مکائد شیطان (حصہ دوم)

مکائد شیطان: اشاعت اول: 10 نومبر، 2007، بمطابق: 29 شوال، 1428 ھ

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

قلب اور نفس کا فرق اور مجاہدے کے ذریعے نفس کی تربیت

مسنون مجاہدات (جیسے روزہ) کی حقیقت اور ضرورت

علاجی اور عملی مجاہدے کے درجات اور ان کی مثالیں

روحانی بیماریاں اور معالج (شیخ) کے ذریعے اصلاحِ نفس کی اہمیت

عقائد پر شیطان کے حملے اور توحید و تعظیم کے مفہوم میں بگاڑ

نفس اور شیطان کے گناہوں میں فرق اور غیر تربیت یافتہ ”صاحبزادگی“ کا فتنہ

الحمد للہ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ وَٱلصَّلَاةُ وَٱلسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ ٱلنَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِٱللَّهِ مِنَ ٱلشَّيْطَانِ ٱلرَّجِيمِ، بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ۔

گزشتہ سے پیوستہ

تو نفس کی تربیت جو ہے یہ بذات خود الگ مقصود ہے۔ لہٰذا قرآن پاک میں نفس اور قلب، اور دونوں کے علیحدہ علیحدہ ذکر ہیں۔ یہ ایک نہیں ہیں۔

تو قلب کے لیے تو یہ فرمایا ﴿إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَذِكْرَىٰ لِمَن كَانَ لَهُۥ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَى ٱلسَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ﴾۔ یا یہ فرمایا ﴿يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ ۝ إِلَّا مَنْ أَتَى ٱللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ﴾۔ اس طریقے سے قلوب کے بارے میں اور ما شاء اللہ بہت زیادہ قرآن پاک موجود ہے اور احادیث شریفہ بھی موجود ہیں، بالکل واضح واضح۔ لیکن ساتھ ساتھ نفس کا علیحدہ ذکر ہے۔ تو یہی بات ہے کہ نفس کی بھی تربیت کرنی چاہیے، نفس کو خوگر بنانا صحیح کاموں کا، مجاہدے کے ذریعے سے۔

اب مثال کے طور پر ایک شخص ہے۔ وہ فجر کی نماز پڑھنے کا عادی نہیں ہے۔ فجر کی نماز پڑھنے کا عادی نہیں۔ اب اس کو فجر کی نماز کے لیے اگر ہم کہتے ہیں، تو نہیں اٹھ سکتا، وہ کہتا ہے میں کیا کروں جی میں الارم لگاتا ہوں لیکن اٹھ ہی نہیں سکتا۔ اور یہ ہو جاتا ہے، وہ ہو جاتا ہے۔ تو میں نہیں اٹھ سکتا۔ بے شک اس کا دل چاہے بھی لیکن نہیں اٹھ سکتا۔ اب آپ اس کو کسی طریقے سے اٹھا دیں ایک دفعہ، منت سماجت کے ذریعے سے، کسی بھی طریقے سے آپ اس کو اٹھا دیں۔ تو اب اگر دوسرے دن اٹھنا ہوگا تو اس اٹھنے کے لیے جتنی کوشش کی ضرورت تھی، اتنی نہیں ہوگی، تھوڑی سی کم ہو جائے گی۔ اور دو دن اگر کر لے گا تو تیسرے دن اس سے بھی کم ہو جائے گی۔ تین دن کر لے گا تو چوتھے دن اس سے بھی کم ہو جائے گی۔ چوتھے دن کر لے گا تو پانچویں دن اس سے بھی کم ہو جائے گی۔ اور تجربہ یہ ہوا ہے کہ چالیس دن تک اگر کر لے گا تو یہ نمازی ہو جائے گا۔ اس کے بعد پھر نماز چھوڑنا اس کے لیے مشکل ہو گا۔ تو اب انسان تو وہی ہے۔ لیکن پہلے ایک کام مشکل تھا اب مشکل اب آسان ہو گیا۔ تو اس کا مطلب ہے کہ نفس کو مجاہدے سے tame کیا جا سکتا ہے۔ یعنی وہ چیز جو کہ اس کے لیے بڑی مشکل تھی۔ وہ اب آسان ہو گئی۔

تو نفس کی اصلاح ہے اس کی مخالفت میں۔ اس کی نہ ماننے میں۔ اگر اس کی بات کوئی مانے گا تو وہ مزید وہ شیر ہوتا جائے گا۔ مزید یہ ہے کہ وہ وہ آگے بڑھتا جائے گا۔ تو ایسی صورت میں نفس کی تربیت کے لیے مجاہدہ ضروری ہے۔

اور مجاہدے کی مثال ایسی ہے کہ جیسے یہ کاغذ ہے۔ اگر یہ کاغذ، ہم اس طرح فولڈ کر لیں۔ اس طرح فولڈ کر لیں۔ اب فولڈ ہو گیا، اب یہ ہے کہ، مکمل سیدھا نہیں ہو سکتا۔ ہم نے کھول دیا، لیکن مکمل سیدھا نہیں، پھر اس کو دوسری سمت میں اس کو فولڈ کرنا پڑتا ہے، پھر یہ سیدھا ہو سکے گا۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ، نفس کو ٹھیک کرنے کے لیے صرف اتنا مجاہدہ کافی نہیں ہے جو اس کام کرنے کے لیے ضروری ہے۔ بلکہ اس سے زیادہ کی ضرورت ہے۔ اور اصل میں کہتے اسی کو مجاہدہ ہے۔ جس کو تصوف میں مجاہدہ کہتے ہیں وہ یہی چیز ہے۔ یعنی اس level سے زیادہ کا مجاہدہ۔

مثلاً آپ کو چاہیے کہ جھوٹ نہ بولیں، غیبت نہ کریں۔ غیبت بولنے کی خواہش کو دبانا، جھوٹ بولنے کی خواہش کو دبانا، یہ آپ سے مقصود ہے۔ لیکن اگر آپ خاموش رہنا نہیں سیکھیں گے نا، بالکل خاموش رہنا، تو اس پہ قادر نہیں ہو سکیں گے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ روانی میں انسان جھوٹ بھی بول لیتا ہے، انسان غیبت بھی کر لیتا ہے۔ لیکن اگر یہ کچھ عرصے تک خاموش رہنا سیکھ لے گا، تو اس پراپرٹی کو پھر وہ استعمال کرے گا جب جھوٹ بولنے کی بات آئے گی اور اس وقت خاموش ہو جائے گا۔ وہ سیکھ تو چکا ہے، خاموش تو رہ سکتا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ یعنی نفس کو ٹھیک کرنے کے لیے اس سے زیادہ کے مجاہدے کی ضرورت ہے۔ جو مطلوب چیز ہے اس سے زیادہ کی۔

