اللہ سے دور کرنے والی تین بیماریاں اور ان سے بچاؤ

خواتین کے لیے اصلاحی بیان

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

حبِ جاہ، باہ اور مال کے فتنوں سے بچاؤ

کھانے پینے اور لباس میں اسراف نیز فیشن پرستی کی مذمت

مال کی حرص سے اجتناب، تقویٰ اور مقدر پر توکل

عورت کی عفت و حیا کا تحفظ اور آسان نکاح

خواتین کی گھریلو خدمات، دینی معاونت اور حکمت سے اصلاح

حقوق العباد کی پاسداری اور عبادات میں اعتدال و توازن

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا اِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ وَقَالَ اللَّهُ تَعَالٰى اِنَّ الَّذِينَ يَاْكُلُونَ اَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا اِنَّمَا يَاْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَقَالَ اللَّهُ تَعَالٰى وَتَاْكُلُونَ التُّرَاثَ اَكْلًا لَمًّا وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا اِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى اَتَاْتُونَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعَالَمِينَ

وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَرَكْتُ بَعْدِي فِتْنَةً اَضَرَّ عَلَى الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ لِعَلِيٍّ يَا عَلِی لَا تُتْبِعِ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ فَاِنَّ لَكَ الْاُولَى وَلَيْسَتْ لَكَ الْاَخِرَةَ وَسَمِعَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ رَجُلًا يَتَجَشَّأُ فَقَالَ اَقْصِرْ مِنْ جُشَائِكَ فَاِنَّ اَطْوَلَ النَّاسِ جُوعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ اَطْوَلُهُمْ شِبَعًا فِي الدُّنْيَا وَاعْلَمُوا اِنَّهُ كَمَا يُذَمُّ الْاِفْرَاطُ فِي هَاتَيْنِ الشَّهْوَتَيْنِ حَيْثُ يَخْتَلُّ بِهِ حُقُوقُ اللَّهِ بِالِانْهِمَاكِ فِيهِمَا كَذَلِكَ يُذَمُّ التَّفْرِيطُ فِيهِمَا بِحَيْثُ يَفُوتُ بِهِ حَقُّ النَّفْسِ اَوْ حَقُّ الْاَهْلِ كَمَا قَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ فَاِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا

اَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ وَاللَّهُ يُرِيدُ اَنْ يَتُوبَ عَلَيْكُمْ وَيُرِيدُ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الشَّهَوَاتِ اَنْ تَمِيلُوا مَيْلًا عَظِيمًا

صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ

معزز خواتین و حضرات تین قسم کی چیزیں ہیں جو انسان کو اللہ تعالی سے دور کرتی ہیں۔ ایک ہے ان کا جاننا اور ایک ہے ان سے اپنے آپ کو بچانا۔ اگرچہ اپنے آپ کو بچانا ان کو جاننے پر موقوف ہے۔ یعنی اگر اپنے آپ کو بچانا ہے تو ان کو جاننا ضروری ہے۔ لیکن صرف جاننا کافی نہیں ہے بلکہ جان کر اپنے آپ کو بچانے کے لیے جو ذرائع ہیں ان کو اختیار کرنا ضروری ہے۔ یہ بات ہم سب کو سمجھ آنی چاہیے۔

وہ تین چیزیں کیا ہیں؟ ایک ہے حب جاہ یعنی بڑائی کی محبت۔ یعنی معاشرے کے اندر اپنے آپ کو نمایاں ظاہر کرنا، اپنے زیر نگیں لوگوں کو لانا۔ اپنا محتاج بنانا، ان پہ دھونس کے ذریعے سے گویا کہ رعب جمانا اور ان کو اپنے سے نیچے رکھنا، یہ چیز ہے حب جاہ۔ اس کی وجہ سے جو تباہیاں ہیں وہ آپ دنیا میں دیکھ رہے ہیں۔ انٹرنیشنل سطح پر جو حکومتیں کرتی ہیں کہ جو ان کا اپنا ملک ہوتا ہے اچھا خاصا ٹھیک چل رہا ہوتا ہے، مطلب ان کو کسی چیز کا مسئلہ نہیں ہوتا لیکن وہ دوسروں کو بھی اپنے زیر نگیں لانا چاہتے ہیں اور مختلف سازشوں کے ذریعے سے، مختلف حملوں کے ذریعے سے اور مختلف طریقوں سے ان کو دباتے رہتے ہیں۔ اور ہم دیکھ لیتے ہیں کہ چھوٹی سطح پر گھر گھر میں یہ مسئلہ ہے جو آدمی بڑا بننا چاہے دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے ان کو حقارت کے ساتھ دیکھتا ہے اور ان پہ رعب جماتا رہتا ہے ان کو نقصان پہنچاتا رہتا ہے اور دوسرے لوگوں کے دلوں میں ان کے لیے کینہ پیدا ہوتا ہے۔ تو دنیا میں بہت بڑے فساد جو برپا ہوئے ہیں وہ اس چیز سے ہوئے ہیں۔

دوسری چیز جو ہے وہ جو اللہ سے دور کرتی ہے وہ حب باہ ہے۔ حب باہ جو ہے وہ لذات کی محبت ہے۔ انسان کے نفس کے اندر کچھ چاہتیں رکھی گئی ہیں جس کے ذریعے سے وہ اپنی زندگی کو چلا سکتا ہے۔ مثلا بھوک، اگر بھوک نہ ہو تو انسان کھانا کھائے؟ نہیں کھائے گا۔ نہیں کھائے گا تو چلے گا کیسے؟ زندہ کیسے رہے گا؟ تو زندہ رہنے کے لیے کھانا ضروری ہے، پینا ضروری ہے اور پینے کے لیے اور کھانے کے لیے اس میں لذت ہونا ضروری ہے۔ تو لذت اس لیے پیدا کی گئی ہے تاکہ جتنی ضرورت ہے اتنا پورا کر لو اس سے۔ لیکن اگر اس کی حرص ہو جائے، تو پھر وہ اپنی ضرورت کو نہیں دیکھے گا بلکہ ضرورت سے زیادہ کرے گا، نتیجتاً اپنے آپ کو نقصان پہنچائے گا۔ ہمارے پشتو میں کہتے ہیں، لږ خوره تل خوره، ډېر خوره ګنډېر خوره۔ تھوڑا کھاؤ ہمیشہ کھاؤ۔ اور زیادہ کھاؤ تو بس پھر، اپنے آپ کو تباہ کرو۔ تو یہ بات ہے کہ اگر بدرجہ ضرورت کوئی استعمال کرتے ہیں چیزوں کو، اور ضرورت کا درجہ شریعت نے مقرر کیا ہے۔ ہم اپنی مرضی سے نہیں کر سکتے، مرضی سے کریں گے تو پھر تو وہی خواہش پہ چلیں گے۔ تو درجہ ضرورت جو ہے وہ شریعت نے مقرر کیا ہے۔

یا پھر یہ ہے کہ جو طبی قوانین ہیں medical facts وہ اس کو مقرر کرتے ہیں۔ نہیں مقرر کرتے تو پھر اس سے جو بیماریاں آتی ہیں ان بیماریوں کی وجہ سے انسان بہت جلدی دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے ان ساری چیزوں کو چھوڑ کر۔ تو مجبورا پھر ڈاکٹروں کے پاس جاتا ہے اور ڈاکٹروں سے پوچھتے ہیں ان کی منتیں کرتے ہیں۔ وہ ان کو وہ ساری پابندیاں کرواتے ہیں جس سے یہ بھاگتا ہے۔ لیکن کرنی پڑتی ہے۔ تو پھر جتنی اس کی زندگی مقدر ہوتی ہے وہ ہوتی ہے۔ تو اب اگر ابتداء سے یہ normal چلے تو بعد میں اس کی ضرورت ہی نہ آئے۔ لیکن چونکہ ابتداء سے normal نہیں چلتے تو پھر مسائل کے شکار ہو جاتے ہیں۔

