دنیا اور آخرت کی کامیابی اصلاحِ نفس میں ہے
جمعہ بیان
دین پر عمل ہی دونوں جہانوں کی کامیابی کا راز ہے
شیطان کا فریب اور نفس کی اصلاح کی ضرورت
نماز اور روزہ: شیطان اور نفس کے خلاف ڈھال
روحانی اصلاح کے فطری اور اضافی ذرائع (عینک کی مثال)
حقیقتِ ذکر: اللہ کو "یاد کرنے" سے اللہ کا "یاد رہنا " اصلاح سے غفلت اور میدانِ محشر کی حسرت
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيّيْنَ اَمَّا بَعْدُ۔ فَاعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
وَنَفْسٍ وَّمَا سَوَّاهَا فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَتَقْوَاهَا قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا۔ وَقَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى: اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهُ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيْدٌ۔
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ، وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ۔
معزز خواتین و حضرات! آپ نے مجھ سے یہ کئی بار یہ آیتِ مبارکہ سنی ہوں گی۔ اور اکثر میں اس کا تذکرہ کرتا رہتا ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آخرت میں جو کامیابی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی بندگی پر ہے کہ اللہ کا بندہ کوئی ہو، اور بندگی کے لیے اخلاص کی ضرورت ہے، عمل کی بھی ضرورت ہے، علم کی بھی ضرورت ہے۔ تو ان تین چیزوں کو حاصل کرنا یہ اشد ضروری ہے، اس کے بغیر انسان کامیابی حاصل نہیں کر سکتا، نہ اس جہان میں اور نہ اُس جہان میں۔
ایک دفعہ ہمارے ایک ساتھی تھے، بڑے modern قسم کے، بعد میں بھی کافی بڑے بڑے عہدوں پہ کام کیا اس نے۔ مجھے کہتے ہیں: شبیر صاحب! دنیا کس طرف جا رہی ہے اور آپ کون سی باتیں کر رہے ہیں؟ مطلب تھوڑا سا آج کل کا خیال رکھا کریں۔ وہ ظاہر ہے اس سے یہی توقع تھی، وہ ظاہر ہے جس ماحول میں پلے بڑھے تھے اور جو اس کے راہ و رسم تھے، اس سے یہی بنتی تھی۔ لیکن تھے اچھے آدمی، اس میں کوئی شک نہیں، دل کے اچھے آدمی تھے۔ ایرج اس کا نام تھا۔ میں نے کہا: ایرج یہ بتاؤ کہ ہم زیادہ دنیا دار ہیں یا صحابہ کرام زیادہ دنیا دار تھے؟ اس نے کہا: ہم دنیا دار ہیں، صحابہ کرام تو دنیا دار تھے ہی نہیں۔ میں نے کہا: اچھا دنیا کی بات کر رہا ہوں، آخرت کی نہیں بات کر رہا ہوں۔ دنیا میں صحابہ زیادہ کامیاب تھے یا ہم زیادہ کامیاب ہیں؟ کہتے ہیں: وہ زیادہ کامیاب تھے۔ میں نے کہا: آپ کا فارمولا تو سارا fail ہو گیا۔ آپ مجھے کہہ رہے ہیں کہ آپ کون سی باتیں کر رہے ہیں آج۔ دنیا کدھر جا رہی ہے، آپ کدھر جا رہے ہیں۔ اور آپ خود ہی کہہ رہے ہیں کہ صحابہ کرام دنیا داری نہیں کرتے تھے۔ لیکن دنیا میں سب سے زیادہ کامیاب تھے۔ اور ہم دنیا دار ہیں اور دنیا میں ناکام پر ناکام ہیں۔ تو آخر اس پہ آپ نے سوچا نہیں کہ آخر کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ تو سوچ میں پڑ گیا۔ بہرحال جواب اس کو مل گیا تھا۔
تو یہ میں عرض کر رہا ہوں کہ مسلمان کا جو کمال ہے اور مسلمان کی جو کامیابی ہے، اس دنیا میں بھی دین پر چلنے میں ہے۔ جتنا وہ دین پر چلے گا، اتنا ہی وہ دنیا میں بھی کامیاب ہو گا۔ دنیا میں بھی کامیابی کے لیے اس کو کسی اور راستے پہ جانا نہیں ہے۔