یہ وہ چیز ہے جو عام لوگوں کو سمجھ میں نہیں آتی۔ اور صوفیاء کو سمجھ میں آتی ہے۔ کیونکہ صوفیاء عملی لوگ ہیں۔ عام لوگ کہتے ہیں بس ٹھیک ہے نا نماز پڑھو نا تمہیں کس نے روکا ہے؟ تو ہم بھی کہتے ہیں نا پڑھو نا تمہیں کس نے روکا ہے پڑھ لو، پڑھ کے دکھا دو۔ ہم آپ سے کچھ بھی نہیں کہیں گے۔ مطلب جو problem ہے وہ تو پریکٹیکل ہے نا۔ سارے لوگ علمی طور پر جانتے ہیں کہ جھوٹ بولنا برا ہے، غیبت کرنا برا ہے۔ بد نظری کرنا برا ہے، ملاوٹ کرنا برا ہے۔ دھوکہ کرنا برا ہے، کسی کا ناحق مال کھانا برا ہے۔ یہ سب لوگ جانتے ہیں علما، علمی طور پر کسی کو اشکال نہیں۔ لیکن کثیر خلق اس کے اندر مبتلا ہے اور وہ اس کو جانتا ہے۔ تو اگر ہم کہہ دیں نہیں بس ٹھیک ہو جاؤ۔ تو پھر ہو جاؤ۔ اگر ایسی بات ممکن ہے تو ہو جاؤ۔

عملی جواب اس کا دوسرا ہے۔ عملی جواب یہ ہے کہ ہمارے پاس تو ایسے لوگ آتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں حضرت ہم تو پوری کوشش کر رہے ہیں لیکن نہیں ہو رہا کیا کریں؟ کیا کریں؟ تو کیا ہم کہیں کہ ہم رونا شروع کر لیں، ہم بھی ساتھ ہی رونا شروع کر لیں۔ کوئی طریقہ تو بتانا پڑے گا نا۔ تو وہ طریقہ مجاہدے کا ہے۔ بغیر مجاہدے کے انسان کا نفس سیدھا نہیں ہوتا۔

مسنون مجاہدے بھی ہیں۔ مسنون مجاہدے بھی ہیں۔ لیکن ایک ہوتے ہیں کچھ لوگ جو کہتے ہیں بس اتنا تک ہے۔ اور دوسرے جو عملی لوگ ہیں وہ کہتے ہیں اس سے ہمیں پتہ چل گیا کہ ایک طریقہ ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟ مسنون مجاہدوں میں کیا ہے؟ مثلاً روزہ مسنون مجاہدہ ہے۔ ﴿يَا أَيُّهَا ٱلَّذِينَ آمَنُواْ كُتِبَ عَلَيْكُمُ ٱلصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾۔ اللہ پاک علت بیان کر رہے ہیں۔ حالانکہ علت بیان کرنا اللہ پاک کی ذمہ داری تو نہیں۔ اللہ پاک اس میں علت، اب علت جو بیان کی ہے تو اس میں کوئی حکمت ہے نا کہ لوگ سمجھ جائیں۔ اے ایمان والو تمہارے اوپر رمضان شریف کے روزے فرض کیے گئے جیسے تم سے پہلوں کے اوپر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ حاصل کر لو۔ اب تقویٰ حاصل کرنا تو ہے، کیونکہ ﴿أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ ٱللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ۝ ٱلَّذِينَ آمَنُواْ وَكَانُواْ يَتَّقُونَ﴾۔ ﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ ٱللَّهِ أَتْقَاكُمْ﴾۔ اور اس طرح اور بھی تقویٰ کے بارے میں بہت زیادہ آیات مبارکہ ہیں۔ اب تقویٰ کو حاصل کرنا تو ہے لیکن کیسے حاصل کریں؟ تو ایک طریقہ اللہ پاک نے روزے کا بتا دیا۔ روزے کا طریقہ بتا دیا۔ اب روزہ مجاہدہ ہے۔ اور مجاہدہ عمل کرنے کے لیے جتنی ضرورت ہے اس سے زیادہ کا ہے۔ مثلاً آپ ٹھیک ہے جائز چیز ہے مطلب کھانا پینا، وہ ساری چیزیں جو جائز ہیں۔ وہ روک دی گئی ہیں وہاں صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک، روک دی گئیں۔ نہیں کرنا۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس سے انڈیکیشن ہو گئی کہ مجاہدہ جو ہے یہ کیا جا سکتا ہے اور مجاہدہ کرنا چاہیے۔ مجاہدہ کرنا چاہیے۔

تو مشائخ کرام جو مجاہدات کرواتے ہیں وہ اسی ببنیاد پر کرواتے ہیں کہ جس وقت یہ اس مجاہدے کی وجہ سے ان کا نفس ماننا سیکھ لے گا۔ تو پھر اس سے مجاہدہ ہٹا دیا جائے گا۔ وہ جو مطلوب مجاہدہ ہے وہ رہ جائے گا اور جو علاجاً مجاہدہ ہے اس کو ہٹا دیا جائے گا۔

مثلاً ایک شخص ہے، اس کی food poisoning ہو گئی ہے۔ تو اس کو ڈاکٹر صاحب کیا کہیں گے؟ کچھ تو دوائی دے گا کچھ ساتھ کچھ کیا کہے گا؟ ڈاکٹر اس کو پرہیزی علاج رکھے گا جب تک واپس normal نہ آ جائے۔

