تزکیۂ نفس اور غلبۂ محبتِ الٰہی

کتاب: پیغام محبت، درس 17، اشاعت اول: 1 اکتوبر 2013 بمطابق 24 ذو القعدہ 1434 ہجری، حصہ سوم

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

تزکیہ نفس اور اللہ تعالیٰ کی محبت کا غلبہ

دل میں الہامِ الٰہی اور شیطانی وساوس

دین کا ظاہر اور باطن

اللہ والوں کو دیکھ لینا اور صحبتِ صالحین

محبت کی کیفیات میں شریعت اور طریقت کی حفاظت

دل اور نفس کا تقابل اور عشقِ حقیقی

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ۔ أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ۔ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔

آج منگل کا دن ہے اور منگل کے دن ہمارے ہاں تزکیہ نفس کے لیے کچھ اشعار پڑھے جاتے ہیں اور ان کی تشریح کی جاتی ہے۔

کیفیات

ہجر کی آگ میں سلگتا ہوں ترستا رہتا ہوں میں انتظار میں
یہ کوئی گپ نہیں حقیقت ہے ایسا ہی ہوتا رہتا ہے پیار میں

میں کیسے چپ رہوں خموش رہوں دل مرا پھٹ نہ جائے اس غم سے
گو کہ معلوم ہے حقیقت اپنی کہ نہیں ہوں میں کسی بھی شمار میں

تجھ کو کیا ہے خبر اے دل میرے ترا محبوب کون ہے دیکھو
تجھ کو سنبھالوں میں کیسے اب کہ کچھ بھی نہیں ہے میرے اختیار میں

پیار میں جلنا تو کوئ ی بات نہیں کہ جلانا تو پیار کا حق ہے
مجھ کو ہے خوف کہ کروں نہ کبھی اپنے کپڑوں کو اس سے تار تار میں

یہ بہت عجیب شعر ہے۔ اس کی تشریح ضروری ہے۔

پیار میں جلنا تو کوئی بات نہیں کہ جلانا تو پیار کا حق ہے

یعنی محبت جس کو ہو جائے تو وہ تو اس کی وجہ سے جلے گا تو یہ محبت کا حق ہے، وہ جلائے گی۔ عشق کی آگ ہے، آگ تو جلاتی ہے نا۔ تو یہ ٹھیک ہے۔ لیکن کہتے ہیں خوف مجھے یہ ہے کہ کہیں میں اپنے کپڑوں کو اس سے تار تار نہ کر دوں اس کیفیت میں۔ یعنی کہیں مجھ سے شریعت کی خلاف ورزی نہ ہو جائے۔ مطلب مجھے پتہ نہ چلے اور شریعت کی خلاف ورزی کہیں نہ ہو جائے۔ اسی وجہ سے کہتے ہیں مطلب اس میں ہوش میں انسان رہے۔

پیار میں جلنا تو کوئی بات نہیں کہ جلانا تو پیار کا حق ہے
مجھ کو ہے خوف کہ کروں نہ کبھی اپنے کپڑوں کو اس سے تار تار میں

پلایا ساقی نے مجھ کو اتنا چھلک نہ جائے پیمانہ میرا
چھپانا راز دوست کا ہے شبیرؔ کہیں ناکام نہ ہوں اعتبار میں

ہجر کی آگ میں سلگتا ہوں ترستا رہتا ہوں میں انتظار میں

میرے ساقی نے، میرے شیخ نے اتنا مجھے اس عشق کے ساتھ اس محبت کے ساتھ وہ کر لیا کہ اب مجھے خطرہ ہے کہیں پیمانہ چھلک نہ جائے۔ اور دوسری طرف دوست کا راز رکھنا بھی ضروری ہے، اس کو بھی چھپانا ہے۔ تو مجھے ڈر ہے کہیں اس میں، کہیں میں ناکام نہ ہو جاؤں۔ وہی والی بات ہے کہ پیار میں جلنا تو کوئی بات نہیں، ہاں یہ دونوں طریق، یعنی ایک شریعت کی بات ہے، دوسری طریقت کی بات ہے۔ یعنی ایک میں شریعت کی حفاظت ہے اپنی محبت کے دوران اور دوسرے میں طریقت کی حفاظت ہے۔ کیونکہ محبت میں دونوں باتیں ہو سکتی ہیں۔ محبت میں یہ ممکن ہے کہ کسی جذبے کی وجہ سے کہیں شریعت کے خلاف کوئی بات نہ ہو جائے۔ اس پر چیک رکھنا پڑتا ہے۔

