شیطان کا فریب،فطرتِ انسانی، اہمیتِ لباس اور توبہ کا تریاق
درس نمبر 278، سورہ الاعراف آیات 19 تا 31، اشاعتِ اول: 14 اور 15 ستمبر، 2022، بمطابق 17 اور 18 مصفرالمظفر، 1444 ہجری
شیطان نے لاعلمی کا فائدہ اٹھا کر جنتی لباس اتروایا۔
توبہ اور استغفار گناہ کے شیطانی زہر کا تریاق ہے۔
زمین پر انسان کے رہنے کا تکوینی فیصلہ نافذ ہوا۔
لباس جسم کا پردہ ہے اور تقویٰ بہترین لباس ہے۔
قرآن نے عریاں طواف اور امتیازی قوانین کو مسترد کیا۔
شریعت کے تمام احکام عین انسانی فطرت کے مطابق ہیں۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
وَ یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَیْثُ شِئْتُمَا وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ (19) فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّیْطٰنُ لِیُبْدِیَ لَهُمَا مَاوٗرِیَ عَنْهُمَا مِنْ سَوْاٰتِهِمَا وَ قَالَ مَا نَهٰىكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَا مَلَكَیْنِ اَوْ تَكُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِیْنَ (20) وَ قَاسَمَهُمَاۤ اِنِّیْ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِیْنَ ۙ (21) فَدَلّٰىهُمَا بِغُرُوْرٍ ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ ؕ وَ نَادٰىهُمَا رَبُّهُمَاۤ اَلَمْ اَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَ اَقُلْ لَّكُمَاۤ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ (22) قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَا ٚ وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ (23) قَالَ اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ (24) قَالَ فِیْهَا تَحْیَوْنَ وَ فِیْهَا تَمُوْتُوْنَ وَ مِنْهَا تُخْرَجُوْنَ (25)
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
ترجمہ: اور اے آدم! تم اور تمہاری بیوی دونوں جنت میں رہو، اور جہاں سے جو چیز چاہو، کھاؤ۔ البتہ اس (خاص) درخت کے قریب بھی مت پھٹکنا، ورنہ تم زیادتی کرنے والوں میں شامل ہوجاؤ گے“ ﴿19﴾ پھر ہوا یہ کہ شیطان نے اُن دونوں کے دل میں وسوسہ ڈالا، تاکہ اُن کی شرم کی جگہیں جو اُن سے چھپائی گئی تھیں، ایک دوسرے کے سامنے کھول دے۔
یہاں
حاشیہ: بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اُس درخت کی خاصیت یہ تھی کہ اُس کا پھل کھانے سے جنت کا لباس اُتر جاتا تھا، اور یہ بات ابلیس کو معلوم تھی۔ چنانچہ جب حضرت آدم اور حواء علیہما السلام نے اُسے کھایا تو جنت کا جو لباس اُنہیں عطا ہوا تھا، وہ اُن کے جسم سے اُتر گیا۔
ترجمہ: بلکہ صرف اس وجہ سے روکا تھا کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ، یا تمہیں ہمیشہ کی زندگی نہ حاصل ہوجائے۔“ ﴿20﴾