جب تک normal نہ آ جائے، پرہیزی علاج کرے گا۔ ٹھیک ہے نا؟ Normal روٹی نہیں کھا سکتا۔ حالانکہ کون سی medical کتاب میں لکھا ہے کہ بھئی normal روٹی نہیں کھاؤ؟ وہ تو ضرورتاً ہے۔ جب تک وہ ٹھیک نہیں ہے تو اس وقت تک normal روٹی نہیں کھا سکتا۔ جب ٹھیک ہو جائے گا تو پھر normal روٹی کھانا شروع کر دے گا۔ تو اس وقت بھی ایک مجاہدہ تو برقرار ہو گا نا کہ خراب چیز نہ کھاؤ۔ وہ مجاہدہ تو ہو گا نا۔ اب سخت بھوک لگی ہوئی ہے۔ اوہو۔ سخت بھوک لگی ہوئی ہے۔ لیکن مجھے پتا ہے کہ میں جو چاول کھا رہا ہوں اس کے اندر ایسی چیز شامل ہے جو کہ میری صحت کے لیے مضر ہے۔ میرے لیے تو خیر یہ آسان ہے سمجھنا، پتا نہیں آپ لوگوں کے لیے سمجھنا آسان ہے یا نہیں۔ مثلاً مرچ اس میں پڑی ہوئی ہے کہ میں تو نہیں کھاؤں گا۔ میرے لیے تو اس وقت مجاہدہ کرنا زیادہ بہتر ہے نا کہ میں نہ کھاؤں اس کو۔ کیوں کھاؤں گا تو ایک ہفتے کے لیے میرا مسئلہ شروع ہو جائے گا۔ تو اب یہ بات ہے کہ ظاہر ہے مجھ، میرے لیے اس وقت وہ مجاہدہ آسان ہے نا۔ کہ میں اس کو نہ کھاؤں۔ کیوں؟ کھاؤں گا تو پھر مجھے زیادہ کرنا پڑے گا۔ تو یہ جو بات ہے کہ یہ جو مجاہدہ ہے۔ ضرورت کا مجاہدہ تو ہر وقت ہے کہ اپنے آپ کو مضر چیزوں سے بچاؤ۔ مثلاً غیر محرم آ رہا ہے، نہیں دیکھنا، یہ مجاہدہ لازم ہے۔ اتنا مجاہدہ تو ہر ایک کے لیے ضروری ہے پھر بھی۔ ٹھیک بھی ہو جائے۔ ہاں کہ وہ پھر ایسے کام نہ کرے جس سے وہ۔ لیکن اگر غلطی ہو جائے اور پھر اس کی وجہ سے بیمار ہو جائے تو پھر وہ۔ علاجی مجاہدہ پھر شروع ہو جائے گا۔ اور علاجی مجاہدہ اس کو اس وقت تک کرنا پڑے گا جب تک وہ ٹھیک نہ ہو جائے۔

تو ایک علاجی مجاہدہ ہے اور ایک ہے working مجاہدہ۔ یعنی عملی مجاہدہ جو عام انسان کو پیش آتا ہے۔ تو وہ تو ٹھیک ہے لیکن جو علاجی مجاہدہ ہے یہ اس وقت ہو گا جب اس کی ضرورت ہو گی۔ اب کمال کی بات یہ ہے یہاں پر ایک مشکل چیز ہے۔ یہاں پر مشکل چیز یہ ہے کہ یہاں تو بیماری نظر آ جاتی ہے۔ میرا پیٹ خراب ہے۔ ٹھیک ہے نا، لہٰذا ڈاکٹر کے پاس جاؤں گا۔ لیکن کوئی ایسی بیماری ہو جس کو مریض بیماری نہ جانتا ہو۔ اور اس کا معالج جانتا ہو۔ کہ یہ تو بہت سخت بیماری ہے اس کے تو آگے یہ یہ مسائل ہوں گے۔ تو ایسی صورت میں کیا کرنا پڑے گا؟ کیا کرنا پڑے گا ڈاکٹر صاحب؟ پہلے convince کرنا پڑے گا۔ پہلے convince کرنا پڑے گا کہ تم بیمار ہو۔ تم بیمار ہو۔ Schizophrenia کا مریض جو ہوتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو مریض سمجھتا ہے؟ وہ کہتا ہے سارے بیمار ہیں۔ وہ سب کو بیمار سمجھتا ہے۔ اپنے آپ کو صحت مند سمجھتا ہے۔

تو اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ ہماری جو روحانی بیماریاں ہیں اس قسم کی ہوتی ہیں۔ اگر دل تھوڑا سا صحیح ہو نا، تھوڑا سا صحیح ہو۔ تو اس کو تو اپنی بیماری کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر بالکل ہی بگڑا ہوا ہو تو اس کو بیماری بیماری ہی نظر نہیں آئے گی۔ اس لیے کہتے ہیں کہ جس کا full hundred percent تکبر ہو نا وہ کبھی بھی اپنے آپ کو متکبر نہیں سمجھے گا۔ بلکہ ان تمام چیزوں کو اپنے rights سمجھے گا۔ اور اسے حیرانی ہو گی کہ لوگ مانتے کیوں نہیں۔ کہ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، دیکھیں میرے ساتھ سیدھی سادی بات ان کو سمجھ نہیں آ رہی۔ کہ ان کو ایسا کرنا چاہیے۔ حالانکہ اگر وہ تھوڑی دیر کے لیے عقلاً بھی سوچ لے کہ بھئی باقی بھی تو انسان ہیں۔ تم کیا کوئی آسمان سے اتری ہوئی مخلوق ہو؟ جیسے تمہارے rights ہیں اس طرح دوسروں کے بھی rights ہیں۔ مثال کے طور پر ایک آدمی ہے، کمی ہے۔ کمی سے مراد یہ ہے کہ وہ بیچارے کا معاشرے کے اندر کوئی value نہیں ہے۔ اب ایک چوہدری صاحب یا خان صاحب۔ کوئی وڈیرہ۔ کوئی بڑے post والا آدمی۔ ہاں وہ گزر رہا ہو اور وہ کمی گزر رہا ہو اس کو کہے گا اوئے فلانے ادھر آ جاؤ۔ اچھا وہ دوڑا دوڑا آ جائے گا، یہ کام، یہ لے لو، فلاں اس کو پہنچا دو۔ نہ پیسے طے کیے کہ میں آپ کو اس کے پیسے دوں گا۔ نہ اس کا شکریہ ادا کیا۔ بلکہ اس کو دھمکایا۔ اور اگر وہ بات نہیں مانتا تو اس کا مخالف ہو جاتا ہے، مجھے بتاو اس وقت اس کی مخالفت کی گنجائش ہو۔ اس نے اس کا کون سا حق توڑا ہے۔ اس کا اس پر کوئی حق تو نہیں۔ بالکل یہ جیسے پولیس والے لوگ کرتے ہیں۔ مطلب جو officials ہوتے ہیں مطلب جن کا public dealing میں چلتی ہے بات، تو وہ اس طرح کرتے ہیں، بیگار میں لوگوں کو پکڑتے ہیں۔ یہ گاڑیاں نہیں پکڑتے؟ اور جو بھاگتے ہیں تو ان کو بس سزا دیتے ہیں۔ بھئی تمہارا کیا قصور تھا، اپنی گاڑی بچائے نا۔ لیکن نہیں وہ بات نہیں مانے گا وہ کہے گا جی دیکھیں نا اس نے میری بات نہیں مانی۔ تو وہ وہی والی بات، میرے سامنے کئی واقعات اس طرح ہوئے ہیں اس وجہ سے میں بات کرتا ہوں۔ یہ پولیس والے جس طرح کرتے کرتے ہیں۔ ایک چنگے بھلے آدمی کو پکڑ کر اس کو تھپڑ لگا دیں گے اور اگر اس نے جواب دیا، کہتے ہیں مقابلہ پولیس۔ اس کے اوپر دفعہ لگا دیں گے مقابلہ پولیس کا۔ تو یہ سارے تکبر کی وجہ سے ہے نشے کی وجہ سے ہے۔ جیسے ہوتا ہے نا شراب کا نشہ، اس طرح طاقت کا بھی نشہ ہوتا ہے۔ مال کا بھی نشہ ہوتا ہے۔ اور اس نشے کی حالت میں وہ normal نہیں ہوتا کہ اس کو بات سمجھ آئے کہ میں کر کیا رہا ہوں۔ وہ اپنے آپ کو justified سمجھے گا۔