میں عرض کرتا ہوں کہ دیکھیں چائنہ کے اندر بڑی زبردست تبدیلی آئی، ان لوگوں نے دنیا میں کافی ترقی کی۔ لیکن ذرا پیچھے دیکھیں، ان کے پیچھے ہوا کیا ہے؟ پیچھے یہ ہے کہ انہوں نے بہت سارے بیکار لوگوں کو مار ڈالا، جو کام نہیں کرتے تھے۔ جو زندہ رہے ان سے کام لیا۔ ان کو task دیا۔ ان کی نگرانی کی۔ اور ان سے ایک nation بنائی۔ نتیجتاً وہ دنیا پہ آج کل کافی حکمرانی کر رہے ہیں۔ ماؤزے تنگ نے جو کتاب لکھی تھی Red Book، اس میں جو واقعات لکھے تھے، وہ صحابہ کرام کی زندگی کے چرائے ہوئے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ انہوں نے چائنا جیسے ایک چینی تھا، وہ تو یہ تو کہتا تھا۔ لیکن بہرحال وہ واقعہ وہی ہوتا تھا جو صحابہ کرام کے ساتھ پیش آیا ہوتا تھا۔ مطلب اخلاص کا اور dedication کا اور اس قسم کی چیزوں کا، یہ تمام چیزوں کا یہی تھا۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر کوئی اور قوم بھی ترقی کرتی ہے تو ہمارے اصولوں پہ کرتی ہے۔
مثلاً دیکھیں ہمارے لوگ جاتے ہیں یورپ امریکہ، وہاں کچھ عرصہ گزار لیتے ہیں۔ پھر واپس آتے ہیں، اپنے ساتھ ایک message لے کے آتے ہیں۔ لیکن وہ message complete نہیں ہوتا۔ وہ ہوتا کیا ہے؟ وہ ان کی جو عیش والی زندگی ہے، وہ ساتھ لے کے آتے ہیں۔ لیکن وہ جو محنت والی زندگی ہے، وہ ساتھ نہیں لے کے آتے۔ جس طرح وہ لوگ محنت کرتے ہیں، پانچ دن گدھے کی طرح کام کرتے ہیں۔ پھر دو دن عیش کرتے ہیں، اچھی طرح عیش کرتے ہیں۔ اب ہم ان کی دو دن کی زندگی لے لیں اور پانچ دن کی زندگی نہ لیں، نتیجہ کیا ہو گا؟ تباہی ہو گی۔
آخر ایسا ہو کیوں رہا ہے؟ کبھی اس پر بھی سوچنا چاہیے۔ وہ ہماری چیزیں لے رہے ہیں، ہم ان کی چیزیں لے رہے ہیں۔ وہ ہماری اچھی چیزیں لے رہے ہیں، ہم ان کی بری چیزیں لے رہے ہیں، آخر کیوں ہو رہا ہے؟ اس پر بھی تو سوچنا چاہیے نا۔ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ reason بھی تو کوئی ہو گی؟ تو reason ہے اور بہت بڑی reason ہے۔ reason یہ ہے کہ جب ہم ایمان لائے نا اور ایمان کے ساتھ ہیں، تو ہم شیطان کے کھلے دشمن ہیں، شیطان بھی ہمارا کھلا دشمن ہے۔ شیطان سب کا کھلا دشمن ہے۔ لیکن مسلمانوں کا تو نمبر ون دشمن ہے۔ کیونکہ کافروں کو تو اس نے اپنے ساتھ ملا لیا ہے، وہ تو ان کی فوج ہے۔ مسلمان ہی اس کی مخالفت کر رہے ہیں نا۔ تو مسلمان کو کبھی بھی نہیں چھوڑے گا، مسلمان کی ایک ایک چیز کے پیچھے پڑا ہو گا کہ یہ نہ کرے، یہ نہ کرے، یہ نہ کرے، یہ نہ کرے، یہ نہ کرے۔
لیکن ایک بات یاد رکھیے، بہت اچھی طرح یاد رکھیے۔ شیطان کا معاملہ صرف وسوسے تک ہے۔ وسوسے کے علاوہ اور کچھ نہیں کر سکتا۔ وسوسے کے علاوہ وہ کچھ نہیں کر سکتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا اللہ! تیرا شکر ہے کہ تو نے شیطان کے شر کو صرف اس کے وسوسے تک محدود رکھا ہے۔ تو شیطان کا شر وسوسے تک ہے۔ پکی بات ہو گئی؟ جب یہ پکی بات ہو گئی تو شیطان سے بچنا اصل میں تو یہ ہے کہ اس کی پرواہ نہ کی جائے۔ یہ اس کا اصل علاج ہے۔ لیکن اس پر عمل نہیں ہو پاتا۔
عمل کیوں نہیں ہوتا؟ اس کی بھی ایک reason ہے۔ عمل اس لیے نہیں ہوتا کہ شیطان ہمارے نفس کو استعمال کرتا ہے۔ کافر کا بھی نفس ہوتا ہے۔ یہ نہیں کہ مطلب ہم کہتے ہیں بھئی کافر کا نفس نہیں ہوتا۔ کافر کا بھی نفس ہوتا ہے۔ مسلمان کا بھی نفس ہوتا ہے۔ نفس میں دونوں برابر ہیں۔ اس وجہ سے جو نفس کی وجہ سے نقصان ہے، نفس کی desire کی وجہ سے جو نقصان ہے، وہ دونوں میں ایک جیسا ہوتا ہے۔ اور یہی بہت بڑا test بھی ہے کہ کون سا نفس کی وجہ سے ہے اور کون سا شیطان کی وجہ سے۔ دیکھو اگر کافر کے اندر بھی ہے اور مسلمان کے اندر بھی ہے، تو سمجھو کہ وہ نفس کی وجہ سے ہے۔ اور اگر کافر کے اندر نہیں ہے، مسلمان کے اندر ہے، تو سمجھو کہ وہ شیطان کی طرف سے ہے۔ اگرچہ اس نے نفس ہی کو استعمال کیا ہو گا۔ تو پتہ چلا کہ نفس کو وہ استعمال کرتا ہے، شیطان استعمال کرتا ہے۔ کافر کا نفس بھی استعمال کر سکتا ہے اور مسلمان کا بھی کر سکتا ہے۔ بس فرق صرف یہ ہے کہ اس نے کافر کو چھوٹ دی ہے۔ کیونکہ وہ اس کا ہمنوا ہے، وہ اس کے ساتھی ہیں۔ ایمان کے بغیر وہ دوزخ میں جائے گا لہٰذا وہ اس کا منشا پورا ہو گیا ہے۔ اب اس کے بعد مزید اس کے ساتھ کیا کرتا ہے؟ مزید تو اس کو باقاعدہ exemplary بنانا ہو گا۔ جیسے کہ مطلب لوگوں کو اچھا نظر آئے کہ دیکھو نا یہ اچھے لوگ ہیں۔ تو ایسے مطلب یہ ہے کہ یعنی وہ اس کو مثالی بنا رہا ہو گا۔ اور مسلمان کو تو ایک ایک چیز پر پکڑے گا۔ مسلمان کو نفس کے ذریعے سے۔
