اذان کے بعد درود شریف، دُعائے وسیلہ اور مقامِ محمود کی حقیقت و فضیلت

فضائل درود شریف، اشاعت اول: 28 ستمبر، 2018، بمطابق: 18 محرم الحرام، 1440 ھ

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. اذان سن کر مؤذن کے الفاظ دہرانا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا اور ان کے لیے وسیلہ مانگنا شفاعت کو واجب کر دیتا ہے۔
  2. وسیلہ جنت کا وہ اعلیٰ ترین درجہ ہے جو پوری مخلوق میں صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا جائے گا۔
  3. وسیلہ کا لغوی معنی ہر وہ عمل، نبی یا نیک بندہ ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا تقرب اور محبت حاصل کی جائے۔
  4. مقام محمود شفاعت کا وہ عظیم مرتبہ اور اعزاز ہے جس پر اولین و آخرین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حمد و ثنا کریں گے۔
  5. اذان کے بعد کی دعا میں "وَالدَّرَجَةَ الرَّفِيعَةَ" کے الفاظ ثابت نہیں، البتہ بعض روایات میں "إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ" کا اضافہ موجود ہے۔

اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِيِّينَ أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ اَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ: «اِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ، ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ، فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ عَشْرًا، ثُمَّ سَلُوا اللهَ لِيَ الْوَسِيلَةَ، فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ لَا تَنْبَغِي إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللهِ، وَاَرْجُو اَنْ اَكُونَ اَنَا هُوَ، فَمَنْ سَأَلَ لِيَ الْوَسِيلَةَ حَلَّتْ عَلَيْهِ الشَّفَاعَةُ» (رواه مسلم وابوداود والترمذي كذا في الترغيب)

ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمروؓ حضور اقدس ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ جب تم اذان سنّا کرو تو جو الفاظ مؤذن کہے وہی تم کہا کرو، اس کے بعد مجھ پر درود بھیجا کرو، اس لئے کہ جو شخص مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے اللہ جل شانہٗ اُس پر دس دفعہ درود بھیجتے ہیں۔ پھر اللہ جل شانہٗ سے میرے لئے وسیلہ کی دُعا کیا کرو۔ وسیلہ جنت کا ایک درجہ ہے جو صرف ایک ہی شخص کو ملے گا، اور مجھے امید ہے کہ وہ ایک شخص میں ہی ہوں۔ پس جو شخص میرے لئے اللہ سے وسیلہ کی دُعا کرے گا اُس پر میری شفاعت اُتر پڑے گی۔

فائدہ: ”اُتر پڑے گی“ کا مطلب یہ ہے کہ محقق ہو جائے گی۔ اس لئے کہ بعض روایات میں اس کی جگہ یہ ارشاد ہے کہ اس کے لئے میری شفاعت واجب ہو جائے گی۔ بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ ہے کہ جو شخص اذان سُنے اور یہ دُعا پڑھے: ”اَللّٰهُمَّ رَبَّ هٰذِهِ الدَّعْوَةِ التَّآمَّةِ وَالصَّلٰوةِ الْقَائِمَةِ اٰتِ مُحَمَّدَ اِ نِالْوَسِيْلَةَ وَالْفَضِيْلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَّحْمُوْدَنِ الَّذِیْ وَعَدْتَّهٗ“ اُس کے لئے میری شفاعت اُتر جاتی ہے۔

حضرت ابو الدرداءؓ سے نقل کیا گیا ہے کہ جب حضور اقدس ﷺ اذان سنتے تو خود بھی یہ دُعا پڑھتے: ”اَللّٰهُمَّ رَبَّ هٰذِهِ الدَّعْوَةِ التَّآمَّةِ وَالصَّلٰوةِ الْقَائِمَةِ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰتِهٖ سُؤْلَهٗ يَوْمَ الْقِیٰمَةِ“ اور حضور ﷺ اتنی آواز سے پڑھا کرتے تھے کہ پاس والے اس کو سنتے تھے۔ اور بھی متعدد احادیث سے علامہ سخاویؒ نے یہ مضمون نقل کیا ہے۔ اور حضرت ابوہریرہؓ سے حضور ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ جب تم مجھ پر درود پڑھا کرو تو میرے لئے وسیلہ بھی مانگا کرو۔ کسی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وسیلہ کیا چیز ہے؟ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جنت کا اعلیٰ درجہ ہے جو صرف ایک ہی شخص کو ملیگا اور مجھے یہ اُمید ہے کہ وہ شخص میں ہی ہوں گا۔