حضرت سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں -سبحان اللّٰه- جب میں اللہُ اللہ کا ذکر کرتا ہوں، کیفیات ہیں۔ جب میں اللہ اللہ کا ذکر کرتا ہوں تو میری بوٹی بوٹی تھرکنے لگتی ہے اور کہتے ہیں اگر مجھے شریعت کا وہ نہیں ہوتا تو میں ناچنے لگ جاتا۔ شریعت کا اگر خیال نہ ہوتا تو ناچنے لگ جاتا۔ یہ عالم ہیں، بہت بڑے عالم ہیں، معمولی عالم نہیں ہیں۔ سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ، یہ وہ چیز ہے جس کے بارے میں فکرمند ہوتے ہیں۔ تو اس میں ہے۔۔۔

پیار میں جلنا تو کوئی بات نہیں کہ جلانا تو پیار کا حق ہے
مجھ کو ہے خوف کہ کروں نہ کبھی اپنے کپڑوں کو اس سے تار تار میں

اور یہ دوسرا کیا ہے؟

پلایا ساقی نے مجھ کو اتنا چھلک نہ جائے پیمانہ میرا
چھپانا راز دوست کا ہے شبیرؔ کہیں ناکام نہ ہوں اعتبار میں

تو ایک میں شریعت کی حفاظت کا خیال ہے ایک شعر میں، دوسرے میں طریقت کی حفاظت کا خیال ہے۔ یہ دونوں کافی مشکل ہو جاتی ہیں۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جو دوست کے راز کو راز نہ رکھ سکے وہ دوستی کے قابل نہیں۔ جو دوست کے راز کو راز نہ رکھ سکے، وہ دوستی کے قابل نہیں۔ تو اب دیکھو کتنا مشکل ہوگا۔ مشکل تو ہوگا نا! تو یہ کیفیات ہیں، اس غزل کا نام کیا ہے؟ کیفیات۔ ذرا دوبارہ سن لیں۔

ہجر کی آگ میں سلگتا ہوں ترستا رہتا ہوں میں انتظار میں
یہ کوئی گپ نہیں حقیقت ہے ایسا ہی ہوتا رہتا ہے پیار میں

میں کیسے چپ رہوں خموش رہوں دل مرا پھٹ نہ جائے اس غم سے
گو کہ معلوم ہے حقیقت اپنی کہ نہیں ہوں میں کسی بھی شمار میں

مطلب یہ ہے کہ جو آ رہی ہے، اس کو میں کیسے برداشت کروں؟ مجھے تو یہ خطرہ ہے کہیں پھٹ نہ جاؤں۔ برداشت تو کرنا پڑے گا۔

تجھ کو کیا ہےخبر اے دل میرے ترا محبوب کون ہے دیکھو

ذرا دیکھ تیرے محبوب کا مقام کیا ہے، لیول کیا ہے؟

تجھ کو کیا ہےخبر اے دل میرے ترا محبوب کون ہے دیکھو
تجھ کو سنبھالوں میں کیسے اب کہ کچھ بھی نہیں ہے میرے اختیار میں

پیار میں جلنا تو کوئی بات نہیں کہ جلانا تو پیار کا حق ہے
مجھ کو ہے خوف کہ کروں نہ کبھی اپنے کپڑوں کو اس سے تار تار میں

یعنی میں کہیں شریعت کی خلاف ورزی نہ کروں، اس محبت کے غالب ہونے کی وجہ سے، کوئی ایسی بات نہ ہو جائے جو شریعت کے خلاف ہو۔ اور

پلایا ساقی نے مجھ کو اتنا چھلک نہ جائے پیمانہ میرا
چھپانا راز دوست کا ہے شبیرؔ کہیں ناکام نہ ہوں اعتبار میں

مطلب یہ ہے کہ شیخ نے مجھے اتنا عشق سے مانوس کر دیا کہ اب میرا پیمانہ کہیں اس سے نہ چھلک جائے اور حالانکہ اپنے دوست کا راز رکھنا یہ ضروری ہے۔