حاشیہ: مطلب یہ تھا کہ چونکہ اس درخت کی خاصیت یہ ہے کہ جو اس میں سے کھا لیتا ہے، وہ یا تو فرشتہ بن جاتا ہے، یا اُسے ہمیشہ کی زندگی عطا ہوجاتی ہے، اس لئے اسے کھانے کے لئے مخصوص قوت کی ضرورت ہے۔ شروع میں آپ دونوں کو یہ قوت حاصل نہیں تھی، اس لئے منع کیا گیا تھا۔ اب آپ کو جنت میں رہتے ہوئے ایک زمانہ گزر گیا ہے، اور آپ میں وہ قوت پیدا ہوگئی ہے، اس لئے اب کھا لینے میں کچھ حرج نہیں۔
یہاں سے ایک بات کا پتہ چلتا ہے کہ شیطان جو ہوتا ہے، جو وسوسہ ڈالتا ہے۔ وہ انسان کی لاعلمی سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ اور فائدہ نہیں، مطلب ظاہر ہے فائدہ تو اس کو نہیں کہہ سکتے، مطلب استعمال کرتا ہے۔ اور دوسری یہ بات ہے کہ اس کی جو خواہشات ہیں۔ اس کے سامنے وہ لا کر اس کو کر لیتا ہے۔ اب یہ فطری خواہش ہے کہ ہمیشہ کے لیے انسان رہے۔ اور یہ بھی اچھی بات ہے کہ مطلب انسان پاک مطلب رہے، فرشتے پاک ہوتے تھے۔ اگرچہ نبی تو ان سے ظاہر ہے بڑے ہی مطلب مرتبہ ہے ان کا۔ لیکن وہ تو وہی والی بات ہے نا کہ اس کا تو پتہ جب چل جائے تو پھر اس کے بعد وہ۔ تو ایسی صورت میں شیطان کو یہ وسوسہ ڈالنے کا موقع مل گیا۔ کہ اس نے ان کو یہ بتایا کہ پہلے تمہیں اتنی طاقت نہیں تھی کہ آپ اس کو کھا کر ہضم کر سکیں اور اس سے آپ کو یہ فائدہ ہو۔ کیونکہ جیسے ہوتا ہے نا، مطلب کوئی اچھی چیز ہوتی ہے لیکن انسان کو پتہ ہوتا ہے کہ میں کھاؤں گا تو میں برداشت نہیں کر سکوں گا۔ تو وہ مطلب یہ ہے کہ گویا کہ اللہ پاک کے بارے میں، ان کے بارے میں بدگمانی تو ہو نہیں سکتی تھی۔ نبی کو تو اس لیے اس انداز میں کہا کہ گویا کہ یہ ایک خیر کا معاملہ تھا تمہارے ساتھ۔ لیکن اب چونکہ واقعی بات یہ اس طرح ہے کہ تم اگر اس کو کھا لو گے تو تمہیں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ تو عین ممکن ہے کہ تمہیں وہ چیز حاصل ہو جائے۔ حالانکہ اس کو پتہ تھا۔ کہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ جنت کے کپڑے اس سے اتر جاتے۔ تو شیطان کو پتہ تھا لیکن ان کو پتہ نہیں تھا۔ اور ادھر سے ہے کہ انہوں نے اس قسم کی وہ بات بتائی۔ تو یہ شیطان کا طریقہ ہے کہ وہ ہماری لاعلمی سے فائدہ اٹھاتا ہے اور ہماری خواہشات کو استعمال کرتا ہے۔ اور ان کے سامنے وہ قسمیں کھا گیا کہ یقین جانو، میں تمہارے خیر خواہوں میں سے ہوں۔ اس طرح اس نے دونوں کو دھوکہ دے کر نیچے اتار ہی لیا۔
ترجمہ: اور اُن کے سامنے وہ قسمیں کھا گیا کہ یقین جانو میں تمہارے خیر خواہوں میں سے ہوں ﴿21﴾ اس طرح اُس نے دونوں کو دھوکا دے کر نیچے اتار ہی لیا۔
حاشیہ: نیچے اُتارنے کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اطاعت کے جس بلند مقام پر تھے، اُس سے نیچے اُتار لیا، اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ جنت سے دُنیا میں اُتار لیا۔
ترجمہ: چنانچہ جب دونوں نے اُس درخت کا مزہ چکھا تو اُن دونوں کی شرم کی جگہیں ایک دوسرے پر کھل گئیں، اور وہ جنت کے کچھ پتے جوڑ جوڑ کر اپنے بدن پر چپکانے لگے۔
حاشیہ: اس سے معلوم ہوا کہ عریانی سے حفاظت انسان کی فطرت میں داخل ہے، اسی لئے جونہی دونوں کا لباس اُترا انہوں نے ہر ممکن طریقے سے اپنا ستر چھپانے کی کوشش کی۔