اب مثال میں دیتا ہوں۔ اس وقت بچے ہیں نا بچے۔ جو لوگ مال کی محبت میں مبتلا ہیں، ابھی اس کی باری آئے گی، اس پہ بات ہوگی۔ وہ بچوں کے لیے ایسی چیزیں بناتے ہیں جن میں مزہ زیادہ ہوتا ہے اور اس کا نقصان ہوتا ہے۔ مثلاً یہ چپس، junk food، یہ cold drinks، مختلف قسم کے ice creams، یہ ساری چیزیں جو چٹ پٹی غذائیں ہیں، جو مرغن غذائیں ہیں، جو بہت زیادہ میٹھی چیزیں ہیں، تو اگر وہ limit کو cross کر جاتی ہیں تو نقصان تو ہوگا۔ تو ان چیزوں میں یہ بات ہوتی ہے junk food میں کہ جب انسان یہ کھاتا ہے، تو باقی چیزیں نہیں کھا سکتا۔ نتیجتاً ان کو جو اصل غذا کی ضرورت ہوتی ہے وہ رہ جاتی ہے۔ بیمار ہوتے ہیں۔ مجھے ایک specialist ڈاکٹر نے کہا ہے کہ جو junk food ہے وہ ایسا ہے جیسے کہ آپ کے پاس چار مزدور ہوں کام کرنے کے۔ تو آپ مطلب یہ ہے کہ وہ جتنا گند ہوتا ہے وہ صاف کرتے رہتے ہیں دن میں جو آتا ہے۔ لیکن اگر کوئی ٹرک کوئی گندگی کا لا کے اس میں ڈالے تو مزدور تو اس پہ لگ جائیں گے تو اصل صفائی تو نہیں ہے وہ تو رہ جائے گی۔ تو انہوں نے کہا کہ ہمارے جسم کی جو immunity ہوتی ہے یہ مزدور ہیں۔ یہ ہمارے جسم کی صفائی کرتی رہتی ہے۔ تو اب جتنی صفائی کی اس کو ضرورت ہوتی ہے وہ صفائی immunity کرتی رہتی ہے لہذا وہ کام چلتا رہتا ہے۔ لیکن junk food کھا کے آپ نے جسم کی جو immunity ہے اس پہ لگا دی۔ تو اب اس دوران میں اگر کوئی جراثیم وغیرہ تشریف لے آئیں تو اس کا مقابلہ کون کرے گا؟ وہ تو اس پر مصروف ہے۔ تو آپ نے اپنے آپ کو ان کے حوالے کر دیا۔ اپنے بچوں کو ایسی چیزوں سے دور رکھنا ضروری ہے۔ اگر آپ اپنے بچوں کے ساتھ کچھ بھلائی کرنا چاہیں۔

کیونکہ بچے بچے ہوتے ہیں ان کو سمجھ نہیں ہوتی۔ وہ تو آپ سے وہی چیز مانگیں گے جو ان کو taste دے۔ اب یہ coca cola اور pepsi cola اس پہ بڑی research ہوئی ہے۔ یہ کوئی معمولی چیز نہیں ہے مطلب بڑی research ہوئی ہے۔ انہوں نے ایسا taste اس کا develop کیا ہے کہ اس کی addiction ہو جاتی ہے۔ جب انسان اس کو پیتا ہے تو پھر پینے کا عادی ہو جاتا ہے۔ جب تک یہ پیا نہیں ہوتا اس وقت تک اس کو چین نہیں آتا۔ لیکن اس میں ہے کیا؟ باقی تو trade secret ہے اس کو تو ہم نہیں جانتے۔ جو خود کسی چیز کا اقرار کرتے ہیں وہ یہ بتاتے ہیں کہ ایک گلاس میں سات چمچ چینی ہوتی ہے، سات چمچ۔ ایک گلاس کے اندر۔ اور ہماری جسم کی requirement جو ہے جتنی sugar کی پورے دن کی وہ تقریبا سات چمچ ہے۔ تو آپ نے ایک گلاس cold drink کا پی لیا تو پوری ضرورت جو آپ کی یعنی دن کی ہے وہ پوری ہو گئی۔ اب مزید جتنا کھائیں گے وہ اس کے اوپر بوجھ ہے۔ لبلبے کے اوپر بوجھ ہے۔ pancreas کے اوپر۔ نتیجتاً بہت جلدی fail ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل بچوں میں sugar کی بیماری آ رہی ہے۔ بچوں میں، young لوگوں میں، مردوں میں عورتوں میں۔ یہ سارے اس food کی وجہ سے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر وقتی طور پر اپنے آپ کو control نہیں کیا، اپنے بچوں کو control نہیں کیا تو آپ نے ان کو کس چیز کے حوالے کیا؟ عمر بھر کی مصیبت کے حوالے کر دیا۔

دو قسم کے ڈاکٹر ہوتے ہیں۔ ایک وہ جب انسان بیمار ہو جائے تو آپ اس کے پاس جائیں وہ اس کا علاج کرے۔ دوسرے وہ جو آپ کو یہ بتائے کہ آپ ایسا زندگی گزاریں کہ بیمار نہ ہوں۔ تو لوگ ان ڈاکٹروں کی تو نہیں مانتے جو آپ کو یہ بتاتے ہیں کہ زندگی ایسے گزارو کہ بیمار نہ ہو۔ تو پھر ان ڈاکٹروں کے رحم و کرم پہ ہوتے ہیں جو بیماری کے بعد علاج کرتے ہیں۔ تو علاج تو بے شک کر لیں۔ لیکن اس صحت کے level پہ آپ کو لا نہیں سکتے جو initial ہے۔ ایک بات۔ اور دوسرا یہ کہ عمر بھر کا مسئلہ، تکلیف، پریشانی، پیسہ خرچ کرنا یہ سارا اپنے ذمے لگ جاتا ہے۔ تو یہ میں اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ آج کل ہمارے ہاں یہ مسائل ہیں۔ research پر research ہو رہی ہے۔ اور ریسرچوں میں اس حد تک حبِّ مال کا جذبہ ہے کہ وہ کسی کی پرواہ نہیں کرتے کہ کسی کو نقصان ہوتا ہے کسی کو فائدہ ہوتا ہے۔ حتی کہ دوائیوں تک میں ملاوٹ ہے۔ اب انسان بیمار ہو جائے تو دوائی کھائے گا نا تو دوائی اگر ٹھیک نہیں ہو تو پھر کیا کرے گا؟ تو مسائل تو پھر اور بڑھ جائیں گے۔ تو یہ بات میں عرض کرتا ہوں کہ ہمیں خود اپنا فائدہ سوچنا ہے۔

اب میں آپ کو ایک اہم بات بتاتا ہوں جو بڑوں کا مسئلہ ہے۔ چھوٹوں کا تو ہے لیکن بڑوں کا بھی ہے۔ اب یہ میں نے آپ کو حب مال والی بات بتائی کہ کاروباری لوگوں میں جو یہ چیز تو ہے تو وہ تو اپنے دنیاوی فائدے کو سوچیں گے۔ تو آپ جو سموسے بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔ آپ جو نمک پارے بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔ اور آپ جو مٹھائیاں بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔ تو ذرا تھوڑا سا جو oil اس میں استعمال ہو رہا ہے اس کا ذرا visit کر لیں نا کہ وہ کس قسم کا oil ہوتا ہے۔ کیونکہ انہوں نے تو پیسے کمانے ہیں۔ انہوں نے تو آپ کو نہیں بچانا۔ تو سب سے ردی تیل جو ہوتا ہے وہ اس میں استعمال ہوتا ہے۔ نتیجتا آپ اپنی بیماری خود اپنے پیسوں سے خرید رہے ہیں۔ بھئی یہ چیزیں اپنے گھر میں بھی بنا سکتے ہیں۔ بڑے اچھے طریقے سے آپ بنا سکتے ہیں۔ تو گھر میں بناؤ۔ گھر میں تیار کرو۔ اور طریقے سے کھاؤ۔ مطلب یہ ہے کہ اتنی کھاؤ جتنی کہ آپ کو نقصان سے بچا سکے، اتنا کھاؤ۔

یہ sugar کے بیمار جو ہوتے ہیں وہ بعض چیزوں کے ساتھ ان کو بہت محبت ہوتی ہے، یعنی وہ شوق سے کھاتے ہیں جیسے آم۔ تو ڈاکٹر سے رو رو کے کہتے ہیں کہ آم مجھ پر بند نہیں کرنا۔ تو ڈاکٹر کہتے ہیں ہاں میں آپ کو طریقہ بتاؤں گا کہ آم کھاؤ لیکن کیسے کھاؤ۔ تو ان کو بتاتے ہیں کہ اس کو کاٹ کے، چھیل کے اس کو چھوٹے چھوٹے cubes اس کے بناؤ۔ اور دو گھنٹے میں صرف دو cube کھا سکتے ہیں۔ اس سے زیادہ نہیں۔ تو پورے دن میں بے شک اس کو ختم کرو۔ تو كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا۔ ٹھیک ہے نا۔ کھاؤ پیو لیکن اسراف مت کرو۔ حد سے زیادہ نہیں۔ تو یہی حل ہے۔ تو جو بعد میں آپ ڈاکٹر کے ذریعے سے مانیں گے تو پہلے سے اللہ کا حکم سمجھ کے مانو۔ اس پہ عمل کرو کہ اللہ کا حکم ہے۔ اس طریقے سے یہ ساری چیزیں کرو، کھاؤ پیو، لیکن ہوش سے کام لو، اسراف نہ کرو، حد سے زیادہ تجاوز نہ کرو۔ یہ میں نے آپ کو صرف ایک aspect بتایا ہے، یعنی کھانے پینے کا۔

