صراطِ مستقیم، اتباعِ قرآن اور اخلاصِ بندگی (دینِ ابراہیمی کی روشنی میں)

درس نمبر 275، سورۃ الانعام، آیات: 153 تا 163، اشاعتِ اول: 8 اور 9 ستمبر، 2022، بمطابق 11 اور 12 مصفرالمظفر، 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

قرآن کے ذریعے انسانوں پر اللہ کی حجت تمام ہوئی۔

آنکھوں سے مشاہدے کے بجائے دلائل پر ایمان معتبر ہے۔

قرآن میں کوئی تبدیلی نہ ہونا رسالت کی دلیل ہے۔

دین میں تفرقہ ڈالنے والوں سے رسول کا تعلق نہیں۔

تمام عبادات اور جینا مرنا صرف اللہ کے لیے ہے۔

دوسروں کو نصیحت کرنے سے پہلے اپنی اصلاح ضروری ہے۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْهُ ۚ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِیْلِهٖ ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ (153) ثُمَّ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ تَمَامًا عَلَى الَّذِیْۤ اَحْسَنَ وَ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ بِلِقَآءِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَ (154)

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: اور (اے پیغمبر! ان سے) یہ بھی کہو کہ: ”یہ میرا سیدھا راستہ ہے، لہٰذا اس کے پیچھے چلو، اور دوسرے راستوں کے پیچھے نہ پڑو، ورنہ وہ تمہیں اللہ کے راستے سے الگ کردیں گے۔“ لوگو! یہ باتیں ہیں جن کی اللہ نے تاکید کی ہے تاکہ تم متقی بنو ﴿153﴾ پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی تھی جس کا مقصد یہ تھا کہ نیک لوگوں پر اللہ کی نعمت پوری ہو، اور ہر چیز کی تفصیل بیان کر دی جائے، اور وہ (لوگوں کے لئے) رہنمائی اور رحمت کا سبب بنے، تاکہ وہ (آخرت میں) اپنے پروردگار سے ملنے پر ایمان لے آئیں ﴿154﴾

وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَ اتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ ۙ (155) اَنْ تَقُوْلُـوْۤا اِنَّمَاۤ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰى طَآىٕفَتَیْنِ مِنْ قَبْلِنَا ۪ وَ اِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِیْنَ ۙ (156) اَوْ تَقُوْلُوْا لَوْ اَنَّاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْكِتٰبُ لَكُنَّاۤ اَهْدٰى مِنْهُمْ ۚ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ صَدَفَ عَنْهَا ؕ سَنَجْزِی الَّذِیْنَ یَصْدِفُوْنَ عَنْ اٰیٰتِنَا سُوْٓ ءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یَصْدِفُوْنَ (157)

ترجمہ: اور (اسی طرح) یہ برکت والی کتاب ہے جو ہم نے نازل کی ہے۔ لہٰذا اس کی پیروی کرو، اور تقویٰ اختیار کرو، تاکہ تم پر رحمت ہو ﴿155﴾ (یہ کتاب ہم نے اس لئے نازل کی کہ) کبھی تم یہ کہنے لگو کہ کتاب تو ہم سے پہلے دو گروہوں (یہود و نصاریٰ) پر نازل کی گئی تھی، اور جو کچھ وہ پڑھتے پڑھاتے تھے، ہم تو اُس سے بالکل بے خبر تھے ﴿156﴾ یا یہ کہو کہ اگر ہم لوگوں پر کتاب نازل ہوجاتی تو ہم ان (یہودیوں اور عیسائیوں) سے یقیناً زیادہ ہدایت پر ہوتے۔ لو! پھر تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک روشن دلیل اور ہدایت و رحمت کا سامان آگیا ہے! اب اُس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ کی آیتوں کو جھٹلائے اور اُن سے منہ موڑ لے؟ جولوگ ہماری آیتوں سے منہ موڑ رہے ہیں، اُن کو ہم بہت بُرا عذاب دیں گے، کیونکہ وہ برابر منہ موڑے ہی رہے ﴿157﴾