علامہ سخاویؒ کہتے ہیں کہ وسیلہ کے اصل معنیٰ لغت میں تو وہ چیز ہے کہ جس کی وجہ سے کسی بادشاہ یا کسی بڑے آدمی کی بارگاہ میں تقرّب حاصل کیا جائے، لیکن اس جگہ ایک عالی درجہ مراد ہے، جیسا کہ خود حدیث میں وارد ہے کہ وہ جنت کا ایک درجہ ہے۔ اور قرآن پاک کی آیت ”وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ“ میں ائمہ تفسیر کے دو قول ہیں: ایک تو یہ کہ اس سے وہی تقرّب مراد ہے جو اُوپر گزرا۔ حضرت ابن عباسؓ، مجاہد، عطاء وغیرہ سے یہی قول نقل کیا گیا ہے۔ قتادہؒ کہتے ہیں کہ اللہ کی طرف تقرب حاصل کرو اس چیز کے ساتھ جو اس کو راضی کر دے۔

واحدی، بغوی اور زمخشری سے بھی یہی نقل کیا گیا ہے کہ وسیلہ ہر وہ چیز ہے جس سے تقرب حاصل کیا جاتا ہو، قرابت ہو یا کوئی عمل، اور اس قول میں نبی کریم ﷺ کے ذریعہ سے توسّل حاصل کرنا بھی داخل ہے۔ (اھـ) علامہ جزریؒ نے حصن حصین میں آدابِ دُعا میں لکھا ہے: ”وَ أَنْ يَّتَوَسَّلَ إِلَى اللهِ تَعَالَىٰ بِأَنْبِيَائِهِ وَالصَّالِحِيْنَ مِنْ عِبَادِهِ (خ)“ یعنی توسل حاصل کرے اللہ جل شانہٗ کی طرف اُس کے انبیاء کے ساتھ، جیسا کہ بخاری، مسند بزار اور حاکم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے، اور ”اللہ کے نیک بندوں کے ساتھ“ جیسا کہ بخاری سے معلوم ہوتا ہے۔

علامہ سخاویؒ کہتے ہیں اور دوسرا قول آیت شریفہ میں یہ ہے کہ اس سے مراد محبت ہے۔ یعنی اللہ کے محبوب بنو، جیسا کہ ماوردی وغیرہ نے بوزید سے نقل کیا ہے۔ اور حدیث پاک میں فضیلت سے مراد وہ مرتبہ عالیہ ہے جو ساری مخلوق سے اُونچا ہو اور احتمال ہے کوئی اور مرتبہ مراد ہو یا وسیلہ کی تفسیر ہو۔ اور مقامِ محمود وہی ہے جس کو اللہ جل شانہٗ نے اپنے کلامِ پاک میں سورۂ بنی اسرائیل میں ارشاد فرمایا: ”عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا“ (ترجمہ: امید ہے کہ پہنچائیں گے آپ کو آپ کے رب مقامِ محمود میں۔)

مقامِ محمود کی تفسیر میں علماء کے چند اقوال ہیں: یہ کہ وہ حضور اقدس ﷺ کا اپنی اُمّت کے اُوپر گواہی دینا ہے، اور کہا گیا ہے کہ حمد کا جھنڈا جو قیامت کے دن آپ کو دیا جائے گا وہ مراد ہے۔ اور بعض نے کہا ہے کہ اللہ جل شانہٗ نے آپ کو قیامت کے دن عرش پر اور بعض نے کہا کرسی پر بٹھانے کو کہا ہے۔ ابن جوزیؒ نے ان دونوں قولوں کو بڑی جماعت سے نقل کیا ہے اور بعضوں نے کہا کہ اس سے مراد شفاعت ہے اس لئے کہ وہ ایسا مقام ہے کہ اس میں اوّلین و آخرین سب ہی آپ کی تعریف کریں گے۔ علامہ سخاویؒ اپنے استاذ حافظ ابن حجرؒ کے اتباع میں کہتے ہیں:

