انفرادی جواب دہی، اتباعِ وحی اور اچانک پکڑ سے غفلت کا انجام
درس نمبر 276، سورۃ الانعام، آیات: 164 تا 165 اور سورہ الاعراف آیات 1 تا 4، اشاعتِ اول: 10 اور 11 ستمبر، 2022، بمطابق 13 اور 14 مصفرالمظفر، 1444 ہجری
کوئی انسان دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔
انسان کو گناہ چھوڑ کر توبہ کا راستہ اپنانا چاہیے۔
سورۃ الاعراف میں رسالت اور آخرت کے دلائل موجود ہیں۔
نبی اکرم کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا۔
اللہ کی کتاب پر چلیں اور باطل سرپرستوں سے بچیں۔
خطرہ ٹلتے ہی انسان پھر غافل ہو جاتا ہے
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْ رَبًّا وَّ هُوَ رَبُّ كُلِّ شَیْءٍ ؕ وَ لَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ اِلَّا عَلَیْهَا ۚ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى ۚ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ (164) وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓىٕفَ الْاَرْضِ وَ رَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ ؕ اِنَّ رَبَّكَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ ٜ (165)
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
ترجمہ: کہہ دو کہ ”کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور پروردگار تلاش کروں، حالانکہ وہ ہر چیز کا مالک ہے؟ اور جو کوئی شخص کوئی کمائی کرتا ہے، اُس کا نفع نقصان کسی اور پر نہیں، خود اُسی پر پڑتا ہے، اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی اور کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ پھر تمہارے پروردگار ہی کی طرف تم سب کو لوٹنا ہے۔ اُس وقت وہ تمہیں وہ ساری باتیں بتائے گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے ﴿164﴾ اور وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں ایک دوسرے کا جانشین بنایا، اور تم میں سے کچھ لوگوں کو دوسروں سے درجات میں بلندی عطا کی، تاکہ اُس نے تمہیں جو نعمتیں دی ہیں، اُن میں تمہیں آزمائے۔ یہ حقیقت ہے کہ تمہارا رب جلد سزا دینے والا ہے، اور یہ (بھی) حقیقت ہے کہ وہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے ﴿165﴾
یہ بعض
حاشیہ: کفار کبھی کبھی مسلمانوں سے یہ کہتے تھے کہ تم ہمارے مذہب کو اپنا لو، اگر کوئی عذاب ہوا تو تمہارے حصے کا عذاب بھی ہم اپنے سر لے لیں گے، جیسا کہ سورۂ عنکبوت میں قرآن کریم نے اُن کی یہ بات نقل فرمائی ہے۔ یہ آیت اس کے جواب میں نازل ہوئی۔ اور اس میں یہ عظیم سبق ہے کہ ہر شخص کو اپنے انجام کی خود فکر کرنی چاہئے، کوئی دوسرا شخص اسے عذاب سے نہیں بچا سکتا۔ یہی مضمون سورۂ بنی اسرائیل سورۂ فاطر سورۂ زمر اور سورۂ نجم میں بھی آیا ہے۔ اس کی مزید تفصیل ان شاء اللہ سورۂ نجم میں آئے گی۔
ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ، انہوں نے ایک دفعہ فرمایا کہ ظاہر ہے حضرت ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین تھے، عربی ڈیپارٹمنٹ کے۔ تو وائس چانسلر کے ساتھ میٹنگ ہو رہی تھی۔ تو میٹنگ لمبی ہو گئی تو درمیان میں نماز کا وقت آ گیا۔ تو حضرت نے request کی کہ تھوڑی دیر کے لیے میٹنگ postpone کی جائے تو ہم نماز پڑھ لیں۔ تو وائس چانسلر جو تھے technically بڑے sound تھے لیکن خیالات کے لحاظ سے کچھ ایسے ہی تھے۔ تو اس نے کہا کہ آپ فکر نہ کریں آپ اجلاس جاری رکھیں، اگر کوئی مسئلہ ہوا تو مجھ سے اللہ پاک پوچھ لے گا۔ تو حضرت نے پھر یہی یہی آیت سنائی اس کو۔ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ۔ اللہ تعالی تو فرماتے ہیں کہ کوئی کسی اور کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ تو مطلب یہ ہے کہ یہ مسلمانوں میں بھی بعض لوگ، جس طرح یہ ایک صاحب تھے۔ اس کا بیٹا جو تھا وہ XEN تھا۔ تو یہ سول سروس، سول میں جو انجینئرنگ ہوتی ہے اس میں یہ رشوت وشوت بہت چلتی ہے۔ تو وہ ان کے والد صاحب بڑے لالچی تھے۔ تو ان کو کہتے ہیں بیٹا دب کے رشوت لے لیا کرو، سزا میرے اوپر۔ اس طرح دھڑلے سے کہتے تھے۔ آدمی کیا کہے جی، اپنی عاقبت کی جس کو فکر نہ ہو تو کچھ بھی کہہ سکتا ہے، یہ بات ہی بذات خود بہت خطرناک ہے۔ بہت خطرناک ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ کا مقابلہ ہے نا، مطلب ظاہر ہے۔ تو جو اس قسم کی باتیں کرتا ہے نا تو کر تو کچھ نہیں سکے گا لیکن اپنے آپ کو خراب کر دے گا۔ اور جو دوسرا اس کی مانے گا تو اس کی بھی کوئی بچت نہیں ہو گی۔ کیونکہ اس کو اپنے کیے کی سزا ملے گی بلکہ اس کی بھی سزا ملے گی کہ اس نے اس کی بات کیوں مانی۔ یہ بھی تو ایک مسئلہ ہے۔ تو جو اپنا گناہ ہے وہ تو اپنے سر ہے ہی، یہ جو اس نے بات کی، اس نے یہ بات مان لی، اس کی بھی سزا ہو گی۔ تو اس کا مطلب ہے کہ ہم لوگوں کو اپنے اپنے بارے میں سوچنا چاہیے۔ کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔ اور ہمارے ساتھ کیا معاملہ ہو گا۔ اللہ جل شانہ نے اخیر میں جو بات فرمائی بہت اہم ہے۔ فرمایا
ترجمہ: یہ حقیقت ہے کہ تمہارا رب جلد سزا دینے والا ہے، اور یہ (بھی) حقیقت ہے کہ وہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے ﴿165﴾
اللہ جل شانہ کبھی جذبات میں بات نہیں فرماتے، اللہ تعالی کے ہاں تو کوئی جذبات اس طرح ہیں ہی نہیں مطلب جس طرح ہمارے ہوتے ہیں، وہ تو اپنے ارادے سے سب کچھ کرتا ہے۔ تو جذبات تو ظاہر ہے اس کے سامنے نہیں آ سکتے۔ تو یہ ہے کہ اللہ جل شانہ اپنے ارادے سے چونکہ سب کچھ کرتا ہے لہذا غصے سے مغلوب ہو کر سزا نہیں دیتے اور اس طریقے سے ویسے بلاوجہ معاف نہیں کرتے، تو اس کا مطلب ہے کہ یعنی اللہ جل شانہ دونوں صفات کامل ہیں۔ وہ یہ ہے کہ بخشنے والا بڑا مہربان بھی ہے اور یہ ہے کہ جلد سزا دینے والا بھی ہے۔ اب ہم لوگوں کو وہ راستہ اختیار کرنا چاہیے جو اس کی مہربانی والا اور بخشنے والا ہو۔ مثلاً توبہ ہے۔ تو توبہ جب بھی انسان کرے تو اللہ بہت بخشنے والا ہے۔ اور بڑا مہربان ہے۔ اور سزا، سزا یہ ہے کہ گناہ ہے تو گناہ نہ کرے آدمی۔ بس یہی بات ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ ماشاء اللہ سورۃ الانعام کا ترجمہ اور حواشی، یہ مطلب ماشاء اللہ پورے ہو گئے۔ تو ان شاء اللہ اگلی جو سورۃ ہے الاعراف، وہ ان شاء اللہ العزیز شروع کی جائے گی۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو قرآن کے ساتھ محبت بھی نصیب فرمائے کیونکہ محبوب کا کلام ہے۔ اور قرآن کو سمجھنے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔ تاکہ اس پر ہم عمل کر کے اپنے محبوب رب اور مالک الملک رب کو خوش کریں اور راضی کریں۔
