سیرِ تشبیہ الیٰ تنزیہ: علم سے جہل، معرفت سے حیرت اور تزکیۂ نفس کے ذریعے مقامِ رضا کا حصول

دفتر اول، مکتوب: 272، اشاعتِ اول: 14 مارچ، 2018 بمطابق 25 جمادی الثانی 1439 ہجری، حصہ دوم

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

• تشبیہ سے تنزیہ کی طرف سیر۔

• علم سے جہل اور معرفت سے حیرت کی طرف روحانی ترقی (دائرۂ لا تعین)

• حضرت بایزید بسطامیؒ کی انتہا اور حضرت خواجہ نقشبندؒ کی ابتدا

• اسما و صفات کے بجائے خالص ذاتِ الٰہی کی طلب

• ممکنات کے آئینوں میں شہود کی نفی اور قال کو حال میں بدلنا

• نفس کی اصلاح و مجاہدات کے ذریعے نفسِ مطمئنہ اور مقامِ رضا کا حصول

اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔

آج بدھ کا دن ہے۔ بدھ کے دن ہمارے ہاں حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ، ان کے مکتوبات شریف کا درس ہوتا ہے۔ یہ بہت ہی معرکۃ الآراء مضامین پر مشتمل ہوتا ہے۔ اللہ جل شانہ ہمیں اس کی قدردانی کی توفیق عطا فرمائے اور حضرت کے فیوض و برکات سے ہم سب کو بیش از بیش حصہ نصیب فرمائے۔

شاید یہ لوگ انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات کو اپنے کمالات کی ترازو میں تولنا چاہتے ہیں اور ان کے کمالات کو اپنے کمالات کی مانند جانتے ہیں۔ ﴿كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ﴾ (الکہف: 5) ترجمہ: ”کتنی بھاری بات ہے جو ان کے منہ سے نکلی ہے“۔

کتنی بھاری بات ہے جو ان کے منہ سے نکلی ہے۔

چوں آں کرمے کہ در سنگے نہاں است
زمین و آسمان او ہماں است

وہ کیڑا جو کہ پتھر میں نہاں ہے
زمین و آسماں اس کا وہاں ہے

وہ کیڑا جو کہ پتھر میں نہاں ہے، زمین و آسماں اس کا وہاں ہے۔ یعنی کیڑے کا سارا کچھ ہی وہی ہو گا نا اس کو تو۔ جو بچہ ابھی ماں کے پیٹ سے باہر نہیں آیا، تو اس کی پوری دنیا ماں کا پیٹ ہے۔ اس کو تو کچھ پتا نہیں اور کہ دنیا میں اور بھی کچھ ہے۔ وہ تو کچھ اور چیز نہیں سمجھ سکتا۔

(حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کی) امت کا یہ کمینہ (اپنے آپ کو فرما رہے ہیں یعنی حضرت، خود مجدد رحمۃ اللہ علیہ) اس قسم کی معرفت سے جو شروع میں اس کو حاصل ہوئی تھی ندامت و استغفار کرتا ہے اور ایسا شہود جو نصاریٰ (عیسائیوں) کے حلول کے (عقیدہ کی) مانند ہے، اس پاک بارگاہ سے اس کی نفی کرتا ہے۔

اصل بات یہی والی بات ہے۔ وہ شہود جس میں آپ اللہ پاک کا گویا کہ چیزوں کی صورت میں مشاہدہ کرتے ہیں۔ اللہ کی طرف آپ دیکھ رہے ہیں لیکن وہ یوں سمجھ لیں کہ وہ چیزیں بھی اس کے ساتھ ہیں۔ تو فرمایا یہ تو حلول کا عقیدہ ہے۔ تو یہ میں تو ایسی چیز سے پناہ مانگتا ہوں۔

حضرت خواجہ نقشبند قدس سرہٗ فرماتے ہیں کہ ”جو کچھ دیکھا گیا، سنا گیا اور سمجھا گیا وہ سب اس کا غیر ہے۔ کلمہ "لا" کی حقیقت سے اس کی نفی کرنی چاہیے

اس کی وجہ یہ ہے کہ جو کچھ سنا گیا وہ ہمارے کانوں نے سنا، ہمارے دماغ نے اس سے نتیجہ نکالا۔ جو کہا گیا وہ کسی انسان نے کہا ہے۔ اور جو سوچا گیا وہ بھی کسی انسان نے سوچا ہے۔ چونکہ انسان کی سوچ کی رسائی وراء الوراء ذات تک نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا جو کہا گیا کہ یہ اللہ ہے، تو وہ اللہ نہیں ہے۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ کیونکہ اللہ کے لیے کوئی مثال نہیں ہے۔ اور مثال کے بغیر بات نہیں ہو سکتی۔ تو اللہ کے لیے اب آپ کیا بات کریں گے آپ، کہ اللہ ایسا ہے۔ کسی کے ذہن میں اللہ جل شانہ کی ذات کے بارے میں کوئی صحیح بات نہیں آ سکتی۔ کیونکہ اللہ جل شانہ کی ذات ان تمام چیزوں سے وراء الوراء ہے۔ اس تک آپ کا ذہن جا ہی نہیں سکتا۔ یہ فرمایا۔

لہذا کثرت میں وحدت کا مشاہدہ بھی نفی کے لائق ہے

یعنی آپ نے کثرت میں وحدت، یعنی اللہ پاک کا جو وہ کیا ہے، وہ بھی نفی کے لائق ہے کیونکہ آپ نے اپنے ذہن کو بنیاد بنا لیا۔ اپنی سوچ کو بنیاد بنایا۔

اور جو کچھ نفی کے لائق ہے وہ بھی اس جنابِ قدس سے منتفی اور دور ہے۔ حضرت خواجہ قدس سرہٗ کے اس کلام نے مجھ کو اس شہود سے نکالا اور مشاہدہ و معائنہ کی گرفتاریوں سے نجات بخشی

