص وہ نہیں کرتا، لیکن دل میں ادب ہے۔

جواب: یہ اصل میں ہر شخص کے اپنے اپنے جذبات ہوتے ہیں۔ یہ man to man vary کرتی ہے چیز۔ لیکن اللہ تعالیٰ تو چونکہ جانتا ہے دلوں کو۔ لہٰذا اللہ کے پیمانے پھر ہر ایک کے لیے اپنے اپنے ہوتے ہیں، اس لحاظ سے دیکھتا ہے۔ اب دیکھ لیں، خدمت کس کو کہتے ہیں؟ خدمت کے ایک ہوتے ہیں مروّجہ طریقے، اور ایک ہوتی ہے اصل خدمت۔ مروّجہ طریقوں میں ایک ان کے لیے جوتے سیدھے کرنا اور ان کے لیے چیزیں لانا اور اس کا، یہ مروّجہ طریقے ہیں، عام لوگ اس کو خدمت سمجھتے ہیں۔ نہیں یہ والی بات نہیں، جن کو محبت ہوتی ہے اور محبت کی وجہ سے خدمت کرتے ہیں۔ وہ موقع کی تلاش میں رہتے ہیں کہ کون سی چیز ہے اس وقت جو شیخ کو اس کی ضرورت پڑ سکتی ہے اور میرے پاس پھر ہونی چاہیے میں وہ خدمت کر لوں۔ تو ایسے لوگ وہ کر لیتے ہیں

میں آپ کو ایک واقعہ بتاتا ہوں۔ واقعہ بڑا عجیب ہے۔ حضرت خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ، ان کی خانقاہ کے سامنے ایک نانبائی کی دکان تھی۔ حضرت کے تقریباً جیسے آج کل تین چار بجے ہوتے ہیں، کچھ مہمان آ گئے۔ اب گاؤں وغیرہ میں تو بارہ بجے لوگ کھانا کھا لیتے ہیں، گیارہ بجے کھا لیتے ہیں، اس کے بعد تو پھر کھانے پینے کی چیزیں نہیں ہوتیں۔ دکان بھی نہیں ہوتی۔ تو حضرت ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ جب مہمان آ گئے تو نانبائی نے جب دیکھا کہ اس وقت بے وقت مہمان آ گئے، تو اس نے فوراً روٹیاں لگانی شروع کیں۔ اور حضرت ابھی ان کے ساتھ بیٹھے تھے اور اس کے لیے سوچ رہے تھے کہ کھانے پینے کا بندوبست کر لیں، اتنے میں نانبائی آیا، دس بیس روٹیاں لے آیا اور بھی تیار ہو رہی ہیں، حضرت میں لے آیا ہوں۔ تو اس وقت تو حضرت نے روٹیاں لے لیں، دل بڑا خوش ہو گیا، اس وقت کچھ نہیں کہا، لیکن جب مہمان رخصت ہو گئے تو ان کو بلایا۔ ان سے کہا کہ مانگو کیا مانگتے ہو؟ مطلب یہ ہے کہ خوش ہو گئے، بہت زیادہ ان سے خوش ہو گئے، مانگو کیا مانگتے ہو؟ اس نے کہا، حضرت! اپنا جیسا بنا دیں۔ انہوں نے کہا، یہ تو آپ نے کون سی بات کی! یہ تو آپ کو بڑا مہنگا سودا ہے، برداشت نہیں کر سکو گے۔ تو اس نے کہا کہ نہیں حضرت! اگر دینا ہے تو یہی دے دو ورنہ مجھے اور کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ دینا ہے تو یہی دے دو۔ انہوں نے کہا، بھئی! یہ تم برداشت نہیں کر سکتے، تمہارے فائدے کی بات کر رہا ہوں، تم نہیں برداشت کر سکتے اس کو۔ کیونکہ ایک چیز تدریجاً حاصل ہوئی ہے، اس کے لیے تو سارا انسان تیار ہو جاتا ہے۔ اور ایک چیز اچانک مل جائے۔ تو وہ تو جیسے کشتہ روزانہ اور تھوڑا تھوڑا بڑھاتے ہیں۔ تو اب اچانک اگر اتنا زیادہ کھا لے تو مر ہی جائے گا اس سے۔ تو وہ یہ ہے کہ وہ اس نے کہا کہ حضرت! اگر دینا ہے تو یہی دے دیں ورنہ میں اور کچھ نہیں لیتا۔ تو انہوں نے کہا، اچھا پھر آؤ۔ تو اپنے ساتھ کمرے میں لے گئے اور پتا نہیں کیا کر دیا، کنڈی پیچھے لگی ہوئی تھی۔ تھوڑی دیر کے بعد جب وہ باہر آئے تو دو باقی باللہ تھے، ایک نہیں تھے، شکلاً۔ ایک تو اصلی تھے اور ایک وہ جو ان کی توجہ سے وہ باقی باللہ بن گئے تھے، باقی باللہ صاحب کی طرح بن گئے تھے، فرق صرف یہ تھا کہ جو اصلی باقی باللہ تھے وہ ہوش میں تھے اور دوسرے بے ہوش تھے۔ ہوش میں نہیں تھے۔ تین دن تک اس حالت میں رہے اور فوت ہو گئے۔ تو حضرت نے فرمایا، بھٹیارا مر گیا۔ لیکن نصیب والا تھا، باقی باللہ بن کر مر گیا۔