سورۃ الاعراف۔
تعارف: یہ سورت بھی مکی ہے۔ اس کا بنیادی موضوع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور آخرت کو ثابت کرنا ہے۔ اس کے ساتھ توحید کے دلائل بھی بیان ہوئے ہیں۔ اور متعدد انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات بھی تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔ خاص طور پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کوہِ طور پر تشریف لے جانے کا واقعہ سب سے زیادہ مفصل طریقے پر اسی سورت میں آیا ہے۔ ”اَعراف“ کے لفظی معنی بلندیوں کے ہیں۔ اور اصطلاح میں یہ اُس جگہ کا نام ہے جو جنت اور دوزخ کے درمیان واقع ہے، اور جن لوگوں کے اچھے اور بُرے اعمال برابر ہوں گے، اُن کو کچھ عرصے کے لئے یہاں رکھا جائے گا، پھر اُن کے ایمان کی وجہ سے آخرکار وہ بھی جنت میں داخل ہوجائیں گے۔ چونکہ اسی سورت میں اعراف اور اس میں رکھے جانے والوں کا بیان تفصیل سے آیا ہے، اس لئے اس کا نام سورۂ اعراف رکھا گیا ہے۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
الٓـمّٓصٓ ۚ (1) كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَیْكَ فَلَا یَكُنْ فِیْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنْذِرَ بِهٖ وَ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ (2) اِتَّبِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ(3) وَ كَمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا فَجَآءَهَا بَاْسُنَا بَیَاتًا اَوْ هُمْ قَآىٕلُوْنَ (4)
صَدَقَ اللهُ الْعَظِيمُ۔
حاشیہ:سورہ بقرہ کے شروع میں گزر چکا ہے کہ یہ جو
جیسے یہاں پر الٓمّٓصٓ، یہ حروف علیحدہ علیحدہ ہیں
حاشیہ: جو بہت سی سورتوں کے شروع میں آئے ہیں، ان کو ”حروف مقطعات“ کہتے ہیں، اور ان کے ٹھیک ٹھیک معنی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں ہیں۔ اور ان کے معنی سمجھنے پر دین کی کوئی بات موقوف بھی نہیں ہے۔
فرماتے ہیں
حاشیہ: یعنی آپ کو یہ پریشانی نہیں ہونی چاہئے کہ اس کے مضامین کو آپ لوگوں سے کیسے منوائیں گے، اور اگر لوگ نہ مانے تو کیا ہوگا؟ کیونکہ آپ کا فریضہ لوگوں کو ہوشیار اور خبردار کرنا ہے، اُن کے ماننے نہ ماننے کی ذمہ داری آپ پر نہیں ہے۔
ترجمہ: الٓمّٓصٓ ﴿1﴾ (اے پیغمبر!) یہ کتاب ہے جو تم پر اس لئے اتاری گئی ہے کہ تم اس کے ذریعے لوگوں کو ہوشیار کرو، لہٰذا اس کی وجہ سے تمہارے دل میں کوئی پریشانی نہ ہونی چاہئے، اور مومنوں کے لئے یہ ایک نصیحت کا پیغام ہے ﴿2﴾ (لوگو!) جو کتاب تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے اتاری گئی ہے، اس کے پیچھے چلو، اور اپنے پروردگار کو چھوڑ کر دوسرے (من گھڑت) سرپرستوں کے پیچھے نہ چلو۔ (مگر) تم لوگ نصیحت کم ہی مانتے ہو ﴿3﴾ کتنی ہی بستیاں ہیں جن کو ہم نے ہلاک کیا۔ چنانچہ ان کے پاس ہمارا عذاب راتوں رات آگیا، یا ایسے وقت آیا جب وہ دوپہر کو آرام کررہے تھے ﴿4﴾