تو یہی بات ہے کہ انسان بعض دفعہ ایسا بیمار ہو جاتا ہے کہ اس کو اپنی بیماری نظر نہیں آتی۔ اس وقت سب سے بڑا کام یہ ہوتا ہے کہ اس کو یہ سمجھائے کہ تم بیمار ہو۔

مجھے ایک بی بی کا فون آیا، بہاولپور سے آیا تھا کافی عرصہ ہوا ہے۔ اس کی مثال اکثر میں دیا کرتا ہوں۔ مجھے کہا کہ میرے دو مسئلے ہیں۔ اس کا بتا دیں، وہ مسئلے اس نے بتا دیے۔ میں نے کہا اس کے علاوہ آپ کا کوئی مسئلہ ہے؟ کہتی ہے نہیں کوئی نہیں ہے۔ میں نے کہا نہیں، ہے، آپ بھول رہی ہیں۔ اب وہ بڑی confuse ہو گئی کہتی ہے کوئی بزرگ آدمی ہے، پتا نہیں کوئی چیز میری ایسی ہے کہ جو کہ اس کو معلوم ہے۔ اور مجھے یاد نہیں آ رہا۔ تو confuse ہو گئی، میں نے کہا بی بی، آخرت سے آپ کے پاس کوئی letter آ گیا ہے کہ آپ وہاں کامیاب ہو چکی ہیں؟ یعنی وہاں پر آپ کو کوئی مسئلہ نہیں پڑے گا۔ اس کا تو آپ کو پتا ہے نا۔ اس کو فوراً پتا چل گیا اوہو یہ تو واقعی، یہ تو میں نے آخرت کے بارے میں تو اس سے کچھ کہا نہیں۔ میں نے کہا بی بی اگر آپ کو آخرت کے مسئلے کے ساتھ دلچسپی نہیں۔ تو آپ نے غلط آدمی کو فون کر دیا۔ میں وہ آدمی نہیں ہوں جو اس قسم کے مسائل حل کرتا ہے۔ تو اگر آپ کو اس کے ساتھ دلچسپی ہے تو پھر ٹھیک ہے میں خدمت کے لیے حاضر ہوں، میں آپ کی کچھ خدمت کر سکتا ہوں۔ لیکن یہ جو مسائل آپ مجھے بتا رہی ہیں یہ تو، اس کا تو میں نہیں ہوں۔ تو اب دیکھ لیں اب اس بیچاری کو پہلے سمجھ لیں نا کہ میں کیوں اس طرح کہہ رہا ہوں۔ ٹھیک ہے نا، ورنہ اس کو مسئلہ سمجھ نہیں آئے گا۔ تو یہی بات ہوتی ہے کہ سب سے پہلے تو سمجھانا ہوتا ہے کہ بیمار ہو، تمہیں ضرورت ہے، تمہیں یہ کام کرنا چاہیے۔ اس قسم کی بات تو بہت سارا، یہ وعظ و نصیحت کا جو domain ہے وہ یہی ہے۔ کہ وہ پہلے یہ چیز سمجھا دی جائے۔

پھر اس کے بعد علاج ہوتا ہے، تو علاج پھر تقریروں سے نہیں ہوا کرتا۔ کیا خیال ہے، تقریروں سے ہوتا ہے؟ ڈاکٹر صاحب کے ہاں بیٹھ کے تقریریں کر لیا کریں تو ان کا علاج ہو جائے گا۔ بہت اچھی اچھی مثالیں ہیں۔ مطلب جیسے ڈاکٹر تقریروں سے کسی کا علاج نہیں کرتا، اس کو میڈیسن بھی دیتے ہیں۔ اس کو پھر طریقہ بھی بتاتے ہیں اس طرح کرنے کا۔ اور اس میں ان کا باقاعدہ اس کا خیال رکھتے ہیں۔ تو تقریر تو صرف اس لیے کہ اس کو سمجھا دیا جائے کہ دوائی کھانی ہے آپ نے۔ ٹھیک ہے نا مطلب اس پہ بات کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر وہ دوائی نہ کھائے اور اٹھ کے ڈاکٹر صاحب کے پاس آ جائے ایک ہفتے کے بعد اور بہت معافیاں مانگے ڈاکٹر صاحب سے کہ ڈاکٹر صاحب معافی چاہتا ہوں میں نے وہ دوائی نہیں کھائی۔ تو اس وقت ڈاکٹر صاحب کیا کہے گا؟ اگر ڈاکٹر صاحب اس کو معاف کر دے تو کیا خیال ہے بغیر دوائی کھائے اس کا کام ہو جائے گا؟ بس یہی بات ہے۔ یہ موٹی موٹی باتیں ہیں لیکن ہمیں نہیں سمجھ میں آتیں۔

اب اگر اصلاح نفس کی بات اس میں کوئی کرے تو لوگ آ کر کہتے ہیں بس معافی سے سارا کام ہو جائے گا۔ معافی سے سارے کام نہیں ہوتے۔ معافی مانگنے سے گناہ معاف ہو جاتا ہے۔ اصلاح نہیں ہوتی۔ یہ بھی ایک نئی بات سمجھ میں آ گئی۔ معافی مانگنے سے گناہ معاف ہو جاتا ہے، اصلاح نہیں ہوتی۔ یہ بھی ایک نئی بات سمجھ میں آ گئی ہے۔ معافی مانگنے سے گناہ معاف ہو جاتا ہے، اصلاح نہیں ہوتی۔ اصلاح کروانے کے لیے کچھ کرنا پڑتا ہے۔ اور وہ دو چیزیں ہیں: کہ دل کے اوپر محنت کرو تاکہ عقل آئے، سمجھ آ جائے، نظر آ جائے کہ کون سی چیز حق ہے کون سی چیز حق نہیں ہے۔ اور ہدایت کے راستوں کو پہچان لو اور وہاں جو ہدایت ہے اس کو حاصل کر لو۔ یہ تو ہے دل کی محنت۔ اور نفس کی محنت یہ ہے کہ جو رکاوٹ ڈالتا ہے کام کے لیے نفس، اس رکاوٹ کے اوپر قابو پا لو۔ وہ ہے مجاہدے کا راستہ۔