ترجمہ: ور اُن کے پروردگار نے اُنہیں آواز دی کہ : ”کیا میں نے تم دونوں کو اس درخت سے روکا نہیں تھا، اور تم سے یہ نہیں کہا تھا کہ شیطان تم دونوں کا کھلا دشمن ہے؟“ ﴿22﴾ دونوں بول اُٹھے کہ : ”اے ہمارے پروردگار! ہم اپنی جانوں پر ظلم کر گزرے ہیں، اور اگر آپ نے ہمیں معاف نہ فرمایا، اور ہم پر رحم نہ کیا تو یقیناً ہم نامراد لوگوں میں شامل ہوجائیں گے“ ﴿23﴾
حاشیہ: یہ استغفار کے وہی الفاظ ہیں جن کے بارے میں سورۂ بقرہ (2: 38 میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہی یہ الفاظ سکھائے تھے، کیونکہ اُس وقت تک اُنہیں توبہ کا طریقہ بھی معلوم نہیں تھا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ توبہ کرنے کے لئے یہ الفاظ نہایت مناسب ہیں، اور ان کے ذریعے توبہ قبول ہونے کی زیادہ اُمید ہے، کیونکہ یہ خود اللہ تعالیٰ ہی کے سکھائے ہوئے ہیں۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اگر ایک طرف شیطان کو مہلت دے کر اُسے انسان کو بہکانے کی صلاحیت دی جو انسان کے لئے زہر جیسی تھی، تو دوسری طرف انسان کو توبہ اور استغفار کا تریاق بھی عطا فرمادیا کہ اگر شیطان کے بہکائے میں آکر وہ کبھی کوئی گناہ کر گزرے تو اُسے فوراً توبہ کرنی چاہئے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے کئے پر شرمندہ ہو، اور آئندہ نہ کرنے کا عزم کرے، اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے۔ اس طرح شیطان کا چڑھا ہوا زہر اُتر جائے گا۔
ترجمہ: اللہ نے (آدم، ان کی بیوی اور ابلیس سے) فرمایا : ”اب تم سب یہاں سے اتر جاؤ، تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے، اور تمہارے لئے ایک مدت تک زمین میں ٹھہرنا اور کسی قدر فائدہ اٹھانا (طے کردیا گیا) ہے“ ﴿24﴾ فرمایا کہ : ”اسی (زمین) میں تم جیوگے، اور اسی میں تمہیں موت آئے گی، اور اُسی سے تمہیں دوبارہ زندہ کر کے نکالا جائے گا“ ﴿25﴾
تو یہ ایک تکوینی فیصلہ نافذ ہو گیا۔ تکوینی فیصلہ نافذ ہو گیا کہ اب زمین پر رہنا ہے اور یہ سب ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔ اور پھر اسی زمین پر ہی انسان کو رہنا پڑے گا، اور اس پر ہی اسے موت آئے گی، اور اسی سے اس کو دوبارہ زندہ اٹھایا جائے گا۔ یہ جو توبہ والی بات ہے، مولانا تقی عثمانی صاحب نے ایک جگہ پر اس کی ایک بڑی اچھی explanation کی تھی۔ کہ ظاہر ہے وہ تو کافی جگہوں پہ گئے ہیں۔ تو ایک جگہ پر وہ جا رہے تھے گاڑی میں، تو گاڑی کا کوئی مسئلہ ہو گیا۔ تو اس کو ٹھیک کرنے کے لیے گاڑی کھڑی ہو گئی۔ تو وہاں پر ایک جھاڑی تھی، اس پہ ایک پھول لگا ہوا تھا۔ تو انہوں نے جا کر اس پھول کو توڑنے کی کوشش کی۔ وہاں جو مقامی علاقے کا جو شخص تھا، وہ دوڑا ہوا آیا کہ اس کو نہ کچھ کہیں۔ انہوں نے کہا، کیوں؟ انہوں نے کہا کہ اس کے پاس جو کانٹے ہیں نا، اگر یہ کانٹا آپ کو چبھ گیا نا، تو اس میں بڑا ایسا زہر ہے جیسا کہ بچھو کا ہوتا ہے۔ اور کافی آپ کو تکلیف ہو گی۔ تو انہوں نے کہا اگر توڑنا ہی ہے، تو پھر اس کا یہ ہے کہ وہ اس کی جڑ نکال کے نا، اس کو صاف کیا۔ کہتے، جیسے ہی آپ اس کو توڑیں گے اور اگر زہر لگ گیا، تو اس کو پریس کر کے اس سے جو، مطلب، مواد باہر آتا ہے یعنی مایع سا liquid، تو وہ اس کے اوپر ڈال لینا جہاں پر وہ چبھا ہے۔ یہ ختم ہو جائے گا۔ تو کہتے، حضرت نے فرمایا کہ مجھے فوراً خیال آ گیا کہ یہ پھول خوشنما چیز ہے، اور اس کے ارد گرد یہ جو چیزیں ہیں، نفس کی خواہشات خوشنما نظر آتی ہیں، تو شیطان جب اس کو استعمال کرتا ہے تو وہ زہر ہے۔ تو انسان کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اور یہ جو جڑ میں، جو، مطلب، مواد ہے، وہ اس کے اوپر ڈالتے ہیں تو یہ اس کا تریاق ہے۔ تو مطلب یہ ہے کہ وہ توبہ ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں پر بھی فرمایا کہ اگر کسی شخص سے کوئی گناہ ہو جائے، تو فوراً توبہ کر لے۔ تاکہ وہ جو زہر چڑھا ہوا ہے، وہ اتر جائے۔ اللہ پاک ہم سب کو سچی توبہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِیْشًا ؕ وَ لِبَاسُ التَّقْوٰى ۙ ذٰلِكَ خَیْرٌ ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ (26) یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ كَمَاۤ اَخْرَ جَ اَبَوَیْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ یَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِیُرِیَهُمَا سَوْاٰتِهِمَا ؕ اِنَّهٗ یَرٰىكُمْ هُوَ وَ قَبِیْلُهٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ ؕ اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ (27) وَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْهَاۤ اٰبَآءَنَا وَ اللّٰهُ اَمَرَنَا بِهَا ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ (28) قُلْ اَمَرَ رَبِّیْ بِالْقِسْطِ وَ اَقِیْمُوْا وُجُوْهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ ادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ ؕكَمَا بَدَاَكُمْ تَعُوْدُوْنَ (29) فَرِیْقًا هَدٰى وَ فَرِیْقًا حَقَّ عَلَیْهِمُ الضَّلٰلَةُ ؕ اِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ (30) یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا ۚ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ (31)
صَدَقَ اللّٰہُ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُہُ النَّبِیُّ الْکَرِیْمُ۔
ترجمہ: اے آدم کے بیٹو اور بیٹیو! ہم نے تمہارے لئے لباس نازل کیا ہے جو تمہارے جسم کے اُن حصوں کو چھپاسکے جن کا کھولنا بُرا ہے، اور جو خوشنمائی کا ذریعہ بھی ہے۔ اور تقویٰ کا جو لباس ہے، وہ سب سے بہتر ہے۔ یہ سب اللہ کی نشانیوں کا حصہ ہے، جن کا مقصد یہ ہے کہ لوگ سبق حاصل کریں۔ ﴿26﴾
26 سے 32 تک جو ایات ہیں اس میں