لذت صرف کھانے پینے میں نہیں ہوتی۔ لذت کی اور بہت ساری چیزیں ہیں۔ تو اس پہ ساری چیزوں کو قیاس کر لو۔ ہم لباس پہنتے ہیں، اس میں بھی اسراف ہوتا ہے۔ ہم مکان بناتے ہیں، اس میں بھی اسراف ہوتا ہے۔ اس وقت ذرا تھوڑے سے posh area میں چلے جاؤ تو آپ حیران ہو جائیں گے کہ ہر گھر کے اندر دو کچن۔ ایک کچن دیکھنے کے لیے اور ایک کچن استعمال کے لیے۔ کیا خوبصورت بات ہے! جو دیکھنے کی کچن ہے وہ استعمال نہیں ہو رہا۔ استعمال کا کچن اور ہے۔ اس طرح drawing room کو آپ دیکھیں۔ lawn کو دیکھیں۔ غیر ضروری اشیاء سے۔۔۔ تو یہ کیا چیز ہے؟ یہ اسراف ہے۔ یہ اسراف ہے۔

گاڑیوں میں آج کل ایک چیز آئی ہے۔ ایک بلا ہے۔ اس بلا کو matching کہتے ہیں۔ تو یہ matching کی بلا ابتدائی طور پہ نازل ہوتی ہے انسان کے جسم پر کہ جو کپڑے انسان پہنتا ہے تو اس میں matching ہوتی ہے۔ ٹوپی بھی اس طرح، واسکٹ بھی اس طرح، کوٹ بھی اس طرح، جوتے بھی اس طرح، مطلب اس کے ساتھ وہ matching۔ ذرا بھی matching out ہو جائے تو پھر نیا۔ اور جس وقت ذرا تھوڑا سا اللہ تعالی مال زیادہ دے، تو پھر گاڑیوں میں matching، گھر کے کلر کے ساتھ، کپڑوں کے ساتھ۔ اب یہ کیا کہیں؟ یہ اسراف ہے۔ بھئی بضرورت اگر آپ گاڑی رکھنا چاہیں تو رکھ لیں لیکن اس میں ضرورت پوری ہو۔ یہ نہیں کہ اسراف ہو۔

جیسے میں نے آپ سے عرض کیا کہ کھانے پینے کی چیزوں میں جو factories ہیں جو producers ہیں وہ چالاکی کر کے design کر کے ایسا بناتے ہیں کہ لوگ اس کی طرف للچائیں اور وہ اس کو کھائیں۔ اسی طرح جو fashion والے industries ہیں وہ دن رات اس پر چلتے ہیں۔ اور fashion، fashion کا میں اکثر بہت عرصے سے میرا خیال میں اگر میرے بیس سال پہلے کے بھی lectures آپ سن لیں recorded ہیں تو اس میں یہ بات ہے کہ جو آدمی fashion کرتا ہے نا تو اس کو آپ آنکھیں بند کر کے بیوقوف کہہ سکتے ہیں۔ جو آدمی fashion میں مبتلا ہے اس کو آپ آنکھیں بند کر کے بیوقوف کہیں۔ اور میں اس کی بیوقوفی ابھی ثابت کرتا ہوں۔ اس کی بیوقوفی کیا ہے؟ اس کی بیوقوفی یہ ہے کہ وہ اپنے ذہن پہ اعتماد نہیں کر رہا۔ اپنے پسند ناپسند پہ اعتماد نہیں کر رہا۔ اس کو کوئی اور چلا رہا ہے۔ کون چلا رہا ہے؟ درزی چلا رہا ہے۔ کوئی اور industry چلا رہا ہے۔ وہ جو fashion بنا دے اس کے پیچھے پڑ جائے۔ اپنی ساری چیزیں چھوڑ کے اس کے پیچھے پڑ جائے۔ اے خدا کے بندے اللہ نے تجھے عقل دی ہے عقل کدھر گئی؟

اب میں آپ کو اس کا extreme بتاتا ہوں۔ یہ ہم نے دیکھا ہے اس وجہ سے ہم لوگ اس سے واقف ہیں۔ ممکن ہے جن کی عمریں ابھی اتنی تھوڑی ہوں یعنی چالیس سال ہوئے ہوں بس ان کو شاید یہ علم نہ ہو۔ teddy fashion ہوا کرتا تھا۔ آپ کو یاد ہے teddy fashion؟ آپ کو یاد نہیں ہے۔ ہمیں یاد ہے۔ teddy fashion ہوا کرتا تھا، اس میں بوٹ نوک دار، کپڑے بہت چست، اور اس طرح مطلب ہے کہ یعنی ہر چیز اس طرح بالکل tight tight اور نوک دار۔ اب سارے لوگ اشرافیہ اس پر لگی ہوئی ہے۔ دفتروں میں بھی اس طرح، ہر جگہ پہ اس طرح۔ یقین جانیے ہم تو حیرت میں مبتلا تھے کہ بھئی یہ ہو کیا رہا ہے۔ کچھ عرصہ چلا وہ fashion۔ جب وہ fashion ختم ہو گیا، دوسرا fashion آ گیا تو چوڑوں کا لباس نظر آنے لگا۔ چوڑوں کا۔ یعنی کوئی اس کو دیکھ بھی نہیں سکتا تھا وہی لوگ جو اس کو استعمال کرتے تھے۔ یہ ہے اپنی عقل کا جنازہ۔ جو اپنی عقل کا جنازہ کیسے نکلواتے ہیں۔

بھئی اللہ تعالی نے آپ کو عقل دی ہے، آپ دوسروں کے پیچھے کیوں چلتے ہیں؟ آپ خود دیکھیں یہ چیز مجھے پسند ہے۔ اس کی justification آپ کے پاس ہو شرعا بھی، قانونا بھی، اخلاقا بھی۔ اس کی justification آپ کے پاس ہو، پھر آپ کسی کی پرواہ نہ کریں۔ ہمارے ایک استاد تھے، اللہ تعالی، اگر زندہ ہیں تو ان کو سلامت رکھے اور فوت ہو گئے تو ان کی مغفرت فرمائے کیونکہ ظاہر ہے عمر ان کی زیادہ ہو گی اس وقت، برونائی چلے گئے تھے۔ تو وہ میرے teacher تھے اسلامیات کے۔ ان سے کسی نے پوچھا کہ بال کیسے رکھنے چاہیے؟ بال کیسے رکھنے چاہیے؟ تو اس نے کہا خود design کر لو۔ جس طرح بھی رکھو رکھ لو۔ اس کو کسی اور نام سے نہ رکھو کہ میں english cut ہے، یا فلاں cut ہے، فلاں cut ہے۔ یہ کرو گے تو یہ ناجائز ہو جائے گا۔ کیونکہ آپ نے دوسرے کی مشابہت اختیار کر لی۔ جو جائز طریقہ آپ خود جانتے ہیں اس طریقے سے کرو۔ نائی کو کہہ دو کہ ادھر سے کاٹو کہ کیا کرو، جو بھی طریقہ۔ تو اس کو کوئی نام نہ دو۔ فلاں cut۔ فلاں cut کا مطلب ہے کہ تم اس کے پیچھے چل رہے ہو۔ تو یہ مشابہت والی بات ہو جائے گی۔ تو مشابہت والی بات، تو اگر وہ غلط ہے، تو اللہ پاک آپ کو ان کے ساتھ شامل کر لے گا۔ حدیث شریف ہے نا کہ جس نے جس قوم کی مشابہت کی ان میں سے اٹھایا جائے گا۔ تو یہ والی بات۔

تو آج کل آپ دیکھیں کہ کیا صورتحال ہے۔ یعنی ایک اندھیر نگری ہے۔ کوئی سوچ نہیں، کوئی اچھے اچھے یعنی سمجھدار لوگ وہ اس کے شکار ہو جاتے ہیں، اور fashion پہ چل پڑتے ہیں۔ دیکھیں عورت کی سب سے بڑی چیز وہ عصمت اور عفت ہے اور حیا ہے۔ سب سے بڑی چیز۔ یہ کس کا definition ہے؟ یہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کا ہے۔ تو یہ جو بات ہے۔ حیا دار تھی بہت زیادہ۔ تو عورت کی سب سے بڑی کامیابی اس میں ہے۔ اور شیطان اس کے پیچھے لگا ہوتا ہے کہ یہ حیا اس کی نہ رہے۔ سب سے زیادہ attack عورت پہ جو شیطان کرتا ہے وہ اس کی حیا پہ کرتا ہے۔ کیونکہ اس کی سب سے بڑی یعنی طاقت یہی ہے۔ اور پھر اس بے حیائی کے چکر میں مبتلا کرنے کے لیے جو باطل گروہ ہیں وہ ایسے زبردست طریقے سے لگے ہوئے ہیں۔