مطلب یہ ہے کہ دیکھو ایک تو ہوتا ہے نا تشبیہ، اور ایک ہوتا ہے تنزیہ۔ تشبیہ میں آپ تجلیات کو لے رہے ہوتے ہیں۔ مطلب جو تنزلات ہوتے ہیں، اس کو آپ لے رہے ہوتے ہیں۔ تنزیہ میں آپ اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف جا رہے ہوتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کی ذات وراء الوراء ہے۔ اس کا کوئی احاطہ نہیں کر سکتا۔ تو اس وجہ سے جو تشبیہات ہیں، تشبیہ، وہ ایک انسان جب سفر شروع کرتا ہے تو وہ تو تشبیہات میں ہو گا۔ اس کو تو آپ کسی مثال سے سمجھائیں گے، یہ ہے، وہ اس طرح، یہ اس طرح۔ یہ جتنی بھی مثالیں ہیں، یہ دم توڑتی جائیں گی۔ جتنے حجابات دور ہوں گی تو یہ دم توڑتی جائیں گی، توڑتی جائیں گی، توڑتی جائیں گی۔ حتی کہ یہ ساری کی ساری ختم ہو جائیں گی۔ تو یہ سیر تشبیہ الی تنزیہ، یہ ہوتا ہے۔ تو ہوتا ہے سے مراد یہ ہے کہ مجبوری ہے۔ ہوتا ہے، لیکن اس کا نتیجہ آخری کیا ہو گا؟ آخری نتیجہ اس کا تنزیہ ہونا چاہیے۔ اور وہ تنزیہ کیا ہے؟ کہ اللہ کی طرح کوئی نہیں ہے، "لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ"۔ یعنی جو آخری بات ہے، وہ وہی ہے جو قرآن پاک میں اللہ پاک کے لیے فرمایا گیا ہے، "لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ"۔

حضرت خواجہ قدس سرہٗ کے اس کلام نے مجھ کو اس شہود سے نکالا اور مشاہدہ و معائنہ کی گرفتاریوں سے نجات بخشی اور میرے اسباب (ہستی) کو علم سے جہل کی طرف۔۔۔

یعنی جو میں جانتا تھا وہ میں نے مان لیا کہ وہ جہل ہے۔ حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا ہے۔ فرمایا ہے کہ برسوں کے پڑھنے پڑھانے کے بعد جو چیز حاصل ہوئی، وہ یہ کہ پہلے ہم جہل مرکب میں تھے، اب جہل بسیط میں آ گئے۔ پہلے ہم یہ نہیں جانتے تھے کہ ہم جاہل ہیں، اب کم از کم اس بات کو جان رہے ہیں کہ ہم جاہل ہیں۔ یعنی پہلے ہم جس چیز کو علم سمجھتے تھے، وہ تو جہل تھا۔ یعنی اس کا علم سمجھنا جہل تھا۔ اب اتنا علم حاصل ہو گیا کہ اس کو ہم جہل سمجھ رہے ہیں، ترقی ہو گئی۔

تو یہاں بھی حضرت نے فرمایا کہ:

مجھے علم سے جہل کی طرف نکالا اور معرفت سے حیرت کی طرف لے گیا۔

دیکھو میں آپ کو ایک بات بتاؤں، ذرا سمجھانے کے لیے کہہ رہا ہوں، ویسے تو ٹھیک تو اس طرح نہیں ہو گا لیکن بہرحال صرف سمجھانے... وہی تشبیہ والی بات ہے نا تشبیہ، ابتدا میں تشبیہ ہوتی ہے پھر اس کے بعد وہ جاتا ہے تنزیہ کی طرف۔ انتہائی تیز روشنی آپ کے سامنے آ جائے تو آپ کیا کرتے ہیں؟ کیا ہو جاتا ہے؟ آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔ اور آپ کو کچھ نظر نہیں آتا۔ آپ کو کچھ نظر نہیں آتا۔ بعینہ یہی صورت ہے کہ جب چیزیں ایسی آ جائیں جو آپ کے دماغ کی range سے out ہوں۔ آپ کا دماغ اس پہ جم نہ سکے۔ اگر ایک بات اس طرح ہے تو دوسرا یہ ہے تو تیسرا یہ ہے تو چوتھا یہ ہے تو پھر کیا ہو گا؟ اس کو کیا کہیں گے؟ اسی کو حیرت کہتے ہیں۔ سمجھ میں آئی نا بات؟ اس کو حیرت کہتے ہیں۔

یعنی علم اتنا بڑھ جائے کہ آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ آپ کا دماغ اس کو سنبھال نہ سکے۔ اور اس کو سہار نہ سکے۔ تو نتیجہ کیا ہو گا، حیرت ہو گی۔ آپ کے اوپر انکشافات اگر ایسے ہونے لگیں کہ آپ کا ذہن اس کو سنبھال نہ سکے تو پھر کیا ہو گا؟ پھر ظاہر ہے حیرت ہو گی۔ تو فرمایا کہ یہ جو، علم سے جہل کی طرف آنا یہ بھی ترقی ہے۔ کیوں ترقی ہے؟ کہ ہم مخلوقات ہیں۔ مخلوق کا اصل کیا ہے؟ عدم ہے نا۔ تو ہم اپنی حقیقت کی طرف جا رہے ہیں نا۔ اگر ہم اپنے آپ کو جہل کی طرف نسبت کر رہے ہیں تو حقیقت کی طرف جا رہے ہیں نا۔ بات تو صحیح ہے۔ پہلے ہم جانتے نہیں تھے کہ ہم نہیں جانتے، اب تھوڑا تھوڑا جاننے لگے ہیں کہ نہیں ہم نہیں جانتے۔ تو اسی طریقے سے جو ہمارے یعنی معرفت یعنی ہم چیزوں کو پہچانتے تھے، لیکن وہ پہچاننا ایسا ہو گیا کہ اب تو بالکل سارا کچھ ختم ہو گیا اور حیرت میں تبدیل ہو گیا۔ کہ تعین ہی نہیں ہو سکتا کہ کون سی چیز ہے۔ دائرہ لا تعین۔ نقشبندی سلسلے کا کیا ہے؟ دائرہ لا تعین۔ ٹھیک ہے؟

میں صرف اسی ایک بات سے حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ کا مرید اور ان کا حلقہ بگوش مطیع ہوں، اور سچ بات تو یہ ہے کہ اولیاء میں سے شاید ہی کسی نے اس کلام کی مانند بات کی ہو اور تمام مشاہدات و معائنات کی اس طریقے سے نفی کی ہو۔ اس مقام میں ان کے اس کلام کی حقیقت کو ڈھونڈنا چاہیے جو کہ آپ نے فرمایا ہے: ’’معرفتِ خدا بر بہاء الدین حرام اگر ابتدائے و انتہائے با یزید نباشد‘‘۔ (یعنی بہاء الدین پر خدا کی معرفت حرام ہو اگر اس کی ابتدا بایزید کی انتہا نہ ہو)۔