مجاہدہ کیسے ہو اس کے لیے باقاعدہ ایک ترتیب ہے۔ اور وہ ترتیب انسان اپنی مرضی سے طے نہیں کرتا۔ جیسے علاج کوئی اپنی مرضی سے نہیں کرتا۔ علاج کوئی اپنی مرضی سے نہیں کر سکتا۔ وہ جس کو معالج مانتا ہے اس کی ترتیب سے ہو گا۔ اور اگر وہ مریض کی ترتیب سے کرتا ہے تو وہ مداہن ہو گا۔ وہ اس کو خراب کر رہا ہو گا۔ کیا خیال ہے ایسے ہے یا نہیں؟ اگر وہ اگر وہ ڈاکٹر صاحب جو ہے وہ مریض کی بات مان کے چلے گا تو اس مریض کا کباڑا کر دے گا۔ نقصان ہو جائے گا۔ اس وجہ سے مریض کے ساتھ جو ڈاکٹر کا جو ہے جو معاملہ ہے وہ کافی مضبوط اصولوں کے اوپر قائم ہونا چاہیے۔ اس کے اندر یہ ہے کہ اس کی بات نہیں سننی چاہیے۔ سننی اس انداز میں چاہیے کہ جتنی مفید معلومات ہوں اس سے جو حاصل کرنا ہو وہ تو اس کے لیے تو سنے گا۔ لیکن وہ اگر کہہ دے کہ جی مجھے آپ فلاں دوائی دے دو تو ڈاکٹر کو یہ بات نہیں سننی چاہیے۔ یہ کہہ سکتا ہے کہ مجھے یہ دوائی موافق آتی ہے۔ کیا خیال ہے؟ یہ تو کہہ سکتا ہے نا۔ لیکن اس کا فیصلہ پھر بھی ڈاکٹر کرے گا، ممکن ہے اس کو غلط فہمی ہو چکی ہو۔ ایک دو دفعہ دیکھنے سے اس کو غلط فہمی ہو چکی ہو، ڈاکٹر کو پتہ ہو کہ نہیں ایسا نہیں ہے۔ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے، مطلب ایک انسان کو غلط فہمی ہو جاتی ہے، اس کا کام یہ ہے کہ وہ ڈاکٹر کو بتائے کہ مجھے یہ دوائی موافق آتی ہے۔ لیکن پھر یہ ڈاکٹر کا کام ہے کہ وہ۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا طریقہ تھا جب وہ بیمار ہو جاتے، تو اگر کوئی مشورہ دیتے کہ آپ یہ دوائی کھا لیں یا یہ چیز کھا لیں تو اس سے یہ فائدہ ہو جائے گا، جیسے آج کل مفت کے مشورے ملتے ہیں۔ ایک فتوے مفت کے ملتے ہیں اور ایک وہ علاج کے سلسلے میں مشورے مفت ملتے ہیں، یہ دونوں چیزیں بہت وافر موجود ہیں پاکستان میں۔ تو اگر کوئی مشورہ دیتا کہ حضرت یہ کھا لیں تو یہ ٹھیک ہو جاؤ گے آپ۔ فرماتے: مجھ سے نہ کہو میرے معالج سے کہو۔ میرے معالج کو مشورہ دے دو اگر آپ ان کو مشورہ دے سکتے ہیں۔ اگر وہ مان لے تو ٹھیک ہے جی میرا کام ہو جائے گا۔ وہ خود براہ راست مشورہ اس میں نہیں لیتے تھے۔ یہ حضرت کا اصول تھا۔

تو یہی بات ہوتی ہے کہ اگر ایک انسان ان صحت کے اصولوں کو اور جو بیماریوں سے صحت حاصل کرنے کے جو اصول ہیں اس کے اوپر عمل کرے گا تو کامیاب ہو گا۔ اس میں جو ڈاکٹر کا role ہے اس کو بھی جانے گا۔ خود اپنا جو کردار ہے اس کو بھی جانے گا۔ اور اپنے کردار کو صحیح کرے گا، مثلاً اطلاع صحیح دے گا۔ تو اب ڈاکٹری کے معاملے میں کم از کم سب لوگوں کو اس چیز کا پتہ ہے۔ سب لوگوں کو اس چیز کا پتہ ہے کہ وہ جب ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں تو ڈاکٹر صاحب سے یہ نہیں کہتے کہ ڈاکٹر صاحب میری آنکھیں بھی ٹھیک ہیں، میرے کان بھی ٹھیک ہیں، میری ناک بھی ٹھیک ہے، میرا پیٹ بھی ٹھیک ہے۔ میرا دماغ بھی ٹھیک ہے، میرا دل بھی ٹھیک ہے۔ سب بالکل ٹھیک ہے۔ وہ ڈاکٹر صاحب سے کیا کہے گا؟ جی میری اس انگلی میں بڑی تکلیف ہے جی، ساری رات میری تکلیف سے کاٹی ہے جی۔ اب اس انگلی کی بات کرے گا۔ وہ کوئی ایک بات نہیں کرے گا اس کے علاوہ۔ اب یہ پھر ڈاکٹر کا کام ہے کہ اس انگلی کے اندر تکلیف کیوں ہے۔ کہاں سے آئی ہے۔ یہ ممکن ہے کہ یہ تکلیف یہاں نہ ہو کسی اور جگہ ہو۔ لیکن محسوس ادھر ہو رہا ہو، ایسا ہوتا ہے؟ تو اس کا وہ تو ڈاکٹر کا کام ہے کہ وہ کرے گا کہ وہ ممکن ہے کہ وہ جو چیز اس کو بتا رہا ہے وہ تکلیف ادھر نہیں ہو کسی اور جگہ ہو۔ لیکن یہ کیا کہے گا؟ یہ کہے گا جی ڈاکٹر صاحب مجھے یہاں تکلیف ہے جی ساری رات میں اس کی وجہ سے سویا نہیں ہوں۔ یہ کہے گا۔ بس یہ بات تو ضرور کرے گا۔ اس کے بعد پھر وہ بات جو چلے گی وہ ڈاکٹر کی چلے گی۔