آج کل social media ہے۔ پہلے TV تھا آج کل social media ہے۔ تو وہ نت نئے fashion develop کرتے رہتے ہیں۔ اور وہ fashion یعنی آج کا کل کے مقابلے میں زیادہ بے حیا ہوگا۔ میں لکھ کے دیتا ہوں۔ آج کا جو fashion ہو گا وہ کل کے مقابلے میں زیادہ بے حیا ہو گا۔ یعنی آپ اندازہ کر لیں، مردوں کے لیے ٹخنوں سے نیچے پاجامہ رکھنا منع ہے۔ فرماتے ہیں کہ اس کو یہ جہنم میں ہے جو نچلا حصہ ہے۔ ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم، ان کا اس طرح پاجامہ نیچے گرا ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو اٹھاؤ۔ یہ تکبر کی علامت ہے۔ تو انہوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ اتنے سے کپڑے سے کیا تکبر ہو جائے گا؟ فرمایا اگر کوئی اور بات تمہیں سمجھ نہیں آتی تو میری سنت سمجھ کے کرو۔ اس پر عمل کرو۔ تو اب بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کر رہے تھے، ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ ساتھ تھے، وہ گھبرا گئے۔ کہا یا رسول اللہ کبھی کبھی میرا کپڑا بھی نیچے گر جاتا ہے۔ فرمایا تجھے نہیں کہہ رہا ہوں۔ چونکہ وہ گر جاتا ہے اور بات ہے اور گرانا اور بات ہے۔ سمجھ میں آئی نا بات؟ اب مثال کے طور پر شلوار کوئی اوپر رکھتا ہے لیکن کسی وجہ سے نیچے slip ہو جاتا ہے تو پھر اوپر اٹھا لے گا۔ وہ تو غلطی سے ہوا ہے۔ تو غلطی تو معاف ہو جاتی ہے۔ لیکن یہ جو باقاعدہ determine کر کے کرتے ہیں، نیت کے ساتھ کرتے ہیں، وہ معاملہ تو اور ہوتا ہے۔ تو مرد اس میں زیادہ مبتلا۔ اور عورتوں کے لیے ہے کہ یہ ٹخنوں سے نیچے ہونا چاہیے۔ تو عورتیں اوپر چڑھا رہی ہیں۔ اب بتاؤ یہ کون سا طریقہ ہے؟ خواہ مخواہ deliberately مخالفت شریعت کی۔ وہ جو سوروں کی طرح ہیں اور جو مطلب یہ ہے کہ وہ کتوں اور بلیوں کی طرح ہیں ان کی نقل کیوں کرتے ہو؟ وہ تو انسان نہیں رہے۔ وہ جیسے زمین کے اوپر خوبصورت سور ہیں، خوبصورت بلیاں ہیں، خوبصورت کتے ہیں، خوبصورت کتیاں ہیں۔ تو کسی خوبصورت کتیا کی طرح کوئی عورت اپنے آپ کو بنا سکتی ہے؟ ان کے پیچھے کیوں جاتی ہو؟ وہ شرافت زادیاں جو تھیں شریف زادیاں صحابیات ان کے پیچھے کیوں نہیں جاتی ہو؟ یہ اصل بات ہے۔

تو میں نے عرض کیا کہ كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا یہ تو کھانے میں ہے۔ پہننے میں بھی کچھ باتیں ہیں وہ کپڑا جس سے جسم چھلکے وہ عورت کے لیے جائز نہیں ہے۔ اور مرد کے لیے اس وقت جائز نہیں جو چیزیں عورت کی ہیں یعنی عورت یعنی ستر کی جگہ ہے۔ جس کو چھپانا لازم ہے واجب ہے۔ اس کو چھپانا ایسے کپڑے سے ہوگا جس سے وہ نظر اندر نہ جائے۔ مرد کے لیے اتنا ہے عورت کے لیے پورا جسم چونکہ اس کا پورا جسم ستر ہے۔ اب یہ half sleeve اور یہ اس قسم کے یہ سب کے سب حرام ہیں۔ میں مفتی نہیں ہوں میں مفتیوں کی بات آپ کو بتا رہا ہوں۔ شریعت کی بات آپ کو بتا رہا ہوں یہ سب حرام ہیں۔ اور جو اس میں مبتلا ہیں وہ سب حرام کر رہی ہیں۔ ظاہر ہے مطلب ہے کہ میں نے اپنی طرف سے تو دین نہیں بنایا دین تو اوپر سے آیا ہے۔ ہم تو اس میں تبدیلی نہیں کر سکتے۔ ہمیں صرف ماننے کا حکم ہے۔ تو یہ جسم کا وہ کوئی سا حصہ جو بالغہ ہو جو ستر میں آتا ہے اس کا دکھانا حرام ہے۔

ایک ہوتا ہے حجاب ایک ہوتا ہے ستر ان دونوں میں فرق ہے اس میں بھی لوگ confuse ہو جاتے ہیں۔ ستر وہ ہے جو محرم سے بھی چھپانا ہے سوائے شوہر کے۔ محرم سے بھی یعنی بیٹے سے باپ سے بھائی سے ستر وہ ہے۔ تو عورت کا پورا جسم ستر ہے سوائے چہرے کے کلائیوں سے نیچے جو ہاتھ ہیں اور اس طرح ٹخنوں سے نیچے جو پاؤں ہیں۔ باقی پورا جسم ستر ہے۔ بال نظر نہیں آنے چاہییں۔ دوپٹے باریک نہیں ہونے چاہییں۔ اب تو دوپٹوں کا fashion ہے مطلب ایسے وہ گلے میں ڈال لیتی ہیں بس لٹکا لیتی ہیں۔ یہ دوپٹہ ہے۔ یہ تو دوپٹہ نہیں۔

تو یہ میں عرض کرتا ہوں کہ یہ جو چیز ہے کہ ہم ہر چیز کو۔۔۔ کیونکہ میں نے کہا نا کہ كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا کا فیصلہ کون کرے گا؟ اللہ تعالی کرے گا شریعت میں جو ہوگا ہر چیز کے اندر معیار وہی ہے۔ ابھی میں تھوڑا سا آگے جاتا ہوں پہلے وہ قرآنی آیات اور پھر احادیث شریفہ اس کا ترجمہ کرتا ہوں تاکہ میں جو باتیں کر رہا ہوں آپ کو کچھ نظر آئے کہ بھئی میں اپنی طرف سے نہیں کر رہا ہوں۔ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا کہ

تم کھاؤ پیو اور اسراف مت کرو۔ بیشک اللہ تعالی اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

اور ارشاد فرمایا بیشک جو لوگ یتیموں کا مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں۔

یہ مال کی محبت کی بات ہے۔ میں نے آپ سے عرض کیا نا کہ جو تیسری چیز ہے وہ کیا ہے؟ وہ مال کی محبت ہے۔

مال بضرورت کمانا اور اپنے ساتھ رکھنا جائز ہے۔ لیکن ایسا جیسے آپ کا پیٹ ہی نہ بھرے مسلسل بس اسی میں لگے رہو اور جائز و ناجائز کی تمیز نہ کرو یہ حرام ہے۔ ویسے ایک بات ہے جو سمجھ تو بہت آسانی سے نہیں آئے گی وہ تو بہت مشکل سے آتی ہے۔ لیکن ہے یہ کہ ہر شخص جتنا اس کا مقدر ہے اتنا ملے گا۔ اس سے کوئی بڑھا نہیں سکتا اور اس سے کم بھی نہیں ہوگا۔ تو اللہ تعالی جب دیتے ہیں تو ایسے طریقے سے دیتے ہیں آدمی حیران ہو جاتا ہے۔ بالکل جہاں سے آپ کا گمان بھی نہیں ہوگا وہاں سے اللہ پاک دے گا۔ وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اللہ پاک اس کے لیے کافی ہو جاتے ہیں۔ اور یہ جو فرمایا وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا اور جو اللہ پاک سے ڈرتے ہیں اللہ اس کے لیے راستہ بنا لیتے ہیں نکلنے کا۔ اور اللہ پاک رزق ایسی جگہ سے دیتا ہے جہاں سے وہ گمان نہیں کرتا۔ وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ. اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم تقوی اپنے اندر لائیں، تو جو چیز ہے وہ آپ کے مقدر میں وہ اللہ پاک آپ کو دے گا، اس کے لیے کوئی صورت بنا لے گا، سبب۔ اس کے ذریعے سے آپ کو دے گا۔

