دین میں خود ساختہ نظریات، دنیا کا فریب اور آخرت کی حقیقت

درس نمبر 273، سورۃ الانعام، آیات: 144 تا 148، اشاعتِ اول: 5 ستمبر، 2022، بمطابق 8 مصفرالمظفر، 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

دنیاوی مقاصد کے لیے تحریف کرنا اللہ پر جھوٹ ہے۔

سرکشی کے سبب یہودیوں پر بعض حلال چیزیں حرام ہوئیں۔

دنیاوی خوشحالی اللہ کے پسندیدہ ہونے کی دلیل نہیں۔

قیامت کے مقابلے میں دنیاوی زندگی محض تین منٹ ہے۔

اللہ نے انسان کو امتحان کے لیے اختیار دیا ہے۔

شرعی قانون سے کوئی مستثنیٰ نہیں، آسانیوں پر شکر کریں

أَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ أَمَّا بَعْدُ. أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ. وَمِنَ الْإِبِلِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْبَقَرِ اثْنَيْنِ قُلْ ءَالذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنْثَيَيْنِ أَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ أَرْحَامُ الْأُنْثَيَيْنِ أَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ إِذْ وَصّٰكُمُ اللّٰهُ بِهٰذَا فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا لِيُضِلَّ النَّاسَ بِغَيْرِ عِلْمٍ إِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ. صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ. صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ.

اور اسی طرح اونٹوں کی بھی دو صنفیں یعنی نر اور مادہ اللہ نے پیدا کی ہیں اور گائے کی بھی دو صنفیں، ان سے کہو کہ کیا دونوں نروں کو اللہ نے حرام کیا ہے یا دونوں مادہ کو؟ یا ہر اس بچے کو جو دونوں نسلوں کے مادہ کے پیٹ میں موجود ہے، کیا تم اس وقت خود حاضر تھے جب اللہ نے تمہیں اس کا حکم دیا تھا؟ اگر نہیں اور یقیناً نہیں، تو پھر اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر اس لیے جھوٹ باندھے تاکہ کسی علمی بنیاد کے بغیر لوگوں کو گمراہ کر سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں پہنچاتا۔

یہ اصل میں بہت general بات ہے، اگرچہ اس مسئلے کے لیے کی گئی تھی لیکن اس میں سے ایک بہت general بات نکلتی ہے کہ جب بھی انسان اپنے کسی دنیاوی مقصد کے لیے قرآن اور حدیث میں تحریف کرتا ہے یعنی کوئی اور بات اس کے اندر شامل کرتا ہے تو یہ اللہ تعالی پر جھوٹ باندھنا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنا ہے۔ تو یہ بہت خطرناک بات ہے۔ تو یہاں پر تو اس ضمن میں یہ بات کی گئی ہے لیکن یہ کوئی بھی، کسی وقت بھی کرے گا تو یہ بہت خطرناک بات ہے، اللہ تعالی ہم سب کی حفاظت فرمائے۔

قُلْ لَّا أَجِدُ فِيْ مَا أُوْحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُوْنَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا. أَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِيْرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُوْرٌ رَحِيْمٌ. وَعَلَى الَّذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِيْ ظُفُرٍ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُوْمَهُمَا إِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُوْرُهُمَا. إِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُوْرُهُمَا أَوِ الْحَوَايَا أَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ذٰلِكَ جَزَيْنٰهُمْ بِبَغْيِهِمْ وَإِنَّا لَصٰدِقُوْنَ. فَإِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ رَبُّكُمْ ذُوْ رَحْمَةٍ وَّاسِعَةٍ وَلَا يُرَدُّ بَأْسُهُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِيْنَ. سَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ أَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا أَشْرَكْنَا وَلَا أَبَآؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِنْ شَيْءٍ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ حَتّٰى ذَاقُوْا بَأْسَنَا قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوْهُ لَنَا إِنْ تَتَّبِعُوْنَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنْ أَنْتُمْ إِلَّا تَخْرُصُوْنَ. صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ.