اسی طریقے سے شیخ کے پاس جانے سے جو مرید ہے۔ وہ اگر کہہ دے جی مجھے بڑے اچھے اچھے خواب نظر آ رہے ہیں جی۔ میں تہجد بھی پڑھتا ہوں جی۔ میں ذکر باقاعدگی کے ساتھ کرتا ہوں جی۔ اور میں تو یہ بھی کرتا ہوں میں تو یہ بھی کرتا ہوں میں تو یہ بھی کرتا ہوں۔ تھوڑا سا gap چھوڑ دے کہ بس میں ہواؤں میں بھی اڑتا ہوں۔ بس اس کے لیے تو اس پہ چھوڑے گا کہ وہ مجھے کہہ دے بس جی آپ تو پہنچ گئے ہیں آپ تو پہنچے ہوئے ہیں۔ اب بس تھوڑی دیر میں آپ کے پاس جبرائیل علیہ السلام آ جائیں گے۔ تو وہ تو یہ بس اس طرح کا gap چھوڑ دیتا ہے۔ باقی سب کچھ بتا دیتے ہیں۔ مجھے بتاؤ کہ کیا یہ علاج کے لیے جا رہا ہے؟ علاج کے لیے تو نہیں جا رہا۔ یہ تو company کی مشہوری کے لیے جا رہا ہے۔ مطلب ظاہر ہے وہ خود چاہتا ہے کہ بھئی میں ذرا۔

تو یہ یاد رکھو۔ یہ حضرات جو ہوتے ہیں نا اللہ پاک معاف فرما دے اس مسئلے میں ہم سے بڑی گڑبڑ ہو جاتی ہے۔ جن کو اللہ پاک نے اس کام کے لیے چنا ہوتا ہے۔ تو یاد رکھیے کہ ان کو اللہ پاک ایسی نظر عطا فرما دیتے ہیں کہ وہ آدمی کو پہچان لیتے ہیں کہ یہ کتنے پانی میں ہے۔ اور یہ جو بات کر رہا ہے اس میں اس کی کیا اوقات ہے۔ اب اگر کسی کو اپنے شیخ پر اتنا بھی اعتماد نہیں کہ وہ اس کو اتنا جان سکتا ہے تو پھر اس کو شیخ کیوں سمجھتا ہے؟ ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ اس کو تو وہ بتاؤ جو problem ہے۔ وہ بتاؤ۔ مثلاً ایک شخص میرے پاس آتا ہے مجھے کہتا ہے جی وہ جی بس فضول گوئی میری کوئی ختم نہیں ہو رہی ہے۔ اب problem اس نے بتا دی۔ اب یہ پھر میں cross question کروں جو بھی کروں اس سے حقیقت اگلواؤں کہ کہاں تک یہ مسئلہ گیا ہے اور کیا بات ہے۔ اس کے اثرات کہاں تک پہنچے، وہ تو الگ بات ہے۔ لیکن اس نے تو سچ بتا دیا نا۔ اس نے تو ایک چیز مجھے دے دی information دے دی۔ تو اس میں وہ جو ڈاکٹر اور patient کا جو تعلق ہے۔ اسی طریقے سے مرید اور پیر کے درمیان ایک تعلق ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہ اصلاح کرتا ہے جسم کی اور یہ اصلاح کرتا ہے روح کی، نفس کی۔ یہ کرتا ہے۔ باقی اس میں اس قسم کا تعلق تو ہے۔

بات ہو رہی تھی کہ شیطان نفس کو استعمال کرتا ہے۔ اور اس سے ساری باتیں نکل آئیں۔ تو شیطان کے شر سے بچنے کے لیے نفس کا علاج ضروری ہے۔ ایک اتنی بات سمجھ آ گئی۔ شیطان کے شر سے بچنے کے لیے نفس کا علاج ضروری ہے۔ لیکن کچھ چیزیں ایسی ہیں جس میں شیطان کے جو مکائد ہیں وہ براہ راست جاننا ضروری ہے کہ انسان اس کے سامنے پیش بندی کر سکے۔ مطلب انسان کو اتنی ضرورت پڑے گی۔

تو سب سے پہلے شیطان وار کرتا ہے عقیدے پر۔ انسان کے عقیدے کو خراب کرے، یعنی اس کا target یہ ہوتا ہے بے شک راستہ بڑا لمبا طے کرے۔ لیکن target اس کا کیا ہوگا؟ کہ عقیدہ خراب کرے۔ اس کی بنیادی چیز یہ ہو گی۔ اب عقیدے کے اندر وہ کیسے خرابی ڈال سکتا ہے؟ عقیدے کے اندر وہ خرابی اس طرح ڈال سکتا ہے کہ ایک انسان ہے۔ اگر وہ اس کو کافر نہیں بنا سکتا۔ شیطان، مطلب مسلمانوں میں پیدا ہوا ہے۔ اور اس کے ارد گرد مسلمان مضبوط موجود ہیں۔ اور اس کا اپنا بھی علم اتنا زیادہ ہے وہ اس کو کافر نہیں بنا سکتا۔ تو کہتا ہے کوئی بات نہیں میں اس کو مسلمان بھی نہیں بننے دوں گا۔ یعنی مطلب یہ ہے کہ کافر تو نہیں ہوگا لیکن وہ پریکٹیکل مسلمان نہیں ہوگا۔ کوئی بات اس کے اندر ایسی ڈال لے گا جس سے وہ اسلام پر نہیں رہے گا بے شک وہ اپنے آپ کو اسلام پر سمجھے گا۔ کوئی ایسی بات اس کے اندر ڈالے گا۔ مثلاً اس کے اندر شرک ڈال لے گا، اور اس کو شرک نہیں سمجھے گا۔ اس کو شرک نہیں سمجھے گا۔ یا اس کے اندر بے ادبی ڈال دے گا اور اس کو وہ بے ادبی نہیں سمجھے گا۔ یا اس کے اندر صحابہ کی مخالفت ڈال دے گا اور اس کو مخالفت نہیں سمجھے گا۔ یا اس کے اندر اہل بیت کی مخالفت ڈال دے گا اور اس کو مخالفت نہیں سمجھے گا۔ یا اس کے اندر اولیاء اللہ کی مخالفت ڈال دے گا اور وہ اس کو نہیں سمجھے گا۔

تو شیطان کا کام کیا ہے؟ وہ اگر کوئی کہتا ہے میں توحید چاہتا ہوں، کہتا ہے بالکل جی میں تمہارے ساتھ ہوں۔ توحید بہت زبردست چیز ہے۔ اس کو اس طرف نہیں روکے گا کہ نہیں توحید ایسا نہیں۔ اس کو یہ توحید کے خلاف دلائل نہیں دے گا۔ کیونکہ اس کو پتہ ہے اس طریقے سے مجھے فوراً پہچان لے گا۔ اور پھر میری بات نہیں مانے گا۔ تو وہ توحید کی بات اس کو کرنے دے گا۔ لیکن توحید کا definition change کروا دے گا کہ توحید کسے کہتے ہیں۔ تو بعض لوگوں کو سمجھا دے گا کہ توحید یہ ہے۔ شعائر اللہ جتنے بھی ہیں ان کی توہین کرو، یہ توحید ہے۔ شعائر اللہ جتنے بھی ہیں ان کی توہین کر لو، یہ توحید ہے۔ تو کیا یہ توحید ہے؟ وہ کون سی آیت ہے جس میں فرماتے ہیں کہ جس نے شرک کیا تو وہ آسمان سے گرا اور؟ ﴿وَمَن يُشْرِكْ بِٱللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ ٱلسَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ ٱلطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ ٱلرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ﴾۔

