زوالِ ابلیس کے اسباب: تکبر، نافرمانی اور تقدیر پر الزام
درس نمبر 277، سورہ الاعراف آیات 5 تا 19، اشاعتِ اول: 12 اور 13 ستمبر، 2022، بمطابق 15 اور 16 مصفرالمظفر، 1444 ہجری
قیامت کے دن اعمال کا وزن ہونا اٹل ہے۔
ابلیس نے تکبر کی بنا پر سجدہ نہ کیا۔
اللہ کی فرمانبرداری اور عاجزی بلندی کا ذریعہ ہے۔
شیطان کو ایک معین وقت تک مہلت دی گئی۔
شیطان انسانوں کو بہکا کر ناشکرا بنانا چاہتا ہے۔
اپنی غلطیوں کو تقدیر پر ڈالنا شیطانی طریقہ ہے۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
فَمَا كَانَ دَعْوٰىهُمْ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَاۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُـوْۤا اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ(5) فَلَنَسْـَٔلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْهِمْ وَ لَنَسْـَٔلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ ۙ (6) فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْهِمْ بِعِلْمٍ وَّ مَا كُنَّا غَآىٕبِیْنَ (7) وَ الْوَزْنُ یَوْمَىٕذِ ﹰالْحَقُّ ۚ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (8) وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَظْلِمُوْنَ(9) وَ لَقَدْ مَكَّنّٰكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ (10)
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
ترجمہ: پھر جب ان پر ہمارا عذاب آپہنچا تو ان کے پاس کہنے کو اور تو کچھ تھا نہیں، بس بول اُٹھے کہ واقعی ہم ہی ظالم تھے ﴿5﴾ اب ہم ان لوگوں سے ضرور باز پرس کریں گے جن کے پاس پیغمبر بھیجے گئے تھے، اور ہم خود پیغمبروں سے بھی پوچھیں گے (کہ انہوں نے کیا پیغام پہنچایا، اور انہیں کیا جواب ملا؟) ﴿6﴾ پھر ہم ان کے سامنے سارے واقعات خود اپنے علم کی بنیاد پر بیان کردیں گے، (کیونکہ) ہم (ان واقعات کے وقت) کہیں غائب تو نہیں تھے ﴿7﴾ اور اُس دن (اعمال کا) وزن ہونا اٹل حقیقت ہے۔ چنانچہ جن کی ترازو کے پلے بھاری ہوں گے، وہی فلاح پانے والے ہوں گے ﴿8﴾ اور جن کی ترازو کے پلے ہلکے ہوں گے، وہی لوگ ہیں جنہوں نے ہماری آیتوں کے ساتھ زیادتیاں کر کر کے خود اپنی جانوں کو گھاٹے میں ڈالا ہے ﴿9﴾ اور کھلی بات ہے کہ ہم نے تمہیں زمین میں رہنے کی جگہ دی، اور اُس میں تمہارے لئے روزی کے اسباب پیدا کئے۔ (پھر بھی) تم لوگ شکر کم ہی ادا کرتے ہو ﴿10﴾
اللہ جل شانہ ہمیں قرآن پاک کو صحیح طور سے سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے، اور اس میں جو عبرت کے واقعات ہیں ان سے عبرت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور اللہ جل شانہ نے جو آئندہ ہونے والے حالات ہیں، اس کے بارے میں جو خبردار فرمایا ہے، ان کو سمجھ کر ہم اس کے مطابق اپنی زندگی بنا لیں، اسی کے لیے محنت کر لیں۔ اللہ جل شانہ ہم سب پر اپنا فضل فرمائے۔
وَ لَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ ؕ لَمْ یَكُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ (11) قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ ؕ قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ ۚ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ (12) قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا یَكُوْنُ لَكَ اَنْ تَتَكَبَّرَ فِیْهَا فَاخْرُ جْ اِنَّكَ مِنَ الصّٰغِرِیْنَ (13) قَالَ اَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ (14) قَالَ اِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ (15) قَالَ فَبِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِیْمَ ۙ (16) ثُمَّ لَاٰتِیَنَّهُمْ مِّنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ وَ عَنْ اَیْمَانِهِمْ وَ عَنْ شَمَآىٕلِهِمْ ؕ وَ لَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِیْنَ (17) قَالَ اخْرُ جْ مِنْهَا مَذْءُوْمًا مَّدْحُوْرًا ؕ لَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ للَاَمْلَـَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنْكُمْ اَجْمَعِیْنَ (18) وَ یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَیْثُ شِئْتُمَا وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ (19)
