قرآنی منشورِ حیات: بنیادی عقائد، حقوق اور معاشرتی احکام
درس نمبر 274، سورۃ الانعام، آیات: 149 تا 152، اشاعتِ اول: 6 اور 7 ستمبر، 2022، بمطابق 9 اور 10 مصفرالمظفر، 1444 ہجری
اللہ زبردستی ہدایت نہیں دیتا، انسان خود شریعت پر چلے۔
شرک عقل کے خلاف اور سب سے بڑا ظلم ہے۔
والدین کا احسان مانو اور مفلسی میں اولاد مت مارو۔
یتیموں کا مال ہڑپ کرنا جہنم کا گڑھا ہے۔
ناپ تول میں انصاف کرو اور شیطانی وہم سے بچو۔
بات میں انصاف برتو اور اللہ کے عہد پورے کرو۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ ۚ فَلَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ (149) قُلْ هَلُمَّ شُهَدَآءَكُمُ الَّذِیْنَ یَشْهَدُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ هٰذَا ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ ۚ وَ لَا تَتَّبِـعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ هُمْ بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ (150)
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
ترجمہ: (اے پیغمبر! ان سے) کہو کہ: ”ایسی دلیل تو اللہ ہی کی ہے جو (دلوں تک) پہنچنے والی ہو۔ چنانچہ اگر وہ چاہتا تو تم سب کو (زبردستی) ہدایت پر لے آتا۔ ﴿149﴾
حاشیہ: یعنی تم تو فرضی دلائل پیش کر رہے ہو، لیکن اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کو بھیج کر اپنی حجت پوری کر دی ہے، اور ان کے بیان کئے ہوئے دلائل دلوں میں اُترنے والے ہیں۔ اُن کی تصدیق اس حقیقت نے بھی کر دی ہے کہ جن لوگوں نے انہیں جھٹلایا، وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے شکار ہوئے۔ لہٰذا یہ بات تو صحیح ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب کو زبردستی ہدایت پر لے آتا، لیکن اس سے تمہاری یہ ذمہ داری ختم نہیں ہوتی کہ تم اپنے اختیار سے پیغمبروں کے ناقابل انکار دلائل کو قبول کر کے ایمان لاؤ۔
ترجمہ: ان سے کہو کہ: ”اپنے وہ گواہ ذرا سامنے لاؤ جو یہ گواہی دیں کہ اللہ نے ان چیزوں کو حرام قرار دیا ہے“۔ پھر اگر یہ خود گواہی دے بھی دیں تو تم اُن کے ساتھ گواہی میں شریک نہ ہونا، اور اُن لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چلنا جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، اور جو دوسروں کو (خدائی میں) اپنے پروردگار کے برابر مانتے ہیں ﴿150﴾
بہرحال یہ جو بات ابھی فرمائی جا رہی ہے۔ بنیادی بات تو یہ ہے کہ جیسے بار بار یہ آتا ہے قرآن پاک میں کہ اللہ پاک زبردستی نہیں کرتا۔ اللہ جل شانہ نشانیاں بتاتا ہے۔ اللہ جل شانہ راستہ بتاتا ہے۔ اللہ جل شانہ سمجھاتا ہے۔ پیغمبروں کے ذریعے سے اور کتاب کے ذریعے سے۔ لیکن یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اللہ جل شانہ زبردستی کسی کو، کیوں؟ وجہ یہ ہے کہ اللہ پاک کا یہ قانون نہیں ہے اگر قانون ہوتا تو سب کو پہلے سے کر لیتا اور کوئی بھی اس اللہ پاک کے حکم سے ذرہ برابر بھی آگے پیچھے نہیں ہو سکتا۔ اگر اللہ چاہتا۔ تو جب اللہ پاک نے اس یہ نظام بنایا تو اس نظام کے مطابق چلنا چاہیے۔ جیسے مثال کے طور پر قوانین بھی اللہ پاک نے بنائے ہیں کہ آگ وہ جلاتی ہے اور پانی سے پیاس بجھتی ہے۔ اور چیزیں صاف ہوتی ہیں۔ اور اس طریقے سے زہر کھانے سے انسان مرتا ہے یا بیمار ہوتا ہے۔ اب یہ ساری چیزیں جو ہیں نا اللہ پاک کے قوانین ہیں۔ یعنی اس میں یہ تو نہیں ہے کہ ہم لوگوں نے کوئی اس میں قوانین بنائے، نہیں، قوانین تو اللہ تعالیٰ نے بنائے ہیں ہم صرف ان قوانین کے مطابق ان کو استعمال کر سکتے ہیں۔ سائنس بھی یہ تو نہیں کہتا کہ مطلب میں نے یہ چیزیں بنائی ہیں، ہاں البتہ سائنس ان چیزوں کو discovery کے بعد، تجربات اور مشاہدات کے بعد ان سے کام لینے کے طریقے سوچ سمجھ کر اور وہ وہ کر کے ان کو استعمال کرتے ہیں، اصل چیز تو ان کوئی بھی چیز انسان نے نہیں بنائی، سب اللہ تعالیٰ نے بنائی ہے۔ اب دیکھو ایک ذرہ ہے نا ایک ذرہ زمین کا۔ ذرہ، وہ بھی کوئی نہیں بنا سکتا۔ بنا ہوگا اس کو استعمال کیا جا سکے گا۔ جب بنا ہوگا، مثال کے طور پر اب جس material سے بنا ہے وہ material اللہ نے بنایا ہوگا۔ تو material تو خود نہیں بنا سکتا۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ جو ساری چیزیں ہیں یہ تو اللہ پاک نے بنائی ہیں، اس میں تو اللہ پاک کا جیسے قانون جاری و ساری ہے اسی طریقے سے اللہ پاک کا یہ قانون بھی جاری و ساری ہے کہ اللہ تعالیٰ زبردستی کسی کو مطلب ایمان پہ نہیں لاتا ہاں البتہ یہ ہے کہ جو محنت کرتا ہے، کوشش کرتا ہے اللہ اس میں مدد فرماتے ہیں۔ تو یہاں پر یہ فرمایا گیا ہے کہ تم اپنی ذمہ داری پوری کرو۔ اور وہ یہ ہے کہ ان تمام نشانیوں کو دیکھو اور اس سے سبق حاصل کر لو۔ اور اس سے معلوم کر لو کہ کیا ہو رہا ہے۔ تو یہ ساری چیزیں جب اللہ کی مرضی کے مطابق ہو رہی ہیں۔ تو ان کو تو اختیار نہیں دیا گیا یعنی دنیا کی یعنی تکوینی طور پر کسی چیز کو اختیار نہیں ہے۔ ہوا کو اختیار نہیں کہ اپنی مرضی سے چلے۔ پانی کو اختیار نہیں کہ اپنی مرضی سے چلے۔ اس طرح۔ کسی بھی چیز کو اختیار نہیں ہے یہ چیزیں کیا ہیں یہ بے اختیار ہیں۔ تو لہٰذا اللہ پاک اس کو جیسے استعمال کرنا چاہتا ہے یہ تو استعمال کر لے۔ تمہیں اختیار دیا گیا ہے۔ تم ان چیزوں سے سبق حاصل کر لو جو بے اختیار ہیں، اس سے دیکھو کہ کس کا اختیار اس پر چلتا ہے۔ اسی کے اختیار جو ہے وہ تم یعنی اختیاری طور پر استعمال کر لو، یعنی شریعت کو۔ اور شریعت پر عمل کر لو، جو اللہ پاک نے فرمایا ان کو مانو اور جن کو حرام قرار دیا ہے ان کو حرام مانو جن کو حلال قرار دیا ہے ان کو حلال مانو، حلال کو حرام نہ کہو، حرام کو حلال نہ کہو۔ جو چیز اللہ پاک نے جیسے بتائی ہے جیسے رکھی ہے جس طریقے سے برتنے کے لیے فرمایا ہے۔ اس پہ عمل کر لو اسی میں ہمارا فائدہ ہے۔ اللہ پاک ہم سب کو سمجھ کی توفیق عطا فرما دے۔
قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَیْكُمْ اَلَّا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَيْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا ۚ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَ اِیَّاهُمْ ۚ وَ لَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ ۚ وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ (151) وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗ ۚ وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ ۚ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا ۚ وَاِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْاَ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى ۚ وَ بِعَهْدِ اللّٰهِ اَوْفُوْا ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ ۙ (152)
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ۔
ترجمہ: (ان سے) کہو کہ: ”آؤ، میں تمہیں پڑھ کر سناؤں کہ تمہارے پروردگار نے (در حقیقت) تم پر کونسی باتیں حرام کی ہیں۔ وہ یہ ہیں کہ اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو، اور غربت کی وجہ سے اپنے بچوں کو قتل نہ کرو۔ہم تمہیں بھی رزق دیں گے، اور اُن کو بھی۔ اور بے حیائی کے کاموں کے پاس بھی نہ پھٹکو، چاہے وہ بے حیائی کھلی ہوئی ہو یا چھپی ہوئی، اور جس جان کو اللہ نے حرمت عطا کی ہے اُسے کسی برحق وجہ کے بغیر قتل نہ کرو۔ لوگو! یہ ہیں وہ باتیں جن کی اللہ نے تاکید کی ہے تاکہ تمہیں کچھ سمجھ آئے ﴿151﴾ اور یتیم جب تک پختگی کی عمر کو نہ پہنچ جائے، اُس وقت تک اُس کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ، مگر ایسے طریقے سے جو (اُس کے حق میں) بہترین ہو، اور ناپ تول انصاف کے ساتھ پورا پورا کیا کرو، (البتہ) اللہ کسی بھی شخص کو اُس کی طاقت سے زیادہ کی تکلیف نہیں دیتا۔ اور جب کوئی بات کہو تو انصاف سے کام لو، چاہے معاملہ اپنے قریبی رشتہ دار ہی کا ہو، اور اللہ کے عہد کو پورا کرو۔ لوگو! یہ باتیں ہیں جن کی اللہ نے تاکید کی ہے، تاکہ تم نصیحت قبول کرو ﴿152﴾
یہاں اللہ جل شانہ نے ان لوگوں کو ان کی جو غلط باتیں ہیں وہ گنوا کر کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کرتے ہیں اور جو چیزیں اللہ نے حلال کی ہیں ان کو حرام بتاتے ہیں اور جو حرام کی ہیں ان کو حلال سمجھتے ہیں۔ تو یہ ساری باتیں کرنے کے بعد اللہ جل شانہ نے ان کو ایک زندگی کا ایک منشور دے دیا ہے کہ تمہیں کس طرح کرنا چاہیے، تمہیں کیا کرنا چاہیے، تو اس میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ شرک نہیں کرنا چاہیے۔ شرک جو ہے وہ ظلم عظیم ہے۔ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ۔ اور واقعتاً، یعنی انسان دن کو رات کہے تو اس کو کیا کہیں گے؟ مطلب دن نظر آ رہا ہے لیکن آپ کہتے ہیں یہ رات ہے۔ تو اور اس پر جھگڑے بھی۔ اور جو کہے کہ یہ دن ہے تو ان کے ساتھ ہر طرح کے مقابلے پہ اترا ہے۔ اس پر ظلم کرے۔ اب اس کو پھر کیا کہیں گے؟ تو اللہ جل شانہ کے ایک ہونے کے دلائل عقل کے لیے بالکل واضح ہیں۔ مطلب جو بھی عقل سے کام لیں گے۔ اصل میں ہوتا کیا ہے؟ اللہ جل شانہ نے انسان کو تینوں چیزیں دی ہیں، عقل بھی دی ہے، دل بھی دیا ہے اور نفس بھی دیا ہے۔ دل جو ہے وہ جذبات، ایمان اور کفر، اور مطلب یہ ہے کہ اس قسم کے احساسات کی جگہ ہے۔ اور نفس جو ہے وہ خواہشات، ان کی اپنی خواہشات ہوتی ہیں ہر چیز کی، مطلب اس کی جگہ ہے۔ اور عقل جو ہے controlling power ہے۔ مطلب وہ دی ہوئی ہے۔ اب عقل جو ہے، مطلب وہ چیزوں کو جان سکتی ہے۔ عقل کے ذریعے سے انسان جان سکتا ہے۔ عقل کے ذریعے سے انسان جو ہے وہ analyze کر سکتا ہے۔ سوچ سکتا ہے۔ فیصلہ کر سکتا ہے۔ اب یہ بات ہے کہ انسان کے اوپر جذباتی باتیں حاوی ہو جاتی ہیں۔ اصل مشرکین کے پاس کیا دلیل تھی، کیا کوئی عقلی دلیل تھی؟ مطلب کوئی عقلی دلیل تو ان کے پاس نہیں تھی، عقلی دلیل تو ان کے خلاف تھی۔ صرف یہ بات کہ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو اس پر پایا ہے۔ اب یہ بتاؤ، یہ کیا چیز ہے؟ یہ ایک جذبہ ہے، اس میں سے اس میں سے کچھ بھی نہیں ہے۔ اور نفس کی خواہشات آڑے آتیں۔ اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ یہاں وہ عقل سے کام ہی نہیں لیتا ہے۔ بلکہ وہ عقل کی جب بھی بات آتی نا، تو تھوڑی دیر کے لیے مانتے اور پھر اس کے بعد کہتے، اوہو۔ تو اپنے بتوں کی مدد کرو، ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ جو مطلب ہوا تھا۔ ابراہیم علیہ السلام نے جب ان کو کہا تھا کہ پھر یہ ان سے پوچھو، یہ بڑے سے پوچھو۔ انہوں نے کہا، یہ تو بات بھی نہیں کرتے۔ تو انہوں نے کہا، پھر تم اس کو کیسے خدا مانتے ہو؟ اب یہ عقل کی بات تھی۔ پھر تم کیسے اس کو خدا مانتے ہو جب یہ کچھ بھی نہیں کر سکتا؟ اللہ تعالیٰ تو سب کچھ کر سکتا ہے۔ اب عقل کی بات جس وقت آ گئی تو تھوڑی دیر کے لیے وہ چونکے، اور انہوں نے کہا کہ ہم ہی ظالم ہیں۔ اور پھر فوراً کہا، وہ جو اپنے بتوں کی مدد کرنا چاہے تو آ جائے۔ اب یہ کیا چیز ہے؟ اس کو اب کس کھاتے میں ڈالیں گے؟ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ شرک جو ہے وہ ظلم عظیم ہے کہ یوں کہہ دیں کہ مطلب یعنی بالکل سامنے جو چیزیں آ رہی ہیں، آپ اس سے انکار کر رہے ہیں اور جو چیزیں نہیں ہیں، اس کا اقرار کر رہے ہیں۔ تو یہ بات ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جو بے حیائی کے جو کام ہیں، وہ ان کے قریب بھی نہ پھٹکو۔ یہ والی بات ہے۔ تھوڑی باتیں، مطلب یہ ہے کہ یہاں پر بھی باتیں آئی تھیں۔ اپنے والدین کا احسان مانو۔ اپنی اولاد کو رزق نہ ہونے کی وجہ سے قتل نہ کرو۔ یہ بھی ایک بڑی عجیب بات ہے۔ یعنی کم ہمتی کی طرف جانے والی بات ہے۔ ذرا غور کر لیں کہ ایک فرد آتا ہے دنیا میں۔ تو اس کے ساتھ دو ہاتھ آتے ہیں، دو پیر آتے ہیں، عقل آتی ہے، سارا کچھ۔ اب بجائے اس کے کہ آپ اس سے کام لے لیں۔ اور اس کے ذریعے سے اپنے مسائل بھی حل کروائیں۔ تو آپ کہتے ہیں نہیں، پھر میں اس کو کھانا نہیں کھلا سکوں گا، تو ٹھیک ہے، نہیں آنا چاہیے۔ ہاں، مطلب اس کو مار دیں۔ تو یہ والی بات وہ رزق کے نہ ہونے کی وجہ سے۔ اللہ پاک فرماتے ہیں، ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں، ان کو بھی دیں گے۔ اور پھر وہ جو بے حیائی کے کام ہیں اس کے قریب بھی نہ پھٹکو، چاہے کھلی ہو یا چھپی ہوئی ہو۔ یہ اصل میں بے حیائی کی جو باتیں ہیں نا، یہ ہر قسم کی منع ہیں۔ چاہے انسان کھل کے کرے یا چھپ کے کرے۔ آج کل یہ بڑے مسائل ہیں یہ موبائل وغیرہ کی وجہ سے کہ اس میں کھل کے کرنے سے تو انسان بچتا ہے، لیکن کسی حد تک، اب تو ذرا وہ بے حیائی ہو گئی کہ مطلب بعض دفعہ تو اس سے کھل کے بھی نہیں بچتے۔ لیکن بعض لوگ چوری چھپے وہ سارا کچھ کرتے ہیں۔ تو اس طرح کی چیزوں سے بہت بچنا چاہیے کیونکہ انسان کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے اور اللہ تعالیٰ ہر وقت ہر چیز کو دیکھ رہا ہے، اس کے لیے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے۔ پھر یہ ہے کہ خرید و فروخت کے معاملے میں، یہ دوسری بات ہو گئی۔ یعنی دیکھیں نا، پہلی بات شرک، جو ظلم عظیم ہے۔ پھر والدین، اس کا احسان۔ پھر اپنی اولاد کے جو حقوق ہیں۔ یعنی ان کے، ابھی آئے نہیں لیکن آپ ان کو مارنا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد پھر وہ جو ہماری زندگی اور معاشرت کی جو بڑی بات ہے کہ ہم کسی کے ساتھ دھوکہ نہ کریں اور ناپ تول میں کمی نہ کریں اور اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ کوئی بات ایسی نہ کریں جس سے ہمارے معاملات کی گندگی ہم میں آئے۔ تو اس میں پھر فرمایا کہ جس جان کو اللہ نے حرمت دی ہے، اسے برحق وجہ کے بغیر قتل نہ کرو۔ تو اگر ہم لوگ اس کو دیکھ لیں تو ہم لوگ یعنی اپنے معاملات جو ہیں ان کو درست کر لیں گے، اللہ پاک نے جن کے حقوق ہمارے ذمے کیے ہیں، ان کے حقوق ہم پورا کرنے کی کوشش کریں گے۔ اب دیکھ لیں اس میں سب سے زیادہ کمزور کی بات آ گئی ہے۔ مثال کے طور پر، یتیم۔ اب یتیم بالکل wholly solely dependent ہوتا ہے اپنے اولیاء پر۔ تو خدانخواستہ اگر کسی کے اندر رحم نہیں ہے تو یتیم اپنے مال کو تو نہیں بچا سکتا۔ ہاں، وہ تو سارے ہڑپ کر جائیں گے۔ اس وقت آپ ذرا دیکھیں گاؤں وغیرہ میں جو ہوتے ہیں قبضہ گروپ، وہ کیا کرتے ہیں؟ وہ یتیموں کا مال، بیواؤں کا مال، جو کمزور، غریب، جن کا کوئی نہیں ہوتا، ان کو مختلف بہانوں سے ہڑپ کر دیتے ہیں۔ ان میں زیادہ تر ان کے رشتہ دار ہوتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ کبھی چچا ہوتا ہے، کبھی دوسرا کوئی ہوتا ہے، مطلب ظاہر ہے ہر ایک نے اپنے اپنے ایک کوئی جہنم کا گڑھا بنایا ہوتا ہے۔ تو یہ بہت خطرناک بات ہے، مطلب یہ ہے کہ یتیم، ان کے مال کو۔ فرمایا