اور آگے؟

﴿ذَٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ ٱللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى ٱلْقُلُوبِ﴾۔

ہاں دیکھ لیں۔ پہلے فرما دیا کہ جس نے شرک کیا اللہ کے ساتھ تو وہ ایسا ہے جیسے آسمان سے گرا، کسی پرندے نے اچک لیا اور کسی گہری وادی میں گر گیا۔ یہ تو شرک کی مذمت ہو گئی نا۔ اور ساتھ فرمایا ﴿ذَٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ ٱللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى ٱلْقُلُوبِ﴾۔ کہ جو شعائر اللہ کی تعظیم کرتا ہے وہ اس کے دلوں کی تقویٰ کی وجہ سے ہے۔ یہ یہاں پر بالکل اکٹھا فوراً کیوں لایا گیا؟ اس definition سے نکلوانے کے لیے کہ توہین شعائر کو کوئی توحید نہ سمجھے۔ توہین شعائر کو کوئی توحید نہ سمجھے۔

تو اول جو شیطان کا target ہے وہ تو عقائد کو خراب کرنا ہے۔ اور عقائد کو خراب کرنے کے لیے وہ طریقہ کار اس طرح ڈھونڈتا ہے کہ وہ جس شخص کے اوپر جو چیز غالب ہو اسی کے اندر اس کو خراب کرے گا۔ دوسری طرف کوئی شخص ادب کرتا ہے تو ادب کرنا تو اچھی بات ہے، اس کا تو حکم ہے۔ لیکن ادب کرتے کرواتے کرواتے اس کو شرک میں لے جائے گا۔ اس سے شرک کروائے گا۔ مثال کے طور پر وہ بزرگوں کے سامنے جھکنے کو اور سجدہ میں پڑنے کو وہ ادب سمجھے گا، اور کہے گا جی میں ان کی بڑی تعظیم کرتا ہوں۔ بلکہ بعض لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں نا کہ تعظیمی سجدہ کفر تو نہیں ہے نا۔ بات ٹھیک کرتے ہیں تعظیمی سجدہ کفر نہیں ہے، وہ حرام ہے۔ تعظیمی سجدہ کیا ہے؟ حرام ہے اگر عبادت کے لیے نہ ہو۔ لیکن حرام کو حلال سمجھنا کیا ہے؟ کفر۔ اگر وہ سمجھتا ہے اس کو حرام، تو پھر کرتا کیوں ہے؟ یہ تو میں دوسروں کے لیے تو بات سوچ سکتا ہوں کہ اگر میں نے کسی کو دیکھ لیا تو میں کہوں گا جی ابھی تو اس نے کفر نہیں کیا، ابھی تو حرام میں مبتلا ہے۔ لیکن خود اپنے لیے تو میں نہیں کر سکتا نا۔ کیونکہ میں اگر اس کو حرام سمجھوں، پھر کرتا کیوں ہوں؟ تو یہ والی بات ہے کہ وہ اسی طریقے سے شیطان انسان کو گمراہ کرتا ہے۔ اور ایسے خوبصورت طریقے سے کرتا ہے کہ انسان حیران ہو جاتا ہے۔

حضرت مولانا عبداللہ شہید رحمۃ اللہ علیہ کے ایک بیان میں میں بیٹھا ہوا تھا، حضرت کو اللہ پاک نے خطابت کا بہت اعلیٰ ذوق دیا تھا۔ گھنٹے کی بات کو پانچ منٹ میں اور پانچ منٹ کی بات کو گھنٹے میں کر سکتے تھے۔ مطلب ان کی یہ تخصص specialization تھی۔ تو حضرت نے اس کے بارے میں فرمایا کہ بہت سارے لوگ جو ہیں وہ مسلمانوں کی مذمت کرتے رہتے ہیں۔ مسلمان ایسے ہیں، مسلمان ایسے ہیں، مسلمان ایسے ہیں۔ فرمایا مسلمانوں کی برائیوں کی مذمت کر لو، لیکن من حیث القوم مسلمانوں کی برائی نہ کرو، اس میں بڑے بڑے اولیاء بھی ہوتے ہیں۔ وہ سب اس میں آ جائیں گے۔ تو آپ کو نقصان ہوگا۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ برائی کی جڑیں دو ہیں، ایک شیطان اور ایک نفس ہے۔ شیطان کی وجہ سے جو گناہ ہوتے ہیں وہ الگ ہیں اور جو نفس کی وجہ سے گناہ ہوتے ہیں وہ الگ ہوتے ہیں۔ نفس کی وجہ سے گناہ ہوتے ہیں اس میں مسلمان اور کافر شریک ہوتے ہیں۔ وہ ایک جیسے گناہ کرتے ہیں کیونکہ کافر کا بھی نفس ہے مسلمان کا بھی نفس ہے۔ تو اس میں تو فرق نہیں ہوتا مسلمان کے گناہ میں اور کافر کے گناہ میں، وہ ایک جیسے ہوتے ہیں۔ لیکن جو شیطان کی وجہ سے گناہ ہوں گے وہ مسلمان کے لیے الگ ہوں گے کافر کے لیے الگ ہوں گے۔ کیونکہ شیطان ذہین ہے۔ وہ تو جانتا ہے کہ میں کسی کو کیسے خراب کروں تو اگر کسی کو کافر بنا لیا نا تو اس کو صرف کفر پہ ہی باقی رکھے گا اس سے آگے اس سے کوئی اعمال میں اس کے اندر اس کے ساتھ مزاحمت نہیں کرے گا۔ وہ اس کو وعدے کا پکا بھی بننے دے گا اس کو وہ ذمے دار بھی بنائے گا تحمل بھی اس میں لائے گا سچا بھی بنائے گا مطلب ساری چیزیں جو بھی ہیں ان چیزوں سے وہ مطلب اثر نکال لے گا ان کے اوپر محنت نہیں ہوگی۔ صرف اس کے اوپر محنت اس کی ہوگی کہ یہ کافر رہے یہ مسلمان نہ ہو۔ اور میں آپ کو مجھ سے پوچھنے کا اختیار ہے کہ دلائل دلیل آپ کے پاس کیا ہے۔ ہم تو کہتے ہیں کہ culture کی بات ہے ان کا culture اچھا ہے ہمارا culture برا ہے۔ تو پھر میں آپ سے کہتا ہوں کہ قادیانی کون سے culture کے ہیں؟ جب یہ قادیانی ہو جاتے ہیں پھر یہ تحمل بھی ان میں آ جاتا ہے پھر ان میں یعنی ہم لوگ ڈھائی percent زکوٰۃ نہیں دے سکتے وہ دس فیصد جماعت خانے کو دے سکتے ہیں۔ بیٹیاں تک قربان کر لیتے ہیں مطلب لوگوں کے ساتھ ان کی شادیاں کروا لیتے ہیں اور کیا کیا کرتے ہیں۔ تو یہ جب یہ والی بات ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ culture تو ہمارا ایک ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ شیطان نے ان سے وہ طاقت ہٹا لی مطلب ان کو خراب کرنے کی۔ اور مسلمان پہ ہر وقت لگا رہا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ان کے جو حکمران ہیں وہ ان کے اچھے لوگوں میں ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں تو حکمران برے لوگوں میں ہوتے ہیں نا۔ ان کے حکمران ان کے اچھے لوگوں میں ہوتے ہیں اس کے باوجود جب کبھی معاہدہ مسلمانوں کے ساتھ کرتے ہیں اس کو توڑنا، دھوکہ دینا، فریب کرنا ان میں اعلیٰ درجے کا موجود ہوتا ہے۔ تو وہ کہاں سے آ جاتا ہے؟ تو انہوں نے کہا یہ سارا شیطان کرواتا ہے۔ تو شیطان جو گناہ کروائے گا وہ الگ ہو گا اور نفس جو گناہ کروائے گا وہ الگ ہو گا۔ تو اس وجہ سے من حیث القوم مسلمانوں کو برا نہیں کہنا چاہیے۔ ہاں یہ کہنا چاہیے کہ مسلمانوں کی یہ برائیاں بری ہیں۔ یہ غلط ہے۔ اور ان کا وہ تدارک کرنا چاہیے۔