تو اب یہ جو چیز ہے، یہ خدمت سے ملی ہے۔ بہت سارے لوگوں کو خدمت سے بہت کچھ مل جاتا ہے۔ لیکن وہ خدمت صحیح sense کے ساتھ۔ یہ نہیں کہ آپ خدمت کا جذبہ تو ہوں لیکن طریقہ نہ آتا ہو۔ بعض دفعہ فائدے کی جگہ نقصان پہنچا دیتے ہیں، مثلاً کوئی آپ کے جوتے لے لے۔ اور رکھ لے کسی جگہ اور پھر چلا جائے آگے پیچھے ہو جائے۔ آپ جب واپس لینے کا وقت ہو تو پتا چلے کہ جوتے کدھر ہیں۔ تو بجائے فائدے کے تکلیف ہو گئی۔ تو اس طریقے سے خدمت کو اگر کسی نے کرنا ہوتا ہے تو اس کا طریقہ بھی سمجھنا چاہیے۔ اور یہ تب ہوتا ہے جب اس کو صحیح انداز میں محبت ہوتی ہے۔ تو وہ پھر یہ ہے کہ وہ ساری چیزیں جان لیتا ہے کہ کس طریقے سے کیا جاتا ہے۔ باقی جو ادب ہے وہ تو میں نے عرض کیا کہ بلکہ میرے خیال میں ادب کو جاننا تو مشکل ہے۔

بے ادبی کو آسانی سے جانا جا سکتا ہے۔ بس بے ادبی نہ کرے کم از کم۔ کیونکہ بے ادبی کو سب لوگ جان لیتے ہیں کہ بے ادبی ہے۔ اس کو بتانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن ادب کو ہر ایک نہیں سمجھ سکتا کہ ادب کیا ہوتا ہے۔ تو کم از کم بے ادبی سے اپنے آپ کو بچائیں۔

سوال 8: حضرت لطائف کا جو ذکر کرتے ہیں اس میں یہ دل کا جاری ہونا لازمی ہوتا ہے یا؟