اے پیغمبر، ان سے کہو کہ جو وحی مجھ پر نازل کی گئی ہے، اس میں تو میں کوئی ایسی چیز نہیں پاتا جس کا کھانا کسی کھانے والے کے لیے حرام ہو۔ یعنی مطلب یہ کہ جن جانوروں کو بت پرستوں نے حرام قرار دے کر رکھا تھا ان میں سے کسی جانور کے بارے میں مجھ پر اللہ تعالی کی طرف سے کوئی ممانعت کا حکم، ان چار چیزوں کے سوا نہیں آیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دوسرے جانوروں میں بھی کوئی حلال جانور، حرام جانور نہیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر قسم کے درندوں وغیرہ کے حرام ہونے کی وضاحت فرما دی ہے۔ اصل میں بت پرستوں کی بات ہو رہی تھی اور general بات اور ہے۔ تو بت پرستوں نے جن چیزوں کو حرام قرار دیا تھا ان کا ذکر آیا کہ بھئی وہ تو نہیں ہیں۔ مطلب یہ ہے صرف یہ اور باقی یہ کہ general بات یہ ہے کہ پھر قرآن پاک میں مختلف جگہوں پر جن کا ذکر آیا ہے کہ حرام ہیں تو وہ حرام ہیں۔

اور یہودیوں پر ہم نے ہر ناخن والا جانور حرام کر دیا تھا اور گائے اور بکری کے اجزاء میں سے ان کی چربیاں ہم نے حرام کی تھیں۔ البتہ جو چربی ان کی پشت پر یا انتڑیوں پر لگی ہو جو کسی ہڈی سے ملی ہو، وہ مستثنی تھی۔ یہ ہم نے ان کی سرکشی کی سزا ان کو دی تھی اور پورا یقین رکھو کہ ہم سچے ہیں۔ یہود جو ہیں نا، وہ اس قسم کی، مطلب وہ چیزیں نکالتے تھے جس میں بے ادبی، گستاخی اور اپنے زعم میں کہ ہم منتخب لوگ ہیں، جو کچھ کرنا چاہتے ہیں کر سکتے ہیں، یہ کرتے تھے تو اللہ پاک کی طرف سے ان کے اوپر عتاب آیا اور بعض چیزیں ان پر روک دیں جو کہ پہلے نہیں رکی ہوئی تھیں۔

پھر بھی اگر یہ کافر تمہیں جھٹلائیں تو کہہ دو کہ تمہارا پروردگار بڑی وسیع رحمت کا مالک ہے اور اس کے عذاب کو مجرموں سے ٹالا نہیں جا سکتا۔ یعنی جھٹلانے والوں سے براہِ راست تو یہودی مراد ہیں کیونکہ وہ اس بات کا انکار کرتے تھے کہ مذکورہ چیزیں ان پر ان کی سرکشی کی وجہ سے حرام کی گئی تھیں۔ ضمناً اس میں مشرکین عرب بھی داخل ہیں جو قرآن کریم کی ہر بات کا انکار کرتے تھے، جس میں یہ بات بھی شامل تھی کہ دونوں فریقوں سے یہ کہا جا رہا ہے کہ ان کے قرآن کو جھٹلانے کے باوجود ان پر کوئی فوری عذاب نہیں آ رہا، بلکہ دنیا میں انہیں خوشحالی بھی میسر ہے تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ اللہ تعالی ان کے عمل سے خوش ہے۔ اس کے بجائے حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں اللہ تعالی کی رحمت اتنی وسیع ہے کہ وہ اپنے باغیوں کو بھی رزق دیتا ہے اور خوشحالی سے نوازتا ہے۔ البتہ یہ بات طے ہے کہ ان مجرموں کو ایک نہ ایک دن عذاب ضرور ہوگا۔ جسے کوئی ٹال نہیں سکتا۔

اصل میں یہی بنیادی بات ہے جو شیطان لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ کہ دنیا میں اگر کسی کو خوشی میسر آتی ہے تو سمجھتا ہے کہ میں اللہ پاک کے پسندیدہ لوگوں میں سے ہوں۔ یہ یہودیوں میں اور یہ ہندوؤں میں تو بہت زیادہ ہے۔ آج مطلب یہ ہے کہ وہ تو اس قسم کی بات کرتے ہیں۔ لیکن یہ جو زندگی ہے، خیر ہندو تو اس زندگی کو مانتے ہی نہیں ہیں۔ یہودی تو مانتے ہیں۔ لیکن یہ ہے کہ یہ جو زندگی ہے یہ تو ہے بہت عارضی۔ اگر یہاں پر کسی کو بادشاہ بھی بنا دیا جائے تو اس بادشاہت کا کیا فائدہ کہ موت کے ساتھ ہی اس پر ڈنڈے برسنے لگیں۔ اور پھر ختم نہ ہوں۔ تو یہ تو کوئی مطلب کمال کی بات نہیں ہے۔