کیونکہ حضرت بایزید رحمۃ اللہ علیہ اس بزرگی کے با وجود شہود و مشاہدے سے آگے نہیں بڑھے اور "سُبْحَانِیْ مَا أَعظَمَ شَانِیْ" (میں پاک ہوں اور میری شان بڑی ہے) کے تنگ کوچہ سے قدم باہر نہیں نکالا بخلاف ہمارے حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ کے کہ انہوں نے ایک ہی کلمہ "لا" سے ان کے تمام مشاہدات کی نفی فرما دی ہے اور سب کو غیر حق جل سلطانہٗ قرار دے دیا۔ ان (بایزید رحمۃ اللہ علیہ) کا تنزیہ حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک تشبیہ ہے اور ان کا بے چون (ان کے نزدیک) چون ہے اور ان کا کمال (ان کے نزدیک) نقص ہے۔ لہذا لازمی طور پر ان (بایزید رحمۃ اللہ علیہ) کی انتہا تشبیہ سے آگے نہیں گزری ہے جو ہمارے خواجہ رحمۃ اللہ علیہ کی ابتدا ہو گئی کیونکہ ابتدا تشبیہ سے ہے اور انتہا تنزیہ کے ساتھ۔ شاید کہ آخری حال میں حضرت با یزید رحمۃ اللہ علیہ کو اس نقص کی اطلاع بخش دی گئی ہو، کیونکہ موت کے وقت وہ کہتے تھے کہ "مَا ذَکَرتُکَ اِلَّا عَنْ غَفْلَۃٍ وَّ مَا خَدَمْتُکَ إِلَّا عَنْ فَتْرَۃٍ" (میں نے تجھ کو یاد نہیں کیا مگر غفلت سے اور میں نے تیری خدمت (عبادت) نہیں کی مگر سستی سے)۔

انہوں نے اپنے پہلے حضور (مشاہدے) کو غفلت سمجھا کیونکہ وہ حضور اللہ تعالیٰ کا حضور نہ تھا بلکہ ظلال میں سے ایک ظل کا حضور اور اس کے ظہورات میں سے ایک ظہور تھا، لہذا لازمی طور پر وہ حضرت جل سلطانہٗ سے غافل ہوئے۔ چونکہ وہ بلند و بزرگ ذات وراء الوریٰ ہے،

اچھا اس میں حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ، یہ اصل میں یہاں پر کہتے ہیں چھوٹا منہ بڑی بات والی بات۔ حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کا مقام بہت اونچا ہے۔ کیونکہ ان کو سید الطائفہ کہتے ہیں۔ سید الطائفہ۔ سید الطائفہ سے مراد یعنی پورے ایک اولیاء کے group کے سردار۔ ایک خاص group کے سردار ہیں۔ ایک سید الطائفہ ہیں حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ۔ یہ ان کا ایک الگ ذوق تھا اور بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک الگ ذوق تھا۔ تو وہ اپنے طور پر سید الطائفہ ہیں۔ لہٰذا ان کا جو مقام ہے، وہ ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ ان کے بارے میں ہمیں ادراک ہونا چاہیے۔

اصل بات یہ ہے کہ جن کا عروج زیادہ ہوتا ہے، ان کا نزول بھی اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے پھر۔ تو یہ جو حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کی یہ باتیں ہیں اس وقت عروج کی کیفیت کی ہیں۔ تو ان کا نزول بھی پھر اتنا ہی زیادہ ہو گا۔ نزول بھی پھر زیادہ ہو گا، تو نزول کی کیفیت کی بات وہی ہے جو حضرت ابھی فرما رہے ہیں آخری وقت میں۔ کہ انہوں نے پھر فرما دیا کہ میں نے تو۔ اور یہ بالکل وہی بات ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا نہیں فرمایا کہ میں نے تیری ثنا کا حق ادا نہیں کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم، یہی فرماتے ہیں نا؟ کچھ اس قسم کے الفاظ ہیں کہ میں نے تیری ثنا کا حق ادا نہیں کیا۔ تو حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ بھی یہی کہتے ہیں "مَا ذَكَرْتُكَ اِلَّا عَنْ غَفْلَةٍ وَمَا خَدَمْتُكَ اِلَّا عَنْ فَتْرَةٍ"۔

انہوں نے اپنے پہلے حضور (مشاہدے) کو غفلت سمجھا کیونکہ وہ حضور اللہ تعالیٰ کا حضور نہ تھا بلکہ ظلال میں سے ایک ظل کا حضور اور اس کے ظہورات میں سے ایک ظہور تھا، لہذا لازمی طور پر وہ حضرت جل سلطانہٗ سے غافل ہوئے۔

مطلب یہ ہے کہ حجابات دور ہوتے ہیں، وہ دور ہوتے ہیں، دور ہوتے ہیں۔ تو حجابات سے پھر ہر جو، یہ میں نے خود حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات میں پڑھا ہے۔ فرمایا کہ جو بزرگ ہوتے ہیں جو اللہ کے ولی ہوتے ہیں وہ جب اگلے قدم میں جاتے ہیں تو ان کو یہ گزشتہ والے گمراہی نظر آتی ہے۔ تو اس سے استغفار کرتے ہیں۔ مطلب جو گزشتہ مقام ان کا ہوتا ہے نا وہ ان کو چونکہ ترقی کر رہے ہوتے ہیں ترقی کی وجہ سے وہ پھر استغفار کرتے ہیں۔ اس پر استغفار کرتے ہیں۔

چونکہ وہ بلند و بزرگ ذات وراء الوریٰ ہے، تمام ظلال اور ظہورات اس کے مبادی و مقدمات ہیں، اور اس کے معارج (زینے) اور مُعِدّات (اسباب و ذرائع) ہیں، اور جو کچھ کہ حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے "ما نہایت را در بدایت درج می کنیم" (ہم نہایت (انتہا) کو بدایت (ابتدا) میں درج کرتے ہیں) عین واقعہ کے مطابق ہے۔ اس طریقۂ عالیہ کے ہدایت یافتہ مبتدی کو یہ دولت اپنے شیخ مقتدا سے جو اس کمال کے ساتھ مشرف ہوتا ہے، انعکاسی طور پر حاصل ہو جاتی ہے خواہ وہ اس کو جانیں یا نہ جانیں۔ لہذا لازمی طور پر کاملوں کی نہایت ان بزرگواروں کی بدایت میں درج ہو گی۔