سوال جواب مجلس نمبر: 1، 9 جنوری، 2012

جواب: اصل میں دل کا جاری ہونا یہ ایک اصطلاح ہے عوام کی۔ مشائخ کی اصطلاح نہیں ہے۔ یہ مشائخ کی اصطلاح نہیں ہے دل کا جاری ہونا۔ یہ عوام کی اصطلاح ہے۔ کیونکہ دل تو ہر وقت انسان کا جاری ہے ہی۔ دھڑک جو رہا ہے۔ کسی وقت رک سکتا ہے؟ لیکن اگر اس کے ساتھ آپ کو ایک چیز مسلسل یاد آنے لگے۔ تو یہ دل کا جاری ہونا اگر اس کو آپ سمجھ سکتے ہیں تو ہے۔ یعنی مثال کے طور پر دیکھیں، کوئی بھی چیز ہو۔ لیکن آپ اس کو associate کر لیں کسی چیز کے ساتھ۔ کہ جب یہ مجھے نظر آ جائے تو اس کا مطلب یہ ہو گا۔ مثلاً ایک آدمی بہت زیادہ درمیان میں جھوٹ بولتا ہے باتوں میں۔ تو اس کو مشائخ کہتے ہیں کہ بھئی اپنے ہاتھ کے اوپر کوئی تار لگا دو، تار وغیرہ۔ اور جس وقت یہ تار آپ کو نظر آ جائے تو فوراً آپ کو پتا چل جائے گا کہ میں تو جھوٹ بولتا ہوں، تو اس وقت آپ رک جانا۔ اب اس کے ساتھ associate کر لیا اس چیز کو۔ تو یہ چیزیں جو ہیں نا اگر یہ association جس کو ہم کہتے ہیں۔ اگر آپ کا دل کے ساتھ ہو گیا۔ تو سبحان اللہ بس ٹھیک ہے جی وہ۔

دوسری یہ بات ہے کہ جو دوسری جگہیں ہیں، جو لطائف ہیں۔ وہاں پر بھی آپ جب تصور کرتے ہیں۔ تو وہاں تصور میں آپ کو حرکت بھی محسوس ہوتی ہے اور پھر بعد میں actually حرکت ہونے بھی لگتی ہے۔ لیکن مقصود وہ نہیں ہے۔ وہ حرکت بھی مقصود نہیں ہے، وہ جو نا مطلب ہے۔ اصل چیز کیا ہے کہ آیا آپ کو اس سے اللہ یاد آتا ہے یا نہیں؟ اور اگر آپ اسی میں مشغول ہو گئے اور اللہ کو بھول گئے، تو پھر تو آپ کے لیے حجاب بن گیا۔ یعنی اگر آپ اسی کے وہ، کہ دیکھو یہ ہو رہا ہے یہ ہو رہا ہے یہ ہو رہا ہے، اور آپ خوش ہو رہے ہو۔ تو یہ تو اللہ کے لیے حجاب بن گیا۔ یہ تو آپ کے لیے ذکر تو نہیں بنا۔ یہ تو حجاب بن گیا۔ تو اس لیے شیخِ کامل کے ساتھ جب تک تعلق ہوتا ہے، تو آدمی کے لیے حجاب نہیں بنتا۔ وہ اس کو صحیح طرف لاتا رہتا ہے۔ ورنہ پھر یہ ہے کہ آدمی اسی میں سیر سپاٹے میں لگا رہتا ہے۔ اور اپنے آپ کو بزرگ بھی سمجھ رہا ہوتا ہے، حالانکہ ابھی تو اس کو الف با بھی حاصل نہیں ہوا ہوتا۔

سائل: آپ نے جیسے یہ فرمایا تھا دل کا مطلب جاری ہونا دھیان اللہ کی طرف۔۔۔

جواب: مطلب یہ ہے کہ آپ کے دل میں اللہ پاک کی یاد آ جائے۔ یعنی یوں سمجھ لیجیے کہ آپ کو اللہ پاک یاد آتا رہے۔ الفاظ کی صورت نہیں، conceptual صورت میں۔ یعنی آپ کو اللہ یاد رہے۔ اس کے ذریعے سے۔ تو یہ اصل ذکر ہے۔ اصل میں جانا بھی اس طرف ہے نا۔ کہ آپ کو بیس منٹ کے لیے اللہ یاد رہتا ہے، ابتداء میں آپ کا بیس منٹ کا مراقبہ ہے۔ پھر اس بیس منٹ کے مراقبے کی وجہ سے تھوڑا سا اور بھی یاد رہنے لگے۔ پھر تھوڑا سا جیسے روشنی بڑھتی ہے نا۔ تو پھیلتی جاتی ہے۔ تو یہ چوبیس گھنٹے پہ محیط ہو جائے۔ کہ آپ کو پھر ہر وقت اللہ یاد آتا ہو۔ یہی اس کو کیفیتِ احسان کہتے ہیں۔