اب مسلمان اس طرح بچ سکتا ہے شیطان سے کہ وہ اپنے نفس کی اصلاح کرے۔ کافروں کو اس کی ضرورت نہیں ہے۔ کافروں کو اس کی ضرورت نہیں ہے۔ ضرورت مسلمان کو ہے نفس کی اصلاح کی کہ وہ نفس کی اصلاح کرے۔ پس جب تک نفس کی اصلاح نہیں ہو گی، شیطان سے بچنا ممکن نہیں۔ اور جب تک شیطان کی بات مانی جائے گی، عمل ممکن نہیں۔ اور اگر عمل کوئی کر بھی لے گا، اس میں اخلاص نہیں ہو گا۔ تو اس وجہ سے ہماری ساری کی ساری کامیابی جو ہے، وہ اسی میں ہے۔
اب میں بتاؤں دنیا کی کامیابی کیسی ہے۔ دنیا کی کامیابی ایسی ہے کہ جس وقت ایک انسان شریعت کے اصولوں پہ چلتا ہے، مثلاً بددیانتی نہیں کرتا، سچ بولتا ہے، تعاون کرتا ہے۔ خیر چاہتا ہے، کسی کی چغلی نہیں کھاتا، دھوکہ نہیں دیتا، یہ ظاہر ہے مطلب مسلمان کے شایانِ شان یہی چیزیں ہیں۔ تو مجھے بتاؤ دنیا میں اس کی value بنے گی یا نہیں بنے گی؟ آپ کو کوئی دھوکہ دیتا ہے تو آپ کو وہ پسند ہو گا یا آپ کو کوئی دھوکہ نہیں دیتا آپ کو وہ پسند ہو گا؟ مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے مال پہ نظر نہ رکھو، لوگوں کے اندر محبوب بن جاؤ گے۔ لوگوں سے مانگو نہیں، آپ لوگوں کے اندر ہر دل عزیز بن جاؤ گے۔ مقصد یہ ہے کہ یہ بات ہے کہ یہ تو یہاں چونکہ limited چیزیں ہیں، مختصر ہیں اور اتنی بڑی دنیا ہے۔ اب جو ایک دوسرے سے چھینا جھپٹی کریں گے تو ظاہر ہے کہ جو چھینے گا، تو اس کو تو لوگ برا سمجھیں گے۔ تو اب جو انسان اللہ پہ نظر رکھے گا اور نفس کی اصلاح اس کی ہو چکی ہو گی، جھوٹ نہیں بولے گا، کاروبار صحیح کرے گا، سچ بولے گا، ایمانداری کا معاملہ کرے گا، لوگوں میں اس کی شہرت ہو جاتی ہے کہ یہ اچھا آدمی ہے۔ اگر وہ دکاندار ہے تو اس کی دکان اچھی۔ اگر وہ driver ہے تو اس کی ڈرائیوری اچھی۔ اگر وہ افسر ہے تو اس کی افسری اچھی۔ اگر وہ ملازم ہے تو اس کی ملازمت اچھی۔ یعنی لوگوں کا اس کے اوپر اعتماد ہو گا۔ اگر صاحبِ کردار ہو، اور صاحبِ کردار انسان تب بن سکتا ہے جب انسان اپنے نفس کی اصلاح کرے۔ جب تک اس کے نفس کی اصلاح نہیں ہوئی، صاحبِ کردار نہیں ہو سکتا، صرف صاحبِ گفتار بن سکتا ہے۔ اگر علم ہے اور اخلاص نہیں ہے، اگر مطلب یہ ہے کہ اصلاح نہیں ہے، تو صاحبِ گفتار ضرور ہو گا لیکن صاحبِ کردار نہیں ہو سکتا۔ اور لوگ گفتار کو نہیں دیکھتے، کردار کو دیکھتے ہیں۔ خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کے لیکچروں سے ہندو مسلمان نہیں ہوئے تھے 90 لاکھ۔ وہ ان کے کردار کو دیکھ کر ہوئے تھے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم لوگوں کو اپنے نفس کی اصلاح کرنی پڑے گی۔ اگر ہم کامیابی چاہتے ہیں۔ اگر ہم کامیابی چاہتے ہیں۔
یہ دیکھیں نا یہ جو سورۂ بقرہ کی بالکل ابتدائی آیات ہیں۔ سُبْحَانَ اللّٰہ۔ الٓمّٓ ذٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيْهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيْمُوْنَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُوْنَ وَالَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِمَا اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَا اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَبِالْاٰخِرَةِ هُمْ يُوْقِنُوْنَ اُولٰئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَاُولٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۔ یہاں جو مفلحون ہے، کیا وہ صرف آخرت میں؟ بتایا گیا کہ صرف آخرت میں؟ مفلحون ہیں۔ کامیاب ہیں۔ اور ہدایت پر ہیں۔ اُولٰئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ۔ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں۔ وَاُولٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہیں۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمیں کیا کرنا ہے؟ دیکھو اَلَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلَاةَ یہ اللہ کے ساتھ تعلق ہے۔ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُوْنَ یہ بندوں کے ساتھ ہے۔ مطلب جو اللہ تعالیٰ کے لیے بندوں پر خرچ کرتا ہے۔ اب بتاؤ بندے پھر ان کے ساتھ ہوں گے یا نہیں؟ بندوں کے ہاں ان کی عزت ہو گی یا نہیں؟ بندوں کے ہاں ان کا خیال ہو گا یا نہیں؟ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں جہاں کی کامیابی، دونوں جہاں کی کامیابی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر چلنے میں ہے۔ جس کے لیے رکاوٹ سب سے بڑا ہمارا نفس ہے۔
دیکھیں اللہ پاک فرماتے ہیں: يَا اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ اِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ۔ اے ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ۔ سلیکشن نہ کرو۔ سلیکشن نہ کرو۔ کوئی کہتا ہے جی عبادت زبردست چیز ہے۔ کوئی کہتا ہے نہیں سخاوت بڑی۔۔ نہیں بھئی سلیکشن۔ دونوں، دونوں۔ عبادت بھی ہو، سخاوت بھی ہو، خدمت بھی ہو۔ تقویٰ بھی ہو۔ یہ ساری چیزیں۔ اُدْخُلُوْا فِي السِّلْمِ كَافَّةً، اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ۔ اور شیطان کے نقشِ قدم پہ نہ چلو۔
ایک اور آیت ہے، جس میں فرمایا گیا ہے کہ وَلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ وَمَنْ يَّتَّبِعْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ فَاِنَّهُ يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ۔۔۔ یہ فرمایا کہ شیطان کا اتباع نہ کرو۔ شیطان کے نقشِ قدم پہ نہ چلو۔ فرمایا اگر کوئی ان کے نقشِ قدم پہ چلتا ہے، تو وہ تو منکرات اور بے حیائی کی باتوں کی طرف ہی لے جائے گا۔ اب ذرا تھوڑا سا میں عرض کرتا ہوں۔ سُبْحَانَ اللّٰہ۔ سُبْحَانَ اللّٰہ۔ سُبْحَانَ اللّٰہ۔ سُبْحَانَ اللّٰہ۔ اس آیتِ کریمہ میں اللہ جل شانہٗ نے ارشاد فرمایا کہ جو شیطان کا اتباع کرے گا، تو اس کو فحاشی اور منکرات کی طرف لے جائے گا۔ اور اللہ پاک نے ایک اور آیتِ کریمہ فرمائی: اِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَلَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُ۔ بیشک نماز بے حیائی کی باتوں اور منکرات سے روکنے والی ہے اور اللہ کا ذکر تو بڑی چیز ہے۔ تو یہ تفسیر میں نہیں کر رہا، یہ لطائفِ قرآنی ہیں۔ لطائفِ قرآنی ایک الگ چیز ہے۔ ان تین آیات کو دیکھو۔ تو اس سے جو نچوڑ سامنے آتا ہے، وہ یہی آتا ہے کہ شیطان کا کام فحاشی اور منکرات کی طرف لے جانا ہے اور نماز ان چیزوں سے روکتی ہے۔
اور نماز، حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب انسان ذکر کر رہا ہوتا ہے تو شیطان پیچھے ہٹ جاتا ہے اور جس وقت مطلب ذکر نہیں کا، غافل ہوتا ہے، تو اس وقت شیطان وسوسہ ڈالتا ہے۔ حدیث شریف میں یہ آگیا۔ اب حدیث شریف کی اور ان دو آیتوں کو ملا کے آپ یہ conclude کر سکتے ہیں کہ نماز اگر صحیح بن جائے جس میں واقعی ذکر ہو اللہ کا، ذکر کا مطلب ہے کہ اللہ آپ کو یاد ہو کہ میں نماز پڑھ رہا ہوں۔ یعنی اللہ پاک اس میں آپ کو یاد ہو۔ آج کل تو کہتے ہیں بعض حضرات کہتے ہیں کہ نماز میں سب کچھ یاد ہوتا ہے، صرف اللہ یاد نہیں ہوتا۔ تو نماز میں اللہ اگر یاد ہو، یعنی ذکر واقعی حاصل ہو، تو وہ آپ کو شیطان سے محفوظ کر دیتا ہے۔ شیطان کے وسوسے سے محفوظ کر لے۔ سمجھ میں آگئی نا بات؟ جتنا آپ کی نماز اچھی ہوتی جائے گی، شیطان کے خلاف آپ کی ڈھال بنتا جائے گا۔ تو ایک تو یہ آگیا۔