ترجمہ: اور یتیم جب تک پختگی کی عمر کو نہ پہنچ جائے، اُس وقت تک اُس کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ، مگر ایسے طریقے سے جو (اُس کے حق میں) بہترین ہو،
اور پھر فرمایا
ترجمہ: اور ناپ تول انصاف کے ساتھ پورا پورا کیا کرو، (البتہ) اللہ کسی بھی شخص کو اُس کی طاقت سے زیادہ کی تکلیف نہیں دیتا۔
یہ اصل میں خرید و فروخت کے وقت ناپ تول کا لحاظ کرنا تو واجب ہے، لیکن اللہ پاک نے یہ بھی فرمایا کہ اس میں اتنی ٹینشن بھی نہیں لینی چاہیے کہ جو کہ انسان کے بس سے باہر ہو۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی کو اس کے بس سے زیادہ وہ نہیں۔ وجہ کیا ہے؟ شیطان دونوں قسم کے وار کرتا ہے۔ کبھی یوں کرتا ہے کہ بالکل بے پروا کر دیتا ہے۔ اور کبھی یوں کرتا ہے کہ اتنا زیادہ پروا کرتا ہے کہ وہم میں مبتلا ہوجاتا ہے، اس کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔ تو اللہ جل شانہ جیسے کہ اس کے حق کے لیے بات فرماتے ہیں، اس طرح تمہارے لیے بھی بات فرماتے ہیں کہ تم بھی خراب نہ ہو۔ ہاں، بلکہ تم بھی اچھی طرح زندگی گزارو۔ تو اس میں یہ ہے، لَا يُكَلِّفُ ٱللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا، یعنی اللہ جل شانہ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔ لہٰذا جتنا یعنی انسانی حدود کے اندر ممکن ہے، اتنا کرو۔ جو possible ہے، اس کو کرو۔ جو impossible چیزیں ہیں، اس طرف نہ جاؤ۔ اور پھر یہ فرمایا کہ
ترجمہ: اور جب کوئی بات کہو تو انصاف سے کام لو، چاہے معاملہ اپنے قریبی رشتہ دار ہی کا ہو،
کیوں؟
ترجمہ: اور اللہ کے عہد کو پورا کرو۔
حاشیہ: اللہ کے عہد میں وہ عہد بھی داخل ہے جس میں براہِ راست اللہ تعالیٰ سے کوئی وعدہ کیا گیا ہو، اور وہ عہد بھی جو کسی انسان سے کیا گیا ہو، مگر اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر یا اُس کو گواہ بنا کر کیا گیا ہو۔
یہ انسان جذبات میں آ کر کہہ دیتے ہیں، اللہ گواہ ہے۔ یہ باتیں ایسی۔ اب کہہ تو دیتا ہے جوش میں۔ لیکن پھر اس کو پورا نہیں کرتا کہ اللہ گواہ ہے کا مطلب پھر کیا ہے؟ یعنی پھر اس طرح اس کی تمام چیزوں کو پورا کرنا چاہیے نا۔ تو پھر وہ پورا نہیں کرتے، تو اپنے آپ کو گنہگار کر دیتے ہیں۔ تو یہ والی بات ہے کہ عہد جو بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا ہو خود تو نے، یا پھر کسی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر کیا ہو تو پھر اس کو پورا کر لیا کرو۔ جیسے قسم کوئی کھاتے ہیں یا کوئی اس طرح۔ اللہ جل شانہ ہماری حفاظت فرمائے، یہ بہت ہی زیادہ اہم باتیں ہیں۔ اگر خدانخواستہ اس میں سے کمی بیشی ہو جائے تو صرف اس پہ نہیں رہتا نا، پھر آگے چیزیں بڑھتی ہیں کیونکہ یہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ برائی کے دروازے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ کوئی دروازہ بھی کوئی کھولے گا تو اس کے آگے پیچھے بہت مسائل ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