یہ حج اور عمرے، اس میں اس چیز کا کبھی کبھی ظہور ہو جاتا ہے، بعض لوگوں پہ۔ ہمارے ایک ساتھی ہیں، اس نے عمرہ کر لیا، آ گیا۔ تو بعد میں کچھ پیسے ان کے arrange ہو گئے تو پھر دوبارہ انہوں نے عمرے کا ارادہ کیا۔ دوستوں نے کہا کہ بھئی پلاٹ شلاٹ خریدو، یہ آپ کی ضرورت ہے۔ تو بس عمرہ آپ نے کر لیا ہے نا۔ تو خیر وہ مجھے کہتا ہے کہ میں خوابیں نہیں دیکھتا، مجھے خواب نہیں آتے۔ لیکن مجھے ایک خواب آیا اور اتنا مختصر اور straight forward کہ میں خواب میں دیکھتا ہوں ایک کتاب ہے، وہ کھلی ہوئی ہے، اس کے صفحوں پر صرف دو سطریں لکھی ہوئی ہیں، دونوں صفحوں پہ۔ اور وہ یہ ہے کہ جو حج و عمرے پہ پیسے خرچ کرتے ہیں وہ خرچ نہیں ہوتے، اللہ پاک ان کو واپس کرتے ہیں۔ بس کہتا ہے یہ لکھا ہوا، میں نے کہا یہ تو آپ کے لیے ہے بس ہو گیا، بس پھر جائیں۔ چلا گیا جی۔ اب یہ بات بھی خواب بھی مجھے سنایا ہے۔ اور پھر اس کے بعد میں اس کے ساتھ جب وہ واپس آیا تو میں گاڑی میں جا رہا ہوں، کہیں پتا نہیں مجھے یاد نہیں کہاں جا رہے تھے، لیکن اس کی گاڑی میں جا رہا تھا۔ تو ٹیلیفون آیا اس کو۔ ٹیلیفون اس نے recieve کیا، کچھ بات چیت اس کے ساتھ ہو گئی، میں نے کہا بھئی کیا بات ہے؟ کہتے ہیں تو کچھ آفس کے ساتھیوں نے کہا کہ آپ کا پلاٹ فلاں جگہ پر نکل آیا ہے، آفس کی طرف سے۔ تو آپ اس کے لیے وہ کر لیں۔ وہ بالکل وہ خواب بھی مجھے سنایا۔ اور یہ بھی میں نے سن لیا میرے سامنے ہوا نا۔ تو کم از کم میرے لیے انفارمیشن ہو گیا جو میں آپ کو سنا رہا ہوں۔ اس طرح بہت سارے واقعات ہیں۔ تو یہ میں نہیں کہتا ہوں کہ حج اور عمرہ صرف اس میں ہے۔ یہ ہر چیز کے اندر ہے۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ اس میں لوگوں پہ ظاہر ہو جاتا ہے۔ ورنہ جتنا اللہ پاک نے آپ کے لیے مقدر کیا ہے اتنا ہی ملے گا، اور ایسے طریقے سے ملے گا کہ آپ حیران ہوں گے۔ کچھ ذاتی واقعات بھی ہیں لیکن وہ بیان کرنے سے قاصر ہوں۔ اللہ پاک دکھاتا ہے۔ تو ہمیں اللہ پر یقین کرنا چاہیے، تقویٰ اختیار کرنا چاہیے۔ سب سے بڑی چیز یہی ہے۔ تقویٰ اختیار کر لو پھر اللہ پاک کے سارے نظام وہ آپ کے ساتھ ہو جائیں گے۔ تقویٰ اختیار کر لو۔

تو میں عرض کر رہا تھا کہ جو، بے شک جو لوگ یتیموں کا مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں، مال کی محبت کی وجہ سے۔ اور ارشاد فرمایا:

اور تم لوگ میراث، یعنی دوسروں کا حصہ بھی سمیٹ کر کھا جاتے ہو۔

اور ارشاد فرمایا کہ

زنا کے قریب بھی مت جاؤ، کیونکہ وہ بے حیائی ہے اور برا طریقہ ہے۔

ایک صحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، یہ صحابہ کرام کے سوالات جو تھے نا وہ سب ہمارے لیے تھے۔ اور ان سے پچھوائے گئے، یعنی گویا کہ ظاہر ہے اس وقت تو وہی پوچھ سکتے تھے نا۔ ہمارے لیے وہ ریکارڈ ہو گئے، تکوینی طور پر۔ پوچھا کہ یا رسول اللہ! مجھے زنا کی اجازت دیں۔ مثلاً کچھ لوگوں نے کہا نا کہ ہمارے لیے زکوٰۃ معاف کر لیں۔ تو وہ بھی فرض ہے اور حرام سے بچنا فرض ہے۔ ایک ہی بات ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیا تو برداشت کر سکتا ہے تیری ماں کے ساتھ کوئی زنا کرے؟ تو اس نے کہا نہیں، انہوں نے کہا دوسرے لوگ بھی نہیں کر سکتے۔ پھر بیوی کا، پھر بیٹی کا، پھر بہن کا، سب کا اس طرح جو محترم رشتے ہیں، ان کا پوچھا۔ تو یہ عقلی دلیل، عقلی جواب تھا۔ اور پھر وہ اس کے سینے پہ ہاتھ رکھا، مطلب ہے پھیر دیا، اور ماشاءاللہ، فرمایا کہ پوری زندگی مجھے زنا کا وسوسہ بھی نہیں آیا پھر۔

اب ذرا تھوڑا سا اس پر غور کرو، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا ہے، اس پر غور کر لو، اس میں پورا نالج ہے۔ جو شخص زنا کی طرف جاتا ہے۔ وہ ان barriers کو کراس کر رہا ہے۔ تو اس طرح پھر دوسرا بھی کرے گا، تیسرا بھی کرے گا، چوتھا بھی کرے گا اور یہ barriers کراس ہوتے جائیں گے، کیا پھر کیا معاشرے کے اندر، اللہ پاک جس طرح بیلنس رکھنا چاہتا ہے وہ رکھے گا؟ کیا گھر اپنے بسیں گے؟ گھر ٹوٹیں گے، طلاقیں ہوں گی۔ لڑکیاں ماری جائیں گی۔ اور پتہ نہیں کیا کیا ہوگا۔ میں حیران ہوتا ہوں، صحیح بات ہے، عقل انسان کی سو جاتی ہے جب انسان کے اوپر نفس غالب ہوتا ہے۔ جو اپنی بیوی کو محفل میں لاتا ہے۔ بغیر پردے کے، پتا نہیں اس کی عقل کہاں چلی جاتی ہے کہ جو آنکھیں اس کو دیکھ رہی ہیں، اس کے پیچھے ذہن بہت کچھ کر سکتا ہے۔ یہ کیوں اس طرح مرد نہیں سوچ سکتے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دیوث ہو چکے ہوتے ہیں۔ اس کے لیے لفظ ہے دیوث۔ یہ خود دوسروں کی بیویوں پہ نظریں رکھتے ہیں، اور اپنی بیوی پہ دوسروں کی نظریں ان کو کچھ برا محسوس نہیں ہوتے کیونکہ خود اس میں شامل ہوتے ہیں۔ یہ دیوث ہوتے ہیں۔

مجھے آپ بتاؤ دنیا کی کون سی قیمتی چیز ہے جس کو انسان سامنے رکھتا ہو؟ انسان اس کو چھپاتا ہے۔ چھپا کے رکھتا ہے۔ کیونکہ چوری ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ تو یہاں پر یہ مسائل ہیں۔ بھئی جس چیز کو تم بچا کے رکھنا چاہتے ہو اس کو بچا کے رکھو۔ اور عورتیں بھی اس کو اپنی آزادی کے خلاف سمجھتی ہیں۔ اِنَّا لِلَّهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ جو ان کی حفاظت کا نظام ہے اپنے خلاف سمجھتی ہیں۔ خیر وہ تو ہے ہی جذباتی مخلوق۔ لیکن مردوں کو چاہیے کہ ان کو روکیں۔