اللہ جل شانہ قرآن پاک میں ہر وقت یعنی گویا کہ اس چیز سے آگاہ کر رہا ہوتا ہے کہ ہم جو ہے مطلب جو غلط نظریات ہیں اور من گھڑت سرپرست ہیں، ان کی باتوں میں نہ آئیں۔ اور جو صحیح authentic باتیں ہوں ان کو مانیں اور جو صحیح لوگ ہوں ان کے پیچھے چلیں۔ اب صحیح لوگ کون ہیں؟ تو ظاہر ہے یہ وہ لوگ ہوں گے جو انبیاء ہیں۔ انبیاء کو کیسے پہچانا جاتا ہے؟ ان کی گزشتہ زندگی جو ہوتی ہے وہ اس کی گواہی ہوتی ہے کہ مطلب انہوں نے کیسی زندگی گزاری ہے۔ نبی کبھی جھوٹا نہیں ہو سکتا۔ نبی کبھی جھوٹا نہیں ہو سکتا۔ تو جن کا جھوٹ کسی طریقے سے بھی ثابت ہو چکا ہو تو ظاہر ہے کہ وہ نبی تو نہیں ہو سکتا۔ اور دوسری بات ہے کہ نبی کا جو character ہے وہ loose نہیں ہوتا۔ وہ بہت بلند اخلاق کے ہوتے ہیں۔ تو وہ پھر ظاہر ہے مطلب اس قسم کی کوئی بات کسی میں بھی ہو، وہ نبی نہیں ہو سکتا۔ یہ اس صورت میں بات تھی جب انبیاء تشریف لا رہے تھے۔ سلسلہ جاری تھا۔ اب سلسلہ بھی پورا ہو گیا۔ کیسے پورا ہو گیا کہ جو سب سے زیادہ سچے تھے، یعنی اس وقت اور دوسری بات امین بھی تھے، پوری زندگی ان کی گواہ تھی، کفار بھی ان کے اخلاق پر کوئی انگلی نہیں رکھ سکتے تھے۔ تو انہوں نے کہہ دیا کہ اب سلسلہ ختم ہو گیا، میں آخری نبی ہوں۔ اور جو قرآن ان پر اتارا گیا ہے جس کی حفاظت کی گئی ہے، جس میں کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کر سکتا، اللہ جل شانہ نے اس کی حفاظت کی ہے، تو اس میں بھی یہ فرمایا گیا کہ سلسلہ نبوت کا ختم ہو گیا۔ لہذا اب اس وقت اس صورت میں اگر کوئی شخص نبوت کا دعویٰ کر لے اور اس سے کوئی یہ پوچھے کہ اگر تو نبی ہے تو کوئی معجزہ دکھاؤ، اس سے بھی وہ کافر ہو جائے گا۔ کیونکہ اس کا یہ سوال قرآن کی تکذیب ہو گی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی۔ تو کیسے مسلمان رہ سکتا ہے؟ تو اس وقت شعبدہ بازی بے شک ٹاپ پر کیوں نہ ہو۔ چاہے کتنی شعبدہ بازی کوئی کر لے، وہ نبوت کا دعویٰ نہیں کر سکتا کیونکہ ظاہر ہے جو ختم نبوت ہے وہ طے ہو چکی ہے، اب اس کے بعد کوئی آنے والا نہیں ہے نبی۔ یہ مطلب ایک بات ہے۔ تو یہاں پر یہ فرمایا گیا ہے کہ
ترجمہ: (اے پیغمبر!) یہ کتاب ہے جو تم پر اس لئے اتاری گئی ہے کہ تم اس کے ذریعے لوگوں کو ہوشیار کرو، لہٰذا اس کی وجہ سے تمہارے دل میں کوئی پریشانی نہ ہونی چاہئے،
حاشیہ: یعنی آپ کو یہ پریشانی نہیں ہونی چاہئے کہ اس کے مضامین کو آپ لوگوں سے کیسے منوائیں گے، اور اگر لوگ نہ مانے تو کیا ہوگا؟ کیونکہ آپ کا فریضہ لوگوں کو ہوشیار اور خبردار کرنا ہے، اُن کے ماننے نہ ماننے کی ذمہ داری آپ پر نہیں ہے۔
تو اول تو یہ بات مطلب یہ بتائی گئی ہے کہ یہ، اگر کوئی نہ مانے تو آپ کو پریشانی نہیں ہونی چاہیے۔
ترجمہ: اور مومنوں کے لئے یہ ایک نصیحت کا پیغام ہے ﴿2﴾
پھر فرمایا،
ترجمہ: (لوگو!) جو کتاب تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے اتاری گئی ہے، اس کے پیچھے چلو، اور اپنے پروردگار کو چھوڑ کر دوسرے (من گھڑت) سرپرستوں کے پیچھے نہ چلو۔
تو کتاب کی بھی بات ہو گئی، من گھڑت باتوں سے بچنے کی بھی بات ہو گئی، اور جو من گھڑت سرپرست ہیں ان کی بات بھی ہو گئی،