دوسری آیتِ کریمہ میں آپ سے عرض کروں گا دوسری قسم کی، وہ یہ ہے کہ: يَا اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۔ اے ایمان والو! تم پر رمضان شریف کے روزے فرض کیے گئے، جیسے کہ تم سے پچھلوں کے اوپر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ حاصل کر لو۔ اب روزے کا تعلق تقویٰ کے ساتھ ہو گیا۔ اور نفس کے بارے میں: فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَتَقْوَاهَا۔ نفس کا کام کیا ہے اس میں دونوں چیزیں رکھی گئیں، یا فجور ہے یا تقویٰ ہے۔ نفس کی اصلاح تقویٰ پر آنا ہے۔ تو اس کا مطلب ہے نفس کی جو اصلاح ہے، وہ روزے کے ساتھ بہت زیادہ ہوتی ہے۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ کہ نفس کی اصلاح میں روزہ بہت بڑا معاون ہے۔ اور شیطان سے بچنے میں۔۔۔ اب دیکھو میں مثال کے طور پر آپ کا نفس بہت powerful بھی ہے۔ اور شیطان اس کو استعمال کرنا چاہتا ہے لیکن شیطان کو موقع ہی نہیں ملے تو پھر!! کہ وہ وسوسے ہی نہیں ڈال سکے۔ تو اگرچہ آپ کے نفس کی اصلاح پوری نہیں ہوئی لیکن شیطان آپ کو گمراہ نہیں کر سکے گا۔ مطلب وہ نفسانی گناہ آپ سے اگر ہوتے ہوں لیکن وہ شیطانی گناہ آپ سے نہیں ہوں گے۔ شیطانی گناہ آپ سے نہیں ہوں گے اگر آپ کی نماز powerful ہے۔ اور اگر آپ کا روزہ powerful ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کے نفس کی بھی اصلاح مطلب ہو جائے گی۔ کیونکہ روزے کے اندر مجاہدہ ہے۔ نفس کی پسندیدہ تین چیزوں کو روکا جاتا ہے۔ اس پہ پتھر رکھ دیا جاتا ہے۔ ان کو ہلنے نہیں دیا جاتا ایک ٹائم تک۔ یہ گویا rehearsal ہے کہ تم نفس کی desire کو روک سکتے ہو قابو کر سکتے ہو۔ جتنا جتنا آپ کی اس پہ capability بڑھتی جائے گی، اتنا اتنا آپ کے نفس کی اصلاح ہوتی جائے گی۔ مطلب یہ والی بات۔
اس طرح حج کے اپنے فوائد ہیں، اپنے آثار ہیں۔ عشق کے ذریعے سے اس کی جو اصلاح کرتے۔ زکوٰۃ حبِ مال کو توڑتی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ یہ چیزیں اللہ پاک نے، اس کا انتظام کیا ہوا ہے۔ اور یہ اصل ذرائع ہیں اصلاح کے، اصل ذرائع یہ ہیں۔ صحابہ کرام کا اس ذریعے سے سارا کچھ چلتا تھا۔ ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ اب کیا ہے؟ اگر میری آنکھ ٹھیک ہے تو پھر کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ بس مجھے عینک لگانے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ میں بغیر عینک کے دیکھ سکتا ہوں صحیح طور پہ۔ لیکن اگر میری آنکھ کی نظر کمزور ہو گئی، بغیر عینک کے میں صحیح نہیں دیکھ سکتا، تو عینک میری مجبوری ہے۔ عینک میری مجبوری ہے۔ اور یہ مصنوعی ذرائع ہیں۔ قدرتی ذرائع نہیں۔ قدرتی ذریعہ تو آنکھ ہے۔ لیکن قدرتی ذریعہ اگر کمزور ہو گیا، تو مصنوعی ذریعہ تو چھوڑو نہیں نا۔ آپ کو ڈاکٹر کہتا ہے کہ اب عینک لگا دو، آپ کہتے ہو اللہ تعالیٰ نے مجھے عینک کے ساتھ نہیں پیدا کیا، میں عینک کیوں استعمال کروں؟ تو اس آدمی کو کیا کہو گے آپ؟ کہ خدا کے بندے! اللہ ہی نے علاج بھی پیدا کیا ہے نا۔ اللہ تعالیٰ نے ہی تو علاج بھی پیدا کیا ہے، تو آپ علاج کرو نا سنتِ رسول ہے۔ تو آپ علاج کر لو اپنا آپ اس آپ عینک استعمال کرو۔ تو اسی طریقے سے اگر آپ کی نماز کے ذریعے سے اصلاح نہیں ہو رہی، نماز ٹھیک نہیں ہے، روزے کے ذریعے سے اصلاح نہیں ہو رہی، روزہ ٹھیک نہیں ہے، تو پھر آپ کو دوسرے ذرائع کو استعمال کرنا پڑے گا۔ ان ذرائع سے آپ کی اصلاح ہو سکتی ہے پھر۔ پھر اس کے ذریعے سے آپ کی نماز بھی بہتر ہو جائے گی، مثال کے طور پر آپ ذکر کے ذریعے سے اپنی نماز بہتر کر لو۔ ذکر کے ذریعے سے اپنی نماز بہتر کر لو۔ اور رمضان شریف میں روزوں کے ذریعے سے اور تراویح کے ذریعے سے اپنے روزوں کو بہتر کر لو۔ یعنی اس کے اوپر جو خصوصی طور پر توجہ ڈالو کہ روزہ میرا کیسے بہتر ہو سکتا ہے۔ مثلاً روزہ خراب کس چیز سے ہو سکتا ہے، کم از کم یہ تو سوچو نا، اور نماز خراب کس چیز سے ہو سکتی ہے۔ بس اس خرابی کو چھوڑو تو آپ کی نماز بن جائے گی۔