جو یہود اور نصاریٰ تھے ان پر کتابیں تو نازل ہو گئی تھیں اور ان کو بھی اس میں ہدایت یعنی مل سکتی تھی اگر وہ اس سے ہدایت لینا چاہتے، اور ان پر بھی رحمت ہو سکتی تھی اگر وہ اس رحمت کو حاصل کرنا چاہتے، لیکن چونکہ انہوں نے اپنی کتابوں سے منہ موڑا اور ہدایت حاصل نہیں کی لہٰذا محروم رہے۔ اب یہ ہے کہ جن حضرات، جن مطلب، جو مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ کے جو یہود و نصاریٰ نہیں تھے تو ان کو یہ بات ہو سکتی تھی، ذہن میں آ سکتی تھی کہ اگر ہم پر کتاب نازل ہوتی تو ہم اس پر عمل کرتے۔ اور مطلب جو یہود و نصاریٰ پہ ہیں ان سے تو ہم بے خبر تھے۔ تو اللہ جل شانہ فرما رہے ہیں کہ تمہارے اوپر بھی حجت تمام ہو گئی ہے۔ اب تمہارے لیے بھی کتاب نازل کی گئی ہے جس میں تمہارے لیے ہدایت ہے اور اگر اس پر عمل کرتے ہو تو تمہارے لیے رحمت ہے۔ تو لیکن یہ ہے کہ اب، یعنی، کوئی انکار نہیں کر سکتا تو جو انکار کر رہے ہیں تو ظاہر ہے وہ نقصان میں جا رہے ہیں۔ اور اگر اس کتاب پر کوئی عمل کر لے اور آخرت کے دن پر یقین کر لے کہ اللہ کے ساتھ ملنا ہے تو اللہ جل شانہ اس پر رحمت فرمائے گا، ان کو وہاں پر کامیاب فرمائے گا۔ اور اگر ایسا نہیں ہے تو وہاں پر خسارے میں رہیں گے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو رسول اللہ اور کتاب اللہ، دونوں کے تعلیمات، دونوں کی تعلیمات پر پورا پورا عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ اَوْ یَاْتِیَ رَبُّكَ اَوْ یَاْتِیَ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ كَسَبَتْ فِیْۤ اِیْمَانِهَا خَیْرًا ؕ قُلِ انْتَظِرُوْۤا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ (158) اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِیْ شَیْءٍ ؕ اِنَّمَاۤ اَمْرُهُمْ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ (159) مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا ۚ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ (160) قُلْ اِنَّنِیْ هَدٰىنِیْ رَبِّیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ دِیْنًا قِیَمًا مِّلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا ۚ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ (161) قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۙ (162) لَا شَرِیْكَ لَهٗ ۚ وَ بِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ (163)

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: یہ (ایمان لانے کے لئے) اس کے سوا کس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں، یا تمہارا پروردگار خود آئے، یا تمہارے پروردگار کی کچھ نشانیاں آجائیں؟ (حالانکہ) جس دن تمہارے پروردگار کی کوئی نشانی آگئی، اُس دن کسی ایسے شخص کا ایمان اُس کے لئے کارآمد نہیں ہوگا جو پہلے ایمان نہ لایا ہو، یا جس نے اپنے ایمان کے ساتھ کسی نیک عمل کی کمائی نہ بکی ہو۔

یہاں جو نشانی ہے

حاشیہ: اس سے مراد قیامت کی آخری نشانی ہے، جس کے بعد ایمان قبول نہیں ہوگا، کیونکہ معتبر ایمان وہی ہے جو دلائل کی بنیاد پر ایمان بالغیب ہو، کسی چیز کو آنکھوں سے مشاہدہ کر کے ایمان لانے سے امتحان کا وہ مقصد پورا نہیں ہوتا جس کے لئے یہ دُنیا پیدا کی گئی ہے۔