اب اگر میں کسی کو کہہ دوں کہ دو باتوں میں سے ایک چن لو۔ یا تین منٹ میری بات مان لو، جو میں کہوں اس طرح کرو۔ یا پھر باقی دن جو تیرے ساتھ میں کرنا چاہوں گا میں کروں گا، چاہے الٹا لٹکا دوں، چاہے ماروں، چاہے کیا کروں، چاہے وہ مطلب وہ سارا کچھ مطلب یہ ہے کہ اب choice تمہارا ہے، تین منٹ تم یہ لینا چاہتے ہو یا باقی دن باقی وہ جو اس کا وہ ہے وہ advantage لینا چاہتے ہو۔ اب جو بھی عقل و ہوش والا ہو گا تو کیا فیصلہ کرے گا؟ وہ تین منٹ کا choice choose کرے گا یا وہ باقی دن والا choose کرے گا؟ ظاہر ہے وہ باقی دن والا choose کرے گا۔

اب باقی دن یہ میں نے صرف مثال دی ہے ایک دن کی۔ سمجھانے کے لیے کیونکہ بڑی چیز لوگوں کو سمجھ نہیں آتی۔ تو قیامت کا پہلا دن پچاس ہزار سال ہے۔ پچاس ہزار سال۔ اور پچاس ہزار سال اگر یہ تمہاری زندگی سو سال بھی ہو جائے تمہاری زندگی سو سال بھی ہو جائے تو پچاس ہزار سال کو اگر چوبیس گھنٹے مان لو تو سو سال تقریباً تین منٹ بنتے ہیں۔ تو اب تین منٹ گویا کہ آپ نے دنیا کے مزے select کیے ہیں۔ اور باقی وہ باقی جو چوبیس گھنٹے سے تین منٹ منفی کرو، پھر اس کے بعد مار کٹائی تیرے ساتھ ہو اور تو چیختا رہے۔ تو یہ کیسی بات ہے اور یہ صرف میں نے ایک دن کی بات کی ہے۔ وہاں تو نہ ختم ہونے والی زندگی ہے۔ تو ایسی صورت میں بہت ہی بیوقوفی کی بات ہوگی اگر کوئی کرنا چاہتا ہے۔ اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ اللہ کا شکر ہے، الْحَمْدُ لِلّٰهِ، کہ اللہ نے ہمیں بچایا ہے اور ہمیں اس پر فخر نہیں کرنا چاہیے، اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ ورنہ اگر ہم لوگوں کو بھی اللہ پاک ہدایت سے محروم کر دے تو ایک منٹ بھی نہیں لگتا مطلب یہ تو اللہ کا فضل ہے۔

جن لوگوں نے شرک اپنایا ہوا ہے وہ یہ کہیں گے کہ اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم کسی بھی چیز کو حرام قرار دیتے۔ یعنی یہ پھر تقدیر والی بات وہی جبری عقیدے کی بات ہے۔ تو یعنی اگر اللہ ہمیں مجبور کرتے تو ہم نہیں کر سکتے تو اللہ پاک کسی کو مجبور نہیں کرتا۔ البتہ بتا دیتا ہے۔ اور پھر قانون اس کا چلتا ہے۔ یہ پھر وہی بیہودہ دلیل ہے جس کا جواب بارہا دیا جا چکا ہے یعنی یہ اگر اللہ کو شرک ناگوار ہے تو ہمیں شرک پر قدرت ہی کیوں دیتا ہے؟ جواب بار بار دیا ہے کہ اگر اللہ تعالی ساری دنیا کو اپنی قدرت کے ذریعے زبردستی ایمان پر مجبور کر دے تو پھر امتحان کیا ہوا؟ دنیا تو اسی امتحان کے لیے پیدا کی گئی ہے کہ کون شخص اپنی سمجھ اور اپنے اختیار سے وہ صحیح راستہ اختیار کرتا ہے جو اللہ تعالی نے ہر انسان کی فطرت میں بھی رکھ دیا ہے اور جس کی طرف رہنمائی کے لیے اتنے سارے پیغمبر بھیجے ہیں۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو صحیح راستہ چننے کی توفیق عطا فرما دے۔

ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی اس طرح رسولوں کو جھٹلایا تھا یہاں تک کہ انہوں نے ہمارے عذاب کا مزہ چکھ لیا تو ان سے کہو کہ کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے جو ہمارے سامنے نکال کر پیش کر سکو؟ تم تو جس چیز کے پیچھے چل رہے ہو وہ گمان کے سوا کچھ نہیں اور تمہارا کام اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہمی اندازے لگاتے رہو۔ تو واقعتاً جس کے پاس کتاب نہ ہو تو پھر تو وہمی اندازے ہی لگائے گا۔ اور جس کے پاس کتاب ہے لیکن وہ کتاب کو follow نہیں کرتا اس کے خلاف کرتا ہے تو وہ بھی وہمی اندازے لگائے گا۔ مثلاً یہودیوں نے وہمی اندازہ لگایا کہ ہم منتخب لوگ ہیں۔ اور لاڈلے ہیں۔ ہمیں اول تو عذاب دیا نہیں جائے گا اور اگر دیا جائے گا تو بہت تھوڑا سا۔ اب یہ ان کا وہمی اندازہ تھا، اس کا کوئی اللہ تعالی نے ان کو کتاب میں کچھ نہیں کہا تھا۔