اب دنیا کے اندر تماشا کیا ہو رہا ہے؟ social media اور TV اور پتا نہیں ان systems کے ذریعے سے کہ مرد ہیں نا یہ بہت چالاک ہیں۔ میں خود بھی مرد ہوں، لہذا مردوں کے خلاف بولنا مجھے اس کی اجازت ہے۔ یہ بڑے چالاک ہوتے ہیں۔ یہ عورتوں کی زبانوں پہ وہی باتیں ڈالتے ہیں جو یہ خود چاہتے ہیں۔ اور اس کے لیے بڑے technical طریقے اختیار کرتے ہیں۔ نتیجتاً عورتوں کی طرف سے مطالبات آتے ہیں کہ ہم پر کیوں پابندی لگائے جاتے ہو، برقعہ کیا چیز ہے اور فلاں کیا چیز ہے۔ یہ سب مرد چاہتے ہیں۔ اور میں اکثر ذکر کرتا ہوں Germany کے دوست Alfred کی۔ تو وہ کبھی کبھی lecture دینے کے لیے جایا کرتا تھا۔ مختلف جگہوں پہ lecture دیتا تھا، بڑا عجیب lecture دیتا تھا، straight forward۔ میں ایک دفعہ میں نے پوچھا، وہ کہتے ہیں میں نے lecture دینا ہے، میں نے کہا آپ نے preparation کی تھی؟ کہتے ہیں no۔ میں نے کہا why؟ کہتے ہیں allah will send right words at right time and right silence at right time۔ مطلب اللہ پاک بہتر الفاظ اپنے وقت پہ بھیج دیں گے اور بہتر خاموشی بھی اللہ پاک اپنے وقت پہ بھیج دیں گے۔ تو وہ کسی جگہ lecture کے لیے گئے تو عورتوں نے ان سے question کیا کہ ہم پر کیوں پابندی ہے؟ کہتے ہیں پابندی تو مردوں پہ ہے، آپ لوگوں پہ تو نہیں ہے، آپ تو اپنے گھر میں بیٹھی ہیں۔ آپ اگر اجازت کے ساتھ اور پردے کے ساتھ کسی کے گھر میں بھی داخل ہونا چاہیں تو داخل ہو سکتی ہیں اجازت کے ساتھ۔ لیکن مردوں کو یہ نہیں ہے۔ مرد ہر گھر میں داخل نہیں ہو سکتے، صرف اپنے گھر میں داخل ہو سکتے ہیں۔ پابندی تو ان پر ہے۔ پابندی تو آپ پر نہیں ہے۔

تو مطلب یہ ہے کہ یہ جو چیز ہے وہ ان لوگوں نے ڈرامائی طریقے سے عورتوں کے ذہنوں میں یہ باتیں ڈالی ہیں کہ ان کے اوپر ظلم ہو رہا ہے، مرد ظلم کر رہے ہیں، خدا کے بندو تم ظلم کر رہے ہو۔ جو مرد ان کو اس طرح کہہ رہے ہیں، وہ ظلم کر رہے ہیں۔ بھئی جو انسان کی سب سے بڑی اہم چیز ہو، اس سے اگر کوئی لے کے چکنا چور کر دے، تو یہ اس پہ ظلم نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ تو ان کے پاس سب سے اہم چیز تو حیا ہے، عصمت ہے، وہ اگر کوئی چکنا چور کر دے تو اس کے پاس رہ کیا گیا؟ وہ تو رنڈی بن گئی۔ ایک باعزت عورت سے رنڈی بن جانا، یہ کوئی اچھی بات ہے؟ علامہ اقبال اس پہ روتے رہے ہیں نا۔ اس پہ کہتے ہیں

پہلے چراغ خانہ تھی اب شمع محفل ہے

تو اب یہی تو باتیں ہیں۔ تو خدا کے لیے ان چیزوں کو سمجھو۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے بہترین طریقہ طے کیا ہے کہ تم گھر میں رہو۔ گھر کی تمام چیزیں آپ کے پاس ہیں۔ مرد چاہے کچھ بھی کرے گا، لائے گا تو آپ کے پاس ہی نا۔ کچھ بھی کرے گا، کہ جو بھی کرے گا، لیکن لائے گا تو آپ کے پاس ہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دفعہ عورتوں نے یہ شکایت کی تھی۔ وہ شکایت نہیں تھی کہ ہمیں باہر کیوں نہیں جانے دیتے۔ وہ صحابیات میں یہ بات نہیں تھی۔ شکایت بڑی زبردست تھی، مطلب یہ ہے کہ اس میں خوبی تھی۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو طریقہ بتا دیا۔ کہ یا رسول اللہ مرد تو جہاد کے ذریعے سے بہت ثواب لے لیتے ہیں۔ مسجد میں جانے کی وجہ سے ثواب لیتے ہیں اور بہت سارے کام ہیں جس میں باہر جا کے وہ کرتے ہیں ہم تو خالی رہ گئیں ہمارے پاس تو کچھ بھی نہیں رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ جو خاوند کی جو خدمت کرتی ہیں اس پر آپ کو یہ ملتا ہے۔ آپ کو اگر بچے کے لیے اٹھنا پڑتا ہے اس پہ آپ کو یہ ملتا ہے۔ آپ کو اگر یہ کر، تو اس پر آپ کو یہ ملتا ہے اور پورے گھر کے سارے کاموں کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتا دیا کہ اس پر آپ کو یہ ملتا ہے۔ آپ کو تو بہت کچھ گھر پر ہی مل رہا ہے۔

یعنی مردوں کو تو محنت کر کے باہر جا کر کرنا پڑتا ہے۔ یعنی challenges کو face کرنا ہوتا ہے۔ آپ کے routine کام ہی ایسا ہے کہ وہ آپ کو ساری چیزیں دلوا دیتی ہیں۔ بلکہ میں کہتا ہوں مرد جو بھی دین کا کام کر رہا ہے وہ تب اس کو صحیح طور پہ کر سکے گا جب اپنے گھر کی عورتیں ان کو support کریں۔ ورنہ وہ صحیح کام نہیں کر سکے گا۔ تو اگر کوئی دین دار آدمی دین پہ چل رہا ہے، تو اس کا credit بھی ان کے گھر والوں کو جاتا ہے۔ ان کو support کر رہی ہیں تبھی وہ کام کر سکتا ہے۔ ورنہ گھر میں اگر اس کا ہر وقت دھما چوکڑی ہو تو خاک کام کرے گا۔ وہ کام تو نہیں کر سکے گا۔ تو اگر آپ ان کو support کر سکتی ہیں اپنے گھر کے، باہر جو افراد کام کرتے ہیں ان کو support کر سکتی ہیں، تو ماشاءاللہ آپ کے لیے بہت بڑا صدقہ جاریہ ہے۔ اور آپ اس کے ساتھ برابر کی شریک ہیں۔

بھئی دیکھو میں آپ کو بات بتاؤں۔ ہم تبلیغی جماعت میں جاتے تھے۔ تبلیغی جماعت میں مختلف کام ہوتے ہیں۔ کوئی تعلیم کرتا ہے۔ کوئی گشت کرتا ہے۔ کوئی گشت میں امیر ہوتا ہے۔ کوئی متکلم ہوتا ہے۔ کوئی مجمع کو جوڑنے والا ہوتا ہے۔ ٹھیک ہے نا۔ اور ظاہر ہے کوئی خدمت کرتا ہے۔ اب اگر خدمت والے کہہ دیں یار یہ تو بڑے اونچے اونچے کام کر رہے ہیں۔ تو ہمیں کیا ملے گا؟ تو فرمایا کہ بھئی عبادت پہ، وہ ہمیں بتاتے تھے عبادت پہ جنت ملتی ہے۔ اور خدمت پہ خدا ملتا ہے۔ تو یہ عورتیں خدمت نہیں کر رہیں؟ خدمت ہی تو کر رہی ہیں نا۔ تو اگر گھر کو دین پہ چلایا جا رہا ہے اور اس میں عورتیں خدمت کر رہی ہیں تو ان کو کیا ملے گا؟ بس یہی بات ہے۔

تو اس طریقے سے اگر ہم لوگ تھوڑا سا ان چیزوں کو سمجھیں پھر ہمیں ذرا غصہ نہ آئے۔ بلکہ اس پر ہم خوش ہوں۔ آج کل یہی بات ہے نا مرد کیا کرتے ہیں، وہ دھونس کے ذریعے سے سارا کام کرتے ہیں، بھئی خدا کے بندو دھونس کے ذریعے سے کام نہیں ہوتا، سمجھانے سے ہوتا ہے۔ كَلِّمُوا النَّاسَ عَلٰى قَدْرِ عُقُولِهِمْ۔ لوگوں کے ساتھ ان کی عقل کے مطابق بات کرو۔ لوگوں کے ساتھ ان کی عقل کے مطابق بات کرو۔ تو عورتوں کو جو بات جس طرح سمجھ آئے ان کے ساتھ اس طرح بات کرو۔ بھئی یہ تو extreme cases ہیں، مارنا، تو وہ اس کو ابتدائی میں لانے کی کون سی تک ہے، یہ تو آپ کی بیوقوفی ہے۔ آپ نے وہ کام کر لیا جو بیوقوفی کا کام ہے۔ یہ extreme پہ جانا چاہیے مطلب اس وقت جب کوئی اور حل نہ ہو۔ ورنہ افہام تفہیم، طریقہ کار، سمجھانے کا، بتانے کا، یہ ساری چیزیں موجود ہیں۔ تو اس کے ذریعے سے اپنا کام چلاؤ۔