اللہ جل شانہ نے ایک نظام بنایا ہوا ہے۔ اور اس میں اللہ پاک نے بہت سارے دلائل کے لحاظ سے جو نشانیاں رکھی ہیں مثلاً توحید کی نشانیاں ہیں، رسالت کی نشانیاں ہیں، آخرت کی نشانیاں ہیں۔ یہ چیزیں موجود ہیں، عقلاً اس کو مطلب یعنی انسان تسلیم کر سکتا ہے۔ تو یہ انسان سے مطلوب ہے۔ اگر کسی طریقے سے بھی اس کو خبر نہ ہو تو یہ نشانیاں اس کے لیے توحید کے لیے کافی ہیں، توحید کو سمجھنے کے لیے۔ اور اس کے ذریعے سے چونکہ رسالت سمجھ میں آ جاتی ہے کہ کوئی شخص ہونا چاہیے جو اللہ جل شانہ سے ہم تک بات پہنچائے۔ تو جب وہ صادق اور امین جیسی ہستی تشریف لائے اور وہ اس قسم کی باتیں کرے کہ اس کی ساری باتیں سچی ہوں اپنی زندگی میں، تو پھر ظاہر ہے اگر ان کی بات کوئی ایسی بات ہو جو اس سے متعلق ہو ایمان بالغیب سے، تو پھر اس کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ اب اس میں یہ بات ہے کہ جنہوں نے خود دیکھا ہو تو ان کے لیے تو وہی ہے۔ جو مطلب یعنی دلیل ہے جیسے آفتاب دلیل آفتاب است۔ لیکن جن لوگوں نے ان کو خود نہیں دیکھا ہو تو پھر ظاہر ہے دلائل کے ذریعے سے بات ہو گی، کس طرح کتاب کے ذریعے سے یا راویوں کے ذریعے سے۔ یعنی قرآن جو ہے وہ کتاب اللہ ہے۔ تو اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ یعنی تبدیلی مطلب کوئی جتنی بھی کوشش کر لے اس کے اندر کوئی تبدیلی نہیں کر سکا۔ پوری دنیا کے اندر ایک ہی قرآن ہے۔ اور اس وقت چودہ سو سال سے ایک ہی قرآن ہے، اس میں کوئی تبدیلی نہیں۔ تو یہ بہت بڑی دلیل ہے۔ تو یہ کتاب اللہ ہے اور پھر اس کے بعد جو احادیث شریفہ ہے اس میں جو راوی ہوتے ہیں ان کے حساب سے ان کو دلائل وہ دیکھنے ہوتے ہیں کہ اس میں کوئی انقطاع تو نہیں ہے۔ کوئی کسی پہ جھوٹ کا الزام تو نہیں ہے۔ تو یہ ساری چیزیں جو ہیں نا دیکھ کر احادیث شریفہ کا جو معیار مقرر کیا گیا ہے، اس کے مطابق ان کو پرکھا جاتا ہے۔ اور پھر اس کے اوپر بات کی جاتی ہے۔ تو یہ دلائل جو کتابی ہیں ان کے ذریعے سے جو ایمان بالغیب لاتا ہے وہی اصل مقصود ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور طریقہ نہیں کیونکہ مشاہدہ اگر ہو گیا، جیسے کسی کو دوزخ نظر آ جائے جنت نظر آ گیا، تو بس اس کے بعد تو پھر مطلب بات ختم ہو جاتی ہے۔ اللہ اکبر۔