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
ترجمہ: اور ہم نے تمہیں پیدا کیا، پھر تمہاری صورت بنائی، پھر فرشتوں سے کہا کہ : ”آدم کو سجدہ کرو۔“ چنانچہ سب نے سجدہ کیا، سوائے ابلیس کے۔ وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا۔ ﴿11﴾ اللہ نے کہا: ”جب میں نے تجھے حکم دے دیا تھا تو تجھے سجدہ کرنے سے کس چیز نے روکا؟“ وہ بولا: ”میں اُس سے بہتر ہوں۔ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا، اور اُس کو مٹی سے پیدا کیا“ ﴿12﴾ اللہ نے کہا: ”اچھا تو یہاں سے نیچے اتر، کیونکہ تجھے یہ حق نہیں پہنچتا کہ یہاں تکبر کرے۔ اب نکل جا، یقیناً تو ذلیلوں میں سے ہے“ ﴿13﴾ اُس نے کہا: ”مجھے اُس دن تک (زندہ رہنے کی) مہلت دیدے جس دن لوگوں کو قبروں سے زندہ کرکے اُٹھایا جائے گا“ ﴿14﴾ اللہ نے فرمایا: ”تجھے مہلت دے دی گئی“ ﴿15﴾
حاشیہ: شیطان نے درخواست تو یہ کی تھی کہ اُس وقت تک اُسے زندگی دی جائے جس دن حشر ہوگا، اور دوسرے مردے زندہ کر کے اُٹھائے جائیں گے۔ یہاں اس درخواست کے جواب میں مہلت دینے کا تو ذکر ہے، لیکن یہ مہلت کب تک دی گئی ہے، اس آیت میں یہ بات واضح طور پر بیان نہیں فرمائی گئی۔ سورۂ حجر (15: 38) اور سورۂ ص (38: 81) میں بھی یہ واقعہ آیا ہے، وہاں یہ فرمایا گیا ہے کہ ”ایک معین وقت“ تک مہلت دی گئی ہے، جس سے معلوم ہوا کہ اُس کی درخواست کے مطابق روزِ حشر تک مہلت دینے کا وعدہ نہیں کیا گیا، بلکہ یہ فرمایا گیا ہے کہ ایک معین وقت ہے جو اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے، اُس وقت تک مہلت دی گئی ہے۔ دوسرے دلائل سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شیطان قیامت کا پہلا صور پھونکے جانے تک زندہ رہے گا، اور اُس کے بعد جس طرح دوسری مخلوقات کو موت آئے گی، اُسے بھی موت آئے گی۔ پھر جب سب کو زندہ کیا جائے گا تو اُسے بھی زندہ کیا جائے گا۔
یہاں جو بات سامنے آ رہی ہے، وہ یہ ہے کہ اس نے تکبر کیا۔ یعنی اللہ پاک کا حکم نہیں مانا، اپنے آپ کو اللہ تعالی کے حکم سے بڑا سمجھا۔ یعنی دیکھیں یہاں پر مسئلہ یہ ہے کہ اس کا مقابلہ آدم علیہ السلام کے ساتھ تو تھا۔ لیکن اس نے حکم توڑا اللہ جل شانہ کا۔ تو اس وجہ سے وہ والی بات ہو گئی کہ اللہ پاک نے اسے فرمایا، تو یہاں سے نیچے اتر۔ یعنی اس اونچے مقام پر رہنے کے لیے گویا کہ اللہ پاک کے قرب کے لیے ضروری ہے کہ انسان عبدیت حاصل کرے۔ یہ والی بات ہے۔ یعنی اللہ پاک کی فرمانبرداری کرے۔ کہ جو اللہ پاک کی فرمانبرداری نہیں کرتا، وہ اللہ کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔ یعنی یہ والی بات ہے، کیوں؟ اسے فرمایا
ترجمہ: تو یہاں سے نیچے اتر،
پھر یہ فرمایا،
ترجمہ: اب نکل جا، یقیناً تو ذلیلوں میں سے ہے“ ﴿13﴾