بہرحال میں عرض کرتا ہوں کہ عورتوں کے اندر اللہ پاک نے جو صفت رکھی ہے اس کو استعمال کرو۔ وہ کیا ہے؟ عورتوں کے اندر اللہ پاک نے یہ صفت رکھی تین چیزوں میں ان کو مردوں پہ فوقیت حاصل ہے۔ اول ان میں انفعالیت ہوتی ہے۔ جلدی متاثر ہوتی ہیں۔ یہ دودھاری تلوار ہے۔ اچھی جگہوں پہ بہت جلدی اچھی ہو جاتی ہیں بری جگہوں پہ بہت جلدی بری ہو جاتی ہیں۔ لہذا بری جگہوں پہ نہیں جانا چاہیے اچھی جگہوں پہ رہیں تو یہ مسلسل ترقی کر رہی ہوں گی۔ سبحان اللہ۔ بہت اچھی بات ہے۔

دوسری بات وہ یہ ہے کہ ان میں یکسوئی ہوتی ہے۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں یکسوئی ہو چاہے پاس ایک سوئی بھی نہ ہو۔ یکسوئی ہو چاہے پاس ایک سوئی بھی نہ ہو۔ اب یہ یکسوئی ماشاءاللہ عورتوں کی بہت ہی امتیازی خصوصیت ہے۔ ابھی دیکھو یہ پروگرام عورتوں کے لیے ہے۔ مرد تو ویسے ان کی برکت سے سن رہے ہیں۔ ہے تو پروگرام عورتوں کے لیے۔ تو یہ ہے کہ وہ عورتیں سن رہی ہیں لیکن وہ میرے سامنے بیٹھی نہیں ہیں۔ اور ماشاء اللہ سمجھ بھی رہی ہیں۔ اور شاید آپ لوگوں سے زیادہ سمجھتی ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی فطرت میں یہ ہے کہ وہ نگاہ نیچے کر کے سنتی ہیں۔ ان کی یکسوئی کی وجہ سے۔ اور ان کو بات سمجھ آ رہی اور مرد جب تک چہرے پہ نہ دیکھے اس وقت تک ان کو بات سمجھ نہیں آتی۔ تو اب دیکھیں جو مجھے دیکھ رہے ہیں تو بات سن رہے ہیں اور جو مجھے دیکھ نہیں رہے وہ سو رہے ہیں۔ ٹھیک ہے نا۔ تو یہ ثابت ہے۔ مطلب ظاہر ہے بالکل فورا ثابت ہو جاتا ہے کہ جو دیکھ رہے ہوتے ہیں وہ سنتے ہیں۔ اور جو دیکھتے نہیں وہ کیا ہے؟ وہ سو جاتے ہیں۔ تو عورتوں کے اندر خوبی ہے۔

خیر بہرحال تیسری بات وہ یہ ہے ان کے اندر خلافت کا کوئی تصور نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ پاک نے ان کو ان چیزوں سے مبرا رکھا ہے۔ ان کے خصوصی احوال کے لحاظ سے۔ خصوصی احوال کیا ہے؟ پردہ۔ اب بتاؤ عورت اگر خلیفہ ہو گئی کیسے وہ خلافت کرے گی؟ درمیان میں آنے جانے کی آڑ ہو گی، پردے کی آڑ ہو گی تمام بہت ساری چیزیں۔ لوگ کہیں جی میں بیعت ہونا چاہتا ہوں۔ تو اسی میں ہی نقصان ہو جائے گا، سمجھ میں آ گئی نا بات؟ تو اس وجہ سے اللہ پاک نے ان کو ان چیزوں سے مبرا رکھا ہے۔ تو اب یہ چونکہ یہ چیز ہو نہیں سکتی۔ لہذا ان کو خیال ہی نہیں آتا خلافت کا۔ تو پہلا قدم ہی ان کا اخلاص کا ہوتا ہے۔ اب آپ یہ چیزیں ان کی استعمال کرو۔

ان کو اچھی محفلوں میں لے جاؤ۔ ان کے گھر پر کچھ اس قسم کے انتظام کرو۔ اچھی کتابیں ان کو لا کے دو۔ اچھی باتیں ان کے ساتھ کرو۔ آپ جب فضائل سنائیں گے تو آپ سناتے ہوئے شاید اتنے متاثر نہ ہوں وہ سنتے ہوئے متاثر ہوں گی۔ یہی تو بات ہے نا۔ بجائے اس کے، ہمارے ایک ساتھی تھے وہ کہتے ہیں میں کسی کو پانی کے لیے کہتا ہوں تو میں اسے کہتا ہوں کہ مجھے ایک گلاس پانی دے اللہ پاک آپ کو جنت دے دے۔ بھئی کہنا تو ویسے ہی ہے نا پانی کے لیے، تو ساتھ یہ کہہ دو۔ ہمارے امام صاحب بھی اس طرح کرتے ہیں نا۔ وہ صفیں درست کر لو، اللہ تم سے راضی ہو جائے۔ میں کہتا ہوں آمین۔ ظاہر ہے دعا تو ہمارے لیے ہے نا۔ تو مقصد یہ ہے کہ یہ چیزیں اس طریقے سے کرو۔ اس سے لوگوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ ورنہ پھر کیا ہے، اگر آپ دھونس۔۔۔ تو اس کے مقابلے میں زبان۔ اور پتہ نہیں پھر کیا مطلب آگے ساری باتیں چل پڑتی ہیں۔ یہ غلط بات ہے۔ طریقہ کار ایسا نہیں ہے۔ بھئی مارنے کی اجازت سے مراد نہیں کہ مارتے رہو۔ اجازت تو extreme condition کی ہوتی ہے۔ اجازت extreme condition کی ہوتی ہے ورنہ پہلے آپ نے بہت سارے جو steps ہیں مناسب steps ان کو استعمال کرنے ہیں اور اس میں ان شاء اللہ خیر ہے۔

تو بہرحال میں عرض کر رہا تھا کہ تین چیزوں کے بارے میں ایک تو یہ میں نے بتا دیا: جاہ کی محبت، دوسرے لذات کی محبت، تیسرے مال کی محبت۔ اللہ اکبر۔ آگے فرماتے ہیں ارشاد فرمایا:

کیا تم جہان والوں میں سے یہ حرکت کرتے ہو کہ مردوں پر گرتے ہو، ان بیویوں کو چھوڑتے ہو جو تمہارے رب نے تمہارے واسطے پیدا کیے ہیں، بلکہ تم حد انسانیت سے گزرنے والی قوم ہو۔

یہ اصل میں لوط علیہ السلام کی قوم۔۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ

میں نے اپنے بعد کوئی فتنہ مردوں کے لیے عورتوں سے زیادہ مضر نہیں چھوڑا۔ بخاری اور مسلم کی روایت ہے۔

بھئی دیکھو بھوک جس کو ہو اور آپ نے اپنا کھانا اس سے بچانا ہو۔ تو اس کے سامنے اس کو نہ لاؤ۔ تو بس یہی والی بات ہے کہ عورتیں اس صورت میں نہ آئیں مردوں کے سامنے کہ ان کی attraction بڑھ جائے۔

اس وجہ سے ان کے لیے جو instructions ہیں۔ بے ضرورت گھر سے نہ نکلیں۔ اگر نکلیں ضرورت سے تو ایسے اوپر کپڑے پہنیں جس کی طرف attraction نہ ہو۔ اور راستے کے side پہ چلتی رہیں۔ اور بلا ضرورت کسی سے بات نہ کریں۔ تو اگر مجبوری ہو تو مطلب ظاہر ہے اس طرح وہ کر سکتی ہیں۔ باقی یہ ہے کہ بلاوجہ نکلنا یہ تو ٹھیک نہیں ہے۔ تو اس میں یہ بات ہے کہ یہاں تک بھی فرمایا گیا کہ خوشبو نہ لگائیں۔ مردوں کی خوشبو وہ ہے جس میں مطلب ظاہر ہے وہ رنگ کم اور خوشبو زیادہ۔ اور عورتوں کی یہ ہے کہ اس میں رنگ زیادہ خوشبو کم۔ کیوں، وجہ کیا ہے؟ رنگ کے لیے تو دیکھنے کی ضرورت ہے، خوشبو تو خود بخود پہنچتی ہے۔ تو اگر کوئی عورت آپ کے ساتھ خوشبو والی گزر جائے تو آپ کی فورا اس کی طرف جائے گی کہ کیا ہے، تو خواہ مخواہ اس کو نظر اٹھانے کا موقع دے دیا۔ تو یہاں تک احتیاطیں ہیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا کہ دوبارہ نظر نہ کرو، کیونکہ تمہارے لیے پہلی نظر یعنی جو اچانک پڑ جائے وہ جائز ہے، اور دوسری نظر کرنا یعنی پہلی نظر کو برقرار رکھنا جائز نہیں ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ڈکار لیتے سنا۔ فرمایا کم کر اپنی ڈکار کو یعنی کم کھایا کرو کیونکہ قیامت کے دن زیادہ بھوکے وہ لوگ ہوں گے جو دنیا میں زیادہ سیر ہوں گے۔