اپنی طرف سے انہوں نے، یا یہ آج کل مثال کے طور پر بعض سادات اپنے بارے میں اندازہ لگا رہے ہیں کہ بھئی ٹھیک ہے جی، ہمیں عمل کرنے کی کیا ضرورت ہے، ہم تو پیدائشی بزرگ ہیں۔ تو ظاہر ہے مطلب ہے کہ یہ ایک وہمی اندازہ ہو گا اور اس کی سزا اس کو بھگتنی ہو گی۔ تو اس کا مطلب ہے کہ کوئی بھی شخص جو ہے، وہ مستثنیٰ نہیں ہے قانون سے۔ ہاں البتہ یہ بات ہے کہ یعنی جو اللہ تعالی نے آسانیاں ہمیں دی ہیں ان آسانیوں کو ہم استعمال کر لیں۔ اور اس سے فائدہ اٹھائیں نہ یہ کہ اس پر ناز کر کے ہم نقصان اٹھا لیں۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو صحیح باتیں سمجھنے کی توفیق عطا فرما دے اور غلط باتوں سے بچائے۔

وَاٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ.


اضافی تشریح

قیامت کے دن پانچ چیزوں کا سوال ہوگا

حدیث شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

"قیامت کے دن بندے کے قدم اپنی جگہ سے ہل نہیں سکیں گے یہاں تک کہ اس سے پانچ چیزوں کے بارے میں پوچھ نہ لیا جائے۔" وہ پانچ سوالات یہ ہیں:

1۔ وقت (عمر) — اپنی پوری عمر کہاں فنا کی، زندگی کے لمحات کن کاموں میں گزارے۔ 2۔ مال — کہاں سے کمایا، حلال ذریعے سے یا حرام سے۔ 3۔ مال — اور پھر اسے کہاں خرچ کیا۔ 4۔ علم — جو علم حاصل ہوا اس پر کتنا عمل کیا۔ 5۔ جسم — یہ جسم اور اس کی قوتیں و صلاحیتیں کن کاموں میں کھپائیں۔

حوالہ: سنن ترمذی، حدیث نمبر: 2417

اور جسم میں ہمارے ساتھ نفس، دل اور عقل ہے، اور ساتھ ہی شریعت کے احکامات اوامر و نواہی کی صورت میں موجود ہیں۔ تو انہی کے بارے میں پوچھا جائے گا۔

دنیاوی مقاصد کے لیے تحریف کرنا اللہ پر جھوٹ ہے

ہمارے پاس کتابِ الٰہی قرآنِ مجید موجود ہے، اسی طرح پہلی شریعتوں کے پاس بھی آسمانی کتابیں تھیں، جیسے تورات اور انجیل۔ لیکن انہوں نے اپنی دنیاوی اغراض کے لیے ان میں تحریفات کیں، اور اس کی بنیادی وجہ نفس کی خواہشات تھیں۔

قیامت کے مقابلے میں دنیاوی زندگی محض تین منٹ ہے

ایک مثال سے سمجھیے: اگر ہماری زندگی سو سالہ ہو، اور قیامت کا پہلا دن پچاس ہزار سال کا ہوگا۔ اگر اس دن کو چوبیس گھنٹے کا دن مان لیا جائے تو اس کے مقابلے میں سو سالہ زندگی تین منٹ بنتی ہے۔ اور یہ تو اس کا صرف پہلا دن ہے، وہ زندگی تو کبھی ختم ہی نہیں ہوگی۔

تو اس دنیا میں کوئی بادشاہ بھی بن جائے اور اسے ساری دنیا مل جائے تو یہ ایسے ہی ہے جیسے تین منٹ کے لیے اسے ملی۔ اور اگر خدانخواستہ ہدایت نصیب نہ ہو تو مرنے کے بعد معاملہ بالکل الٹ جائے گا۔