اب اگر ہم وہی مکتوب نمبر 287 کی یہ بات لے لیں۔ تو مکتوب نمبر 287 میں حضرت نے جو ارشاد فرمایا تھا۔ وہ یہی ارشاد فرمایا تھا نا کہ ہم نے نہایت کو اس لیے بدایت میں درج کر لیا کہ حضرت نے فرمایا جیسے کہ ممکن ہے حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ لوگوں کو شوق دلانے کے لیے یہ کروا رہے ہوں حالانکہ جو جذبِ کسبی ہے وہ اور جذبِ وہبی میں بہت زیادہ فرق ہے۔ حضرت نے خود فرمایا نا۔ تو جو جذبِ کسبی ہے وہ تو اس کے مقابلے میں بہت کم ہے اور بلکہ جذبِ کسبی کے تو مامور انسان نہیں ہے صرف یہ ضرورت ہے۔ جس وقت جذبِ کسبی حاصل ہو گیا اس کے بعد تو پھر سلوک طے کرنا ہے۔ اور سلوک طے کرنے کے بعد پھر جذبِ وہبی عطا ہوتا ہے۔ جذبِ وہبی عطا ہوتا ہے۔ تو وہ جذبِ وہبی کی طرح تو جذبِ کسبی نہیں ہو سکتا۔ تو وہ جو نہایت کو ابتدا میں درج کیا تو اس میں صرف فرمایا کہ صورتاً اس کی طرح ہے۔ حضرت نے خود فرمایا۔ صورتاً نہایت ہے حالانکہ حقیقتاً نہایت نہیں ہے۔ حقیقتاً نہایت تو بعد میں آئے گا۔

حاصلِ کلام یہ ہے کہ اگر احدیت کی توجہ ان میں غلبہ پیدا کرے اور ظاہر کو بھی باطن کے رنگ میں رنگ دے تو سالک سفلی مشاہدات سے جو ممکنات کے آئینوں میں ظاہر ہوتے رہتے ہیں آزاد ہو جاتا ہے

یعنی احدیت سے مراد یہ ہے کہ اللہ جل شانہ کا جو وحدانیت ہے۔ اگر اس کی توجہ کی وجہ سے ظاہر کے ساتھ باطن بھی رنگا جائے۔ یعنی باطن پر بھی اس کا اثر چلا جائے۔ کیونکہ ظاہر پر اثر تو جاتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ اگر باطن بھی رنگا جائے۔ تو پھر کیا ہو گا سالک جو ہے

سفلی مشاہدات نیچے والے جو ہوتے ہیں سفلی۔

جو ممکنات کے آئینوں میں ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔

ممکنات سے مراد یہ ہیں جو چیزیں پیدا کی گئی ہیں۔ یعنی ممکن امکان ہے، کائنات جیسے ہے نا۔ تو وہ امکان سے ہے۔ امکان سے مراد یہ ہے کہ تخلیق، امر کن سے جو چیزیں وجود میں آ گئیں۔ تو ممکنات کے ائینوں میں ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ ممکنات کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ ممکنات کی صورت میں انسان کو جو مشاہدات ہو رہے ہوتے ہیں۔ "اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَاٰيَاتٍ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ"۔ یہ وہی ہے نا ممکنات ہیں نا۔ تو ممکنات کے آئینے میں مطلب ظہور ہے۔

آزاد ہو جاتا ہے اور معارفِ تشبیہی سے چھٹکارا پا جاتا ہے

یعنی معارف تشبیہی تشبیہ مطلب تشبیہات کی جو صورتیں ہیں وہ۔

اور اگر توجہ کا یہ غلبہ پیدا نہ ہو سکے اور صرف باطن پر ہی محدود رہے تو اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ بظاہر کثرت میں وحدت کے مشاہدے کی لذت پاتا ہے اور توحید و اتحاد سے محظوظ ہوتا ہے۔ لیکن یہ شہود ان کے حق میں ظاہر پر ہی محدود رہتا ہے اور باطن میں کچھ بھی سرایت نہیں کرتا اور ان کا باطن احدیتِ صرف کی طرف متوجہ رہتا ہے اور ان کا ظاہر کثرت میں وحدت کا مشاہدہ کرتا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ ظاہری نسبت کے غلبے کی وجہ سے باطنی توجہ معلوم نہ ہو اور شہود ظاہر کے علاوہ کوئی اور امر مفہوم نہ ہو۔ جیسا کہ ابتدا میں ان سطور کے لکھنے والے (حضرت مجدد رحمۃ اللہ علیہ) کا حال تھا کہ ظاہری نسبت کے غلبے کی وجہ سے باطنی توجہ جو احدیتِ صرف کی طرف تھی آگاہی نہیں رکھتا تھا اور کلی طور پر اپنے آپ کو کثرت میں وحدتِ شہود کی طرف متوجہ پاتا تھا۔ ایک مدت کے بعد حضرت حق سبحانہٗ نے باطن کی توجہ پر اطلاع بخشی اور باطن کو ظاہر پر نصرت دی اور معاملہ یہاں تک پہنچا دیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ سُبحَانَہٗ عَلٰی ذٰالِکَ۔ کیونکہ ابتدا ہی سے ان حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ کی توجّہ احدیتِ صرف کی طرف ہے اور اسم و صفت سے سوائے ذات تعالیٰ کے اور کچھ نہیں چاہتے۔

ذات کی طرف تھی۔ یعنی اسما و صفات جو ہے اس کی طرف توجہ نہیں تھی بلکہ ذات کی طرف توجہ تھی۔ تو چونکہ یہ جو ذات کی طرف توجہ ہوتی ہے انسان کو پھر اور چیز نظر ہی نہیں آتا۔ ذرا باریک قسم کی بات ہے لیکن اگر میں عرض کروں کہ اللہ جل شانہ کی صفات، بہت بڑی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات۔ اب جو اللہ کی ذات میں مشغول ہو،ا اس کو اللہ کی صفات کی طرف بھی دھیان نہ رہے۔ تو ان کو باقی چیزوں کی طرف کیا دھیان ہو گا؟ یعنی جو اللہ کی ذات میں اتنا مشغول ہوا، یعنی میں آپ کو بتاؤں، یہ بڑی مشکل چیز ہے سمجھانا لیکن بہرحال عرض کرتا ہوں۔