یادوں کے دریچے

یہ بہت اچھی غزل ہے۔ یادوں کے دریچے۔ دریچے کس کو کہتے ہیں؟ در سے ہے نا؟

دل کی یادوں کی دریچوں کو کھٹکھٹاؤں میں
جو میں جانوں کچھ کو پی جاؤں کچھ بتاؤں میں

وہ مجھے یاد رکھے میں جب اس کو یاد کروں

قرآن پاک کی آیت ہے: فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ۔

وہ مجھے یاد رکھے میں جب اس کو یاد کروں
اب ایسی پیار کی باتیں ذرا سناؤں میں

یاد ہے مجھ کو فخر اس نے کیا تھا ہم پر اس لئے چھوڑ کے سب، اس کی طرف آؤں میں

دل کی یادوں کی دریچوں کو کھٹکھٹاؤں میں
جو میں جانوں کچھ کو پی جاؤں کچھ بتاؤں میں

یہ آدم علیہ السلام کی پیدائش کے واقعے کی طرف اشارہ ہے کہ جب آدم علیہ السلام کو اللہ نے پیدا فرمایا اور فرشتوں سے اس کے بارے میں کہا کہ میں خلیفہ بنانا چاہتا ہوں، تو اس پر انہوں نے کہا کہ اللہ ایسے... تو اللہ پاک نے فرمایا کہ میں جو جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔ یہ فخر کیا اللہ پاک نے آدم علیہ السلام پر۔ تو اس فخر کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اس کی مرضی کے خلاف نہ کریں۔ اس نے اتنا اعتماد ہمارے اوپر کیا ہے، تو ہم اس کے خلاف نہ کریں۔

یاد ہے مجھ کو فخر اس نے کیا تھا ہم پر اس لئے چھوڑ کے سب، اس کی طرف آؤں میں

میں کیا پیار کروں پیار تو کرتے ہیں وہ
میں تو گڑ بڑ کروں اس پر بھی نہ شرماؤں میں

دل کی یادوں کی دریچوں کو کھٹکھٹاؤں میں

وہ تو ظاہر ہے اس کا پیار بھی ظاہر باہر
کھول کے رکھ دیا سب کچھ، کیا چھپاؤں میں

دل کی یادوں کی دریچوں کو کھٹکھٹاؤں میں

مجھ سے جو پیار پہ دیکھا تو جل گیا دشمن

یہ وہی ہے آدم علیہ السلام کی طرف۔

مجھ سے جو پیار پہ دیکھا تو جل گیا دشمن
اب تو شبیرؔ اس کو اور بھی جلاؤں میں

دل کی یادوں کی دریچوں کو کھٹکھٹاؤں میں

اس وقت جلنا تکوینی اعتبار سے تھا۔ اب جلنا تشریعی اعتبار سے ہو کیونکہ ہم شریعت پر جب عمل کریں گے تو دشمن جلے گا۔ تو اب اختیار سے ہم کر لیں وہ تو اختیار میں نہیں تھا وہ تو اللہ پاک نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اپنی مرضی سے اور شیطان جل گیا۔ تو اب چونکہ وہ جل گیا ہے تو اب اس کو اور بھی جلاؤں۔

کیا سے کیا ہوگیا

کچھ کہتے کہتے رک میں گیا کچھ رکتے رکتے کہہ بھی دیا آے جب میرے دل میں وہ تو اس میں فنا میں ہو بھی گیا

محبوب کی بات محبوب سے ہو آشکارا نہ ہو یہ غیروں پہ
بے صبری سے کچھ کہہ جو دیا تو اس پہ یہ پیغام ملا

مطلب خیال رکھنا چاہیے۔

محبوب کی بات محبوب سے ہو آشکارا نہ ہو یہ غیروں پہ
بے صبری سے کچھ کہہ جو دیا تو اس پہ یہ پیغام ملا

وہ مجھ کو کرے ہے اشارا یہ میں دیکھتا رہوں بس اس کو ہی
جب دیکھا میں نے اس جانب تو روتے روتے ہنس پڑا

مطلب جب اپنی طرف میں نے مائل دیکھا تو بس سارا غم رفو چکر ہو گیا اور خوشی کی لہر آ گئی۔

ہے کس کو خبر وہ چاہے مجھے ہاں چاہے مجھے بے حد بے حد
یہ اس کی ادا معلوم ہوئی تو اس کی جانب میں لپکا