تو یہ شیطان کے جو مکائد ہیں ان کا جاننا بہت ضروری ہے۔ شیطان مختلف طریقوں سے۔ اب شیطان کیا کرتا ہے؟ کسی بھی بزرگ کی اولاد۔ مطلب یہ ہے کہ اس بزرگ سے جو بدلہ لے گا تو کس ذریعے سے لے گا۔ اس کی اولاد کو خراب کر دے گا۔ اس کے اندر صاحبزادگی کو ڈال دے گا۔ اب صاحبزادگی کی وجہ سے اس کی تربیت نہیں ہو سکے گی۔ اس کے لیے وہ جو بزرگ کی جو بزرگی ہے وہ صرف دنیا کے کمانے کے لیے۔ لہٰذا وہ بعد میں جو آنے والے ہیں اگر ان کی تربیت نہیں ہو چکی ہو۔ تو اس کو محض اس کے لیے استعمال کریں گے۔ اب ان کے والد نے تو محنت کی ہو گی لیکن اس نے تو محنت نہیں کی۔ اس کو تو بنا بنایا career مل گیا۔ لہٰذا وہ تو اس چیز کے لیے استعمال کرے گا۔ تو اب دیکھ لو والد نے محنت کی بیٹے سے سارا کچھ محنت خراب کروا دی۔ اور اس کے نتائج دوسری طرف جانے لگے۔ اس سجادہ نشینی میں جو مطلب ہمارے ہاں ہے وہ یہی چیزیں تو ہوتی ہیں۔ کسی کو سجادہ نشین بنا لیا اب وہ وہ اس کی تربیت نہیں ہوئی۔ نتیجتاً وہ اس کی ترجیحات اور ہیں۔ عام لوگوں کی ترجیحات اور ہیں۔ ہمارے culture کے اندر یہ شیطان نے چکر ڈالا ہوا ہے کہ ہم اس بزرگ کی اولاد کے علاوہ کسی پہ جمع نہیں ہوتے۔ جب بزرگ فوت ہو جاتا ہے تو بے شک اس کی پارٹی میں بڑے اچھے اچھے کارکن موجود ہوں، بڑے اچھے اچھے مخلص لوگ موجود ہوں لیکن لیکن اس کا قائم مقام کس کو بنایا جائے گا؟ اس کا بیٹا۔ نتیجتاً وہ بغیر تربیت کے جب اس کی وہ چیز حوالے ہو جائے گی تو وہ نقصان کرے گا۔ ہاں اگر کسی کی تربیت ہو چکی ہو تو پھر فائدہ ان کو زیادہ ہو گا۔ جیسے مفتی شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا بیٹا مولانا تقی عثمانی صاحب، ظاہری بات ہے ٹھیک ہے۔ تربیت چونکہ ہو چکی تھی۔ اس طرح مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ کا بیٹا مولانا یوسف کاندھلوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ۔ حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ کا مولانا اسعد مدنی۔ مطلب یہ بات ہے کہ جن کی تربیت ہو چکی ہو اور پھر ان کے والدین بھی ایسے ہوں تو نور علی نور۔ ایک اس کے اپنے قلب کا نور اور اس کے والد کے قلب کا نور یہ مل کے تو ما شاء اللہ اس کو بہت اونچا لے جائیں گے وہ بات تو صحیح ہے۔ لیکن بغیر اس کے اس کو ایسی ذمہ داری دینا یہ بہت خطرناک ہے۔ اسی وجہ سے ہمارے سلاسل اچھے سلاسل بھی ختم ہو جاتے ہیں۔ اچھے سلاسل جو اچھے چل رہے ہوتے ہیں وہ دو تین steps میں ختم ہو جاتے ہیں۔

تو اس وجہ سے بہت زیادہ۔۔۔ مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی کتنی سخت تربیت کی تھی اس کے والد نے۔ وہ آپ بیتی میں جو لکھا ہے۔ تو اس میں حضرت نے فرمایا صاحبزادگی کا سور بڑی مشکل سے نکلتا ہے۔ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کو ذمہ داریاں دلوانی تھیں تو اگر یہ کام نہ ہوتا تو پھر تو مطلب یہ نہیں ہو سکتا تھا۔

بہرحال اب تو وقت ختم ہو گیا اس topic کو ہم چلائیں گے ان شاءاللہ۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو توفیق عطا فرما دے اور سمجھ بھی۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو ان شیطان کے مکائد سے محفوظ فرما دے۔

مکائد شیطان (حصہ دوم) - اصلاحی جوڑ