شیطان نے بھی بہت خسارے کا سودا کیا۔ اس نے اس دنیا کی مہلت مانگی، اللہ پاک نے فرمایا کہ تجھے مہلت مل گئی۔ اس کے بعد اس نے خود کو بھی خراب کیا اور اپنے ساتھ کتنے ہی جن و انس کو خراب کیا، اور یہ سب صرف حسد کی وجہ سے۔ اب جو اس کے متبعین ہیں ان میں بھی یہی چیزیں ہیں — وہ خود کو بھی اور ساتھ دوسروں کو بھی نقصان پہنچانے کے درپے رہتے ہیں۔

دنیاوی خوشحالی اللہ کے پسندیدہ ہونے کی دلیل نہیں

دنیا کا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں سب بادشاہ بننا بھی چاہیں تو سب بادشاہ نہیں بن سکتے، کوئی ایک ہی ہوگا۔ دنیاوی لحاظ سے کوئی کم مالدار ہوگا، کوئی زیادہ۔ اب کوئی بہت بڑا ڈاکٹر بن جائے یا بہت بڑا انجینئر بن جائے اور اس پر بڑا فخر کرے کہ میں تو یہ ہوں، وہ ہوں — مگر اس کا کوئی عمل آخرت کے لیے نہ ہو تو بتائیے، اس کے پاس ہے کیا؟

جیسے یہودی ہیں، عیسائی ہیں، ہندو ہیں یا دہریے ہیں — ان سب کی چند روزہ دنیاوی خوشحالی سے انہیں آخرت میں کیا فائدہ؟ اور ایسے بدبخت لوگ بھی ہیں جو چند پیسوں کے لیے یا جرمن ویزا (Asylum) کے لیے خود کو قادیانی ظاہر کرتے ہیں یا قادیانی ہو جاتے ہیں۔ چند دنیاوی سِکّوں کے لیے اپنا ایمان بیچ دیتے ہیں — کتنا بڑا نقصان ہے!

اللہ نے انسان کو امتحان کے لیے اختیار دیا ہے

اللہ پاک نے انسان کو اختیار دیا ہے اور غلط اور صحیح بھی بتا دیا ہے۔ اس لیے جو حق ہے اسے لے لو اور جو غلط ہے اسے چھوڑ دو۔ چوائس دے دی گئی ہے، لیکن اس کا حساب بھی دینا ہوگا۔ بعض لوگ ایسے ہیں کہ جب انہیں کوئی اچھی بات کی نصیحت کی جاتی ہے تو اپنے نفس کی وجہ سے سنی ان سنی کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں: چلو چھوڑو۔

شرعی قانون سے کوئی مستثنیٰ نہیں، آسانیوں پر شکر کریں

یہود اپنے بارے میں یہ گمان کرتے ہیں کہ اول تو انہیں آخرت میں سزا ملے گی ہی نہیں، اور اگر ملے گی بھی تو بہت تھوڑی سی۔ اور عیسائی یہ گمان کرتے ہیں کہ بس حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے قربانی دے دی ہے، اب عیسائیوں کو کوئی عذاب نہیں ملے گا۔ جبکہ اسلام میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیٹی سے کیا فرمایا — کہ اس وجہ سے نہیں بچو گی کہ میری بیٹی ہو، بلکہ عمل کرنا پڑے گا۔

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات کو (تہجد کی نماز میں) اس قدر طویل قیام فرماتے کہ آپ ﷺ کے پاؤں مبارک پر ورم آ جاتا (سوج جاتے) یا وہ پھٹ جاتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! آپ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے تمام گناہ معاف فرما دیے ہیں؟" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے جواب میں فرمایا: "أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا" — "تو کیا میں (اللہ کا) شکر گزار بندہ نہ بنوں؟"

مفتی مختار الدین شاہ صاحب جب آخری ایام میں بیمار تھے تو لوگوں نے ان سے کہا کہ آپ بیٹھ کر نماز پڑھ لیں۔ حضرت نے فرمایا کہ نہیں، میں ابھی کھڑا ہو سکتا ہوں اور ہمت کرکے کھڑے ہوکر نماز پڑھتے۔ بالکل آخری وقت میں نماز کے لیے کھڑے تھے تو نہیں ہوسکے تو مجبورا بیٹھ گئے وہ ان کی وفات سے پہلے آخری نماز تھی۔

اسی طرح حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ سید ہونے کا فائدہ دنیا میں ہے کہ لوگ عزت و احترام کرتے ہیں، اور ایسا کرنے والوں کو خود نسبت کی قدر کرنے کا فائدہ ہوتا ہے۔ لیکن آخرت میں نسب کام نہیں آئے گا، وہاں تو صرف اعمال کام آئیں گے۔

دین میں خود ساختہ نظریات، دنیا کا فریب اور آخرت کی حقیقت - درسِ قرآن - دوسرا دور