ترجمہ: (مگر) تم لوگ نصیحت کم ہی مانتے ہو ﴿3﴾
اصل میں انسان کے اوپر مختلف قسم کے عوارض کام کر رہے ہوتے ہیں، جن میں سب سے بڑا نفس ہے پھر اس کے بعد شیطان ہے۔ تو یہ انسان کو دور لے جاتا ہے۔ تو شیطان ہر وقت کوئی نہ کوئی طریقے سے لوگوں کو حق سے دور کرتا ہے، ان میں سے ایک ضد اور اکڑ بھی ہے۔ تو یہاں پر فرمایا مگر تم لوگ نصیحت کم ہی مانتے ہو، یہ ضد اور اکڑ۔
ترجمہ: کتنی ہی بستیاں ہیں جن کو ہم نے ہلاک کیا۔
یہ اب بتا رہے ہیں کہ اگر کوئی نہیں کرے گا تو اس کے ساتھ کیا ہو سکتا ہے۔
ترجمہ: چنانچہ ان کے پاس ہمارا عذاب راتوں رات آگیا، یا ایسے وقت آیا جب وہ دوپہر کو آرام کررہے تھے ﴿4﴾
تو عذاب کفار پر جو آتا ہے وہ الگ ہے۔ مسلمانوں کے اوپر جو آتا ہے وہ گناہوں کی سببات سے آتا ہے، وہ الگ ہوتا ہے۔ ظاہر ہے مطلب ہے کفار کے اوپر جو عذاب آتا ہے وہ تو ٹوٹل ہوتا ہے۔ جو پہلے آیا کرتا تھا، اب تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے ایسا عذاب نہیں آتا۔ جو پہلے آتا تھا کفار کے اوپر۔ اب مطلب یہ ہے کہ صرف گویا کہ یعنی جھٹکا دیا جاتا ہے۔ مکمل تباہی والی بات نہیں ہوتی۔ لیکن بہرحال اس وقت بھی عذاب آ سکتا ہے۔ تو یہ ساری چیزیں وہ اللہ تعالی کے قبضے میں ہیں۔ وہ کسی وقت کوئی بھی عذاب لا سکتا ہے۔ اب یہ عذاب تو، یہ جو سیلاب والا ہے، یہ تو ہے ہی۔ لیکن جس کا تو پھر بھی پتہ چلتا ہے کہ آنے والا ہے۔ Alarming ہو جاتی ہے۔ لیکن زلزلے کا کیا alarming ہے؟ وہ تو ابھی تک کوئی instrument ایسا ایجاد نہیں ہوا کہ زلزلے سے پہلے کسی کو بتایا جائے کہ زلزلہ آنے والا ہے۔ ہاں آ جائے، پھر اس کے بعد کیا ہو گا، اس کے بہت سارے instruments ہیں۔ لیکن ایسا کوئی نہیں ہے۔ تو انسان ہے، ذرا بس جلد باز ہے۔ جس وقت زلزلہ آیا تھا تو مجھے خوب یاد ہے کہ لوگوں نے مشہور کیا تھا کہ اب ایک اور جھٹکا بھی آنے والا ہے۔ میں eight four کی مسجد میں گیا تھا تو ایک آدمی بہت ماڈرن قسم کا تھا لیکن میرے پاس آتا ہے، کہتا ہے، میرا بچہ میرے سے کہہ رہا ہے کہ ابو میں نہیں مرنا چاہتا۔ مطلب یہ ہے کہ آپ کوئی دعا کر لیں کہ وہ نہ آئے۔ میں نے کہا کون مرنا چاہتا ہے؟ تو بہرحال یہ ہے کہ اس وقت پھر انسان ڈر جاتا ہے، لیکن پھر بعد میں جب وہ خطرہ ختم ہو، وہ ویسا کا ویسا رہ جاتا ہے۔ اور اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ یعنی جو وقتی طور پر ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ لیکن جس وقت خطرہ ٹل جاتا ہے بظاہر، حالانکہ ٹلا تو نہیں ہوتا۔ یعنی زلزلے کا خطرہ کب ٹلتا ہے؟ وہ تو کسی بھی وقت آ سکتا ہے۔ تو پھر اس کے بعد پھر ویسے کے ویسے ہو جاتے ہیں۔
ترجمہ: چنانچہ ان کے پاس ہمارا عذاب راتوں رات آگیا، یا ایسے وقت آیا جب وہ دوپہر کو آرام کررہے تھے ﴿4﴾
تو کچھ بھی پتہ نہیں چلتا۔ اللہ پاک ہماری حفاظت فرمائے اور ہمیں غلط راہوں پہ نہ چلنے دے۔ توفیقات دے دے کہ ہم صحیح کام کریں اور غلط کاموں سے بچیں۔ اور صحیح کاموں کی دعوت دینے کی اور غلط کاموں سے بچنے کی دعوت دینے کی ہمیں قبول فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