دیکھو، اللہ پاک کریم ہے، اللہ پاک رزاق ہے۔ اب میں رزق کی تلاش میں ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ کی رزاقیت کی صفت مجھ پر کھل جائے۔ کہ اللہ مجھے دے رہا ہے، رزق دے رہا ہے، یہ مجھ پر کھل جائے۔ اس کی وجہ سے میں اللہ پاک کی صفت رزاقیت میں فنا ہو جاؤں۔ اور اللہ تعالیٰ کے گن گانے لگوں، اللہ پاک رازق ہے، اللہ پاک رازق ہے، اللہ رازق ہے۔ لیکن اللہ پاک کی اور صفات بھی تو ہیں نا کہ اللہ پاک حکیم بھی ہے۔ اللہ جل شانہ حسیب بھی ہے۔ اس طرح اللہ جل شانہ صمد بھی ہے۔ اب یہ اور صفات ہیں۔ اب اگر اللہ پاک کی صفت صمدیت متوجہ ہو گئی۔ اور کچھ عرصے کے لیے رزق والا معاملہ گڑبڑا گیا۔ تو اب اگر یہ اللہ کی ذات کا عاشق نہیں ہے، تو پھر کیا ہو جائے گا؟ بس واپس چلا جائے گا۔ اوندھا ہو جائے گا۔ جہاں سے آیا تھا وہیں گیا چلا جائے گا واپس۔ ٹھیک ہے نا بات؟ لیکن اگر اس کی طبیعت میں ذرا عاشقانہ رنگ ہو مزاج عاشقانہ ہو۔ ہوتے ہیں بعض لوگوں کے مزاج عاشقانہ ہوتے ہیں۔ مزاج عاشقانہ ہو۔ ایسی صورت میں اللہ پاک کی صفت رزاقیت سے اللہ پاک کی ذات کی طرف متوجہ ہو گیا کہ اللہ پاک کی ذات، اس کی طرف۔ اور صفتِ رزاقیت بھول گیا۔ اب جس کے ساتھ محبت ہو جاتی ہے، اس کے لیے تو انسان کچھ بھی برداشت کر سکتا ہے۔ اب اگر اس کے رزق کو تنگ کر دیا گیا، مثال کے طور پر۔ وہ اسی سے مزہ اٹھائے گا، کہے گا یہ اللہ پاک کی طرف سے ہے۔ وہ واپس نہیں جائے گا۔ یہ کیا چیز ہے؟ یہ دو قسم کے لوگ دنیا میں پائے جاتے ہیں۔ یہ دو قسم کے لوگ دنیا میں پائے جاتے ہیں کہ کچھ لوگ ایک خاص چیز کے عاشق ہوتے ہیں۔ مثلاً آپ کو میں ذرا تھوڑا سا نیچے آ کر ایک اور چیز بتاؤں۔ پیروں میں جو لوگ فرق کرتے ہیں کیسے کرتے ہیں؟ ایک پیر ہوتا ہے کہ جو آپ کی دنیا کا خیال رکھتا ہے۔ اور ایک پیر آپ کے دین کا خیال رکھتا ہے۔ مثلاً جو دنیا کا خیال رکھتا ہے وہ آپ کی دنیا کے لیے دعائیں کرتا ہے۔ وہ آپ کے طریقے ان کو آتے ہیں اس کے ذریعے سے آپ کی مدد کرتا ہے کہ آپ کو جاب اچھی مل جائے آپ کا یہ فلاں کام ہو جائے آپ کے فلاں کام ہو جائے۔ تو ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ ایسے پیر کے تو لوگ گن گاتے ہیں۔ یہ بڑا زبردست پیر ہے۔ لیکن جو پیر کسی کے دین کی طرف متوجہ ہو اور اس کے دین کو بچاتا ہے اور دین پر سرزنش کرتا ہے دین ہی کے بارے میں باز پرس کرتا ہے تو اس کے ساتھ کتنے لوگ ہوتے ہیں؟ بہت کم لوگ اس طرف جاتے ہیں۔ تو بس یہی ہے۔ دو قسم کے لوگ یہاں بھی پائے جاتے ہیں۔ دو قسم کے لوگ یہاں بھی پائے جاتے ہیں۔

اب ذرا تھوڑا سا میں تھوڑا سا آگے آگے آہستہ آہستہ جاؤں گا۔ اللہ جل شانہ کی ذات کے پاس کسی چیز کی کمی تو نہیں ہے؟ کیا اللہ پاک آپ کو اس لیے کم دے گا کہ اس کے پاس خزانہ کم ہو گیا؟ یہ تو ہے نہیں۔ وہ تو صرف جانچ رہا ہے دیکھ رہا ہے کہ تو کس category میں ہے۔ اگر تو اس category میں ثابت ہو گیا کہ جو اس کا ہے۔ عین ممکن ہے کہ ایوب علیہ السلام کی طرح پھر بعد میں بڑے فتوحات کے دروازے کھول دے۔ پھر سب کچھ آپ کے اوپر کھول دے۔ لیکن اس سے پہلے پہلے اگر آپ واپس ہو گئے، turn ہو گئے۔ تو وہ تو گیا وہ point تو lose ہو گیا نا۔ وہاں پہنچ تو نہیں سکے آپ۔ تو اس طرح یہ جو اللہ والے خالصتاً اللہ کی طرف بلاتے ہیں، اور دین کی طرف ان کے متوجہ ہوتے ہیں، تو یہ ہرگز یہ بات نہیں ہے کہ ان کو دنیا ملے گی نہیں۔ ان کو دنیا انعام کے طور پر ملے گی۔ اگر ملے گی تو انعام کے طور پر ملے گی۔ طلب کے طور پہ نہیں ملے گی۔ پہلے والے کو طلب کے طور پہ ملتی ہے۔ طلب کے طور پہ ملتی ہے۔ اور دوسروں کو انعام کے طور پہ ملے گی۔ اب کہاں انعام اور کہاں طلب؟ یہ دونوں برابر تو نہیں ہو سکتے۔

حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ، ان کے پاس لوگ آتے تھے، بیٹھتے تھے، کیوں کہ حضرت بہت وسیع الظرف تھے۔ ہر قسم کے لوگوں کو accommodate کرتے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کے خلفاء میں حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ بہت scrutiny والے تھے۔ وہ چھانٹنے والے تھے، وہ چھانٹا کرتے تھے۔ لیکن حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی بہت وسیع الظرف تھے، بہت زیادہ۔ سب کو accommodate کرتے تھے۔ لہٰذا حضرت کے پاس ہر قسم کے ذوق کے لوگ آتے تھے۔

اسی طرح شاہ عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ، وہ ہر قسم کے لوگوں کو accommodate کرتے تھے۔ شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ بہت کانٹ چھانٹ کے۔ ہوتے ہیں مزاج ہوتے ہیں۔ تو حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے پاس کچھ لوگ آئے تھے۔ تو حضرت سے کہا کہ حضرت اگر کوئی اللہ اللہ کا نام سیکھنے کے لیے آئے تو ان کو بتا دیا کریں۔ تو فرمایا کہ اچھا بتا دیا کرو۔ یہ ایک terminology تھی ان دنوں خلافت کا۔ کہ اگر کسی کو بتا دیا جاتا کہ اللہ اللہ کا نام بتا دیا کرو کوئی آئے نا، تو اس کا مطلب ہے خلیفہ ہو گیا اس کا۔ لہٰذا انہوں نے اپنے آپ کو خلفاء سمجھ لیا۔ آگے جا کے حضرت نے اپنی لسٹ announce کر دی کہ میرے خلفاء کے نام یہ یہ ہیں۔ ان میں ان کے نام نہیں تھے۔ وہ آ گئے حضرت کے پاس۔ اور حضرت سے پوچھا کہ حضرت آپ نے تو ہمیں اجازت دے دی تھی۔ اور اس میں ہمارا نام تو نہیں ہے۔ فرمایا مانگے کی اجازت تھوڑی اجازت ہوتی ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نہ؟ مانگے کی اجازت تھوڑی اجازت ہوتی ہے۔ بس یہی طلب والی بات ہے۔ تو جو طلب کرنے والے ہیں ان کی بات اور ہوتی ہے اور جن کو انعام کے طور پہ ملتی ہے اللہ کی طرف سے، وہ بات اور ہوتی ہے نا؟ لیکن ذرا حوصلہ کرنا پڑتا ہے، وقت کے ساتھ ساتھ۔

وہ معارفِ توحیدی اور مشاہدات سفلی جو اس بزرگ خاندان (نقشبندیہ) کے بعض خلفاء سے ظاہر ہوئے ہیں، وہ بھی اسی قسم سے ہیں نہ یہ کہ یہ حضرات ظاہر و باطن میں شہود کی طرف متوجہ اور اسی معرفت میں گرفتار رہے ہیں بخلاف دوسرے (بزرگوں) کے جو ظاہر و باطن میں اسی شہود کے گرفتار رہتے ہیں اور اس شہود کو جامع تنزیہ و تشبیہ جان کر اسی کو کمال سمجھ بیٹھے ہیں۔ اس جماعت کا اگرچہ باطن بھی تنزیۂ صرف کے ساتھ ایمان رکھتا ہے لیکن ان کی گرفتاری دوسری چیز ہے اور ایمان کچھ اور، حال بھی اور ہے اور علم بھی کچھ اور، اور وہ جماعت جو تنزیۂ صرف کے ساتھ ایمان نہیں رکھتی اور مشاہدہ سفلی کے سوا دوسری کسی چیز پر اعتقاد نہیں رکھتی وہ ملحدوں (بے دینوں) میں سے ہے جو اس بحث سے خارج ہے۔

یعنی جو مشاہدات سفلی سے مراد یہ ہے کہ جو امکان یعنی جو چیزوں کے اندر جو مشاہدات ہوتے ہیں، وہ والی بات ہے۔ تو فرمایا کہ بعض نقشبندی حضرات سے بھی، خلفاء سے بھی اس قسم کی جو باتیں ظاہر ہوئی ہیں، وہ اسی قسم کے ہیں کہ۔۔۔

نہ کہ یہ حضرات ظاہر و باطن میں شہود کی طرف متوجہ اور اسی معرفت میں گرفتار رہے ہیں بخلاف دوسرے (بزرگوں) کے جو ظاہر و باطن میں اسی شہود کے گرفتار رہتے ہیں

مطلب یہ ہے کہ ان کا شہود جو ہوتا ہے نا شہود کہ میں گویا کہ مشاہدہ کر رہا ہوں۔ یہ بذات خود ایک عدم تکمیل ہے۔ حضرت نے فرمایا کہ مجھے مشاہدہ اور اس سے جو ہے نہ وہ معاینہ سے بچا لیا گیا۔ تو یہ جو شہود سمجھتے ہیں کہ مجھے نظر آ رہا ہے۔ تو ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ وہ تو تکمیل نہیں ہے؟ تو جو لوگ اس کو کمال سمجھ بیٹھے ہیں تو یہ تو کمال کی حالت نہیں ہے۔ اور فرمایا کہ:

جو اس جماعت کا اگرچہ باطن بھی تنزیہہ صرف کے ساتھ ایمان رکھتا ہے لیکن گرفتاری دوسری چیز ہے اور ایمان کچھ اور۔