تو اس کا مطلب ہے رفعت اور ذلت۔ یہ بھی اس پر منحصر ہے کہ کون اللہ پاک کا حکم مانتا ہے اور کون اللہ کا حکم نہیں مانتا۔ جو اللہ پاک کا حکم مانتے ہیں، وہ ماشاءاللہ اللہ کے قریب ہوتے ہیں، ان کو اللہ عزت دیتے ہیں۔ اور جو اللہ پاک کا حکم نہیں مانتے، تو اس سے وہ حدیث شریف کا بھی جو مفہوم ہے سامنے آ جاتا ہے کہ جس نے اللہ کے سامنے اپنے آپ کو کم کر دیا، مَنْ تَوَاضَعَ للهِ۔ تو اللہ پاک اس کو بلند کر لیتا ہے، اس کے مرتبے کو بلند کر لیتا ہے۔ تو یہاں پر یہ والی بات آ گئی کہ جس نے بھی یعنی ایک تو یہ والی بات ہے کہ قرب اللہ پاک کا اس کو حاصل ہوتا ہے جو اللہ کا فرمانبردار ہوتا ہے۔ اس وقت تو اللہ پاک نے براہ راست حکم دیا تھا۔ یعنی تمام ملائکہ کو، جس میں اس وقت وہ بھی شامل تھا۔ لیکن ہم لوگوں کو شریعت کے ذریعے سے حکم ملا ہے۔ یعنی اللہ تعالی نے اپنے نبی کے ذریعے سے ہم تک اپنے احکامات پہنچائے ہیں۔ کتاب اللہ اور رسول اللہ کے ذریعے سے۔ تو ہمارے لیے پھر یہی بات ہے کہ ہم اگر اللہ پاک کا حکم مانیں گے، شریعت پر چلیں گے، اوامر و نواہی پر عمل کریں گے، تو اللہ پاک ہمیں اپنے قریب فرمائے گا۔ اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر اللہ پاک سے دوری ہے۔ مطلب یہ اس میں ہماری بات سامنے آ جاتی ہے۔ تو پھر یہی بات بھی کی گئی کہ اس کو کتنی مہلت دی گئی ہے۔ تو مہلت اس کو صرف، مطلب اس وقت تک دی گئی ہے کہ جب تک کہ وہ اللہ پاک کا جو دیا ہوا وقت ہے جو اللہ کے علم میں ہے، وہ پورا نہیں ہو جاتا۔
ترجمہ: کہنے لگا: ”اب چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، اس لئے میں (بھی) قسم کھاتا ہوں کہ ان (انسانوں) کی گھات لگا کر تیرے سیدھے راستے پر بیٹھ رہوں گا ﴿16﴾ پھر میں ان پر (چاروں طرف سے) حملے کروں گا، ان کے سامنے سے بھی، اور ان کے پیچھے سے بھی، اور ان کی دائیں طرف سے بھی، اور ان کی بائیں طرف سے بھی۔ اور تو ان میں سے اکثر لوگوں کو شکر گزار نہیں پائے گا“ ﴿17﴾ اللہ نے کہا: ”نکل جا یہاں سے، ذلیل اور مردود ہوکر۔ اُن میں سے جو تیرے پیچھے چلے گا، (وہ بھی تیرا ساتھی ہوگا) اور میں تم سب سے جہنم کو بھر دوں گا ﴿18﴾ اور اے آدم! تم اور تمہاری بیوی دونوں جنت میں رہو، اور جہاں سے جو چیز چاہو، کھاؤ۔ البتہ اس (خاص) درخت کے قریب بھی مت پھٹکنا، ورنہ تم زیادتی کرنے والوں میں شامل ہوجاؤ گے“ ﴿19﴾
تو یہاں پر جو بات سامنے آئی ہے وہ یہ ہے
حاشیہ: شیطان نے اپنی بدعملی کی ذمہ داری خود قبول کرنے کے بجائے (معاذ اللہ) اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر ڈالنے کی کوشش کی، حالانکہ تقدیر کی وجہ سے کسی کا اختیار سلب نہیں ہوتا، تقدیر کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ فلاں شخص اپنے اختیار سے فلاں کام کرے گا۔ نیز اُس کے کہنے کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اُس کو ایک ایسا حکم ہی کیوں دیا جو اُس کے لئے قابل قبول نہیں تھا، اس لئے بالواسطہ اُس کی گمراہی (معاذ اللہ) اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی وجہ سے ہوئی۔
یہ اصل میں شیطان سب سے مطلب میں عرض کروں گا کہ سب سے بڑا احمق ہے۔ اور اپنے آپ کو اس نے حماقت سے نقصان پہنچایا۔ یعنی ایک تو یہ بات ہے کہ کٹ حجتی کی اللہ جل شانہ کے ساتھ کہ اللہ پاک ظاہر باطن سب سے آگاہ ہے۔ تو کیسے وہ اللہ تعالی سے وہ اس قسم کی بات کر سکتا ہے؟ ایک تو یہ بات۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ یہ پھر دوبارہ کٹ حجتی کر رہا ہے۔ یعنی تو نے ایسا حکم مجھے دے دیا جس کی وجہ سے میں مطلب ایسا ہو گیا۔ تو تقدیر پر جو غلطیاں، دیکھو جو تکبر کرتا ہے، وہ بھی شیطان کے راستے پر ہے۔ اس سے پتہ چل گیا۔ اور جو تقدیر پر اپنی غلط باتوں کو ڈالتا ہے، وہ بھی شیطان کے ساتھ ہے۔ کیونکہ مطلب کوئی کہتا ہے، میری قسمت میں ہی یہ تھا۔ تو جو بھی اس طرح کرے گا تو وہ بھی شیطان کا ساتھی ہوگا۔ مطلب اس سے ہمیں یہ معلوم ہو رہا ہے۔ تو ایسی باتوں سے جس سے اس کا اتنا بڑا نقصان ہوا ہے، اتنا بڑا نقصان ہوا ہے، اتنا بڑا نقصان ہوا ہے۔ تو انسانوں میں بھی اس قسم کی باتیں ہو سکتی ہیں۔ تو اس سے بہت زیادہ گریز کرنا چاہیے اور بچنا چاہیے۔ اللہ تعالی ہم سب کو ایسے انجام سے بچائے۔
رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّئَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِ۔