ترجمہ: (لہٰذا ان لوگوں سے) کہہ دو کہ: ”اچھا، انتظار کرو، ہم بھی انتظار کر رہے ہیں۔“ ﴿158﴾ (اے پیغمبر!) یقین جانو کہ جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقہ پیدا کیا ہے، اور گروہوں میں بٹ گئے ہیں، اُن سے تمہارا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اُن کا معاملہ تو اللہ کے حوالے ہے۔ پھر وہ اُنہیں جتلائے گا کہ وہ کیا کچھ کرتے رہے ہیں ﴿159﴾ جو شخص کوئی نیکی لے کر آئے گا، اُس کے لئے اُس جیسی دس نیکیوں کا ثواب ہے، اور جو شخص کوئی بدی لے کر آئے گا، تو اُس کو صرف اُسی ایک بدی کی سزا دی جائے گی، اور اُن پر کوئی ظلم نہیں ہوگا ﴿160﴾ (اے پیغمبر!) کہہ دو کہ میرے پروردگار نے مجھے ایک سیدھے راستے پر لگا دیا ہے جو کجی سے پاک دین ہے، ابراہیم کا دین! جنہوں نے پوری طرح یکسو ہو کر اپنا رُخ صرف اللہ کی طرف کیا ہوا تھا، اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہیں تھے ﴿161﴾ کہہ دو کہ: ”بیشک میری نماز، میری عبادت اور میرا جینا مرنا سب کچھ اللہ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ﴿162﴾ اُس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اسی بات کا مجھے حکم دیا گیا ہے، اور میں اُس کے آگے سب سے پہلے سر جھکانے والا ہوں۔“ ﴿163﴾

تو ایک تو یہ بات ہے کہ پیغمبر کا تعارف کیا گیا۔ اور اس کی بات پر یقین کرنے کا فرمایا گیا ہے۔ اور جو یقین نہیں کرتے وہ نشانیوں کے انتظار میں ہوتے ہیں۔ تو ان کا انجام دکھایا گیا۔ اور پھر پیغمبر سے کہلوا دیا گیا کہ اللہ پاک نے مجھے سیدھے راستے پر لگا دیا ہے۔ جو کجی سے پاک دین ہے۔ اور وہ دین کس کا ہے، ابراہیم علیہ السلام مِلَّۃَ اَبِیْکُمْ اِبْرَاھِیْمَ۔یعنی ہمارا جو ابراہیم علیہ السلام ہیں ان کی جو ملت ہے۔ ان کی ملت کیا تھی، مطلب انہوں نے پوری طرح یکسو ہو کر مطلب تمام چیزوں سے کٹ کٹا کے اپنا رخ صرف اللہ کی طرف کیا تھا۔ اور شرک کرنے والوں میں نہیں تھے۔ اور پھر ظاہر ہے اس کا بنیادی تقاضا ہے کہ جب شرک نہیں ہے تو پھر کیا ہو گا،

ترجمہ: ”بیشک میری نماز، میری عبادت اور میرا جینا مرنا سب کچھ اللہ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ﴿162﴾ اُس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اسی بات کا مجھے حکم دیا گیا ہے، اور میں اُس کے آگے سب سے پہلے سر جھکانے والا ہوں۔“ ﴿163﴾

یعنی یہ نہیں کہ میں تمہیں بات کر رہا ہوں اور میں اس پر خود عمل نہیں کروں گا۔ بلکہ سب سے پہلے میں اس کے آگے سر جھکانے والا ہوں۔ اور یہی اصل بات ہے کہ جو حق راستہ ہوتا ہے، اس میں جو کہنے والا ہے اس پر خود عمل پہلے کرتا ہے۔ پھر اس کے بعد وہ دوسروں سے بات کرتا ہے۔ تو بہرحال یہ ہے کہ اس سے ہمارے پاس بھی ایک قانون آ گیا۔ کہ جب تک خود مطلب ظاہر ہے ہم اس پر عمل کرنے کے قابل نہ ہوں۔ تو وہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کی طرف متوجہ ہونے کی صورت میں اگر نقصان ہوتا ہو تو پھر اپنے اوپر متوجہ ہونا چاہیے۔ اپنی اصلاح سب سے پہلے ضروری ہے، اس کے بعد پھر کسی اور کو کہا جاتا ہے۔ یہاں پیغمبر نے خود اپنے بارے میں فرمایا کہ سب سے پہلے اس کے آگے میں سر جھکانے والا ہوں۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو اپنا تعلق خاص نصیب فرمائے۔ اور اپنے در پہ سر جھکانے کی توفیق ہمیں عطا فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔

صراطِ مستقیم، اتباعِ قرآن اور اخلاصِ بندگی (دینِ ابراہیمی کی روشنی میں) - درسِ قرآن - دوسرا دور