ایمان اور ہوتا ہے اور مشغولی اور ہوتی ہے۔ ایمان دیکھو نا میں آپ کو بتاؤں۔ اس وقت مجھے آپ بتائیں کون شخص ہے جو یہ نہیں جانتا کہ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے علم کے لحاظ سے؟ کوئی ہے اس طرح؟ نہیں مسلمان تو کوئی بھی نہیں ہو گا۔ لیکن محسوس کتنے لوگ کر رہے ہیں؟ محسوس تو بہت تھوڑے لوگ کر رہے ہیں نا، کہ اتنا محسوس ہو جائے کہ آدمی کے اعمال کے اندر فرق محسوس ہو جائے۔ جیسے اللہ پاک کسی کو دیکھ رہا ہے نا۔ تو جیسے کیا واللہ پاک تو دیکھ ہی رہا ہے۔ "اَنْ تَعْبُدَ اللّٰهَ كَاَنَّكَ تَرَاهُ"۔ جیسے تو اللہ کو دیکھ رہا ہے اور اگر یہ نہیں تو اللہ تو بے شک تجھے دیکھ رہا ہے۔ تو بہرحال یہ ہے کہ جو گرفتاری ہے وہ اور چیز ہے اور ایمان کی بات اور ہے۔ باقی یہ ہے کہ جو جماعت جو تنزیہ صرف کے ساتھ ایمان بھی نہیں رکھتی، وہ تو ملحد ہے۔ ایمان تو سبحان اللہ سارے مسلمان رکھتے ہیں، لیکن وہ جو... سبحان اللہ، یہ جو کیفیت جو محسوس کرتی ہے سمجھنے کی، وہ، وہ اور ہے۔ اب کیفیت میں کیا ہے؟ کیفیت کو مشاہدہ کے طور پر مان لے یا کیفیت کو حیرت کے طور پر مان لے یہ دو مختلف چیزیں ہیں۔ تو فرمایا کہ مجھے علم سے جہل کی طرف لایا گیا، اور معرفت سے حیرت کی طرف لایا گیا۔ تو جو اصل لوگ ہیں، وہ حیرت کی طرف جاتے ہیں۔ کیوں؟ وجہ کیا ہے؟ چونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات وراء الوریٰ ہے، لہٰذا اس کا تو کوئی ادراک کر ہی نہیں سکتا۔ اس کا تو کوئی ادراک کر ہی نہیں سکتا۔ تو جو کہتا ہے کہ میں نے ادراک کر لیا، تو وہ تو ظاہر ہے۔ فرمایا کہ جس چیز کو تم سمجھتے ہو کہ یہ اللہ ہے، تو کہہ دو کہ یہ اللہ نہیں ہے۔ کیونکہ لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ۔ اللہ تعالیٰ کی طرح کوئی اور نہیں ہے۔

فقیر کے نزدیک ممکنات کے آئینوں میں حق جل و علا کا جو شہود جس کو صوفیہ کی ایک جماعت کمال جانتی ہے اور تشبیہ و تنزیہ کے درمیان جمع ہونا خیال کرتی ہے وہ در حقیقت حق جل و علا کا شہود نہیں ہے، ان آئینوں میں اس کا مشہود ان کے خيالی اور من گھڑت (تصور) کے سوا اور کچھ نہیں ہے

انہوں نے کچھ ذہن میں بنایا ہے، اپنے خیال میں کچھ بنایا ہے، اور اس کو سمجھتے ہیں کہ جیسے یہ اللہ ہے، حالانکہ وہ اللہ نہیں ہو سکتا، کیونکہ اس کی طرح کوئی مثال نہیں ہے۔

کیونکہ جو کچھ وہ ممکن میں دیکھتے ہیں، واجب تعالیٰ و تقدس نہیں ہے۔

مقصد میرا یہ ہے۔ یہ ذرا بہت باریک بحث ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات کا مشاہدہ تو کر سکتے ہو۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کا مشاہدہ نہیں کر سکتے ہو۔ مختصر بات۔ اللہ تعالیٰ کی صفات کا مشاہدہ کر سکتے ہو، اللہ تعالیٰ کی ذات کا مشاہدہ نہیں کر سکتے ہو۔ اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے روکا تھا۔ فرمایا تھا کہ اللہ کی ذات میں غور نہ کرو، اللہ تعالیٰ کی صفات میں غور کرو۔ اور قرآن میں بھی اللہ پاک کی ذات کی طرف تو نہیں، اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ، تو یہ خلق تو صفت ہے نا؟ خلق تو صفت ہے۔ تو حضرت نے ایک موقع پر یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جن لوگوں کو یہ وحدت الوجود کچھ اس معنی میں آیا کہ انہوں نے اپنے طور پر جو من گھڑت خیال بنا دیے، یہ ان کو سزا کے طور پر ہوا ہے کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشورے پر عمل نہیں کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا تھا کہ ذات میں غور نہ کرو۔ ذات کی طرف غور نہ کرو۔

دیکھو، میں آپ کو بتاؤں۔ "اَنْ تَعْبُدَ الله كَاَنَّكَ تَرَاهُ"۔ اس میں اچھی طرح غور کر لو، الفاظ۔ اتنے محفوظ الفاظ ہیں۔ كَاَنَّكَ تَرَاهُ، "اَنْ تَعْبُدَ الله كَاَنَّكَ تَرَاهُ"، جیسے تم خدا کو دیکھ رہے ہو۔ جیسے کا مطلب کیا ہے؟ یعنی حقیقت میں تو نہیں دیکھ رہے ہو۔ لیکن اس کا اثر تم وہ لو، جو خدا کو دیکھنے کا ہوتا۔ "اَنْ تَعْبُدَ الله كَاَنَّكَ تَرَاهُ"۔ "فَاِنْ لَّمْ تَكُنْ تَرَاهُ"، اگر تم یہ نہیں کر پا رہے ہو، نہیں دیکھ سکتے ہو، "فَاِنَّهُ يَرَاكَ"۔ یہاں پر یہ نہیں فرمایا جیسے وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔ یہاں پر فرمایا، "فَاِنَّهُ يَرَاكَ"، بیشک وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔ تو یہ جو دیکھ رہا ہے، یہ اس کے لیے، آپ کا علم کافی ہے۔ اس علم کو اپنے اوپر مسلط کر لو۔ اس علم کو اپنے اوپر مسلط کر لو، کہ واقعتاً اللہ تو مجھے دیکھ رہا ہے نا۔ مطلب یوں کہہ سکتے ہو اس علم کو کیفیت بنا دو۔ اس، اس قال کو حال میں تبدیل کر لو۔ آپ یوں کہہ سکتے ہیں۔ اس قال کو حال میں تبدیل کر لو۔ قال را بگذار مرد حال شو۔ یہ کیوں فرمایا؟ قال کو ایک طرف کر دو، مرد حال بن جاؤ۔ علم تو تجھے پہلے سے ہے، لیکن اس علم سے اب حال بنا دو نا، تاکہ تیرا حال بن جائے، تو اس سے متاثر ہو جائے۔