سائل: نیند میں بھی؟

جواب: نیند میں بھی ہو سکتا ہے۔ بالکل ہو سکتا ہے۔

سائل: پھر یہ دنیا کے عام دھیان ذہن میں آتا ہے تو وہ؟

جواب: بالکل سب کچھ ہو سکتا ہے بلکہ اچھا ہو سکتا ہے۔ کیسے ہو سکتا ہے؟ اگر آپ نے دنیا کو اپنی خواہش کے لیے کرنا ہے۔ تو یہ تو حجاب ہے۔ اور اگر آپ اس کو assignment کے طور پہ کریں گے کہ اللہ پاک نے مجھے assignment دیا ہے اور میں اس کو کر رہا ہوں، تو یہ آپ کا ذکر ہے۔ یہی دنیا آپ کا ذکر بن جائے گی۔

سائل: نہیں وہ جو تو کیفیت تھی نا یعنی اندر اللہ کا تعلق، تو بیک وقت یہ دونوں کام یعنی دنیاوی ذمہ داریاں اور۔۔۔

جواب: نہیں دنیاوی ذمہ داریاں اگر آپ اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھ کر کر رہے ہیں تو وہ ذکر بن گیا۔

سائل: وہ آدمی عمل درآمد اس پہ کیسے کر سکتا ہے؟ یعنی ایک طرف ذہن کی سوچ ہے وہ۔

جواب: مولانا اشرف صاحب نے مجھے سکھایا تھا حضرت نے فرمایا اس وقت تمہیں پتا ہے نا کہ تم طالب علم ہو؟ جی بالکل۔ یہ بھی پتا ہے نا کہ پشاور میں ہو؟ جی بالکل یہ بھی پتا ہے۔ اس وقت آپ کو پتا ہے نا کہ میرے سامنے بیٹھے ہو؟ کتنی ساری باتیں آپ کو بیک وقت معلوم ہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟ تو conceptually تو بہت ساری چیزوں کو جمع کیا جا سکتا ہے۔ ہاں جس کو کہتے ہیں نا ایک ایک چیز کو نا جیسے مثال کے طور پر۔ میں اس کی طرف دیکھوں تو میں اس طرف نہیں دیکھ رہا ہوں گا۔ یعنی وہ ایک وقت میں نہیں دو ہو سکتیں۔ لیکن یہ بات ہے کہ جہاں تک یہ conceptually جو چیزیں ہیں یہ تو کئی بھی اکٹھی ہو سکتی ہیں۔

سوال 9: بزرگوں کے لیے جو کھڑا ہونا ہوتا ہے یہ کس طرح ہوتا ہے کیوں کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم تو اس کو ناپسند کرتے تھے؟

سوال جواب مجلس نمبر: 1، 9 جنوری، 2012

جواب: یہ بڑا اچھا سوال کیا آپ نے، ایک اس میں ایک اشکال آتا ہے لوگوں کو۔ لیکن میں آپ کو چند واقعات بتاتا ہوں، یہ اشکال دور ہو جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پہ انصار سے کہا۔ قُومُوا اِلٰى سَيِّدِكُمْ۔ اپنے بڑے کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لا رہے تھے۔ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے لیے کھڑے ہوتے تھے۔ اور فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھڑی ہوتی تھیں۔ یہ تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی طبیعت یہ تھی کہ اپنے لیے ایسا نہیں چاہتے تھے۔

لیکن دوسروں کو نہیں روکتے تھے۔ میں نے کہا خود ہی فرمایا ہے: اپنے سردار کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ اپنے بڑے کے لیے کھڑے ہو جاؤ، تو وہ ممانعت تو نہیں ہوئی۔ ہاں البتہ جس کے لیے کھڑا ہوا جا رہا ہے، اگر وہ خود چاہتا ہو میرے لیے کھڑے ہوں، پھر اس کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔ لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جو نہ تو یہ چاہتے ہیں کہ میرے لیے کھڑے ہوں، نہ کسی کو روکتے ہیں جو ان کے لیے کھڑے ہو جائیں۔ مطلب اس پر ان کا کوئی تبصرہ نہیں ہوتا۔