مطلب جو یہاں کی نعمتوں سے زیادہ cross limit کر کے استعمال کریں گے۔ تو وہ پھر وہاں محروم ہو جائیں گے۔ یعنی كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا پہ جو عمل نہیں کریں گے۔ وَلَا تُسْرِفُوا پہ جو عمل نہیں کریں گے۔

اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے۔ اور تیرے پاس آنے والوں کا بھی تیرے اوپر حق ہے، اور تیرے بدن کا بھی تیرے اوپر حق ہے۔

کل مجھ سے ایک بی بی نے پوچھا تھا اس کے بارے میں کہ نماز، اس کی نماز وہ بیس منٹ میں ان کی دو رکعت نماز ہوتی ہے، پینتالیس منٹ میں چار رکعت کی نماز۔ اور بڑے مسائل اس نے بتا دیے۔ تو میں نے اسے کہا کہ، کہتی ہیں پھر میں آخر کیا کروں، مجھے، جب میں نماز کو چھوٹا کرتی ہوں تو مجھے پھر یہ ہے کہ میں اللہ کا حق گویا کہ پورا نہیں کر رہی ہوں۔ تو میں نے ان سے کہا کہ اللہ پاک نے آپ کے اوپر صرف یہ حق نہیں لگایا، بہت سارے اور حق بھی لگائے ہوئے ہیں۔ ان حقوق کا بھی آپ کو خیال رکھنا ہے۔ اس وجہ سے اپنی عبادت کے لیے دوسروں کے حقوق کو تو نہ ماریں نا۔ پھر ان کو میں نے بتایا کہ اگر آپ جلدی جلدی نماز پڑھتی ہیں تو میرا اندازہ ہے کہ وہ دو منٹ میں دو رکعتیں ہو جاتی ہیں۔ اور اگر آہستہ آہستہ پڑھتی ہیں تو پانچ منٹ میں دو رکعت ہو جاتی ہے۔ یعنی لمبی قرات اگر آپ نہ کریں اور آہستہ آہستہ پڑھیں۔ تو پانچ منٹ میں دو رکعت ہو جاتے ہیں۔ تو میں نے کہا فی الحال آپ اس پہ عمل کریں۔ پانچ منٹ میں دو رکعت پڑھیں۔ اور دس منٹ میں چار رکعت پڑھیں۔ یہ ایک معتدل صورت ہے کیونکہ میں جب آپ کے سامنے اس طرح پڑھوں، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ، اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ، مَالِکِ یَوْمِ الدِّینِ، اس speed سے میں پڑھوں گا تو پانچ منٹ میں دو رکعت ہو جائیں گی۔ تو اس سے زیادہ آپ کو بڑھانے کا کیا مسئلہ ہے؟ کیا آپ نے وہ قرأت کرنی ہے وہ جیسے وہ قاری کرتے ہیں؟ وہ، وہ تو نماز میں نہیں ہے نا، وہ تو امام کے لیے، امام کرتا ہے۔ یہ تو آپ انفرادی نماز پڑھ رہی ہیں تو بس یہ کافی ہے نا۔ تو اتنا مطلب ہے کر لیا کرو، لمبی قرأت نہ کیا کرو، مختصر قرأت کر لیا کرو، تو اس میں آپ کی نماز ہو جائے گی ان شاء اللہ اور دوسروں کے حقوق پر بھی مسئلہ نہیں ہوگا۔

تو اس طرح ہے۔ تو یہ تمہارے جسم کا بھی تجھ پر حق ہے، مثلاً وہ کہتے ہیں نیند میری پوری نہیں ہوتی، رات کے دو بجے، خدا کی بندی کیا کر رہی ہو؟ بھئی بلاوجہ خواہ مخواہ اپنے آپ کو وہ کر رہی ہو، اللہ پاک نے آپ کو اس کا مکلف تو نہیں بنایا ہے۔ یہاں پہ شیخ کی ضرورت پڑتی ہے۔ دیکھو ابو درداء رضی اللہ تعالی عنہ نے ایسا کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روک دیا نا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے صحیح فرما دیا۔ تو اس طریقے سے مطلب ہے، جب کسی کا شیخ ہوتا ہے تو وہ ان کو ان کی ضرورت کے مطابق جو گنجائش ہے شریعت کا وہ بتا کر کام ٹھیک کر لیتا ہے۔ خود اپنی مرضی سے کرے گا تو نفس کی خواہش کے مطابق کرے گا، جب شیخ سے پوچھے گا تو اللہ تعالی کی مرضی کے مطابق کرے گا۔ تو کتنی آسانی ہے۔

اچھا۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بھوک اور خواہش نفس کے بارے میں جس طرح زیادتی مذموم ہے اس طرح ایسی کمی بھی مذموم ہے جس سے نفس کا یا اہل و عیال وغیرہ کا حق فوت ہوتا ہو۔

اور ارشاد فرمایا حق تعالی شانہ نے کہ اللہ ارادہ کرتا ہے کہ تمہاری توبہ قبول کرے اور جو لوگ شہوتوں کا اتباع کرتے ہیں وہ ارادہ کرتے ہیں کہ تم بڑی بھاری کجی میں پڑ جاؤ۔

بہت خطرناک بات ہے۔

نیز ارشاد فرمایا کہ خدا آنکھوں کی چوری کو جانتا ہے اور اس کی بھی جس کو دلوں میں چھپاتے ہیں، پس آنکھ اور دل کو بھی گناہ سے بچانا لازم ہے۔ اور ارشاد فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ عورتوں سے بچو کیونکہ بنی اسرائیل کا پہلا فتنہ عورتوں کے سبب سے تھا۔

مطلب یہ میں نہیں کہتا ہوں کہ عورتوں سے بچو سے مراد یہ ہے کہ عورتوں، اپنی جو رشتہ دار عورتیں ہیں اور جائز عورتیں، نہیں ایسا نہیں، مطلب وہ جو ناجائز طریقے سے ہے نا، عورتوں کے قریب جانا، اس سے بچو کیونکہ بنی اسرائیل میں ابتدا اسی سے ہوئی تھی۔ نقصان کی، ابتدا اسی سے ہوئی تھی۔ لمبا واقعہ ہے، وہ پھر کسی اور وقت سہی، کیونکہ ٹائم پورا ہو گیا۔ لیکن بہرحال یہ ہے کہ عورتوں کے فتنے سے بچنا مردوں کے لیے ضروری ہے، اور عورتوں کے لیے مردوں سے بچنا ضروری ہے۔ اور جس چیز کی شریعت نے اجازت دی ہے، اسی پر اکتفا کرنا چاہیے۔ اور اس کے اندر رکاوٹیں نہیں ڈالنی چاہیے۔ آج کل شادی کو مشکل بنا دیا گیا ہے اور باقی چیزیں آسان ہیں۔ یہ غلط بات ہے، اس سے نقصان ہو رہا ہے۔ شادی کو آسان بنا دو، سنت کے مطابق کر دو۔ اور ان چیزوں کے اوپر اتنی پابندیاں لگا دو کہ کوئی کرنا بھی چاہے تو نہ کر سکے۔ اللہ تعالی ہماری حفاظت فرما دے،

وَاَخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ للہ رَبِّ العالمین۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ، وَتُبْ عَلَیْنَا اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ۔ اَللّٰہُمَّ اِنَّا نَسْاَلُکَ مِنْ خَیْرِ مَا سَاَلَکَ مِنْہُ عَبْدُکَ وَنَبِیُّکَ حَبِیبُکَ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَنَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَ مِنْہُ عَبْدُکَ وَنَبِیُّکَ حَبِیبُکَ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، اَنْتَ الْمُسْتَعَانُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِکَ۔ سُبْحَانَ رَبِّکَ رَبِّ العزت عَمَّا یَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَی الْمُرْسَلِینَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ۔

اللہ سے دور کرنے والی تین بیماریاں اور ان سے بچاؤ - خواتین کے لیے اصلاحی بیان - اشاعت دوم