ایک بات یاد رکھنا چاہیے، میرے خیال میں اس پر مجھے ختم بھی کرنا چاہیے، بہت اہم بات ہے۔ ہمارا نفس ایک حقیقت ہے۔ اور یہ جو نفس ہے، یہ ایسی ظالم چیز ہے، کہ یہ تمہاری توجہ کبھی بھی کسی اور کی طرف نہیں جانے دے گا، اپنی طرف ہی رکھے گا۔ اس کو حدیثِ نفس کہتے ہیں نا؟ اپنی خواہشات کی طرف رکھے گا۔ ان خواہشات میں تم اللہ کو بھی بھول جاؤ گے۔ بات سمجھ آ رہی ہے یا نہیں آ رہی؟ ان خواہشات میں تم اللہ کو بھی بھول جاؤ گے۔ اب جب یہ والی بات ہے، تو اس کے لیے اتنی powerful کیفیت آپ کی ہونی چاہیے، کہ تم اس کیفیت کی وجہ سے ان خواہشات کو بھول جاؤ۔ اس کیفیت کی وجہ سے خواہشات کو بھول جاؤ۔

چلو جی، اب ذرا لڑائی شروع ہو گئی۔ مطلب یہ ہے کہ تم اس کیفیت کو پیدا کر رہے ہو، لیکن آیا تمہاری کیفیت اتنی strong ہے کہ ان خواہشات کو بھول سکتے ہو؟ جواب نفی میں ہے۔ جواب نفی میں ہے۔ اس صورت میں کیا کرو؟ کچھ مدد کرو اس کے ساتھ۔ وہ مدد کیا ہے؟ اپنے نفس کو تربیت دو۔ یعنی یہ جو نفس کی جو خواہشات ہیں، ان کی کثرت کو مٹا دو اس کی تربیت کے ذریعے سے۔ یعنی اس کی جو بار بار تم نفی کرو گے، تو اس کا جو زور ہے کمزور ہوتا جائے گا۔ جیسے جیسے تم اس کی نہیں مان رہے ہو تو یہ تمہارا ماننا شروع کرے گا۔ مجاہدات اور ریاضت کے ذریعے سے۔ اس مجاہدات اور ریاضت کے ذریعے سے جب تم نفس کے زور کو کم کرو گے، ہوتے ہوتے اس حد تک کم ہو جائے کہ تمہاری وہ روحانیت اس کے اوپر غالب ہو جائے۔ بس کام ہو جائے گا۔ کام ہو جائے گا نا؟ تو گویا کہ دو طرفہ کام ہے آپ کو۔ اپنی روحانیت کو بھی بڑھانا ہے اور ساتھ ساتھ نفس کے زور کو بھی توڑنا ہے۔ نفس کے زور کو بھی توڑنا ہے۔ یہ نفس کا زور جب تک ٹوٹا نہیں ہو گا اس وقت تک تمہاری روحانیت ٹھہر ہی نہیں سکتی۔ ٹھہر ہی نہیں سکتی۔

یہ وہی بات ہے جو بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا تھا ان کے کسی ہم عصر نے کہ حضرت آپ بھی وہی کر رہے ہیں جو ہم کر رہے ہیں لیکن آپ آپ ہیں اور ہم ہم ہیں، ایسا کیوں ہے؟ تو حضرت نے فرمایا جو تم کرتے ہو تمہارا نفس کھا جاتا ہے۔ جو تم کرتے ہو وہ تمہارا نفس، یعنی تم روحانیت کا پرواز کرتے ہو نفس تجھے پکڑ لیتا ہے اور کھا جاتا ہے۔ تو اوپر جا ہی نہیں سکتا۔ تو اب اس نفس کی جو اصلاح ہے وہ اپنی روحانیت کی بقا کے لیے ضروری ہے۔ ورنہ تم جذب میں آ کر دو تین چھلانگیں تو مار لو گے لیکن نفس تجھے بہت جلدی پکڑ لے گا، پھر نیچے لے آئے گا، پھر کچھ بھی نہیں کر سکو گے۔ اور پھر کچھ ہی دیر میں تم مایوس ہو جاؤ گے اور کہو گے کہ بھئی میرا اس پہ بس نہیں چلتا۔ میرا اس پہ بس نہیں چلتا۔ لیکن جس وقت کسی شیخ کامل کے ہاتھ میں ہو گے وہ تمہیں مایوس نہیں ہونے دے گا۔ وہ کہے گا بھئی نفس کا علاج کرو، نفس کا علاج کرو۔ روحانیت کی اچھل کود کو تھوڑا سا مؤخر کر لو، تم نفس کا پہلے علاج کر لو تاکہ تم stable ہو جاؤ۔ تو "اَنْ تَعْبُدَ الله كَاَنَّكَ تَرَاهُ" یہ کیفیت تب آپ کی stable ہو گی جب آپ کا نفس ماننا سیکھے گا۔ یعنی نفس مطمئنہ ہو جائے گا۔

جب نفس مطمئنہ ہو جائے گا تو قرآن کی نص ہے پھر۔ "يَآ اَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِيْ اِلٰی رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً فَادْخُلِيْ فِيْ عِبَادِيْ وَادْخُلِيْ جَنَّتِيْ"۔ یعنی مطمئنہ نفس کو خطاب ہے۔ مطمئنہ نفس وجود میں آ چکا ہو گا تو خطاب ہو گا نا؟ وجود میں نہیں آیا ہو گا تو خطاب کدھر ہو گا؟ تو مطمئنہ نفس کو خطاب ہے کہ اے مطمئن نفس! اپنے رب کی طرف لوٹ جا اس حالت میں کہ تو اس سے راضی ہے۔ اس سے پتا چلا کہ آخری مقام رضا ہے۔ آخری مقام کیا ہے؟ وہ رضا ہے۔ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً، اس کا نتیجہ اللہ پاک کی رضا کا ہے۔ فَادْخُلِيْ فِيْ عِبَادِيْ، اس کا نتیجہ اللہ پاک کی بندگی کا ہے۔ وَادْخُلِيْ جَنَّتِيْ، اس کا نتیجہ اللہ تعالیٰ کی جنت ہے۔ کیا خیال ہے؟ step by step ہر چیز سامنے ہے نا؟ تو بس یہی یہ ہے کہ ہمیں حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔

سیرِ تشبیہ الیٰ تنزیہ: علم سے جہل، معرفت سے حیرت اور تزکیۂ نفس کے ذریعے مقامِ رضا کا حصول - درسِ مکتوباتِ امام ربانیؒ - دوسرا دور