میں اس کی وجہ بتاتا ہوں، اس کی وجہ بھی ہوتی ہے۔ مثلاً مجھے پتا ہے کہ میں چاہے کتنا زور لگا دوں میں کسی کو اپنے سے آگے کرنا چاہوں جو میرے ساتھی ہیں، کوئی مجھ سے آگے نہیں ہوتا۔ اب خوامخواہ میں لڑائیوں میں کیوں وقت گزاروں؟ جب مجھے پتا ہے کہ کوئی آگے نہیں ہوتا تو پھر چلو میں آگے۔ وقت کیوں ضائع کر دوں؟ اس طریقے سے اگر کسی کو یہ پتا ہو یعنی اس کی وجہ سے نہیں کہ میں بڑا ہوں بلکہ یہ ہے کہ اب لوگ ان کو جو سمجھتے ہیں اس کی وجہ سے ان کو تکلیف ہو جاتی ہے اگر میں خوامخواہ ان کی اس بات کو نہیں، تو ان کو تکلیف ہو جاتی ہے، ان کے لیے وہ کرنا بڑا مشکل ہو جاتا ہے، حجاب ہو جاتا ہے۔ تو ان کو اس تکلیف سے بچانے کے لیے اگر آدمی اس کی اجازت دے دے تو یہ اس میں نہیں آئے گا کہ اپنے لیے کھڑے ہونے کو پسند کرتے ہوں۔ ٹھیک ہے نا؟ طبیعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی تھی کہ خود اپنے لیے کھڑے ہونے کو پسند نہیں فرماتے تھے عام طور پر۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو نہیں روکا۔ عام طور پر۔ لیکن یہ بات ہے کہ دوسروں کو بھی روکا نہیں۔

سوال 10: تو کیا بزرگوں کو شعائر اللہ سمجھ کر ہم کہ سکتے ہیں کہ یہ شعائر اللہ کی تعظیم ہے؟

سوال جواب مجلس نمبر: 1، 9 جنوری، 2012

جواب: اولیاء اللہ ہیں نا۔ آپ اگر ان کو اولیاء اللہ سمجھتے ہیں۔ یہ آپ کی سمجھ پر موقوف ہے نا۔ ہیں یا نہیں، وہ تو اللہ کو پتا ہے نا۔ اس کے بارے میں کون کہہ سکتا ہے کہ کون ہے اور کون نہیں ہے۔ یہ تو اللہ کو پتا ہوتا ہے۔ لیکن آپ تو ان کو اولیاء اللہ میں سے سمجھتے ہیں نا۔ تو اولیاء اللہ، اللہ تعالیٰ کے وہ نہیں ہوئے؟ نسبت تو ہو گئی نا۔

سوال 11: یہ جو دھیان اللہ کی طرف لگ جائے کسی طرح نا، مبتدی کا یا طالب علم کا، اس کے لیے اللہ کی طرف سے اس کے اوپر حالات بھی مطلب طاری ہوتے ہوں گے یا لائے جاتے ہوں گے، یہ کیسے پتا چلے کہ اللہ کی طرف سے ہے؟