یہ انسان کی بات بتا رہا ہوں انسان کی بات یہی ہے پھر انسان کو یہ observation ہونی چاہیے جو میں عرض کر رہا ہوں۔

ہے کس کو خبر وہ چاہے مجھے ہاں چاہے مجھے بے حد بے حد
یہ اس کی ادا معلوم ہوئی تو اس کی جانب میں لپکا

اس نے کہا اب صبر کرو کہ وقت ملن اب دور نہیں
میں شرم کے مارے پگھل ہی گیا جو اس کا پیار ایسا دیکھا

ہر جانب میرے وہ ہی ہے تو وصل کی کیا اب بات کروں
جو غم بھی ملن کا ہے دیکھو وہ بھی تو ہے میٹھا میٹھا

وہ کیا تھی زباں شبیرؔ جس میں وہ دل کی کتاب میں لکھتا ہے
میں دل کی آنکھ سے پڑھنے لگا تو اس سے غزل یہ لکھنے لگا

کچھ کہتے کہتے رک میں گیا کچھ رکتے رکتے کہہ بھی دیا
آے جب میرے دل میں وہ تو اس میں فنا میں ہو بھی گیا

راز راز رہے

یہ ایک ہے رباعی، حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کے ملفوظ سے ہے۔

جو دوست کے راز نہیں رکھتے ہیں راز
کرتے وہ دوستی سے ہیں اعراض
کہا چشتی معین الدین نے یہ
قابل دوستی نہیں یہ انداز

کیا کہنا

دل کی دنیا کی ہر اک بات کا ہے کیا کہنا
اپنے محبوب کے تصور میں ہمیشہ رہنا
اس کی ہر پیار کی نظر پہ ہو قربان ہونا
اور اس کی یاد میں چپکے چپکے یہ آنسو بہنا

عشق آگ ہے

عشق آگ ہے۔

عشق اک آگ ہے جس دل میں جلے
دل میں معشوق ہو کوئی اور نہ رہے

اور اگر یوں نہیں تو عشق ہی نہیں
اس کو گو عشق کوئی کتنا کہے

جب تلک عشق کسی دل میں نہ ہو
عشق کے حال کا یقین نہ کرے

یادِ معشوق میں عاشق رہے مست
چپکے چپکے بہیں آنسو اس کے

ہر وقت لب پہ ہو ذکرِ معشوق
اور اس کی یاد میں ٹھنڈی آہیں بھرے

ایک ہی خوف دل پہ چھایا رہے
اس سے محبوب کبھی ناراض نہ رہے

نفس کی چاہتیں اس کے ہوں خلاف
تو وہ ان چاہتوں سے کیسے دبے

خوش قسمتی سے یہ خالق سے ہو گر
اس کو شبیرؔ جی پھر کیا نہ ملے

یعنی اگر محبت کا یہ جذبہ خالق کے ساتھ ہو جائے تو -سبحان اللّٰه- سب کچھ حاصل ہو گیا نا۔

دل اور نفس کا تقابل

دل ہو اچھا اور نفس پر زور ہو
ہر وقت خواہشوں کا پھر دور ہو
دل تو روئے گا اور تڑپے گا
نفس کی آرزو تو do more ہو

نفس کی مثال

نفس اگر گاڑی ہے دل اس کا سوار
کردے ذکر اللہ سے اس کو پر بہار
جہد سے اس نفس کو مغلوب کر
تاکہ طاعت کے لئے ہو یہ تیار

خمار آلود کیفیت

ان کی نظروں کے جب حصار میں ہوں
میں اک عجیب سے خمار میں ہوں

کبھی ہے امتحان کبھی منزل
کبھی صحرا کبھی گلزار میں ہوں

کیا بنا خوب ہے اب ذوقِ حیات
ان کے در پر لگی قطار میں ہوں

یہ محبت ہے یا عقیدت ہے
کہ اک عالم اضطرار میں ہوں

سوچتے سوچتے میں اس کا پیار
اپنے مذکور کے اذکار میں ہوں

آپ کے قدموں میں ہو دیدار نصیب
میں اسی دن کے انتظار میں ہوں

کھوٹے سکوں کو جمع کرکے شبیرؔ
فضل کا اس کے امیدوار میں ہوں

ان کی نظروں کے جب حصار میں ہوں
میں اک عجیب سے خمار میں ہوں

نظر اس پہ رکھ

بس تو ہر حال میں نظر اس پہ رکھ
دل کی آنکھوں سے دیکھ اس کی جھلک
کٹ کے ہر ایک سے بَن اس کا تو
لطف پھر اپنی زندگی کا چکھ