حاشیہ: اہل عرب کی ایک عجیب وغریب رسم کے پس منظر میں نازل ہوئی ہیں، جس کی تفصیل یہ ہے کہ مکہ مکرمہ کے قریب رہنے والے کچھ قبیلے مثلاً قریش، ”حمس“ کہلاتے تھے۔ عرب کے دوسرے تمام قبیلے حرم کی پاسبانی کی وجہ سے ان لوگوں کی بڑی عزت کرتے تھے۔ اسی کا ایک نتیجہ یہ تھا کہ عربوں کے عقیدے کے مطابق کپڑے پہن کر طواف کرنا صرف انہی کا حق تھا۔ دوسرے لوگ کہتے تھے کہ جن کپڑوں میں ہم نے گناہ کئے ہیں، اُن کے ساتھ ہم بیت اللہ کا طواف نہیں کرسکتے۔ چنانچہ یہ لوگ جب طواف کے لئے آتے تو ”حمس“ کے کسی آدمی سے کپڑے مانگتے، اگر اس کے کپڑے مل جاتے تو انہیں پہن کر طواف کرلیتے، لیکن اگر کسی کو ”حمس“ میں سے کسی کے کپڑے نہ ملتے تو وہ بالکل عریاں ہوکر طواف کرتے تھے۔ یہ آیتیں اس بے ہودہ رسم کی تردید کے لئے نازل ہوئی ہیں، اور ان میں انسان کے لئے لباس کی اہمیت بھی بیان فرمائی گئی ہے، اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ لباس کا اصل مقصد جسم کا پردہ ہے، اور ساتھ ہی لباس انسان کے لئے زینت اور خوشنمائی کا بھی ذریعہ ہے۔ ایک اچھے لباس کی صفت یہ ہونی چاہئے کہ وہ یہ دونوں مقصد پورے کرے۔ اور جس لباس سے پردے کا مقصد حاصل نہ ہو وہ انسانی فطرت کے خلاف ہے۔
اج کل جب ہم دیکھتے ہیں تو شیطان نے لوگوں کو ان کے کام بڑے اچھے مطلب دکھائے ہیں۔ اور اس وقت صورتحال یہ ہے کہ مرد جو ہے وہ تو کپڑے پہنتے ہیں۔ اور جو عورتیں ہیں وہ اہستہ اہستہ کپڑوں کو اتار رہی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ بہت کم کر رہی ہیں۔ ٹخنوں سے نیچے ان کے لیے حکم ہے۔ تو وہ ٹخنوں سے اوپر کر رہی ہیں اور بلکہ وہ بھی اب پیچھے رہ گیا اب تو اور بھی بہت کچھ ہو رہا ہے۔ اس طرح جسم کے اور حصوں کو نمایاں کرنا یا اس کو ننگا کرنا یہ فطرت کے خلاف ہے۔ لیکن انسان جب جانور بن جائے تو پھر اس کے بعد اس سے کوئی گلہ کرنا مطلب ممکن نہیں۔ وہ فرماتے ہیں نا إِذَا لَمْ تَسْتَح فَافْعَلْ مَا شِئْتَ جس وقت تجھ میں حیا نہ رہے پھر اس کے بعد جو مرضی کر۔ پھر کسی سے کسی گلے کا وہ نہیں رہتا۔ لیکن اللہ پاک نے اس کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ کپڑے جو ہیں یہ ہمارے لیے اس لیے بھی ضروری ہیں کہ جسم کے ان حصوں کو چھپا سکیں جن کا ظاہر کرنا فطرت کے خلاف ہے۔ اور اس سے گناہ وجود میں اتے ہیں۔ اور دوسری طرف یہ گرمی سردی سے بھی بچاؤ کرتے ہیں۔ اور ساتھ یہ کہ زینت کا سامان بھی ہوتا ہے۔
حاشیہ: لباس کا ذکر آیا تو یہ حقیقت بھی واضح فرمادی گئی کہ جس طرح لباس انسان کے ظاہری جسم کی پردہ داری کرتا ہے، اسی طرح تقویٰ انسان کو گناہوں سے پاک رکھتا ہے، اور اُس کے ظاہر اور باطن دونوں کی حفاظت کرتا ہے۔ اور اس لحاظ سے تقویٰ کا لباس بہترین لباس ہے۔ لہٰذا ظاہری لباس پہننے کے ساتھ ساتھ انسان کو یہ فکر بھی رکھنی چاہئے کہ وہ تقویٰ کے لباس سے آراستہ ہو۔ یعنی لباس کا پیدا کرنا اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔
ترجمہ: اے آدم کے بیٹو اور بیٹیو! شیطان کو ایسا موقع ہرگز ہرگز نہ دینا کہ وہ تمہیں اسی طرح فتنے میں ڈال دے جیسے اُس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے نکالا، جبکہ اُن کا لباس اُن کے جسم سے اُتروا لیا تھا، تاکہ اُن کو ایک دوسرے کی شرم کی جگہیں دکھا دے۔ وہ اور اُس کا جتھہ تمہیں وہاں سے دیکھتا ہے جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ سکتے۔ ان شیطانوں کو ہم نے انہی کا دوست بنا دیا ہے جو ایمان نہیں لاتے ﴿27﴾ اور جب یہ (کافر) لوگ کوئی بے حیائی کا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو اسی طریقے پر عمل کرتے پایا ہے، اور اللہ نے ہمیں ایسا ہی حکم دیا ہے۔
حاشیہ: اس سے اسی رسم کی طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ عریاں ہو کر طواف کرتے ہیں۔ چونکہ یہ رسم برسوں سے چلی آتی تھی، اس لئے ان کی دلیل یہ تھی کہ ہمارے باپ دادا ایسا ہی کرتے چلے آئے ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہی حکم ہوگا۔
ترجمہ: تم (ان سے) کہو کہ: ”اللہ بے حیائی کا حکم نہیں دیا کرتا۔ کیا تم وہ باتیں اللہ کے نام لگاتے ہو جن کا تمہیں ذرا علم نہیں؟“ ﴿28﴾ کہو کہ: ”میرے پروردگار نے تو انصاف کا حکم دیا ہے۔
حاشیہ: شاید مذکورہ بالا سیاق و سباق میں انصاف کا ذکر اس لئے بھی کیا گیا ہے کہ ”حُمس“ کے لوگوں نے اپنی جوامتیازی خصوصیات طے کر رکھی تھیں، ان میں سے بعض انصاف کے تقاضوں کے بھی خلاف تھیں۔ مثلاً یہ بات کہ صرف وہی کپڑے پہن کر طواف کر سکتے ہیں، دوسرے لوگ نہیں، حالانکہ اگر دوسرے لوگ گناہ کر سکتے تھے تو یہ لوگ بھی گناہوں سے پاک تو نہیں تھے۔
یعنی گویا جیسے بنی اسرائیل کے اندر یہ بات تھی کہ ہم منتخب لوگ ہیں۔ اور ہمارے لیے الگ قانون ہے اسی طریقے سے ان لوگوں میں بھی یہ بات پیدا ہو گئی تھی کہ ہم منتخب لوگ ہیں اور ہمارے لیے الگ قانون ہے یہ بات غلط تھی۔
ترجمہ: اور (یہ حکم دیا ہے کہ:) ”جب کہیں سجدہ کرو، اپنا رُخ ٹھیک ٹھیک رکھو، اور اس یقین کے ساتھ اُس کو پکارو کہ اطاعت خالص اُسی کا حق ہے۔ جس طرح اُس نے تمہیں ابتدا میں پیدا کیا تھا، اُسی طرح تم دوبارہ پیدا ہو گے۔“ ﴿29﴾ (تم میں سے) ایک گروہ کو تو اللہ نے ہدایت تک پہنچا دیا ہے، اور ایک گروہ وہ ہے جس پر گمراہی مسلط ہوگئی ہے، کیونکہ ان لوگوں نے اللہ کے بجائے شیطانوں کو دوست بنالیا ہے، اور سمجھ یہ رہے ہیں کہ وہ سیدھے راستے پر ہیں ﴿30﴾ اے آدم کے بیٹو اور بیٹیو! جب کبھی مسجد میں آؤ تو اپنی خوشنمائی کا سامان (یعنی لباس جسم پر) لے کر آؤ، اور کھاؤ اور پیو، اور فضول خرچی مت کرو۔ یاد رکھو کہ اللہ فضول خرچ لوگوں کو پسند نہیں کرتا ﴿31﴾
اللہ جل شانہ ہم سب کو اپنی فطرت کے مطابق جو شریعت نے ہمیں احکامات دیے ہیں مطلب شریعت کے احکامات جو ہیں بالکل عین فطرت کے مطابق ہیں اس پر چلنے کی توفیق عطا فرما دے۔ اور بے حیائی کے کاموں سے اللہ ہمیں محفوظ فرما دے۔
سُبْحَانَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّتِ عَمَّا یَصِفُوْنَ۔ وَسَلَامٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَ۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔ بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ۔