سوال جواب مجلس نمبر: 1، 9 جنوری، 2012

جواب: بس اصل میں یہ تو ایک لمبا process ہے۔ ایک دو دن کی بات نہیں ہوتی۔ اور اس میں پیاز کے چھلکوں کی طرح معاملہ ہوتا ہے۔ کہ ایک چھلکا اترتا ہے تو نیچے سے پورا ایک پیاز برآمد ہوتا ہے۔ پھر اس کا چھلکا اترتا ہے تو پھر ایک اور پیاز برآمد ہوتا ہے۔ پھر وہ چھلکا اترتا ہے تو پھر ایک اور پیاز برآمد ہوتا ہے۔ تو اسی طریقے سے یہ تصوف کا جو معاملہ ہے کہ آپ کو جتنا جتنا پتا چلتا ہے اس کے اندر کچھ اور نکل آتا ہے کہ پھر اس کا پتا چلنا ہوتا ہے۔ تو یہ سلسلہ ever progressing ہوتا ہے۔ اس وجہ سے اس میں اصولی بات یہی ہے کہ اپنے شیخ کے ساتھ تعلق رکھیں۔ اور ان کو بتاتے رہیں۔ وہ جیسے بتا رہے ہیں اس طرح کرتے رہیں۔ جیسے میں نے ایک دفعہ کچھ باتیں کیں، حضرت نے فرمایا بھئی یہ راستے کے کھیل تماشے ہیں، چھوڑ دو۔ بس ٹھیک ہے، اب ظاہر ہے بچا دیا حضرت نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے، ورنہ میں کشفیات میں اور پتا نہیں کن کن چیزوں میں پڑ جاتا۔ تو یہ چیزیں ہوتی ہیں مطلب۔ جو صحیح مشائخ ہوتے ہیں وہ اس کے side effects سے بچاتے رہتے ہیں۔

اس لیے کہتے ہیں: ساقی پلا دے پھول تو کانٹا نکال کے
مطلب یہ ہے کہ وہ ذرا اس کے جو side effects ہوتے ہیں ان سے بچا لیتے ہیں۔

سوال 12: خلافت جو دیتے ہیں مشائخ، اس کی حقیقت کیا ہے؟ یہ اس شخص کی اصلاح ہو گئی ہوتی ہے یا ایک trust ہوتا ہے؟

سوال جواب مجلس نمبر: 1، 9 جنوری، 2012

جواب: مشکل سوال ہے، سمجھنے کے لحاظ سے، جواب دینے کے لحاظ سے نہیں۔ اصل میں خلافت جو ہے یہ نسبت کی اطلاع ہے۔ اس کی ایسی مثال ہے جیسے درسیات سے کوئی آدمی فارغ ہو جائے تو اس کو certificate دیا جاتا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اب یہ عالم ہو گیا۔ بلکہ اس کا مطلب ہے کہ اب اگر ڈھنگ کا مطالعہ کرے گا کچھ اپنے طور پہ، تو اتنا سمجھ میں آ گیا اس کو کہ اب یہ عالم بن جائے گا۔ مطلب اگر جاری رکھے گا۔ تو اس طرح جو خلیفہ جس کو ہم کہتے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اب وہ اس حد تک ہو گیا کہ اب وہ کام جاری رکھے گا تو ان شاء اللہ اپنے مقصد کو حاصل کر لے گا۔ اس کے اوپر اتنا اعتماد آ گیا۔ وہ فتنے کے دور سے ان شیخ کے اجتہاد کے مطابق نکل گیا۔ اجتہاد غلط بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن مطلب یہ ہے کہ اس شیخ کے اجتہاد میں وہ اس فتنے سے نکل گیا۔ اب وہ اگر کام کرنا چاہے گا تو ان شاء اللہ اس کا وہ فائدہ ہو گا۔ لیکن یہ بات نہیں ہے، اگر اس طرح ہو تو پھر تو ہر خلیفہ کو آپ نے کند چھری سے ذبح کر دیا۔ یعنی اگر آپ نے اس کو یہ بتا دیا کہ بس اب تو ولی اللہ ہو گئے، اب آپ کو؟ تو وہ تو آپ نے کند چھری سے اس کو ذبح کر دیا۔ تو یہ ایسا نہیں ہوتا۔ اس وجہ سے میں نے کہا کہ سمجھنے کے لحاظ سے مشکل بات ہے۔

بلکہ اللہ کی شان کہ جن کو اللہ یہ چیز دے دیتے ہیں نا، ان پہ اپنے عجز کو ایسا طاری کر دیتے ہیں۔ کہ ان کو لوگ قسمیں کھا کھا کر بھی اگر بزرگ کہیں نا تو کہتے ہیں تم کیا بیوقوف آدمی ہو، کیا کہہ رہے ہو۔ وہ اس پر حیران ہوتے ہیں بھئی لوگ مجھے بزرگ کیوں کہہ رہے ہیں۔ میں تو ایسا ہوں، میں تو ایسا ہوں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حفاظت کا ایک انتظام ہونے لگتا ہے۔