عبث جان دینا

یہ ایک اصولی بات ہے۔

تُو اگر اپنا دل اسے دے گا

یہ بہت زبردست شعر ہے۔

تُو اگر اپنا دل اسے دے گا
تیرے کھوٹے سکوں کو لے لے گا
اور مگر دل میں اگر غیر آۓ
تو پھر عبث تُو جان دے دے گا

مِٹوں اس کے لیے

مٹایا پیار سے مجھے یوں کہ مٹوں اس کے لیے
اور مٹتے مٹتے لٹتے پٹتے بنوں اس کے لیے

مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک نے پیار سے، میرے ساتھ محبت کی، ایسے حالات پیدا کیے کہ اب میرے پاس یہی راستہ ہے کہ میں اس کے لیے مٹوں یعنی اس کے لیے اپنے آپ کو فنا کروں اور پھر یہ فنا فنا ہوتے ہوتے سب کچھ لٹتے پٹتے میں اسی کا بن جاؤں۔

موم ہوں موم کی طرح تو پگھل جاؤں میں
پھر وہ جلائے تو میں کیوں نہ جلوں اس کے لیے

عشق آتش ہے لگے تو وہ بجھائے نہ بجھے
اسی آتش ہی میں میں کیوں نہ رہوں اس کے لیے

نظر کرم کی تھی اس کی جوپڑی مجھ پہ یوں
نور ہی نور ہوا نور ہی ہوں اس کے لیے

وفا یہی ہے کہ دیکھوں وہ ہے راضی کس پر
اور اس کو دیکھ کے سب کچھ میں کروں اس کے لیے

خون روتی ہیں یہ آنکھیں مری دیدار کے لیے آنکھیں ہیں اس کے لیے کیوں نہ رؤوں اس کے لیے

چھلک چھلک جائے ساغر مری نظروں سے مگر دل شبیرؔ چاہتا ہے اور بھروں اس کے لیے

دوسرے پہ نظر کیسی

ہم تو مٹنے کے لیے آئے ہیں مٹیں ہم جتنے مٹ سکیں ہم یہاں
اور ہر طرف سے اٹھا اپنی نظر پڑی تھی تیری نظر جہاں جہاں
صرف وہ ایک ہی اب آئے نظر دیکھ اس کی مثال کوئی نہیں
یہ نظر دوسرے پہ کیسے پڑے کوئی کمی ہے کیا سوچ وہاں

مطلب یہ ہے کہ ہم تو اس دنیا میں مٹنے کے لیے آئے ہیں لہذا اس پہ جتنا مٹ سکے ہمیں کرنا چاہیے۔ اور ہمیں ہر طرف سے جہاں جہاں ہماری نظر ٹھہر گئی تھی وہاں سے اٹھنی چاہیے اور صرف ایک اب ہمیں نظر آنا چاہیے کیونکہ اس کی کوئی مثال نہیں ہے، اس کی طرح تو کوئی ہے نہیں۔ وہی مقصود ہے۔ تو یہ نظر کسی اور پہ پھر کیسے پڑ سکتی ہے؟ کیا ادھر کمی ہے کوئی؟

ہم تو مٹنے کے لیے آئے ہیں مٹیں ہم جتنے مٹ سکیں ہم یہاں
اور ہر طرف سے اٹھا اپنی نظر پڑی تھی تیری نظر جہاں جہاں
صرف وہ ایک ہی اب آئے نظر دیکھ اس کی مثال کوئی نہیں
یہ نظر دوسرے پہ کیسے پڑے کوئی کمی ہے کیا سوچ وہاں

معرکہ حق و باطل بسیفِ عشق

عشق آتش ہے جلاتا ہے یہ
دل میں معشوق ہی لاتا ہے یہ
حق کا ہو جب ہو کاٹ باطل کی
ایسے باطل سے بچاتا ہے یہ

مطلب عشق اگر حق کا ہو تو پھر یہ باطل کو کاٹے۔ اس طریقے سے پھر یہ باطل سے بچاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عشق حقیقی نصیب فرما دے۔

تزکیۂ نفس اور غلبۂ محبتِ الٰہی - عارفانہ کلام مجلس - اشاعت دوم