اب مثال کے طور پر نماز کس وجہ سے خراب ہوتی ہے، وہ بتاتا ہوں۔ نماز اس وجہ سے خراب ہوتی ہے کہ ہم نماز کے باہر اپنی نظر کی حفاظت نہیں کرتے۔ ہم نماز کے باہر سوچوں کی حفاظت نہیں کرتے۔ اس وجہ سے کم از کم اگر پانچ منٹ پہلے آپ آ جائیں، یہ صرف طریقہ کے طور پہ عرض کر رہا ہوں۔ پانچ منٹ پہلے آ جائیں اور سوچیں کہ میں نے نماز پڑھنی ہے، میں نے اللہ کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ اور میں نے اس نماز کے علاوہ، چونکہ یہ ٹائم میں نے نکال ہی دیا نا، اب تو میں اس ٹائم میں تو کچھ کر ہی نہیں سکتا ہوں نا۔ میں نے اس وقت کو تو اس کے لیے استعمال کرنا ہے، تو میں اس میں اور کچھ نہیں سوچوں گا، میں صرف اللہ جل شانہٗ کا بندہ بنوں گا۔ بس یہ پہلے سے پکا ارادہ کر لو۔ یہ جو میں نے دس بارہ منٹ پندرہ منٹ نکالے ہیں، اس میں میں نے اور کچھ نہیں کرنا۔ اور ترتیب بنانے کے لیے، سیکھنے کے لیے دو رکعت چار رکعت پہلے نفل اس طریقے سے پڑھ لو۔ دو رکعت چار رکعت آپ اس طریقے سے پڑھ لو، پھر جو اصل نماز ہے اس کے اندر اس کو استعمال کر لو۔ یہ مشق آپ روزانہ کر لیا کرو۔ بتاؤ نماز کچھ بہتر ہونی شروع ہو جائے گی یا نہیں؟
پھر یہ جو ہم اصلاحی ذکر کرتے ہیں۔ اصلاحی ذکر میں کیا ہم حاصل کرتے ہیں؟ کہ ہم صرف چیخنا حاصل کرتے ہیں؟ نہیں، اصلاحی ذکر میں ہم جس چیز کو حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم تمام دنیا سے کٹ کٹا کر اللہ کی طرف متوجہ ہونا سیکھ لیں۔ تمام دنیا سے اپنے آپ کو کاٹ کے اللہ کی طرف متوجہ ہونا سیکھ لیں۔ بس یہی کام ہے ہمارا نماز میں۔ یہ جو اصلاحی ذکر ہے، اس میں یہ بات ہے۔ وہ لوگ کہتے ہیں جی یہ کروں، وہ کروں، ہم کہتے ہیں بھئی وہ سارا کچھ چھوڑو۔ اصل میں ذکر کس کو کہتے ہیں؟ اصل ذکر کیا ہے؟ جس میں آپ کو اللہ یاد رہے۔ ایک ہوتا ہے اللہ کو یاد کرنا، ایک ہوتا ہے اللہ یاد رہنا۔ دونوں میں بہت فرق ہے۔ اللہ کو یاد کرنا ابتدا ہے۔ اور اللہ کا یاد رہنا انتہا ہے۔ منتہی کو اللہ یاد ہوتا ہے۔ اور مبتدی کو اللہ یاد کرنا ہوتا ہے، کیونکہ یاد اس کو نہیں ہوتا۔ تو اس کو یاد کرنا ہوتا ہے۔ تو ابتدا میں تو یاد کرنا ہے، سمجھ کے۔ ابتدا میں تو یہ یاد کرنا ہی ہے۔ لیکن یہ یاد کرنے پہ رہو نہیں بلکہ اس کو... مجھے بعض لوگ کہتے ہیں نا جی، جی ہم لطائف کے اوپر ذکر کرتے ہیں، اس وقت تو لطائف نہیں چلتے، بعد میں دوسرے وقت میں لطائف چلنے شروع ہو جاتے ہیں۔ میں کہتا ہوں یہ بھی اسی کا اثر ہے نا۔ وہ جو محنت آپ اس وقت کر رہے ہیں، اب یہ دوسری جگہ پہ اب اس نے استعمال ہونا شروع کر لیا۔ لیکن یہ بھی مکمل استعمال نہیں ہے۔ یہ بھی صرف یاد کرنے کی ایک تھوڑی سی feeling ہے۔ جو آپ کو ہو رہی ہے یعنی یاد رہنے کا، اس طرف آنے کا ایک درمیانی راستہ ہے۔
لیکن اصل یاد رہنا کیا ہے؟ جس وقت -خدانخواستہ، خدانخواستہ، خدانخواستہ- آپ کسی گناہ کی طرف مائل ہونا شروع ہو جائیں، اس وقت اللہ تعالیٰ آپ کو یاد کرا دے۔ یہ ہے اصل۔ مسرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ، اللہ تعالیٰ حضرت کے درجات بلند فرمائے، چھوٹی چھوٹی باتوں میں بہت کچھ کہہ جاتے تھے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں میں۔ ایک دفعہ میں ساتھ جا رہا تھا، مجھے کہتے ہیں: شبیر! یہ لوگ کہتے ہیں ہم فلاں مجلس میں بیٹھ گئے تو ہمارے دل نے ذکر کرنا شروع کر لیا، لطائف چلنا شروع ہو گئے۔ ہمارے تو لطائف گناہوں کی جگہ پہ چلتے ہیں۔ اچھی جگہوں پہ نہیں چلتے۔ مثلا خانہ کعبہ چلے گئے تو نہیں چل رہے۔ مسجد میں گئے تو نہیں چل رہے۔ کسی ولی اللہ کے پاس بیٹھے تو نہیں چل رہے۔ خدانخواستہ کسی تصویر کو دیکھ کر، کسی اور چیز کو دیکھ کر وہ چلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ بات اس نے جب کی، مجھے جب سوچ میں ڈال دیا، سوچ میں ڈال دیا، میں نے کہا: یا اللہ! یہ تو عجیب علم ہے۔ بعد میں اس پہ بڑا غور کیا میں نے ماشاء اللہ، بہت غور کیا اور نتیجہ بھی برآمد ہوا۔ نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ اصل میں جو انسان ابتدا میں وہ ذکر کرتا ہے، تو وہ غافل ہوتا ہے۔ غافل ہوتا ہے۔ اس غفلت سے جب وہ ذکر کی طرف آتا ہے تو وہ ذکر بڑا coarse ہوتا ہے۔ اور اس کا amplitude بڑا high ہوتا ہے۔ اور محسوس ہوتا ہے۔ محسوس ہوتا ہے۔ لیکن جیسے جیسے اس میں refinement وقت کے ساتھ ساتھ آتی جاتی ہے، تو ذکر تیز ہو جاتا ہے، لیکن refinement جو ہوتی جاتی ہے، مطلب اس کا amplitude کم ہو جاتا ہے، speed بڑھ جاتی ہے۔ نتیجتاً وہ کم محسوس ہوتا ہے پھر۔ اور مزید ترقی کرنے سے اور کم محسوس ہوتا ہے، پھر اور کم محسوس ہوتا ہے، پھر اور کم محسوس ہوتا ہے، حتیٰ کہ بالکل محسوس نہیں ہوتا۔ لیکن اس کا ذکر ہو رہا ہوتا ہے، صرف اس کو محسوس نہیں ہو رہا ہوتا۔ جس وقت وہ پھر کسی گناہ کے ماحول میں جاتا ہے، اس وقت دوبارہ coarse ہو جاتا ہے، نیچے آ جاتا ہے نا، کثافت آ جاتی ہے اس میں۔ کثافت آ جاتی ہے تو پھر دوبارہ coarse ہونا شروع، تو محسوس ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اوہ سُبْحَانَ اللّٰہ! مطلب پتہ چل جاتا ہے کہ میں کوئی گڑبڑ کے علاقے میں چلا گیا ہوں۔ یاد آ جاتا ہے۔ یہ بات ہوتی ہے۔ تو اصل ذکر یہی ہے کہ انسان پہلے سے تو بالکل محسوس نہ ہو۔ لیکن یہ ایسا نہ ہو کہ تم ابتدا سے یہ کام شروع کرو۔ ابتدا میں محسوس ہو گا۔ کیونکہ آپ نے غفلت سے جانا ہے۔ zero سے آپ نے جانا ہے۔ zero سے جانا ہے تو پھر تو ایسا ہو گا، لیکن پھر پہلے coarse ہو گا، پھر refine ہوتا جائے گا، refine ہوتا جائے گا، پھر zero کی طرح ہو جائے گا، zero ہو گا نہیں۔
اس کی ایک اچھی مثال ہے۔ آپ سائیکل پہ جاتے ہیں تو آپ کو خوب چلنا محسوس ہوتا ہے۔ موٹر سائیکل پہ کچھ تھوڑا سا کم محسوس ہوتا ہے، smooth ہو جاتا ہے نا تھوڑا سا۔ اور کار پہ اس سے کم محسوس ہوتا ہے۔ اور electric ٹرین جو اڑھائی سو کلومیٹر کی رفتار سے جاتی ہے، اب بالکل محسوس نہیں ہوتا۔ میں گیا ہوں اس میں۔ خانیوال یہ اس میں جب پہلے پہلے electric والا شروع ہو گیا تھا نا track شروع ہو گیا تھا، تو ہم جا رہے تھے کراچی۔ ابتدائی تجربہ تھا۔ تو وہ بالکل بہت speed سے جا رہا تھا، اور مجھے بالکل پتہ نہیں تھا کہ گاڑی چل رہی ہے۔ اور میں گاڑی کے چونکہ دروازے کھلے ہوئے تھے، میں نکلنے والا تھا، مطلب ہے اترنے والا تھا۔ سامنے دیکھا تو وہ بہت تیزی کے ساتھ پیچھے چیزیں جا رہی ہیں، اوہ یار! یہ کیا ہوا؟ یہ تو گاڑی چل رہی ہے۔ یہ بالکل میرے ساتھ واقعہ ہوا اور میں ابھی تک جب اس کو یاد کرتا ہوں تو میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ اگر میں قدم ایک باہر کرتا، تو پتہ نہیں پھر balance ہو سکتا ہے یا نہ ہو سکتا۔ اور جہاز میں تو ہر ایک کو یہ تجربہ ہوتا ہے۔ جہاز میں پتہ چلتا ہے؟ لیکن جہاز کی رفتار کیا ہوتی ہے! بس یہی چیز ہوتی ہے کہ مطلب یہ ہے کہ speed زیادہ ہو جاتی ہے لیکن ساتھ frequency جو زیادہ ہے لیکن amplitude بہت کم ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً محسوس نہیں ہوتا۔ لیکن جیسے ہی اگر۔۔۔ دوبارہ وہ نہیں ہے، یہ میرے خیال میں شاید یہ بسوں کا ایسا ہوتا ہے، جب یہ کھڑی ہوتی ہے تو اس کی وہ وائبریشن بہت محسوس ہوتی ہے۔ تو وہ بہت زیادہ محسوس ہوتا ہے۔
تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یعنی ہم لوگوں کو ذکر کے ذریعے سے اللہ پاک یاد آ جائے بس۔ اللہ یاد رہے۔ اللہ یاد رہے۔ اور جب اللہ یاد رہے گا تو پھر گناہ کے وقت بھی یاد رہے گا اور جب گناہ کے وقت یاد رہے گا تو گناہ ہونا بہت مشکل ہو جائے گا۔ گناہ ہونا بہت مشکل ہو گا۔ بعض لوگوں کے لیے جھوٹ بولنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ نماز چھوڑنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ کوئی اور غلطی بہت مشکل ہو جاتی ہے۔ اور بعض لوگوں کے لیے بالکل کوئی مسئلہ نہیں ہوتا، وہ ظاہر ہے وہ حدیث شریف میں الفاظ آتے ہیں کہ مومن سے جب گناہ ہوتا ہے تو ایسا ہوتا ہے جیسے اس کے اوپر کوئی پہاڑ گر پڑا۔ اور جب تک رو رو کر اللہ پاک سے معافی مانگ مانگ کر اللہ کو منا نہ لے، اس وقت تک اس کو چین نہیں آتا۔ اور جو فاسق و فاجر ہے اس سے گناہ ہو جاتا ہے، وہ ایسا ہوتا ہے جیسے کہ بس وہ کوئی مچھر آیا اور اس کو اڑا دیا اور بس ختم۔
تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم لوگوں کو اس لائن پہ، تو ایک تو میں نے نماز کا بتا دیا کہ نماز جو ہے اس کو ہم بہتر کر لیں۔ اور اگر بہتر نہیں ہو رہی تو پھر اس کے لیے جو وسائل ہیں بہتر کرنے کے ان کو استعمال کرنا پڑے گا، قدرتی اگر نہیں ہو رہا تو پھر artificially کرنا پڑے گا۔ اس کے لیے کچھ جو بعد میں طریقہ کار لوگ develop کر چکے ہیں، جس کو ہم تصوف کے طریقے کہتے ہیں، اس کے ذریعے سے اچھا کرنا پڑے گا۔ پھر اس کے بعد روزے کو بہتر کرو۔ روزے کو بہتر کرنے سے نفس کی اصلاح ہو جائے گی۔ اور اگر اس طریقے سے نہیں تو پھر آپ کو artificially کرنا پڑے گا۔ زکوٰۃ کو بہتر کر لو، حج کو بہتر کر لو۔ اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ آپ شریعت کے اوپر چلنے کو بہتر کر کے اپنے نفس کی بھی اصلاح کر سکتے ہیں۔ اور صحابہ کا طریقہ یہی تھا۔ صحابہ کا طریقہ یہی تھا۔ ہم لوگ مجبور ہیں، میں نے آپ کو مثال دی نا کہ اگر کسی کی عینک کے بغیر آنکھ اس کی صحیح ہے تو عینک لگانے کی اس کو کیا ضرورت ہے۔ لیکن اگر آنکھ اس کی کمزور ہو گئی ہے، تو اس وقت اگر ڈاکٹر اس کو کہہ دے بھئی عینک لگا دو۔ تو مجبوری ہو گی۔ اس وقت یہ عذر کافی نہیں ہے کہ وہ میں تو عینک کے ساتھ پیدا نہیں ہوا، او خدا کے بندے! عینک کے ساتھ پیدا نہیں ہوا لیکن تو نے اپنی آنکھوں کو خراب تو کر لیا ہے نا۔ اب ٹھیک کرو۔ تو اس کا مطلب ہے کہ ہم لوگوں کو ان ذرائع کو استعمال کر کے اپنے مقاصد کو حاصل کرنا ہے۔
ورنہ پھر کیا ہو گا، اللہ نہ کرے، اللہ نہ کرے، اللہ نہ کرے، اللہ نہ کرے۔ اگر موت کے وقت ہم پر یہ بات کھل گئی کہ معاملہ دوسرا ہے، اس وقت انسان کچھ بھی نہیں کر سکے گا۔ اس وقت کچھ بھی نہیں کر سکے گا۔ صرف افسوس، حسرت۔ اور یہ حسرت اور بڑھ جائے گی جب محشر کا میدان ہو گا۔ جب حساب کتاب کا معاملہ ہو گا۔ جب لوگوں کو اعمال نامہ دائیں ہاتھ سے ملے گا، کسی کو بائیں ہاتھ سے ملے گا، اس وقت یہ حسرت انتہا پہ پہنچ جائے گی، بلکہ یہاں تک کہیں گے: کاش میں زندہ نہ ہوتا، کاش میں مر جاتا۔ لیکن اس وقت نہ یہ سوال قبول ہو گا، نہ کوئی اور سوال قبول ہو گا، وہ صرف ایک ہی بات ہو گی وہ اللہ پاک کا امر ہی چلے گا۔ اس کے علاوہ اور کوئی بات نہیں، انسان کی خواہشات پر تو بات ہی نہیں، ہاں جنت میں کوئی پہنچ گیا پھر اللہ پاک اس کو اس کی مرضی کے مطابق کروائے گا سب کچھ۔ لیکن اس کے لیے اپنے آپ کو qualify کرنا پڑے گا نا، اس چیز کو qualify کرنا پڑے گا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ، سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