سوال 13: بعض اوقات میں نے یہ سنا کہ بزرگوں نے کہا کہ اس شخص میں استعداد ہے اگر محنت کرے تو۔

سوال جواب مجلس نمبر: 1، 9 جنوری، 2012

جواب: بس وہی والی بات ہے۔

سوال 14: اب ایک بندہ ہے جو کہ جس کی نیت بلکل ٹھیک ہے اور وہ اللہ تعالیٰ تک پہنچا رہا ہے۔ اور ایک طرف وہ بندہ ہے جس کے بارے میں کوئی کہہ رہا ہے کہ اس میں استعداد ہے۔ دونوں میں کیا فرق ہے؟ کیا صرف نیت کا درست ہونا ہے؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ تو دل کو دیکھتے ہیں۔ کیا یہی استعداد ہے یا دونوں میں فرق ہے؟

سوال جواب مجلس نمبر: 1، 9 جنوری، 2012

جواب: نیت کا درست ہونے کا پتا بھی تب چلتا ہے جب اس میں استعداد ظاہر ہو جاتی ہے نا۔ ورنہ انسان بعض دفعہ اپنی نیت کو درست سمجھتا ہے لیکن درست ہوتی نہیں ہے۔ اس کا ابھی امتحان نہیں ہو چکا ہوتا۔ یعنی ابھی اس کا امتحان باقی ہوتا ہے۔ مثلاً بہت سارے لوگ ہیں جب تک ان کو ذکر فکر سے دنیاوی چیزوں کے فائدے حاصل ہو رہے ہوتے ہیں تو کر رہے ہوتے ہیں۔ اور جب وہ چیزیں بند ہو جائیں مثلاً مزہ آنا بند ہو گیا یا کچھ اس طرح، تو چھوڑ دیتے ہیں۔ تو اس کا مطلب واضح ہے کہ مزے کے لیے کر رہے تھے نا، وہ اللہ کے لیے تو نہیں کر رہے تھے۔ امتحان میں فیل ہو گیا۔ ٹھیک ہے نا؟ تو اس طرح بہت سارے ٹیسٹ ہیں۔ یہ تو میں نے صرف ایک ٹیسٹ کا بتا دیا۔ تو کسی کی نیت کے بارے میں سو فیصد بات پہلے نہیں کی جا سکتی جب تک اس کا ٹیسٹ نہ لیا جائے۔ اور ٹیسٹ من جانب اللہ arrange ہوتے رہتے ہیں۔

تو شیخ جب کسی کو کہتا ہے نا کہ اس میں استعداد ہے تو وہ ان سارے ٹیسٹوں سے گزر چکا ہوتا ہے۔ اس پر پھر شیخ کے اجتہاد میں وہ شخص اس قابل ہے کہ اس کو یہ چیز دے دی جائے۔ اب اس کو کوئی یہ کہے گا کہ تو بزرگ ہے، اس کو نقصان نہیں ہو گا۔ یعنی اس میں اتنی استعداد ہے کہ وہ بچ جائے گا اس وار سے۔ یہ وار بڑا خطرناک ہے۔ بہت خطرناک وار ہے، بہت خطرناک وار ہے۔ آسان بات نہیں ہے کسی کو کوئی بزرگ کہہ دے اور وہ بچ جائے۔ بہت مشکل کام ہے۔ لیکن اگر اللہ تعالیٰ نے اس کو قبول کیا ہوا ہے اور یہ چیز اس کو دی ہے اور یہ استعداد اس کے پاس ہے۔ تو اس کو بے شک لوگ قسمیں کھا کھا کر کہیں کہ تو بزرگ ہے نا، وہ کہے گا یار تم کیا بیوقوف آدمی ہو۔ کیا کہہ رہے ہو؟ مجھے اپنے آپ کا پتا ہے، یا تمہیں میرا پتا ہے۔ تو یہ، یہ چیز جو ہوتی ہے یہ استعداد ہوتی ہے۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ اَللّٰهُمَّ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ وَصَلَّى اللّٰهُ تَعَالَى عَلَى خَيْرِ خَلْقِهِ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ۔