”ان اقوال میں کوئی منافات نہیں اس واسطے کہ احتمال ہے کہ عرش و کرسی پر بٹھانا شفاعت کی اجازت کی علامت ہو اور جب حضور ﷺ وہاں تشریف فرما ہو جائیں تو اللہ جل شانہٗ اُن کو حمد کا جھنڈا عطا فرمائے اور اس کے بعد حضور اقدس ﷺ اپنی اُمّت پر گواہی دیں۔“ ابن حبان کی ایک حدیث میں حضرت کعب بن مالکؓ سے حضور ﷺ کا ارشاد نقل کیا گیا ہے کہ اللہ جل شانہٗ قیامت کے دن لوگوں کو اُٹھائیں گے۔ پھر مجھے ایک سبز جوڑا پہنائیں گے، پھر میں وہ کہوں گا جو اللہ چاہیں گے۔ پس یہی مقامِ محمود ہے۔ حافظ ابن حجرؒ کہتے ہیں کہ ”پھر میں کہوں گا“ سے مراد وہ حمد و ثنا ہے جو حضور اقدس ﷺ شفاعت سے پہلے کہیں گے اور مقامِ محمود ان سب چیزوں کے مجموعہ کا نام ہے جو اس وقت میں پیش آئیں گی۔ (انتہیٰ)

حضور ﷺ کے اس ارشاد کا مطلب کہ ”میں وہ کہوں گا جو اللہ تعالیٰ چاہیں گے“ حدیث کی کتابوں بخاری، مسلم شریف وغیرہ میں شفاعت کی طویل حدیث میں حضرت انسؓ سے نقل کیا گیا ہے جس میں یہ مذکور ہے کہ جب میں اللہ تعالیٰ کی زیارت کروں گا تو سجدہ میں گر جاؤں گا۔ اللہ جل شانہٗ مجھے سجدہ میں جب تک چاہیں گے پڑا رہنے دیں گے۔ اس کے بعد اللہ جل شانہٗ کا ارشاد ہوگا: محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سر اُٹھاؤ اور کہو تمہاری بات سُنی جائے گی، سفارش کرو قبول کی جائے گی، مانگو تمہارا سوال پورا کیا جائے گا۔ حضور اقدس ﷺ فرماتے ہیں اس پر میں سجدہ سے سر اُٹھاؤں گا، پھر اپنے رب کی وہ حمد و ثنا کروں گا جو اس وقت میرا رب مجھے الہام کریگا، پھر میں اُمّت کیلئے سفارش کروں گا۔ بہت لمبی حدیث سفارش کی ہے جو مشکوٰۃ میں بھی مذکور ہے۔

اشعار:

ہاں ہاں اجازت ہے تجھے آج عزّت ہے تجھے
زیبَا شفاعت ہے تجھے بے شک یہ ہے حصّہ ترا

یہاں ایک بات قابلِ لحاظ ہے کہ اُوپر کی دُعا میں اَلْوَسِيْلَةَ وَالْفَضِيْلَةَ کے بعد ”وَالدَّرَجَةَ الرَّفِيْعَةَ“ کا لفظ بھی مشہور ہے۔ محدثین فرماتے ہیں کہ یہ لفظ اس حدیث میں ثابت نہیں۔ البتہ بعض روایات میں جیسا کہ حصن حصین میں بھی ہے، اس کے اخیر میں ”اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيْعَادَ“ کا اضافہ ہے۔

اللہ جل شانہ ہمیں بہت زیادہ درود شریف کی برکات نصیب فرما دے۔